شریعت میں تاریک نماز کا حکم

کیا حکم ہے شریعت محمدیہ کا دریں مسئلہ کہ اس عہد ضلالت میں بے نمازوں کی نہایت کثرت ہے۔بعض لوگ تو بالکل ہی نماز نہیں پڑھتے۔ پانچوں نمازوں کے بالکلیہ تارک ہیں او ربعض دس بیس دن پڑھ لیتے ہیں۔ پھر دس بیس دن چھوڑ دیتے ہیں۔ بعض صرف عید، جنازہ کی نماز پڑھ لیتے ہیں او رباقی صلوات خمسہ نہیں پڑھتے۔ بعض یہ اقرار کرتے ہیں کہ واقعی نماز فرض ہے اور نہ پڑھنا گناہ ہے اور بعض کہتے ہیں کہ نمازوں میں کیادھرا ہے۔ اللہ نکتہ نواز ہے اور وہ اپنی رحمت سے بخش دے گا۔ بعض کہتے ہیں نماز تو ظاہری لوگوں کے لیے ہے۔ ہم اہل باطن ہیں دل میں اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ یہ نماز لوگ مسجدوں میں فرش پر ہوتے ہیں اور ہم تصور شیخ سے عرش پر پہنچتے ہیں۔ کئی پیر لوگ نمازیں نہیں پڑھتے وہ کہتے ہیں کہ نماز معرفت و یقین حاصل ہونے تک ہےجب کامل یقین اور معرفت حاصل ہوگئی تو نماز ساقط ہوگئی۔ قرآن کریم میں ہے۔ ''واعبد ربک حتی یأیتک الیقین'' کہ ''یقین حاصل ہونے تک اللہ کی عبادت کر۔ جب یقین حاصل ہوجائے تو پھر خدا کا تصور کافی ہے۔ نمازوں کا محض رواج ہے۔

بعض بھنگ نوش کہتے ہیں کہ :

نہ مر بھوکا نہ جا مسجد نہ دے کر سجدہ

وضو کا توڑ دے کوزہ شراب شوق پیتا جا

اب استفتاء یہ ہے کہ بے نمازئں کی بابت شرعی حکم کیا ہے۔ کیا وہ کافر خارج از اسلام ہیں یاکلمہ گو مسلمان ہیں؟ ان کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟ اور بےنماز کانمازی عورت سے نکاح ہوجاتاہے یا نہیں؟ آج کل خاوند نمازی ہے تو عورت بے نماز ہے او رعورت نمازن ہے تو خاوند بے نماز ہے۔ بعض گھروں میں دونوں بے نماز ہیں۔اکثر علماء بے نماز کومسلمان گنہگار قرار دیتے ہیں او رجنازہ ان کا پڑھ دیتے ہیں اور بعض بے نماز کو کافر، خارج از اسلام قرار دیتے ہیں نہ ان کا جنازہ کرتے ہیں اور نہ کسی نیک نمازن عورت سے اس کا نکاح پڑھتے ہیں او رنہ نمازی کو بے نماز کا وارث قرار دیتے ہیں اور نہ بےنمازوں کی اولاد صغیر کا جنازہ پڑھتے ہیں او رکہتے ہیں کہ کافروں کی اولاد ہے۔ کافروں کی اولاد کا جنازہ جائز نہیں ہے کہ وہ کفار کے تابع ہیں اور مسئلہ کا پورا فیصلہ بروئے قرآن و حدیث بیان کیا جائے او ریہ بھی بتایا جائے کہ بے نماز پر حد شرعی ہے یا نہیں؟ بینوا بالدلیل توجروا عنداللہ الجلیل۔ (السائل محمد سلیم، سکنہ چک 281۔ ای بی ضلع وہاڑی)

الجواب : بعون الوھاب وھو الموفق للصواب!

الحمدللہ رب العالمین أما بعد فأقول و باللہ التوفیق۔ واضح ہو کہ اگرچہ تارک صلوٰۃ کے بارہ میں علمائے متقدمین او رمتاخرین کا سخت اختلاف ہے۔ لیکن اختلاف سے کوئی مسئلہ بھی خالی نہیں ہے حتیٰ کہ ذات الہٰی اور ذات نبوی کے بارہ میں بھی اختلاف پیدا ہوچکا ہے اس لیے ہر اختلافی مسئلہ میں حکم حق اور صواب معلوم کرنا ضروری ہے ۔ پس میری تحقیق میں حق اور صواب یہ ہے کہ بےنماز کافر و مشرک خارج از اسلام ہے اور دائمی جہنمی ہے نہ اس کا نکاح کسی موحد مسلمان سے جائز ہے او رنہ اس کا جنازہ پڑھنا جائز ہے او رنہ اسلامی برتاؤ سلام وغیرہ جائز ہے اور نہ بے نماز ، نمازی اور نہ نمازی، بے نماز کا وارث ہے او رنہ بے نماز کافر کی اولاد نابالغہ کا جنازہ کرنا جائز ہے اور اس پر وہی تمام احکام نافذ ہیں جو کفار کے بارہ میں کتاب وسنت میں وارد ہیں۔

اب ہر ایک حکم کی دلیل کتاب وسنت سے ملاحظہ فرمائیں اور علماء او رملّا،مولویوں کے اختلاف او رمذہب کو بالکل نظر انداز کردیں کہ وہ کتاب و سنت کے دلائل کے مقابلہ میں بالکل لا شئ ہیں۔

اوّل یہ حکم کہ بے نماز کافر ہے اس کے دلائل یہ ہیں۔ حضرت بریدہ صحابیؓ یہ فرماتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث سنی کہ آنجناب نے فرمایا:

العھد الذی بیننا و بینھم الصلوٰة فمن ترکھا فقد کفر (رواه أحمد و أبوداود والترمذي والنسائي و ابن ماجه و ابن حبان والحاکم بأسانید صحیحة) یعنی اسلام کا وہ عہد جو ہمارے مسلمانوں اور کافروں کے درمیان طے ہوا ہے وہ یہ ہے کہ جس نے نماز چھوڑ دی وہ کافر ہوا جو کافروں میں شمار ہے۔ علامہ نواب صدیق حسن  نے ہدایۃ السائل الی ادلۃ المسائل کے صفحہ 39 میں یہ لکھا ہے۔

ایں حدیث دلیل است برکافر شدن تارک نماز الخ کہ ''یہ حدیث بے نماز کے کافر ہونے پر دلیل ہے کہ وہ کافر ہے۔''

دوسری حدیث حضرت بریدہؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بکروا بالصلوٰة في یوم الغیم فإنه من ترك الصلوٰة کفر (رواہ ابن حبان في صحیحه) کہ ''ابر والے دن نماز سویرے اوّل وقت پڑھو کیونکہ جس نے نماز ترک کردی وہ کافر ہوا۔'' یعنی ابر والے دن نماز میں سستی ہوجاتی ہے اس کا خیال رکھو کیونکہ جس نے نماز چھوڑ دی وہ کافر ہوا۔

تیسری حدیث عبداللہ بن عمر و بن عاص ؓ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن نبی کریمﷺ نے نماز کے متعلق احکام بیان کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا: ''من حافظ علیھا کانت له نورا و برھانا و نجاة یوم القیامة'' کہ ''جس شخص نہ ہمیشہ نماز پڑھی اور اس کی حفاظت کی اس کے لیے قیامت کے دن یہ نماز روشنی اور اس کے ایمان کی دلیل اور دوزخ سے نجات کاذریعہ بن جائے گی اور جس نے محافظت نہ کی اور نہ ہمیشہ پڑھی کبھی چھوڑ دی اور کبھی پڑھی تو اس کے لیے نہ روشنی ہوگی نہ دلیل ایمان کی اور نہ نجات کاذریعہ او رمعذب ہوگا قیامت کے دن ساتھ قارون اور فرعون او رہامان اور ابی بن خلف کے '' (رواہ أحمد في مسنده وفي الزوا جر سندہ جید الدارم ي والبیهقي في الشعب والطبراني في الکبیر والأوسط و ابن حبان في صحیحه و قال فی مجمع الزوائد رجال أحمد ثقات)

اس حدیث سے ان لوگوں کا ردّ ہوگیا جو بے نماز کے کفر کو معمول کفر او ربے نماز کو عملی کافر کہتے ہیں اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ بے نماز کا کفر اعلیٰ درجہ کاکفر ہے جو متضاد ایمان او رمخرج عن الملۃ او ربےنماز فرعون او رہامان وغیرہ کی طرح دائمی جہنمی ہے اور دائمی جہنمی نہ ہوتا تو ان اکابر کافروں کےساتھ معذب نہ ہوتا۔

ایک حدیث میں یہ آیا ہے کہ جو ترغیب میں ہے کہ ایک شخص قبیلہ قضاء کا آیا اور اس نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کہ اگر میں لا إله إلا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دوں اور پانچوں نمازیں ہمیشہ پڑھوں اور رمضان کے روزے بھی رکھو اور زکوٰۃ بھی ادا کروں تو میں کن لوگوں میں شمار ہوں گا تو آنحضرتﷺ نے فرمایا : ''من مات علی ھذا کان مع الصدیقین و الشھدا ء'' کہ ''جو شخص ہمیشہ ان عملوں پر قائم رہا حتیٰ کہ موت آگئی تو وہ صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ شامل ہوگا۔''

پس ان دو حدیثوں سے صاف ظاہر ہے کہ نمازی صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ جنت میں جائے گا اور بے نماز قارون اور فرعون او رہامان وغیرہ اکابر کافروں کے ہمراہ دوزخ میں ہوگا۔

بےنماز مشرک ہے اس کی دلیل قرآن حکیم سے یہ ہے ۔ پارہ 21 سورہ روم میں ہے : ''وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ'' یعنی ''نماز کی پابندی کرو اور تم مشرک نہ بنو۔'' تفسیر حسینی میں ہے کہ نماز پڑھو اور نماز ترک کرکےمشرک نہ بنو۔ تفسیر حسینی میں تیسیر سے منقول ہے کہ شیخ محمد بن اسلم طوسی نے کہا کہ میں نے چاہا کہ حدیث ''من ترك الصلوٰة متعمد افقد کفر'' کی موافقت قرآن کی کسی آیات سے ثابت کروں پس میں نے کئی سال غور کیا تو یہ آیت اس حدیث کے مطابق پائی کہ اس آیت اور حدیث کامفہوم ایک ہے یعنی نماز قائم نہ کی تو کافر و مشرک ہوا۔ میں کہتا ہوں کہ آیت کی تفسیر اسی حدیث سے خوب ہوتی ہے جو ابن ماجہ میں وارد ہے: ''عن أنس قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم لیس بین العبد والشرك إلا ترك الصلوٰة فإذا ترکها فقد أشرك'' (رواہ ابن ماجه بإسناد صحیح)یعنی ''فرمایا رسول اللہﷺ نے کہ نہیں ہے ملاپ درمیان بندہ اور شرک کےمگر ترک کرنے نماز سے جب نماز ترک کردی تو وہ مشرک ہوا۔''

یہ حدیث آیت مذکورہ کی صریح تفسیر ہے۔ چنانچہ دوسری روایت میں اس سے بھی زیادہ وضاحت ہے جوکہ حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سنا کہ آپ فرماتے تھے: ''بین العبد و بین الکفر والإیمان الصلوٰۃةفإذا ترکھا فقد أشرك'' (رواہ ھبة اللہ الطبري بإسنادہ صحیح وقال إسنادہ علی شرط مسلم) یعنی بندہ اور کفر ایمان کے درمیان حد فاصل نماز ہے جب بندہ نے نماز ترک کردی تو وہ مشرک ہوگیا۔

علماء...؟؟؟؟ میں نواب حضرت العلامہ صدیق حسن خاں مرحوم بھوپالی ہیں وہ اپنی کتاب الدین الخالص جلد 1 ص119 میں فرماتے ہیں:''إن عاقبة الشرك الخلود في النار'' یعنی ''مشرک کا انجام جہنم میں ہمیشہ رہنا ہے۔'' ان دلائل سے ثابت ہوا کہ بے نماز مشرک ہے ۔ اس حدیث سے متاخرین کی یہ تاویل بھی باطل ہوئی کہ شرک دون شرک مراد ہے کیونکہ حدیث مذکورہ میں ایمان اور کفر کا ذکر مقابلہ کے طور پر ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ بےنماز کے بارہ میں کفر و شرک کا اطلاق متضاد ایمان ہے کیونکہ قرآن میں اطلاق ایمان کا نماز پر وارد ہوا ہے۔ امام الدنیا فی الحدیث  نے اپنی جامع صحیح بخاری میں یوں باب منعقد کیا ہے۔ باب الصلوٰة من الإیمان وقول اللہ تعالیٰ وما کان اللہ لیضیع إیمانکم یعنی صلوٰتکم عند البیت یعنی نماز ایمان میں داخل ہے۔ قرآن مجید کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نماز کو ایمان فرمایا ہے پس جس نے نماز چھوڑ دی اس نے ایمان کو چھوڑ دیا تو وہ حقیقی معنوں میں کافر اور مشرک ہوا۔ امام نووی نے شرح مسلم ص26 میں یہ لکھا ہے: قال اللہ تعالیٰ وما کان اللہ لیضیع إیمانکم أجمعوا علی أن المراد صلاتکم یعنی علمائے سلف و خلف کا اجماع ہے اس بات پر کہ آیت میں ایمان سے مراد صلوٰۃ ہے پس بغیر نماز کے ایمان باطل ہے جیسے مسلم کی حدیث قدسی میں فاتحہ پر صلوٰۃ کا اطلاق آیا ہے کیونکہ فاتحہ نماز کا رکن اعظم ہے۔ اگر فاتحہ عمداً ترک کردی تو نماز باطل ہے پس اسی طرح جس نے عمداً نماز ترک کردی اس کاایمان باطل ہوا اور وہ مشرک و کافر ہوا۔

قرآن کریم سورہ مریم میں ہے: فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّایعنی انبیاء کے بعد ایسے نالائق پیدا ہوئے کہ انہوں نے نماز کو ضائع کردیا او رپیروی کی انہوں نے اپنی خواہشوں کی پس داخل ہوں گے وہ جہنم میں۔ اس آیت سے بھی بے نمازوں کا مشرک ہونااور دوزخی ہونا ظاہر ہوا کہ دنیا دار لوگ اپنی نفسانی خواہشوں کے تابعدار ہوکر نمازوں کے تارک ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے احکام متعلقہ نماز کو ترک کردینا اور نفسانی خواہشوں کی پیروی کرنا یہ شرک ہے۔ قرآن مجید میں ایک مقام پر یہ ارشاد ہے۔ ''أَرَأَيتَ مَن اتَخَذَإِلههُ هواهُ'' یعنی اے ہمارے نبی! کیا دیکھا آپ نے اس شخص کو جس نے اپنی نفسانی خواہش کو اپنا معبود بنا رکھا ہے۔'' اس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو اپنی نفسانی خواہش کے مقابلہ میں ٹھکرا دینا شرک ہے کیونکہ پانچ نمازیں قائم کرنا اور ان کو ہمیشہ پڑھنا رکن اسلام ہے۔ تارک نماز نے اس رکن اسلام کی پرواہ نہ سمجھا او راپنے نفس کے تابع ہوا یہ شرک ہے۔ حدیث میں آیا ہے: ''لا یؤمن أحدكم حتی یکون ھواہ تبعا لما جئت به'' یعنی کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے نفس کی خواہش کو اس شریعت کے تابع نہ کردے جو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے لے کر آیا ہوں۔ اس آیت مذکورہ سے آگے یہ آیت ہے: الامن تاب وٰامن و عمل صالحاً فاوٰلئک یدخلون الجنۃ۔ مگر جن لوگوں نےتوبہ کی اور ایمان لائے اور نیک عمل کیے (نمازیں پڑھیں) پس یہ لوگ جنت میں جائیں گے۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ نفسانی خواہشوں کے تابع ہوکر جنہوں نے نمازیں ضائع کیں وہ اسلام اور ایمان سے خارج ہوئے مگر جب توبہ کرکے از سر نو ایمان لائے او رنماز وغیرہ اعمال صالح کے پابندہوگئے تو وہ بہشت میں جائیں گے۔ اگر نمازوں کو ضائع کرنے والے مسلمان او رمومن ہوتے تو ان کو از سر نو ایمان لانے کی جاجت نہ ہوتی صرف گناہوں سے توبہ کافی ہوتی۔ چنانچہ حضرت عمر فاروقؓ ن اپنے مرض موت کے آخری وقت صحابہ کرام کےمجمع میں یہ ارشاد فرمایا : ''لاإسلام عن ترك الصلوٰة ''کہ ''جس شخص نے نماز ترک کردی وہ مسلمان نہیں ہے۔'' (کافر ہے) امام ابن القیم  نے اپنی کتاب الصلوٰۃ میں امام ابن حزم سے یہ نقل کیا ہے کہ صحابہ کرام عمرؓ، عبدالرحمٰنؓ بن عوف،معاذؓ بن جبل، ابوہریرہؓ وغیرہم نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ ''من ترك الصلوٰة فرضا واحدا متعمد احتی یخرج وقتھا فھو کافر مرتد''یعنی ''جو شخص ایک نماز فرض عمداً چھوڑ دے کہ اس کا وقت چلا جائے وہ کافر مرتد ہے۔'' اس روایت سے یہی ظاہر ہوا کہ بے نماز کافر و مشرک اور اسلام سے خارج ہے۔چنانچہ امام ابن القیم نے کتاب الصلوٰۃ ص142 میں یہ حدیث نقل کی ہے کہ حضرت عبادہ بن صامتؓ نے فرمایا کہ''أوصانا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فقال لا تشرکوا باللہ شیئا ولات ترکوا الصلوٰة عھدا فمن ترکھا عمدا متعمداً فقداأخرج من الملة'' (رواہ ابن أبي حاتم في سننه) یعنی جناب رسول اللہ ﷺ نے ہم کو یہ وصیت کی کہ تم شرک نہ کرنا اور جان بوجھ کر نماز کو ترک نہ کرنا کیونکہ جس نے نماز کو جان بوجھ کر قصداً ترک کیا وہ ملت اسلامیہ سے خارج ہوا ۔ ''پس اس حدیث سے ان لوگوں کی تاویل باطل ہوئی جو یہ کہتے ہیں کہ کفر سے دون کفر مراد ہے۔ یا کفران نعمت مراد ہے یا کفر عملی مراد ہے۔

اس حدیث کے صاف صریح الفاظ سے یہ ثابت ہوا کہ بے نماز کے بارہ میں جو احادیث وارد ہیں جن سے کافر ہونا ثابت ہے اس سے وہ کفر مراد ہے جواسلام سے خارج کرتا ہے اسی وجہ سے بے نماز اکابر کفار فرعون وغیرہ کے ساتھ شامل ہوگا جو اسلام سے خارج تھے۔ اسی وجہ سے بے نمازوں کے تمام اعمال صالح برباد ہیں کہ یہ شرک و کفر حقیقی ہے مجازی نہیں ورنہ تمام اعمال صالحہ برباد نہ ہوتے۔

قرآن ناطق ہے: ''وَمَنْ يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ'' یعنی''جس شخص نے ایمان کے ساتھ کفر کیا اس کے تمام اعمال صالحہ برباد ہیں۔'' ترغیب ص100 میں نماز کے بارہ میں یہ حدیث وارد ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ''من ترك صلوٰة متعمدأ حبط اللہ عمله'' یعنی ''جس شخص نے جان بوجھ کر نماز ترک کردی اس کے عمل کو اللہ تعالیٰ نے برباد کردیا۔'' اور اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جو صحاح ستہ بخاری، نسائی کتابوں میں موجود ہے۔ کہ ''فرمایا: رسول اللہ ! نے ''من ترك صلوٰة العصر فقط حبط عمله'' کہ ''جس شخص نے عصر کی نماز ترک کردی اس کےعمل باطل ہوئے۔''

طبرانی و بیہقی میں یہ حدیث ہے : ''من ترك الصلوٰة فکأنما وتر أھله و ماله'' یعنی ''جس شخص نے نماز چھوڑ دی گویا اس کا اہل و عیال مال دولت سب لٹ گیا۔''

پس ان حدیثوں سے ثابت ہوا کہ بے نماز کاکفر ویسا ہے جیسا کہ |آیت میں کفروارد جو موجب حبط اعمال ہے کہ یہ کفر ارتداد ہے اس لیے اس کی سزا یہی دی ہے جو مرتد کی ہے۔

مرقاۃ میں ملا علی قاری نے لکھا ہے: ''قال حماد و ابن زید و مکحول والشافعي تارك الصلوٰة یقتل کالمرتد'' یعنی''حماد، مکحول او رامام شافعی نے فرمایا کہ بے نماز کو مرتد کی طرح قتل کیا جائے۔''

غنیہ میں تاج الاولیاء نے فرمایا: ''قتل بالسیف لکفره'' کہ بے نماز کو تلوار سے قتل کیا جائے کیونکہ وہ کافر ہے۔'' او ریہ لکھا ہے کہ اس کا مال لوٹ کر بیت المال میں رکھا جائے اور اس کا جنازہ نہ پڑھنا جائے اور نہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے اور صحابہ کا بے نماز کے کفر پر اجماع ہے۔

امام ترمذی نے اپنی جامع میں او رامام حاکم نے مستدرک میں نقل کیا ہے : ''کان أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لا یرون شیئا من الأعمال ترکه کفر غیرالصلوٰة '' کہ ''تمام صحابہ کرام بے نماز کے کفر پر متفق تھے۔''

ترغیب ص100 میں ہے کہ ایوب تابعی نے کہا کہ ''بے نماز کے کفر میں کسی کو اختلاف نہیں ہے یعنی صحابہ کرام میں سے کسی کا اختلاف نہیں ہے''

امام ابن القیم نےکتاب الصلوٰۃ کے صفحہ 124 میں لکھا ہے : ''وقد دل علی کفر تارك الصلوٰةالکتاب والسنة وإجماع الصحابة'' یعنی ''بے نماز کے کافر ہونے پر قرآن او رحدیث اور اجماع صحابہ دلالت کرتے ہیں۔'' پھر امام ابن القیم نے قرآن سے آیات اور احادیث نبویہ اور اقوال صحابہ نقل کرکے اپنے دعویٰ کو ثابت کیا ہے کہ بے نماز کافر ہے۔

دیگر یہ کہ بے نماز کے بے دین اور کافر ہونے پر یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ حضرت عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''لادین لمن لا صلوٰة له إنما موضع الصلوٰة من الدین کموضع الرأس من الجسد'' (رواہ الطبراني في الأوسط والصغیر) یعنی ''بے نماز کا کوئی دین اسلام نہیں ہے اور نماز کا تعلق دین سے بمنزلہ سر کے ہے جسم سے۔ یعنی جس طرح کسی شخص کا سر اتار دیا جائے تو وہ زندہ نہیں رہ سکتا ایسے ہی نماز ترک کرنے سے اس شخص بے نماز کا دین اسلام ختم ہوجاتا ہے۔

اسی حدیث کی بنا پر حضرت عمرفاروقؓ نے مرض الموت میں آخرت وقت یہ ارشاد رمایا ''لا حظ في الإسلام لمن ترك الصلوٰة'' کہ ''بے نماز کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے'' اور دوسری روایت حضرت عمرؓ سے یوں آئی ہے: ''الصلوٰة عمادالدین فمن ترکھا فقد ھدم الدین '' (رواہ البیہقی) یعنی ''نماز دین کاستون ہے جس نے نماز ترک کردی اس نے اپنے دین کو ہدم کردیا۔''

انہی روایات کی رو سے حضرت فاروقؓ کا یہ مذہب تھا کہ بے نماز کا فر مرتد ہے۔ جو اسلام سے خارج ہے کما تقدم۔

حضرت علیؓ اور جابرؓ نے صاف لفظوں میں یہ فرمایا ہے : ''من لم یصل فھو کافر'' کہ ''بے نماز کا رہے ''اور حضرت ابن عباسؓ نے بھی یہ فرمایا ''من ترك الصلوٰة فقد کفر'' یعنی ''جس نے نماز چھوڑ دی بے شک وہ کافر ہے۔'' یہی مسلک ابن مسعودؓ کا ہے، وہ فرماتا ہیں: ''من ترك الصلوٰةفلا دین له'' کہ ''جس نے نماز ترک کردی اس کا دین اسلام نہیں ہے۔'' اور حضرت ابوالدردا صحابیؓ نے فرمایا: ''لاإیمان لمن لا صلوٰة له ولا صلوٰة لمن لا وضوء له'' یعنی ''بے نماز مومن نہیں ہے اور وضو کے بغیر نماز صحیح نہیں ہے۔''

امام ابن القیم نے اپنی کتاب الصلوٰۃ کے ص254 میں یہ لکھا ہے کہ: ''فلا یسمی تارك الصلوٰة مسلما ولامؤمنا'' یعنی ''بے نماز کو مومن او رمسلمان نہیں کہاجائے گا۔'' اور صفحہ 100 میں یہ نقل کیا ہے کہ امام یحییٰ ابن معین نے حضرت عبداللہ بن مبارک رئیس التابعین سے پوچھا کہ لوگ (اہل الرائے) یہ کہتے ہیں کہ جو شخص نماز نہ پڑھے اور روزہ نہ رکھے او رویسے ان حکموں کے صحیح ہونے کا اقرار کرتا ہے وہ مومن کامل ایمان والا ہے تو حضرت عبداللہ بن مبارک نے فرمایا: کہ ہمارا یہ مذہب نہیں ہے ۔ ہمارا مذہب یہ ہے کہ جو شخص بغیر کسی عذر کے نماز جان بوجھ کر ترک کردے او راس کا وقت چلا جائے ۔ ''فھو کافر'' ''وہ کافر ہے۔''

حضرت ابن مبارک اہل حدیث تھے ان کا مسلک ،اہل رائے کوفیہ کے خلاف تھا۔امام اسحاق بن راہویہ کی شہادت یہ ہے کہ تمام اہل علم کا عہد نبوی سے لے کر ہمارے زمانہ تک یہ مذہب چلا آرہا ہے کہ جو شخص عمداً نماز کا تارک ہے وہ کافر ہے۔ مجھے حیرانگی او رتعجب ہے اس زمانہ کے اہل حدیث علماء پر کہ وہ اہل رائے کوفیوں کا مذہب اختیار کیے ہوئے ہیں کہ بےنماز مومن او رمسلمان ہے لیکن گنہگار ہے کافر خارج از اسلام نہیں کہتے او ربے نمازوں کانکاح، جنازہ کردیتے ہیں۔ البتہ علماء خاندان روپڑ اور علماء جماعت غرباء اہلحدیث بے نماز کو کافر جانتے او رکہتے ہیں۔ نہ ان کا نکاح کرت ےہیں اورنہ جنازہ پڑھتے ہیں۔ جیسا بےنماز کے بارہ میں بحث ہو تواہل کوفہ کے مقلدین کی طرح بے نمازوں کے وکیل بن کر مقابلہ میں آجاتے ہیں۔ ملک میں بےنمازوں کی اکثریت مقلدین،اہل رائے او رنام نہاد اہل حدیث وکلاء کے باعث پیدا ہوئی ہے۔ جب بے نمازوں کی تردید تحریراً یا تقریراً کی جائے تو یہ بے نمازوں کےوکلاء ان کی حمایت کریں گے۔ ان کومسلمان اور مومن ثابت کرنے کی کوشش کریں گے اور جنتی بنائیں گے اور ایسے دلائل عامہ پیش کریں گے جن کی رُو سے مرزائی وغیرہ بھی مومن او رجنتی ثابت ہوجائیں گے جو بالاتفاق کافر اور خارج از اسلام ہیں۔

جب کوئی عالم بے نماز کا جنازہ نہ پڑھے تو یہ بے نمازوں کے وکیل ان کا جنازہ پڑھ دیں گے۔ اسی وجہ سے کوئی دائمی بے نماز بھی بغیر جنازہ کے دفن نہیں ہوا حالانکہ بے نمازوں کے کافر اور مشرک ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے کیونکہ بے نماز کا کفر، کفر بواح ہے۔چنانچہ مشکوٰۃ باب الامارت صفحہ 399 میں عبادہ بن صامتؓ کی روایت ہے جس میں امیر کی اطاعت او ربیعت کا حکم ہے کہ امارت کےمستحق سے امارت نہ چھینیں گے اور اس شرط پربیعت کی مگر یہ کہ (إلا أن تروا کفرا بواحا) ان میں کفر و صریح دیکھیں جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے قطعی دلیل موجود ہو۔ اس کے ساتھ ہی دوسری حدیث بروایت عوف بن مالک اشجعی وارد ہے اس میں اسی حکم کے سلسلہ میں یہ الفاظ وارد ہیں۔

''قلنا یارسول اللہ أفلا ننا بذھم عند ذلك قال لاما أقاموا فیکم الصلوٰة لاما أقاموا فیکم الصلوٰة'' میں نے کہا یارسول اللہ ﷺ! کیا ہم اس وقت ان سے بیعت نہ توڑ دیں؟ فرمایا: نہ جب تک وہ تم میں نماز قائم رکھیں، نہ جب تک وہ تم میں نماز قائم رکھیں۔ پہلی حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ امیر نیک ہو یا بُرا ہرحال میں اس کی اطاعت کرو او راس کی بیعت نہ توڑو مگریہ کہ قطعی دلیل سے اس کا صریح کفر ثابت ہو تو پھر اس کی بیعت توڑو اس کا مقابلہ کرو اور دوسری حدیث میں یہ فرمایا ایسے امیر کی تابعداری بہرحال ضروری ہے مگر یہ کہ نماز قائم نہ کریں تو ان سے علیٰحدہ ہوجاؤ او ران سے جنگ کرو۔ دونوں حدیثوں میں استثناء سے حصر ثابت ہے تو ترک نماز کفر صریح ثابت ہوا اور ترک نماز کفر بواح ہے ورنہ دونوں حدیثوں میں تعارض اور تضاد پیدا ہوگا جو سراسر باطل ہے جب کہ ترک نماز پر کفر دیگر حدیثوں میں وارد ہوچکا ہے تو یہاں بھی ترک نماز کو کفر بواح قرار دینا ضروری ہے تاکہ دونوں حدیثوں میں مطابقت قائم رہے۔مشکوٰۃ کے حاشیہ پر یہ لکھا ہے:

''وفیه أن ترك الصلوٰةموجب لمنا بذلهم و نزع الید من طاعتھم لأن الصلوٰة عماد الدین والفارق بین الکفر والإیمان بخلاف سائر المعاصي'' (حاشیہ نمبر7 صفحہ 319) یعنی ''اس حدیث میں یہ ثبوت ہے کہ نماز ترک کرنا بیعت توڑنے اور اطاعت چھوڑ کر امیر کا مقابلہ کرنے کا موجب ہے کیونکہ نماز اسلام کا ستون ہے جو کفر اور ایمان کے درمیان فرق کرنے والی ہے یعنی نماز پڑھتا ہے تو مومن ہے او رنماز نہیں پڑھتا تو کافر ہے دیگر گناہوں کا یہ درجہ نہیں ہے او ربے نماز کے کفر حقیقی ہونے پر یہ بھی ایک دلیل ہے کہ انسان کے تمام اعمال صالحہ کا قبول ہونا نماز پرموقوف ہے جیسے کلمہ توحید پر موقوف ہے۔

علامہ ابن القیم الصلوٰۃ میں فرماتے ہیں: ''فقبول سائر الأعمال موقوف علیٰ قبول الصلوٰة فإذا ردت علیه سائر أعماله'' یعنی ''سب اعمال صالحہ کی قبولیت نماز کی قبولیت پر موقوف ہے اگرنماز ردٹ کی گئی تو تمام اعمال ردّ کیے جائیں گے چنانچہ اس کی دلیل میں یہ حدیث پیش کی گئی ہے جو حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ قیامت کے دن اوّل حساب نماز کا لیا جائے گا۔ ''فإن صلحت صلح سائر عمله وإن فسدت فسد سائر عمله '' (رواہ الطبراني في الأوسط قال السیوطي صحیح) یعنی ''اگر نماز درست ہوئی تو باقی اعمال بھی درست ہوں گے او راگرنماز خراب نکلی تو تمام اعمال فاسد قرار دیئے جائیں گے'' اور دوسری روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''فمن أداھا بحقھا قبلت منه و قبل منه سائر عمله ومن ردت علیه صلوٰته رد علیه سائر عمله'' (رواہ البزار بإسناد حسن) یعنی ''جس شخص نے نماز کو کماحقہ ادا کیااور وہ قبول کی گئی تو اس کے باقی اعمال بھی قبول کیے جائیں گے او راگر نماز ردّ کی گئی تو تمام اعمال رد کیے جائیں گے۔'' (ترغیب)

علامہ ابن القیم فرماتے ہیں۔ ''أما ترکھا بالکلیة فإنه لا یقبل معه عمله کما لا یقبل مع الشرك عمل '' یعنی '' جو شخص نماز کا کلی طور پر تارک ہے تو اس کا کوئی نیک عمل قبول نہیں جیسے مشرک کا کوئی عمل قبول نہیں ہے کیونکہ دونوں خارج از ملت اسلام ہیں۔''

ترغیب جلد1 ص346 میں یہ حدیث ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک شخص کو دیکھا وہ نماز پڑھ رہا تھا اور رکوع و سجود پورےطور پر ادا نہ کرتا تھا ٹھنگورے مارتا تھا ۔ آنحضرتﷺ نے اس کو دیکھا تو یہ فرمایا:

''لو مات علی حاله ھذا مات علی ٰ غیر ملة محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم '' یعنی''اگر یہ شخص اسی طرح نماز پڑھتا ہوا مرگیا تو ملت محمدؐ پر نہ مرے گا۔ بے دین ہوکر مرے گا۔''

اس حدیث کے حاشیہ پر ایک عالم باللہ نے یہ لکھا ہے: ''لأنه لا یتم أرکان صلوٰته فبطلت فانھدم رکن من إسلامه فخرج منه'' یعنی ''چونکہ وہ ارکان نماز کو پورے طور پر ادا نہ کرتا تھا تو اس کی نماز باطل ہوگئی۔ فرض ادا نہ ہو تو اس سے اسلام کا رکن گر گیا پس وہ اسلام سے خارج ہوا۔''

دوسری روایت صفحہ 337 میں ہے کہ بلالؓ نے ایک شخص کو اس طرح نماز پڑھتے دیکھا تو یہ فرمایا کہ ''لومات ھذا لمات علی غیر ملة محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم'' یعنی ''اگر یہ شخص اسی حال میں نماز پڑھتا ہوا مرگیا تو ملت محمدیؐ پر نہ مرے گا۔ اس سے خارج ہوکر مرے گا۔'' ایک صحیح حدیث میں ایک صحابی کی نماز کا قصہ ہے کہ اس نے جلدی جلدی نماز پڑھی او ررکوع سجود پورا نہ کیا جب جانے لگا تو آنحضرتﷺ نے یہ فرمایا: ''ارجع فصل فإنك لم تصل'' یعنی ''اے شخص واپس لوٹ کر نماز پڑھ،تو نے نماز نہیں پڑھی۔''اس طرح تین دفعہ اس سے نماز پڑھائی اس حدیث سے بھی ظاہر ہوا کہ جلد باز کی نماز نہیں ہوتی اور وہ بے نماز خارج از ملت اسلامیہ ہے۔

خلاصہ تمام دلائل کا یہ ہوا کہ بےنماز کا کافر، مشرک خارج از ملت اسلامیہ ہے اور اس کا کوئی نیک عمل قبول نہیں او روہ فرعون، قارون وغیرہ کفار کے ساتھ دوزخ میں جائے گا اور وہ دائمی جہنمی ہے۔

قرآن میں ہے کہ اہل جنت اہل جہنم سے دریافت کریں گے کہ تم جہنم میں کیوں گئے تو وہ یہ جواب دیں گے کہ ''لَم نَكُ مِنَ المُصلينَ'' ہم بے نماز تھے۔''

نواب العلماء نے ''ہدایۃ السائل'' کے صفحہ 388 میں تاریک نماز کے بارہ میں مالہ و ماعلیہ مکمل بحث کی ہے اور آخری میں یہ فیصلہ دیا ہے: ''نقول من سماہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کافرا سمیناہ کافراً ولا نزید علی ھذا المقدار ولا نتأول شیئا'' کہ ''جس شخص کو رسول اللہ ﷺ نے کافر کہا ہے ہم بھی کافر کہیں گے اس مقدار سے زائد کچھ نہیں کہتے او رہم ان حدیثوں کی تاویل نہیں کرتے جن میں بے نماز کی تکفیر کی گئی ہے'' اور یہ نقل کیا ہے: ''کان أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لا یرون شیئا من الأعمال ترکه کفر غیر الصلوٰة'' اور فرماتے ہیں: ''ظاہر ازیں صیغہ آن است کہ ایں مقالہ مجتمع علیہ صحابہ است'' یعنی ''صحابہ کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ بے نماز کافر ہے۔'' منکرین کفر بے نماز کو اپنا بھائی بنانے کے جو دلائل پیش کرتے ہیں وہ عام او رمجمل ہیں جو دلائل خاصہ کے مقابلہ میں قابل استدلال نہیں ہیں کہ اصول کے خلاف ہے اور یہ طرز استدلال مرزائیوں کا ہے کہ وہ حیات و رفع مسیح کے دلائل کو نظر انداز کرکے عام دلائل موت مسیح پر پیش کرتے ہیں۔ مجدد ملت بریلویہ احمدرضا خاں بریلوی کو وہ اصول مسلم ہے۔چنانچہ احکام شریعت حصہ اوّل کے صفحہ 49 پر لکھا ہے:

''بعض جہال بدمست یا نیم ملّا شہوت پرست یا چھوٹے صوفی بادہ بدست کہ احادیث صحیحہ مرفوعہ محکمہ کے مقابل بعض ضعیف قصے یا محتمل واقع یا متشابہ پیش کرتے ہیں انہیں اتنی عقل نہیں یا قصداً بے عقل بنتے ہیں کہ صحیح کے سامنے ضعیف اور متعین کے آگے محتمل، محکم کے حضور متشابہ واجب الترک ہے۔''

اسی طرح مولانا میرسیالکوٹی مرحوم نے اپنی کتاب ''شہادۃ القرآن '' حصہ دوم کے صفحہ 62 میں قاعدہ نمبر1 میں لکھا ہے کہ ''کوئی امر کسی خاص دلیل سے ثابت ہو تو اس کے خلاف عام دلیل سے تمسک کرنا جائز نہیں۔''

علمائے کرام کی تائیدات

میرے اس مسلک کی تائید کہ بے نماز کافر خارج از اسلام ہے۔ دیگر علمائے کرام سے بھی پائی جاتی ہیں ۔ بندہ اس مسلک میں متفرد نہیں ہے۔اگرچہ صحابہ کرام کے ہوتے ہوئے کسی کی تائید کی ضرورت نہیں ہے خصوصاً حضرت فاروقؓ او رحضرت علی وغیرہ کرم اللہ وجہہ کے فرمان کے ہوتے ہوئے کسی کی حاجت نہیں۔

گدایاں را ازیں معنیٰ خبر نیست

کہ سلطان جہاں باما است امروز

تاہم عوام کی تسلی اور اطمینان کے لیے چند محققین علمائے عظام کی تائیدات پیش کرتا ہوں :

تاج الاولیاء شیخ جیلانی کافتویٰ

غنیۃ الطالبین میں ہے کہ بے نماز خواہ نماز کی فرضیت کا قائل ہو اور سستی اور غفلت سے نماز چھوڑ دے: ''کفر و قتل بالسیف لکفرہ''''وہ کافر ہوا اس کو تلوار سے قتل کیا جائے کیونکہ اس نے کفر کیا ہے۔'' ''یکون ماله فیئا یوضع في بیت المسلمین'' اور ''اس کا مال لوٹ کرمسلمانوں کے بیت المال میں رکھاجائے۔'' ''لا یصلی علیه ولا یدفن في مقابر المسلمین'' کہ''نہ بے نماز کا جنازہ پڑھاجائے او رنہ اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیاجائے۔''

میزان شعرانی میں بعض علماء حنابلہ کا یہ فتویٰ منقول ہے ''وتجري علیه أحکام المرتدین فلا یصلی علیه'' یعنی '' بے نماز پر مرتدوں کے احکام جاری کیے جائیں اورنماز جنازہ اس پر نہ پڑھی جائے۔''

کشف اللشام صفحہ 62 میں علامہ سید ابوبکر بن حسن بن اسد اللہ لکھتے ہیں کہ ''بےنماز کا حشر کفار کے ساتھ ہوگا ایسے شخص کا جنازہ نہ پڑھنا چاہیے اور نہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیاجائے۔''

نواب صدیق حسن خاں مرحوم نے ''ترجمان القرآن'' میں او رامام ابن القیم  نے کتاب الصلوٰۃ میں تصریح کی ہے۔''بےنماز کافر ہے، اس پرنماز جنازہ نہ پڑھی جائے۔''

جامع البیان کے حاشیہ پر عقیدہ صابونیہ مطبوع ہے جس میں مسلک اہل حدیث اور ان کے عقائد درج ہیں صفحہ 295 میں یہ لکھا ہے۔ ''واختلف أھل الحدیث في ترك المسلم صلوٰةالفرض متعمد افکفرہ بذلك أحمد بن حنبل و جماعة من علماء السلف و أخرجوا من الإسلام للخبر الصحیح بین العبد والشرك ترك والصلوٰة خمس ترك والصلوٰة  فقد کفر'' یعنی '' اہل حدیث کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ مسلمان شخص عمداً نماز ترک کردے تو اس کا کیا حکم ہے؟ امام احمد اور علمائے سلف کی ایک جماعت تو یہ کہتی ہے کہ وہ کافر ہوا او راسلام سے خارج ہوا کیونکہ صحیح حدیث میں یہ وارد ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ بندہ اور مشرک میں حد فاصل نماز ہے۔ اگر کسی شخص نے نماز چھوڑ دی تو وہ کافر ہوا۔'' امام شافعی او رایک جماعت سلف کی بےنماز کو کافر نہیں سمجھتے۔ او راس حوالہ سے یہ ظاہر ہوا کہ امام احمد اور علمائے سلف کی ایک جماعت بےنماز کو کافر خارج از اسلام کہتے ہیں۔ از روئے دلائل یہی حق اور صواب ہے۔ باقی خطا ہے۔

علامہ محقق مولانامحمد عبدالرزاق حمزہ امام ثانی حرم مکہ شریف نے اپنی کتاب الصلوٰۃ ملحقہ کتاب الصلوٰۃ، امام احمد و علامہ ابن القیم میں تارک الصلوٰۃ کو احادیث نبویہ و اقوال صحابہ نقل کرکے کافر مرتد ثابت کیا ہے۔ یہی ان کامسلک ہے۔ اس کتاب کے صفحہ پر حاشیہ مولانا ابراہیم نے لکھا ہے ۔ اس میں وہ یہ فرماتے ہیں|:

''قد تضافرت النصوص الصحیحة الصریحة في کفرتارك الصلوٰةو خروجھا الملة'' یعنی ''تارک صلوٰۃ کے کافر ہونے او رملت اسلامیہ سے خارج ہونے پر احادیث صحیحہ صریح وارد ہیں جو ایک دوسرے کی تائید و تقویت کرتی ہیں۔ پھر بعض حدیثوں کو نقل کرکے لکھتے ہیں۔ کما أن الشھادتین شرط في صحة الإسلام وھما من أرکان الإسلام ولا یقبل عمل إلا بإتیان بھافكذالك الصلوٰة لأنھا الرکن الأکبر الفعلي والإتیان بھا شرط في قبول الأعمال الأخریٰ'' یعنی'' جس طرح کلمہ شہادت اسلام کے صحیح ہونے کے لیے شرط ہے اور وہ رکن اسلام ہے اور اس کے بغیر کوئی عمل صالحہ قبول نہیں ہے۔ اسی طرح نماز بھی رکن اکبر فعلی ہے جس کا بجا لانا اعمال صالحہ کےقبول ہونے کی شرط ہے اس لیے اس کے ترک پرکفر کا اطلاق آیا ہے اور یہ کفر دیگر بعض اعمال صالحہ پر اطلاق کفر کا آج کی طرح نہیں ہے کیونکہ اس کا ترک رکن اسلام کاترک ہے۔

''مجموعۃ الرسائل والمسائل نجدیہ'' کے صفحہ 762 میں تارک الصلوٰۃ کو کافر قرار دیا گیا ہے چنانچہ لکھا ہے۔ ''وقال ابن رجب رحمه اللہ تعالیٰ ظاھر کلام أحمد وغیرہ من الأئمة الذین یرون کفر تارك الصلوٰة أن من ترکھا یکفر بخروج ابوقت عليه'' (إلی قوله) ثم استدل لذلك بللأ حادیث التي فیھا ذکر کفر تارك الصلوٰة'' اور ''یعنی امام ابن رجب نے کہا کہ ظاہر کلام امام احمد او ران ائمہ کا جو تارک الصلوٰۃ کو کافر کہتے ہیں یہ ہے کہ جب نماز چھوڑ دی وہ کافر ہوا جبکہ اس نماز کا وقت چلا گیا'' پھر ان حدیثوں سے استدلال کیا ہے جو بےنمازوں کےکافر ہونے پر دلیل ہیں۔''

ہمارے پنجاب کے علماء مشاہیر میں سے حضرت العلامہ مولانا حافظ عبداللہ صاحب روپڑی مفتی پاک و ہند مشہور محدث رحمہ اللہ تعالیٰ یہ فرماتے ہیں۔''نماز کا تارک کافر ہے۔'' حدیث میں ہے: ''من ترك الصلوٰةمتعمدا فقد کفر'' (ترغیب ترہیب ص95) یعنی ''جو دیدہ دانستہ نماز ترک کردے وہ علانیہ کافر ہے جس کےکفر میں کوئی شبہ نہیں ہے او رجب کافر ہوا تو ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔'' ( عبداللہ امرتسری از روپڑ۔ 15 ذیقعد 1353ء ۔منقول از فتاویٰ اہل حدیث جلد 2 ص48)

اور صفحہ 26 پر بے نماز کےنماز جنازہ کے بارہ میں یہ لکھا ہے ۔''بےنماز کا جنازہ نہ پڑھنا چاہیے۔جس کی دو وجہیں ہیں ایک یہ کہ بے نماز کافر ہے اور کافر کی نماز جنازہ نہیں ہوتی۔ دوم بے نمازوں کو تنبیہ ہوجائے گی جیسے خود کشی کرنے والے پر اور مقروض پر رسول اللہ ﷺ نے نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ حالانکہ خود کشی اور قرض سے ترک نماز بڑا گناہ ہے پس اس کی وجہ سے بطریق اولیٰ نماز جنازہ ترک ہونی چاہیے۔''

رہا بے نماز کی اولاد کا مسئلہ تو اس کے متعلق ظاہراَ بحکم حدیث ''ھم من آباء ھم'' ''وہ اپنے باپوں میں سے ہیں۔'' اصل تو یہی ہے کہ نماز جنازہ نہ پڑھے کیونکہ کافروں کی اولاد ظاہری احکام میں ماں باپ ہی کے تابع ہیں۔ انتھی بقدر الحاجۃ۔

جناب مناظر اسلام حضرت العلام مولانا ثناء اللہ صاحب فاضل امرتسری بے نماز کے بارہ میں یہ فتویٰ صادر فرماتے ہیں کہ سائل نے سوال کیا کہ ہم نے گزشتہ جمعہ میں مولوی عبدالتوات صاحب غزنوی سے ایک حدیث سنی کہ حافظ قرآن جنت میں بغیر حساب جائیں گے۔ اب وہ حفاظ جو تارک الصلوٰۃ ہیں ان کے لیے کیا حکم ہے؟ اس کےجواب میں یہ ارشاد ہے کہ تارک الصلوٰۃ کے لیے وہی حکم ہے ''فقد کفر'' یہ حکم تو کسی طرح ٹل نہیں سکتا (فتاویٰ ثنائیہ جلد 1 ص350) ''فقد کفر'' جملہ حدیث نبوی کا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ''بےنماز کافر ہے۔'' پس جب تک وہ توبہ کرکے نمازی نہ ہو کافر رہے گا۔

اور صفحہ 330 میں ایک سائل کا یہ سوال درج ہے۔

س: حدیث شریف میں آیا ہے کہ مسلمانوں کو غیر رمضان میں ایک رکعت نماز پڑھنے کا ثواب رمضان المبارک میں ستر رکعت نماز پڑھنےکا ثواب ملتا ہے تو زید تاریک صلوٰۃ ہے اور دنوں میں کبھی بھول کر بھی ایک وقت کی نماز نہیں پڑھتا البتہ ماہ صیام میں ایک ماہ نماز پنجگانہ باجماعت مع تراویح کےپڑھتا ہے۔ جواب طلب ہے کہ زید بھی مذکورہ بالا حدیث کی روایت کے مطابق ستر گناثواب کا حق دار ہوگا یا نہیں؟

اس کاجواب مولانا مرحوم نے یہ ارشاد فرمایا: ''تارک نماز جب تک توبہ کرکے پابند نماز نہ ہوجائے رمضان شریف کے ثواب موعودہ کا حقدار نہیں۔''

اور صفحہ 556 میں ایک شخص کا سوال درج ہے کہ''بےنماز کا نماز جنازہ پڑھا جائے یا نہ؟''

اس کا جواب مولانا فاضل امرتسری نے یہ دیا ہے ۔'' بے نمازی کے جنازہ کا سوال اس کے کفر کی فرع ہے جن علماء کے نزدیک بے نماز کافر ہے اس کی نماز جنازہ جائز نہیں سمجھتے۔ حضرت پیرصاحب بغدادی اور حافظ ابن قیم  بھی اسی گروہ میں ہیں اور جو اس کو کافر نہیں فاسق سمجھتے ہیں وہ نماز جنازہ جائز کہتے ہیں۔ حنفیہ کا یہی مسلک ہے۔ پہلے مذہب کی دلیل قوی ہے اس میں تنبیہ بھی ہے۔''

جناب حضرت مولانا عبدالوھاب صاحب محدث دہلوی اپنی کتاب ہدایۃ النبی کے صفحہ 21 میں ارشاد فرماتے ہیں۔''جاننا چاہیےکہ مخبر صادقؐ نے یہ فرمایا کہ جس |آدمی نے نماز نہ پڑھی وہ کافر ہے۔ نیز صحابہ کرام بے نماز کو کافر جانتے تھے۔ قتل کرنے کا حکم شرعاً بے نمازی کے لیے ثابت ہے۔ اس کا مال لوٹ لینا، خون بہانا ان سبھی کی شریعت اجازت دیتی ہے۔بےنمازی کی کوئی نیکی قبول نہیں ہوتی۔ بےنماز اس لائق نہیں کہ اس کاجنازہ پڑھاجائے یا اس کومسلمانوں کے گورستان میں دفن کیاجائے۔ بلکہ بے نماز کا حشر فرعون ، ہامان، قارون، ابی بن خلف کفار کے ساتھ ہوگا۔ مگر یہ کہ فی الفور سنتے ہی توبہ کرلے، نماز پر مستعد ہوجائے۔''

نیز یاد رہے کہ جو شخص کسی وقت کی نماز پڑھتا ہے او رکسی وقت کی چٹ کر جاتا ہے یا جمعہ پڑھتا ہے یا رمضان ہی میں پڑھتا ہے تو وہ بھی بے نماز ہی ہے۔ صحیح مسلم وغیرہ میں مرفوعاً ثابت ہے کہ بےنماز مشرک ہے۔طبرانی میں ابن عمرؓ سے مرفوعاً ثابت ہے کہ بے نماز کاکچھ دین نہیں ہے۔

نیز طبرانی وغیرہ میں عبادہ بن صامت ؓ سے مرفوعاً ثابت ہے کہ بے نماز ملت دین اسلام سے خارج ہے او رقرآن فرقان میں رب العالمین فرماتا ہے کہ ''بےنماز دوزخی ہے۔''

اسی طرح دیگر بہت سے علمائے کرام کی تائیدات ہیں۔بندہ انہی پر ہی کفایت کرتا ہے۔ والسلام