(بسلسلہ تعزیرات اسلام....قسط ......6)

محترم قارئین کرام اس سے قبل آپ مسلمان کو ذمی کے بدلے قتل کرنے کے متعلق پڑھ چکے ہیں، اب ہم اسی قسط کے ساتھ متعلق دوسرے مسئلہ کی طرف آتے ہیں کہ اگر ایک قتل میں متعدد آدمی ملوث ہوں تو کیا ان میں سے ایک کو قتل کیاجائے گا یا تمام کو ..... لیکن اس مسئلہ کی دوصورتیں ہیں ایک یہ کہ آدمی کو متعدد افراد مل کر برضا و رغبت قتل کرتے ہیں، دوسری یہ کہ ایک آدمی کو دوسرا مجبور کرتا ہے کہ تو فلاں آدمی کو قتل کردے او روہ کرہاً قتل کردیتا ہے تو کیا دونوں پر قصاص ہوگا یا صرف آمر یا مامور پر؟

جہاں تک پہلی صورت کا تعلق ہے تو تقریباً ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے کہ ایک کے بدلے تمام کو قتل کیا جائے گا۔البتہ اہل ظاہراس کے خلاف ہیں، علامہ ابن قدامہ فرماتے ہیں کہ:

'' وَجُمْلَتُهُ أَنَّ الْجَمَاعَةَ إذَا قَتَلُوا وَاحِدًا، فَعَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ الْقِصَاصُ، إذَا كَانَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ لَوْ انْفَرَدَ بِفِعْلِهِ وَجَبَ عَلَيْهِ الْقِصَاصُ. رُوِيَ ذَلِكَ عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. وَبِهِ قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَالْحَسَنُ، وَأَبُو سَلَمَةَ، وَعَطَاءٌ، وَقَتَادَةُ. وَهُوَ مَذْهَبُ مَالِكٍ، وَالثَّوْرِيِّ، وَالْأَوْزَاعِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَإِسْحَاقَ، وَأَبِي ثَوْرٍ وَأَصْحَابِ الرَّأْيِ۔'' (مغنی : صفحہ 366 ج9)

اس کے بعد موصوف فرماتے ہیں: ''ولنا إجماع الصحابة رضي اللہ عنھم'' یعنی اس بات پر صحابہ کرام کا اجماع ہے ۔ کیونکہ جب حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اگر اس قتل میں تمام اہل صنعاء شریک ہوتے تو بھی میں تمام کو قتل کروا دیتا۔ تو کسی صحابہ رسولﷺ نے اس بات پر اعتراض نہ کیابلکہ حضرت علیؓ نے ایک کے بدلے تین کو قتل کیا او راسی طرح ابن عباسؓ نے ایک قتل میں ملوث متعدد افراد کو قتل کروا دیا تھا۔ لیکن کسی صحابی نے اس کا انکار نہ کیا جس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کا اس بات پراتفاق تھا کہ ایک کے بدلہ میں متعدد ملوث افراد کو قتل کیا جائے گا۔

حضرت عمر، حضرت علی، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم کا جوعمل سنن دارقطنی او ربیہقی وغیرہ میں ذکر کیا گیاہے ۔ اس کے علاوہ ترمذی میں حضرت ابوسعید، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا:

''لو أن أھل الأرض اشترکوا في دم مؤمن لأکبھم الله في النار''

اس کا بھی تقاضا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ آخرت کے بدلہ میں تمام کو عذاب دے گا دنیا میں بھی ان تمام پر حد کا اجراء ہو۔

امام شافعی فرماتے ہیں کہ:

''وقد سمعت عددا من المفتین و بلغني عنهم أنھم یقولون إذا قتل الرجلان أو الثلاثة أو أکثر الرجل عمد افلولیه قتلھم معا'' (کتاب الام: ص19 ج6)

امام ابوبکر رازی ''ومَن يَقتُل مُؤمِنا متعمداً ''کے بعد فرماتے ہیں کہ:

''ولا خلاف أن ھذا الوعید لاحق بمن شارك غیرہ في القتل وإن عشرة  قتلوا رجلا عمدالکان کل واحد منھم د اخلافي الوعید قاتلا للنفس یلزمه من الکفارۃ ما یلزمه المنفرد من القتل۔'' ( احکام القرآن: ص170 ج1)

علامہ ابن رُشد اسی مسئلہ پر تفصیلی نوٹ لکھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

''فإن جمهور فقہاء الأمصار قالوا تقتل الجماعة بالواحد منهم مالك و أبوحنیفة والشافعي والثوري و أحمد و أبوثور وغیرهم سواء کثرت الجماعة أو قتل و به قال عمرؓ حق روي أنه قال لوتمالا علیه أھل صنعاء لقتلتھم جمیعاً'' (بدایۃ المجتہد:ص299 ج2)

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ  فرماتے ہیں کہ:

''إذا اشترکوا في قتله وجب القود علی جمیعھم باتفاق الأئمة الأربعة'' (فتاویٰ: ص139 ج34)

ان تمام حوالہ جات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ تمام صحابہ کرام ؓ ، فقہاء و محدثین عظام اسی طرح گئے ہیں کہ اگر چند آدمی مل کر کسی کو قتل کردیں تو قصاصاً ان تمام کو قتل کیاجائے گا۔ البتہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ چونکہ قصاص میں مساوات ضروری ہے ۔ اب یہاں جب مساوات نہیں لہٰذا قصاص میں جمیع کو قتل نہیں کیاجائے گاجیسا کہ امام احمد سے بھی ایک روایت ہے لیکن یہ بات اس وجہ سے درست نہیں کہ اس حکم کا جو پس منظر ہے وہ یہ ہے کہ اہل عرب ایک کے بدلے متعدد افراد کو محض قبائلی تعصب اور فخر کی وجہ سے قتل کردیتے تھے خواہ کوئی شخص قتل میں ملوث ہو تا یا نہ...... تو اسلام نے آکر اس ناانصافی کو ختم کرتے ہوئے یہ اصول بنایا کہ جو افراد قتل میں ملوث ہوں صرف انہی کو قتل کیا جائے خواہ وہ کوئی ہوں لیکن کسی دوسرے کو قتل نہ کیا جائے، علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ:

''وَالْجَوَابُ أَنَّ الْمُرَادَ بِالْقِصَاصِ فِي الْآيَةِ قَتْلُ مَنْ قَتَلَ كَائِنًا مَنْ كَانَ، رَدًّا عَلَى الْعَرَبِ الَّتِي كَانَتْ تُرِيدُ أَنْ تَقْتُلَ بِمَنْ قُتِلَ مَنْ لَمْ يَقْتُلْ، وَتَقْتُلْ فِي مُقَابَلَةِ الْوَاحِدِ مِائَةً، افْتِخَارًا وَاسْتِظْهَارًا بِالْجَاهِ وَالْمَقْدِرَةِ، فَأَمَرَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ بِالْعَدْلِ وَالْمُسَاوَاةِ، وَذَلِكَ بِأَنْ يُقْتَلَ مَنْ قَتَلَ'' الخ (تفسیر قرطبی : ص251 ج2)

لیکن تعجب ہے کہ احناف یہاں تو مساوات کی پرواہ نہیں کرتے لیکن ذمی کے بدلے مسلمانوں کو قتل کرنے میں مساوات کے اصول کو بنیاد بنا کر انکار کردیتے ہیں جبکہ مماثلت من کل الوجود مراد نہیں ہوتی علامہ کاسانی حنفی لکھتے ہیں:

''حتی لوقتل جماعة واحد ا یقتلون به قصاصاً وإن یکن بین الواحد والعشر مماثلة لوجود مماثلة الفعل '' (البدائع والصنائع :ص628 ج10)

حصول مقصد

اللہ تعالیٰ نے عدل و انصاف کے ضمن میں قصاص کا جو فلسفہ او رحکمت بتائی ہے اس کا بھی یہی تقاضا ہے کہ حصول مقصد کے لیے تمام ملوث افرادپر حد قائم کی جائے یقیناً اگرایسا نہ کیا جائے تو ان وارداتوں میں ناقابل تصور اضافہ ہونا عین ممکن ہے او رایسی خانہ جنگی یا جاہلیت کی لڑائیوں کا قصہ طولانی شروع ہوجائے گا کہ ختم ہونے کو نہ آئے کے ساتھ اسلامی حدود کا تعطل بھی واضح ہوجائے گا۔ لہٰذا ان امور کا تقاضا یہ ہے کہ تکمیل مقصد کے لیے ایک قتل میں ملوث تمام افراد کو مساوی سزا دی جائے۔ علامہ قرطبی نے اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ:

''فَلَوْ عَلِمَ الْجَمَاعَةُ أَنَّهُمْ إِذَا قَتَلُوا الْوَاحِدَ لَمْ يُقْتَلُوا لِتَعَاوُنِ الْأَعْدَاءِ عَلَى قَتْلِ أَعْدَائِهِمْ بِالِاشْتِرَاكِ فِي قَتْلِهِمْ وَمُرَاعَاةُ هَذِهِ الْقَاعِدَةِ أَوْلَى مِنْ مُرَاعَاةِ الْأَلْفَاظِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ۔'' (قرطبی: ص252 ج2)

علامہ کاسانی حنفی اسی مفہوم کو ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں کہ:

''وَأَحَقُّ مَا يُجْعَلُ فِيهِ الْقِصَاصُ إذَا قَتَلَ الْجَمَاعَةُ الْوَاحِدَ؛ لِأَنَّ الْقَتْلَ لَا يُوجَدُ عَادَةً إلَّا عَلَى سَبِيلِ التَّعَاوُنِ، وَالِاجْتِمَاعِ فَلَوْ لَمْ يُجْعَلْ فِيهِ الْقِصَاصُ لَانْسَدَّ بَابُ الْقِصَاصِ؛ إذْ كُلُّ مَنْ رَامَ قَتْلَ غَيْرِهِ اسْتَعَانَ بِغَيْرٍ يَضُمُّهُ إلَى نَفْسِهِ لِيُبْطِلَ الْقِصَاصَ عَنْ نَفْسِهِ، وَفِيهِ تَفْوِيتُ مَا شُرِعَ لَهُ الْقِصَاصُ، وَهُوَ الْحَيَاةُ'' (البدائع: ص628 ج10)

یعنی اگر ایسا نہ کیا جائے تو قصاص کا اصل مقصد جو بقائے زندگی ہے وہ قوت ہوکر رہ جاتا ہے ۔ یہی نہیں بلکہ مسئلہ قصاص بھی باطل ہوجاتا ہے۔ بنا بریں ضروری ہے کہ منشائے شریعت کے مطابق ایک قتل میں ملوث تمام افراد کو قتل کیا جائے تاکہ ایسے جرائم کا انسداد ممکن ہو۔ وگرنہ لوگ پہلے سےبھی زیادہ جماعت کی آڑ میں قتل واحد کا ارتکاب کریں گے اور زمین میں ایک ختم نہ ہونے والا فساد برپا ہوگا اور زندگی کا بقا مشکل ہوجائے گا۔

علامہ ابن رُشد فرماتے ہیں کہ:

''فَإِنَّهُ مَفْهُومٌ أَنَّ الْقَتْلَ إِنَّمَا شُرِعَ لِنَفْيِ الْقَتْلِ كَمَا نَبَّهَ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فِي قَوْله تَعَالَى: {وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الأَلْبَابِ} [البقرة: 179] وَإِذَا كَانَ ذَلِكَ كَذَلِكَ فَلَوْ لَمْ تُقْتَلِ الْجَمَاعَةُ بِالْوَاحِدِ لَتَذَرَّعَ النَّاسُ إِلَى الْقَتْلِ بِأَنْ يَتَعَمَّدُوا قَتْلَ الْوَاحِدِ بِالْجَمَاعَةِ '' (بدایۃ المجتہد:ص300 ج2)

دوسری صورت:

اس صورت کے دو جز ہیں اوّ ل صرف یہ کہ جسے مجبو رکیا گیا ہے اس پر حد ہوگی یا نہیں ۔ دوم یہ کہ اکراہ کب متحقق ہوتا ہے یعنی مجبوری کا تعین۔ جہاں تک پہلے جزئ کا تعلق ہے اس میں شوافع، مالکیہ اور حنابلہ تقریباً متفق ہیں کہ قصاص دونوں پر ہوگا کیونکہ آمر نے حکم دیا ہے او رمامور نے براہ راست اس فعل کا ارتکاب کیا ہے البتہ بعض شوافع کا قول یہ بھی ہے کہ قصاص صرف آمر پر ہوگا،مامور پر نہیں۔ جس کو علامہ عبدالرحمٰن الجزیری نے تفصیلاً ذکر کیا ہے اس قول کو ذکر کرتے ہوئے وہ فرماتے ہیں:

''وقيل: القصاص على المكره بالكسر، أما المكره بالفتح فلا قصاص عليه لقول الرسول صلى الله عليه وسلم (رفع عن أمتي الخطأ والنسيان، وما استكرهوا عليه) ولأنه كالآلة في يد المكره'' (الفقہ علی المذاھب الاربعہ: ص288 ج5)

یعنی اکراہ او رجبر کی صورت میں مامور صرف آلہ کی حیثیت سے ہوتا ہے اب حاکم اور آمر اسے جیسے چاہے استعمال کرسکتا ہے جس کی وجہ سے اس پرحد نہیں ہوگی۔ یاد رہے کہ اس قول کو علامہ جزیری نے بصیغہ مجہول ذکر کیا ہے جس سے اشارہ ہوتا ہے یہ قول شوافع کا محقق اور اصل قول نہیں لیکن آگے چل کر بصیغہ معروف فرماتے ہیں کہ:

وقال الشافعية: لا يجوز للمكره بالفتح الإقدام على القتل المحرم لذاته، وإن لم يوجب عليه القصاص، بل عليه الإثم يوم القيامةالخ (ایضاً: ص289 ج5)

یعنی شوافع سے دو روایتیں منقول ہیں اب فقہ شافعیہ کی مفصل و مستند فقہی کتابوں کی عدم موجودگی میں یہ فیصلہ کرنا ہمارے لیے مشکل ہے کہ صحیح او رراجح قول کو ن سا ہے اس کم مائیگی پر ہم اپنے قارئین سے معذرت خواہ ہیں او راہل ثروت احباب جمات سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ادارہ علوم اثریہ فیصل آباد کی لائبریری کو ایسی کتابوں کا عطیہ دے کر ثواب دارین حاصل فرمائیں تاکہ اس قسم کا دینی اور جماعتی کام باحسن انداز سرانجام دیا جاسکے۔ ہاں البتہ علامہ جزیری ہی کے پیش کردہ مواد کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ دوسرا قول (یعنی عدم قصاص ) راجح اور معتبر ہے کیونکہ ایک صورت کے ضمن میں موصوف نے شوافع سے دو صورتیں ذکر کی ہیں او رآخر میں نقل فرماتے ہیں کہ ''والأظھر عدم القصاص'' جبکہ یہ صورت مذکورہ مسئلہ سے اہون ہے یعنی اگر کوئی شخص دوسرے کوکہے کہ مجھے قتل کردو ورنہ میں تجھے قتل کردوں گا تو کیا قاتل پر قصاص ہوگا یا نہیں؟ جبکہ قتل اذن سے مباح نہیں ہوتا جیسا کہ زنا وغیرہ ہے اس کے بعد متصلاموصوف نقل فرماتے ہیں کہ:

''ولو أمر السلطان شخصاً بقتل آخر، ظلماً بغير حق، والمأمور لا يعلم ظن السلطان، ولا خطأه، وجب القود أو الدية، والكفارة على السلطان فقط، ولا شيء على المأمور لأنه آلته، ولابد منه في السياسة'' (ایضاً: ص290 ج5)

یعنی اصل مسئلہ کی صورت میں مامور صرف آلہ کی حیثیت رکھتا ہے جس کی وجہ سے کفارہ اور حد وغیرہ آمر پر ہوگی نہ کہ مامور پر۔ بالخصوص ایسے معاملات سیاسی حریفوں کے ساتھ ہوتے ہی رہتے ہیں یعنی حاکم اپنی سیاست کے پیش نظر اگر رعیت کے کسی آدمی سے مجبوراً قتل کروا دے توحد حاکم پر ہوگی کیونکہ رعیت توحاکم بالخصوص جابر حاکم کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔

احناف:

علامہ جزیری فرماتے ہیں کہ |آمر (یعنی جو کسی کو قتل پر مجبور کرتا ہے) پر ہوگی مامورو مجبور پر نہیں البتہ اسے تعزیر ی سزا ہوگی اورصحیح بات بھی تقریباً یہی معلوم ہوتی ہے کہ مامور پر بالکل حد نہ لگائی جائے کیونکہ فرمان الہٰی ہے:

''فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ' (بقرہ)

''....... إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ... الاية ''(نحل)

یعنی اگرانسان محض اکراہ و جبر کی بنا پر کسی جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو اسے معاف کردیا جاتا ہے او رمذکورۃ الصدر حدیث سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ مجبور شخص پر کسی قسم کی حد نہیں البتہ اب یہ مسئلہ باقی ہے کہ اکراہ کون سا معتبر ہے او روہ کب متحقق ہوتاہے۔ دراصل یہ بات حالات پر منحصر ہے یعنی آمر او رمامور دونوں کے حالات پر کیونکہ بعض اوقات انسان مالی طور پر مجبور ہوسکتا ہے کبھی اولاد او رکبھی ذاتی حیثیت سے وغیرہ وغیرہ

علامہ جزیری نے شوافع کے ضمن میں لکھا ہے کہ:

''وإنما يكون المأمور مكرهاً بالفتح إذا كان لا يمكنه المخالفة، كخوف قتل من الآمر، أو قطع عضو أو قتل ولد، فإن لم يخفف، اقتص منه وحده دون الآمر'' (الفقہ علی المذاھب الاربعہ: ص291 ج5)

اسی طرح صفحہ 288 ج5 پر قم طراس ہیں:

''ولإكراه لا يتم إلا بالتخويف بالقتل، أو بإتلاف ما يخاف عليه التلف من الأعضاء، كالقطع والضرب الشديد، وقيل: يحصل الإكراه بما يحصل به الإكراه على الطلاق من أنواع التهديدات.۔''

یعنی قتل کی دھمکی مال و اعضا کے اتلاف کا خطرہ یا دیگر تخویف اور ڈرانے دھمکانے کے جو بھی مروجہ طریقے ہوں وہ اکراہ کے ضمن میں آتے ہیں اور ان مختلف طریقوں کے ساتھ جس کوبھی اس بات پر مجبو رکیا جائے کہ وہ کسی کو قتل کردے تو اس کے ارتکاب پر اسے قصاصاً قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ حد اس پر جاری ہوگی جس نے اسے حکم دیا اور ڈرایا دھمکایا او رمجبور کیا ہے۔

علامہ ابن الہمام حنفی نے شرح ہدایہ میں اکراہ کی مفصل بحث کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

''أَنَّ الْإِكْرَاهَ نَوْعَانِ: نَوْعٌ يُعْدِمُ الرِّضَا وَيُفْسِدُ الِاخْتِيَارَ، وَذَلِكَ بِأَنْ يَكُونَ بِقَتْلٍ أَوْ بِقَطْعِ عُضْوٍ وَهُوَ الْإِكْرَاهُ الْمُلْجِئُ(فتح القدیر: ص293 ج7)

یعنی اکراہ کی متعدد اقسام میں سے اکراہ ملجئ وہ ہے جس سے رضا ختم او راختیار فاسد ہوجائے او راس کا تحقیق قتل یا قطع یا قطع عضو وغیرہ سے ہوتا ہے۔ چنانچہ مسئلہ واضح ہوگیا کہ ایسے اکراہ کا مصداق قاتل قابل حد نہیں بلکہ حد حاکم اور آمر پر ہوگی جس نے اس کو مجبور کیا ہے۔

تفریعات:

(1) قاضی بشیر احمد صاحب نے دفعہ نمبر3، شرائط موجب قصاص کے ضمن میں شرط نمبر 3 کے تحت لکھا ہے کہ:

''اگر قتل کرنےمیں ایک سے زائد افراد شریک ہوں تو ان میں ایسا آدمی شریک نہ ہو جو اگر اکیلا جرم قتل کامرتکب ہوتا تو اس کو قصاص کی سزا نہ دی جاسکتی۔'' (ترجمان القرآن:ص153 ج89)

محترم قارئین آپ کویاد ہوگا سابقہ قانون سرقہ کے ضمن میں ہم بارہا اس بات کا اعادہ کرچکے ہیں کہ ایسی تفریعات سے دراصل جرائم پیشہ افرا د کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے نہ جرائم کا انسداد۔ لہٰذا ایسے مخرب الاخلاق اور فساد فی الارض کے مصداق مضامین کا سلسلہ سیئہ بند ہونا چاہیے لیکن نہ معلوم عشاق فقہ حنفی کے کانوں پر جوں تک کیوں نہیں رینگتی او رکتنے دُکھ اور درد کی بات ہے کہ تعلیمات نبویہ کی پرواہ کیے بغیر بڑی دیدہ دلیری سے ایسے مضامین کی اشاعت جاری ہے۔ او رایسے مضامین سے حیلہ سازی کی راہ ہموار ہوتی جو ابطال حدود پرمنتج ہوتیہے۔ اب کوئی صاحب خردودانش اس بات پر صاد نہیں کرسکتا کہ تین آدمی ایک شخص کوقتل کرتے ہیں اور ساتھ ایک بچے کو شامل کرلیتے ہیں تو ایسی صورت میں ان تمام پر حد قصاص جاری نہیں ہوگی یا کسی اور مرفوع القلم کو شامل جرم کرلیتے ہیں تو ان تمام سے حد رفع ہوجائے گی؟ ہرگز اور ہرگز نہیں عقل سلیم اس کا اباء کرتی ہے کہ اس طرح تو جرائم بڑھیں گے اور قصاص کی غرض و غایت بقائے زندگی ختم ہوکر رہ جائے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسی صورت میں مکلف سے تو قصاص لیاجائے البتہ غیرمکلف کو زیادہ سے زیادہ تعزیری سزا دی جاسکتی ہے او ریہی مسلک قرین شریعت ہے۔

امام شافعی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ:

''وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا قَتَلَ رَجُلًا وَقَتَلَهُ مَعَهُ صَبِيٌّ أَوْ مَجْنُونٌ أَوْ حَرْبِيٌّ أَوْ مَنْ لَا قَوَدَ عَلَيْهِ بِحَالٍ فَمَاتَ مِنْ ضَرْبِهِمَا مَعًا فَإِنْ كَانَ ضَرْبُهُمَا مَعًا بِمَا يَكُونُ فِيهِ الْقَوَدُ قُتِلَ الْبَالِغُ وَكَانَ عَلَى الصَّبِيِّ نِصْفُ الدِّيَةِ فِي مَالِهِ، وَكَذَلِكَ الْمَجْنُونُ'' (کتاب الام: ص34 ج6)

یہی مسلک مالکیہ کا ہے ، علامہ جزیری فرماتے ہیں کہ:

''المالكية قالوا: إذا شارك بالغ عاقل مسلم، صبياً في قتل رجل معصوم الدم على التأبيد فإنه يجب قتل الكبير دون الصبي، إن تمالأ معاً على قتله ويجب على عاقلة الصبي نصف الدية'' (الفقہ علی المذاہب الاربعہ:ص293 ج5)

شوافع او رحنابلہ کے تحت فرماتے ہیں:

''قالوا: إذا اشترك في قتل النفس عامد ومخطئ، أو مكلف، وغير مكلف، مثل عامد، وصبي، أو عاقل، ومجنون له نوع تمييز، في قتل من يكافئه، فإنه يجب قتل العاقل المكلف، وتجب نصف الدية على عاقلة الصبي والمجنون (ص294 ج5)

البتہ علامہ ابن قدامہ نے مغنی میں امام احمد سے دو قول نقل فرمائے ہیں او رلکھا ہے کہ امام ابوحنیفہ، امام احمد کے علاوہ حسن، اسحاق اور اوزاعی کا بھی یہی قول ہے کہ ان تمام سے حد قصاص ساقط ہوجائے گی نیز ایک قول امام شافعی کا بھی یہی ہے۔

تفریع نمبر2:

قاضی موصوف دفعہ نمبر 2؍3 کی تمثیل نمبر5 میں فرماتے ہیں کہ اگر (انسان کے ساتھ قتل کرنے میں سانپ وغیرہ یا کوئی درندہ شریک ہو) تو شرکائے قتل سےقصاص ساقط ہوجائے گا۔

اس تفریع کی دراصل دو شکلیں ہیں: اوّل یہ کہ آدمی کسی شخص کو مارتا ہے لیکن اتفاقاً کوئی درندہ بھی مضروب پر حملہ آور ہوجاتاہے تو ایسی صورت میں دیکھا جائے گا کہ جس کا فعل موت کا سبب بنا ہے اگر انسان کافعل سبب حقیقی ہے تو قصاص ہوگا ورنہ نہیں۔ دوم یہ کہ کوئی شخص اپنے ہمراہ درندہ یا سانپ وغیرہ اس غرض سے رکھتا ہے کہ کسی پر بوقت ضرورت حملہ کرکے اسے قتل کیا جاسکے او روہ اسے استعمال کرتا ہے یا ویسے ہی درندہ کے تعاون سے کسی کو قتل کردیتا ہے تو ایسی صورت میں قصاص ہوگا کیونکہ سانپ یا کوئی اور درندہ وغیرہ ایسی صورت میں محض آلہ کی حیثیت رکھتے ہیں|۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ:

''وَلَوْ ضَرَبَهُ رَجُلٌ بِسَيْفٍ وَضَرَبَهُ أَسَدٌ أَوْ نَمِرٌ أَوْ خِنْزِيرٌ أَوْ سَبُعٌ مَا كَانَ ضَرْبَةً فَإِنْ كَانَتْ ضَرْبَةُ السَّبُعِ تَقَعُ مَوْقِعَ الْجُرْحِ فِي أَنْ يُشَقَّ جُرْحُهَا فَيَكُونُ الْأَغْلَبُ أَنَّ الْجُرْحَ قَتَلَ دُونَ الثِّقَلِ فَعَلَى الْقَاتِلِ الْقَوَدُ إلَّا أَنْ يَشَاءَ وَرَثَتُهُ الدِّيَةَ فَيَكُونُ لَهُمْ نِصْفُهَا وَإِنْ كَانَتْ ضَرْبَةً لَا تَلْهَدُ وَلَا تَقْتُلُ ثِقَلًا كَمَا يَقْتُلُ الشَّدْخُ أَوْ الْخَشَبَةُ الثَّقِيلَةُ أَوْ الْحَجَرُ الثَّقِيلُ فَلَا يَجْرَحُ فَلَا قَوَدَ عَلَيْهِ'' (کتاب الام:ص34 ج6)

علامہ جزیری شافعیہ او رحنابلہ کے تحت فرماتے ہیں کہ:

''وکذا یقتل شریك السبع والحیة القاتلین غالبا في قتل من یکافه'' (ص294 ج5)

اسی طرح مالکیہ کے ضمن میں رقم طراز ہیں کہ:

''ومن شارك سبعاً في قتل إنسان عمداً، كأن عقره سبع، ثم شجه رجل ومات بسببهما، ومن جرح نفسه جرحاً ينشأ عنه الموت غالباً، ثم طعنة قاتلة، ومات بسببهما معاً ومن شارك حربياً، في قتل رجل، من غير أن يتفق معه على قتله.قالوا: يجب القصاص على هؤلاء المكلفين الذين شاركوا غير مكلفين، فإن عقر السبع غير معتبر في الدنيا ولا في الآخرة الخ ''(الفقہ علی المذاھب الاربعہ: ص293 ج5)

البتہ احناف کے نزدیک ہے کہ ایسے شخص سے قصاص ساقط ہوجائے گا جیسا کہ رد المختار میں درج ہے لیکن یہ بات بھی محض ابطال حدود کے مترادف ہے اورفطرت سلیمہ اس کا انکار کرتی ہے کہ ایسے تو ہر شخص دوسرے کو ایسے غیر مکلفین کے ذرائع و اسباب بروئے کار لاکر قتل کردے گا اور جرائم بڑھ جائیں گے کیونکہ اس سلسلہ میں اصل الاصول بات یہ ہے کہ کسی غیر مکلف کی شمولیت سے حد ساقط نہیں ہوتی جیسا کہ ہم پہلی اقساط میں واضح کرچکے ہیں۔