قسط (8)

قاضی بشیر احمد صاحب نے اپنے مضمون کی قسط 12 سے احکام صلح کے متعلق خامہ فرسائی شروع کی ہے لیکن آپ اس مبحث میں بھی تضاد ، لغت دانی اور حدیث شناسی کے متعدد عجوبے او رنمونے پائیں گے۔ چنانچہ موصوف تشریح 12 ش 4 میں فرماتے ہیں۔ اگر مجنون کو قصاص کا حق حاصل ہو خواہ قصاص نفس کا ہو یا دون النفس کا تو اس کے باپ دادا کو اختیار ہوگا کہ وہ مجنون کی جانب سے قصاص لیں اور اس کو صلح کرنے کابھی اختیار ہے البتہ وہ معاف کرنے کا مجاز نہ ہوگا۔ ''لیکن اس کے معا بعد ش5 میں فرماتے ہیں۔ مجنون کے وصی کوبھی اختیار ہوگا کہ وہ مجنون کے نائب کی حیثیت سے نفس سے کم سے کم میں قصاص لے اور وہ قصاص نفس اور نفس سے کم دونوں میں صلح کرنے کا بھی مجاز ہوگا البتہ وہ دونوں اقسام میں سے کسی کو معاف نہیں کرسکتا۔''

تضاد: ان دونوں عبارتوں کا بغور دیکھنے سے آپ بآسانی اس تضاد بیانی کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ش4 میں نائب مجنون کو نفس و مادون النفس میں قصاص کا حق حاصل ہے لیکن ش5 میں صرف قصاص ''دون النفس'' کا حق دیا گیا ہے۔ اس کے بعد موصوف نے تشریح نمبر 13 کے ضمن میں فقہاء کا اختلاف ذکر کیا ہے کہ آیا قصاص و دیت کے اختیار میں ولی مجاز ہے یا نہیں؟ موصوف نے اس بحث پر تقریباً تین صفحات سیاہ کی ہیں جبکہ اختلاف محض لفظی ہے جسے ہرایک اتنی تطویل کے بغیر ہی بآسانی حل کرسکتا ہے مثلاً موصوف خود لکھتے ہیں: ''قتل عمد میں اگر جرم موجب قصاص ہوتو قصاص کی سزا ہی واجب ہوگی الا یہ کہ ولی قصاص اپنا حق ادا کرنے پر راضی ہو تو قصاص ساقط ہوگا۔'' یہ امام ابوحنیفہ او رامام مالک کا مسلک ہے۔امام شافعی کے نسدیک اولیاء کو قصاص کا اختیا رہے۔

دوسرا تضاد :اب ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ پہلے مسلک میں بھی اختیار ہے اور دوسرے مسلک میں بھی اختیار ہے۔ تبھی تو دیت لینے کا جواز پیدا ہوتا ہے لیکن افسوس ہےکہ موصوف امام ابوحنیفہ کی تائید میں دلائل نقل کرنےکے بعد فرماتے ہیں ''معلوم ہواکہ قتل عمد میں سزا صرف قصاص متعین ہے۔ قصاص اور دیت میں اختیارنہیں'' اب قارئین فیصلہ فرمائیں کہ ایک طرف ''الا یہ کہ'' جیسے بھاری کم وزنی الفاظ مسلک امام میں استثنائی و اختیاری صورت جواز کے لیے استعمال ہورہے ہیں اور دوسری طرف بلند بانگ دعویٰ سے خود ہی اس کی تردید ہورہی ہے ؎

الجھا ہے پاؤں یار کا زُلف دراز میں

لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

اس کے علاوہ دونوں عبارتوں میں جو چیز مشترک ہے وہ یہ ہے کہ ولی قصاص (نائب مجنون) کو قصاص و دیت کا تو حق ہے لیکن عفو کا نہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس ولی کو شریعت حق قصاص عنایت کرتی ہے تو علی الاطلاق اس سے حق عفو کا سلب کس نص کی بناء پر ہے۔

علامہ ابن قدامہ فرماتے ہیں:

إذَا ثَبَتَ هَذَا، فَالْقِصَاصُ حَقٌّ لِجَمِيعِ الْوَرَثَةِ مِنْ ذَوِي الْأَنْسَابِ وَالْأَسْبَابِ، وَالرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَالصِّغَارِ وَالْكِبَارِ، فَمَنْ عَفَا مِنْهُمْ صَحَّ عَفْوُهُ (مغنی:ج9ص464)

اس عبارت میں صحت عفو کا تحقق تبھی ہوسکتا ہے۔ جب انہیں حق عفو حاصل ہو او ریہ عجیب اتفاق ہے کہ صحت عفو (منجملہ) پر تو تقریباً ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے لیکن حق عفو میں احناف کا مذکورہ نقطہ نظر یقیناً بعید از عقل و نقل ہے ان کے علاوہ مالکیہ و حنابلہ بھی عفو بالمال ہی کے قائل ہیں (مدونہ صفحہ 438 ج6 المغنی صفحہ 475 ج9) او رجب عفو بالمال سے صلح کا تحقق ہوسکتا ہے تو بلامال کیوں ممکن نہیں؟ علامہ کاسانی حنفی فرماتے ہیں:

لِأَنَّ الصُّلْحَ كَمَا يَصِحُّ بِطَرِيقِ الْمُعَاوَضَةِ يَصِحُّ بِطَرِيقِ الْإِسْقَاطِ (بدائع الصنائع صفحہ 2514 ج7)

یعنی سقوط حق سے بھی صلح ہوسکتی ہے۔ علامہ اب قدامہ فرماتے ہیں۔ المقدسی

والخیرة  في ذلك إلی الولي إن شاء اقتص وإن شاء أخذ الدية وإن شاء عفى إلی غیرشيء(الشرح الکبیر صفحہ414 ج7)

باعث اضطراب : اب ہم آپ کو قاضی صاحب کی اس پریشانی و اضطراب کا اصل سبب بتاتے ہیں کہ موصوف نے یہ عبارت احکام القرآن للجصاص کے حوالہ سے (کانٹ چھانٹ) کر لکھی ہے علامہ جصاص آیت قصاص کے بعد فرماتے ہیں:

هذا كلام مكتف بنفسه غير مفتقر إلى ما بعده(احکام صفحہ 155 ج1)

اس عبارت سے غالباً موصوف نے یہ سمجھا ہے کہ حکم قصاص میں واقعی دیت کا کوئی دخل نہیں حالانکہ اس عبارت کا موصوف کے مطابق اگر یہی مفہوم متعین کرلیا جائے تو پھر عفو کو بھی خارج از بحث قرا ردینا ہوا جبکہ بات یہ نہیں بلکہ تفصیل دوسرے مقامات پرموجود ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جرم قتل پر تین دفعات کا اجراء ہوسکتا ہے۔1۔ قصاص 2۔ دیت 3 ۔عفو اور ان تینوں میں بصورت جواز ولی قصاص کو اختیار کا کلی حق حاصل ہے۔

او راس آیت کی حیثیت بالکل ایسے ہی ہے جیسے ''کتب علیکم الصیام'' ہے جس کی استثنائی صورتیں بعد میں بیان کی گئی ہیں تو کیا قاضی صاحب روزے کو ہرصور ت میں باعتبار ادائیگی فرض قرار دیں گے۔ خواہ مرض ہو یا سفر؟ او رپھر خود آگے چل کر علامہ جصاص اس آیت کے تحت فرماتے ہیں''وإن كان الذي له القصاص صغیرافيه'' (صفحہ 156 ج1)یعنی وہ خود ولی قصاص کے اختیار کے قائل ہیں:

قاضی صاحب کے قلق و اضطراب کی جو دوسری وجہ ہمیں معلوم ہوتی ہے وہ خبر احاد سے قرآن پر زیادتی کا مسئلہ ہے جوکہ علماء احناف کے لیے ہمیشہ سے درد سر بنا رہا ہے۔ حالانکہ زی ربحث مسئلہ میں یہ صورت بھی نہیں کیونکہ قرآن مجید میں بھی ان تینوں مختار فیہ صورتوں کاذکر ملتا ہے او رپھر اگرنبی علیہ السلام نے فرما دیا۔

فأھله بین خیرتین إن أحبوا قتلوا وإن أحبوا أخذو العقل

او رامام احمد و شافعی نے اس پرعمل کیا تو کیا غضب ہواکہ تین صفحات سیاہ کرنے کی ضرورت محسو س ہوئی جبکہ متعدد ایسے مسائل ہمارے پیش نظر ہیں جہاں حسب ضرورت احناف خبر احاد سے احتجاج بھی کرتے ہیں۔

اس کے بعد آپ موصوف کی ایک اور عبارت ملاحظہ فرمائیں کہ ''احناف فرماتے ہیں کہ ان دونوں روایات سے قاتل کی رضا کے بغیر دیت کی سزا کا ثبوت نہیں ہوتا۔'' موصوف نے یہ عبارت شوافع کے دلاول ذکر کرنے کے بعد تحریر فرمائی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک اصل اختلاف رضائے قاتل کا ہے اختیار ولی کا نہیں؟ حالانکہ یہ اختلاف بھی محض ایک مفروضہ کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ امر یقینی ہے کہ جب قاتل دیت مجبوراً یا عمداً ادا نہیں کرے گا تو دو ہی صورتیں باقی ہوں گی قصاص یاعفو تو دیت کے مقابلہ قصاص کو بھی ترجیح ہوگی تو ائمہ میں اختلاف کس چیزکا ہوا؟ یعنی یہ بھی محض لفظی سا نزاع ہے جس کو موصوف نے زیب داستاں کے لیے تحریر کردیا ہے۔

اور کیا شوافع کی تائید میں مذکورہ احادیث سے رضائے قاتل کے عدم ثبوت سے وجوب قصاص کا نتیجہ اخذ ہوتا ہے؟

موصوف کا مبلغ علم : ہم پہلے متعدد بار قاضی صاحب کے مبلغ علم کی طرف اشارہ کرچکے ہیں۔لیکن ''عاقل را اشارہ کافی است۔ نقش بر آب ثابت ہوا ۔ چنانچہ موصوف کی مزید نکتہ آفرینی ملاحظہ فرمائیں کہ رضائے قاتل پر دلیل قاوم کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ''وإما فداء'' اور آنحضرتؐ کا فرمان ''وإما یفادي'' چونکہ باب مفاعلہ ہے جس میں فریقین کی شرکت خاصہ ہے۔ لہٰذا رضائے قاتل کے بغیر سزائے دیت نہیں دی جائے گی۔

قارئین یہ بات تو اپ سمجھ چکے ہیں کہ رضا قاتل کے بغیر ''سزائے موت'' تو کجا تحقیق دیت بھی محل نظر ہے اور رضا قاتل سے انکار بھی کس کو ہے؟ لیکن ہم سردست بتانا یہ چاہتے ہیں کہ موصوف کی یہ دلیل کہاں تک آپ کی ذات باصفات کی غماز ہے۔ چنانچہ ایک مبتدی بھی اس مسلمہ قاعدہ کو جانتا ہے کہ باب مفاعلہ من شرکت فریقین کا خاصہ ہر جگہ مسلم نہیں کیونکہ یہ خواص قیاسی نہیں سماعی ہیں یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیان اور دیگر مفسرین کو ''والذين يطيقون'' کے خاصہ کے تحت ترجمہ کرنے میں غلطی لگی ہے اور علامہ زمخشری وغیرہ نے اسی اصول کے تحت نقض بھی وارد کیا ہے ۔ چنانچہ جب اصل الاصول ہی میں موصوف کی دلیل میں یہ سقم ہے تو ؎ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا

علاوہ ازیں بعض ائمہ لغت نے اس مابہ النزاع صیغہ کو بھی اس معنی سے دوسرے معنی میں استعمال کیا ہے۔ مثلاً علامہ زبیدی کا ایک شعر ؎

وَلكِنَّني فادَيتُ امي بَعدما  علا الرَأس مِنها كبرة وَمَشيب

استشہاداً پیش کرنےکے بعد فرماتے ہیں:

وإن قلت فدیت الأسیر فجائز أیضا بمعنی فدیته مما کان فيه أي خلصته وفادیت أحسن في ھذا المعنیٰ (تاج صفحہ 278 ج10) اور اسی طرح ''طابقت النقل'' بھی استعما ل ہوتا ہے اور ''والذين يظاهرون '' بھی اسی کی تائید کرتا ہے کہ ظہار تو صرف ایک طرف سے ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ اگرہم تفسیری نقطہ نظر او راصول قرآن فہمی کے تحت دیکھیں تو بھی ہمارے ہی مؤقف کی تائید ہوتی ہے چنانچہ اہل علم جانتے ہیں کہ بسا اوقات اختلاف قرأت معنیٰ پر بھی اثر انداز ہوتا ہے اور کبھی اختلاف قرأت سے تقیید و تائید کا کام بھی لیا جاتا ہے۔مثلاً ''الصلوٰة الوسطى''سے مراد وہ لوگ نماز عصر لیتے ہیں وہ جملہ دلائل کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں چونکہ ایک قرأت ''الصلوٰۃ العصر'' ہے لہٰذا اسی وسطیٰ سے مراد نماز عصر ہی ہے۔اسی طرح ابن مسعود کی قرأت ''شھرين متنابعين'' کے ساتھ کفارہ کے بالتوالی ہونے پر دلیل قائم کی جاتی ہے۔

دراصل فہم قرآن کے لیے تفسیر القرآن بالقرآن کے سلسلہ میں اختلاف قرأت کو بھی خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے۔ صحابہ کرام اور تابعین بعض آیات کی تفسیر میں اختلاف قرأت سے استفادہ کرتے رہے ہیں۔ مثلاً سورہ الاسرأ کی آیت ''أويكون لك بيت من زخرف'' میں حضرت عبداللہ بن عباس کی قرأت ''من ذھب'' ہے جس سے لفظ زخرف کی وضاحت ہوجاتی ہے،اسی طرح آیت ''فاسعوا إلى ذكر الله'' میں ایک قرأت ''وامضوا إلی ذکر اللہ'' ہے جس سے سعی کے معنیٰ کی وضاحت ہوجاتی ہے۔ علیٰ ھذا القیاس۔ بہت سی قرأات ہیں جن سے نفس آیت کی وضاحت ہوجاتی ہے ۔ خصوصاً حضرت ابن مسعودؓ او رابی بن کعبؓ کی قرأت تو تفسیر کے سلسلہ میں بہت زیادہ اہمیت کی حامل رہی ہیں۔

حضرت مجاہد فرماتے ہیں:

''اگر میں حضرت ابن مسعودؓ کی قرأت کو اختیار کرلیتا تو میرے بہت سے سوالات حضرت ابن عباسؓ سے استفسار کے بغیر ہی حل ہوجاتے۔'' (المذاہب الاسلامیہ فی التفسیر)

غرضیکہ بعض علماف نے تفسیری ارتقاء کے سلسلہ میں اختلاف قرأت کو پہلا زینہ قرار دیا ہے او رلکھا ہے کہ تدوین تفسیر میں یہ پہلی کوشش تھی جسے صحابہ کرامؓ و تابعین عظام نے اختیار کیا مگر اس سلسلہ میں یہ بات یادرکھنے کی ہےکہ قرأت متواترہ تو نصوص قرآن کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہاں قرأت شاذہ کو ہم تفسیری مراجع میں شمار کرسکتے ہیں۔

آمدم برسرِمطلب: بہرحال ہم دُور چلے گئے آپ اسی اصول کے تحت ملاحظہ فرمائیں کہ قرآن مجید میں یہی صیغہ مفاعلہ یوں استعمال ہوا ہے۔ ''وإن يأتوكم أسارى تفادوهم'' توابن کثیر ، ابوعمر او رابن عامر اسے ''تفدوهم'' بھی پڑھتے ہیں جس کی بناء پر یہ کہنا خلاف قرائن و قیاس نہ ہوگا کہ ''مفاداۃ'' کے لفظ سے رضاء قاتل پر دلیل قائم کرنا دراصل اصول و فنون سے ''عدم واقفیت'' کا تنیجہ ہے اور محض کج فہمی، کم علمی اور جذباتیت کا مظہر ہے۔

تیسرا اصول: اب ہم آپ کو ایک تیسرے اصول کی روشنی میں یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ ''مفاداۃ'' کے صیغہ مفاعلہ سے رضا قاتل پرحجت قائم کرنا محض طفل تسلی ہے وہ یوں کہ ائمہ اصول کے نزدیک یہ بات قاعدہ مطردہ کی حیثیت رکھتی ہے کہ باب مفاعلہ کا جہاں خاصہ شرکت فریقین ہو وہاں یہ ضروری نہیں کہ فریقین وہ کام رضا مندی سے کریں مثلاً خود موصوف نے مثال ''مشاتمۃ'' (ایک دوسرے کو گالی دینا)کی پیش کی ہے۔کیا کوئی عقل و خرد کا مالک یہ کہہ سکتا ہے کہ شریف آدمی بادل نخواستہ جواباً گالی دے تو اس پر رضا کا اطلاق ہوگا۔ اسی طرح ''مخاصمت ، مجادلت'' وغیرہ سینکڑوں صیغے ایسے ہیں جو ایسی جگہ پر استعمال ہوتے ہیں کہ وہاں فریقین کی رضا ضروری نہیں ہوتی او راسی قبیل سے آدمی کا ظہار کرنا ہے۔ حالانکہ بسا اوقات وہ غضب و مزاح میں ایسے الفاظ کہہ دیتا ہے جن پر ''يظاهرون'' کا لفظ تو بولا جاتا ہے لیکن فریقین تو کجا فریقین واحد کی رضا بھی مستحقق نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ رضا کا تعلق قلب سے ہے۔ جس کاتحقق محض ''مفاداۃ'' جیسے پُرفریب الفاظ بول لینے سے نہیں بلکہ اقرار و قرائن اور الفاظ مختصر ہی سے ہوسکتا ہے۔

اصل مسئلہ : اب ہم اس ضمن میں آپ کو اصل مسئلہ سمجھانا چاہتے ہیں جبکہ قاضی صاحب کو چاہیے تھاکہ اس طرف ضرور اشارہ کرتے کہ ولی قصاص کو قتل ''دیت اور عفو'' میں سے کس چیز کو اختیار کرنا چاہیے۔ یعنی ترجیح دینی چاہیے ؟ دراصل تو ولی قصاص میں مختار ہے لیکن قرآن مجید نے جو ترتیب اختیار کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قصاص کو اولیت حاصل ہے کیونکہ مسئلہ قصاص دراصل معاشرتی سطح پرمتعلق ہے جیساکہ ''لكم فيه حياة'' سے مفہوم ہوتا ہے جبکہ دیت فریقین اور عفو فریق واحد سے تعلق رکھتا ہے۔ چنانچہ ترتیب قرآنی کے تحت یہی بات درست ہے کہ قصاص کو اوّلیت حاصل ہو اور یہ ترتیب طبعی تقاضائے تشفی کے تحت بھی درست معلوم ہوتی ہے۔ نیز قرآن مجید میں اختیار کردہ دیگر ترتیبات میں بھی یہی اسلوب اختیار کیا گیاہے۔مثلاً کفارہ یمین یاکفارہ ظہار وغیرہ اور دیت فریقین کے اعتبار سے اوّل معلوم ہوتی ہے او رعفو ایک اخروی اور انفرادی ترجیح رکھتا جیسا کہ ارشا دباری تعالیٰ ہے: ''وإن تعفوا فهو أقرب للتقوي''

اور علامہ ابن قدامہ المقدسی نے اسی کو ترجیح دی ہے ،آپ فرماتے ہیں:

أجمع أھل العلم علیٰ إجازة العفو عن القصاص وإنه أفضل والأصل في ذلك الکتاب والسنة والإجماع (الشرح الکبیر:ص3،4 ج7)

چنانچہ انہوں نے کتاب اللہ سی ''فمن تصدق'' اور ''فمن عفي له من أخيه'' سے استدلال کیا ہے اور سنت سے حضرت انسؓ کی یہ روایت: مارأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رفع إليه شيء فيه قصاص الأمر فيه بالعفو (ابوداؤد)

پیش کی ہے اس کے بعد آپ فرماتے ہیں: ''والعفو أفضل لما ذکرنا''

اس کے علاوہ مختلف اعتبارات و قرائن کا لحاظ کرتے ہوئے بعض نے ایک کو بعض نے دوسرے کو ترجیح دی ہے جس بناء پر اس بحث میں مزید تفصیل و اختلاف کی بھی گنجائش ہے لیکن بخوف طوالت ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔

تیسرا تضاد: قاضی صاحب نے دفعہ 4 تشریح 2 کے تحت امام ابوحنیفہ کے مسلک کی تائید میں دو احادیث پیش کرنے کے بعد لکھا ہے:

''ان روایات سے معلوم ہوا...... چاقو، چُھری،بندوق، نیزہ،دھاردار پتھر، دھار دار لکڑی، بغیر پھل والا نیزہ، آگ، گرم پانی وغیرہ آلات کے ذریعہ قتل ، قتل عمد ہوگا'' (قسط نمبر 12 ، نومبر)

اس کے بعد مزید دو حدیثیں امام صاحب کی تائید میں پیش کرنے کے بعد رقم طراز ہیں:

''مذکورہ ہر دو روایات سے معلوم ہواکہ پتھر اور لکڑی کے ذریعہ قتل کا شمار قتل عمد میں نہ ہوگا۔''

اب ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ موصوف نے یہاں کتنی تضاد بیانی سے کام لیا ہے کہ ایک امام کی تائید میں بیک وقت دو آراء کو نقل کیا گیاہے۔نیز یاد رہے کہ دھاردار اور عدم دھار دار کا فرق مذکورہ روایات میں سے کسی میں بھی نہیں بلکہ ابن مسعودؓ اور حضرت علیؓ کی روایات کے تو واضح لفظ ہیں:

چوتھا تضاد: اس کے بعد موصوف فرماتے ہیں:''دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ لکڑی او رپتھر خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے (کیونکہ تخصیص کی کوئی دلیل نہیں ) ان سے قتل کرنا موجب قصاص نہ ہوگا۔ امام ابوحنیفہ کا مسلک ہے ''لیکن دوسری جگہ فرماتے ہیں'' (امام ابوحنیفہ کا صحیح مسلک) علاوہ ازیں امام صاحب کے نزدیک بھاری چیز سے قتل اس صورت میں عمداً متصور نہ ہوگا جبکہ اس کا مقصد قتل کرنا نہ ہو اور اگر قتل کا مقصد قتل کرنا ہو تو ایسی صورت میں بھاری چیز سے قتل عمداً قتل متصور ہوگا۔''

یعنی پہلے خود ''دھاری دار'' کی تخصیص پر زور دار الفاظ میں بیان کرتے ہیں او ربعد میں تردید۔لیکن بعد میں پھر نیت قاتل پر موقوف کرتے ہوئے اسی قلم سے خط تنسیخ کھینچتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ تضاد بیانی و سرگردانی پر پانچ صفحات سیاہ کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ:

''احناف ائمہ ثلاثہ او رامام شافعی اس بات پر متفق ہیں ثقیل چیز سے قتل واجب قصاص ہوگا۔

؎ إن کنت تدري فتلك مصیبة وإن کنت لا تدري فالمصیبة أعظم

قو لہ: حق دفاع کے طور پر نابالغ ، مجنون کے قاتل سے دیت لی جائے گی جبکہ بالغ عاقل کےقاتل کچھ نہیں۔'' (دفعہ نمبر 5 ش9)

اقول: موصوف نے اس مسلک کو ترجیح دی ہے حالانکہ یہ ترجیح بلا مرجح ہونے کے علاوہ بایں وجہ بھی محل نظر ہے کہ دفع شر میں خواہ کوئی یکساں حیثیت رکھتا ہے او ریہی مسلک امام شافعی اور قاضی ابویوسفؓ کا ہے۔ ہمارے خیال میں موصوف کو جس جگہ سے غلط فہمی ہوئی ہے وہ محض تقلید امام ہی نہیں بلکہ مفہوم بلوغت سے عدم معرفت بھی ہے کیونکہ عدم بلوغت جو عدم تکلیف کو لازم ہے ۔ دراصل حقوق اللہ یا عبادات جیسے دیگر مامورات میں دخیل ہے۔ تعزیرات میں نہیں۔ عقلی طور پربھی کسی بچے کویہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ جسے چاہے قتل کرتا پھرے او رجو چاہے بچے سےکرواتا چلا جائے بالخصوص ایسے دور میں جبکہ آلات قتل و فساد بلوغت و عدم بلوغت کے محتاج نہیں اور اسی طرح ''رفع القلم عن ثلاث'' کا محل بھی تعزیرات و انتظامی امور نہیں بلکہ حقوق اللہ و تعزیرات وغیرہ ہیں۔ فتدبر۔ غرضیکہ اگر حد بلوغت اوسطاً دس سال بھی فرص کرلی جائے تو اس بات سے کسے فرار ہوسکتا ہے کہ دس سال کا بچہ حسب قوت و شعور ارتکاب قتل کرسکتا ہے لیکن اس عقل و نقل کی موجودگی میں محض فرسودہ حنفیت کی خاطر ان لا یعنی باتوں کا ڈھنڈورا پیٹنا یقیناً فساد فی الارض کی خاطر سعی لا مشکور ہی تو ہے۔ ہم پہلے بھی متعدد مرتبہ ذکر کرچکے ہیں کہ فقہ حنفی کی ایسی تفریحات سے دراصل جرائم پیشہ افراد کی حوصلہ افزائی ہی نہیں بلکہ انہیں نئے نئے طریقے او رحیلے بتائے جاتے ہیں جن کی بناء پر اسباب فساد میں اضافہ تو ممکن ہے انسداد ممکن نہیں او رجس فقہ کی عمارت انہیں حیلہ سازیوں پرمبنی ہو تو ایسی فقہ کو سلام۔

او ریہ بات بھی مسلمات میں سے ہے کہ علت کے ساتھ حکم برقرار رہتا ہے تو جب دفع مضرت کی علت بالغ عاقل کے حکم کو بدل دیتی ہے تو نابالغ میں اس علت کی موجودگی میں اس حکم کا اطلاق کیوں نہیں ہوتا؟ چنانچہ امام شافعی اور ابویوسف کا جلب منفعت اور دفع مضرت کے کبریٰ صغرٰی کے ساتھ یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ زیر بحث مسئلہ میں نابالغ بالغ کے حکم میں ہے۔ قرائن و حقاوق اور دلاول و شواہد کی صحیح ترجمانی ہے۔

اعانت قتل: قاضی موصوف دفعہ 5 ش2 میں فرماتے ہیں: ''اگر ایک نے ایسا زخم پہنچایا ہو کہ اس کے بعد مجروح کو زندہ رہنا ناممکن ہوگیا ہو کہ اتنے میں ایک دوسرے آدمی نے اس کو ایک اور زخم پہنچا دیا تو ایسی صورت میں قاتل درحقیقت پہلا شخص ہوگا لہٰذا پہلے سے قصاص اور دوسرے کو تعزیری سزا دی جائے گی۔'' اس بات کی مزید وضاحت کے لیے موصوف کی بیان کردہ ش14 ملاحظہ ہو۔ حالت نزاع میں مریض کو قتل کرنے سے قاتل سے قصاص لیا جائے گا۔ البتہ اگر مریض کے حالات سے قاتل کو یہ یقین ہوچکا تھا کہ اب وہ زندہ نہیں رہے گا تو ایسی صورت میں قتل موجب قصاص نہ ہوگا۔'' ان دونوں باتوں سے متعلق ایک اور تمثیلی وضاحت ملاحظہ ہو۔مثلاً پہلے نے مجروح کی گردن کاٹ دی تھی البتہ حلقوم کا بہت معمولی حصہ رہ گیا تھا جس میں کہ روح باقی تھی کہ اتنے میں دوسرے نے اس پر حملہ کرکے اس کو زخمی کردیا تو اس صورت میں قاتل پہلا ہی ہوگا اس لیے کہ اسی نے درحقیقت مجروح کو حکم حیات سے خارج کردیاتھا۔

اقول: اولاً تو خط کشیدہ الفاظ کو اگربغور دیکھا جائے تو یہ تضاد واضح ہوگا کہ کیازندگی کا عدم امکان اور حالت نزع دو مختلف چیزیں ہیں جبکہ صرف بقائے حلقوم نزع ہی کے معنی میں ہے؟ بہرحال ان محولہ بالا عبارتوں سے جو مسئلہ مفہوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ مجروح کی حالت کے پیش نظر قاتل پہلے کو تصور کیا جائے گا او رمریض کےحالات کے پیش نظر قاتل سے قصاص ساقط ہوگا لیکن اس موقعہ پر اولاً تو حالت نزع او ریقینی قابل توجہ طلب جملے ہیں کہ آیا حالت نزع کوئی ایسی معین و محدود چیز ہے جس سے قائل کوموت پر علم یقین حاصل ہوسکے؟ کیا موصوف کو علم نہیں کہ حالت نزع بسا اوقات گھنٹے نہیں ایام سے بھی متجاوز ہوجاتی ہے؟ دور کی بات نہیں کل کا واقعہ ہے کہ الجزائر کے صدر حواری بومدین مسلسل سات ہفتے سکتہ و نزع اور موت و حیات کی کشمکش میں رہے ہیں تو ان کو اگر چھ ہفتے پہلے قتل کردیتا تو کیا فرماتے قاضی صاحب بیچ اس مسئلہ کے؟ اور پھر قاتل توہر معمولی شبہ نزع پربھی اپنے یقین کا اظہار کرسکتا ہے جبکہ آپ بھی '' ادرءا الحدود کے تقاضا کے تحت اس کے مبنی پر حیلہ یقین کی بلا تردد تائید فرما دیں گے تو فرمائیے یہ قاتل کی حوصلہ افزائی او رجرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کے علاوہ ان کی تربیت نہیں اور خون کے رائیگاں جانے کاخدشہ یہاں نہیں؟ یا کہ محض یہ ہے۔

؎ جب تیری زُلف میں پہنچی توحسن کہلائی .... وہ تیرگی جو میرے نامہ اعمال میں تھی

نیز حلقوم کا اکثرحصہ کٹ جانے سے حکم ''حیاۃ'' سے خارج قرار دینا بھی کج فہمی ہے۔ جبکہ آپ خود فرماتے ہیں: '' محض ضرب شدید کو دیکھ کر مجروح کی موت کا حکم نہ لگایاجائے گا' تو حالت مجروح کے مسئلہ پر پھر وہی اعتراض پیدا ہوتا ہے؟ بالخصوص اس دور میں جبکہ ایسے الات و طرقہائے علاج مروج ہیں کہ انسان کو ہر حالت میں بچانے کی کوشش بار آور ہوسکتی ہے۔ نیز کیا ایسی میں مجروح کے الفاظ وصیت یا بیان کی کوئی حیثیت ہوگی یا نہیں؟ اس کے علاوہ دوسرے کے محض گردن جدا کردینے سے پہلے جارح پر ''مجروح کی زندگی کا گمان'' بھی ایک عجوبہ سے کم نہیں جیساکہ موصوف فرماتے ہیں: ''اگر پہلے شخص کے وار سےمجروح کے زندہ رہنے کا گمان تھا مگر دوسرے نے اس کی گردن جدا کردی تو ایسی صورت میں قاتل دوسرا شخص ہوگا۔''اس کے علاوہ اگر اصولی نقطہ نگاہ سے بھی دیکھا جائے تو ہمارے موقف کی تائید ہوتی ہے کہ اس تفریق کو اس وقت تسلیم کیا جاسکتا ہے جبکہ یہ صورت اعانت سے بالاتر ہو لیکن موصوف تو اس اعانت کے ضمن میں بیان فرما رہے ہیں تو اعانت کے طور پر ایسے شریک قتل کو معاف کرنا کہاں تک منشائے شریعت ہے؟ کیونکہ شرکت قتل خواہ یکے بعد دیگرے ہو یا بیک وقت ایک ہی حکم رکھتی ہے۔

اصل وجہ: لیکن ان بوقلمونیوں کی اصل وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ موصوف کو شرکت قتل پر جو شبہ پہلے واع ہوچکا ہ ےوہی یہاں کارفرما ہے جس کا ازالہ بھی ہم پہلے کرچکے ہیں او راس مقام پر قاضی صاحب نے بھی ہمارے موقف کی تائید کرتے ہوئے اسے ''اجماع سے تعبیر کیا ہے کہ اگر ایک قتل میں جماعت شریک ہوتو تمام پر قصاص واجب ہوگا جبکہ اب تک جناب بڑے زور و شور سے اس کی تردید کرتے چلے آرہے تھے۔ ہم موصوف کو اس رجوع پر انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں لیکن ہمیں موصوف کے اس ''ارتداد قہقریٰ'' پر کلام ہے کہ ش6 میں فرماتے ہیں کہ اگر ایک نے مقتول کو صرف پکڑا اور دوسرے نے اسے قتل کردیا تو پکڑنے والے کو تعزیری سزا دی جائے گی اور قتل کرنے والے کو قصاص میں قتل کیا جائے گا۔'' تو سوال یہ ہے کہ کیا شرکت قتل کے تحقق کے لیے ضروری ہے کہ تمام تلوار ہی سے بیک وقت حملہ کریں؟ جن اہل صنعاء کے متعلق حضرت عمرؓ کا فرمانہے۔ حضرت علیؓ نے جن دس آدمیوں کو قتل کیا؟ ابن عباسؓ نے سو افراد کے متعلق یہی کہا۔مغیرہ نے سات آدمیوں کو قصاصاً قتل کیا۔ تو کیا ان تمام کی پوزیشن یہی تھی جو آپ بیان فرما رہے ہیں؟ یقیناً نہیں۔ بلکہ کسی نے باندھا ہوگا کسی نے پکڑا ہوگا کسی نے بلایا ہوگا۔ غرضیکہ حسب مشورہ اپنا اپنا کام تمام نے کیا ہوگا۔ ورنہ ایک آدمی پر سو یا دس یا سات کا بیک بار حملہ آور ہونا کس قدر سطحی بات معلوم ہوتی ہے۔

لیکن اصل سبب یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان فقہی بھول بھلیوں او رموشگافیوں سے فساد فی الارض کی بدترین کوشش مطلوب ہے او رمعاشرے کے ناسور عناصر کی ہر ممکن عزت افزائی مراد ہے۔

کوتاہ نظری : ہمیں ہرمرتبہ موصوف کی کوتاہ بینی پر اظہار تاسف کرنا پڑتا ہے جس سے شاید ہمارے قارئین کوئی اور مقصد اخذ کریں۔ دراصل ہم مجبور ہیں کہ یہ کج نظری او رکوتاہی فکر اگر بتقاضائے بشریت ہو تو ناقابل التفات سمجھی جاسکتی ہے لیکن جب محض تعصب اور تقلید کے پیش نظر ہو تو برداشت سے باہر معلوم ہوتی ہے اور اگر علمی کمزوری کا مظہر ہے تو پھر سمجھنا چاہیے۔ ؎

بت کریں آرزو خدائی کی

کیا شان ہے تیری کبریائی کی

''یعنی ذات سے کوڑ کرلی تے شتیراں نوں جپھے''

آپ موصوف کی اس قبیح و شنیع حرکت جو کہ احناف کے ورثہ میں ہمیشہ سے چلی آرہی ہے ،کو ہٹ دھرمی و دجل یا کسی اور مناسب الفاظ سے عبیر فرما لیجئے کہ مذکورہ عبارت کی تائید میں ابن عمرؓ کی روایت بحوالہ مرقاۃ نقل فرماتے ہیں لیکن علامہ ملا علی قاری کی عبارت دیکھنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی او ریہ عدم توفیق کا مسئلہ اگر مقدر کی بات ہے تو ہم لب کشائی کرنے پر مجاز نہیں اور اگر کوئی ''منحرامی'' یعنی دال میں سیاہ سیاہ '' ہے تو انہیں کو مبارک۔ بہرطور ہم قارئین کے اطمینان کے لیے یہ ضرور غرض کریں گے کہ ممسک یعنی پکڑنے والا اس وقت شریک قتل تصور نہیں ہوگا جب یہ امر اتفاقی ہو یعنی مباشرت قتل کے قبیل سے نہ ہو۔ ورنہ ظاہر ہے کہ وہ بھی قاتل کے حکم میں ہوگا چنانچہ ملا علی قاری حنفی اسی حدیث کے تحت امام مالک سے نقل کرتے ہیں:

''وَقَالَ مَالِكٌ: إِنْ أَمْسَكَهُ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ يُرِيدُ قَتْلَهُ قُتِلَا جَمِيعًا، وَإِنْ أَمْسَكَهُ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ يُرِيدُ الضَّرْبَ، فَإِنَّهُ يُقْتَلُ الضَّارِبُ، وَيُعَاقَبُ الْمُمْسِكُ أَشَدَّ الْعُقُوبَةِ وَيُسْجَنُ سَنَةً''

اس کے بعد صاحب مرقاۃ اپنا ریمارکس پیش فرماتے ہیں کہ:

''وَهُوَ تَفْصِيلٌ حَسَنٌ كَمَا لَا يَخْفَى عَلَى ذَوِي النُّهَى'' (مرقاۃ: ص69 ج7)

یعنی ہر عقل مند سمجھتا ہے کہ یہ فرق جو امام مالک نےپیش کیا ہے۔بہت عمدہ ہے۔ لیکن افسوس روایت پردرایت کوترجیح دینے والے نہ سمجھیں تو ؎ گر نہ بیند بروز شپرہ چشم چشمہ آفتاب راچہ گناہ

علامہ شوکانی بھی دوسرے الفاظ میں یہی بات فرماتے ہوئے رقم طراز ہیں:

''وَالْحَدِيثُ فِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمُمْسِكَ لِلْمَقْتُولِ حَالَ قَتْلِ الْقَاتِلِ لَهُ لَا يَلْزَمُهُ الْقَوَدُ وَلَا يُعَدُّ فِعْلُهُ مُشَارَكَةً حَتَّى يَكُونَ ذَلِكَ مِنْ بَابِ قَتْلِ الْجَمَاعَةِ بِالْوَاحِدِ، بَلْ الْوَاجِبُ حَبْسُهُ فَقَطْ ..... وَحُكِيَ فِي الْبَحْرِ أَيْضًا عَنْ النَّخَعِيّ وَمَالِكٍ وَاللَّيْثِ أَنَّهُ يُقْتَلُ الْمُمْسِكُ كَالْمُبَاشِرِ لِلْقَتْلِ لِأَنَّهُمَا شَرِيكَانِ، إذْ لَوْلَا الْإِمْسَاكُ لَمَا حَصَلَ الْقَتْلُ'' (نیل الاوطار: ص23 ج7)

بہرحال شرکت قتل پر ہم پہلے بھی مفصل بحث کرچکے ہیں۔ جہاں موصوف نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ جماعت بمقابلہ واحد قتل نہ ہوگی لیکن یہاں اگرچہ اس سے رجوع بھی کیا ہےلیکن ''کل شئ یرجع الی اصلہ'' پھر آخر میں جناب کا قدم صراط مستقیم سے پھسل گیا ہے جبکہ بات وہی تفریق والی صحیح ہے ورنہ ایسا معاشرتی فسادو بگاڑ بپا ہوگا کہ ''الامان والحفیظ''