اہل بیت النبی ﷺکا نفقہ، سیدہ فاطمہؓ کی رضا مندی، وراثت جاری نہ ہونے کی حکمتیں

اَحادیث ِکثیرہ، مشہورہ،صحیحہ، مرفوعہ کے مطابق اہل السنۃ والجماعہ کامتفق علیہ عقیدہ ہےکہ انبیاء نہ کسی کے وارث ہوتے ہیں اور نہ کوئی ان کاوارث ہوتا ہے۔ چند ایک احادیث ملاحظہ فرمائیے:
1.«عن عائشة رضی الله عنها أن فاطمة والعباس أتیا أبابکر یلتمسان میراثهما من رسول الله ﷺ وهما یومئذ یطلبان أرضیهما من فدك وسهمه من خیبر فقال لهما أبوبکر سمعت رسول الله ﷺ یقول: «لا نورث ما ترکنا صدقة، إنما یأکل آل محمد من هذا المال» قال أبوبکر: والله لا أدع أمرا رأیت رسول الله ﷺ یصنعه إلا صنعتُه. قال: فهجرته فاطمة فلم تكلمه في ذلك حتي ماتت»1
''اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہؓ بیان فرماتی ہیں کہ حضرت فاطمہؓ او رحضرت عباس دونوں(رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد) ابوبکر صدیق کے پاس آئے آپﷺ کا ترکہ مانگتے تھے۔ یعنی جو زمین آپؐ کی فدک میں تھی او رجو حصہ خیبر کی اَراضی میں تھا، وہ طلب کررہے تھے۔ حضرت ابوبکر نے جواب دیاکہ میں نےرسول اللہﷺ سے سنا، آپﷺ نے فرمایا: ہم (انبیاء) جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔ البتہ بات یہ ہے کہ محمدﷺ کی آل اس مال سے کھاتی پیتی رہے گی۔ ابوبکر نے یہ بھی فرمایا: اللہ کی قسم میں نے رسول اللہﷺ کو جو کام کرتے دیکھا، میں اسے ضرور کروں گا، اُسے کبھی چھوڑنےکا نہیں۔ اس جواب کے بعد حضرت فاطمہؓ نے ملاقات میں انقباض سے کام لیااورچھ ماہ کے بعد وفات پاگئیں۔''
نواب وحیدالزمان لکھتے ہیں:
''حضرت فاطمہؓ کی یہ ناراضگی بہ تقاضائے صاحبزادگی تھی۔ ابوبکر کے پاس اس کاکوئی علاج نہ تھا ،کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان «ما ترکنا صدقة» کے سامنے بے بس تھے، مزید بحث آگے آرہی ہے۔
2. «عن أبي بکر الصدیق عن النبي ﷺ قال: «لا نورث ما ترکناه صدقة»2
''حضرت ابوبکر صدیق رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ،آپؐ نے فرمایا: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ ہم جو کچھ چھوڑتے ہیں ،وہ صدقہ ہوتاہے۔''
3. «وعن عمر أنه قال لعثمان وعبد الرحمٰن بن عوف والزبیر وسعد وعلي والعباس: أنشدکم الله الذی بإذنه تقوم السماء والأرض أتعلمون أن رسول الله ﷺ قال: «لانورث ماترکناه صدقة» قالوا: نعم3
''حضرت عمر فاروق نے حضرت عثمان، عبدالرحمٰن بن عوف، زبیر، سعد، علی اور عباس سے فرمایا کہ میں آپ سب کو اس اللہ کاواسطہ دےکر پوچھتا ہوں جس کے حکم کے ساتھ آسمان اور زمین اپنی جگہ پر قائم ہیں۔ کیاآپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھاکہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ ہم جومال چھوڑ جائیں، وہ صدقہ یعنی بیت المال کی ملکیت ہوتا ہے تو ان سب نے ہاں میں جواب دیا۔''
4.« وعن عائشة رضی الله عنها أن أزواج النبی ﷺ حین توفي رسول الله ﷺ أردن أن یبعثن عثمان إلی أبي بکر یسئلنه میراثهن، فقالت عائشة ألیس قد قال رسول الله ﷺ: «لانورث ماترکنا صدقة»4
''حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی تو آپﷺ کی بیویوں نے یہ ارادہ کیا کہ حضرت عثمان کو ابوبکر کے پاس بھیجیں اور اپنے ورثہ کا مطالبہ کریں تو اس وقت میں (عائشہؓ) نے اُن کو کہا: کیاتم کو معلوم نہیں کہ رسول اللہﷺ نے یہ فرمایا ہے: ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں۔ ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔''
5.« عن أبي هریرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ:«لا تقتسم ورثتي دینارًا ما ترکت بعد نفقة نسائي ومؤنة عاملي فهو صدقة»5
''حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: میرے وارث اگر میں ایک اشرفی چھوڑ جاؤں تو اس کو تقسیم نہیں کرسکتے بلکہ جو جائیداد میں چھوڑ جاؤں اس میں سےمیری بیویوں اور عملہ کا خرچ نکال کر جو بچے، وہ سب اللہ کی راہ میں خیرات کیا جائے۔''
6. «وعن أبي هریرة أن فاطمة رضی الله عنها قالت لأبي بکر من یرثك إذا متَّ؟ ولدی وأهلی قالت: فما لنا لا نرث النبی ﷺ قال: سمعت النبی ﷺ یقول: «إن النبی لا یورث» ولکن أعول من کان رسول الله ﷺ یعول و أنفق علىٰ من کان رسول الله ﷺ ینفق»6
''حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ خواتینِ جنت کی سردار سیدہ فاطمہؓ نے حضرت ابوبکر صدیق سے سوال کیاکہ جب آپ وفات پائیں گے تو آپ کاوارث کون ہوگا؟ تو ابوبکر صدیق نے جواب دیا کہ میری اولاد اور میری بیوی میری وارث ہوگی۔ تو اس جواب پر سیدہ فاطمہؓ نے فرمایا:پھر ہم رسول اللہ ﷺ کے وارث کیوں نہیں تو ابوبکر صدیق نے فرمایا: میں نےرسول اللہﷺ سے خود سنا کہ آپﷺ نے فرمایا: بےشک نبی کاکوئی وارث نہیں ہوتا، لیکن میں (ابوبکر) ہر اس شخص کی کفالت کروں گا جس کی رسول اللہﷺ کفالت فرماتے رہے اور اس شخص پر خرچ کرتارہوں گا جس پررسول اللہ ﷺ خرچ فرماتےرہے۔''
اِعتراض: ما ترکنا صدقةٌ کی تاویل کرتے ہوئے کہاجاتا ہے کہ یہ دراصل لایورث ما ترکنا صدقةً ہے جس میں صدقةًمنصوب ہے جو ترکیب جملہ میں حال واقع ہوا ہے۔ والتقدیر لا یورث الذي ترکناه حال کونه صدقةً ''ہمارے ترکہ میں قانون وراثت جاری نہیں ہوا، درآنحالے کہ وہ صدقہ ہو۔''
جواب: یہ تاویل باطل ہے کیونکہ سلف اور خلف محدثین نے تسلسل وتوارد کے ساتھ صدقةٌ کو مرفوع روایت کیاہے۔ یعنی ما ترکنامحل رفع میں مبتد اور صدقةٌاس کی خبر ہے لہٰذا صدقةٌکو صدقةً منصوب پڑھنا باطل ہے، جیسا کہ امام شوکانی  تصریح فرماتے ہیں:
«لا نورث بالنون وهو الذی توارد علیه أهل الحدیث في القدیم والحدیث کما قال الحافظ في الفتح وما ترکنا موضع الرفع بالإبتداء و صدقةٌ خبره»7
مزید برآں حدیث نمبر5 (روایت ابی ہریرہؓ)کے الفاظ «ما ترکت بعد نفقة نسائي ومؤنة عاملي فهو صدقة» اور اسی حدیث میں «لا تقتسم ورثتي» اور حدیث نمبر6 میں رسول اللہ ﷺ کے الفاظ «أن النبی لا یورث» کے الفاظ اس تاویل کے غلط ہونے پر شاہد ِعدل ہیں۔ نیز حضرت ابوبکر صدیق کا حضرت فاطمہؓ کے موقف کے خلاف ان الفاظ «ما ترکنا صدقةٌ»کو بطورِ دلیل پیش فرمانا او رپھر حضرت فاطمۃ الزہراؓ کا خاموش ہوجانا بھی اس تاویل کے بطلان پر قوی برہان ہے۔ حالانکہ حضرت ابوبکر صدیق اور سیدہ فاطمۃ الزہراؓ دونوں أفصح الفصحاء وأعلمهم بدلالة الألفاظ تھے۔ یعنی وہ دونوں لغت ِعربی کے ماہر اور عربی الفاظ کے معانی اور ان کی نزاکتوں کے شناور تھے۔ اگرحدیث ما ترکنا صدقة کی عبارت اس طرح ہوتی جس طرح معترض کا کہنا ہے تو پھر حضرت ابوبکر کا اس سے دلیل پکڑنا صحیح نہ ہوتا اور نہ اُن کا یہ جواب سوال کےمطابق ہوتا اور نہ سیدہ فاطمہؓ ان کے اس غلط جواب پرسکوت اختیار فرماتیں۔
حضرت ابوبکر صدیق کا مطلب صرف یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے ترکہ میں وراثت ِ مالی جاری نہیں ہوتی لہٰذا بطورِ میراثِ مالی آپ کا ترکہ اہل بیت کو منتقل نہیں ہو سکتا۔ رہی کفالت تو وہ رسول اللہ ﷺ کے دستور کے مطابق حسب ِسابق بحیثیت خلیفۃ الرسولﷺ میری اَوّلین ترجیح اور اہم ترین ذمہ داری ہے جیسا کہ پہلی حدیث (روایتِ عائشہؓ) میں ہے:« إنما یأکل آل محمد من هذا المال قال أبوبکر: لا أدع أمرًا رأیت رسول الله ﷺ یصنعه إلاصنعتُه»8
اس عبارت میں یہ اوّلین ترجیح او راہم ترین ذمہ داری صاف اور صریح الفاظ میں موجود ہے۔ مزید احادیث پڑھیے:
7.«عن عروة عن عائشة أن فاطمة والعباس أتیا أبابکر یلتمسان میراثهما أرضه من فدك وسهمه من خیبر فقال أبوبکر سمعتُ النبی ﷺ یقول: «لا نورث ما ترکنا صدقة» إنما یأکل آل محمد ﷺ في هذا المال والله لقرابة رسول الله ﷺ أحب إلي أن أصل من قرابتی»9
''حضرت عائشہؓ روایت فرماتی ہیں کہ حضرت فاطمہؓ او رعباس (دادا ،پوتی) نے ابوبکر صدیق کی خدمت میں بطورِ میراث فدک کی اراضی کی آمدنی اور خیبر کے خمس (دونوں میں اپنے مالی حقوق) کامطالبہ کیا۔ (جواب میں)ابوبکر صدیق نے کہا کہ میں نے نبی کریمﷺ سےسنا ہے کہ آپﷺ نے فرمایا تھا ہم انبیا کی وراثت (مالی)جاری نہیں ہوتی۔جو کچھ چھوڑ کر ہم رخصت ہوتے ہیں، وہ(اللہ کی راہ میں وقف اور)صدقہ ہوتاہے۔ پھر ابوبکر صدیق نے آلِ رسول اللہ ﷺ کی مکمل مالی کفالت کےبارے میں فرمایا کہ مذکورہ بالا اَموال میں سے آلِ محمدﷺ یقیناً کھاتی پیتی رہے گی۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ کے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی مجھے اپنے قرابت داروں کی صلہ رحمی سے کہیں زیادہ محبوب ہے۔''
8. اس ترجیح پر مکمل عمل کا ثبوت یہ حدیث ہے:
«عن عبدالرحمان بن أبي لیلى قال سمعت علیًّا یقول اجتمعت أنا والعباس وفاطمة و زید بن حارثة عند النبي ﷺ فقلت: یا رسول اللهﷺ! إن رأیت إن تولّینی حقنا من هٰذا الخمس في کتاب الله عزوجل فاقسمه حیاتك کیلا ینازعنی أحد بعدك فافعل قال: ففعل ذلك قال: فقسمته حیاة رسول الله ﷺ ثم ولانیه أبوبکر حتی إذا کانت آخر سنة من سني عمر فإنه أتاه مال کثیر فعزل حقنا ثم أرسل إلي فقلت بنا عنه العام غنًا وبالمسلمین إلیه حاجة فاردده علیهم فردّه علیهم»10
''عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں:میں نے حضرت علی کو یہ فرماتے سنا ہے کہ میں نےعباس، فاطمہ اور زید بن حارثہ کی موجودگی میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ ہم قرابتِ داران نبیﷺ کاجو حصہ مالِ خمس میں بنتا ہے، اگر آپ مناسب سمجھیں تو اس کی تقسیم کی ذمہ داری اپنی زندگی میں مجھے سونپ دیں تو بہتر ہوگا تاکہ آپﷺ کے بعد کوئی شخص ہمارے ساتھ اس معاملہ میں جھگڑا نہ کرسکے۔ حضرت علی کہتے ہیں: نبی کریمﷺ نے مجھے اس کام کامتولی بنا دیا۔ آپ کے عہد میں ،میں اس خمس کے حصہ کو (بنوہاشم میں) تقسیم کرتا رہا۔ بعد ازاں حضرت ابوبکر نے مجھے اس عہدہ پر قائم رکھا حتیٰ کہ جب فاروقی خلافت کے آخری سال ہوئے تو حضرت عمر کے پاس بہت سا مالِ غنیمت آیا۔ پس اُنہوں نے ہمارا حق خمس علیحدہ کرکے میرے پاس بھیجا (اور فرمایا کہ حسبِ سابق اس مال کی تقسیم کردو) تو میں نے جواب میں کہا کہ اے امیرالمؤمنین! ہم لوگوں (بنوہاشم) کی اب معاشی حالت مستحکم ہے، دوسرے لوگ محتاج اور ضرورت مند ہیں۔ تب حضرت عمر نے (ہمارا یہ حصہ)محتاج مسلمانوں کے لیے بیت المال میں جمع کردیا۔''
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ حضرت خلیفۃ الرسول ابوبکر صدیق﷜ نے اپنی اس ترجیح پر اس طرح عمل کیا کہ رسول اللہﷺ کے وضع کردہ دستور کے مطابق مالِ خمس وغیرہ کی آمدنی کا وہ حصہ جو آل رسولﷺ کو ملتا تھا اس کو حضرت علی﷜ کی نگرانی میں دے دیا اورپھر خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق﷜ نے خلیفۃ الرسولﷺ کی پیروی میں اسی دستورپر عمل کیا اورنہ صرف حضرت خلیفہ ثالث حضرت عثمان﷜ کی خلافت میں اسی دستور پرعمل رہا بلکہ حضرت علی﷜ کی شہادت کے بعد ان کی اولاد پشتوں تک اس کی متولی اور نگران بنتی چلی گئی جیسا کہ صحیح بخاری میں اوس بن حدثان کی طویل حدیث کے آخر میں ہے:
«فکانت هذه الصدقة بید علي منعها علي عباسا فغلبه علیها ثم کان بید حسن بن علي ثم بید حسین بن علي ثم بید علي بن حسین وحسن بن حسن کلاهما کانا یتداولانها ثم بید زید بن حسن وهی صدقة رسول الله ﷺ حقًا»11
''مدینہ کے اَموال بنی نضیر وغیرہ میں ہاشم و آلِ رسول ﷺ کا حصہ جناب علیؓ کے دست ِتصرف میں تھا۔ اختلافِ رائے کی بنا پر حضرت علیؓ نے حضرت عباسؓ کو اس مال کی نگرانی سے روک دیا۔ پھر یہ مال حضرت علیؓ کی وفات کے بعد حضرت حسن بن علیؓ کی تولیت میں تھا پھر حضرت حسین بن علیؓ کے ہاتھ میں تھا بعد ازاں حضرت زین العابدینؓ اورحسن بن حسنؓ کی تولیت میں تھا وہ دونوں باری باری اس کے نگران ہوتےتھے پھر ان دونوں کے بعد زید بن حسن کے ہاتھ میں تھا۔ یقیناً یہ رسول اللہ ﷺ کا صدقہ تھا۔''
ان احادیث ِصحیحہ سے یہ حقیقت ِواقعیہ اُبھر کر سامنے آتی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان کے ادوارِ خلافت میں بنو ہاشم او رآلِ رسول ﷺ کو مالِ خمس وغیرہ سے ان کا حصہ پورا پورا ملتا تھا، اُن کا حق کسی نے دبایا اور نہ غصب کیا۔ضائع کیا اورنہ خورد برد کیا ۔
اِن احادیث کا ماحاصل
1.رسول اللہﷺ کی آلِ کریم او رقرابت داروں کا جو حق مالِ خمس او رمال فے میں تھا، وہ ان کو کماحقہ باقاعدہ ملتا رہا۔ تاہم ان اموال کی ملکیت بطورِ وراثت ان کو نبی کریمﷺ کے فرمان کی بنا پر منتقل نہ ہوئی ۔
2. اس حصہ کے متولی اور متصرف خود حضرت علیؓ تھے۔ ان کے بعد اس حصہ کی نگرانی ان کی پشتوں میں منتقل ہوتی رہی۔
3. آلِ رسول ﷺ او ربنوہاشم کی حق تلفی کی داستانیں بالکل خانہ ساز اور جعلی ہیں۔
فیصلہ صدیقی کے حق میں شیعی شہادتیں
حضرت ابوبکر صدیق﷜ کا آلِ رسول اللہ ﷺ کے حق میں یہ فیصلہ اس قد رحق اور صواب تھا کہ سنی عُلما کی شہادتیں تو درکنار خود شیعہ اہل علم اپنے ائمہ اہل بیت کے حوالہ سے اس فیصلہ کو مبنی برحق و صواب تسلیم کرتے چلے آرہے ہیں، جیسا کہ شیعہ علما لکھتے ہیں:
امام باقر کی شہادت: علامہ ابو حامد عبدالحمید المعروف ابن ابی الحدید شیعی (متوفی 656ھ) بہ اسنادِ جناب محمد باقر (امام پنجم شیعہ ) سے روایت کرتے ہیں:
«عن کثیر النواء قال قلت لأبي جعفر محمد بن علي جعلني الله فداك أرأیت أبابکر وعمر هل ظلماکم من حقکم شیئًا أو قال ذهبَا من حقکم بشيء فقال: لا والذي أنزل القرآن علىٰ عبده لیکون للعالمین نذیرًا، ما ظلمنا من حقنا مثقال حبة من خردل. قلت جعلت فداك، أفأتولاهما قال نعم: ویحك تولاهما في الدنیا والآخرة وما أصابك ففي عنقي، ثم قال: فعل الله بالمغيرة وتبيان، فإنهما كذبا علينا أهل البيت»12
''کثیر النوا کہتے ہیں ، میں نے جناب محمد باقر سے پوچھا کہ کیا ابوبکرؓ اور عمر ؓ نے تمہاری کوئی حق تلفی کی ہے تو اُنہوں نےمیرے جواب میں فرمایا: قرآن نازل کرنے والے ربّ تعالیٰ کی قسم! ان دونوں نے رائی کے دانے برابر بھی ہماری حق تلفی نہیں کی تو پھر میں نےپوچھا کہ کیا میں ان دونوں سے دوستی رکھوں تو اُنہوں نے فرمایا: دنیا اور آخرت دونوں میں ان کی دوستی کادم بھرو۔ اگر ان کی دوستی پر تجھ سے کچھ مؤاخذہ ہوا تو اس کی ذمہ داری میری گردن پر ہے۔ اللہ مغیرہ اور تبیان کو غارت کرے، وہ آل نبی پر ظلم و ستم کے جھوٹے قصے اور داستانیں گھڑتے رہتے ہیں۔''
امام زید بن زین العابدینؓ کی شہادت: فرماتے ہیں:
«وأیم الله لو رَجع الأمر إلىٰ لقضیتُ فیه بقضاء أبي بکر»13
''یعنی امام زیدشہید فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! اگر فدک کی تقسیم کا مقدمہ میری طرف لوٹ کر آتا تو میں بھی اس کا وہی فیصلہ کرتا جو ابوبکر صدیقؓ نےفیصلہ کیا تھا۔'' یعنی امام کے نزدیک حضرت ابوبکر صدیقؓ کا فیصلہ14 بالکل درست اور صحیح تھا۔
حدیث ِابوبکرؓ او رعلما ے شیعہ
جناب محمد باقر او رجناب زید جیسے کبار ائمہ شیعہ نے خلیفہ رسولﷺ بلا فصل ابوبکر صدیق کے اس فیصلہ کو صائب اور مبنی برحق فیصلہ اس لیے قرار دیا ہے کہ یہ متواتر حدیث «ومَا ترکنا صدقة» خود ان اَئمہ کرام کے علم و تحقیق کےمطابق زیربحث قضیہ میں ایسی نصِ قطعی اور برہانِ جلی ہے کہ اس کا انکار ان بزرگوں کے نزدیک مکابرہ (مدافعة الحق بعد العلم به) او رپرلے درجہ کی ہٹ دھرمی کے متراف تھا۔ او ریہ متواتر حدیث نہ صرف ان اَئمہ کرام کے علم میں تھی بلکہ یہ اہل علم کے ہاں اس قدر متداول ہے کہ اَکابر شیعی محدثین بھی اسکو اپنی صحاح او ردوسری کتب ِمعتبرہ میں روایت کرتے چلے آرہے ہیں:
1. چنانچہ چوتھی صدی کے مشہور شیعی محدث محمد بن یعقوب کلینی رازی (م329ھ) اپنی کتاب اُصولِ کافی میں بروایت ابوالبختری امام ابو عبداللہ جعفر صادق سے حسب ِذیل الفاظ میں روایت کرتے ہیں:
«عن أبي عبد الله قال إن العلماء ورثة الأنبیاء وذٰلك أن الأنبیاء لم یورثوا درهمًا ولا دینارًا وإنما ورثوا أحادیث من أحادیثهم فمن أخذ بشيء منها أخذ بحظ وافر»15
''حضرت جعفر صادق نے فرمایا: ہر گاہ علما انبیاء ﷩ کے وارث ہیں، اس لیےکہ انبیاء﷩ کی وراثت درہم و دینار کی صورت میں نہیں ہوتی۔ وہ اپنی حدیثیں وراثت میں چھوڑتے ہیں جو اُنہیں لے لیتا ہے، اُس نے پورا حصہ پالیا یعنی جو اِن احادیث کو حاصل کرلے، وہی وراثتِ نبویﷺ کا حامل اور وارث ہوتا ہے۔''
2.علامہ ابومنصور احمد بن علی طبرسی، حضرت ابوبکر صدیقؓ کی حسب ِذیل حدیث بلا کسی ردّ و قدح کے یوں روایت کرتے ہیں:
«إني أشهد الله وکفٰى به شهیدًا أني سمعت رسول الله ﷺ یقول: «نحن معاشر الأنبیاء لا نورث ذهبًا ولا فضة ولا دارًا ولا عقارًا وإنما نورث الکتاب والحکمة والعلم والنبوة وما کان لنا من طعمة فلولي الأمر بعدنا أن یحکم فیه بحکمه»16
''حضرت فاطمہ الزہراؓ کے مطالبۂ وراثتِ مالی کے جواب میں حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بناکرکہتا ہوں اور اللہ کی گواہی کافی ہے۔ہر گاہ میں نے رسول اللہ‎ﷺ سے سنا ، آپؐ فرماتے ہیں: ہم انبیاء کی جماعت اپنے بعد کسی کو سونے، چاندی، گھر اور اراضی کا وارث نہیں بناتے۔ ہم صرف کتاب و حکمت، علم اورنبوت سے متعلق اُمور کاوارث بناتے ہیں، رہے ہمارے ذرائع معاش تو وہ ہمارے بعد ہونے والے خلیفہ کی سپرداری میں چلے جاتے ہیں، وہ ان میں اپنی صوابدید کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔''
3. حدیث «مَا ترکنَا صَدقة» کی صحت اتنی عالم آشکارا ہے کہ شیخ ابوریہ محمود اور سید محمد باقر موسوی خراسانی جیسے کٹر شیعہ عالم بھی اس کو صحیح تسلیم17 کرتے ہیں۔
4. تیسری صدی کے مشہور شیعی محدث فرات بن ابراہیم ابن الفرات الکوفی اپنی تفسیر 'الفرات' میں روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت علیؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا:«ما أرث منك یارسول اللهﷺ!» یارسول اللہ ! میں آپﷺ کی وراثت میں کیا پاؤں گا؟ تو آپﷺ نے میرے جواب میں فرمایا:
فقال: «مَا ورِث الأنبیاء من قبلي...»
''جو کچھ مجھ سے پہلے انبیاء ﷩ اپنی وراثت میں دیتے رہے ہیں، وہی آپ بھی حاصل کریں گے۔''
حضرت علیؓ نے پھر سوال کیا: ما ورثت الأنبیاء من قبلك؟
''آپﷺ سے پہلے کے انبیائے کرام اپنی وراثت میں کیا چھوڑتے رہے؟''
اس پر رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا:
«کتاب ربهم وسنة نبیهم»''اپنے ربّ کی کتاب اور نبی کی سنت ''18
کیا سیدہ فاطمہؓ حضرت ابو بکر صدیق سے ناراض فوت ہوئیں؟
پہلے ہم علماء اہل سنت کی شہرہ آفاق کتاب البدایہ والنہایۃ او ردیگرکتب ِاہل سنت کی روایات پیش کریں گے پھر شیعہ علماء کی کتب ِمعتبرہ کی روایات حوالہ قرطاس ہوں گی:
1. حافظ ابن کثیر( متوفی 774ھ) تصریح فرماتے ہیں:
«فلما مرضت جاءها الصدیق فدخل علیها فجعل یترضاها فرضِیت»19
''جب فاطمہ ؓ بیمار پڑگئیں تو حضرت ابوبکرؓ ان کےپاس تشریف لائے اور ان کو راضی کرنے لگے حتیٰ کہ حضرت فاطمہؓ ان سے راضی ہوگئیں۔''
2. امام محمد بن سعد (متوفی 230، 235ھ) کی تصریح:
«أخبرنا عبد الله بن عمر حدثنا إسماعیل عن عامر الشعبی قال جاء أبوبکر إلىٰ فاطمة حین مرضت فاستأذن. فقال علي: هٰذا أبوبکر على الباب فإن شئتِ أن تأذن له. قالت وذلك أحب إلیك، قال نعم فدخل علیها واعتذر إلیها وکلّمها فرضیتْ عنه»20
''حضرت عامر شعبیؓ کہتے ہیں جب حضرت فاطمہ زہراءؓ بیمار پڑگئیں تو حضرت ابوبکرؓ ان کے پاس تشریف لائے اور دروازے پر کھڑے ہوکر اندر داخل ہونے کی اجازت طلب فرمائیں تو حضرت علیؓ نے کہا: اے فاطمہؓ! ابوبکرؓ اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں (اگر اجازت ہو) تو حضرت فاطمہؓ نے فرمایا: اگر آپ کو ان کے اندر آنے پراعتراض نہ ہو تو تشریف لے آئیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا: مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ تب ابوبکر صدیقؓ اندر آگئے اور معذرت کرتے ہوئے ان کو راضی کرنے لگے۔ حضرت فاطمہؓ نے ان کی معذرت کو پذیرائی بخشتے ہوئے صلح کرلی اور ان سے راضی ہوگئیں۔''
3. امام بیہقی کی تصریح :
«عن الشعبی قال لما مرضت فاطمة أتاها أبوبکر الصدیق فاستأذن علیها فقال علي: یا فاطمة! هٰذا أبوبکر یستأذن علیك فقالت أتحب أن أذن له قال نعم فأذنت له فدخل علیها یترضاها وقال والله ماترکت الدار والمال والأهل والعشیرة إلا ابتغاء مرضاة الله ومرضاة رسوله ومرضاتکم أهل البیت ثم ترضاها حتی رضیت. هٰذا مرسل حسن بإسناد صحیح»21
''جب حضرت فاطمۃ الزہراء ؓ بیمار ہوئیں تو حضرت ابوبکر صدیقؓ ان کی تیمار داری کے لیے تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت طلب فرمائی۔ حضرت علیؓ نے حضر ت فاطمہؓ سےکہا کہ ابوبکر صدیقؓ اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ حضرت فاطمہؓ نے کہا کہ اگر ان کا آنا آپ کو پسند ہے تو ٹھیک، حضرت علیؓ نے فرمایا: ان کا اندر آنا مجھے گوارا ہے۔اجازت ہوئی، ابوبکر صدیقؓ اندر تشریف لائے اور حضرت فاطمہؓ کی رضا مندی حاصل کرنے کی خاطر گفتگو شروع کرتے ہوئے حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی رضا مندی کی خاطر اور آپ (اہل بیت) کی خوشنودی کے لیے ہم نے گھر بار مال و دولت، خویش و اقربا کو چھوڑا۔ اس طرح کی گفتگو کاسلسلہ شروع رکھا حتیٰ کہ سیدہ فاطمہؓ ابوبکر صدیقؓ سے راضی ہوگئیں۔''
4. امام اوزاعی  کی تصریح:
«عن الأوزاعی قال: فخرج أبوبکر حتی قام علىٰ بابها في یوم حار ثم قال لا أبرح مکاني حتی ترضی عني بنت رسول الله ﷺ فدخل علیها علي فأقسم علیها لترضی فرضیت»22
''امام اوزاعی سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ ایک گرم دن میں حضر ت فاطمہؓ کے دروازہ پر پہنچے او رفرمایا : جب تک رسول زادی مجھ سے راضی نہ ہوگی یہاں سے ہٹنے کا نہیں۔ حتیٰ کہ حضرت علیؓ حضر ت فاطمہؓ کے پاس آئے اور ان کو قسم دی کہ آپ ابوبکرؓ سے راضی ہوجائیں تو اس پر حضرت فاطمہؓ راضی ہوگئیں۔''
اگر بالفرض حضرت فاطمہؓ واقعی مطالبہ میراث پورا نہ ہونے پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے ناراض ہوگئی تھیں تو ان چاروں روایات کے مطابق ان کا راضی ہوجانا بھی ثابت ہورہا ہے۔
شیعی روایات
1. علامہ ابن میثم بحرانی مشہور شیعہ فاضل اور شارح نہج البلاغہ اپنی کتاب میں روایت کرتے ہیں جس میں حضرت ابوبکرصدیقؓ او رحضرت فاطمہؓ کی باہمی بات چیت منقول ہے ۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ حضرت فاطمہؓ سے مخاطب ہیں:
«قال إن لك ما لأبیك کان رسول الله ﷺ یأخذ من فدك فوتکم ویقسم الباقي و یحمل منه في سبیل الله ولك علىٰ الله أن أضع بها کما کان یصنع فرضیت بذلك وأخذت العهد علیه»23
'' ابوبکر صدیقؓ نے حضرت سیدہ فاطمہؓ سے کہا کہ آپ کے لیے حقوق وہی ہیں جو آپ کے والدِ گرامی کے لیے تھے۔ رسول اللہ ﷺ فدک کی پیداوار سے آپ لوگوں کا خرچ خوراک علیحدہ کرکے باقی ماندہ آمدن کو محتاجوں میں بانٹ دیتے تھے اور کچھ حصہ سے اللہ کی راہ میں سواری اور ہتھیار وغیرہ خریدا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے آپ کا مجھ پرحق ہے۔فدک کے بارے میں وہی کچھ کروں گا جو طریقہ خود رسول اللہ ﷺ اختیار فرماتے تھے۔پس اس چیز پروہ ابوبکر صدیقؓ سے راضی ہوگئیں اور اس پر اُنہوں نے ابوبکر ؓ سے پختہ وعدہ اور اقرار لے لیا۔''
2. مشہو ر شیعہ عالم اور شارح نہج البلاغہ ابراہیم بن حاجی حسین بن علی انبلی لكھتے ہیں:
«وذلك إن لك ما لأبیك کان رسول الله ﷺ یأخذ من فدك قوتکم ویقسم الباقي ویحمل من في سبیل الله ولك علىٰ الله أن أصنع بها کما کانا یصنع فرضیت بذلك وأخذت العهد علیه به»24
''حضرت ابوبکرؓ نے حضرت فاطمہؓ کو فدک کے بارے میں مطمئن کرتے ہوئے فرمایا : آپ کے والدِ گرامی کے لیے جو حقوق تھے وہی آپ کے لیے طے شدہ ہیں۔ رسول اللہ ﷺ فدک کی پیداوار سے تمہارے اخراجات الگ کرلیتے تھے او رباقی کو حاجت مندوں میں تقسیم فرما دیتے تھے اور اللہ کی راہ میں اس سے سواری وغیرہ خرید لیتے تھے۔ رضائے الٰہی کے حصول کے لیے مجھ پر آپ کا حق ہے کہ فدک کے متعلق میں وہی طریقہ اپناؤں جو طریقہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا رکھا تھا۔ اس گفتگو کے بعد حضرت فاطمہؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ سے خوش اور راضی ہوگئیں۔ اور اس چیز کی پابندی کا حضرت ابوبکرؓ سے پکا اقرار نامہ اور پختہ وعدہ لے لیا۔''
3. شیعہ کی معتبر کتاب حجاج السالکین میں مرقوم ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے سیدہ فاطمہؓ کونہ صرف راضی کرلیا بلکہ سیدہ فاطمہؓ نےحضرت ابوبکرؓ کے اس صحیح فیصلہ کو بہ اعماقِ قلب تسلیم بھی فرما لیا تھا ۔ روایت حسب ِذیل ہے:
«إن أبابکر لما رأی أن فاطمة انقبضت عنه وهجرته ولم تتکلم بعد ذلك في أمر فدك کَبُر ذلك عنده فأراد استرضاءها فأتاها فقال لها: صدقت یا ابنة رسول الله ﷺ فیما ادعیت ولکنی رأیت رسول الله ﷺ یقسمها فیعطی الفقراء والمساکین وابن السبیل بعد أن یعطی منها قوتکم والصانعین فقالت: افعل فیها کما کان أبي رسول الله ﷺ یفعل فیها. قال أشهد الله علي أن أفعل فیها ما کان یفعل أبوك فقالت: والله لتفعلن فقال والله لأفعلن فقالت اللهم اشهد اللهم اشهد فرضیت بذلك وأخذت العهد علیه وکان أبوبکر یعطیهم منها قوتهم فیعطی الفقرآء والمسکین»25
''جب حضرت ابوبکر صدیقؓ سے جناب فاطمہؓ کشیدہ خاطر ہوگئی اور بات کرنا چھوڑ دیا تو یہ بات ابوبکرؓ کوشاق گزری اور جناب فاطمہؓ کو رضا مند کرنےکی غرض سے ان کے پاس تشریف لے گئے اور کہا: آپ نے بلا شبہ سچ کہا، اے رسول زادی! لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپؐ فدک کی پیداوار کو تقسیم کردیا کرتے تھے، محتاجوں، مسکینوں او رمسافروں کو دے دیا کرتے تھے۔ جب کہ پہلے آپ اہل البیت کو خرچ دیتے تھے پھر کام کرنے والوں کو بھی اس سے دیتے تھے۔ جناب فاطمہؓ نے کہا آپ بھی ایسا ہی کریں جیسا میرے والد ماجد رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے تو ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا : میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ ایسا ہی کروں گا جیسے رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے۔ جناب فاطمہؓ نے فرمایا: آپ اللہ کی قسم کھاتے ہو کہ ایسے ہی کرو گے تو ابوبکرؓ نےکہا :اللہ کی قسم ایسا ہی کروں گا۔اس پر حضرت فاطمہؓ نے کہا:اے اللہ! گواہ رہنا۔ پھر حضرت فاطمہؓ نے اُن سے عہد لے لیا ۔ ابوبکر صدیقؓ پہلے ان کو خرچ مہیا کرتے او ربعد میں غربا ءو مساکین میں تقسیم کردیتے۔''
ترکہ نبوی میں وراثت جاری نہ ہونے کی حکمتیں
نبی ﷺ کے ترکہ میں قانونِ وراثت جاری نہ ہونے میں حسب ِذیل حکمتیں کارفرما تھیں:
پہلی حکمت
1.﴿اللَّهُ يَبسُطُ الرِّ‌زقَ لِمَن يَشاءُ وَيَقدِرُ‌.... ٢٦ ﴾...سورة الرعد
''اللہ جس کی روزی چاہتا ہے بڑھا دیتا ہے او رجس کی چاہتا ،گھٹا دیتا ہے۔''
2. ﴿كُلوا مِن رِ‌زقِ رَ‌بِّكُم وَاشكُر‌وا لَهُ .... ١٥ ﴾... سورة سبا
''اپنے رب کی دی ہوئی روزی کھاؤ او راس کا شکر ادا کرو۔''
3. ﴿أَم يَحسُدونَ النّاسَ عَلىٰ ما ءاتىٰهُمُ اللَّهُ مِن فَضلِهِ .... ٥٤ ﴾.... سورة النساء
''یا یہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اُنہیں دے رکھا ہے۔''
4.﴿وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعضَكُم عَلىٰ بَعضٍ فِى الرِّ‌زقِ.... ٧١ ﴾... سورة النحل
''اللہ تعالیٰ ہی نے تم میں سے ایک کو دوسرے پر رزق میں زیادتی دے رکھی ہے۔''
5. ﴿فَكُلوا مِمّا رَ‌زَقَكُمُ اللَّهُ حَلـٰلًا طَيِّبًا وَاشكُر‌وا نِعمَتَ اللَّهِ... ١١٤﴾...سورة النحل
''جو کچھ حلال او رپاکیزہ روزی اللہ نے تمہیں دے رکھی ہے اسے کھاؤ اور اللہ کی نعمت کاشکر اداکرو۔''
6. ﴿وَما بِكُم مِن نِعمَةٍ فَمِنَ اللَّهِ.... ٥٣ ﴾... سورۃ النحل
''تمہارے پاس جتنی بھی نعمتیں ہیں سب اللہ ہی کی دی ہوئی ہیں۔''
ان چھ آیات اور اس مفہوم کی دوسری بیسیوں آیاتِ مقدسہ کے مطابق اس دنیا میں انسان کے پاس جو کچھ ثروت و دولت، مال اور زندگی کا دوسرا ساز و سامان ہے۔ اس کا حقیقی مالک صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے، جو خالق کائنات ہے۔ انسان کے پاس یہ مال و متاع محض چند روز کے لیےبطورِ امانت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و احسان سے رفع حاجات اور روز مرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے یہ چیزیں مستعار عطا فرما رکھی ہیں جن پر ہمارا کوئی ذاتی استحقاق نہیں۔ لہٰذا اگرانسان کی مو ت کے بعد اس کا یہ چھوڑا ہوا مال غیر ورثا میں تقسیم کروا دیا جاتا تو بھی ظلم نہ ہوتا۔ جب انسان خود اس مال کا حقیقی مالک نہیں تو اس کے اقارب کیسے مستحق ہوسکتے ہیں؟
مگر بقولِ حکیم الاسلام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، انسان اپنی جبلت او رکم نظری کی وجہ سے اس مستعار مال کو اپنی ملک سمجھنے لگتا ہے اور موت کے وقت اس مال کو چھوڑنے پر رنجیدہ اور غمگین ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ کریم نے اپنے لطف و کرم اور شفقت ورأفت سے اس کے ترکہ کا وارث اس کے اَقارب کو مقرر فرما دیا تاکہ انسان یہ جان کر مطمئن ہو جائےکہ میری یہ دولت و ثروت اگرچہ میرے ہاتھ سے نکل رہی ہے مگر پھر بھی میرے ہی اقارب کومل رہی ہے۔
انبیا﷩ کی حقیقت آگاہ نظر پر غفلت کا پردہ نہیں ہوتا۔ ہر چیز کا دنیا میں مستعار ہونا اور مالک و متصرف حقیقی صرف ذاتِ باری تعالیٰ کا ہونا ہر وقت ان کے ذہن میں ہوتا ہے ۔ جب انبیا﷩ کی دوربین نگاہیں دنیا کی کسی چیز کا اپنے نفوسِ قدسیہ کو مالک اورمستحق ہی تصور نہیں کرتیں تو اُن کا ترکہ ان کے ورثا کو دلا کر اُنہیں مطمئن کرنے کی کوئی حاجت تھی اور نہ ضرورت۔ انبیا﷩ کو نہ زندگی میں یہ تمنا تھی کہ ہمارے اقارب کا ترکہ ہمیں ملے اور نہ ہی اس دارِفانی سے فوت ہوتے وقت اپنے مال کے چھوٹنے کا کچھ ملال ہوتا تھا۔ پس انبیا ﷩ کے لیے مذکورہ بالا طریق سے تسلی او راطمینان کی سرے سے کوئی حاجت ہی نہ تھی۔
دوسری حکمت
1.﴿وَما أَسـَٔلُكُم عَلَيهِ مِن أَجرٍ‌ إِن أَجرِ‌ىَ إِلّا عَلىٰ رَ‌بِّ العـٰلَمينَ ١٠٩ ﴾... سورۃ الشعراء
''میں تمہیں جو تبلیغ کررہا ہوں، اس کا کوئی اجر تم سے نہیں مانگتا بلکہ اس کا اجر ربّ العالمین ہی کے ذمہ ہے جوقیامت کو وہ عطا فرمائے گا۔''
2. ﴿قُل لا أَسـَٔلُكُم عَلَيهِ أَجرً‌ا إِلَّا المَوَدَّةَ فِى القُر‌بىٰ .... ٢٣ ﴾... سورۃ الشوریٰ
''آپ کہہ دیجئے میں اس (تبلیغ)پر تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا مگر محبت رشتہ داری26 کی۔''
ان دونوں آیاتِ کریمہ کی تصریح کے مطابق حضرت نوح سے لے کر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تک تمام انبیاء و رسل ﷩ کا تبلیغ رسالت کے بارے میں یہ طریقہ رہا کہ وہ بغیر کسی معاوضہ کے احکامِ الٰہیہ کی تبلیغ فرماتے تھے اور اعلان کرتے تھے کہ ہم آپ سے کسی معاوضہ کی تمنا نہیں رکھتے، ہمارا اَجر تو اللہ ربّ العالمین کے ذمے ہے۔ پس اگر نبی اپنے رشتہ داروں کاوارث ہوتا تو یہ اعتراض خارج از مکان نہ تھا کہ اس نے اپنی اُمت سے مال لیا ہے اسی طرح اگر نبی کا ترکہ اِس کےورثا پر تقسیم ہوتا تو دشمنانِ نبوت یہ اعتراض کرسکتے تھے کہ نبوت کی آڑ میں اپنے وارثوں کے لیے دولت اکٹھی کرگیا ہے۔ لہٰذا ان دونوں اعتراضوں کی بیخ ہی کاٹ کر رکھ دی کہ نبی کو نہ کسی سے کچھ لینے کا لالچ او رنہ کسی کو کچھ دینے یا اپنے ورثا کے لیے دولت جمع کرنے کی حرص ہے!! شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ حدیث «ماترکنا صدقة» کی حکمت بیان کرتے ہوئے ارقام فرماتے ہیں:
«والفرق بین الأنبیآء وغیرهم إن الله تعالىٰ صان الأنبیاء عن أن یورثوا الدنیا لئلا یکون ذلك شبهة لمن یقدح في نبوتهم بأنهم طلبوا الدنیا وورثوها لورثتهم»27
''اگر انبیا﷩کے ترکہ میں عام قانونِ میراث جاری رکھا جاتا تو دشمنانِ نبوت کو یہ اعتراض کرنے کا موقع ہاتھ آجاتا کہ اُنہوں نے اپنے او راپنے وارثوں کے لیے مال ودولت جمع کرنے کے لیے نبوت کو آڑ لیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے «لا نورث ماترکنا صدقة» کا قانون جاری کروا کر اپنے انبیا﷩ کو اس بھونڈے اعتراض سے ہمیشہ کے لیے بچا لیا۔''
تیسری حکمت
انبیا﷩ اپنی اپنی اُمت کے روحانی باپ ہوتے ہیں۔ نبی کا یہ روحانی رشتہ ہرفرد بشر سے ہوتا ہے۔ ہر کالے گورے اور سرخ و سپید پربرابر کی شفقت ہوتی ہے۔ اس لیےنبی کاترکہ تمام اُمت پرصدقہ ہوتاہے جو بلا کسی امتیاز کے آقا و غلام، مرد و زن، بُرے بھلے، صالح وفاسق، قریب و بعیداور ہر خاص و عام تمام مسلمانوں کے مشترکہ مصالح پر صرف کیا جاتا ہے۔ پس اگر نبی کا ترکہ صرف اُس کے اُصول و فروع پر ہی تقسیم کیا جاتا تو اس کے اقربا کے ساتھ تعلق و شفقت کا خاص ظہور ہوتا جو اُمت کے دوسرے افراد سے بے رخی اور ان کی دل شکنی کامظہر ہوتا جو کہ شفقت عام کے سراسر منافی ہے۔ فافهم ولا تکن من القاصرین
چوتھی حکمت
رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ عالی ہے:
«إن هذا الصدقات إنما هي أوساخ الناس لا تَحل لمحمد ولا لآل محمد ﷺ»28
''صدقات لوگوں کے ہاتھوں کی میل کچیل ہے جو میرے لیے اور آلِ محمدﷺ کے لیے حلال نہیں۔''
اور مذکورہ بالا احادیث میں فرمایا : «ماترکنا فهو صدقة» ان دونوں احادیثِ صحیحہ کو باہم ملانے سے ثابت ہواکہ انبیاء ﷩ کا ترکہ اُن کے ورثا پر حرام ہے کیونکہ وہ صدقہ ہے۔
شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں:
«وفي هذا الحکم سر آخر و هو أنه ﷺ إن أخذها لنفسه وجوز أخذها لخاصته والذین یکون نفعهم بمنزلة نفعه کان مظنة أن یظن الظانون ویقول القائلون في حقه ما لیس بحق»29
'' رسول اللہ ﷺ اور آپ کی آل پر صدقہ کے حرام ہونے میں دوسرا راز یہ ہے کہ اگر رسول اللہﷺ اپنے مال کو اپنی ذات کے لیے یا اپنے خاص افراد کے لیے جن کانفع آپ کا اپنا نفع ہے، کے لیےجائز قرار دیتے تو آپ کے خلاف بدگمانی کرنے والوں او رناحق اعتراض کرنے والوں کو موقع ہاتھ آجاتا کہ یہ نبی دنیا کا کتنا حریص کہ غربا و مساکین کا حق کھانے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔''
پانچویں حکمت
اگر انبیا ﷩ کے ترکہ میں عام رائج قانونِ میراث جاری رکھا جاتا تو ممکن تھا کہ بشری تقاضوں اور دنیا کی حرص کی وجہ سے ان کے ورثا اُن کی موت کا انتظار کرنے لگے جاتے جو ان کے حق میں وَبال ثابت ہوتا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے نبی کے ورثا کی بہتری کے پیش نظر ان کو ترکہ سے محروم کرکے دنیا کا عارضی نقصان برداشت کروا کر آخرت کے وبالِ عظیم اور ہمیشہ کی ہلاکت سے بچالیا۔ میرے علم کے مطابق یہ وہ حکمتیں ہیں جن کی وجہ سے رسول اللہﷺ کے ترکہ میں قانونِ وراثت جاری نہیں فرمایا گیا۔ واللہ تعالیٰ اعلم
(مذکورہ بالا تینوں مباحث مولانا موصوف کے کتابچہ سے ماخوذ اور اُن کا خلاصہ ہیں۔ تلخیص از کامران طاہر)


حوالہ جات

1صحیح البخاري، باب قول النبي ﷺ لا نورث ما ترکنا صدقة:2؍995، صحیح مسلم، کتاب الجهاد، باب حکم الفيء :2 ؍92،93، نیل الأوطار: 2؍76

2متفق علیہ و نیل الاوطار :2؍76

3ايضاً:6؍76

4صحیح البخاری: 2؍996 ؛ صحیح مسلم : 2؍91؛نیل الاوطار:6؍76

5صحیح بخاری: 2 ؍996 ؛صحیح مسلم :2؍92

6رواہ احمد والترمذی و صححہ؛ نیل الاوطار : 6 ؍76

7نیل الاوطار: 6؍77

8صحیح بخاری :2؍995

9صحیح بخاری : 2؍576

10سنن أبي داؤد، کتاب الخراج: باب مواضع قسم الخمس وسهم ذي القربٰى:2 ؍60

11صحیح بخاری :2؍576

12شرح نہج البلاغۃ لابن ابی الحدید: 4؍113، الفصل الاول بحث فدک ؛ و رحماء بينهم: 1؍ 102

13شرح نہج البلاغۃ لابن ابی الحدید: 4؍113

14یہ فیصلہ السنن الکبریٰ از بیہقی 2؍302 باب بیان مصرف أربعة أخماس الفيء میں بھی موجود ہے۔

15اُصول کافی : 1؍32

16احتجاج الطبرسی: 1 ؍104

17ایضاً: ج1؍ ص104 و 105

18کتاب تفسیر فرات :ص82 بحوالہ تحفۃ الشیعہ

19البدایۃ والنھایۃ: 6؍33... نیز دیکھئے العواصم من القواصم: ص38

20طبقات ابن سعد: 8؍17، تذکرہ فاطمہ؛ورحمآء بینهم : 1؍147؛ریاض النضرہ فی مناقب العشرة:1 ؍115

21السنن الکبریٰ للبیہقی مع الجوہر النقی : 6؍301 ؛فتح الباری : 6 ؍151

22أخرجه ابن السمان في الموافقه، ریاض النضرۃ فی مناقب العشر المبشرۃ : 1؍156 ،157 و تحفۃ اثنا عشریۃ جواب طعن سیزدہم

23شرح نہج البلاغۃ لابن میثم بحرانی : 5؍107 ؛ الشیعۃ و اہل البیت از حافظ احسان الٰہی ظہیر:ص85

24کتاب درہ تحفیہ شرح نہج البلاغۃ :ص331 ، 332 ؛ الشیعہ وا ہل البیت :ص75 ؛ورحمآء بینهم :ص153

25آفتابِ ہدایت:ص251

26قبائل قریش او رنبیﷺ کے درمیان رشتہ داری کا تعلق تھا۔ آیت کا مطلب بالکل واضح ہے کہ وعظ و نصیحت اورتبلیغ و دعوت کی کوئی اُجرت تم سے نہیں مانگتا،البتہ ایک چیز کا سوال ضرور ہے کہ میری دعوت کو نہیں مانتے تو نہ مانو تمہاری مرضی لیکن مجھے نقصان پہنچانے سے تو باز رہو او رمیرے راستے کا روڑہ تو نہ بنو۔ حضرت ابن عباسؓ نے اس کے معنی کیے ہیں کہ میرے اور تمہارے درمیان جو قرابتداری ہے، اس کو قائم رکھو۔ (صحیح بخاری تفسیر سورۃ الشوریٰ) نبیﷺ کی آل سے محبت او راُن کی تعظیم و تکریم جزوِ ایمان ہے ۔ لیکن اس آیت کا کوئی تعلق اس موضوع سے نہیں جیسا کہ شیعہ حضرات کھینچا تانی کرکے اس آیت کو آل محمدﷺ کی محبت سے جوڑتے ہیں او رپھر آل کو بھی اُنہوں نےمحدود کردیا ہے ۔ حضرت علیؓ و فاطمہؓ اور حسنین ؓ تک ۔ نیز محبت کامفہوم بھی ان کے نزدیک یہ ہے کہ اُنہیں معصوم اور الٰہی اختیارات سے متصف مانا جائے۔ علاوہ ازیں کفارِ مکہ سے اپنے گھرانے کی محبت کاسوال بطورِ اُجرتِ تبلیغ نہایت عجیب ہے جو نبیﷺ کی شانِ ارفع سے بہت ہی فروتر ہے۔ پھر یہ آیت اور سورت مکی ہیں جبکہ حضرت علیؓ او رحضرت فاطمہؓ کے درمیان ابھی عقدِ زواج بھی قائم نہیں ہوا تھا یعنی ابھی وہ گھرانہ ہی معرض وجود میں نہیں آیاتھا جس کی خود ساختہ محبت کا اثبات اس آیت سے کیا جاتا ہے۔ (تفسیراحسن البیان: ص636)

27منہاج السنۃ :2 ؍157

28صحیح مسلم :1 ؍345

29حجۃ اللہ البالغہ: 2؍46