فاضل مضمون نگار نے ''غیر سُودی معیشت کا ایک اجمالی خاکہ'' کے عنوان سے ایک کتاب تحریرفرمائی ہے۔ یہ مضمون دراصل اسی کتاب کا ایک باب ہے، جس میں چند وہ باتیں ذکر کی گئی ہیں، جن کی وجہ سے ''غیر سوُدی نظام معیشت'' برپا کرنے میں دقتیں پیش آرہی ہیں۔

موصوف گو ماہر اقتصادیات ہیں نہ سرمایہ دار، تاہم وہ اسلامی جذبہ سے سرشار ہیں، اس لیے جتنا بن پڑتا ہے، کیے جارہے ہیں، او رجن ناساز گار حالات کے باوجود وہ کام جاری رکھ رہ ہیں راقم الحروف کے نزدیک وہ ان کے نیک جذبات کی کرامت ہے۔ اگر تنہا ہیں وہ گھبرائے نہیں۔ کمزور ہیں تو جھجکے نہیں۔ بس ایک لگن ہے جس کی بنا پر وہ تنہا ہیں تو ادارہ محسوس ہوتے ہیں۔غریب ہیں تو صاحب توفیق نظر آتے ہیں۔

ہم اداراتی کالموں میں موصوف کی متذکرہ بالا تصنیف کا ایک باب ہدیہ قارئین کرتے ہیں۔ (ادارہ)

پچھلے ابواب میں ہم نے اسلامی احکام موجودہ معاشی نظریات او رمختلف معیشت دانوں کے حوالہ سے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ملک سے سُود کا استیصال عملاً صرف ممکن ہی نہیں جاذب اور فطری بھی ہے۔کیونکہ اس کے عوض اسلامی نظام معیشت اس سے زیادہ خوبیوں کا حامل ہے۔ سُودی نظام کسی ملک کی صنعتی یا زرعی ترقی میں ممد تو ہوسکتا ہے لیکن ملکی سطح پر خوشحالی کی ضمانت دینے سے قاصر ہے۔ جبکہ اسلامی نظام معیشت سب سے پہلے غریبوں کے مسائل حل کرنے ان میں قوت خرید پیدا کرنے سرمایہ کو متحرک رکھنے کے وسائل اختیا رکرکے ملک میں حقیقی سرمایہ ترقی اور خوشحالی کی پائیدار فضا پیدا کرتا ہے۔ ایسی تبدیلی کے لیے ہم نے ایک اجمالی خاکہ بھی پیش کیا ہے جو محض ایک گونہ رہنمائی کا کام دے سکتا ہے۔

یہ بات یا درکھنا ضروری ہے کہ کسی انقلابی تحریک کو پروان چڑھانے کے لیے داعی تحریک کو خو د اپنی ذات سے عملی نمونہ بھی پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔ غریب نوازی کے زبانی دعوے تو پہلے سیاست دان بھی کرتے آئے ہیں او راب بھی کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی نے اپنے پاس سے بھی غریبوں کو کچھ دیا۔ زرعی اصلاحات کے نام پر غریبوں کی مدد کرنے والوں نے ایسے ایسے چکر چلا دیئے کہ ہزارہا ایکڑ کے مالکان زمین کے قبضہ سے ایک کنال زمین بھی کسی دوسرے تک نہ پہنچ سکی۔ سربراہان مملکت اگر غریبوں کو کچھ دیتے بھی ہیں تو انہیں کی جیبوں سے نکال کر انہیں کا استحصال کرکے اس کے ایک قلیل حصہ سے غریبوں کی اشک شوئی بھی کردیتے ہیں او راس مادی دنیا کی تاریخ میں آپ کو یہی کچھ ملے گا۔ اس خیال کوعلامہ اقبال نے انوری کے حوالہ سے درج ذیل الفاظ کا جامہ پہنایا ہے۔

میکدے میں ایک دن ایک رندِ زیرک نے کہا
ہے ہمارے شہر کا والی گدائے بے حیا !
تاج پہنایا ہے کس کی بے کلاہی نے اسے
کس کی عریانی نے بخشی ہے اسے زرّیں قبا؟
اس کے نعمت خانے کی ہر چیز ہے مانگی ہوئی
دینے والا کون ہے؟ مرد غیب و بے نوا
مانگنے والا گدا ہے صدقہ مانگے یا خراج
کوئی مانے یا نہ مانےمیر و سلطاں سب گدا

البتہ داعیان حق یا انبیائے کرام کی ہی ایک ایسی جماعت ہے جو معاشرہ کی فلاح و بہبود کی تمام تر مساعی کے لیے کچھ معاوضہ نہیں طلب کرتے او راس راہ میں مخالفین کی تکلیفوں اور دکھوں کو بڑے صبر و استقلال سے برداشت کرتے ہیں اور جس طریق زندگی کی طرف وہ دعوت دیتے ہیں اس کا ایک نمونہ اپنی ذات سے پیش کرتے ہیں۔ اسلام میں غریبوں کی امداد او رہمدردی کا بڑا بلند درجہ ہے۔ تو اس کے داعی حق نے نبوت سے پہلے ہی اپنا تمام تر سرمایہ تجارت غریبوں کے قرضے اتارنے،انہیں روزگار مہیا کرنے او ران سے ہمدردی و دلجوئی میں صرف کردیا تھا۔ پھر یہ داعیان برحق اپنے آپ کو معاشرہ کا کوئی برتر فرد تصور نہیں کرتے بلکہ اپنا معیار زندگی ایک عام آدمی کی سطح سے بلند کرنا پسند نہیں فرماتے۔ حضور اکرمﷺ نے جہاں مسلمانوں کو سادگی او رکفایت شعاری کا سبق دیا وہاں خو دبھی سادگی کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا۔ مدنی دور میں جب فتوحات سے بکثرت مال غنیمت مسلمانوں کےہاتھ آگیا اور معاشرہ خوشحال ہوگیا تو یہ صورت حال دیکھ کر ازواج مطہرات نے حضور اکرمﷺ سے مطالبہ پیش کردیا کہ انہیں بھی نان و نفقہ پہلے سے زیادہ دیا جائے تاکہ وہ بھی دوسرے عوام کی طرح کچھ خوشحال زندگی بسر کرسکیں۔ ان کے اس مطالبہ سے آپ کو اتنی تکلیف پہنچی کہ آپ نے گھر بار چھوڑ کر مسجد میں جا قیام فرمایا اور بیویوں سے قطع تعلق کرلیا۔ اسی طرح پورا ایک ماہ گزر گیا تو خدائی احکامات نازل ہوئے کہ : ''آپ اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تمہیں دنیا کا تعیش ہی مطلوب ہے تو کوئی اور جگہ دیکھو۔ تمہارا مطالبہ پورا کیا جائے گا لیکن اس کے بعد میرے ہاں رہنے کی کوئی صو رت نہیں۔'' اس تنبیہ کے سامنے ازواج مطہرات نے سرتسلیم خم کردیا او راپنے مطالبہ سے دستبردار ہوگئیں۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ دنیوی سازوسامان او رتعیش کو اپنی ذات کے لیے ناپسند فرماتے تھے۔

حضرت عمرؓ بیان فرماتے ہیں کہ انہی ایام میں، میں مسجد میں حضور اکرمﷺ کے حجرہ مبارک میں آیا تو دیکھا کہ آپ کھجور کے پتوں کی ایک چٹائی پر ننگے بدن لیٹے ہوئے ہیں۔ میرے آنے پر اُٹھ کر بیٹھ گئے۔ میں نے دیکھا کہ آپ کی پشت پر چٹائی کے پتوں کے گہرے نشان پڑگئے ہیں۔ ایک طرف پانی کا ایک مشکیزہ پڑا ہے اور دوسری طرف ستوؤں کی ایک پوٹلی رکھی ہوئی ہے۔ بس یہ کچھ سرمایہ حیات موجو دتھا۔ اللہ اللہ! اسلامی سربراہ مملکت کی یہ شان بے نیازی۔ یہ منظر دیکھ کر میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ حضورﷺ نے رونے کا سبب پوچھا تو عرض کی کہ قیصروکسریٰ تو عیش کریں او رآپ کا یہ حال رہے۔اجازت ہو تو ہم کچھ سامان مہیا کریں۔ آپ نے فرمایا: عمر! کیا تم اس پر خوش نہیں کہ یہ لوگ دنیا لے جائیں او رہمیں آخرت ملے۔''

سادہ زندگی گزارنے میں خلفائے راشدین بھی اسی طریقہ پر کاربند رہے۔ وہ بیت المال سے ایک عام آدمی کے اخراجات کےمطابق تنخواہ وصول کرتے تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا خلافت سے پہلے یہ حال تھا کہ روزانہ نفیس سے نفیس ترپوشاک زیب تن فرماتے اور بہتر سے بہتر گھو ڑا سواری کو موجود ہوتا۔ مگر جب خلافت کی ذمہ داری سر پر آپڑی تو تمام تر آرائشوں اور آسائشوں کو خیرباد کہہ دیا۔ اپنا تمام تر اثاثہ بیت المال میں جمع کرا دیا اور اپنی بیوی سے فرمایا: ''اگر تم بھی اپنے زیورات او رقیمتی کپڑے بیت المال میں جمع کردا دو تو خیر ورنہ چھٹی کرو۔'' اس اطاعت شعار بیوی نے بھی اپنا سب کچھ قیمتی اثاثہ بیت المال میں جمع کرا دیا اور خود غریبانہ زندگی گزارنے کو ترجیح دی۔

ایسے واقعات سے تاریخ کے اوراق اٹے پڑے ہیں یہ چند ایک مثالیں نمونتہً اس غرض کے لیے پیش کی گئی ہیں کہ کسی تحریک کے داعی میں جس قوت سے یہ جذبہ کارفرما ہوتا ہے اتنا ہی وہ خود اس پر عمل پیرا ہوکر دوسروں کے سامنے وہ اس کی حقانیت کی شہادت پیش کرتا ہے او راسی قدر وہ تحریک پروان چڑھتی ہے۔ کوئی تحریک محض تقریریں کرنے،پراپیگنڈہ کرنے یا پمفلٹ وغیرہ چھاپ کرتقسیم کرنے سے کامیاب نہیں ہوسکتی جبکہ اس کے ساتھ ساتھ عملی مظاہرہ نہ ہو۔ جو بات صرف زبان سے نکلتی ہے وہ کانوں سے آگے نہیں جاتی او رجو بات دل سے کہی جاتی ہے وہی بات دل میں اترتی ہے۔ لہٰذا ہمیں سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا کہ جو لوگ اسلامی نظام بپا کرنے میں پیش پیش ہیں۔ آیا ان کی عملی زندگی بھی ان کے نظریات سے مطابقت رکھتی ہے۔

موجودہ عبوری حکومت نے اسلامی نظام کی ترویج کا اعلان کرکے چند در چند عملی اقدامات کرکے کافی حد تک ذمہ داری عوام کے سرپر ڈال دی ہے۔ عام سیاست دانو|ں کی بات تو چھوڑیے ان پیشہ ور لوگوں کو تو عام کا لانعام کو اُلو بنانے کی مہارت ہوتی ہے۔ ان کا اپنا اصول کچھ نہیں ہوتا۔ ان کی دکان پر جو سودا زیادہ بکے وہی کچھ وہ تیار کرلیتے ہیں۔ ہمارے علمائے کرام او رمشائخ عظام، جو عملاً اس تحریک میں حصہ لے رہے ہیں|۔ ان کی گھریلو زندگی پر نظر ڈالی جائے تو ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ ابھی اس معیار پر پورے نہیں اترے۔ ہمیں یہ اعتراف ہے کہ ان مقدس ہستیوں کے دم قدم سے آج ہم اسلام کا نام لے رہے ہیں۔لیکن صدیوں سے ایک خاموش تحریک اپنی نشاۃ ثانیہ کے لیے اس سے بہت زیادہ قربانی چاہتی ہے۔ ان علماء و مشائخ میں سے کافی تعداد ایسے حضرات کی بھی ہے جن کے گھر بار عیش و عشرت کا گہوارہ بنے ہوئے ہیں۔ اپنی سواری کے لیے اگر بہترین کار موجود ہے تو بچوں کے کالج جانے کے لیے الگ الگ سکوٹر ہیں۔ رہی دینی تعلیم؟ تو گھریلو ماحول دینی ہونے کی وجہ سے ان کے کانوں نے جو کچھ شعوی یا غیر شعوری طور پر سن لیا وہی کچھ کافی سمجھا گیا۔ البتہ بیشتر توجہ کالج کی اعلیٰ تعلیم پر ہے۔ فرج،ٹیلیویژن،صوفے اور قالین کسی چیز کی کمی آپ محسوس نہیں کریں۔ گھر کی فضا دیکھیئے تو ایسا معلوم ہوتا کہ فیشن اپنی تمام جدیدیت کے ساتھ یہاں آبسا ہے۔ رشتوں، ناتوں میں دینداری کی بجائے دنیوی جاہ و حشم کو ترجیح دی جاتی ہے۔ خورد و نوش کا سامان ملاحظہ فرمائیے تو کسی متمول گھرانہ سے کم تر نہ ہوگا۔ پھر ان میں سے اکثر حضرات کی آمدنی کے وسائل بھی محدود ہی نظر آتے ہیں۔ البتہ نذراتوں کی لامحدود آمدنی ہی ایسے اخراجات کی متحمل ہوسکتی ہے۔ ان نذرانوں کے متعلق نہ تو یہ تحقیق ضروری سمجھی جاتی ہے کہ یہ کس طرح کی کمائی کا حصہ ہیں او رنہ ہی ان کا کچھ حصہ دوسروں کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ غور فرمائیے کہ ان لوگوں کی بات کیا اثر رکھے گی او روہ اثر کتنی دیر تک قائم رہ سکتا ہے؟ جب یہ حضرت تقریر کررہے ہوتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ کے ہاں کئی کئی دن فاقہ رہتا تھا۔ دو دو ماہ تک آگ نہ جلتی تھی او رفقط کھجور او رپانی پر گزر اوقات ہوتی تھی۔ آپؐ نے حضرت فاطمہ کا نکاح یوں سادگی سے سرانجام دیا۔ حضرت فاطمہ کے ہاتھوں میں چکی پیستے پیستے چھالے پڑگئے تھے۔ اب سامین میں سے جولوگ ان کے کردار اور گھریلو ماحول سے واقف ہوتے ہیں وہ ان کے متعلق کیا خیال کرتے ہوں گے او روہ کیا اثر قبول کریں گے۔ یہ کوئی منظر کشی کی بات نہیں واقعاتی دنیا میں ایسے اعتراضات اٹھ چکے ہیں۔ اسی لیے خدا تعالیٰ نبے فرمایا ہے۔

﴿يـأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لِمَ تَقولونَ ما لا تَفعَلونَ ﴿٢﴾ كَبُرَ‌ مَقتًا عِندَ اللَّهِ أَن تَقولوا ما لا تَفعَلونَ ﴿٣﴾... سورة الصف

''اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں۔ اللہ کے ہاں یہ بڑی بیزاری کی بات ہے کہ تم وہ بات کہو جو تم خود نہیں کرتے۔''

لہٰذا جب تک داعیان تحریک اپنی ذات اور اپنے گھر سے اس کا عملی نفاذ کا نمونہ شروع نہ کریں گے تحریک آگے نہ بڑھے گی۔ خواہ نظریاتی طور پر وہ کتنے ہی مخلص کیوں نہ ہوں۔ ایک دیہاتی غریب کی جب تک عملاً امداد نہ کی جائے۔ اسلامی نظام معیشت کی برکات و ثمرات کا پرچار اس پر کیا اثر کرے گا۔ تحریک کی کامیابی یا ناکامی کی ذمہ داری ہمارے سر پر نہیں۔لیکن انفاق فی سبیل اللہ اور ابتدائی شرائط کی ادائیگی کی ذمہ داری ضروری ہے اور اس کا بہرحال فائدہ ہی فائدہ ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ شرط یہ ہے کہ یہ کام سیاسی اغراض کے بجائے محض اللہ کی رضا جوئی کے لی کیا جانا چاہیے۔اسلامی نظام کی ترویج میں تاخیر کا یہ ایک بڑا سبب ہے۔

ان داعیان تحریک کے بعد دوسرے درجہ پر تاجر اور صنعت کار دوستوں کاطبقہ ہے جو دیکھنے میں صوفی، باریش نمازی بھی ہیں او رحاجی بھی اور تحریک نظام مصطفیٰ کے سرگرم کارکن او رداعی بھی ہیں۔ یہ لوگ اپنے کاروبار کو چلانے کے لیے، کاروباری مجبوریوں کے نام پر ، کچھ تو حیات بخش خون بنکوں سے حاصل کرتے ہیں او راس حیات بخش خون کا کثیر حصہ دوسرے ''ذرائع'' سے خو دہی حاصل کرلیتے ہیں۔ ایک صنعتکار اگر کسی سال ایک کروڑ روپے کی مالیت کی ایک مل لگاتا ہے تو دوسرے ہی سال اس جیسی ایک اور مل کی تیاری شروع کردیتا ہے۔ اسی طرح ایک تاجر کو اپنا کاروبار شروع کیے چھ ماہ نہیں گزرنے پاتے کہ وہ ایک عالیشان مکان کی تعمیر شروع کردیتا ہے۔ عام آدمی تو زندگی بھر ایک سادہ سے مکان کی تعمیر کی آرزو میں زندگی گزار دیتا ہے او ربسا اوقات اسے یہ توفیق نصیب نہیں ہوتی،وہ بے چارہ کرایہ کے کمرہ میں ہی بسر اوقات کرکے راہی ملک عدم ہوجاتا ہے ۔ لیکن یہ طبقہ دولت سمیٹنے کے فنون سے کچھ ایسا آگاہ ہوتا ہے کہ مایا دیوی خود آکر ان کےقدم چومتی ہے یہ لوگ غالباً اس خیال سے تحریک کے مددگار بنے تھے۔ اور خدا کرے یہ خیال غلط ہو۔ کہ اسلامی نظام چونکہ انفرادی ملکیت کا حق تسلیم کرتا ہے لہٰذا ان کی املاک کو تحفظ حاصل ہوجائے گا اور کارخانے وغیرہ قومی تحویل میں نہ لیے جاسکیں گے۔ مگر یہ لوگ دراصل ایسا اسلام چاہتے ہیں جو ان کے کاروباری معاملات میں کوئی مداخلت پیدا نہ کرے۔ نہ ان کے ''حیات بخش خون'' کے کسی ذریعہ پر اس کی زد پڑے۔ ماپ تول کی خرابی ، ملاوٹ، ٹیکس کی چوری،ناجائز منافع خوری، چور بازاری اور سودی لین دین وغیرہ سب کچھ ہی برقرار رہے۔ بھلا ایسے بے ضرر اسلامی نظام پر کسی کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔ البتہ جب انہیں ایسے ''خدشات'' بھی دکھائی دینے لگتے ہیں تو یہ لوگ تذبذب میں پڑ جاتے ہیں۔ ان لوگوں کے زر پرستانہ ذہن کی پاکیزہ اسلامی تعلیمات کے ذریعے تطہیر کی بھی شدید ضرورت ہے۔

یہ تو تھے اپنوں سے گلے شکوے پھر کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو فی الواقعہ اسلامی نظام میں رکاوٹ کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ کہنے کو تو یہ بھی مسلمان ہی|ں مگر کھل کر سامنے بھی نہیں آتے۔ان کاذہن ملحدانہ اور یکسر غیر اسلامی اقدار کی طرف مائل ہوتا ہے۔ دور غلامی میں غیر ملکی فرنگیوں نے اور اسی طرح پاکستان کے مختلف ادوار میں مخالف اسلام اقدار نے اپنے مشن کے تحت سیکولر ازم کا زہریلا بیج بویا۔ پھر اس کی مغربی فلسفے پر مبنی علوم کے ذریعے، مستشرقین کی تحقیقاتوں کےذریعے، لا دینی ثقافتوں اور کئی دوسرے ذرائع سے آبیاری کی جاتی رہی ۔ تاآنکہ مسلمان خود بھی اسلام کو ایک فرسودہ نظام اور رجعت پسندانہ اقدام قرار دینے لگا۔ ان میں سرفہرست ''ترقی پسندوں'' کا وہ طبقہ ہے جو انتظامیہ کی کلیدی اسامیوں پر براجمان ہے۔ یہ سول سروس کے کارپردازان عموماً سیکولرازم کے محافظ اور پناہ گاہ بن چکے ہیں او ربیرونی تہذیبوں اور ثقافتوں کے ایجنٹ ہونے کی وجہ سے ان سے رابطہ بھی قائم رکھتے ہیں او ران کے اپنے مخصوص نظریات و مقاصد ہوتےہیں۔ اپنی خوشامدانہ پالیسی کی بنا پر ہر نئی آنے والی حکومت کو اپنے دام تزدیر میں پھانس لینا ان کے بائیں کا کرتب ہوتا ہے لیکن جب کوئی بات اپنے نظریات و مقاصد کے خلاف دیکھتے ہیں تو نہایت عاجزی سے ایسے اعتراضات اور الجھنیں پیدا کردیتے ہیں کہ خود حکومت کو ان کے سامنے گھٹنے ٹیکنا پڑتے ہیں یا اپنی روایتی نااہلی اور بددیانتی کے سبب سے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کرکے معرض التوا میں ڈالے رکھتے ہیں او راگرکوئی حکومت اپنے عزائم میں مضبوط ہو تو یہ زیر زمین ایسا ایسا چکر چلاجاتے ہیں کہ خود اس حکومت ہی کا تختہ الٹ کر رکھ دیتے ہیں لہٰذا ان لوگوں کے عزائم سےمحتاط رہنا ضروری ہے۔

ایک دوسرا طبقہ ماہرین معاشیات کا ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی اقتصادی سکیم ان ماہرین کے تعاون کے بغیر نہیں چل سکتی۔ انہیں سیکولر نظام تعلیم یا خالص مادی نظام معیشت نے جو مواد رٹایا ہوتا ہے اسی کے تحت ہی یہ غور فرما سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں سیکولر انتظامیہ انتظامیہ کا کل پرزہ بن کر رہنے کی وجہ سے ان کی ذہنی ساخت کچھ ایسی جامد بن جاتی ہے کہ ان میں نئے نہج پر نئے اصولوں کے مطابق کام کرنے کے لیے تخلیقی ذہن موجود ہی نہیں ہوتا لہٰذا یہ لوگ کسی بھی نئی اسکیم کا جائزہ لینے، اس پر غوروخوض کرنے، سیمینار قائم کرنے او ربحث تمحیص کیے بغیر اس کوناقابل عمل قرار دے دیتے ہیں۔موجودہ نظام سود کو ختم کرنےکے نقصانات او را س کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی ملکی بدحالی کا تصور کچھ اس طرح ذہن نشین کراتے ہیں کہ جہاں یہ طلسم ٹوٹا، بس سب کچھ تہس نہس ہوکر رہ جائے گا۔ ظاہر ہے کہ ایک ماہر فن پوری تحقیق کرنے کے بعد اپنے مقام بلند سے ایسا فتویٰ صادر کردے تو ہم عامیوں کو سرتسلیم خم کرنا ہی پڑے گا۔

معاشی قوانین کا ایک خاصا یہ بھی ہے کہ وہ مشروط ہوتے ہیں یا بالفاظ دیگر کچھ مفروضات پر مبنی ہوتے ہیں۔ ان کے بیان کرنے سے پیشتر یہ فرص کرلیا جاتا ہے کہ ''اگر دوسرے حالات برقرار رہیں تو'' اس قانون مثلاً قانون رسد یاطلب کا رجحان ایسا ہوگا اور دوسرے حالات اکثر برقرار نہیں رہتے۔ بسا اوقات ایسا ہی ہوا ہے۔مثلاً یہ آبادی کا مسئلہ ہی لے لیجئے۔ اس مسئلہ کو مشہور برطانوی معیشت دان مالیتھس نے اپنی کتاب ''آبادی کے اصول'' پر مقالہ 1798ء میں پیش کیا تھا کہ ''آبادی جیومیٹری کی تدریجی رفتار سے یعنی 1،2،4،8،16،32 ........ کی رفتار سے بڑھ رہی ہے اور وسائل پیداوار حساب کی تدریجی رفتار سے یعنی 1،2،3،4،5،6 ..... کے حساب سے بڑھتے ہیں۔ لہٰذا اگر آبادی کی پیدائش پر کنٹرول نہ کیا گیا تو انسانیت کامستقبل نہایت بھیانک ہے۔'' لیکن تاریخ نے اس پیشین گوئی کو غلط ثابت کردیا او رآج پونے دو صدیوں گزرنے کے بعد برطانیہ اس دور سے آج کہیں زیادہ خوشحال ہے۔ لہٰذا مالتھس کے بعد میں آنے والے معیشت دانوں نے ''جھوٹا پیشین گو'' کے نام سے اسے یاد کیا او راس کے اس نظریہ کو غلط ثابت کرنے والے یہ ''دوسرے حالات'' ہی تھے برطانیہ میں صنعتی ترقی کتنی ہوگی او رکہاں تک پہنچے گی اس کا اندازہ کرنے سے قاصر رہا۔

خاندانی منصوبہ بندی پاکستان میں بھی رائج ہے کہ اس محکمہ کی تمام تر سرگرمیاں کچھ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئیں۔ کیونکہ ''دوسرے حالات'' نہ کسی معیشت دان کے اختیار میں ہیں اور نہ معاشرہ کے اختیار میں وہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ ہم تو یہ دیکھتے ہیں کہ آج سے بیس پچیس سال پہلے چاربچوں والا کنبہ افرادی لحاظ سے متوسط متصور ہوتا تھا۔ایسے کنبہ کو نہ چھوٹا کہہ سکتے تھے او رنہ بڑا لیکن اس کمیشن کی سرگرمیوں کے بعد قدرت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ موجودہ دور میں تقریباً آٹھ بچوں والا کنبہ متوسط سمجھا جاتا ہے۔ شرح پیدائش میں یکدم ایسی تیز رفتاری کو کون سے معاشی قانون کے تحت لایا جاسکتا ہے ؟ کہیں قدرت ہمارا منہ تو نہیں چڑا رہی۔

دراصل موجودہ قوانین معیشت اور اسلامی نظام معیشت میں جابجا نظریاتی تضاد اور ٹکراؤ پایا جاتا ہے ۔ آبادی کامسئلہ بھی انہیں میں سے ایک ہے۔ موجودہ علم معیشت اس بات پر زور دیتا ہے کہ:

انسانوں کی تعداد کو ذرائع پیداوار کے مطابق رکھا جائے جبکہ اسلامی نظریہ یہ ہے کہ ذرائع کو انسانی ضرورتوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی جائے۔ اہم چیز انسان ہے نہ کہ ذرائع ۔ ذرائع کےمتعلق واضح ارشاد ہے:

﴿وَلِلَّهِ خَزائِنُ السَّمـوتِ وَالأَر‌ضِ﴾

یعنی پیداوار کے تمام تروسائل تو اللہ کے اختیار میں ہیں جن میں وہ ہروقت اپنے اندازے کے مطابق کمی بیشی کرسکتا اورکرتا رہتا ہے ۔ اسلام نے ذرائع کے مقابلہ میں انسان کوبہت زیادہ اہمیت دی ہے۔ فرمایا:

﴿وَلا تَقتُلوا أَولـدَكُم خَشيَةَ إِملـقٍ نَحنُ نَر‌زُقُهُم وَإِيّاكُم إِنَّ قَتلَهُم كانَ خِطـًٔا كَبيرً‌ا ﴿٣١﴾... سورة الاسراء

''اپنی اولاد کو مفلس ہوجانے کے خوف سے قتل نہ کرو۔ انہیں رزق ہم دیں گے اور تمہیں بھی ہم ہی دیتے ہیں۔ بلا شبہ ان (نوزائیدہ بچوں) کا قتل جرم عظیم ہے۔''

یہ درست ہے کہ پاکستان میں آبادی کا دباؤ بڑھ رہا ہے ۔ لیکن اس کا حل یہ نہیں ہے کہ پیدائش پر بندش عائد کی جائے بلکہ اس کا صحیح حل یہ ہے کہ وسائل رزق میں وسعت پیدا کی جائے۔ پاکستان اللہ کے فضل سے لا محدود ذرائع سے مالا مال ہے۔ آئے دن تیل، تانبا اور دوسری معدنیات کے سراغ کی خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ پاکستان میں محنت،یعنی جفاکش او رمہارت جس کا سب سے بڑا عامل ہے کی نظیر دنیا بھر میں نہیں ملتی۔ لیکن اگرہم سیاسی الجھنوں او راقتدار کے پیچھے پڑ کر ان سے فائدہ حاصل کرنے کی طرف توجہ نہ دے سکیں تو اس میں قدرت کا کیا قصور؟

اسی طرح ایک دوسرا اقتصادی مسئلہ خوراک بھی دیکھ لیجئے۔ ایوبی دور سے ہم یہ سنتے آرہے ہیں کہ بس اس سال سے پاکستان خوراک کے مسئلہ میں خود کفیل ہوجائے گا۔ ماہرین معاشیات کی میٹنگیں بھی ہوتی ہیں ۔ حکومت معیشت ......کرتی ہے تمام تروسائل بھی مہیا کیے جاتے ہیں لیکن آج تک یہ خود کفالت میسر نہیں ہوسکی۔ آج بھی غلہ باہر سے آتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ''دوسرے حالات'' مثلاً زیادہ بارش ہونا، سیلاب آنا، بے وقت بارش ہونا، زمین کا سیم تھور بنتے جانا، زمین میں کٹاؤ واقع ہونا، فصل کو کیڑا لگ جانا، یہ سب حالات نہ ماہرین کے قبضہ قدرت میں اور نہ حکومت کے اختیار میں اور جس مقتدر ہستی کے ہاتھ میں ان ''دوسرے حالات'' کی باگ ڈور ہے وہ ناہموار معیشت یعنی آبادی زیادہ اوروسائل کم ہونا۔ وسائل سے پوری طرح استفادہ نہ کرسکنے کی وجہ سے قومی آمدنی یا فی کس آمدنی کا کم ہونا.... کے اسباب اور علاج کچھ او رہی تشخیص فرماتا ہے۔

ارشاد خداوندی ہے:

﴿وَأَمّا إِذا مَا ابتَلىهُ فَقَدَرَ‌ عَلَيهِ رِ‌زقَهُ فَيَقولُ رَ‌بّى أَهـنَنِ ﴿١٦﴾ كَلّا بَل لا تُكرِ‌مونَ اليَتيمَ ﴿١٧﴾ وَلا تَحـضّونَ عَلى طَعامِ المِسكينِ ﴿١٨﴾ وَتَأكُلونَ التُّر‌اثَ أَكلًا لَمًّا ﴿١٩﴾ وَتُحِبّونَ المالَ حُبًّا جَمًّا ﴿٢٠﴾... سورة الفجر

''او رجب (اللہ تعالیٰ انسان کو دوسری) ...آزماتا ہے اور اس پر روزی تنگ کردیتا ہے تو انسان کہنے لگتا ہے کہ میرے پروردگار نے میرے ناقدری کی ۔ بات یوں نہیں بلکہ تم لوگ نہ تو یتیم کی خاطر کرتے ہو، نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی طرف توجہ دیتے دلاتے ہو۔ پھر وراثت کا سارا مال خود ہی ہڑپ کرجاتے ہو اور دولت کی محبت تمہیں بہت عزیز ہے۔''

ان آیات میں کسی فرد یا قوم پر وسائل خوراک کی تنگی کے اسباب یہ بیان فرمائے گئے ہیں کہمال و دولت سے ایسی بے پناہ محبت کہ انسان دوسروں کے حق کی بھی پروا نہ کرتے ہوئے خود سمیٹتا جائے اور بخل کی انتہا یہ ہے کہ معاشرہ کے یتیم و بے نوا کی بھوک او رافلاس کا خیال تک بھی نہیں کرتے یہ نقائص اگر دور کردیئے جائیں تو دوسرے حالات خدا تعالیٰ خود سازگار بنا دے گا۔

موجودہ ماہرین کی نظر صرف موجودہ وسائل او رحالات پر ہوتی ہے ۔ ان کے مطابق وہ ایک نتیجہ پیش کرتے ہیں لیکن پیش آمدہ حالات کی تبدیلی۔۔۔۔ جس کے نتائج کچھ سے کچھ ہوسکتے ہیں اور جس کا انہیں اعتراف بھی ہے۔ تو پھر آخر کس برتے پر ان قوانین پر اس قدر تکیہ کیاجائے کہ جہاں کہیں ان کے نظریات او رالہامی نظریات میں ٹکراؤ ہو تو ہم دونوں کے نفع و ضرر کا توازن و تقابل کرنے لگ جائیں۔

تاہم اگران ماہرین سے کام لینا ہی ہے تو اس کا بس ایک ہی طریقہ ہے۔ وہ یہ کہ ان پر واضح کردیا جائے کہ غیر سودی نظام رائج کرنا ہے اگر وہ اس کے لیے کوئی عملی خاکہ پیش کرسکتے ہیں تو بہتر ورنہ انہیں چھٹی کرنا ہوگی۔ غالب گمان یہی ہے کہ اس طریقہ سے وہ کچھ اپنے ذہن پر بار ڈال کر کوئی صورت پیدا کرلیں گے اور اگر نہ کرسکیں تو پھر ان ٹیکنیکل ماہرین سے اَن ٹیکنیکل ہینڈ بدرجہا بہتر ثابت ہوں گے جو اسلامی نظریہ حیات پر مضبوط عقیدہ رکھتے ہیں۔ جودل و جان سے اس کو تسلیم کرتے اور اس کی راہ میں پیش آمدہ رکاوٹوں کا ہر طور سے مقابلہ کرنے کو تیار ہیں او رایسے لوگوں کا آج بھی ہمارے ہاں فقدان نہیں ہے جو عملاً اس نظام کو رائج کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ یہ لوگ ابتدا میں اگر کچھ غلطی بھی کریں گے تو بہت جلد سنبھل جائیں گے۔ آخر ان ماہرین کے تیار کردہ کئی منصوبے بے ناکام ہوہی جاتے ہیں اس لیے ان خطرات کو کچھ وقعت نہیں دینی چاہیے بلکہ!
قوت عشق سے ہرپست کو بالا کردے
دہر میں اسم محمدؐ سے اجالا کردے

کے مصداق کام کا آغاز کردینا چاہیے۔ورنہ اسلام کے دعویٰ سے دستبردار ہوجانا چاہیے۔
حاشیہ

۔ یہ آیات مکی زندگی کے ابتدائی دور میں نازل ہوئیں جبکہ ابھی احکام میراث نازل نہیں ہوئے تھے۔