مرتد عورت، حالت ِزنا میں قتل او ر بیٹے کے بدلے باپ کے قتل کاحکم

(بسلسلہ اسلام کا قانون جنایت.... قسط نمبر 7)

الحمد للہ و کفیٰ والصلوٰة والسلام علیٰ عباده الذین اصطفیٰ ...... أمابعد

قاضی بشیر صاحب نے اپنے مضمون کی قسط نمبر9 کی ابتدا جس بحث سے فرمائی ہے اسپر ہم بالاختصار پہلے بھی کچھ عرض کرچکے ہیں اور وہ یہ کہ دارالحرب ساقط قصاص ہے یا نہیں یعنی عصمت دم میں اسلام معتبر ہے یا دارالحرب احناف کے نزدیک عصمت دم کا مدار مقام او رجگہ ہے۔ یعنی اگر کوئی مسلمان دارالحرب میں مارا جائے تو اس کے قاتل پر قصاص نہیں ہوگا اور یہ کہ خطاء کی صورت میں اس پر دیت ہوگی جبکہ شوافع کا خیال ہے کہ مسلمان خواہ کہیں بھی ہو جب تک وہ مسلمان ہے ،معصوم الدم ہوگا او راس کا قتل قابل قصاص جرم ہے۔ البتہ دارالحرب میں اس کا اسلام معلوم ہونا ضروری ہے او ریہ مسلک قرین شریعت معلوم ہوتا ہے جبکہ قاضی صاحب نے علامہ جصاص کے حوالہ سے احناف کے مسئلہ کو صحیح قرار دیا ہے۔ اس کے بعد قاضی صاحب نے اپنی مدعیٰ کی تائید میں احکام القرآن کے حوالہ سےجرید بن عبداللہ کی روایت پیش کی ہے اور عقبہ بن مالک، اسامۃ ابن زید کی روایات بھی لکھی ہیں جس میں ہے: ''هَلَّا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ'' حالانکہ یہ روایات تو دراصل شوافع کی دلیل ہیں نہ کہ احناف کی۔ امام شافعی اپنے دلائل ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: وَهَكَذَا كُلُّ مَنْ قَتَلَهُ وَهُوَ يَعْلَمُهُ مُسْلِمًا مِنْهُمْ أَوْ أَسِيرًا فِيهِمْ أَوْ مُسْتَأْمَنًا عِنْدَهُمْ لِتِجَارَةٍ أَوْ رِسَالَةٍ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ فِي الْعَمْدِ الْقَوَدُ'' الخ (الام :ج6 ص30)

ایک اور جگہ فرماتے ہیں:

وَلَوْ قَتَلَهُ فِي صَفِّ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ قَدْ عَلِمْت أَنَّهُ مُؤْمِنٌ فَعَمَدْتُهُ قُتِلَ بِهِ.'' (الام: ج6 ص31)

یعنی اگر کوئی یہ علم ہونے کے باوجود کہہ دے کہ مقتول مسلمان ہے تو اس پر قصاص ہوگا۔''

اس کے علاوہ متعدد ایسی احادیث آتی ہیں جن میں آپ نے فرمایا ہے کہ حتى يقولوا لا إله إلا الله، فإذا قالوها، عصموا مني دماءَهم وأموالهم إلا بحقها، وحسابهم على الله

ایسی متعدد احادیث نقل کرنے کے بعد امام شافعی سے امام بیہقی نقل فرماتے ہیں کہ:

''فاعلم أن حکمهم في الظاہر أن تمنع دماءهم بإظهار الإیمان و حسابهم في المغیب علی اللہ '' (بیہقی :ج8 ص196) بحث کی مزید تفصیل کا انتظار فرمائیں۔

مرتد عورت کا حکم :

جب عصمت دم اسلام سے ثابت ہوتی ہے تو جو شخص اسلام سے منحرف ہوجائے گا اس کا خون بھی حلال ہوگا۔ مرتد بھی ایسے ہی شخص کو کہتے ہیں لہٰذا مرتد کا قتل حلال ہوگا۔ البتہ اس میں فقہاء کے متعدد اختلافات ہیں لیکن ہم سردست صرف یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ احناف کے نزدیک مرتد عورت کو قتل نہیں کیاجائے گا بلکہ حبس دوام کی سزا دی جائے گی۔ قاضی صاحب نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے جبکہ حنابلہ اور شوافع اس کے خلاف ہیں اور وہ مرد و عورت کو ایک نظر سے دیکھتے ہیں۔ علامہ ابن قدامہ کہتے ہیں:

''أَنَّهُ لَا فَرْقَ بَيْنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ فِي وُجُوبِ الْقَتْلِ. رُوِيَ ذَلِكَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ، وَعَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -. وَبِهِ قَالَ الْحَسَنُ، وَالزُّهْرِيُّ، وَالنَّخَعِيُّ، وَمَكْحُولٌ، وَحَمَّادٌ، وَمَالِكٌ، وَاللَّيْثُ، وَالْأَوْزَاعِيُّ، وَالشَّافِعِيُّ، وَإِسْحَاقُ'' (مغنی: ج10ص74)

محترم قارئین! اگر آپ کو یاد ہے تو ہم پہلے ایک دو مرتبہ اشارہ کرچکے ہیں کہ احناف نے ابطال حدود کے لیے ایک شق یہ بھی نکالی ہے کہ عورت کو مرد کے مساوی نہ سمجھا جائے ، بالخصوص حدود میں حالانکہ خواہ سرقہ ہو یا زنا،ارتدداد ہو یا قتل، تمام میں مرد اور عور کا یکساں حکم ہے تو اس موقع پر تفریق خلاف اصول ہے۔ حافظ صاحب فرماتے ہیں کہ:

''وَيُؤَيِّدُهُ اشْتِرَاكُ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ فِي الْحُدُودِ كُلِّهَا: الزِّنَا وَالسَّرِقَةِ وَشُرْبِ الْخَمْرِ وَالْقَذْفِ وَمِنْ صُوَرِ الزِّنَا'' (نیل الاوطار:ج7 ص193)

لیکن نہ معلوم قاضی صاحب کی نظر سے وہ دلائل کیوں اُوجھل ہوگئے جن سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مرتد عورت کا بھی وہی حکم ہے جو مرتد مرد کا۔ احناف نے جس حدیث سے استدلال کیاہے وہ آپﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ ''ولا تقتلوا وليداً ولا امرأة'' یعنی''عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کیا جائے۔'' وااسفا...... کہ علم حدیث سے ذرا لگاؤ رکھنے والا طالب علم بھی سمجھتا ہے کہ یہ حدیث احناف کی دلیل نہیں ہوسکتی کیونکہ اس کا محمل یہ نہیں تو ایک ''قاضی'' نہ سمجھے تو ہمیں ''إذا كان الغراب دليل قوم.... سيهد يهم طريق الهالكين'' یاد آتا ہے کہ جناب اس حدیث کا تو پس منظر ہی او رہے۔ بالخصوص ایسی صورت کہ جب عورت جنگ میں عملی طور پر شریک نہ ہو، جیسا کہ علامہ شوکانی فرماتے ہیں: ''وَحَمَلَ الْجُمْهُورُ النَّهْيَ عَلَى الْكَافِرَةِ الْأَصْلِيَّةِ إذَا لَمْ تُبَاشِرْ الْقِتَالَ''(نیل:ج7 ص193)

یعنی نہی کی تخصیص اور اصل کافرہ سے تشبیہ بھی درست نہیں۔ اس کے علاوہ احناف نے یہ بھی کہا ہے کہ یہاں ''من بدل'' میں من شرطیہ ہے جو کہ مؤنث کی عمومیت کا متحمل نہیں حالانکہ یہ بھی اصول سے عدم واقفیت کا مظہر ہے اور یہ مذکر و مؤنث کے شمول کی صلاحیت رکھتا ہے جیساکہ متعدد امثلہ سےواضح کیا جاسکتا ہے ۔علامہ قرطبی فرماتے ہیں: ''ومن يصلح للذکر والأنثیٰ'' علامہ عبدالرحمٰن مبارکپوری فرماتے ہیں:

''وَهُوَ قَوْلُ الْجُمْهُورِ وَهُوَ الْأَصَحُّ الْمُوَافِقُ لِحَدِيثِ الْبَابِ فَإِنَّ لَفْظَ (مَنْ) فِي قَوْلَهُ مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ عَامٌّ شَامِلٌ لِلرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ'' (تحفہ :صفحہ337 ج2)

بہرحال اس کے علاوہ بھی متعدد احادیث و آثار ایسے ملتے ہیں جن سےمعلوم ہوتا ہے کہ عورت کو بھی مرد کی طرح مرتد ہونے پرقتل کیا جائے گا۔مثلاً:

عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " ارْتَدَّتِ امْرَأَةٌ عَنِ الْإِسْلَامِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعْرَضَ عَلَيْهَا الْإِسْلَامُ وَإِلَّا قُتِلَتْ، فَعَرَضُوا عَلَيْهَا الْإِسْلَامَ فَأَبَتْ إِلَّا أَنْ تُقْتَلَ، فَقُتِلَتْ "
(یہ روایت متعدد اسناد سے مختلف کتب حدیث میں منقول ہے مثلاً بیہقی دارقطنی وغیرہ)

" أَنَّ امْرَأَةً سَبَّتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَتَلَهَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ "(بیہقی :ج10 ص33)

أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " قَتَلَ امْرَأَةً، يُقَالُ لَهَا: أُمُّ قِرْفَةَ، فِي الرِّدَّةِ " (ایضاً)

اسی اثر کے متعلق امام شافعی فرماتے ہیں:

'' وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَتَلَ نِسْوَةً ارْتَدَدْنَ عَنِ الْإِسْلَامِ، فَكَيْفَ لَمْ يُصَرْ إِلَيْهِ؟'' (ایضاً)

اس کے علاوہ درج ذیل حدیث بھی اس بات کاواضح ثبوت ہے کہ عورت و مرد جو بھی مرتد ہوجائے اسے قتل کیا جائے گا۔

4۔لا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلا بِإِحْدَى ثَلاثٍ : كَفَرَ بَعْدَ  إِيمَانِه۔ الحدیث

اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد علاہ قرطبی فرماتے ہیں کہ: ''فهم كل من كفر بعد إيمانه وهوأصح''(قرطبی: ج3 ص48)

عقلی دلیل

نقلاً آپ دیکھ چکے ہیں کہ آنحضرتﷺ کے فرمان اور تعامل صحابہ ؓ سے یہ بات ثابت ہے کہ مرتد عورت کی بھی وہی سزا ہے جو مرتد مرد کی اس کے علاوہ عقل سلیم بھی اس بات سے اباء کرتی ہے کہ مرد و زن میں فرق کیا جائے۔ کیونکہ جس طرح مرد مکلف ہے۔اسی طرح عورت مکلف ہے۔ جب ان دونوں کے مکلف ہونے میں کوئی فرق نہیں تو نتائج تکلیف میں فرق کیونکر ہو؟ اس بات کی طرف علامہ ابن قدامہ نے بایں الفاظ اشارہ فرمایا ہ کہ:

''وَلِأَنَّهَا شَخْصٌ مُكَلَّفٌ بَدَّلَ دِينَ الْحَقِّ بِالْبَاطِلِ، فَيُقْتَلُ كَالرَّجُلِ''

اس کے علاوہ بھی اگر تشریح اسلامی کے محاسن کو بنظر غائد دیکھا جائے تو انسان اسی نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ عورت پر مرد کے احکام کوبھی جاری ہونا چاہیے (کما لا یخفی علی العاقل) اور پھر جو وجہ تفریق بتائی گئی ہے وہ اس قدر سطحی ہے کہ جس کا تصور کم از کم اس دور میں تو وہی شخص کرسکتا ہے جو مرفوع القلم ہو کیونکہ عورت بھی فساد میں مرد سے کسی طرح کم نہیں۔ بالخصوص ایسی کمی ہرگز نہیں کہ اس سے حدود کو معطل کردیا جائے بلکہ فساد فی الارض کا تحقیق عورت سے بھی عین اسی طرح ممکن ہے جس طرح مرد سے۔

حالت ِ زنا میں قتل:

قاضی صاحب نے فقہ حنفی کے واسطہ سے فرمایا ہے کہ زنا کرنے کی حالت میں زانی کو قتل کرنا موجب قصاص نہ ہوگا۔ احناف کے ساتھ اس مسئلہ میں حنابلہ بھی شریک ہیں یہی وجہ ہے کہ قاضی صاحب نے استدلال کے لیے مغنی کی طرف رجوع کیا ہے اور حضرت عمرؓ کا واقعہ نقل کیا ہے۔ علامہ ابن قدامہ اس واقعہ کونقل کرنے سے قبل فرماتے ہیں:

''وَإِذَا وَجَدَ رَجُلًا يَزْنِي بِامْرَأَتِهِ فَقَتَلَهُ، فَلَا قِصَاصَ عَلَيْهِ، وَلَا دِيَةَ؛ لِمَا رُوِيَ أَنَّ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ '' الخ (مغنی: ج1 ص353)

حالانکہ یہ واقعہ باعتبار سند اس قابل نہیں کہ اسے مستدل ٹھہرایا جائے کیونکہ اس کی سند ہشیم عن مغیرۃ عن ابراہیم ہے اور اس میں ہشيم مدلس ہے امام عجلی فرماتے ہیں: ''ثقة وکان يدلس'' او رامام خلیلی کہتے ہیں ''حافظ متقن تغير بآخر موته'' ابن سعد کا قول ہے : ''كان ثقة كثیر الحديث ثبتا يدلس كثير فما قال في حدیثه أنا فهو حجة ومالم یقل فليس بشيئ'' (تہذیب : ص63 ج11) یعنی جب وہ خود سماع کی تصریح بالفاظ اخبرنا کرے تو قبول ورنہ مردود چنانچہ مندرجہ بالا واقعہ کی سند آپ دیکھ رہے ہیں کہ ''هشيم عن مغیرة'' یعنی معنعن ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ یہ روایت قابل قبول نہیں۔ یہی نہیں بلکہ امام حاکم نے تصریح فرمائی ہے کہ ہشیم کا سماع مغیرہ سے درست نہیں۔ چنانچہ انہوں نے تفصیلی ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ:

''أن أصحاب هشيم اتفقوا على أن لا يأخذوا عنه تدليسا ففطن لذلك فجعل يقول في كل حديث يذكره ثنا حصين ومغيرة فلما فرغ قال هل دلست لكم اليوم قالوا لا قال لم أسمع من مغيرة مما ذكرت حرفا إنما قلت: حدثني حصين وهو مسموع لي وأما مغيرة فغير مسموع لي '' (تہذیب: ص62 ج11)

جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مغیرہ کے متعلق اگر ہشیم ثنا، انا بھی کہے تو روایت قابل قبول نہ ہوگی تو معنعن کا کیا حال ہوگا۔ چنانچہ جب ایک راوی اس قدر ذخیرہ حدیث میں رد وبدل اور تحریف و تکذیب کا عادی او رماہر ہو تو اس کی روایت کو قبول کرنا سراسر ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اصول حدیث سے جہالت و ضالت کا بھی مظہر ہے۔

او رہشیم کے ابراہیم سے عدم سماع پر ایک قرینہ یہ بھی ہے کہ ہشیم تقریباً 104 ھ میں پیدا ہوتا ہے جبکہ اس کا مذکور استاذ ابراہیم بکثرت روایت 104 ہجری میں وفات پاتا ہے تو قاضی صاحب بتائیں کہ کیا ایسی صورت میں سماع ممکن ہے؟ بینو توجروا

یہی نہیں بلکہ دوسرا واسطہ یعنی ''مغیرة من إبراہیم'' کا واسطہ بھی اس قابل نہیں کہ اس سے احتجاج ہوسکے۔ کیونکہ مغیرہ بھی مدلس ہے۔ جیسا کہ اصحاب فن نے تصریح فرمائی ہے اور احمد فرماتے ہیں کہ:

حديث مغيرة وقال أبو حاتم عن أحمد حديث مغيرة مدخول عامر ما روى عن إبراهيم إنما سمعه من حماد ومن يزيد بن الوليد والحارث العكلي وعبيدة وغيرهم قال وجعل يضعف حديث مغيرة عن إبراهيم وحده'' (تہذیب: ص270 ج10)

یعنی بالخصوص جب مغیرہ ابراہیم سے منفرد ہو تو روایت قابل قبول نہیں۔ اب قاضی صاحب یا ان کے ہم مشرب مغیرہ کی مصاحبت و متابعت تلاش فرمائیں او رہم ان کے اس تتبع پر مشکور ہوں گے۔ لعل الله  يحدث بعد ذلك أمرا۔

اس کے علاوہ اسماعیل قاضی فرماتے ہیں کہ ''ليس بقوي فيمن لقي لأنه يدلس فكيف إذا أرسل.'' چنانچہ ابراہیم سے اس کی ملاقات بھی محل نظر معلوم ہوتی ہے۔ ابن فضیل فرماتے ہیں:''كان يدلس وكنا لا نكتب عنه إلا ماقال حدثنا إبراهيم'' (تہذیب:ص269 ج10)

لیکن یہاں آپ دیکھ رہے ہیں کہ روایت معنعن ہے۔ لہٰذا بایں واسطہ بھی یہ روایت قابل قبول نہ ہوئی۔ اس کے علاوہ اصول حدیث کا ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کہ ابراہیم نخعی کی تقریباً کسی صحابی سے بھی ملاقات نہیں البتہ بعض ائمہ نے ان کے ارسال کی تصحیح فرمائی ہے لیکن علامہ بیہقی کے بقول مبنی برصحت ارسال صرف حضرت ابن مسعودؓ کے ساتھ خاص ہے۔ (ملخص من التہذیب)

قارئین عظام ہماری ان گذارشات سے آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ اس واقعہ کی اسنادی حیثیت کیا ہے؟ تو آپ خود فیصلہ فرمائیں کہ محض اس واقعہ کی بناء پر کسی قاتل کا تحفظ اور بے جا خون کروانا کس حد تک اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے؟ بالخصوص جبکہ نبی علیہ السلام کا واضح ارشاد ہ کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو بحالت زنا دیکھے تو قتل نہ کرے جیسا کہ حضرت سعدؓ اور آنحضرت علیہ الصلوٰۃ والسلام کی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے۔ جس کے الفاظ ہیں:

''أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا، أَؤُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟ قَالَ: «نَعَمْ» (مسلم: ص491 ج1، کتاب الام8 ص26 ج16 اور دوسری جگہ الفاظ ہیں: ''يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَجِدُ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا»'' الخ (ایضاً)

یعنی جب تک چار گواہ نہ پیش کیے جائیں اس وقت تک اس پرحد قائم نہیں ہوسکتی تو اسے قتل کیونکر کیا جاسکتا ہے؟ حضرت علیؓ سے بھی جب اس قسم کے واقعہ کے متعلق فتویٰ لیا گیا تو آپ نے فرمایا: ''ان إنْ لَمْ يَأْتِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَلْيُعْطَ بِرُمَّتِهِ.'' ..... ''إن جَاءَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَوَإلا فَلْيُعْطَ بِرُمَّتِهِ'' (الام :ص26 ج6، مغنی: ص353 ج10)

امام شافعی اپنے موقف یعنی ''قصاص ہوگا'' پر دلائل دینے کے بعد فرماتے ہیں کہ:

''وَبِهَذَا نَقُولُ فَإِذَا وَجَدَ الرَّجُلُ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَادَّعَى أَنَّهُ يَنَالُ مِنْهَا مَا يُوجِبُ الْحَدَّ وَهُمَا ثَيِّبَانِ مَعًا فَقَتَلَهُمَا أَوْ أَحَدَهُمَا لَمْ يُصَدَّقْ وَكَانَ عَلَيْهِ الْقَوَدُ أَيَّهُمَا قَتَلَ إلَّا أَنْ يَشَاءَ أَوْلِيَاؤُهُ أَخْذَ الدِّيَةِ أَوْ الْعَفْوَ'' (کتاب الام: ص26 ج6)

اس کے علاوہ قانون اور آئین کے احترام کا بھی یہی تقاضا ہے ورنہ اگر ہر شخص قانو کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے گا تو معاشرہ سلجھنے کی بجائے مزید بگڑے گا اور تشریع اسلامی کے محاسن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے ایسے امور سرانجام دینے کے لیے مرکز اور اولوالامر کا انتخاب کیا اور وہ مامور ہیں۔

علامہ قرطبی فرماتے ہیں:

''لا خلاف أن القصاص في القتل لا يقيمه إلاأولوالأمر فرض عليهم النھوض بالقصاص و إقامة الحدود وغير ذلك'' (قرطبی : ص247 ج2)

علامہ الجزیری فرماتے ہیں:

''لا خلاف بين الأئمة في أن القصاص في القتل لا يقيمه إلا أولو الأمر، الذين فرض عليهم النهوض بالقصاصن وإقامة الحدود. وغير ذلك، لأن الله سبحانه وتعالى خاطب الجميع المؤمنين بالقصاص قال تعالى: {يا أيها الذين آمنوا كتب علكم القصاص في القتلى} ثم لا يتهيأ للمؤمنين جميعاً، أن يجتمعوا على القصاص، فأقاموا مالسلطان مقام أنفسهم في إقامة القصاص وغيره من الحدود'' (کتاب الفقہ علی المذاھا الاربعۃ: ج249 ج5)

او ررعایا کوبھی اس بات کا مکلف ٹھہرایا ہے کہ وہ ان کی اطاعت کریں او راپنے معاملات میں انہیں حاکم مجاز تصور کریں۔ علاوہ ازیں اسلامی معاشرہ کی تشکیل کا خواب شرمندہ تعبیرنہیں ہوسکتا بلکہ وہ بداخلاقی و بدتہذیبی ،غنڈہ گردی اور قتل و غارت نیز فساد فی الارض بپا ہوگا کہ الامان والحفیظ اس کے علاوہ شبہات پر احکا کے محل تعمیر کرنے والےنہ معلوم یہ کیونکر بھول گئے کہ کیا ان کا اختلاط واقعی مطلوب فی الحدود اختلاط ہوا ہے یا نہیں جبکہ بعض حلالیوں کے نزدیک حلالہ کی صحت پر عینی شہادت ضروریہے۔ پھر یہ بھی کیسے معلوم ہوا کہ وہ دونوں شیب ہیں یا نہیں؟ اس کے علاوہ قتل کی بجائے شریعت نے جو رجم کی سزامقرر کی ہے۔ وہ بھی یقیناً کسی فلسفہ و حکمت سے خالی نہیں جو کہ مذکورہ صورت میں ہرگز نہیں ہوسکتی۔

عجوبہ:

یہ تو آپ نے سنا ہوگا کہ ''لا مشاجرة في الاصطلاح'' لیکن یہ بھی آپ کےذہن میں ہونا چاہیے کہ اس بات پر تقریباً اتفاق ہے کہ '''علیه السلام'' کی اصطلاح جس طرح انبیاء علیہم السلام کے لیے خاص ہے ویسے ہی رضی اللہ عنہم کی اصطلاح صحابہ کرام کے لیے خاص ہے جبکہ رحمۃ اللہ تعالیٰ بعد والوں کے لیے عام ہے۔ لیکن بدقسمتی سے بعض بدباطنوں نے اپنے عقیدے کو غیر شعوری طور پر ترویج دینے کے لیے علیہ السلام کی اصطلاح کو اپنے ائمہ کے ساتھ کہنا علامت فطن قرار دیا۔ (1) تو دوسری طرف بعض فرقھائے غالیہ نے اپنے اسلاف کو صحابہ کرام کی اصطلاح کے ساتھ لکھنا شروع کردیا۔ اس اصطلاحی بحث کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو قاضی صاحب نے بھی اپنی تحریر میں قارئین کے لیے لطیفہ اور علم دوست حضرات کے لیے عجوبہ چھوڑا ہے کہ ایک قاضی (واہ مولا تیرےرنگ) ایک ایسے راوی پر صحابہ کی اصطلاح کا اطلاق کررہا ہے جس کا حال ہم ابھی ذکر کرچکے ہیں۔ ہمیں اعتراض یا ہمارا رونا اس بات پر نہیں کہ مذکورہ مغیرہ صحابی ہے یا کون؟ غالباً انہوں نے مغنی کو اچھی طرح دیکھا نہیں یاپھر تجاہل عارفانہ کہیئے یا تقلیدی جمود کہ مکھی پر مکھی مار دی ورنہ اگر تھوڑی سی تکلیف فرماتے تو رضی اللہ عنہ لکھنے کا تکلف نہ فرماتے۔ بہرحال یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ آپ ان کی کم علمی و بے بضاعتی اور فنی یتامت کا پہلے بھی مشاہدہ کرچکے ہیں اور

ابھی تو ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا

آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا

قوله: اگر کسی شخص نے دوسرے کو تیر مارا مگر تیر لگنے سے قبل وہ مرتد ہوگیا پھر اس کا تیر لگا اور وہ مرگیا تو قاتل پر قصاص نہیں ہوگا۔(ملخص تشریح :7)

اقول: محترم قارئین اس سے قبل ہم متعدد بار عرض کرچکے ہیں کہ فقہ حنفی میں بعض ایسی باتین بھی (بلکہ اکثر) ہیں جو یقیناً محال عادی ہیں یعنی خواہ مخواہ کے مسائل کہ اگر ایسے ہوجائے ویسے ہوجائے تو یوں ہوگا، ووں ہوگا۔ حالانکہ شریعت نے ہمیں ایسی ذہنی کاوش کا مکلف نہیں ٹھہرایا بلکہ فرمایا: ''لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ'' او رنبی علیہ السلام نےفرمایا ''تمام سے شقی وہ شخص ہے جس کے سوال کی وجہ سے کسی دوسرے مسلمان کو مشکل پیش آئے۔''

آپ مذکورہ صورت ہی کو دیکھ لیجئے کہ نہ معلوم اور ء واالحدود بالشبہات کا سہارا لے کرقاتل و سارق و زانی وغیرہ کا تحفظ کرنے والے کن بھول بھلیوں میں مصروف ہیں یہی نہیں بلکہ تشریح نمبر 10 بھی ایسی ہی موشگافیوں پر مبنی ہے۔حالانکہ صاف بات ہے کہ مقتول اگر اپنی چند ساعتی مستعار زندگی میں قاتل کو معاف کردے خواہ کسی طرح بھی ہو تو قصاص ساقط ہوگا بشرطیکہ اس پر دباؤ نہ ہو وہ وارثوں کی ضد پر مبنی معافی نہ ہو( حالانکہ ان کاذکر قاضی نے بالکل نہیں فرمایا) لیکن اگر مگر ویسے تیسے یہ وہ اور یوں توں فقہی اٹکل پچو ہیں لہٰذا ہم ان حشویات سے قطع نظر اصولی بات کی طرف آتے ہیں جو اس شمارہ میں ذکر کی گئی ہے۔

بیٹے کے بدلے باپ کا قتل:

اس قسط میں قاضی صاحب نےجو اہم مسئلہ ذکر کیا ہے وہ یہ ہے کہ کیا بیٹے کے بدلے باپ کو قتل کیا جائے گا یا نہیں؟ اسی طرح دادا،دادی، نانا،نانی اور والدہ کا مسئلہ ہے۔ قاضی صاحب چونکہ فقہ حنفی کو (Articales) کے تحت ترتیب دے رہے ہیں تو انہوں نے یہی لکھا ہے کہ قصاص ساقط ہوجائے گا او رامام شافعی ، امام احمد کا بھی یہی مسلک ہے البتہ امام مالک کا خیال ہے کہ بیٹے کےبدلے باپ سے قصاص لیا جائے گا ۔

ابن المنذر فرماتے ہیں کہ:

''اختلف أھل العلم في الرجل یقتل ابنه عمدا فقالت طائفة لا قود علیه و علیه دیة وھذا قول الشافعي و أحمد و إسحاق و أصحاب الرأي وروي ذلك عن عطاء ومجاهد وقال مالك و ابن نافع و ابن عبدالحکیم یقتل به وقال ابن المنذر وبهذا نقول لظاھر الکتاب والسنة'' (تفسیر قرطبی: ص250 ج2)

او ریہی بات صحیح معلوم ہوتی ہے کہ کیونکہ جن دلائل کو قاضی صاحب نے فقہ حنفی کی تائید میں پیش کیا ہے وہ اسنادی قوت سے اس قدر محروم ہیں کہ انہیں کسی مسئلہ میں بھی مستدل نہیں بنایا جاسکتا چہ جائیکہ اتنے اہم مسئلہ کا مدار بنالیا جائے۔ مثلاً پہلے حضرت عمرؓ سے (1) یہ حدیث نقل فرمائی کہ ''لایقتل والد بولده'' یہ حدیث بالفاظ مختلفہ ترمذی، بیہقی اور دارقطنی وغیرہ میں بھی آتی ہے او راس کی اسناد میں حجاج بن ارطاۃ، اسماعیل بن مسلم اور ابوتمام جیسے ضعیف اور متکلم فیہ راوی ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں:

''ھذا حدیت لا نعرفه بهذا الإسناد مرفوعا إلامن حدیث إسماعیل من مسلم و إسماعیل بن مسلم اکملي تکلم فیه بعض أھل العلم من قبل حفظه'' (ترمذی مع التحفہ:ص307 ج2)

علامہ مبارکپوری فرماتے ہیں:

''قال عبدالحق هذہ الأحادیث کلھا معلولة لا یصح منھا شيء'' ایسی ہی ایک اور حدیث کے متعلق امام ترمذی فرماتے ہیں:

''ھذا حدیث لا نعرفه من حدیث سراقة إلامن ھذا الوجه ولیس إسنادہ صحیح رواإ سماعیل ابن عیاش من المثنی بن الصباح والمثنیٰ یضعف في الحدیث'' (قرطبی: ص249 ج2)

اس کے علاوہ عمرو بن شعیب کی حدیث ضعیف ہونےکے علاوہ مضطرب بھی ہے۔ بنا بریں یہ کہنا بے جا نہیں کہ یہ حدیث بہر طریق ضعیف اور ناقابل احتجاج ہے انہی الفاظ سے غالباً ایک اور حدیث بھی جو ابن عباسؓ س ہے۔ علامہ قرطبی اس کے معلق فرماتے ہیں کہ: ''وھو حدیث باطل'' (قرطبی:ص251ج2)

2۔ اس کے علاوہ یہ حدیث بھی پیش کی گئی ہے کہ ''أنت و مالك لأبیك'' اور اس کے ساتھ ہی ایک اور حدیث بایں الفاظ قاضی صاحب نے تحریر فرمائی ہے کہ ''إن أطیب ماأکل الرجل'' یہ حدیث علیحٰدہ لکھی ہے۔ حالانکہ یہ دونوں ٹکڑے ایک ہی حدیث ہیں جیسا کہ مسند احمد ص179، 214، 204، ج2 سے واضح ہوتا ہے۔بہرحال اس کو تو حسب معمول قاضی کی لغزش کہیئے یا لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ناکام کوشش یا کوئی دجل و فریب کا نام دے لیجئے ہمارا مطلب تو یہ ہے کہ اس حدیث سے استدلال کرنابالکل ڈوبتے کو تنکے کا سہار اکے مترادف ہے کیونکہ اس حدیث کا محمل یہ نہیں بلکہ خود حدیث کا سیاق و سباق بتاتا ہے کہ اس کامفہوم بزبان رسالتؐ متعین ہے جو کسی بھی صاحب علم پر مخفی نہیں او رکتب حدیث سے معمولی دلچسپی رکھنے والا طالب علم بھی سمجھ سکتاہے کہ اس موقع پر نبی علیہ السلام کیا بتانا چاہتے ہیں لیکن نہ معلوم درایت کو روایت پر ترجیح دینے والوں کا خزانہ درایت ایسے مواقع پر کیوں ٹھپ ہوجاتا ہے ۔بہرحال اہل علم کے سامنے اس حدیث کامحمل محتاج وضاحت نہیں تاہم جب راقم الحروف نے اس کے متعلق استاذ المکرم فقید العصر شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عبدہ مدظلہ العالی سے دریافت کیا تو انہوں نے تفصیلاً روشنی ڈالنے کے بعد تمثیلاً فرمایا کہ ایک مرتبہ سید داؤد غزنوی اپنے دفتر میں تھے کہ عمر فاروق غزنوی آئے ان کے پاس تقریباً دو ہزار کا چیک تھا وہ کمرہ میں گر گیا او روہ چلے گئے پیچھے سے سید صاحب نے وہ چیک اٹھا لیا جب عمر فاروق واپس آئے اور چیک کے متعلق دریافت کیا تو مولانا سید داؤد صاحب نے برجستہ طور پر فرمایا: ''أنت و مالك لأبیك'' یعنی اس حدیث کا محمل کچھ او رہے ، وہ نہیں جوقاضی صاحب یا ان کے ہم مکتب حضرات نے سمجھا ہے۔ مزید تعجب ہے کہ ایک طرف قاصی صاحب اسے جزء وغیرہ کی بنا پر بڑی شدومد سے مساقط قصاص قرار دیتے ہیں تو دوسری طرف مال ہونے کی وجہ سے شبہ کہہ کر گزر جاتے ہیں تو بھائی یہ شبہ کیسا؟

3۔ اس کے علاوہ قاصی صاحب نے اطاعت والدین کی آیات قرآنیہ سے بھی استدلال کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ استدلال بھی اس قدر سطحی ہے کہ کسی طالب علم کی شایان شان بھی نہیں کہ وہ ان آیات سے استدلال کرے او رہمیں خود شرم محسوس ہوتی ہے کہ اس پر کتنے او رکیسے ورق سیاہ کریں کہ کہاں حقوق الہ اور کہاں حقوق العباد اور اگر محض احترام ہی کی بات ہے تو پھر عورت کو خاوند کے احترام کا کوئی کم پابندکیا گیا ہے حالانکہ اس کے قصاص پر سبھی قائل ہیں۔

فخر الاسلام شاشی وغیرہ نے اس کی تائید میں یہ بات بھی کہی ہے کہ باپ چونکہ بیٹے کے وجود کا سبب ہوتا ہے اس لیے وہ اس کے عدم کا سبب نہیں بن سکتا۔ حالانکہ یہ بات بھی اسی طرح غلط او رمضحکہ خیز ہے جیسا کہ اطاعت والدین والی کیونکہ اگر یہ تسلیم کرلیا جائے تو پھر ایسے باپ کے متعلق کیا حکم ہے جو اپنی لڑکی کے ساتھ زنا کرتا ہے کہ اسے رجم کیا جائے گا یا نہیں؟ جب اس موقع پر اس کے عدم کا سبب بن سکتی ہے (جیسا کہ ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے کہ ایسے باپ کو رجم کیا جائے گا) تو قتل میں کون سا مانع او رکون سی فقہ ہے جو اس بات کے حائل ہے کہ اللہ اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور حدود اللہ کو پھلانگنے والے کے لیے بیٹا سبب عدم نہیں بن سکتا۔(ملخصاً قرطبی: ص250 ج2)

یہ نہیں بلکہ اس کے برعکس ظاہر قرآن و سنت بھی اس بات کا متقاضی ہے کہ بیٹے کے بدلے باپ کو بھی قصاصاً قتل کیا جائے گا۔ علامہ قرطبی نے ابن المنذر سے نقل فرمایا ہے کہ:

''فَأَمَّا ظَاهِرُ الْكِتَابِ فَقَوْلُهُ تَعَالَى:" كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصاصُ فِي الْقَتْلى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ"، وَالثَّابِتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (الْمُؤْمِنُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ) وَلَا نَعْلَمُ خَبَرًا ثَابِتًا يَجِبُ بِهِ اسْتِثْنَاءُ الْأَبِ مِنْ جُمْلَةِ الْآيَةِ، وَقَدْ رَوَيْنَا فِيهِ أَخْبَارًا غَيْرَ ثَابِتَةٍ'' (قرطبی:ص250 ج2) اس کے بعد علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ: ''وَحَكَى إِلْكِيَا الطَّبَرِيُّ عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ أَنَّهُ يُقْتَلُ الْوَالِدُ بِوَلَدِهِ، لِلْعُمُومَاتِ فِي الْقِصَاصِ۔'' (ایضاً)

اب ان عمومات کی تخصیص خبر احاد سے ہم تو کرسکتے ہیں بشرطیکہ وہ صحیح ہوں لیکن احناف کے نزدیک تو وہ بھی نہیں بالخصوص یہاں تو خبر واحدبھی ضعیف ہے۔ البتہ امام مالک کے متعلق امام قرطبی کا یہ کہنا کہ انہوں نے عمومات قصاص پر اس وجہ سے عمل کیا ہے کہ وہ خبر احاد کو عمومات قرآن کے مقابلہ میں تسلیم نہیں کرتے محل نظر ہے کیونکہ خبر احاد کےسلسلہ میں امام مالک کا وہ نظریہ ہرگز نہیں جو احناف کا ہے چنانچہ ہم تفصیل سے قطع نظر اجمالاً بتائیں گے کہ امام مالک کامسلک کیا ہے چنانچہ کشف الاسرار صفحہ 697 ج2 پر القواطع سے ہے کہ:

''وَقَدْ حُكِيَ عَنْ مَالِكٍ أَنَّ خَبَرَ الْوَاحِدِ إذَا خَالَفَ الْقِيَاسَ لَا يُقْبَلُ وَهَذَا الْقَوْلُ بَاطِلٌ سَمْجٌ مُسْتَقْبَحٌ عَظِيمٌ، وَأَنَا أُجِلُّ مَنْزِلَةَ مَالِكٍ عَنْ مِثْلِ هَذَا الْقَوْلِ وَلَا يُدْرَى ثُبُوتُهُ مِنْهُ''

امام ابن قیم اس سلسلہ میں امام مالک کی تنصیص نقل فرماتے ہوئے رقم طراز ہیں:

''فمن نص علی أن الخبر الواحد یفید العلم مالك والشافعي'' الخ (الصواعق المرسلۃ ص362 ج2)

بلکہ فقہاء مالکیہ کے مشہو رامام ابن فواز امنداد اپنی کتاب اصول فقہ میں ان روایات کا تذکرہ کرتے ہوئے جن میں صرف ایک یا دو راوی ہیں، فرماتے ہیں:

''ویقع بهذا الضرب أيضا العلم الضروري نص علیٰ ذلك مالك '' (ایضاً)

اس کے علاوہ خود فقہاء مالکیہ نے بھی اس کی تردید کی ہے او راس ےاہل زیغ کا قول قرار دیا ہے مثلاً ابوعمر ابن عبدالبر مالکی 463 ھ فرماتے ہیں:

''وقد أمرالله عزوجل بطاعته و اتباعه وأمر مطلقا لم یقیدہ بشيء کما أمرنا باتباع بكتاب اللہ ولم یقل وافق كتاب اللہ كما قال أھل الزیغ'' (جامع بیان العلم: صفحہ 190 ج2)

بہرحال امام مالک کے متعلق ان تصریحات کے بعد یہ کہنا کسی طرح بھی قرین انصاف نہیں کہ وہ خبر احاد کی حجیت کے قائل نہ تھے بلکہ متعدد امثلہ بھی پیش کی جاسکتی ہیں جن سے اس دعویٰ کی تردید ہوتی ہے تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ادارہ علوم اثریہ کی کتاب ''خبر آحاد کی حجیت'' جو کہ ابھی تشنہ طباعت ہے اور ایسے ایک درجن سے زائد اہم مقالات اہل ثروت کی خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔

عود الی المقصود

بہرکیف ہم دو رچلے گئے بات چل رہی تھی کہ کیا بیٹے کے بدلے باپ کو قتل کیا جائے گا یا نہیں؟ آپ نقلی طور پر یعنی کتاب و سنت اور آثار کو دیکھ چکے ہیں کہ دلائل کی رُو سے امام مالک کا مسلک صحیح معلوم ہوتا ہے کہ باپ سے بھی قصاص لیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ عقل کا بھی یہی تقاضا ہے کیونکہ کتنے شقی القلب باپ ایسے ہیں جو کہ معمولی سی بات پر اپنی اولاد کو قتل کردیتے ہیں اور ''وإذا الموؤودة سئلت بأي زنب قتلت'' بھی اس بات کی طرف اشارہ ہے او رکتنی شقی القلب مائیں ہیں جو شادی کے شوق میں اولاد کو موت کے گھاٹ اتار دیتی ہیں او رباپ بھی اپنی اولاد کو ہمیشہ کی نیند سلا دیتے ہیں تو ایسے میں کیا وجہ ہے کہ ان مظلوموں کا بدلہ نہ لیا جائے او ران ظالموں پر حدود اللہ کا اجراء نہ ہو؟ اور کیا ایسے ذمی باپ کوقصاصاً قتل کیا جائے گا جو اپنے مسلمان بیٹے کوقتل کردیتا ہے۔؟ ( جاری ہے۔۔۔۔)