(1)

سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کے عہد خلافت میں جنگ قادسیہ کا شمار عراق عرب کی سرزمین پر لڑی جانے والی نہایت خونریز اور فیصلہ کن جنگوں میں ہوتا ہے۔ اس لڑائی میں سلطنت ایران نے اپنے دولاکھ آزمودہ کار جنگ جُو اور تین سو جنگی ہاتھی مسلمانوں کےمقابل لاکھڑے کیے دوسری طرف مجاہدین اسلام کی کل تعداد صرف تیس اور چالیس ہزار کے درمیان تھی۔ ان میں سے بعض مجاہدین کے ساتھ ان کے اہل و عیال بھی جہاد میں حصہ لینے کے لیے قادسیہ آئے تھے۔ اس موقع پر ایک ضعیف العمر خاتون بھی جذبہ جہاد سے سرشار اپنے چار نوجوان فرزندوں کےساتھ میدان جنگ میں موجود تھیں۔ شب کے ابتدائی حصے میں جب ہر مجاہد آنے والی صبح کے ہولناک منظر پر غور کررہاتھا اس خاتون نے چاروں فرزندوں کو اپنے پاس بلایا اور ان سے یوں خطاب کیا۔

میرے بچو! تم اپنی خوشی سے اسلام لائے اور اپنی خوشی سے تم نے ہجرت کی۔ اس ذات لایزال کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، جس طرح تم ایک ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے اسی طرح تم ایک باپ کی اولاد ہو۔ میں نے نہ تمہارے باپ سے خیانت کی اورنہ تمہارے ماموں کو ذلیل و رسوا کیا۔ تمہارا نسب بے عیب ہے اور تمہارا حسب بے داغ۔ خوب سمجھ لو کہ جہاد فی سبیل اللہ سے بڑھ کر کوئی کارثواب نہیں۔ آخرت کی دائمی زندگی دنیا کی فانی زندگی سے کہیں بہتر ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿يـأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اصبِر‌وا وَصابِر‌وا وَر‌ابِطوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ ﴿٢٠٠﴾... سورة آل عمران

''اے مسلمانو! صبر سے کام لو اور ثابت قدم رہو اور آپس میں مل کر رہو ، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو تاکہ مراد کو پہنچو۔''

کل اللہ نے چاہا او رتم خیریت سے صبح کرو تو تجربہ کاری کے ساتھ اور خدا کی نصرت کی دعا مانگتے ہوئے دشمن پر ٹوٹ پڑنا او رجب تم دیکھو کہ لڑائی کا تنور خوب گرم ہوگیا او راس کے شعلے بھڑکنے لگے تو تم خاص آتش دان جنگ میں گھس پڑا اور راہ حق میں دیوانہ وار تلوار چلانا ہوسکے تو دشمن کے سپہ سالار پرٹوٹ پڑنا۔ اگر کامیاب رہے تو بہتر اور اگر شہادت نصیب ہوئی تو یہ اس سے بھی بہتر کہ آخرت کی فضیلت کےمستحق ہوگے]

چاروں نونہالوں نے یک زبان ہوکر کہا۔

''اے مادر محترم! ان شاء اللہ ہم آپ کی توقعات پر پورے اتریں گے اور آپ ہمیں ثابت قدم پائیں گی۔''

صبح جب معرکہ کارزار گرم ہوا تو اس خاتون کے چاروں فرزند اپنے گھوڑوں کی باگیں اٹھائے ، رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے ایک ساتھ میادن جنگ میں کود پڑے۔

بزرگ خاتون ، جس کے چہرے پر عجیب قسم کا جلال تھا، اپنے فرزندوں کو میدان رزم میں بھیج کر بارگاہ الہٰی میں یوں عرض پیرا ہوئی۔

''الہٰی میری متاع عزیز یہی کچھ تھی، اب تیرے سپرد ہے۔''

اپنی ماں کی تقریر سن کر ان نوجوانوں کے دلوں میں رات ہی سے شوق شہادت کے شعلے بھڑک رہے تھے۔ اب جو لڑائی کا موقع ملا تو ایسی وارفتگی سے لڑے کہ شجاعت بھی آفرین پکار اٹھی جس طرح جھک پڑتے تھے۔ غنیم کے پّرے کے پّرے صاف ہوجاتے تھے۔ آخر دشمن کے سینکڑوں جنگجوؤں نے انہیں اپنے نرغہ میں لے لیا۔اس حالت میں بھی یہ سرفروش مطلق ہراساں نہ ہوئے اور دشمن کے بیسیوں سپاہیوں کو خاک و خون میں لوٹا کر خود بھی رتبہ شہادت پر فائز ہوگئے۔

جب اس خاتون نے اپنے بچوں کی شہادت کی خبر سنی تو نالہ و فریاد کرنے کے بجائے بارگاہ رب العزت میں سجدہ ریز ہوگئی اور اس کی زبان سے بے ساختہ یہ الفاظ جاری ہوگئے۔

''اس اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے اپنے فرزندوں کے قتل سے مشرف کیا۔ باری تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ قیامت کے دن مجھے ان بچوں کے ساتھ اپنے سایہ رحمت میں جگہ دے گا۔''

یہ ضعیف العمر خاتون جنہوں نے تسلیم و رضا اور صبر و تحمل کا ایسا مظاہرہ کیا کہ چشم فلک نے کبھی اس کی نظیر نہ دیکھی تھی، عرب کی عظیم مرثیہ گو حضرت خنساؓء بنت عمرو تھیں۔

(2)

حضرت خنساؓء (الخنساء) کا شمار عظیم المرتبت صحابیات میں ہوتا ہے۔ ان کا تعلق نجد کے قبیلہ بنو سلیم سے تھا جو بنو قیس بن عیلان کی ایک شاخ تھا۔ یہ قبیلہ اپنی شرافت، نفس جُودوسخا اور شجاعت و ہمت کی بنا پر قبائل عرب میں امتیازی حیثیت کا حامل تھا۔ یہاں تک کہ ایک موقع پر خود رحمت عالم ﷺ نے اس قبیلہ کی تعریف ان الفاظ میں فرمائی۔

''بلا شبہ ہر قوم کی ایک پناہ گاہ ہوتی ہے او رعرب کی پناہ قیس بن عیلان ہے۔''

حضرت خنساؓء کا اصلی نام تماضر تھا۔سلسلہ نسب یہ ہے:

تماضر بنت عمرو (بن الحارث) بن الشرید بن رباح بن یقظہ بن عصیتہ بن خفاف بن امرأ لقیس بن بہثہ بن سلیم بن منصور بن عکرمہ بن حفصہ (عفصہ) بن قیس بن عیلان بن مضر۔

تماضر چونکہک بہت چست ہوشیار اور خوبرو تھیں اس لیے خنساء کےلقب سے مشہور ہوئیں جس کے معنی ہرنی کے ہیں۔

مؤرخین نے حضرت خنساءؓ کے سال ولادت کے تصریح نہیں کی۔ لیکن قرائن سےمعلوم ہوتا ہے کہ وہ ہجرت نبوی سے تقریباً پچاس برس پہلے پیدا ہوئیں۔ ان کا والد عمرو بن سلیم کا رئیس تھا او راپنی وجاہت اور ثروت کی بنا پر بڑے اثرورسوخ کا مالک تھا۔ اس نے اپنی اولاد خنساؓء او ران کے بھائیوں معاویہ وصخر کی پرورش بڑے ناز و نعم سے کی یہاں تک کہ وہ بڑے ہوکر اعلیٰ خصائل کے مالک ہوئے۔مبدأ فیاض نے خنساؓء کی فطرت میں ہی شعرو س|خن کا ذوق ودیعت کیا تھا۔ چنانچہ وہ صغر سنی ہی میں کبھی کبھی دوچار شعر موزوں کرلیا کرتی تھیں رفتہ رفتہ شعور کی پختگی کے ساتھ ان کی شعری صلاحیتیں بھی ترقی کرتی گئیں۔ یہاں تک کہ آگے چل کر وہ ایک شہرہ آفاق مرثیہ گو شاعرہ کے مرتبہ پر فائز ہوئیں۔ حضرت خنساؓء کے عنفوان شباب کو پہنچنے سے پہلے ہی ان کے شفیق باپ کا انتقال ہوگیا|۔ خنساؓء کے لیے ایک جانکاہ صدمہ تھا لیکن ان کے دونوں بھائیوں معاویہ اور صخر نے ایسی محبت او ردلسو زی کے ساتھ ان کی سرپرستی کی کہ وہ باپ کا غم بھول گئیں۔ اب ان کی محبت اور عقیدت کا مرجع دونوں بھائی تھے وہ ان پر ٹوٹ کر محبت کرتی تھیں| او ران کو دیکھ دیکھ کر جیتی تھیں۔ اسی زمانے میں بنوہوازن کے مشہور شہسوار، شاعر اور رئیس دُرید بن الصمہ نے خنساؓء کو ان کے بھائی معاویہ کے ذریعے شادی کا پیغام دیا۔ خنساؓء نے بعض وجوہ کی بنا پر پیام قبول کرنے سے انکار کردیا بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ دُرید ایک معمر شخص تھا او راس کی شکل و صورت بھی کچھ ایسی پسندیدہ نہیں تھی اس لیے خنساؓء نے اسے دیکھ کر ناپسند کیا او راس کے خلاف کچھ اشعار بھی کہے جس میں دُرید اور اس کے قبیلے کا ذکر طنزیہ انداز میں کیا۔

اس کے بعد اپنے قبیلے کے ایک نوجوان عبدالعزّیٰ (یا بروایت ابن قتیبہ رواحہ بن عبدالعزّیٰ) سے شادی کی اس سے حضرت خنساؓء کا ایک بیٹا ابوشجرہ عبداللہ پیدا ہوا۔ عبدالعزّیٰ نے جلد ہی وفات پائی اس کے بعد خنساؓء نے بنوسلیم ہی کے ایک دوسرے شخص مرداس بن ابی عامر سے نکاح کرلیا۔ اس سے ان کے تین بیٹے عمرو، زید او رمعاویہ (یابقول ابن حزم ہبیرہ، جزء اور معاویہ) پیدا ہوئے او ران کے بعد ایک بیٹی عمرہ پیدا ہوئی۔مرداس ایک بہادر او رحوصلہ مند آدمی تھا۔ اس نے اپنے کچھ ساتھیوں کی مدد سے ایک چشمے سے متصل دلدلی زمین کو قابل کاشت بنانے کی کوشش کی وہاں کی مرطوب آب و ہوا نے اس کی صحت پر بُرا اثر ڈالا اور وہ بخار میں مبتلا ہوکر انتقال ہوگیا۔

اس کے بعد خنساؓء نے اپنی ساری زندگی بیوگی کی حالت میں کاٹ دی۔ ان کے بھائیوں معاویہ اور صخر نے بیوہ بہن کی دلجوئی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی او ر وہ دلجمعی کے ساتھ اپنے بچوں کی پرورش اور تربیت میں مصروف رہیں۔ اس زمانے میں وہ اپنا ذوق شعروسخن بھی پورا کرتی رہتی تھیں۔ لیکن ان کا دائرہ شہرت محدود ہیرہا۔ جس واقعے نے ان کی زندگی کا رُخ بدل دیا او ران کے اشعار میں غضب کی تاثیر پیدا کردی وہ ان کے دونوں مربی بھائیوں کا یکے بعد دیگرے انتقال تھا۔ مؤرخین نے یہ واقعہ اس طرح بیان کیا ہے کہ خنساؓء کے بھائی معاویہ کاعکاظ کے میلے میں بنومرہ کے ایک شخص ہاشم بن حرملہ سے جھگڑا ہوگیا تھا۔ اس نے ہاشم سے بدلہ لینے کے لیے اپنے اٹھارہ ساتھیوں کے ہمراہ قبیلہ مُرہ پر دھاوا بول دیا ۔ لڑائی کے دوران میں وہ ہاشم کے بھائی دُرید کے ہاتھوں قتل ہوگیا۔

اس کے بعد صخر نے اپنے بھائی (معاویہ) کے قتل کا انتقام لینے کی قسم کھائی۔ چنانچہ اس نے موقع پر دُرید کو قتل کردیا او راس کے ایک سُلیمی ساتھی نے |دُرید کے بھائی ہاشم بن حرملہ کو موت کے گھاٹ اتار دیا لیکن اس پر بھی صخر کی آتش انتقام سرد نہ ہوئی اور وہ بنومرہ پر برابر حملے کرتا رہا۔ اس کشمکش کے دوران بنومرہ کے حلیف بنو اسد کے ایک شخص فقعس نے صخر کو شدید زخمی کردیا او روہ کئی ماہ تک اپنے خیمے میں نیم جان پڑا رہا۔ حضرت خنساؓء نے بڑی تندہی سے اپنے محبوب بھائی کی تیمار داری کی لیکن وہ جانبر نہ ہوسکا۔

صخر بڑا شجاع، عاقل او رخوب صورت جوان تھا۔ حضرت خنساؓء کو اس کی موت پر شدید صدمہ پہنچا ۔ ان کے دل و دماغ میں ایک آگ سی بھڑک اٹھی جس نے نہایت دردناک اور فصیح و بلیغ مرثیوں کی شکل اختیار کرلی۔ انہوں نے صخر کے فراق میں ایسے دلسوز اور جانگداز مرثیے کہے کہ جو سنتا اشکبار ہوئے بغیر نہ رہ سکتا۔ ان مرثیوں نے انہیں سارے عرب میں مشہور کردیا او رنہ صرف عام لوگ بلکہ ان کے ہمعصر عرب شعرا ءبھی ان کی قادر الکلامی اور استادی کا لوہا مان گئے۔ انہوں نے صخر کی یاد میں جو مرثیے کہے ان کے چند اشعار کا ترجمہ حسب ذیل ہے:

''اے میری آنکھو! خوب آنسو بہاؤ او رہرگز نہ رکو

کیا تم صخر جیسے سختی پر نہیں روؤگی؟

کیاتم اس شخص پر نہیں روؤگی جونہایت جری او رجوان رعنا تھا۔

کیا تم اس سردار پرنہیں روؤگی جو سروقد تھا اور جس کا پرتلہ بڑا لمبا تھا

جو کم سنی ہی میں اپنے قبیلے کا سردار بن گیا۔

قوم نے اس کی طرف اپنے ہاتھ دراز کیے تو اس نے بھی اپنے ہاتھ دراز کرلیے۔

او ران بلندیوں پر پہنچ گیا جو لوگوں کے ہاتھوں سے بھی بلند تھیں۔

اور اسی عزت و عظمت کی حالت میں اس دنیا سے رخصت ہوا۔

بزرگی اس کے گھر کا راستہ دکھاتی ہے]

اگر شرافت اور عزت کا ذکر آئے تو دیکھو گے کہ

صخر نے عزت کی چادر اوڑھ لی ہے۔

صخر کی بڑے بڑے لوگ اقتدا کرتے ہیں گویا کہ وہ ایک پہاڑ ہے۔

جس کی چوٹی پر آگ روشن ہے۔

اس مرثیہ کے آخری شعر

وَإِنَّ صَخراً لَتَأتَمَّ الهُداةُ بِهِ     كَأَنَّهُ عَلَمٌ في رَأسِهِ نارُ

کی تاثیر کا تو یہ عالم تھا کہ جو سنتا تھا دانتوں تلے انگلیاں داب لیتا تھا۔

درمنثور میں ہے کہ حضرت خنساؓء صخر کی قبر پر صبح و شام جاکر اس قسم کے دردناک اشعار پڑھا کرتیں اور زار و زار رویا کرتیں۔

سورج جب نکلتا ہے تو وہ مجھے صخر کی یاد دلاتا ہے اور اسی طرح ہر غروب آفتاب کے وقت بھی مجھے اس کی یاد آتی ہے۔

اگر میرے ارد گرد اپنے مرے ہوؤں پر رونے والوں کی کثرت نہ ہوتی تو میں اپنے آپ کو ہلاک کرڈالتی۔

اے صخر! اگر تو نے اب میری آنکھوں کو رلایا ہے تو (کیا ہوا اس سے پہلے) ایک لمبے عرصے تک تو مجھے ہنساتے بھی تو رہے ہو۔

تم زندہ تھے تو تمہارے طفیل میں آفات و حوادث کو دفع کرلیتی تھی افسوس کہ اب کون اس بڑی مصیبت کو دور کرے گا۔

بعض مقتولوں پر رونا اچھا نہیں لگتا لیکن تجھ پر رونا بے حد قابل ستائش ہے۔

(3)

زمانہ جاہلیت میں اہل عرب ربیع الاوّل سے ذیقعدہ تک مختلف مقامات پر بڑی دھوم دھام سے میلے لگایا کرتے تھے۔ بازار عکاظ کا میلہ ان میں سب سے زیادہ مشہور تھا۔ اس میلے میں عرب قبائل کے تمام رؤسا او رہر قسم کے ارباب ہنروکمال شامل ہوتے۔ قبائل کے نئے سردار چنے جاتے اور باہمی تنازعات کے فیصلے کیے جاتے۔ غرض یہ میلہ نہایت اہم او رمرکزی حیثیت کا حامل تھا۔ عرب کے کونے کونے سے ہر چھوٹا بڑا شاعر اس میں شریک ہوتا اور لوگوں کو اپنا کلام سناتا۔ حضرت خنساؓء بھی بازار عکاظ کے اس اجتماع میں ہر سال شریک ہوتیں۔ جب ان کی آمد آمد ہوتی تو لوگ اس طرح ٹوٹ پڑتے او ران کے اونٹ کے گرد گھیرا ڈال کر مرثیے سنانے کے لیے اصرار کرتے۔ جب وہ اپنے کسی مرثیہ کے چند اشعار پڑھتیں تو سامعین فرط رنج و الم میں دھاڑیں مار مار کر روتے او ریہ سامعین کون ہوتے تھے، نہایت سنگدل اور خوفناک بدوی جنگجو جن کے لیے قتل و غارت محض ایک کھیل تھا۔ خنساؓء کے اشعار سن کر ان کے دل پگھل جاتے اور سیل اشک ان کی آنکھوں سے رواں ہوجاتا۔ یہ سیل اشک ان میں جذبہ انسانیت بیدار کرنے کا باعث بنتا۔

خنساؓء کو اپنی زبان کے صرف و نحو پر کمال درجہ کا عبور تھا وہ اگرچہ تمام اصناف سخن میں مہارت تامہ اور یدطولیٰ رکھتی تھیں لیکن مرثیہ گوئی میں وہ اپنا جواب نہیں رکھتی تھیں۔ بازار عکاظ میں ان کے خیمہ کے دروازے پرایک جھنڈا نصب ہوتا تھا جس پر یہ الفاظ لکھے ہوتے تھے۔

الخنساء ........ أرثی العرب

(یعنی عرب کی سب سے بڑی مرثیہ گو خنساء)

بازار عکاظ میں عرب کا عظیم ترین شاعر نابغہ ذبیانی بھی آیا کرتا تھا۔ اس کے لیے سرخ رنگ کا خیمہ نصب کیا جاتا تھا جو سارے میلے میں منفرد ہوتا تھا اس لیےکہ وہ اپنے دور کے شاعروں میں مسلم الثبوت استاد مانا جاتا تھا او ربڑے بڑے نامی شعراء اسے اپنے اشعار سنانے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ جب خنساء پہلی مرتبہ بازار عکاظ میں آئیں او راپنے اشعار نابغہ کو سنائے تو وہ بے اختیار پکار اُٹھا۔

''واقعی تو عورتوں میں بڑی شاعرہ ہے اگر میں اس سے پہلے ابوبصیر (اعشیٰ) کے اشعار نہ سن لیتا تو تجھ کو اس زمانے کے تمام شعراء پر فضیلت دیتا اورکہہ دیتا کہ تو جن و انس سب سے افضل ترین شاعرہ ہے۔

رفتہ رفتہ خنساؓء کی شاعرانہ عظمت کا چرچا تمام عرب میں پھیل گیا اور نہ صرف ان کے ہم عصر بلکہ بعد کے فحول شعرائے عرب نے بھی ان کی عظمت کا اعتراف کیا۔ حضرت خنساؓء کے شعر کہنے کا اسلوب سادہ لیکن نہایت دلکش اور اثر انگیز ہے۔ فی الحقیقت فخریہ شعر کہنے اور مرثیہ میں تو مشکل ہی سے کوئی ان کی ہمسری کا دعویٰ کرسکتا ہے۔ علامہ ابن اثیر کہتے ہیں کہ تمام علمائے شعرو سخن اس بات پر متفق ہیں کہ کوئی بھی عورت شعر گوئی میں خنساء کے برابر نہیں ہوئی نہ ان سے پہلے اور نہ ان کے بعد ۔ (اسد الغابہ)

لیلیائے اخلیلیہ کو اپنے دور کی سب سے بڑی عرب شاعرہ مانا گیا ہے لیکن ابن قتیبہ کے نزدیک اس کو خنساؓء پر فضیلت حاصل نہیں ہے ۔ وہ اپنی کتاب طبقات الشعراء میں لکھتے ہیں:

''لیلائے اخیلیہ عورتوں میں سب سے بڑی شاعرہ ہے جس پر کسی کا تقویٰ حاصل نہیں سوائے خنساؓء کے۔''

بنوامیہ کے دور کےمشہور شاعر جریر (متوفی 110ھ) سے ایک مرتبہ لوگوں نے پوچھا، سب سے بڑا شاعر کون ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اگر خنساء نہ ہوتی تو میں ہی سب سے بڑا شاعر تھا۔

بشار بن برد نہ صرف خود ایک بہت بڑا شاعر تھا بلکہ کمال درجے کا سخن فہم بھی تھا۔ وہ کہا کرتا تھا کہ جب میں عورتوں کے اشعار دیکھتا ہوں تو ان میں کوئی نہ کوئی خامی ضرور پاتا ہوں۔ ایک دفعہ لوگوں نے اس سے پوچھا؟ کیا خنساؓء کے اشعار بھی خامی سے پاک نہیں؟ اس نے جواب دیا:

''وہ تو مردوں سے بھی بڑھ گئی ہے۔''

حافظ ابن حجر نے اصابہ میں لکھا ہے کہ عہد بنی امیہ کا مشہورشاعر اخطل (جو اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کی بدولت نابغہ ذیبانی کا ہم رتبہ شمار ہوتا ہے) ایک مرتبہ عبدالملک بن مروان کے دربار میں گیا اور ایک مدحیہ قصیدہ پیش کرنے کی اجازت چاہی ۔ عبدالملک ایک صاحب علم اور سخن فہم شخص تھا اس نے جواب دیا ۔ اگر تم مجھے شیر اور سانپ سےتشبیہ دینا چاہتے ہو تو میں تمہارے شعر نہیں سنوں گا ہاں اگر تم خنساؓء کے کلام جیسے اشعار پیش کرنا چاہتے ہو تو کرو۔

(4)

حضرت خنساؓء کا آغاز پیری تھا کہ فاران کی چوٹیوں سے آفتاب رسالت طلوع ہوا اور عرب کا گوشہ گوشہ اس کے نور سے جگمگانے لگا۔لیکن وائے بدبختی کہ اہل مکہ میں سے اکثر نے اس پر ہدایت کی طرف سے آنکھیں بند کرلیں او رحق کے چراغ کو پھونکوں سے بجھانے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ یہ چراغ جسے خود اللہ تعالیٰ نے روشن کیا تھا ان سے کیابجھنا تھا البتہ اپنے کرتوتوں کے باعث وہ عارضی طور پر اس کی برکات و انوار سے محروم ہوگئے۔ دوسری طرف تین سو میل دور اہل یثرب کی قسمت میں یہ سعادت عظمیٰ لکھی ہوئی تھی کہ انہوں نے اس متاع بے بہا کے لیے دیدہ ودل فرش راہ کردیے اور اپنی جانوں او رمالوں کو مکہ کے دُریتیم کے قدموں میں لاڈالا چنانچہ جب یثرب حضورﷺ کے نزول اجلال کے بعد مدینۃ النبیﷺ بن گیاتو اسلام کو ایک مرکز میسر آگیا او رپیغام حق آہستہ آہستہ عرب کے تمام اطراف و اکناف میں پھیلنے لگا۔ حضرت خنساؓء کے کانوں میں بھی اس پیغام کی بھنک پڑی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں فطرت سعید سے نوازا تھا۔یہ پیغام سنتے ہی دل و دماع کی دنیا بدل گئی.... اپنے قبیلے کے چند لوگوں کو ساتھ لیا۔ منزلوں پر منزلیں مارتی مدینہ منورہ پہنچیں او ررحمت عالم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر اسلام کی دولت لازوال سے مالا مال ہوگئیں۔علامہ ابن اثیر او رحافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ اس موقع پر سرور عالم ﷺ بڑی دیر تک ان کا فصیح و بلیغ کلام سنتے رہے وہ سناتی جاتی تھیں اور حضورﷺ فرماتے تھے۔ ''شاباش اے خنساؓء''

قبول اسلام کے بعد وہ اپنے قبیلہ میں واپس تشریف لے گئیں اور لوگوں کو پیغام رسالت پہنچا کر اسلام قبول کرنے کی ترغیب دی۔ زبان میں بڑی تاثیر تھی چنانچہ بے شمار لوگوں نے ان کی تبلیغ سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرلیا۔ اس کے بعد وہ وقتاً فوقتاً مدینہ منورہ آتیں اور رحمت عالم کی خدمت میں حاضر ہوکر فیضان نبویؐ سے مقدور بھر بہرہ یا ہوتیں۔

(5)

اسلام لانے کے بعد بھی حضرت خنساؓء کے دل سے اپنے محبوب بھائیوں بالخصوص صخر کی یاد محو نہ ہوسکیں۔ وہ ایام جاہلیت کے دستور کے مطابق صخر کے سوگ میں ہمیشہ اپنے سر پر بالوں کا ایک گچھا (یا سربند) باندھے رہتی تھیں۔ علامہ ابن اثیر کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروقؓ نے دیکھا کہ حضرت خنساؓء کعبہ کا طواف کررہی ہیں او رسر پر سوگ کی علامت کے طور پر سربند باندھ رکھا ہے۔ حضرت عمرؓ نے انہیں بلا کر فرمایا کہ اسلام اس قسم کے سوگ کی اجازت نہیں دیتا، انہوں نے عرض کیا۔ امیرالمؤمنین کسی عورت پر غم و الم کا ایسا پہاڑ نہ ٹوٹا ہوگا میں اسے کیسے برداشت کروں گی۔ حضرت عمرؓ نے انہیں دلاسا دیتے ہوئے فرمایا ، اس دنیا میں لوگوں کو اس سے بھی بڑے مصائب و آلام سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔ تم ذرا ان کے دلوں میں جھانک کر تو دیکھو جس چیزکو اسلام نے ممنوع قرار دیا ہے اس کو اختیار کرنا معصیت ہے۔ اس کے بعد حضرت خنساؓء نے سوگ کی علامت ترک کردی لیکن صخر کو بھلانا ان کے بس کی بات نہ تھی۔ اس کی یاد میں ان کا رونا دھونا برابر جاری رہا لیکن اب اس نے دوسری صورت اختیار کرلی۔ کہا جاتا ہے کہ قبول اسلام کے بعد وہ اس قسم کے شعر پڑھا کرتی تھیں۔

''یعنی پہلے تو میں صخر کو بدلہ لینے کی خاطر رویا کرتی تھی او راب اس لیے روتی ہوں کہ وہ (قتل ہوگیا او ر اسلام نہ لاسکا اور ) اب جہنم کی آگ میں جلتا ہوگا۔''

حافظ ابن حجر نے اس سلسلہ میں یہ روایت بھی بیان کی ہے کہ حضرت خنساؓء کبھی کبھار اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کی خدمت میں حاضر ہوتیں ، ان کے سر پر ہمیشہ بالوں کا ایک گچھا بندھا ہوتا جو عرب میں انتہائی غم کا مظہر ہوتا تھا۔ ایک دفعہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ اس طرح کا سربند باندھ کر سوگ منانا اسلام میں منع ہے۔ حضرت خنساؓء نے جواب دیا۔ ''اُم المؤمنین یہ سربند باندھنے کی ایک خاص وجہ ہے؟

حضرت عائشہؓ نے پوچھا ۔ وہ کیا؟

حضرت خنساؓء نے کہا۔ اُم المؤمنین میرا خاوند انتہائی فضول خرچ اور قمار باز تھا۔ اس نے اپنا تمام زرومال جوئے میں ہار دیا او رہم دانے دانے کو محتاج ہوگئے۔ جب میرے بھائی صخر کو میری حالت کا پتہ چلا تو اس نے اپنے تمام مال کا بہترین نصف مجھے دے دیا۔ جب میرے شوہر نے اسے بھی ضائع کردیا تو میرے بھائی نے اپنے بقایا کا بہترین نصف پھر مجھے دے دیا۔ صخر کی بیوی اس پر معترض ہوئی کہ تم اپنے مال کا بہترین حصہ اپنی بہن کو دیتے ہو اور اس کا شوہر اسے قمار بازی میں تلف کردیتا ہے ۔ یہ سلسلہ آکر کب تک چلے گا۔

میرے بھائی نے جواب دیا ''خدا کی قسم میں اپنی بہن کو اپنے مال کا بدترین حصہ نہیں دوں گا۔ وہ پاک دامن ہے او رمیرے لیے یہ کافی ہے کہ میں اس کے ننگ و عار کا لحاظ رکھوں۔ اگر میں مرجاؤں گا تو وہ اپنی اوڑھنی میرے غم میں چاک کرڈالے گی او رمیری سوگ میں اپنے سر پر بالوں کا سربند باندھے گی۔''

چنانچہ میں یہ سربند اپنے شجاع اور سخی بھائی کی یاد میں باندھتی ہوں۔

بہرصورت حضرت عمر فاروقؓ یا حضرت عائشہ صدیقہؓ کی تنبیہ کے بعد انہو|ں نے یہ سربند باندھنا چھوڑ دیا اور رضائے الہٰی پر شاکر ہوگئیں۔

(6)

حضرت خنساؓء کی زندگی کا سب سے تابناک واقعہ وہ ہے جس میں وہ اپنے چاروں بیٹوں کو ساتھ لے کر جنگ قادسیہ میں شریک ہوئیں، اس کی تفصیل اوپر بیان کی جاچکی ہے۔ یہ چاروں بچے ان کا عصائے پیری تھے (بالخصوص بعض اہل سیر کے اس بیان کے پیش نظر کہ شدت غم اور کثرت الم سے روتے روتے ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں تھیں) لیکن جب ان چاروں کی شہادت کی خبر سنی تو جزع فزع کے بجائے ان کی زبان سے جوالفاظ نکلے وہ یہ تھے ۔الحمد للہ الذی شرفنی بقتلھم ...... اس اللہ کا شکر ہے کہ جس نے مجھے ان کے (راہ خدا میں) قتل ہونے کا شرف بخشا۔

یہ الفاظ ان کے ایمان محکم اور صبر و رضا پر دال ہیں۔

حضرت خنساؓء کے یہ بچے جنگ قادسیہ سے پہلے بھی کئی دوسری لڑائیوں میں داد شجاعت دے چکے تھے اور حکومت کی طرف سے ہر ایک کے نام دو سو درہم سالانہ وظیفہ مقرر تھا۔ ان کی شہادت کے بعد حضرت عمرؓ نے یہ وظیفہ حضرت خنساؓء کے نام منتقل کردیا۔

اسلام کی اس جلیل القدر خاتون نے ایک روایت کے مطابق جنگ قادسیہ کے سات سال بعد 24ھ میں وفات پائی اور ایک دوسرے روایت کے مطابق انہوں نے امیرمعاویہ کے عہد حکومت میں کسی بادیہ میں سفر آخرت اختیار کیا۔ واللہ اعلم بالصواب۔

مولانا سعید انصاری مرحوم نے سیر الصحابیات میں لکھا ہے کہ حضرت خنساؓء کا ضخیم دیوان مع شرح 1888ء میں بیروت سے چھپا۔ اس میں حضرت خنساؓء کے علاوہ ساٹھ دوسری خواتین کے کہے ہوئے مرثیے بھی شامل ہیں۔ 1889ء میں اس کا فرانسیسی زبان میں ترجمہ ہوا اور دوبارہ طبع کیا گیا۔

مولانا محمد نعیم ندوی صدیقی (اعظم گڑھ) نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ حضرت خنساؓء کے دیوان کی شرح ایک عیسائی ''الاب نویس الیسوعی'' نے انیس المجلساء کے نام سے لکھی تھی۔ یہ شرح مطبع کاٹولیکیہ بیروت سے 1896ء میں شائع ہوئی۔ اسے دیوان خنساؓء کے 6 قدیمی قلمی نسخوں سے پوری صحت کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے اس کے شروع میں ایک مبسوط اور وقیع مقدمہ بھی ہے جو بجائے خود ایک خاصے کی چیز ہے۔ (ماہنامہ فاران کراچی۔ جولائی 1967ء)

اگرچہ حضرت خنساؓء سے کوئی حدیث مروی نہیں ہے لیکن ان کا شمار جلیل القدر صحابیات میں ہوتا ہے ۔ آخر جن کے حسن کلام کی خود سید المرسلین رحمت دو عالم ﷺ نے تعریف و تحسین فرمائی ہو ان کی جلالت قدر او رعلو مرتبت میں شک بھی کیا ہوسکتا ہے؟ او رپھر حضرت خنساؓء نے راہ حق میں اپنے جگر کے ٹکڑوں کی شہادت پر جس بے مثال سیرو استقامت کا مظاہرہ کیا اس نے بلا شبہ ان کے نام کو جریدہ عالم پر دوام کامستحق بنا دیا۔ ملت اسلامیہ اگر تاابد ان پر ناز کرتی رہے تو وہ بجا طور پر اس کی مستحق ہیں۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔
حاشیہ

۔ کہا جاتاہےکہ اس موقع پر حضرت حسان ؓبن ثابت بھی موجود تھے وہ جاہلی دور میں عرب کے چوٹی کے شعراء میں شمار ہوتےتھے او راسلام لانے کے بعد تو انہیں ''مداح رسول'' اور ''شاعر دربار نبوت'' کی حیثیت سے جوفضیلت اور عظمت حاصل ہوئی وہ محتاج بیان نہیں۔ یہ واقعہ ان کی زندگی کے جاہلی دور سے تعلق رکھتا ہے۔ خنساء کے بارے میں نابغہ کے الفاظ سن کر وہ غصے سے بے تاب ہوگئے اور کڑک کر کہا:

''تو نے غلط کہا خنساء سے بہتر میرے شعر ہیں ، نابغہ نے خود جواب دینے کے بجائے خنساء کے طرف دیکھا، انہوں نے حسان سے مخاطب ہوکر کہا ''تمہیں اپنے قصیدہ کے کس شعر پر سب سے زیادہ ناز ہے'' حسان نے یہ شعر پڑھا۔

لنا الجفنات الغریلمعن في الضحیٰ وأسیافنا یقطرن من نجدة دما

(یعنی ہمارے پاس بڑے بڑے صاف شفاف برتن ہیں جو چاشت کے دن چمکتے ہیں اور ہماری تلواریں بلندی سے کون ٹپکاتی ہیں)

حضرت خنساء نے فوراً کہا، یہ شعر سا ت آٹھ جگہوں پر بلندی سے گر گیا ہے۔ جفتات کا اطلاق دس سے کم پر ہوتا ہے اس کی جگہ جفان بہتر تھا۔ غر پیشانی کی سفیدی کو کہتے ہیں اس کے بجائے بیض کالفظ موزوں تھا۔ یلمعن ایک عارضی چمک کو کہتے ہیں اس کے بجائے یشرقن بہتر تھا۔ کیونکہ اشراق ، لمعان سے زیادہ دیرپا ہے۔ضحیٰ سے دجیٰ بہتر تھا کیونکہ روشنی سیاہی میں زیادہ قابل وقعت ہوتی ہے۔ اسیاف جمع قلت کا صیغہ ہے، سیوف کہنا چاہیے تھے۔ یقطرن میں وہ خوبی نہیں جو یسلن میں ہے اسی طرح بمقابلہ لفظ دم کے دماء میں کثرت کامفہوم ہے۔ حضرت حسان ؓ خنساءؓ کے اعتراضات سن کو خاموش ہوگئے۔