مکتوبِ گرامی مولانا ارشاد الحق اثری ﷾

عزيزم محترم جناب ڈاكٹر حافظ حسن مدنی صاحب زاد کم الله عزًّا و شرفًا!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ مزاجِ گرامی !
'محدث' كا تازه شماره ملا جس ميں آپ كی اور ديگربعض اَفرادِ خانہ کی ڈینگی بخار سے ڈنگے جانے کا پڑھ کر افسوس ہوا ۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے آپ کو اور دیگر مریضوں کو شفا بخشی ۔ والحمد لله علىٰ ذلك !
اسی موذی بخار میں مبتلا ہو کے پہلے ہی ہمارا بڑا نقصان ہوا ہے۔ میری مراد جناب محترم ومرحوم محمد عطاء اللہ صدیقی صاحب ہیں جو 'محدث'کے دیرینہ معاون اور نامور مصنف ودانشور تھے۔ جن کا قلم ہمیشہ متجددین اور ملحدین کے لیے سیف ِبے نیام تھا۔ ان کے قلم کی کاٹ کے سبھی معترف ہیں۔ اسلام کے خلاف لکھنے والوں کا اُنہوں نے ہمیشہ تعاقب کیا۔ ملکی مسائل پر ، میڈیا کی بے حیائی او ربے حجابی پر اور اُمہ کی زبوں حالی پر اُنہوں نےخوب لکھا۔ وہ ایک پختہ ذہن کے مسلمان بلکہ 'بنیاد پرست'تھے اور اُنہیں اپنی بنیاد پرستی پر فخر تھا۔ وہ اس حوالے سے اپنے اندر کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کوقبول فرمائے اور دین کے خادموں کے ساتھ اعلیٰ علیین میں بلند نصیب بنائے۔ ان کا انتقال اِدارہ 'محدث' کا نقصان نہیں بلکہ ملتِ اسلامیہ کا نقصان ہے۔
گذشتہ شمارے میں یہ جان کر بھی سخت کوفت ہوئی کہ 'محدث' مالی بحران کا شکار ہے۔ اسی بنا پر 'محدث' کا تسلسل بھی باقی نہ رہا۔ ماہناموں میں 'محدث' کو ایک امتیاز حاصل ہے۔ یہ علمی، تحقیقی، فکری، نظری ، ملکی اور ملّی مسائل پر مشتمل ایسا ماہنامہ ہے جس سے صحیح راہنمائی ملتی ہے اور بروقت ملکی معاملات پر تبصرہ اور بڑے طریقے اور سلیقے سے ان پر محاکمہ پڑھنے کو ملتا ہے۔ اسی حالیہ شمارہ میں فکرونظر کے تحت 'ممتاز قادری اور ریمنڈ ڈیوس کیس کا دوہرا معیار' کےعنوان سے جو فکرانگیز مقالہ آپ نے رقم کیا ہے، وہ خاصے کی چیز ہے۔ اَفسوس ہے کہ ایسی فکری آبیاری کرنے والا 'محدث' بھی مالی بحران میں مبتلا ہے۔ اَصحابِ خیر سے التماس ہے کہ وہ اس روشنی کو مدہم نہ ہونے دیں اور بہرنوع اس علمی جریدہ سے تعاون کریں۔
محترم مدنی صاحب سے اور دیگر مدنی اخوان سے سلام عرض کردیں۔

والسلام دعا جوو دعاگو
اِرشاد الحق اثری


(2) گرامی قدر مدیر مسؤل ماہنامہ' محدث' لاہور!

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته!
اللہ پاک آپ کو آپ کے احباب ومعاونین کو صحت وتندرستی عطا فرمائے اور اپنی حفظ وامان میں رکھے۔ آمین یار بّ العالمین!
محدث کا شمارہ نمبر 351 موصول ہوا۔ جس میں یادِ رفتگان کے تحت محمد عطاء اللہ صدیقی  پر جناب حافظ شفیق الرحمن ﷾ کا تعزیتی مقالہ بعنوان 'فکر اِسلامی کا بے باک ترجمان اور غیور پاسبان'نظر نواز ہوا، یہ مضمون بہت ہی عمدہ اور معیاری ہے۔ اللہ پاک محمد عطاء اللہ صدیقی کو اپنی بخشش اور رحمت سے نوازے اور ان کے اہل خانہ وا حباب کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین
اَب جو لوگ اُن کے دوست ہونے کا دعوی کرتے ہیں، ان کے ذمہ دو کام ہیں :
1۔ ان کے لئے نماز کے بعد دعائے اِستغفار
2۔ ان کے کیے ہوئے کام کی اِشاعت اور ان کے اَدھورے کاموں کی تکمیل
آپ سے میری درخواست ہے کہ آپ اُن کے مقالات و مضامین کو کتابی صورت میں شائع فرمائیں۔ اُس کے علاوہ آپ نے جو کافی مدت پہلے ایک کتاب 'پاکستان کا مستقبل: سیکولرزم یا اسلام؟' کا اشتہار دیا تھا، اسے بھی شائع فرمائیں۔ جزاک اللہ فی الدارین!
آپ سے اِستدعا ہے کہ مجھے حافظ شفیق الرحمن صاحب﷾ کی اگر مطبوعات ہوں تو ان سے متعارف کروائیں جو ارسال کر دیں یا پھر میرا پتہ ان تک پہنچا دیں۔ مجھے جناب عطاء اللہ صدیقی صاحب پر آپ کے مقالہ کا انتظار رہے گا۔ إن شاء اللہ
میں اس شعر کے ساتھ اِجازت چاہوں گا کہ

جنہیں زندگی کا شعور تھاانہیں بے زری نے بچھا دیا
جوگراں تھے سینہ خاک پر وہی بن کے بیٹھے ہیں معتبر
اللہ نگہبان والسلام! تنویر احمد بٹ، کراچی