(1)

ہجرت نبوی سے چند سال بعد کاذکر ہے کہ ایک دن میانہ قد او راکہرے بدن کے ایک گورے چٹّے پاکیزہ صورت آدمی بارگاہ رسالتﷺ میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے بڑے ادب سے حضورﷺ کو سلام کیا اور پھر آپ کی خدمت میں بیٹھ کر ارشادات نبویؐ سے مستفیض ہونے لگے۔ یکایک سرور عالمﷺ پر آثار وحی طاری ہوئی اور زبان رسالتؐ پر قرآن حکیم کی ایک سورۃ جاری ہوگئی ۔ وہ صاحب وحی الہٰی کاایک ایک لفظ بغور سنتے اور اس کو لکھتے جاتےتھے۔ جب جبریل امین علیہ السلام پیغام الٰہی پہنچا کر واپس چلے گئے تو رحمت عالم ﷺ نے ان صاحب سے مخاطب ہوکر فرمایا:

''مجھے اللہ نے حکم دیا ہے کہ میں تم کو قرآن سنایا کروں'' (تاکہ تمہیں یاد ہو) ان صاحب نے عرض کیا: ''یارسول اللہ ؐ! کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیاہے؟''

حضورؐ نے فرمایا: ''ہاں''

یہ سن کر وہ صاحب فرطِ مسرت سے بے خود ہوگئے او ربے اختیار رونے لگے۔

یہ صاحب رسول جن کا خود رب ذوالجلال والاکرام نے نام لے کراپنے حبیب پاکؐ کو حکم دیا کہ ان کو قرآن سنائیں۔ سیدالمسلمین حضرت اُبی ؓ بن کعب انصاری تھے۔

(2)

سیدنا حضرت ابیؓ بن کعب انصاری کا شمار تاریخ اسلام کی ان مہتمم بالشان شخصیتوں میں ہوتا ہے جن کو دربار رسالت میں نہایت ممتاز درجہ حاصل تھا او رجن کی جلالت قدر او رتبحر علمی پر مسلمانوں کے سبھی مکاتب فکر کا کامل اتفاق ہے۔ حضرت اُبیؓ کا تعلق انصار کی نہایت معزز شاخ نجار (خزرج) کے خاندانی بنی جدیلہ سے تھا۔ شجرہ نسب یہ ہے:

اُبیؓ بن کعب بن قیس بن عبید بن زیاد بن معاویہ بن عمر بن مالک بن نجار بن ثعلبہ بن عمرو بن خزرج الاکبر۔

والدہ کا نام صہیلہ تھا جو خاندان عدی بن نجار سے تھیں۔

حضرت اُبیٰؓ دو کنیتوں سےمشہور تھے ایک کنیت ابوالمنذر تھی جو رحمت عالمﷺ نے رکھی تھی۔ دوسری کنیت ابوالطفیل جو ان کےبیٹے طفیل کے نام کی نسبت سے حضرت عمر فاروقؓ نے رکھی تھی۔ سید الانصار، سیدالمسلمین اور سید القراء حضرت اُبیؓ کے القاب تھے۔

حضرت اُبیؓ کے لڑکپن او رجوانی کے حالات کتب سیر میں نہیں ملتے۔ البتہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اوائل عمر میں ہی لکھنا پڑھنا سیکھ گئے تھے او ران کاشمار انصار کے تعلیم یافتہ لوگوں میں ہوتا تھا۔مولانا سعید انصاری مرحوم نے سیر انصار میں یہ رائے ظاہر کی ہے غالباً حضرت اُبیؓ اسلام سے پہلے توراۃ پڑھ چکے تھے او راسی کا اثر تھا کہ اسلام کی آواز نے انہیں بہت جلد اپنی طرف متوجہ کرلیا۔

حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے کہ حضرت اُبیؓ عہد شباب میں دُخت رز کا شوق بھی کرتے تھے اوران کے سوتیلے باپ ابوطلحہؓ کی محافل ناؤنوش کےسرگرم رکن تھے۔ (قبول اسلام کے بعد دونوں کا شمار جلیل القدر صحابہ میں ہوا۔ حضرت ابوطلحہؓ زید بن سہل انصاری ، حضرت اُبیؓ کے ماموں زاد بھائی تھے اور رزم و بزم میں ان کے ساتھی تھے)

حضرت اُبیؓ کے سعادت اندوز اسلام ہونے کے بارے میں مشہو رروایت یہ ہے کہ انہوں نے بیعت عقبہ ثانیہ میں مکہ جاکر رحمت عالم ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کی۔ لیکن تاریخ و سیر کی اکثر کتابوں میں اصحاب عقبہ ثانی کی جو فہرست دی گئی ہے۔ اس میں حضرت ابیؓ بن کعب کا نام نہیں ہے۔ اس سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جاسکتاہے کہ وہ بیعت عقبہ سے پہلے ہی مشرف بہ اسلام ہوچکے تھے۔ رہی یہ بات کہ وہ بیعت عقبہ میں شریک ہوئے یا نہیں اس میں اختلاف ہے۔ بہر صورت ہجرت نبویؐ سے پہلے ان کاشرف ایمان سےبہر ور ہونا سب کے نزدیک مسلّم ہے۔

(3)

ہجرت کے بعد سیدالانام ﷺ نےمدینہ منورہ میں نزول اجلال فرمایا تو انصار میں سے حضرت ابیؓ بن کعب کو سب سے پہلے وحی لکھنے کا شرف حاصل ہوا۔ اس لحاظ سے ان کو انصاری کاتبین وحی میں امتیازی درجہ حاصل ہے۔

ہجرت کے چند ماہ بعد حضورؐ نے مہاجرین او رانصار کے مابین مواخاۃ قائم کرائی تو حضرت اُبیؓ کو جلیل القدر صحابی (یکے از عشرہ مبشرہ ) حضرت سعید بن زید کا اسلامی بھائی بنایا۔

غزوات کا سلسلہ شروع ہوا تو حضرت اُبیؓ بدر سے لے کر طائف تک تمام غزوات میں رحمت عالم ﷺ کے ہمرکاب رہے۔

حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ حضرت اُبیؓ کو غزوہ اُحد میں ایک تیر ہفت اندام میں لگا جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔ سرور عالمﷺ کو اطلاع ملی تو آپؐ نے ان کے علاج کے لیے ایک طبیب بھیجا جس نے رگ کو کاٹ دیا۔ حضورؐ نے اس رگ کو اپنے ہاتھ سے داغ دیا او رحضرت اُبیؓ کازخم جلد ہی مندمل ہوگیا۔

حضرت اُبیؓ کو رحمت عالم ﷺ سے بے پناہ محبت تھی او رکلام الہٰی سے بھی گہرا شغف تھا۔ چنانچہ وہ اپنے وقت کا بیشتر حصہ بارگاہ نبویؐ میں گزارتے تھے۔ حضورؐ ان کو قرآن سناتےاور حفظ کراتے تھے اورکتابت وحی کی خدمت بھی لیتے تھے۔ اس طرح ان کو بارگاہ رسالت میں خصوصی تقرب حاصل ہوگیا تھا۔ قرآن حکیم سے حضرت اُبیؓ کا غیرمعمولی شغف اس قدر مقبول ہواکہ خود ذات باری تعالیٰ نے حضرت اُبیؓ کا نام لے کر رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ ان کو قرآن سنایا کریں۔ ارشاد ربانی کےمطابق حضور اکرمﷺ نے حضرت اُبیؓ کی تعلیم پر خاص توجہ فرمائیں جس کا نتیجہ یہ ہواکہ وہ قرآن حکیم کے حافظ اور قرآنی علوم و معارف کے بہت بڑے عالم بن گئے ان کی قرأت سرور عالمﷺ کو اس قدر پسند تھی کہ ایک مرتبہ آپؐ نے فرمایا کہ ''لوگوں میں سب سے بڑے قاری ابیؓ بن کعب ہیں۔''

ایک دفعہ حضورؐ نے حضرت ابیؓ سے دریافت فرمایا کہ ''قرآن میں کون سی آیت بے انتہا عظمت کی حامل ہے؟'' حضرت اُبی ؓ نے عرض کیا ''آیۃ الکرسی''

ان کا جواب سن کر حضورؐ بہت خوش ہوئے اور فرمایا:''اُبیؓ تمہیں یہ علم مسرور کرے۔''

رحمت عالم ﷺ نے حضرت اُبیؓ کو اجازت دے رکھی تھی کہ وہ جو چاہیں اور جب چاہیں آپ ؐ سے پوچھیں۔ چنانچہ وہ بڑی آزادی کے ساتھ فیضان نبوی سے خوب خوب فیضیاب ہوتے تھے۔ بعض اوقات سرور عالم ﷺ ان کو بغیر پوچھے بھی قرآن حکیم کے اسرار و رموز سےآگاہ فرماتے تھے۔ خود حضرت ابی ؓ بن کعب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اُبیؓ کیا میں تجھ کوایسی سورت نہ بتاؤں جو نہ توراۃ میں ہے نہ زبور میں اور نہ انجیل او رنہ قرآن ہی میں اس جیسی اتاری گئی ۔'' میں نے عرض کیا، ''بے شک ضرور بتائیے۔'' آپؐ نے فرمایا:''بےشک میں اُمید کرتا ہوں کہک تو اس دروازہ سے نکلنے نہ پائے گا یہاں تک کہ تو اس کو جان جائے گا۔'' اس کے بعد |آپؐ کھڑے ہوگئ ے اورمیں بھی آپؐ کے ساتھ کھڑا ہوگیا، آپؐ مجھ سے بات کررہے تھے او رمیرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں تھا تو میں نے پیچھا ہٹنا شروع کیا اس خوف سے کہ آپؐ اس سورۃ کی خبر دینے سے پہلے ہی دروازے سے باہر نہ چلے جائیں۔ جب میں دراوزے کے قریب ہوا تو میں نے عرض کیا ''یارسول اللہﷺ وہ سورۃ جس کا آپ ؐ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے؟'' آپؐ نے فرمایا کہ ''تم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہو تو کس طرح پڑھتے ہو؟'' میں نے سورہ فاتحہ پڑھی۔ آپؐ نے فرمایا وہ سورۃ یہی ہے اور یہ سبع مثانی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کہا ہے۔ وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ(سورہ 15 رکوع6) ''او رہم نے آپ کو سات |آیتیں دیں جو مکرر پڑھی جاتی ہیں او رقرآن عظیم دیا۔''

رحمت عالم ﷺ کو حضرت اُبیؓ کے حفظ قرآن او رحافظہ پرپورا اعتماد تھا اس کا اندازہ اس واقعہ سے کیا جاسکتا ہے کہ ایک دفعہ حضورؐ فجر کی نماز پڑھاتے ہوئے ایک |آیت پڑھنا بھول گئے۔ نماز سے فارغ ہوکر حضورؐ کو خود اس آیت کا خیال آگیا، صحابہؓ سے پوچھا کہ کسی نے میری قرأت پر خیال کیا تھا،تمام صحابہؓ خاموش رہے لیکن حضرت اُبیؓ بن کعب نے فوراً عرض کیا: ''یارسول اللہﷺ آپؐ نےفلاں آیت نہیں پڑھی، کیا یہ منوخ ہوگئی ہے یا سہواً ترک ہوگئی۔''

حضورؐ نے فرمایا ''نہیں میں پڑھنا بھول گیا۔میں جانتا تھا کہ تمہارے سوا او رکسی کا دھیان اس طرف نہ گیا ہوگا۔''

ایک مرتبہ حضرت اُبیؓ کو ایک آیت کی قرأت کےبارے میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے اختلاف پیدا ہوا۔ دونوں سرور عالمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے او راپنی اپنی قرأت کے مطابق یہ آیت پڑھ کر آپ ؐ کو سنائی۔ حضورؐ نے فرمایا: ''تم دونوں ٹھیک پڑھتے ہو۔'' حضرت اُبیؓ کے دل میں وسوسہ پیدا ہوا او رانہوں نے حیران ہوکر عرض کیا: ''یارسول اللہ ﷺ میں بھی ٹھیک پڑھتا ہوں او رعبداللہ بھی۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟''

کہنے کو تو یہ الفاظ کہہ دیئے لیکن رعب نبوت نے جسم پر کپکپی طاری کردی او رپسینے میں نہاگئے۔ حضورؐ نے ان کی حالت دیکھی تو ان کے سینے پر اپنا دست مبارک رکھ کر فرمایا: ''الہٰی اُبیؓ کا شک دور کر۔''آناً فاناً ان کا دل وسوسہ سے پاک ہوگیا او راس معاملہ میں ان کو پورا اطمینان ہوگیا۔

رحمت عالم ﷺ کا سحاب لطف و کرم حضرت اُبیؓ پر ایساجھوم جھوم کر برسا کہ وہ عہد رسالت میں ہی مسند درس و افتاد پرفائز ہوگئے۔ لوگ ان سے قرآن پڑھتے اور مختلف مسائل دریافت کرتے تھے۔ ایک دفعہ ایک ایرانی صاحبؓ رسولؐ نے ان سے قرآن پڑھنا شروع کیا، جب اس آیت پر پہنچے ''إِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّومِ   طَعَامُ الْأَثِيمِ'' تو ایرانی صحابیؓ کی زبان سے اثیم کی بجائے یتیم نکلتا تھا۔بہت کوشش کی لیکن ان سے صحیح تلفظ ادانہ ہوسکا۔ بالآخر ان کو ساتھ لے کر حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے او راپنی مشکل بیان کی۔ حضورؐ نے ایرانی سے فرمایا'' هو طعام الظالم'' انہوں نے یہ الفاظ بالکل صحیح ادا کیے۔ سرور عالم ﷺ نے حضرت ابیؓ سے فرمایا: ''ان کی زبان درست کرنے کی کوشش کرتے رہو، اللہ تمہیں اس کا اجر دے گا۔''

مشہور صحابی حضرت طفیلؓ بن عمرودوسی نے حضت ابیؓ بن کعب سے قرآن پڑھا تو انہوں نے ایک کمان ہدیۃ پیش کی حضرت اُبیؓ اس کو لگا کربارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے تو حضورؐ نے پوچھا ''اُبی یہ کمان کس نے دی ہے؟'' عرض کیا: ''طفیل بن عمرودوسی نے، میں نے اسے قرآن پڑھایا ہے۔'' حضورؐ نے فرمایا: ''اس کو واپس کردو ورنہ یہ جہنم کے ایک ٹکڑے کا قلاوہ بن جائے گی۔''

انہوں نے عرض کیا: ''یارسول اللہ ﷺ! ہم اپنے شاگردوں کے ہاں کھانا بھی تو کھا لیتے ہیں'' حضورؐ نے فرمایا: وہ کھانا بطور خاص تمہارے لیے تیار نہیں کیا جاتا اگر تم کھانے کے موقع پر پہنچ گئے اور اس میں شریک ہوگئے تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن جو چیز خاص تمہارے لیے تیار کی جائے ۔ اگر تم اس کو استعمال کرلو تو اپنی آخرت کے اجر کو ضائع کرو گے۔''

ایک اور روایت میں خود حضرت اُبیؓ بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو قرآن کی ایک سورۃ سکھائی اس نے میرے پاس ایک کپڑا ہدیۃً بھیجا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کاذکر کیا تو آپؐ نے فرمایا اگر تو نے اس لے لیا تو تجھے آگ کا کپڑا پہنایاجائے گا۔

حضرت اُبیؓ رحمت عالم ﷺ کے ارشادات کا ایک ایک لفظ بغور سنتے تھےاو راس کو حرز جان بنا لیتے تھے۔ ایک دفعہ بارگاہ رسالت میں حاضر تھے کہ ایک شخص نے حضورؐ سے سوال کیا: ''یارسول اللہﷺ ہم لوگ جو بیمار ہوتے ہیں یا دوسری تکلیفیں اٹھاتے ہیں اس میں بھی کچھ ثواب ہے؟'' حضورؐ نے فرمایا: ''ہاں یہ بیماریاں اور تکلیفیں مسلمان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں۔''

حضرت اُبیؓ نے پوچھا: ''یارسول اللہﷺ کیا معمولی تکلیفیں بھی گناہ کا کفارہ ہوجاتی ہیں؟''

فرمایا: ''چھوٹی چھوٹی تکلیفیں کیا، مسلمان کو ایک کاٹنا بھی چبھ جائے تو وہ اس کے گناہ کا کفارہ بن جاتا ہے۔''

یہ سنتے ہی جو ش ایمان کی یہ کیفیت ہوئی کہ بے ساختہ زبان پر یہ دعا جاری ہوگئی۔''الہٰی میں ہمیشہ بخاری میں مبتلا رہوں مگر نماز باجماعت ، حج ، عمرہ او رجہاد کے قابل رہوں۔''

یہ دعا فوراً دراجابت پر پہنچ گئی۔اہل سیر کا بیان ہے کہ اس کے بعد حضرت اُبیؓ کو ہر وقت خفیف سے حرارت رہتی تھی شاید اس کی وجہ سے ان کے مزاج میں بھی قدرے حدت پیدا ہوگئی تھی۔

9 ہجری میں رحمت عالم ﷺ نے حضرت اُبیؓ کو قبائل بلی، عذرہ اور بنو سعد میں عامل صدقات بناکر بھیجا۔ انہوں نے اپنے فرائض نہایت دیانت اور جفاکشی کے ساتھ انجام دیئے۔ ایک دفعہ کسی گاؤں میں گئے تو ایک شخص نے اپنے تمام جانور ان کے سامنے لاکر کھڑے کردیئے کہ ان میں سے آپ جو چاہیں چن لیں۔انہوں نے اونٹ کاایک دو سالہ بچہ لے لیا۔ جانوروں کے مالک نے کہا: ''یہ بچہ آپ کے کس کام کا، یہ جوان اور فربہ اونٹنی لے جائیں۔''

حضرت اُبیؓ نے کہا: ''نہیں نہیں یہ رسول اللہ ﷺ کے حکم کے خلاف ہے بہتر یہ ہے کہ تم میرے ساتھ مدینہ منورہ حضورؐ کی خدمت میں چلو، آپؐ جو حکم دیں گے اس کی تعمیل کرنا۔''

جانوروں کے مالک بڑے مخلص مسلمان تھے وہ حضرت ابیؓ کے ساتھ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور وہی اونٹنی حضورؐ کی خدمت میں پیش کی۔

آپؐ نے فرمایا: ''اگر تم یہی اونٹنی بخوشی دیناچاہتے ہو تو دے دو۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا اجر دے گا۔'' انہوں نے برضا و رغبت یہ اونٹنی صدقہ میں دے دی او رخوش خوش اپنے گاؤں کومراجعت کی۔

ایک دفعہ حضرت اُبیؓ نےکہیں سے ایک تھیلی پڑی پائی۔ کھول کر دیکھا تو اس میں سو دینار تھے دوڑے دوڑے حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور واقعہ عرض کیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ سال بھر تک اس کا اعلان کرتے رہو۔ وہ سال بھر ان دیناروں کااعلان کرتے رہے لیکن کسی نے ان کی ملکیت کا دعویٰ نہ کیا۔ حضرت اُبیؓ پھر حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ''یارسول اللہ ﷺ میں سال بھر تک لوگوں کو خبر کرتا رہا لیکن کوئی یہ رقم لینے نہیں آیا۔'' حضورؐ نے فرمایا ایک سال اور انتظار کرو اگر کوئی شخص رقم کی مقدار اور تھیلی کا نشان بتا کر ان دیناروں کا دعویٰکرے تو اس کے حوال کردینا ورنہ یہ مال تمہارا ہوچکا۔''

حضرت اُبیؓ کو قرأت قرآن میں ایسا کمال حاصل ہوگیا تھا کہ خود حامل وحی و نبوتﷺ ان سے قرآن کا دورہ فرمایا کرتے تھے، اپنے سال رحلت(11ہجری) میں بھی حضرت اُبیؓ کو (آخری بار قرآن سنایا او رساتھ ہی ارشاد فرمایا:''مجھے جبریل امین علیہ السلام نے آکر کہا کہ اُبیؓ کو قرآن سنا دیجئے۔''

(4)

رحمت عالمﷺ کے وصال کے بعد خلافت کا مسئلہ پیدا ہوا تو حضرت اُبیؓ ان چند صحابہ میں سے تھے جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو خلافت کا مستحق سمجھتے تھے تاہم جب جمہور مسلمانوں کی رائے کے مطابق حضرت ابوبکرؓمسند آرائے خلافت ہوئے تو حضرت اُبیؓ نے خوشدلی سے ان کی بیعت کرلی۔ صدیق اکبرؓ حضرت ابیؓ کابے حد احترام کرتے تھے۔جب انہوں نے قرآن حکیم کی ترتیب و تدوین کا کام اہل علم صحابہ کرام کی ایک جماعت کے سپرد کیا تو حضرت اُبیؓ اس جماعت کاامیر مقرر کیا۔ وہ قرآن کے الفاظ بولتے جاتے تھے اور لوگ ان کو لکھتے جاتے تھے اگرکسی آیت کی تقدیم و تاخیر کے بارے میں اختلاف ہوجاتا تو سب اس کو مل کر طے کرتے تھے۔ صدیق اکبرؓ کے بعد حضرت عمرفاروقؓ منصب خلافت پر فائز ہوئے تو انہوں نے حضرت اُبیؓ کو مجلس شوریٰ کا رکن نامزد کیا۔ وہ حضرت اُبیؓ کی جلالت علمی اور اصابت رائے کے بے حد معتقد تھے او ران کاغیر معمولی اعزاز و اکرام کرتے تھے اور اہم ملکی اور دینی معاملات میں ان کی رائے کو بڑی اہمیت دیتے تھے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی  نے اصابہ میں لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ ان(حضرت اُبیؓ) کو سیدالمسلمین کہتے تھے او رفرماتے تھے کہ ''ہم سب سے بڑے قاری اُبیؓ ہیں۔'' اسی طرح حافظ ابن عبدالبر الاستیعاب میں لکھتے ہیں کہ حضرت عمرؓ سے متعدد طرق سے یہ روایت ہم کوپہنچی ہے کہ آپؐ نے کہا، ہم میں علم قضا کے سب سے بڑے ماہر علی بن ابی طالبؓ او رحفظ قرآن میں سب سے بڑے اُبیؓ ہیں۔

سید محمد علی ببلاوی نے اپنی کتاب ''التعریف بالنبي بالقرآن الشریف'' میں مستند حوالوں کے ساتھ لکھا ہے کہ ''حضرت عمرؓ مشکل مسائل میں حضرت اُبیؓ کی طرف رجوع کیا کرتے تھے او رپیچیدہ مقدمات میں ان سے فیصلہ کراتے تھے اور آپؓ انہیں سیدالمسلمین اور سید القراء کے القاب سے یاد کرتے تھے۔''

حضرت عمر فاروقؓ نےاپنے عہد خلافت میں نماز تراویح کو باجماعت کیا تو حضرت ابیؓ بن کعب کو مردوں کا اور حضرت سلیمان بن ابی حثمہ کو عورتوں کا امام مقرر فرمایا۔ امیرالمؤمنین حضرت عمرؓ اگرچہ حضرت اُبیؓ پر بے حد مہربان تھے او ران کی تعظیم و تکریم میں کوئی کسر نہ اٹھارکھتے تھے لیکن حضرت اُبیؓ دینی معاملات میں مطلق ان کی رُو رعایت نہ کرتے او رجس بات کو حق سمجھتے برملا اس کا اظہار کردیتے تھے۔ کنزالعمال میں ہے کہ ''حضرت عمرؓ کا ایک شخص پر گزر ہوا جویہ آیت پڑھ رہا تھا۔ ''والسابقون الأولون من المهاجرين والأنصار والذين اتبعو هم باحسان'' آپؓ ٹھہرگئے اور کہا ذرا ادھر تو آؤ، وہ آپؓ کے پاس آیا تو آپؓ نے پوچھا، تمہیں یہ آیت کس نے یا دکرائی ہے ۔اس نے کہا یہ مجھے ابیؓ بن کعب نے یاد کرائی ہے۔ آپؓ نے فرمایا کہ چلو ابیؓ بن کعب کے پاس۔ وہ آپ کو ساتھ لے کر اُبی کے پاس آیا۔ آپؓ نے فرمایا کہ ''ا ے ابا المنذر یہ شخص کہتا ہے کہ تم نے اسے یہ آیت تعلیم کی ہے۔'' اُبیؓ نے کہا سچ کہتا ہے میں نے یہ آیت رسول اللہ ﷺ کے دہن مبارک سے سنی ہے۔ حضرت عمرؓ نے (تعجب سے)کہا ''تم نے اس کو محمد رسول اللہ ﷺ کے دہن مبارک سے سنا ہے۔'' اُبیؓ نے کہا، ''ہاں'' تیسری بار پوچھنے پر بڑےغصے سے کہا کہ ''ہاں خدا کی قسم! اس کو اللہ نے جبریل علیہ السلام پر اور جبریل علیہ السلام نے محمد ﷺ کے قلب پر ناز ل کیا۔بیشک خطاب اور اس کے بیٹے سے مشورہ نہیں لیا۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ وہاں سے باہر نکلے اس طرح کہ دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے تھے اور کہہ رہے تھے اللہ أکبر اللہ أکبر''

اسی سلسلے میں کنز العمال میں اور روایتیں بھی ملتی ہیں ان میں سے کچھ یہ ہیں:

ایک دفعہ ابودرداءؓ اہ لشام کی ایک جماعت کو اپنے ساتھ مدینہ منورہ لائے ان لوگوں نے حضرت اُبیؓ سے قرآن کی تعلیم حاصل کی۔ ایک دن ان میں سے ایک شخص نے حضرت عمرؓ کے سامنے کوئی آیت پڑھی۔ حضرت عمرؓنے ایک آدمی کوبھیجاکہ اُبیؓ کوبلا لاؤ۔ اس وقت اُبیؓ اپنے اونٹ کو چارہ دے رہے تھے۔امیرالمؤمنین کا پیغام ما تو قاصد سے پوچھا کہ کیا کام ہے؟ انہوں نے واقعہ بیان کیاتو حضرت اُبیؓ کو غصہ آگیا اور اس حالت میں دربار خلافت میں حاضر ہوئے کہ ہاتھ میں چارہ تھا او ردامن چڑھا رکھا تھا، حضرت عمرؓ نے وہ آیت ان سے پڑھوائی اس کے بعد حضرت زید بن ثابتؓ کوحکم دیا کہ وہی آیت پڑھیں، انہوں نے حکم کی تعمیل کی ۔ تو ان کی قرأت حضرت اُبیؓ کی قرأت سے کس قدر مختلف تھی۔ حضرت عمرؓ نے حضرت زیدؓ کی تائید کی اس پر حضرت اُبیؓ نے خشمناک ہوکر کہا۔ ''عمرؓ خدا کی قسم! آپؓ جانتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اندر ہوتاتھا اور آپ لوگ باہر کھڑے رہتے تھے۔ اب آج میری یہ قدر افزائی کی جارہی ہے کہ ۔ خدا کی قسم اگر آپ کہیں تو میں خانہ نشین ہوجاؤں نہ کسی سے کلام کروں اور نہ لوگوں کو قرآن پڑھاؤں یہاں تک مجھ پر موت وارد ہوجائے۔''

حضرت عمرؓ نے فرمایا: ''ہرگز نہیں جب اللہ نے آپؓ کو علم دیاہے ۔ تو آپؓ شوق سے لوگوں کو قرآن کی تعلیم دیں۔

ایک اور موقع پر حضرت عمرؓ نے حضرت اُبیؓ بن کعب پرکسی آیت کی قرأت کے متعلق اعتراض کیا تو انہوں نے برہم ہوکر کہا،''میں نے رسول اللہﷺ سے خود سنا ہے اور آپ کوبقیع کے بازار میں خرید و فروخت سے فرصت نہ تھی۔'' حضرت عمرؓ نے(جن کو اُبیؓ کا بڑا لحاظ تھا اور وہ ان سے الجھنا نہیں چاہتے تھے، فرمایا تم ٹھیک کہتے ہو۔''

حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ میں مدینہ کی ایک گلی میں قرآن مجید کی ایک آیت پڑھتا ہوا جارہا تھا، اتنے میں پیچھے سے آواز آئی ''سند بتاؤ! اے ابن عباسؓ سند بتاؤ'' میں نے مڑ کر دیکھا تو حضرت عمرؓ تھے، میں نے کہا، میں آپؓ کو اُبی بن کعب کا حوالہ دیتا ہوں۔ یہ سن کر انہوں نے اپنے ایک غلام سے کہا کہ ''اُبیؓکے پاس جا او ران سے دریافت کر کہ کیا تم نے ان کو یہ آیت یاد کرائی ہے۔ ہم اُبیؓ کے پاس گئے ابھی ہم ان کے دروازے پر پہنچے کہ خود حضرت عمرؓ آگئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ اُبیؓ نے اجازت دے دی۔ ہم لوگ اُبیؓ کے پاس ایسی حالت میں پہنچے کہ ان کی کنیز ان کے سر میں کنگھی کررہی تھی۔ حضرت عمرؓ کے لیے چمڑے کا ایک ٹکڑا ڈال دیا گیا۔ وہ اس پر بیٹھ گئے۔ اُبیؓ بن کعب دیوار کی طرف منہ کیے بیٹھے تھے وہ اسی طرح بیٹھے رہے او ران کی پشت حضر ت عمرؓ کی طرف تھی۔ یہ دیکھ کر حضرت عمرؓ نے ہماری طرف رخ کیا او رکہا ''دیکھو تو اس (اُبیؓ) کو ہماری پرواہ ہی نہیں، تھوڑی دیر بعد اُبیؓ بن کعب نے حضرت عمرؓ کی طرف رُخ کیا اور کہا''خوش آمدیدامیرالمؤمنین اس وقت کیسے تشریف آوری ہوئی؟ صرف ملاقات کے لیے یا کسی اور غرض سے؟'' حضرت عمرؓ نے کہا۔''میں کسی غرض ہی سے آیا ہوں۔ آخر تم لوگوں کو اللہ کی رحمت سے کیوں مایوس کرتے ہو؟''

اُبیؓ نے کہا۔ اچھا شاید کوئی آیت آپؓ نے سنی ہے جو س|خت ہے۔ آپ کو علم ہونا چاہیے کہ میں نے قرآن اس ہستی سے سیکھا جس نے تازہ تازہ اس کو جبریل سے حاصل کیا تھا۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ نے ہاتھ پر ہاتھ مارا او ریہ کہتے ہوئے کھڑے ہوگئے ، ''خدا کی قسم تم احسان جتانا چاہتے ہو لیکن میری تشفی نہیں ہوئی۔ تم کس طرح (اپنی بات کہنے سے) باز نہ آؤ گے اورمجھے کس طرح تاب نہ آئے گی۔''

کبھی کبھی اختلاف رائے ہوجانے کے باوجود حضرت عمرؓ، حضرت اُبیؓ کے دل سے قدردان او رمداح تھے۔ شام کے مشہور سفر میں انہوں نے جابیہ کے مقام پر جو خطبہ دیا اس میں فرمایا:

''من أراد القرآن فلیأت أبیا''

''جس کو قرآن کا شوق ہو وہ اُبیؓ کے پاس آئے۔''

حضرت عثمانؓ ذوالنورینؓ بھی حضرت اُبیؓ کے تبحر علمی کے معترف تھے۔ انہوں نے اپنے دور خلافت میں محسوس کیا کہ بعض صحابہ کی قرأت میں اختلاف ہے۔چنانچہ انہوں نے پختہ ارادہ کرلیا کہ تمام مسلمانوں کو ایک قرأت پر جمع کروں گا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے انصار او رمہاجرین میں سے بارہ ایسے صحابہ منتخب کیے جن کو قرآن پر پورا عبور تھا اور پھر انہیں یہ کام سونا کہ باہمی مشورہ سے قرأت کا اختلاف دور کریں۔ اس مجلس کے امیر حضرت ابیؓ مقرر ہوئے۔ وہ بولتے جاتے تھے او رحضرت زید بن ثابتؓ لکھتے جاتے تھے۔ جہاں اختلاف پیدا ہوتا سب آپس میں مشورہ کرکے اس کو دور کرلیتے۔ کنزالعمال میں ہے کہ اس کے بعد قرآن حکیم کے تمام نسخے حضرت اُبیؓ کی قرأت کے مطابق ہوگئے۔ لیکن بعض روایتوں میں ہے کہ حضرت اُبیؓ، حضرت عمرفاروقؓ کے عہد خلافت میں (19 یا 20 یا 2 2ہجری) میں وفات پاچکے تھے۔ سب سے مشہور روایت یہ ہے کہ انہوں نے بزمانہ حضرت عثمان 32 ہجری میں وفات پائی۔ اختلاف قرأت دور کرنے والی روایت اسی صورت میں صحیح ہوسکتی ہے جب حضرت اُبیؓ کی وفات 32 ہجری میں تسلیم کی جائے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

حضرت ابیؓ نے اپنے پیچھے جو اولاد چھوڑی اس میں سے طفیل، محمد، ربیع، عبداللہ اور اُم عمر کے نام معلوم ہیں ان کی اہلیہ اُم طفیل بھی صحابیہ تھیں۔

(5)

حضرت اُبی ؓ علم و فضل کا مجمع البحرین تھے۔ وہ نہ صرف قرآن او رجملہ علوم قرآنی میں درجہ تبحر رکھتے تھے بلکہ حدیث اور فقہ کے بھی بہت بڑے عالم تھے۔ امام ذہبی کا بیان ہے کہ ''حضرت اُبیؓ نے رسول اللہ ﷺ سے احادیث کا بہت بڑا حصہ سنا تھا'' تاہم حضرت اُبیؓ روایت حدیث میں بے حد محتاط تھے۔ چنانچہ ان سے صرف 64 احادیث مروی ہیں۔

حضرت اُبیؓ کی جلالت علمی کی یہ کیفیت تھی کہ بڑے بڑے جلیل القدر صحابہؓ ان کے حلقہ درس میں شامل ہوتے تھے۔ ان میں سے حضرت عمر فاروقؓ، حضرت ابوہریرہؓ، حضرت عبادہ بن صامتؓ، حضر ت ابوموسیٰ اشعریؓ، حضر ت ابوایوب انصاریؓ، خیرالامۃ حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت انسؓ بن مالک جیسے اساطین امت بھی شامل ہیں۔ ان بزرگو ں کو حضرت اُبیؓ کے گھر جاکر مسائل دریافت کرنے سے بھی اجتناب نہ تھا۔

بعض روایتوں میں ہے کہ انہیں انصار میں سب سے بڑا عالم تسلیم کیا جاتا تھا۔ ان کو اسلامی علوم کے علاوہ تورات اور انجیل پر بھی عبور حاصل تھا۔ ان کتابوں میں سرور عالمﷺ کے بارے میں بشارتیں مذکور ہیں وہ انہیں بڑے لطف و انبساط کے ساتھ لوگوں کو سنایا کرتے تھے۔

رحمت عالم ﷺ کے وصال کے بعد حضرت ابیؓ بن کعب کی ذات ایک ایسا چشمہ فیض کی حیثیت رکھتی تھی جس سے ہر مسلمان بقدر ظرف فیضیاب ہوتا تھا۔ وہ لوگوں کو شرعی مسائل بھی بتاتے تھے اور قرآن حکیم کے حقائق و معارف کی تعلیم بھی دیتے تھے ان کے نزدیک قرآن کریم پر عمل کرکے ہی مسلمان اپنی دنیا اور آخرت سنوار سکتے تھے۔ ایک دفعہ کسی شخص نے عرض کی کہ مجھے کوئی وصیت کیجئے۔ فرمایا:

''قرآن کریم کو اپنا امام بنا لو، اس کے فیصلوں او راحکام پر راضی ہوجاؤ، بے شک یہ قرآن وہی ہے جو تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ نے چھوڑا ہے او ریہ ایسا شاہد ہے جس پر کوئی حرف گیری نہیں کرسکتا۔ اس میں تمہارا تذکرہ بھی ہے اور تم سے پہلی امتوں کا بھی۔ یہی تمہارے باہمی جھگڑوں کا فیصلہ کرنے والا ہے۔ اس میں تمہارا بھی اور تمہارے بعد آنے والوں کا بھی حال درج ہے۔''

ابونعیم نے ''حلیہ'' میں لکھا ہے کہ حضرت اُبیؓ بن کعب فرمایا کرتے تھے کہ مومن میں چار صفتیں ضرور ہوتی ہیں۔

1۔ اگر مصیبت میں مبتلا ہو تا ہے تو صبر کرتا ہے۔

2۔ اگر اسے کوئی نعمت عطا ہو تو اللہ کا شکر کرتا ہے۔

3۔ اگر کوئی فیصلہ دیتا ہے تو پورا انصاف کرتا ہے۔

4۔ اگر وہ بولتا ہے تو ہمیشہ سچ بولتا ہے۔

او رجب کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کے ڈر سے کوئی چیز ترک کردیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اسے اس سے بہتر چیز ایسی جگہ سے دیتا ہے جہاں سے اسے ملنے کا گمان تک نہیں ہوتا او رجب کوئی بندہ اللہ کی دی ہوئی نعمت کی قدرت نہیں کرتا او راسے اس طرح استعمال کرتا ہے جو شرعاً اس کے لیے جائز نہیں تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کے بدلے میں ایسے طریقے سے سزا دیتا ہے جو اس کے گمان میں بھی نہیں ہوتا۔

بعض شرعی مسائل میں حضرت اُبیؓ اپنا خاص مسلک رکھتے تھے۔ مثلاً وہ ظہر او رعصر کی نماز میں امام کے پیچھے قرأت کرتے تھے اور دوسری نمازوں میں خاموش رہتے تھے۔ زنا کی سزا تین قسم کی بتاتے تھے متاہل بڈھے کو تازیانہ و رجم دونوں، متاہل جوان کو محض رجم اور غیر متاہل جوان کو فقط تازیانہ۔

مزاج میں کس قدر تکلف تھا ۔ حلقہ درس میں گدے پر بیٹھ کر تعلیم دیا کرتے تھے او رتلامذہ کو اپنی تعظیم کے لیے سروقد کھڑے ہونے سے منع نہیں فرماتے تھے۔ بڑھاپے میں جب سر اور ڈاڑھی کے بال سفید ہوگئے تھے پراگندہ مُو ہونا پسند نہیں فرماتے تھے۔ایک لونڈی کے ذمہ یہ کام تھا کہ وہ آپ کے بالوں کو بنا سنوار دیا کرے۔ دیوار میں ایک آئینہ لگا ہوا تھا جب کنگھی کرتے تھے تو اس کی طرف منہ کرلیتے تھے۔

حضرت اُبیؓ کی شخصیت علم او رعمل دونوں کی جامع تھی۔ بدعات سے اجتناب کرتے تھے۔ او راپنے ہر کام میں سنت نبوی کو ملحوظ رکھتے تھے۔ عبادات میں خاص لطف حاصل ہوتا تھا نہایت خشوع و خضوع سے نماز پڑھتے تھے۔ اکثر شب بیدار رہتے تھے۔ تلاوت او رنماز میں آنکھوں سے آنسو جاری رہتے تھے۔ عموماً تیسری رات کو قرآن مجید ختم کرلیا کرتے تھے۔ رات کے ایک حصے میں درود و سلام میں مصروف رہتے تھے۔

تقدم فی الاسلام ، حُب رسولؐ، شوق جہاد، شغف قرآن و حدیث او رجذبہ اصلاح و تبلیغ حضرت اُبیؓ بن کعب کی کتاب سیرت کے نمایاں ابواب ہیں ان میں سے کسی باب پر بھی نظر ڈالیں، ان کی شخصیت منارہ نور نظر آتی ہے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
حاشیہ

۔ بعض روایتوں میں ہے کہ یہ سورۃ البینہ تھی۔