ہمارے بزرگ دوست ابو محمد سید بدیع الدین شاہ صاحب کتاب و سنت سے گہری عقیدت اور آزادانہ سوچ کے اعتبار سے ایک امتیازی حیثیت کےحامل ہیں۔ سعودی عرب کے طویل سفروں اور وہاں کے قیام نے شاہ صاحب موصوف کے توحیدی فکر کو مزید جلا بخشی ہے۔ الحمدللہ، کچھ عرصہ سے وہ سیاسی امور میں بھی خوب دلچسپی لے رہے ہیں او راس سلسلہ میں چند ایک پریس کانفرنسوں سے بھی خطاب کرچکے ہیں۔جس کاموضوع ''آئین شریعت''، ''اسلامی سزائیں'' اور اسلامی نظام کے دیگر پہلو'' ہیں۔ زیر نظر پریس کانفرنس منعقدہ 5 مارچ 1979ء بھی اس کی ایک کڑی ہے۔ جس پر تعلیقات ہماری طرف سے ہیں۔

چونکہ عرصہ سے علمائے دین مغرب کے سیاسی تسلط کی بناء پ رمساجد و مدارس میں قلعہ بند ہونے پر مجبور تھے۔ اس لیے قانون و سیاست کے میدانوں میں ان کے انکار نے اجنبیت اختیار کرلی ہے جبکہ علمائے دین کی سوچ بھی اس جانب خاطر خواہ پیش رفت نہ کرسکی۔ نتیجتاً معاشرہ کے لیے مسجد کی مرکزیت ختم ہوگئی اورمغربی نظام کا کابوس ذہنوں پرچھا گیا۔ حالت یہ ہے کہ ایک طرف مغربی اصطلاحات نے اپنا جال تن رکھا ہے تو دوسری طرف اسلامی جزئیات کی افادیت کا جائزہ سامراجی نظاموں میں فٹ کرکے لیاجارہا ہے ۔ ہمیں خوشی ہے کہ ایسے حالات میں کبھی کبھی اسلام کی آزادانہ سوچ کی لکیریں بھی نظر آجاتی ہیں۔ اگرچہ ایسے مختصر بیانات غیر اسلامی ماحول میں خاصی وضاحتوں کے محتاج ہوتے ہیں تاہم قابل قدر ہیں۔ اللہ کرے یہ بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوں۔ آمین

شاہ صاحب محترم سے امید ہے کہ وہ اس میدان میں اسلامی اور سامراجی افکار کا تقابلی مطالعہ کرکے اس خلاء کو پُر کریں گے۔ آپ کی حافظ ابن حزم سے خصوصی نسبت کا بھی تقاضا ہے کیونکہ حافظ موصوف نے دین و دولت کے دونوں میدانوں میں قابل قدر خدمات انجام دیں ہیں۔ (مدیر)

الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی سیدالمرسلین وعلیٰ آلہ و اصحابہ اجمعین امابعد

تعارف: جماعت اہل حدیث صحابہ کرام کے زمانہ سے چلی آرہی ہے۔ یہ جماعت رسول اکرمﷺ کو مطاع ، امام او رپیشوا مانتی ہے۔ یہی وجہ ہےکہ آپ کے لائے ہوئے دستور قرآن و سنت کو ہی صرف حجت مانتی ہے۔ ائمہ دین اور علمائے کرام کے اختلاف کے وقت ان ہی دو چیزوں یعنی قرآن و سنت کو حرف آخر جانتی ہے۔ حکومت وقت نے پاکستان میں اسلامی قوانین کاجواعلان کیاہے اس پر وہ صدہا مبارکباد کی مستحق ہے۔ ہماری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس نیک مقصد میں کامیابی عطا فرمائے۔ آمین

حدود کا عملی نفاذ: ضرورت اس امر کی ہے کہ جن حدود ک ااعلان کیا گیا ہے ان کوجلد عملی جامہ پہنایا جائے تاکہ مک میں امن و سلامتی کا دور دورہ ہو۔ اس طرح نہ صرف حکومت مخالفین اسلام کے پھیلائے ہوئے شبہات کو دور کرسکے گی بلکہ ان قوانین پر جلدعمل درآمد سے دوسرے ممالک اسلامیہ ک ےلیے راہ ہموار ہوگی۔

حدّ زنا: کتب احادیث کی رُو سے رسول اللہ ﷺ کا حکم غیر شادی شدہ زانی کے لیے 100 دُرّے مانرا اور اس کے ساتھ ہی ایک سال کے لیے شہر بدر کیا جانا ثابت ہے اسی پر خلفاء راشدین ابوبکر صدیقؓ او رعمر فاروقؓ اپنے دور خلافت میں عمل کرتے رہے۔ اس لیے حکومت وقت کی جانب سے جو سزا مقرر کی گئی ہے وہ ناقص اور نظرثانی کی مستحق ہے۔

اسی طرح اعلان میں لواطت (لڑکوں سے بُرائی) کرنے کی سزا کا ذکر نہیں ہے حالانکہ یہ فعل بھی انتہائی بُرا اور غیر فطری ہے جس کی سزا سنت میں اس کو قتل کرنے کا حکم ہے لہٰذا اس کی سزا بھی ہونی چاہیے۔

سرقہ: مسروقہ مال کا نصاب حدیث کے مطابق ہونا چاہیے۔احادیث کے مطابق دینار کی چوتھائی یا تین درہم کی مقدار کی چوری پر ہاتھ کاٹنے کا حکم ہے۔ بعض احادیث میں ایک رسی کی چوری پربھی ہاتھ کاٹنے کا حکم ہے اور فقہ حنفیہ میں دس درہم تک بتلایا گیاہے۔

زکوٰۃ: زکوٰۃ و عُشر کے عملی نفاذ کی برکات سے غربت کا خاتمہ ہوجائے گا۔ دولت کی گردش بڑھے گی ، صاحب ثروت لوگوں اور غریب و نادار اشخاص میں باہمی ہمدردی، خلوص و محبت فروغ پائے گی ۔ بخل و کنجوسی کے خاتمہ کے ساتھ کمائی میں برکت او رمال میں روحانی پاکیزگی پیدا ہوگی۔ ان شاء اللہ۔

ٹیکس: زکوٰۃ و عُشر کے عملی نفاذ کے ساتھ ساتھ موجودہ ٹیکسوں میں تخفیف بھی ضروری ہے۔ تاکہ زکوٰۃ و عُشر کو آسانی و فراخدلی سے ادا کرسکیں۔

سُود : سُود کی لعنت کو ختم کرنے کا جو تہیہ حکومت نےکیا ہے لائق تحسین ہے مگر اس پرفوری طور پر پہل حکومت کی جانب سے اس طرح کرنی چاہیےکہ مقروضین پرواجب الادا سود فوری طور پر حکومت معاف کرنے کا اعلان کرے۔ یہ وہی طریقہ ہے جو رسول اللہﷺ نے اختیار فرمایاتھا۔ آپؐ نے سود کی لعنت کے خاتمہ کے العان کے ساتھ سب سے پہلے اپنے چچا عباسؓ کے تمام سود کو ختم اور معاف فرمایا اور اسی ترغیب و حکم کی اتباع میں یکے بعد دیگرے صحابہ کرام نے اپنے اپنے سود چھوڑ دینے یامعاف کردینے کا اعلان کیا۔ اس امر میں صدر مملکت اگر سنت کے مطابق اعلان فرمائیں تو باآسانی کامیاب ہوسکتے ہیں۔ تازہ مثال ہے کہ صدر مملکت نے زکوٰۃ فنڈ کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی متمول حضرات نے بڑی بڑی رقوم جمع کروانا شروع کردی ہیں۔اس طرح سود کے خاتمہ پربھی ہوگا۔ ان شاء اللہ

شراب و منشیات : شراب اور دیگر منشیات کو ممنوع قرار دے کر صدر مملکت نےایک اہم فرض کو پورا کیا ہے۔ اس کے باوجود چند افراد حیلے بہانے پیش کرتے ہوئے کچھ وقت کے لیےنرمی برتنے کے نظریہ کی وکالت کررہے ہیں۔ حکومت کو ایسے افراد سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اسلامی نظام کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ حالانکہ اس اعلان سے منشیات کے عادی افراد کے خاندانوں کو افلاس سے نجات ملی ہے جس کے لیے حکومت وقت عوام کی دعاؤں کی مستحق ہے۔ علاوہ ازیں اسلام اس سلسلے میں کسی نرمی کی اجازت نہیں دیتا۔ غیر مسلموں کے لیے بھی شراب کی اجازت معقول نہیں کیونکہ عیسائیوں کی موجودہ بائیبل اور آریہ سماج کی کتاب ستھیارتھ پرکاش میں بھی شراب کی مذمت مذکور ہے۔

رشوت: رشوت کے خلاف سزاؤں کے اعلان کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر اجرتوں یا کم تنخواہ پانے والے ملازمین کی تنخواہوں کو اس قدر بڑھایا جائے کہ وہ اپنے لواحقین کی جائز ضروریات کو آسانی سے پورا کرسکیں تاکہ مجبوری کی شکایت کا ازالہ ہوسکے۔ اس کے ساتھ ہی رشوت کے مجرموں کو کم از کم دس سال کے لیے کسی بھی سرکاری ملازمت کے لئے نااہل قرار دیا جائے او رایسے افراد کے تمام اثاثے ضبط کرکے بیت المال میں جمع کئے جائیں ۔ دراصل رشوت ہی کے سبب عدل و انصاف کو ظلم و ستم میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ لہٰذا اس پرفوری توجہ اور مزید سخت سزاؤں کو عمل میں لایا جانا چاہیے۔

اصلاح معاشرہ: اصلاح معاشرہ کے ضمن میں حکومت وقت سے تعاون کے لیے علماء وقت پر فرض ہے کہ زبان و قلم سے موجودہ برائیوں کے خلاف جہاد کریں۔ فروعی اختلافات کو بھلا کر اللہ کا خوف، آخرت کا تصور او ربرائیوں کے نتائج سے عوام کو آگاہ کریں۔ برُائیوں کی اساس اور بنیاد اللہ کے ساتھ شرک ہے جب تک شرک کے دروازے بند نہیں کیے جاتے اصلاح معاشرہ کی امید رکھنا بے معنی ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ سے محبت کے حقیقی مفہوم کو اجاگر کرتے ہوئے آپ کے راستے پرعوام کو عمل پیرا ہونے کی ترغیب دی جائے جس طرح محمد رسول اللہ ﷺ نے سب سے پہلے اپنی تمام تر قوت شرک کے خلاف استعمال کی اور توحید کے درس سے فسق و فجور میں مبتلا درندہ صفت لوگوں کی کایا پلٹی اور اللہ وحدہ لاشریک کےعلاوہ ہر شے سے بے خوف ایک مثالی جماعت کا قیام عمل میں لائے اسی سلطان عبدالعزیز بن سعود نے شرک کا خاتمہ کرتے ہوئے توحیدکا جھنڈا بلند کیا جس کے سبب تمام بُرائیاں خود بخود ختم ہونا شروع ہوگئیں۔ امن و امان قائم ہوا اور شرعی حدود کے نفاذ کی راہ آسان تر ہوتی چلی گئی۔ اگر ہم بھی یہی طریقہ اختیار کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ معاشرہ کی اصلاح جلد نہ ہوسکے۔ جماعت اہلحدیث سندھ صدر محترم سے پُرزور اپیل کرتی ہے کہ شرک کا سدباب اور توحید کی بالادستی قائم کی جائے۔

پردہ: اسی طرح عورتوں کا بے پردگی او ربناؤ سنگھار کے ساتھ بازاروں میں نکلنا اور درگاہوں و مزارات پر جمع ہونا معاشرہ کی اصلاح میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔لہٰذا بے پردگی جو بُرائیوں اور فحاشی کا دروازہ ہے اس کا فوری تدارک کیا جائے۔اصلاح معاشرہ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ تعلیم السام کی طرف پوری توجہ دی جائے۔

تعلیم: نصاب تعلیم میں ترمیم کرکے قرآن و حدیث کو اوّلین مقام دیا جائے ۔ ساتھ ہی عربی زبان کو بھی لازمی قرار دیا جائے تاکہ لوگ قرآن و سنت کو بخوبی سمجھ سکیں اور اپنی اصلاح آپ کرنے کے قابل ہوجائیں۔ سابقہ دور کے مضر اثرات اور غلط رجحان کو زائل کرنے کے لیے اعلیٰ افسران اور دیگر گورنمنٹ ملازمین کے لیے اسلامی تعلیمات پر مشتمل ایک مختصر نصاب تیار کیا جائے او رگورنمنٹ ملازمین کی ترقی کا دارو مدار اس نصاب کے امتحان کی کامیابی سے مشروط ہو۔

محکمہ امربالمعروف و نہی عن المنکر: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے خاص محکمہ قائم کیا جائے جس کا مرکزی و صوبائی سطح پر نیز ڈویژن، ضلع اور تحصیل وار نظام ہو۔ تبلیغ اور دعوت دین کے ادارے ان کے تحت ہوں۔

اتحاد کی اساس: حالیہ تحریک میں عوام کو نظام مصطفیٰ ﷺ کے نام پر جمع کیا گیا تھااور یہی وہ نعرہ تھا او رہے جس پر امت مسلمہ کا اتفاق ہوسکتا تھا اور ہے ۔ اسی نعرہ یعنی متفقہ بنیاد قرآن اور سنت محمدؐ کے عملی نفاذ کے لیے مسلمانان پاکستان نےقربانیاں دیں لہٰذا موجودہ سیاستدانوں اور علماء وقت سے ہم پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ اس متفق علیہ دستور قرآن و سنت کےنفاذ میں اپنے فقہی اختلافات سے تاخیر یا تعطل پیدا نہ کریں یہ وقت فقہ کی بحث چلا کرنظام اسلام کے عملی نفاذ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا ہرگز نہیں۔ اہل فقہ حضرات کو نہ تو قرآن پر اختلاف ہے او رنہ ہی سنت محمدیہؐ پر او رہر ایک یکساں طور پر یقین رکھنے کا متقاضی ہے۔ ہر ایک جس پرمتفق ہے وہ قرآن و سنت ہی ہے اسی کو قانونی حیثیت حاصل ہوسکتی ہے۔

انتخابات: انتخابات کے مطالبہ کو جمعیت اہلحدیث سندھ مکمل نظام اسلامی کے نفاذ او رعمل درآمد سے قبل صحیح نہیں سمجھتی بلکہ ضروری ہے کہ پہلے اسلام کو مکمل اور عملی طور پر نافذ کیا جائے اور جب معاشرہ اسلامی بن جائے اس کے بعد تمام مکاتب فکر کے علماء کی ایک کمیٹی تشکیل دے کر اسلام کی روشنی میں انتخابات کرائے جائیں۔اس سے قبل انتخابات سے اچھے نتائج کی اُمید نہیں کی جاسکتی۔

اپیل: جمعیت اہلحدیث سندھ صدر جنرل محمد ضیاء الحق سے پُرزور اپیل کرتی ہے کہ جلد از جلد مکمل اسلامی احکامات کو پوری قوت سے نافذ کیا جائے او ران پر عمل کیا جائے اور اس کے بعد انتخابات اسلام کی روشنی میں کرائے جائیں۔

اقامت صلوٰۃ : اقامت نماز کے لیے صرف اعلان، اپیل یاترغیب ہی کافی نہیں بلکہ اس کو قانونی شکل دی جائے اور عمداً ترک صلوٰۃ پر سزا مقرر کی جائے۔ اسلامی روایات کے مطابق نماز کے اوقات میں صدر محترم خود امامت کا فرض انجام دیں اور اسی طرح صوبائی گورنر و دیگر افسران کو امامت کے فرائض کی ادائیگی کا پابند کریں۔

آخر میں صدر محترم ضیاء الحق کو میں یقین دلاتا ہوں کہ ہماری جماعت اہلحدیث سندھ اسلامی قوانین کے نفاذ او رمعاشرہ کی اصلاح کے لیے آپ سے تعاون کررہی ہے اور کرتی رہے گی۔ ان شاء اللہ ۔ او رہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسلام کے عملی نفاذ میں ہم سب کو متحد و متفق رکھے اور خلوص میں اضافہ فرماتے ہوئے ہماری مدد فرمائے۔ آمین۔
حاشیہ

۔ اصطلاح شرع میں اسے ہی نفاذ حدود کہتے ہیں۔ ہمارے ہاں''نفاذ'' کے معنی میں عموماً وضع قانون کا تصور بھی داخل ہوتا ہے جو غیر شرعی تصور ہے ۔ کیونکہ شرع میں حکم (وضع قانون) کا اختیار صرف احکم الحاکمین کو ہے قرآن میں ہے: ان الحکم الا للہ۔اسلام میں فقہ کا مقہوم بھی فہم شریعت ہے جو اجتہاد سے حاصل ہوتا ہے۔ وضع قانون کا تصور لادینی ہے۔ شرعی اجتہاد میں یہ قطعاً داخل نہیں ہے۔

۔ دراصل کسی فقہی تعیین سے مختلف احوال میں اسلامی شریعت کی لچک مجروح ہوتی ہے۔ اگرکتاب وسنت کی آئینی اور قانونی حیثیت اصلی صورت میں بحال رہے تو احادیث سے مختلف نصابوں کے ثبوت کی صورت میں مختلف احوال پر ان کا علیٰحدہ علیٰحدہ اطلاق ہوگا۔ اسی طرح ائمہ فقہاء کا اختلاف بھی تبدیل شدہ حالات پر محمول کیا جاسکتا ہے۔ بشرطیکہ نص کے خاف نہ ہو۔ مغرب کے تصور تدوین قانون یا فقہی جمود و تقلید کو اپنانے سے الجھنیں بڑھ جائیں گی۔

۔ بلکہ ٹیکسوں کا مسئلہ مکس کے جواز پر مبنی ہے ۔ اسلامی نظام معیشت میں اس کی حرمت اور وعید زنا سےبھی شدید تر ہے نیز جب زکوٰۃ و عُشر کو اسلامی نظام معیشت و کفالت میں رکھ کر دیکھا جائے تو ٹیکس کی ضرورت ہی ختم ہوجاتی ہے۔ موجودہ ٹیکس کی بنیاد دین و دولت (مذہب و سیاست) کی تقسیم پر ہے۔لہٰذا علمائے دین کو مرعوبیت کی بجائے اصل اسلام کی تفصیلات کو سامنے رکھنا چاہیے۔

۔ بہت معقول تجویز ہے۔ اسلام کی مکمل کارفرمائی کے بغیر مغربی جمہوری انتخابات ہی ہوسکتے ہیں جو الحاد او ربے راہ روی کو فروغ دیں گے۔ اسلامی چناؤ اسی صورت ممکن ہے کہ سامراجی طریقوں کے بالمقابل رسول اللہﷺ کی نیابت (خلافت علی منہاج النبوۃ) کے صحیح اصولوں پر الیکشن یا سلیکشن ہو۔ اسلام کی اپنی بنیادیں ہیں وہ جمہوریت یا اشتراکیت کے طریقو|ں سے قائم رہتا ہے نہ اپنے ڈھانچہ میں انہیں بحالہ قبول کرسکتا ہے۔

۔ جس کی صحیح صورت یہ ہےکہ شریعت کی عملداری کی شکل میں عبادات اور معاملات کے جملہ احکام اللہ تعالیٰ کے نافذ کردہ سمجھ کر اپنائے جائیں۔ حکومت کا کام صرف حدود اللہ کی حفاظت ہے۔ اس لیے وہ سزا دے گی۔اسلام میں ریاست کا کام نافذ کرنا نہیں۔ نافذ تو اللہ کرتا ہے۔ مسلمان نماز، نکاح، وراثت وغیرہ کو حکومت کے بغیر بھی انجام دیتا ہے۔ حکومت کا کام ہے عمل کرانا اور خود بھی عمل پیرا ہونا۔