دس سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے جب ایک قلیل طبقہ کے متعلق مختلف پہلوؤں سے بحث و تحقیق کا آغاز ہوا۔ آج کی فرصت میں ہم اس طبقہ کےمتعلق نئی،پرانی، مطبوعہ و غیر مطبوعہ کتب او ردستاویزات کا مطالعہ کرنے کے بعد اس کے سربستہ اسرار ورموز سے پردہ اٹھائیں گے۔

اس مقالہ کا مقصد یہ ہے کہ ہر صاحب عقل و فہم، تمام دنیا کی داخلی و خارجی سیاست میں''فری میسن'' کے پھیلے ہوئے اثرونفوذ اورعزائم سے آگاہ ہوسکے اور اسے معلوم ہوجائےکہ فری میسی کی خفیہ تنظیمیں او رکلبیں مثلاً لیونز کلب اور روٹری کلب اپنے عزائم کی تکمیل کے لیےکس طرح کام کررہی ہیں۔ اس مقالہ میں فری میسی کی تاریخ، آغاز، تنظیم اور اس کے اسرار اور اشتراکیت و صہیونیت سے باہمی تعلق پر روشنی ڈالی جائے گی۔

میں اللہ تعالیٰ سے ہراس ش|خص کے حق میں دعا مانگتا ہوں، جس کا فری میسن اور اشتراکیت کی تنظیموں او رمجالس سے کسی طرح کا بھی تعلق ہے۔ خواہ تعلق عملاً ہو یا واقفیت کی حد تک۔ کہ خدا تعالیٰ اسے فری میسن کے ناپاک عزائم اور عالمی صہیونیت کے کردار کو سمجھنے اور اپنے |آپ کو ان تحریکوں کے ناپاک جراثیم سے دور رکھنے کی توفیق بخشے۔ کیونکہ یہ تحریکیں تمام دنیاکو گمراہ کن خطوط پر چلانے اور عالمی صہیونیت کے پنجہ استبداد میں جکڑنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ اور جوشخص بھی ان تحریکوں کے ناپاک عزائم سے آگاہ ہوجائے اس کےلیے ضروری ہے کہ وہ دین کی خاطر اپنے حلقہ احباب و اثر میں فری میسن کے اسرار اور عالمی صہیونیت کے عزائم کی بھرپور اشاعت کرے، تاکہ عوام الناس ان تحریکوں کی خباثتوں اور تباہ کاریوں سےآگاہ ہوکر ان سے بچ سکیں|۔

قول باری تعالیٰ:

يأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا خُذُوا حِذْرَكُمْ (النساء:71)

''اےایمان والو! اپنے بچاؤ کا سامان پاس رکھو او رہر وقت چوکنے او رہوشیار رہو۔'' نیز

وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ(التوبۃ:105)

''او ران سے کہہ دو کہ عمل کیے جاؤ۔ خدا اور اس کا رسول او رمؤمن تمہارے عملوں کو دیکھ لیں گے۔''

پس ہر مسلمان کو اس پرچار کی پوری کوشش کرنی چاہیے او راللہ ہی ہمارا کارساز ہے اور وہ بہترین مددگار ہے۔

تعریف

صہیونیت ایک یہودی تحریک ہے ، جوفلسطین میں یہودی حکومت کے قیام اور بیت المقدس میں'' ہیکل سلیمان ''کی تعمیر کے لیے سرگرم عمل ہے جسے وہ اپنے قومیت کا نشان سمجھتے ہیں۔ صہیونیت یہودیوں کی ایک بہت بڑی او رپرانی تنظیم ہے جس کا مرکز لندن ہے۔ 1896ء میں ڈاکٹر تھیوڈوررہرزل کی کوشش و ہمت سے اس کا آغاز ہوا جو یہودی النسل اور امیر المنفی (انتہا پسند لیڈر) کے لقب سے مشہور تھا یہی شخص صہیونیت کابانی، اس کےانداز فکر کاموجد اور فلسطین میں یہودیوں کی قومی حکومت قائم کرنے کا خواہاں تھا۔ صہیون صحرائے سینا میں ایک پہاڑ کا نام ہے۔ اسی نسبت سے اس تحریک کا نام صہیونیت رکھا گیا۔ ا س پہاڑ پر حضرت داؤد علیہ السلام نے خواب میں میں ہیکل (معبد۔ یہودیوں کی عبادت گاہ) ک شکل دیکھی او راسے تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنے بیٹے سلیمان علیہ السلام کو اس معبد کی شکل اور نقشہ سے مطلع کیا اور آپؑ کی وفات کے بعد سلیمان علیہ السلام نے اس ہیکل کو مضبوط بنیادوں پر تعمیر کیا۔ اس معبد کے لیے لکڑی لبنان کے صنوبر کے درختوں کی استعمال کی گئی او ریہ ہیکل موریا پہاڑ پر بنایا گیا جس کا ذکر تورات میں آیا ہے۔ ہیکل سلیمان کے احاطہ میں سے ایک دیوار۔ دیوار گریہ |(البراق الاسلامی ) باقی ہے جو مسجد اقصیٰ کی مغری دیواروں میں سے ایک دیوار ہے جسے یہودی چومتے چاٹتے ہیں او راس کے پاس گریہ و زاری کےمظاہرے کرتے ہیں۔

اشتراکیت او ربالشوزم

اشتراکیت کے یہ معنی ہیں کہ ہر چیز سب انسانوں کے لیےمشترکہ ہے یہ ایک ایسی تنطیم ہے جو معاشرہ کے مختلف طبقات میں تخریب کاری کے ذریعہ امتیاز ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ تنظیم چونکہ اللہ تعالیٰ اور ادیان الہٰیہ کی منکر اور ملحد ہے لہٰذا یہ اپنی حکومتوں کے قیام کے خاطر دین اور وطن کسی چیز کو بھی تباہ کرنے سے گریز نہیں کرتی۔

اشتراکیت کے بنیادی اصول دو ہیں۔ پہلا یہ کہ مملکت کے تمام وسائل پر قبضہ کیا جائے اور دوسرا یہ کہ ایک سیاسی جماعت کی حکومت (One Party Government) ہو، اور اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اپنی ہی جماعت میں سے تحریک کی وفادار شخصیتوں کو حکومت میں لایا جاتا ہے۔

اشتراکیت(Communism)کے نام میں بہت بڑا فریب ہے اور لوگ اسے جنت سماوی سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ تحریک یہودی انداز فکر کی مرہون منت او ربڑے بڑے یہودیوں کے افکار و ا|ختراع کا نتیجہ ہے۔ کارل مارکس جو اس تحریک کا بانی ہے صہیونیت کا سرگرم کارکن او ررومی پروفیسر اور عالم تھا۔ یہ تحریک بالشوزم (انتہاء پسند انقلابی جماعت )کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس تحریک کے کارکن عالمی صہیونیت کےمقاصد کی تکمیل کی خاطر کسی بھی علاقہ کے اجتماعی نظام، خواہ وہ سیاسی ہو یا دینی ، فکری ہو یا اقتصادی، کو زیر و زبر کرنے اور عوام الناس کو گمراہ کرنے می|ں مصروف ہوجاتے ہیں۔ کارل مارکس کے علاوہ اس تحریک کے دوسرے قائدین مثلاً ٹراٹسکی، لینن اور زینوفیساف یہودی صہیونی اور رومی النسل تھے جو جمہوری اشتراکیت کے نام پر لوگوں کو گمراہ کرنے اور شرقی فلسطین اور غربی روم حاصل کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے۔

فری میسن (الماسونیہ)

اس تحریک کو فرانسیسی زبان میں ''فرلسما سوتری او رانگریزی میں فری میسن(Free Mason) کہا جاتا ہے جس کے معنی ''آزاد تعمیر'' بھی ہوسکتے ہیں اور ''آزاد معمار'' بھی۔ آزاد تعمیر سے مراد ہیکل سلیمان ہے اور آزاد معماروں سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے ابتداً ہیکل سلیمان کو تعمیر کیا۔

آغاز

سب سے پہلے جس ش|خص نے یروشلم میں فری میسن کی پہلی مجلس منعقد کی وہ ہیروڈوس اغریبا تھا جویہودی حکمران (37 تا 44ء ) تھا او رہیروڈوس اکبر کا پوتا تھا۔ ہیروڈوس اکبر وہ یہودی ظالم بادشاہ تھا جس نے بیت لحم کے بچوں کو محض اس خوف سے قتل کیا تھا کہ مسیح منتظر ان میں پیدا ہونے والا ہے جو اس کی حکومت کا خاتمہ کرے گا۔ (اور اس کا یہی فعل سیدہ مریم او راس کے بچے یسوع او ریسوع کےخالو یوسف النجار کے وہاں سے نکلنے کا سبب بنا۔ کیونکہ فرشتے نے حضرت مریم علیہ السلام کو حکم دیا تھا کہ وہ بچے کو لے کر مصر کی طرف چلی جائے اور اس طرح اپنی جان بچائے۔

جن لوگوں نے اس محفل اوّل میں ہیروڈوس سے تعاون کیا۔ہیروڈوس نےان سے کہا کہ سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ہماری اس عظیم و پُرشکوہ جماعت کی بنیاد کی تاریخ کا لوگوں میں سے کس کو علم نہ ہونے پائے تاکہ جو لوگ اس جمیعت میں داخل ہوں انہیں یہ معلوم نہ ہوسکے کہ اس قدیم جماعت نے کون سے زمانہ میں تشکیل پائی، اور اس کے بانی مبانی کون لوگ تھے؟ بلکہ یہ تاثر دیا جائے کہ یہ تحریک ابھی تھوڑا عرصہ پیشتر ماند پڑگئی تھی ۔ ہیرو ڈوس اغریبا نے اپنے باپ کے متروکہ ذخائر میں چند قدیم اوراق دیکھے جو اس ''پرانی جماعت'' کے قوانین و ضوابط کی طرف اشارہ کرتے تھے۔ لہٰذا اس نے وہ اوراق نکالے او راسی جماعت کی طرف توجہ کی اور اس تاریخی بنیاد کو سربستہ راز بنانے کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو ایسی اہم اور بڑی جماعت میں شامل ہونے کا شوق پیدا ہو۔

تحقیقات سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ روم کا ظالم بادشاہ ''نیرون یا نیرو بھی اسی اغریبا کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ اس خاندان کے دو حصے ہو گئے تھے۔ ایک فلسطین پر حکومت کرتا تھا۔ بخت نصر شاہ عراق نے شکست فاش دے کر انہیں قید کرلیا۔ ہیکل سلیمان کو تباہ کیا اور بہت سے یہودی گرفتار کرکے ساتھ لے گیا۔ اس خاندان کے کچھ لوگ روم کی طرف بھاگ گئے۔نیرو بادشاہ انہیں میں تھا۔ ( عہد حوکمت 54 تا 68ء) جس نے بولص کو قتل کرکے عیسائیت کو تہس نہس کیا، اور روم میں یہودیت کا پنجہ استبداد گاڑ دیا۔ رومی یہودیوں نےنیرون کے عہد حکومت میں شرق و غرب میں فتنہ و فساد ،لاقانونیت او رجبرو استبداد میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔

رومی یہودیوں کا یہ فرقہ دراصل یہودی عورتوں کی ہی اولاد تھی۔ یہ لوگ اس لیے یہودی کہلاتے تھے کہ یہودی شریعت کے مطابق اولاد خواہ یہودی عورت کی طرف سےہو یا مرد کی طرف سے وہ بہرحال یہودی ہے۔ او ران کے نام باقاعدہ ان کے معبدوں کے ریکارڈ میں درج کئے جاتے تھے۔

فری میسن کی اقسام

فری میسن فی الحقیقت تین گروہوں میں منقسم ہے۔

(1) عام خفیہ تنظیم

(2) شاہی فری میسن جو دنیا کے سربراہان مملکت اور بڑے لوگوں سے روابط قائم کرتی ہے۔

(3) فری میسن کی ظاہری سُرخ تنظیم جسے اشتراکیت کہتے ہیں۔

عام خفیہ تنظیم

جسے عموماً قرمزی تنظیم کہا جاتا ہے۔ اس کے 33 درجات (قواعد و ضوابط) میں جو خالصۃً رموز یا کوڈ ورڈز(Code Words) کی شکل میں ہیں۔ بظاہر یہ لوگ بنی نوع انسان کی حریت فکر اور آزادی ضمیر او رسماجی کفالت کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔ لیکن ان کااصل مقصد دینی، سیاسی او رنطام حکومت کےمسائل میں جھگڑے برپا کرنا ہوتا ہے۔

یہ فرقہ اپنے ہر درجہ یامنزل پر زیادہ تر رموز یا کوڈ ورڈز سے کام لیتاہے ۔ اراکین تحریک ان رموز کے معانی خوب سمجھتے ہیں او رانہی رموز کے ذریعہ ہدایات وصول کرتے او راپنے نائبین تک پہنچاتے ہیں جنہیں عام لوگ قطعاً سمجھ نہیں سکتے۔ اسی طریقہ کار سے یہ لوگ کسی آدمی کے روابط اس کے دین، وطن ، قوم اور سیاست سے منقطع کرتے ہیں اور اپنی خالص یہودی تنظیم و فرائض کی اشاعت کرتے ہیں۔

اس تحریک کے ارکان کو ایک درجہ سے دوسرے دجہ تک ترقی کرنے کے لیے مختلف قسم کے امتحان دینا پڑتے ہیں او رہرامتحان کے بعد اس رکن کو بڑے استاد یا سیکرٹری جنرل کی طرف سے سرٹیفکیٹ عطاکیاجاتاہے۔ پہلے یہ سرٹیفکیٹ عبرانی زبان میں لکھے جاتے تھے۔ پھر دو زبانوں میں لکھے جانےلگے۔ مقامی زبان میں اور عبرانی زبان میں ۔ لیکن اب صرف مقامی زبان میں لکھے جاتے ہیں۔ تاکہ عام لوگ اس یہودی تحریک سے قریب وہں اور اس تحریک کی بنیاد کی تاریخ چار ہزار سال قبل مسیح بتائی جاتی ہے ۔ اس تحریک کے ارکان ہر غیر یہودی اقتدار کےدشمن ہوتے ہیں۔ خواہ یہ دینی نوعیت کا ہوخواہ تمندی ہو یا سیاسی ہو او رانہی تین کلیدیشعبوں سےمتعلق ہی رموز استعمال کیے جاتے ہیں ۔ فری میسن کے ارکان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ انہی تین شعبوں کو اپنی اغراض کے مطابق ڈھالنے کے لیے کام کرے۔

شاہی خفیہ تنظیم

اس تحریک کی کوشش یہ ہوتی ہےکہ وہ ہر ملک کے سربراہان، وزراء اور ہر شعبہ کی بڑی بڑی شخصیتوں اور ارباب حل و عقد سے روابط قائم کرے۔ ان لوگوں ک وان کی اغراض کی تکمیل کے لیے مکمل حمایت اور ضمانت کا یقین دلایا جاتاہے۔ فری میسن کی خفیہ تنظیم کے اس گروہ کو خفیہ شاہی تنظیم کہا جاتا ہے اور اس مخصوص گروہ کا مقصد جیسا کہ تورات میں مذکور ہے۔ یہودی مذہب کا احترام اور فلسطین میں قومی وطنیت کے نام پر یہودی حکومت کا قیام ہے۔ نیز مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل سلیمان کی تعمیر بھی ان کا بنیادی مقصد ہے جو ان کی قومیت کا نشان ہے۔ یہ لوگ تمام دنیا میں پھیلے ہوئے یہودیوں میں اس بات کی اشاعت کرتے رہتے ہیں کہ ان کامقصد فلسطین میں اسرائیل کی حکومت کا قیام اور ایسے تمام تر علاقوں کی بازیافت ہے جہاں موسیٰ علیہ السلام او ربنی اسرائیل نے قیام فرمایا تھا۔ خصوصاً جزیرہ سینا جہاں طور پہاڑ ہے ۔ جس پر موسیٰ علیہ السلام چڑھے اور اللہ تعالیٰ سے بات چیت ہوئی اور ان پر تورات ناسل ہوئی تھی۔ علاوہ ازیں بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل سلیمان کی تعمیر ان کے مقاصد میں شامل ہے۔ یہ تحریک یہودیوں کو اس بات کا یقین دلاتی ہے کہ جب تک یہودیوں کے شعائر والے علاقہ جات واپس نہ لئے جائیں ان کے مقاصد کی تکمیل نہیں ہوسکتی اور جو مالی فنڈ عام خفیہ تنظیم سے وصول ہوتا ہے وہ سب کچھ اس شاہی خفیہ تنظیم کے مقاصد کی تکمیل پر خرچ کردیا جاتا ہے ۔ گویا شاہی تنظیم فری میسن تنظیم کا تتمہ ہے۔

اس شاہی خفیہ تنظیم کی غرض و غایت فلسطین میں''اسرائیل کبریٰ'' کی حکومت کا قیام او راس کی توسیع ہے جوکہ تمام جزیرہ عرب ، شام، لبنان، عراق،مصر اور شمالی افریقہ کے بڑے ممالک سے لے کر صحرائے اعظم کے جنوب تک پھیلی ہونی چاہیے۔ اسی پلاننگ کی بناء پر اب اسرائیل افریقی ممالک سے اپنے تعلقات بڑھا رہا ہے۔ کہیں مالی امداد و اعانت کی جاتی ہے ۔ کہیں اقتصادیات پر قابو پایا جاتا ہے او رکہیں ان ممالک کی تنظیموں میں جھگڑا و فساد برپا کیا جاتا ہے تاکہ جب بھی بن پڑے ان ممالک میں آسانی سے اقتدارحاصل کیا جاسکے۔ اس تحریک کے ارکان کے چار درجے ہیں۔ مبتدی، کارکن، استاد اور رفیق (کامریڈ) کامریڈ فری میسن کا سب سے بلند درجہ ہے۔ لینن، سالٹن،ٹرائسٹی وغیرہ سب کا مریڈ تھے۔

سرخ فریمیسن یا اشتراکیت

یہ تنظیم عموماً یہودی تنظیم نہیں سمجھی جاتی کیونکہ اس میں شاہی خفیہ تنظیم کے چند افراد کی شمولیت کے سوا بظاہر اس کا یہودی تنظیموں میں کوئی تعلق نہیں آتا او ریہ چند لوگ جو اس میں شامل ہوئے سب رومی النسل یہودی ہیں۔ اس فرقہ کی غرض و غایت تمام عالم میں لاقانونیت او ربے چینی کی عام لہر دوڑا کر اور اضطراب پیدا کرکے شاہی خفیہ تنظیم کے لیے میدان ہموار کرنا ہے او ریہ بات ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ اشتراکیت کی تنظیمیں جو اقصائے عالم میں کام کررہی ہیں۔ سب صہیونی یہودیوں کے ہاتھ میں ہیں۔ جو انہیں مناسب ہدایات دیتے ، ان کی مالی امداد کرتے اور دوسری اقسام کی مدد اور توجہ دیتے رہتے ہیں او ران کے آلہ کار وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے ملک میں کسی نہ کسی طرح کاتفوق رکھتے ہیں۔

اشتراکیت بھی عالمی صہیونیت کی ایک شاخ او راسی کی آلہ کار ہے۔ عالمی اشتراکیت او رعالمی صہیونیت کے درمیان ایسے خفیہ روابط پائے جاتے ہیں کہ سرخ اشتراکیت عالمی صہیونیت کے مرکز اعلیٰ کی ہدایات پرعمل پیرا ہوکر تمام دنیا کی فضا اس کے لیے سازگار بنا رہی ہے۔

اس گروہ کی غرض و غایت یہودیوں او رماسونیوں کی وساطت سے روم میں اپنی حکومت کا قیام ہے جس پر ان کے بزرگ حکمران رہ چکے ہیں جس طرح ان کے بزرگ نیرون نے روم کو تہس نہس کیا تھا یہی کچھ کرکے یہ لوگ روم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔اس گروہ کی ایک ایسوسی ایشن نیویارک (امریکہ) میں قائم ہے جس میں یہودیوں کے بھی خاص اشخاص ہی داخل ہوسکتے ہیں۔ اس ایسوسی ایشن کے اجلاس کب او رکہاں ہوتے ہیں۔ اس کے ممبران اور خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ یہی لوگ مختلف وسائل کو بروئے کار لاکر، یہودی مال و دولت سے کام لے کر مختلف ممالک میں مختلف ناموں سے تنظیمیں قائم کرکے، تمام دنیا میں اقتصادی ، سیاسی اور اجتماعی زندگی میں اضطراب پیدا کرتے اور لوگوں کے ضمیر خریدتے ہیں اور مسیحت کو دنیا سے نیست و نابود کرکے، نیز دوسرے ادیان کا خاتمہ کرکے تمام عالم کو یہودی بنانے پر تلے بیٹھے ہیں۔

اس ایسوسی ایشن کا طریق کار یہ ہے کہ وہ طلبہ اور مزدوروں میں تخریبی تحریکیں چلا کر عام بے چینی کی فضا پیدا کردیتی ہے۔ اسی طرح مختلف ممالک میں رہنے والے یہودیوں کو ان ممالک کے برے لوگوں سے رابطہ قائم کرکے انہیں ہر طرح سے اطمینان مہیا کیا جاتا ہے۔ شرط یہ ہےکہ وہ اسرائیلی ہوں او ریورپ یا امریکہ کے باشندے ہوں۔ ایسے یہود کے فرائض یہ ہیں کہ وہ اسرائیلی فوج کی امداد بھی کریں اور خود بھی اپنے وطن لوف اُم اسرائیل کی خاطر دو سال جبری فوجی ٹریننگ حاصل کریں۔ جس کی صورت یہ ہے کہ وہ ہر سال تین ہفتہ کے لیے اسرائیل جائیں اور جدید جنگی اسلحہ کی تکنیک اور تربیت حاصل کریں۔ بلاد اسلامیہ کے بعض ذمہ دار افراد یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے یہودی برضا و رغبت اسرائیل جاتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ لوگ خالص یہودی النسل ہوتے ہیں او راسرائیلی حکومت انہیں بلااسلامیہ سے جنگ سے قبل نہایت خفیہ طور پراپنے ہاں بلا لیتی ہے۔ تاکہ وہ مادر وطن کا دفاع کرسکیں۔ یہ بات مجھے بعض یورپین یہودیوں سے بنفس نفیس معلوم ہوئی ہے کہ یہ لوگ عربی دنیا کی ہلاکت کے لیے اسرائیلی خواہشات کے آلہ کار ہوتے ہیں۔

شاہی خفیہ تنظیم اور سرخ اشتراکیت کا باہمی تعلق

ان دونوں تنظیموں کا ہدف یا آخری منزل ایک ہی ہے۔ شاہی خفیہ تنظیم اس لیے قائم کی گئی کہ فلسطین میں اسرائیل کی حکومت قائم ہو۔ بعد ازاں عربی ممالک پھر شمالی افریقہ کے جنوب تک کے ممالک کو حکومت اسرائیل کا مطیع و منقاد بنا کر انہیں یہودی بنایا جائے اور اشتراکیت کے طریقے بروئے کار لاکر تمام دنیاکی فضا کو یہودیت کے لیے سازگار بنایا جائے او ران کے اس ہدف کو اس خوف سے ظاہر نہیں کیا جاتا کہ تمام دنیا ان کے ناپاک عزائم سے آگاہ ہو کر ان سے برسرپیکار نہ ہوجائے او ران پر عرصہ حیات تنگ نہ کردے۔ سو یہ قرار پایا کہ اشتراکیت اپنے انتظامات کے علاوہ دوسرے ممالک میں یہ اسلوب اختیار کرے کہ چھوٹوں (نوجوانوں) کو جو ناپختہ عقل ہوتے ہیں اور غریب مزدوروں او رکسانوں کو استعمال کیاجائے اور انہیں دھوکہ دے کر پراگندگی بپا کی جائے ۔ جب اس کام کی تکمیل ہوجائے تو بلا خوف و خطر تمام دنیا پر یہودی حکومت کا اعلان کردیا جائے ۔ بعدازاں اسباط اسرائیل کی اولاد میں سے کسی کو بادشاہ مقرر کردیاجائے جو تمام دنیا کا بادشاہ ہوگا او رایسی یہودی حکومت، مارکس ، لینن، ہرزل، سنجفیل اور نوردو کے پلّہ کے لوگوں کی وساطت سے قائم ہوسکتی ہے او ریہ سب لوگ صہیونی اشتراکیت کے عمائدین تھے جنہوں نے عام دینی، طبعی او رسیاسی بنیادوں کو مسمار کیا تاکہ اشتراکیت کی بنیادیں استوار کی جائیں۔ یہ سب لوگ تخریب کار تھے کیونکہ ان کے اعمال کے نتائج فتنہ و فساد کی شکل میں رونما ہوئے۔ اشتراکیت ایک خطرناک بیلچہ ہے جو اجتماعی تنظیم کو بنیادوں سے اکھاڑ دیتا ہے۔ اشتراکیت کے بانی جو اپنے گمان کے مطابق مزدوروں اور انسانیت کے ہمدرد بن کر معاشرہ سے انتقام پراتر آتے ہیں۔ اپنےاصول لوگوں پر ظاہر نہیں کرتے بقول خود مزدوروں کو زندگی بخشنے اور انسانیت کو آرام پہنچانے کے لیے اشتراکیت کا جھنڈا پھیلاتے ہیں ۔ حقیقتاً وہ اپنا کام نہایت راز داری سے کرتے اور سوچی سمجھی سکیم کے مطابق حملے کرتے ہیں اور اس طرح دھوکے سے لوگوں کے افکار و نظریات میں تبدیلی پیدا کرکے یہودی صہیونیت کے افکار رائج کرتے ، انہیں یہودی شریعت کے تسلیم کرنے کے لیےتیار کرتے اور مسیحی دنیا سے مسیحیت کے خاتمہ کے درپے ہوتے ہیں۔ کسی ملک کے اقتصادی، تمدنی او راجتماعی امور کو بداخلاقی او راپنے تخریبی کاموں سے تباہ کردیتے ہیں اور جو شخص صہیونیت کے دانشوروں کے پروٹوکول (قواعد و ضوابط) کو جانتا ہے اسے قوی دلائل کی بنا پر یہ ثبوت مل جاتی ہے کہ عامۃ الناس کے لیے عموماً اور مسیحی دنیا کے لیے خصوصاً ان کے عزائم کس قد رناپاک ہیں۔ عالمی صہیونیت کے یہ اغراض و مقاصد عالمی اشتراکیت کے پس پردہ چھپے ہوئے ہیں۔

اشتراکیت کے زعماء غیر یہودی ممالک کی امداد کیوں کرتے ہیں؟

بعض اشتراکیت کے علمبردار غیر یہودی ممالک کی مالی اور افرادی امداد کرتے ہیں۔ اس سے ان کامقصد حکومت میں اثرو نفوذ حاصل کرکے اور جمہوریت کے ذریعہ اپنے وفادار اشخاص کو آگے لاکر وسیع تر میدان میں کام کرنے سے اپنے اغراض کی تکمیل کرنا ہوتا ہے۔

اس طرح یہودی اور عالمی صہیونیت عالمی اشتراکیت کی وساطت سے اپنے مقاصد کو پروان چڑھانے کے لیے کوشش کرتی ہے اور بعد ازاں جب عالمی اشتراکیت اپنا حلقہ اثر وسیع کرے گی تو عالمی یہودی حکومت کا اعلان کردیا جائے گا اور تمام لوگوں کو یہودی بناکر اشتراکی نظام کامکمل طور پرخاتمہ کردیا جائے گا۔

عالمی صہیونیت اور عالمی اشتراکیت میں فرق

اشتراکیت کے علمبردار اس بات میں کوشاں ہیں کہ اشتراکیت کو سہولت اور سرعت کے ساتھ یورپ ، شرق اوسط اور شرق بعید میں پھیلایا جائے دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی اشتراکیت اپنے اس مؤقف میں عالمی صہیونیت سے قوی تر معلوم ہونے لگی ہے۔ اشتراکیت دنیا پر پھیلاؤ ضرور چاہتی ہے لیکن لوگوں کو یہودی بنانا نہیں چاہتی جبکہ عالمی صہیونیت لوگوں کو یہودی بنانے کا ارادہ رکھتی ہے او رجب سے عالمی صہیونیت نے دھوکا اور عالمی فریب کی بنا پراسرائیل کی حکومت قائم کی ہے۔ پھر جنگ حزیران (جون 1967ء) کے بعد پھیلنے لگی ہے او راب اس نے بلاداسلامیہ سے جنگ کا ارادہ کرلیا ہے تو اشتراکیت کو یہ خطرہ محسوس ہونے لگا ہے کہ جب بھی عالمی صہیونیت کا بس چلے گا وہ اشتراکیت کو حکومت اسرائیل میں جذب کرلے گی اور دنیا پر اس کی حکمرانی قائم ہوجائے گی۔ اشتراکیت اس حد تک عالمی صہیونیت کی مؤید ضرور ہے کہ فلسطین میں حکومت اسرائیل قائم ہونی چاہیے۔ لیکن وہ فلسطین سے حدود تجاوز کرنےکے حق میں نہیں ہے کیونکہ ایک کی وسعت اور قوت دوسری کے زوال کا سبب بن جائے گی۔ اسی لیے ان دونوں تنظیموں کا یہ پوشیدہ اختلاف کافی شدت اختیار کرچکا ہے۔ عالمی صہیونیت اور اشتراکیت دونوں کی چکی اس محور کے گرد گھوم رہی ہے کہ عالمی اقتدار کے معاملہ میں کون سی تحریک دوسری پر غلبہ حاصل کرتی ہے۔

بعض یورپی اشتراکی ممالک کے حکام پر یہ بات واضح طور پرثابت ہوگئی ہے کہ وہ عالمی صہیونیت کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں جسے انہوں نے بڑی شدت سے محسوس کیا ہے او راپنی عقل کی آواز اور وطن کی نداکو قبول کرتے ہوئے ان بھونڈے نتائج کو اپنی روشن آنکھوں سے ملاحظہ کیا ہے کہ اشتراکیت نے کس طرح ان کے ملک او ران کی قیادت ، ان کی مذہبی ، اقتصادی، اجتماعی، ثقافتی اور اخلاقی حالت کو تخریحب کاری کے ذریعہ زیر و زبر کرکے رکھ دیا ہے اور کس قدر جانیں اس دوران ضائع ہوئیں۔ وہ لوگ اشتراکی نظام اور خود اپنی حکومت کے خلاف بھی ایجی ٹیشن کررہے ہیں اور اشتراکیت کے مادر وطن روس سے علیٰحدہ ہونا چاہتے ہیں یہ جو کچھ مشرقی یورپ میں رونما ہورہا ہے وہ اس بات کی وضاحت کے لیے کافی ہے کہ یہ لوگ اشتراکیت کے پردے میں چھپے ہوئے عالمی صہیونیت کے چنگل سے آزاد ہونا چاہتے ہیں۔

مغربی ممالک اور صہیونیت

مغربی ممالک جن کے سربراہ انگلستان ، فرانس، جرمنی او رامریکہ ہیں انہوں نے ہی عالمی صہیونیت کو پروان چڑھانے کے لیے عربی ممالک میں یہودیت کے بیج بوئے اور اس کی رعایت اور حمایت کے معاہدے کئے۔ حتیٰ کہ یہ تحریک ابھری، جوان ہوئی او راپنے پاؤں پر کھڑی ہوگئی۔ پھر اسے معاہدہ بالفور 1917ء کی رُو سے مضبوط بنایا گیا او ربزور ِ بازر فلسطین میں اسرائیلی طرز کی حکومت کا پلان تیار ہوا او راس کی اسلحہ سے بھی او رحمایت کے اعلان سے بھی مدد کی گئی۔اس چھوٹی سی غیر شرعی مملکت کو بنیاد او رمرکز قرار دیا گیا تاکہ یہاں سے شرق اوسط پر دوسری بارغلبہ حاصل کیا جائے۔ امت اسلامیہ کو ختم کرنے کے لیے سلطان عبدالحمید نامی کے عہد خلافت میں ترکی اور عربی ممالک کے درمیانی علاقہ فتنہ و فساد برپا کرکے تباہ کیاگیا۔ پھر عالمی صہیونیت نے مغربی ممالک کے بل بوتے پر ترکی کے حکام کے ضمیروں کو خریدا اور مصطفیٰ کمال پاشا کی قیادت میں ترکی میں تحریک الضباط چلائی گئی تاکہ خلافت اسلامیہ کا مکمل طور پر خاتمہ ہوسکے۔ ترکی میں یہ تحریک کامیاب ہوئی تو مصطفیٰ کمال نے بلاداسلامیہ سے علیٰحدگی کا اعلان کردیا۔ یہ پہلا کیل تھا جو امت اسلامیہ کی نعش میں ٹھونکا گیا۔ اس طرح یہ حکومت عالمی صہیونیت کی عیاریوں کی وجہ سے اور مغربی استعماری طاقتوں کے واسطہ سے کمزور پڑ گئی اور یہ سب کچھ ان فوجی انقلابات کے علاوہ تھا جو دنیا میں او ربلاد اسلامیہ میں برپا کئے جارہے تھے۔ اس طرح حکومت ترکی کے لیے ایسے حالات پیدا کردیئے گئے کہ وہ دین سے یکسر علیٰحدہ ہوگئی۔ وہ نام کو تو اسلامی سلطنت تھی، مگر عملاً علمانی (سیکولر) سلطنت بن گئی ۔ پھر یہ سلطنت یہودی اشتراکیت کے چنگل میں پھنس گئی اور فوجی تحاریک کے علمبرداروں کو کچھ بھی معلوم نہ ہوسکا۔

لیکن جب ماضی قریب میں عالمی یہودی صہیونیت کے عزائم آشکارا ہوگئے او ربعض صاحب بصیرت حکام کو یہ حقائق معلوم ہوگئے۔جیسے روس میں قیصر کے حکام کو معلوم ہوئے تھے۔ تو غیرت مند مسلمانوں نے یہودیوں کی شرارتوں سے دنیا کو بچانے کے لیے ان کا سامنا کیا اور ہٹلر ڈاکٹیٹر جرمنی نے، جو یہودی او رصہیونی تھا او رمسیحیت کو مٹا کر دنیا کو یہودی بنانا چاہتا تھا ایسے بہت سے لوگوں کا صفایا کردیا جو کھل کر سامنے آگئے تھے اور اگر ہٹلر کے مقدر میں فتح ہوتی تو دنیا ان لوگوں کے یہودی بنانے کے ناپاک عزائم اور شرارتوں سے کبھی محفوظ نہ رہتی او راگر یہودی دنیا پر قابض ہوجاتے تو مغربی مسیحی دنیا بذات خود بھی بھیانک انجام سے نہ بچ سکتی۔

لیکن ہٹلر سے مقابلہ کے وقت ان مغربی سربراہان مملکت کی آنکھیں اندھی ہوگئی اور عقل پر پردہ پڑ گیا۔ وہ ہٹلر کی شدت ناپسندیدگی کی وجہ سے مقابلہ کررہے تھے او ریہ نہ سمجھ سکے کہ وہ کہتا کیا ہے اور یہودی یہ کوشش کررہے تھے کہ یہ مغربی سربراہان ہٹلر کے انداز فکر اور مسیحیت کو مٹانے کے لیے ہمارے عزائم سے آگاہ نہ ہوسکیں۔ سو ان یہودیوں نے ان مغربی زعما کا رخ اشتراکیت کی طرف موڑ دیا تاکہ مل کر ہٹلر کا مقابلہ کیاجائے۔ مغربی زعماء اس وقت تک اندھے ہی رہے جب تک کہ اشتراکی مملکت روس، جو کہ عالمی صہیونیت کا نتیجہ ہے، کے تباہ کن اسلحہ کا واقعہ پیش نہ آیا۔ کاش کہ مغربی زعما یہ سمجھ جائیں کہ وہ تمام قربانیاں جو عرب او رمسلمانوں نے اسرائیل کے مقابلہ میں دی ہیں۔ وہ ان قربانیوں کے مقابلہ میں بہت قلیل جو اگر اس وقت یہودی غالب آجاتے تو عام دنیا کو عموماً اور مسیحی دنیا کو خصوصاً ان کی تباہ کاریوں سے بچنے کے لیے دینا پڑتیں۔ ان یہودیوں کے قدم غربی دنیا میں جم چکے ہیں۔ یعنی افریقہ اور روس اور مشرقی اشتراکی یورپ پر ان کا تسلط ہوچکا ہے۔ جو آہستہ آہستہ مغربی یورپ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے اور اب مشرق بعید سے ہوتے ہوئے شمال اور جنوبی امریکہ کے بڑے بڑے ممال پہنچ رہا ہے۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ان سب کو یہودی بنا کر دم لیں گے اور عالمی یہودی سلطنت کا اعلان کردیا جائے۔ کاش کہ مغربی زعماء مسلمانوں اور اسلام سے ناپسندیدگی اور کینہ نہ رکھتے جبکہ اسلام مسلمانوں کو دوسرے ادیان کے لیے محبت اور احترام سیکھلاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن کریم میں فرمایا ہے: کاش یہ لوگ اپنے کالے لوگوں سے کینہ نہ رکھتے تو یہ سب مل کر یہود کے مقابلہ میں ضرور کامیاب ہوتے او رعالمی اشتراکیت کے لیے بلائے مبرم ثابت ہوتے۔ اسرائیلی حکومت اور دنیا میں یہودیوں کی شان شوکت ختم ہوجاتی او راس کے لیے کوئی جنگ بھی نہ لڑنی پڑتی او رعالمی یہودیت کی اس پلاننگ سے انسانیت محفوظ رہتی۔

یہ بات حیرت انگیرز اور قابل افسوس ہے کہ یہودی اہل یورپ او راہل امریکہ کو کمزور سمجھتے ہیں۔ انہیں حقیر جانتے اور اپنے ناپاک مقاصد کی تکمیل کے لیے انہیں استعمال کرتے او ران سے اپنی بات منوا لیتے ہیں، یورپ ،انگلینڈ شمالی امریکہ او رجنوبی امریکہ کے دارالخلافہ ہائے کے لیے خواہ ان حکومتوں کے امور داخلی ہوں یا خارجی۔ تل ابیب سے احکام جاری ہوتے ہیں تاکہ اسرائیل اور عالمی صہیونیت کے مفادات کا پورا پورا لحاظ رکھا جاسکے۔

بنا بریں میں تمام دنیا کے صاحب عقل و شعور لوگوں کواور خصو صاً یورپ، انگلینڈ او رامریکہ کے دانشوروں کو پکار کر کہتا ہوں کہ وہ اپنی سیاست میں تبدیلی پیدا کریں۔ عقل و ہوش سے کام لیں اور مزید وقت ضائع کئے بغیر اپنے دین او روطن کے مفادات کے لیے فیصلے کریں۔ عالمی صہیونیت اور یہودیوں کی پلاننگ کے خلاف سینہ سپر ہوجائیں تاکہ انسانیت کو یہود کی ان تباہ کاریوں سے بچا سکیں جو وہ عالمی اقتدار کے حصول کی خاطر برپا کرنا چاہتے ہیں۔
حاشیہ

۔''تھیوڈور رہرزل ''وی آنا کا ایک یہودی تھا۔جس نے 1896ء میں ''ریاست یہود'' کے نام سے ایک رسالہ شائع کرکے صہیونیوں کے لیے قومی وطن کاٹھوس تصور پیش کیا۔ اس نے یہودی ریاست کی حدود کوہ یورال (ترکی) سے نہر سویز تک مقرر کیں اور یہود کو فلسطین داؤد و سلیمان کا نعرہ دینے کے علاوہ واضح طور پر صہیونی تحریک کے مقاصد متعین کردیے۔

۔ حضرت داؤد علیہ السلام 1045 ق م میں پیدا ہوئے۔ 30 سال کی عمر میں سلطنت ملی اور 40 سال تک حکومت کی ۔945 ق م میں وفات پائی۔ (مترجم)

۔ البراق الاسلامی : حرم شریف کی مغرب دیوار میں پچاس فٹ کے ایک ٹکڑے کے بارے میں یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ ہیکل سلیمان کے باقیات میں سے ہے، چنانچہ یہودی جب اس مقام پر آتے ہیں تو گریہ و بکا کرتے ہیں او راسی نسبت سے اس کانام دیوار گریہ پڑ گیا ہے۔ اس مقام کو مسلمان البراق کہتے ہیں۔ کیونکہ شب معراج سرور کائنات ﷺ اسی جگہ برّاق سے اترے۔ براق کو باندھا اور مسجدمیں تشریف لے گئے تھے۔اس جگہ کی نشاندہی کے لیےیہاں ایک گول کڑا لگا ہوا تھا۔

۔ (72 تا 4 ق م) اس کاذکر تورات میں بھی آیا ہے۔ (بحوالہ المنجد) |(مترجم)

۔ حالانکہ اس تحریک کے بانی ہیروڈوس اغریبا کا عہد حکومت (37 تا 44 ء) ہے۔(مترجم)

۔ مشرقی وسطیٰ کے اسلامی ممالک کو اس منصوبہ کا شکار بنانے کے بعد یہودیوں کی اب پاکستان پر نظر خاص ہے جسکا ثبوت اسرائیل کے پہلے وزیراعظم ڈیوڈ بن گورین کی اس تقریر سے ملتا ہے جو اس نے 67ء کی عرب اسرائیل جنگ کے فوراً بعد پیرس کی ساربون یونیورسٹی میں کی۔ اس نے کھلے لفظوں میں یہودیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

''بین الاقوامی صہیونی تحریک کو کسی طرح بھی پاکستان کے بارے میں غلط فہمی کا شکارنہ ہونا چاہیے پاکستان درحقیقت ہمارا اعلیٰ او رحقیقی آئیڈیالوجیکل جواب ہے۔ پاکستان ذہنی و فکری سرمایہ او رجنگی و عسکری قوت و کیفیت آگے چل کر ہمارے لیے کسی وقت بھی مصیب کا باعث بن سکتی ہے ہمیں اس کا حل سوچنا چاہیے۔ ہندوستان سے دوستی ہمارے لیے نہ صرف ضروری ہے بلکہ ہمیں اس تاریخی عناد سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ جو ہندو و پاکستان او راس کے بسنے والے مسلمانوں کے خلاف رکھتا ہے۔ یہ تاریخی عناد ہمارا سرمایہ ہے۔ لیکن ہماری پالیسی ایسی ہونی چاہیے کہ ہم بین الاقوامی دائروں ہی کے ذریعہ ہندوستان سے اپنا رابطہ رکھیں۔'' (یروشلم پوسٹ 9۔ اگست 1967ء، نوائے وقت 6 جولائی 1971ء)

اس کے علاوہ پاکستان کی دلی وابستگیاں چونکہ عالم عرب کے ساتھ ہیں۔ اس لیےبھی پاکستان یہودیوں کی نظر میں خار کی طرح کھٹک رہا ہے اور وہ یہود کو پاکستان کے خلاف ہر ممکن طریق سے برسرپیکار رکھتے ہیں۔ پاکستان میں ان کا سب سے بڑا سہارا اسلام بیزار مغرب زدہ طبقہ ہے جسے یہ ہرقسم کا عیش و عشرت کا سامان بہم پہنچا کر بلطائف الحیل اپنی مقصد برآری کے لیے استعمال کررہے ہیں۔جس کی تائید اس کتاب سے ہوتی ہے جو حال ہی میں امریکہ کی کونسل برائے تعلقات خارجہ نے ''مسلم مشرق'' پر شائع کی ہے او راسے کولمبیا یونیورسٹی کے مشہور یہودی پروفیسر جی سی ہیروٹیز نے (Middle East Politics and Military) کے نام سے مرتب کیا ہے ۔ اس میں دیئے گئے اعداد و اسناد بین الاقوامی پشت پناہی کا ہی نتیجہ ہیں جسے اس عالمی شہرت کے یہودی پروفیسر نے بڑی کاوش سے جمع کیا۔ وہ تمام حالات کا جائزہ لینے کے بعد اپنے قارئین کو اس نتیجہ پر پہنچاتا ہے۔

''پاکستانی مسلح افواج نظریہ پاکستان ، اس کے اتحاد و سالمیت اور استقلال کی پاسبان بنی ہوئی ہیں جبکہ ملک کی سول ایڈمنسٹریشن مغرب زدہ ہے اور نظریہ پاکستان پر یقین نہیں رکھتی۔''

یہ نتیجہ جہاں یہودیوں کی بین الاقوامی تحریک کے رہنماؤں کے لیے نشان راہ کی حیثیت رکھتا ہے وہاں ہمارے لیےبھی اپنے اندر عبرت و بصیرت کا خزانہ لیےہوئے ہے جس کی تائید ان حالات و واقعات سے ہوتی ہے جس کے ذریعہ مشرقی پاکستان سے ہم کو محروم کردیا گیا ہے۔

اس منصوبہ کو بغور پڑھنے کے بعد انسان دنگ رہ جاتا ہے کہ یہ منصوبہ ساز کتنی عظیم شخصیت تھی ۔ جس نے حالات زمانہ ، فطرت انسانی اور فن حکمرانی کو سامنے رکھ کر اپنی ذہانت و فطانت سے ایک ایسامنصوبہ تشکیل دیا کہ دنیا کی کوئی حکومت اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ اس نے دنیا میں غیر ملکی قرضوں ، مناقشات، تنازعات، اختلافات، فحاشی،بدمعاشی، بدقماشی، فریب کاری او رمہنگائی کا چکر چلا کر سب کو اپنے دام تردیر میں پھانس رکھا ہے ۔ دنیا میں رونما ہونے والا ہر بڑا واقعہ اس سازشی منصوبہ کانتیجہ ہے۔ اسی کی وجہ سے آئے دن حکومتوں (خصوصاً اسلامی ممالک) میں انقلاب برپا کئےجارہے ہیں او رپاکستان میں اس کے ایجنٹ علانیہ تخریبی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔| جو اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دینا چاہتے ہیں (مترجم بحوالہ نوائے وقت ،3 ستمبر 1978ء)

۔ ان ممبران میں سے کوئی راز فاش کرے یا ضوابط کی پابندی نہ کرے یا بغی ہوجائے تو اسے اس طرح مروا دیا جاتا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ طبعی موت مرا۔

۔ یہودی جہاں بھی ہیں بہت مالدار ہیں۔ وہ بعض عیسائی حکومتوں کے وزیر، مشیر بھی ہیں،یورپ، برطانیہ او رامریکہ کے اخبارات اور اقتصادیات پر ان کا قبضہ ہے۔ غرضیکہ وہ عیسائیوں کی ذہنیت او رسیاست پر چھائے ہوئے ہیں۔ اس کا فائدہ انہوں نے پہلی جنگ عظیم میں اٹھایا۔ جب عربوں نے ترکوں کے خلاف علم بغاوت بلندکیا تو اتحادی فوجوں کے زیر اثر حجاز، اردن اور عراق میں علیٰحدہ حکومتیں قائم ہوگئیں۔ اتحادی فوجوں نے لبنانا، فلسطین او ردیگر عرب ممالک پر قبضہ کرلیا تو 2 نومبر 1917ء کو برطانیہ کے فارن سیکرٹری لارڈ راتھر چائلڈ کو جو برطانیہ میں یہودی فیڈریشن کے صدر تھے ۔ ایک مراسلہ بھیجا کہ حکومت برطانیہ اس سے اتفاق کرتی ہے کہ فلسطین میں یہودیوں کے لیے نیشنل ہوم بنایا جائے۔اس کا نام بالفور ڈیکلریشن یا معاہدہ بالفور ہے۔ پہلی جنگ عظیم سے لے کر دوسری جنگ عظیم تک لاکھوں یہودی فلسطین میں آکر بس گئے اور دوسری جنگ کے بعد 12 مئی 1946ء کو فلسطین میں اسرائیلی حکومت قائم کردی گئی جو بہت جلد ترقی کرتی رہی۔ جون 1967ء کی جنگ (جنگ حزیران) میں یہودیوں نے بیت المقدس پر بھی قبضہ کرلیا او رکسی صورت بھی اسے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں بلکہ مدینہ منورہ پر بھی قبضہ جمانے کی سازش کئے ہوئے ہیں۔ وہ گریٹ اسرائیل (اسرائیل کبریٰ) میں لبنان، اردن، عراق، جنوبی ترکی،سینا، سیوز کینال، کاٹرو، سعودی عرب کا شمالی حصہ اور کویت شامل کرنا چاہتے ہیں۔ (مترجم بحوالہ نوائے وقت، 28 جولائی 1978ء)

۔ ترکی میں خلافت کو ختم کرنے کے مذموم فعل میں چونکہ برطانیہ نے بھی ساتھ دیا تھا۔ لہٰذا متحدہ ہندوپاکستان میں برطانیہ کے خلاف ایک بھرپور تحریک چلائی گئی جسے تحریک خلافت کا نام دیا گیا۔ (مترجم)