(1)

کلیسا اور آگ : از نسیم حجازی

ضخامت : 428 صفحات۔ (سفید کاغذ، عمدہ کتابت طباعت)

قیمت : 20 روپے

ناشر : قومی کتب خانہ۔ 19 فیروز پور روڈ لاہور

مسلمانوں کے عروج و زوال کی تاریخ اپنے اندر عبرت و موعظت کی سینکڑوں داستانیں سمیٹے ہوئے ہے۔ ہندوستان پر قریباً آٹھ سو سال تک فرزندان توحید نےبڑے شکوہ سے حکومت کی ، ہسپانیہ (اسپین) میں ساڑھے سات سو برس تک ان کے اقبال کا آفتاب نصف النہار پر رہا۔ صقلیہ (سسلی) پر تین صدیوں تک پرچم اسلام لہراتا رہا۔خلافت روم صدیوں تک ایک عظیم الشان طاقت بنی رہی۔ دنیا کے تاریک ترین اور دور دراز گوشوں کوبھی مسلمانوں نے اپنے علم اور تہذیب سے منور کردیا لیکن پھر ایک دن چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ وہ خطہ ہائے زمین جن پر اولوالعزمان اسلام نے صدیوں تک اپنے فضل و کمال اور جاہ و جلال کا علم بلند رکھا۔ بالآخر انہی کے اخلاف کے لیے تنگ ہوگئے۔ یہ کیوں ہوا او رکیسے ہوا؟ اس کاجواب بڑاطویل اور جگر خراش ہے۔ مختصر یہ کہ مسلمانوں اپنے کردار کھو بیٹھے۔ موت ان کی نظر میں ہلاکت بن گئی۔ جہاد فی سبیل اللہ اور فقر و عشق ان کے لیے قصہ پارینہ بن گئےنتیجہ ظاہر ہے۔

جناب نسیم حجازی ہمارے کاروان عظمت رفتہ کے اُن حدُی خوانوں میں سے ہیں جن کے سینے میں ایک مرد مومن کا دل دھڑکتا ہے او رجو اپنی قوم کو ایک بار پھر اپنی عظمت رفتہ کا حامل دیکھنا چاہتے ہیں۔ قوم کے جذبہ عمل کو مہمیز لگانے کے لیے وہ اب تک متعدد کتابیں ناول کے پیرائے میں لکھ چکے ہیں۔ زیر نظر کتاب ان کی تازہ ترین تخلیق ہے۔جس میں ان کے ولولہ انگیز انداز تحریر کی خوبیاں پوری طرح نمایاں ہیں۔ اس کتاب کا تعلق سرزمین اندلس (اسپین و پرتگال) سے ہے اور خود ان کے الفاظ میں''یہ کتاب ایک قوم کی المناک داستان کا آخری باب ہے جو قریباً آٹھ صدیاں عروج و زوال کی منازل طے کرنے کے بعد اُُس سرزمین سے نابود ہوگئی تھی جہاں آج بھی دنیابھر کے سیاح اس کی عظمت رفتہ کی یادگار یں دیکھنے آتے ہیں۔'' جناب نسیم حجازی کی شخصیت ، ان کا سوز دروں اور غایت درجہ دلچسپ تاریخی اور ادبی شہ پارے کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ یہ کتاب بھی ان کی دوسری کتابوں کی طرح ہر لحاظ سے پڑھنے کے قابل ہے۔ جناب نسیم حجازی اس کی تصنیف پر او رقومی کتب خانہ لاہور ، صوری او رمعنوی خوبیوں سے مالا مال اس کتاب کی اشاعت پر ہدیہ تبریک کے مستحق ہیں۔

(2)

مذہب اور تجدید مذہب : از جناب عبدالحمید صدیقی (مرحوم)

ضخامت : 222 صفحات، مجلد

قیمت : 05؍16روپے

ناشر : البدر پبلی کیشنز۔ 40۔ بی ، اُردو بازار لاہور

یہ کتاب نامور مفکر، ادیب او رصحافی پروفیسر عبدالحمید صدیقی (مرحوم و مغفور)کی گرانقدر تصنیف ہے، جسے البدر پبلی کیشنز نےنہایت حسین و جمیل انداز میں شائع کیا ہے۔ افسوس کہ اس کتاب کی اشاعت سے پہلے ہی فاضل مصنف خالق حقیقی کے حضور پہنچ گئے او روہ اس کو مطبوعہ صورت میں نہ دیکھ سکے۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں بڑے دلنشین انداز میں بتایا ہے کہ مذہب کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں، بگاڑ کے اسباب او راس کی مختلف صورتیں کیا ہیں، مذہب کے بغیرانسانیت کی کیا حیثیت ہے، اسلام کے تاریخی ارتقاء کی نوعیت کیا تھی۔ اسلام کی مذاہب عالم پر فوقیت کی کیا وجہ ہے، تجدید مذہب کے مقاصد او راس کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور تجدید دین کی دشواریاں او ران کا حل کیا ہے۔ کتاب کا انداز نگارش شروع سے اخیر تک نہایت شستہ و رُفتہ ہے۔ اس کامطالعہ نہ صرف معلومات میں اضافہ کرتا ہے بلکہ فکر و نظر کی کئی الجھنوں کو سلجھا دیتا ہے۔کتاب کے آخر میں فاضل مصنف نے تجدید اور تجدد کا فرق اس طرح واضح کیا ہے:

''بعض لوگوں نے غلطی سے تجدید کو تجدّد کا ہم معنی سمجھ لیا ہے ۔ ان کے نزدیک تجدید کا کام اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک کہ دین کے اندر ایسی نئی نئی باتیں نہ پیدا کی جائیں جن کانہ پہلے کوئی نام و نشان ملتا ہو اورنہ اس کے مزاج سے کوئی مناسبت رکھتی ہوں۔ مجدّد دین کا انداز تجدّد پسندوں سے یکسر مختلف ہوتا ہے۔ مجدّد دین کے اندر کوئی نئی طرح نہیں ڈالتے بلکہ دین کی پرانی روایات اور تعلیمات کووقت کے تقاضوں کے تحت نئے طرز استدلال کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔''

یہ کتاب اسباب زوال امت کے بعض نئے پہلووؤں پر بھی روشنی ڈالتی ہے اور تبلیغ حق اور اصلا ح معاشرہ کے لیے بھی لمہ فکریہ مہیا کرتی ہیں ہمیں اُمید ہے کہ دینی حلقوں میں یہ کتاب بڑی دلچسپی کے ساتھ پڑھی جائے گی۔ آج کے دور میں اس قسم کے فکری لٹریچر کی جس قدر ضرورت ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ مصنف کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے کہ انہوں نے یہ کتاب لکھ کر ایک عظیم کارنامہ سرانجام دیا ۔ ادارہ ''البدر پبلی کیشنز '' بھی اس کتاب کو ایسے خوبصورت انداز میں شائع کرنے پر تحسین کا مستحق ہے۔

(3)

خاصان خدا کی نماز : از مولانا ابو محمد اما الدین رام نگری

ضخامت : 112 صفحات، مجلد (عمدہ کتابت و طباعت)

قیمت : 5 روپے

ناشر : البدر پبلی کیشنز، 40 ۔بی، اُردو بازار لاہور

مولانا ابومحمد امام الدین رام نگری کا نام بھارت او رپاکستان کے دینی اور علمی حلقوں کے لیے محتاج تعارف نہیں وہ ایک نہایت درد مند اور صاحب دل عالم باعمل ہیں جو سالہا سال سے ہندو تہذیب کے مرکز بنارس میں بیٹھ کر اسلام او ردین و اخلاق کی مجاہدانہ انداز میں تبلیغ کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ اب تک اُردو اور ہندی میں متعدد ایمان افروز کتابیں لکھ چکے ہیں۔ زیر نظر کتاب بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس کتاب میں فاضل مؤلف نے تفصیل سے بتایا ہے کہ رسول اکرمﷺ، صحابہ کرام ؓ اور سلف صالحین کس طرح نماز پڑھتے تھے او راس میں ان کے خشوع و خضوع اور شوق و اہتمام کی کیا کیفیت ہوتی تھی۔ کتاب انتہائی دلچسپ او رمعلومات افزا ہے او راس کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں خیر و برکت اور لذت کیسے حاصل ہوسکتی ہے۔ہر مسلمان گھرانے میں ایسی پاکیزہ کتابوں کی موجودگی فلاح دارین کا باعث ہوسکتی ہے۔ اگر کتاب کے آغاز میں فہرست مضامین بھی دے دی جاتی تو اس کی افادیت میں اضافہ ہوجاتا۔تاہم موجودہ صورت میں بھی یہ کتاب کچھ کم نفع مند نہیں۔

(4)

تیس پروانے شمع رسالتؐ کے : از جناب طالب الہاشمی

ضخامت : 512 صفحات (بڑا سائز، سنہری ڈائی دار جلد، سفید کاغذ، کتابت طباعت نہایت عمدہ)

قیمت : 40 روپے

ناشر : مکتبہ چراغ اسلام۔ 40 بی، اُردو بازار لاہور

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین،انبیاء علیہم السلام کے بعد وہ نفوس قدسیّہ ہیں کہ جن سے بہتر انسانوں پر آفتاب طلوع نہیں ہوا۔ یہی وہ ہستیاں ہی|ں جن کے بارے میں مروی ہے:

''أصحابي كالنجوم فبأیّهم اقتدیتم اھتدیتم''

حضور رسالت مآب ﷺ کی سیرت طیبہ کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شخصیتوں کی تجلیات، ایمان و کردار کو پھیلانا ایک عظیم کام ہے۔مشہور سیرت نگار اور صاحب طرز ادیب جناب طالب ہاشمی صاحب کے حصے میں یہ سعادت آئی ہے کہ وہ مدتوں سے بڑی تندہی اور ذوق و شوق کے ساتھ یہ عظیم کام انجام دے رہے ہیں۔زیر نظر کتاب میں انہوں نے تیس صحابہ کرامؓ کے مستند اور مفصل حالات ایسے دلکش اور دلنشین انداز میں پیش کئے ہیں کہ ان کو پڑھ کر مشام جان معطر ہوتا اور دل میں ان نفوس قدسیّہ کے نقوش قدم پرچلنے کی تڑپ پیدا ہوتی ہے۔ کتاب کا مقدمہ ادیب شہیر مولانا ماہر القادری مرحوم مدیر ''فاران'' کراچی نے لکھا ہے۔ اس میں انہوں نے بجا طور پر فرمایا ہے:

''جناب طالب ہاشمی کی زبان شگفتہ، قلم منھا ہوا او راسلوب نگارش بے حد دلچسپ، سادہ او رعام فہم ہے۔ ان کے قلم اور دل و دماغ میں کوئی ژولیدگی نہیں، انہوں نے سلجھی ہوئی طبیعت پائی ہے۔ اس لیے تحریر میں سلجھاؤ پایا جاتا ہے ۔ جہاں اطناب ہے وہاں قاری اکتاہٹ محسوس نہیں کرتا اور جہاں ایجاز ہے وہاں طبیعت گھٹن او رانقباض کی بجائے انشراح و انبساط محسوس کرتی ہے۔''

یہ تبصرہ اتنا جامع ہے کہ اس پر مزید کسی اصافہ کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ۔ ہمیں مولانا ماہر القادری کی اس رائے سے بھی اتفاق ہے کہ فتنہ معاصرت بُری با ہے۔ آج چاہے ان کی تاریخی نگاری کا کماحقہ اعتراف نہ کیا جائے، مگر مستقبل کے ارباب علم و نظر طالب ہاشمی صاحب کو بلندپایہ مؤرخ تسلیم کریں گے۔ فاضل مؤلف اس سے پہلے دوسری متعدد کتابوں کے علاوہ سیرت سعدؓ بن ابی وقاص، سیرت حضرت عبداللہ بن زبیرؓ، سیرت حضرت ابوایوب انصاریؓ، سلطان نور الدین محمود زندگی، ملک شاہ سلجوقی او رالملک الظاہر بیبرس لکھ کر علمی حلقوں سے زبردست خراج تحسین وصول کرچکے ہیں۔ زیرنظر کتاب اس سلسلہ ذہب کی تازہ کڑی ہے۔یہ کتاب ہر لحاظ سے مطالعہ کے قابل ہے اور ہر مسلمان گھرانے میں رکھے جانے کے لائق ہے۔بوڑھے ، جوان، عورتیں اور بچےبھی اس کے مطالعہ سےبے حد و حساب فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جناب طالب ہاشمی صاحب کو اس میدان میں بیش از بیش کارنامے سرانجام دینے کی توفیق ارزانی عطا فرمائے۔

بعض عربی اشعار میں کتابت کی غلطیاں رہ گئی ہیں اُمید ہے کہ آئندہ ایڈیشن میں انہیں دو رکردیا جائے گا۔ ''مکتبہ چراغ اسلام'' بھی مبارکباد کا مستحق ہے کہ انہوں نے اس گرانقدر کتاب کو ایسے حسین و جمیل انداز میں شائع کیا جو فی الواقع اس کے شایان شان تھا۔

گرانی کے اس ہولناک دور میں چالیس روپے قیمت اگرچہ حد سے زیادہ نہیں، پھر بھی ہماری خواہش ہے کہ ایسی کتابوں کی قیمت کم ہو تاکہ کم استطاعت رکھنے والے اصحاب بھی انہیں خرید سکیں اور اس طرح دین و اخلاق کی زیادہ سے زیادہ اشاعت ہوسکے۔ کوئی اچھی لائبریری اور صاحب ذوق گھرانا اس کتاب سے خالی نہیں رہنا چاہیے۔