میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

''نورِ سحر''
طلوعِ نور سے تاریکیاں ہوئیں رخصت  اُفق پر چھا گیا نورِ سحر بہ صد شوکت
ظلامِ جہل سدھارا ہے آج باحسرت دوئی چلی گئی۔ آئی ہے شان سے وحدت
نیا سفر ہےپرانے چراغ گل کردو
صنم کدے جو تھے آباد ہوگئے ویراں گیاجو کفر تو حاصل ہوا ہمیں ایماں
ملائکہ بھی ہیں اس سرزمین پرنازاں کہ کس عروج پہ پہنچا ہے طالع انساں
نیا سفر ہے پرانے چراغ گُل کردو
چمن میں آج بھی جشن بہار باقی ہے کہ چشم لالہ و گل میں خمار باقی ہے
عدو کے دل میں ہزیمت کا خارباقی ہے شکستہ شیشہ دل کی پکار باقی ہے
نیا سفر ہے پرانے چراغ گُل کردو
فضا میں گرم بگولوں کا رقض ختم ہوا اُفق میں خون کی مینا کا رقص ختم ہوا
گہن کا ماہ منور کے رقص ختم ہوا کہ بام و در پہ سیاہی کا رقص ختم ہوا
نیا سفر ہے پرانے چراغ گُل کردو
حریم نازبُتاں کے چراغ گُل کردو اُطاق کفر کے روشن چراغ گُل کردو
سیاہ خانوں کے سارے چراغ گُل کردو دریار جو ر و جفا کے چراغ گُل کردو
نیا سفر ہے پرانے چراغ گُل کردو