کا عقیدہ رکھنا کفر اور شرک ہے

مشرکین مکہ: مکہ کے مشرک نہایت ضدی او رہٹ دھرم تھے۔ اپنے آباؤ اجداد کی رسومات پرجان دینے سے دریغ نہیں کرتے تھے وہ بتوں کے پجاری اور بت تراش بھی تھے۔ ہر گھر میں بت موجود تھے حتیٰ کہ خانہ خدا جیسا مقدس مقام بھی ان بتوں کی پلیدی سے محفوظ نہ تھا۔ ان کے عقائد باطلہ اور آراء فاسدہ کا قرآن کریم نے جا بجا ذکر کیا ہے ۔ لیکن ساتھ یہ بھی ذکر کیا ہے کہ وہ جب کسی مصیبت میں پھنس جاتے تو صرف اللہ واحد لاشریک کو پکارتے اور کہتے ''الہٰی! ہمیں اس مصیبت سے نجات دلا۔ پس پھر ہم تیرے شکرگزار بندے بن جائیں گے۔'' مگر جب ان کی مصیبت رفع ہوتی تو اللہ کی کرم نوازی کوبھلا کر پھر اپنے بتوں کی طرف رجوع کرتے او رکہتے یہ سب کچھ ان کی طفیل ہوا ہے۔چنانچہ قرآن کریم اس بات کا شاہد ہے کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوتے اور کشتی کو چاروں اطراف سے موجیں گھیر لیتیں تو سب کچھ بھول جاتے۔ پھر خدا یاد آتا او راسے پکارتے۔﴿لَئِن أَنجَيتَنا مِن هـذِهِ لَنَكونَنَّ مِنَ الشّـكِر‌ينَ ﴿٢٢﴾... سورة يونس ''الہٰی! ہمیں اس مصیبت سے نجات دے پھر ہم تیرےشکرگزار بندے بن جائیں گے۔''

لیکن جب کشتی ساحل سلامتی پر پہنچتی تو پھر اللہ کے آستانہ کو چھوڑ کر اوروں کے درودیوار کے سامنے سرجھکاتے۔ ایک او رمقام پر فرمایا: ﴿فَإِذا رَ‌كِبوا فِى الفُلكِ دَعَوُا اللَّهَ مُخلِصينَ لَهُ الدّينَ فَلَمّا نَجّىهُم إِلَى البَرِّ‌ إِذا هُم يُشرِ‌كونَ ﴿٦٥﴾... سورة العنكوبت" جب وہ (مشرک) کشتی میں سوار ہوتے تو صرف اللہ کو پکارتے اور دین خالص اسی کا سمجھتے جب ان کی کشتی ساحل سمندر پر پہنچا کر نجات دیتا تو پھر شرک کرتے (یعنی کہتے کہ ہم نے فلاں بزرگ یا فلاں بت کی طفیل نجات پائی)

دور حاضر کے مشرکین: مگر ہمارے زمانہ کے مشرکوں کا یہ حال ہے کہ جب کسی مصیبت میں مبتلا ہوتے تو اللہ کی بارگاہ میں دست دعا پھیلانے اور اغثنی یا اللہ ، یاحی یا قیوم برحمتک استغیث وغیرہ وظائف اور دعائیں کرنے کے بجائے صلوٰۃ مکتوبہ کے بعد صلوٰۃ غوثیہ کا اہتمام کرتے ہیں جو قبلہ رُخ ہونے کے بجائے بجانب شمال منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں۔ یہ نماز شیخ عبدالقادر جیلانی کے نام کی پڑھتے ہیں۔ حالانکہ پیر صاحب نے نہ یہ نماز خود ہی پڑھی اور نہ اپنی کتاب ''غنیۃ الطالبین اور فتوح الغیب '' میں اس کاذکر کیا۔پھر خدا جانے ان لوگوں نے کہاں سے صلوٰۃ غوثیہ اور صلوٰۃ رجبیہ وغیرہ کا صلوٰۃ مکتوبہ کے ساتھ ٹانکالگا دیا ہے اگر آج پیرصاحب اس عالم رنگ و بو میں تشریف فرما ہوتے تو ان پرخوش ہونے کے بجائے ان کے اس فعل پر سخت ناراض ہوتے او ران پربدعتی اور مشرک کا فتویٰ صادر کرتے کیونکہ یہ نمازیں وہ ہیں جن کے متعلق ما انزل اللہ بھا من سلطان۔

مزیدبرآں مسجد میں بیٹھ کر مسنون ذکر الہٰی کو ترک کرکے یا غوث اعظم کا شرکیہ وظیفہ کرتے ہیں یا اس مشرکانہ وظیفے کی رٹ لگاتے ہیں۔
امداد کُن امداد کُن دردین و دنیا شاد کُن
اس بند غم آزاد کُن یا شیخ عبدالقادرا

یا حضرت معین الدین چشتی کو اپنا کامل حاجت روا اورمشکل کشا تصور کرتے ہوئے اس مشرکانہ وظیفے کو زور شور سے پڑھتے ہیں۔
یامعین الدین چشتی
در گرداب بلاافتاء کشتی

ایسے مشرکانہ وظائف پر ایڑی چوٹی کازور لگاتے ہیں، بلکہ اپنی مسجدوں اورمدارس کے نام بھی غوثیہ اور جیلانیہ رکھتے ہیں او رمسجدوں کے سامنے جلی حروف میں یاغوث اعظم یا غوث الثقلین یا غوث المستغیثین یاغوث پاک وغیرہ لکھتے ہوئے نہیں ہچکچاتے۔

دونوں کا موازنہ: آپ اپنے گریبان میں منہ ڈال کر ذراسوچیئے اور غور کیجئے۔ پھر بتائیے کہ دور حاضر کے مشرکوں اور مشرکین مکہ میں کون سا نمایاں فرق ہے جس کے باعث ان کو اسلام کے شیدائی اور ان کو اسلام کے دشمن تصور کیا جاتا ہے۔ بات یہ ہےکہ دونوں فریق ایک دوسرے کے مماثل ہیں اور مشرک ہونے میں ان میں کوئی فرق نہیں۔ اگر کوئی ظاہری فرق نظر اتا ہےتو بس یہی کہ یہ مسجد میں آکر پہلے برائے نام رسمی نماز پڑھتے ہیں۔ پھر مشرکانہ وطائف اور تصور شیخ میں محو ہوجاتے ہیں اور وہ نماز کے منکر تھے۔ وہ نماز کی آڑ میں بتوں کی پوجا نہیں کرتے تھے بلکہ علی الاعلان اپنے گھروں میں بت رکھے ہوئے تھے او ران کے سامنے جھکتے تھے۔ یہاں یہ بات قابل غوروفکر ہے کہ وہ مشرک او رکافر او راللہ سے دور ہونے کے باوجود مصیبت اور تنگی کے موقع پر تمام سہاروں کو چھوڑ کر اسی رب العزت کی بارگاہ میں عاجزی اور زاری سے دعا کرتے ہیں جس کا نام سن کو لال پیلے ہوجاتے ہیں۔ فلما رکبوا فی الفلک دعواللہ مخلصین لہ الدین ۔ ان کے برعکس دور حاضر کے مشرکوں کا یہ حال ہے کہ مسجدوں میں جو صرف اللہ عزوجل کی عبادت کے لیے مخصوص ہیں، یا شیخ عبدالقادر جیلانی شیئاً اللہ یاغوث اعظم یا غوث المستغیثین وغیرہ شرکیہ وطائف کیے جارہے ہیں او ران کو ایسا کرنے سے روکنے والے کو بزرگان دین کا بے ادب اور گستاخ تصور کیاجارہا ہے لیکن مکہ کے مشرک اپنے بزرگ کے نام کے وظائف تو نہیں کرتے تھے۔ انہوں نےمدرسوں اور مسجدوں کے نام غوثیہ اور جیلانیہ تو نہیں رکھے ہوئے تھے۔ پھر ان کا عقیدہ یہ تو نہیں تھا کہ دنیا میں ایک قطب الاقطاب ہوتا ہے۔ کچھ ابدال ہوتے ہیں اور کچھ نقبا او رنجباء ہوتے ہیں۔ ان کا یہ عقیدہ بھی نہیں تھا کہ قطب الاقطاب کا علم اللہ کے علم پر حاوی ہوتا ہے او راللہ کی قدرت پراسے پوری دسترس ہوتی ہے۔ نعوذ باللہ من ذلک۔

مگر یہاں یہ حال ہےکہ جاہلوں کی تو کیا بات کیونکہ وہ تو عوام کالانعام ہوتے ہیں۔ بڑے بڑے قرآن وحدیث کے عالم ہونے کے مدعی اس بیماری میں مبتلا ہیں او رلوگوں کو اس میں مبتلاکررہے ہیں۔

غوث کا عقیدہ: چنانچہ انہوں نے عوام میں یہ بات مشہور کی ہوئی ہے کہ اس عالم کون و مکان میں ہر وقت تین سو تیرہ اشخاص ایسے رہتے ہیں جو نجباء کے نام سے مشہور ہوتے ہیں۔ پھر ان میں سے ستر کونقباء کہا جاتا ہے۔ پھر ان میں سے چالیس ابدال کے درجے پر پہنچتے ہیں۔ ان میں سے سات کو قطب کا درجہ دیا جاتا ہے۔ ان میں سے چار اوتار کے درجہ پر فائز ہوتے ہیں اور اُن میں سے ایک غوث کا اعلیٰ مقام حاصل کرتا ہے۔ وہ ہمیشہ مکہ مکرمہ میں رہتا ہے۔ جب اہل زمین پر کوئی مصیبت نازل ہوتی ہے یا رزق کی تنگی ہوتی ہے یا کسی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں تو وہ ان تین سو تیرہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ان کے سامنے اپنی حاجتیں پیش کرتے ہیں۔ یہ ان فریادوں اور حاجتوں کو اپنے میں سے منتخب شدہ ستر نقباء کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ یہ ستر ان حاجات کو اپنے سے بلند مرتبہ چالیس ابدال کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ پھر یہ چالیس اپنے سے سات منتخب قطبوں کی خدمت میں لے کر حاضر ہوتے ہیں او ریہ سات اپنے سےبلند مرتبہ چار اشخاص کی جنہیں اوتار کہا جاتا ہے خدمت میں پیش کرتے ہیں۔پھر یہ چاروں اپنے سے منتخب ہستی کی خدمت میں حاضر ہونے کا شرف حاصل کرتے ہیں اس کانام غوث ہوتاہے۔ وہ ہمیشہ مکہ معظمہ میں رہتا ہے اور تمام دنیا میں ایک غوث ہوتا ہے۔بیک وقت دو غوث نہیں ہوسکتے۔ اس کا علم اللہ کے علم کے برابر ہوتا ہے او را س کی قدرت اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کم نہیں ہوتی۔

قرآن پاک کا فیصلہ: ہم ایسا عقیدہ رکھنے کو کفر و شرک سے تعبیر کرتے ہیں مگر جولوگ ایسا فاسد عقیدہ رکھتے ہیں وہ اسے بزرگان دین کی تعظیم و تکریم پر محمول کرتے ہیں او رایسا عقیدہ نہ رکھنے والے کوبزرگان دین کامنکر، بے ادب اور گستاخی کہتے ہیں او رایسے شخص کی اقتدا میں نماز پڑھنا تو کجا ان سے مصافحہ کرنا جائز نہیں سمجھتے۔

اب اس نزاع کو ختم کرنے کے لیے ہمیں ائمہ کبار اور بزرگان دین کے اقوال تلاش کرنے کے بجائے کتاب اللہ او رحدیث نبوی کی طرف رجوع کرنا چاہیے کیونکہ قرآن کریم تمام مسلمانوں کی متفقہ کتاب ہے اس سے کسی کو انحراف کی گنجائش نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی پیروی کا حکم دیا ہے ۔ اتبعوا ما انزل الیکم من ربکم ولا تتبعوا من دونہ اولیآء ( الاعراف) ''جو کتاب تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئی ہے بس اسی کی پیروی کرو اسے چھوڑ کر کسی اور بزرگ یاولی کی پیروی مت کرو۔''

آئیے الحمد سے لے والناس تک تمام قرآن پاک کی ورق گردانی کیجئے او راس میں غوث ، قطب او رابدال کی تلاش کیجئے۔آپ خواہ اس میں کتنی جانفشانی اور عرق ریزی سے کام لیں پھر بھی ان لوگوں کا کہیں سراغ نہیں ملے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے بندوں کا قرآن عزیز میں بارہا ذکر کیا ہے۔ ان کی صفات حمیدہ بیان کرنے میں بھی بخل سے کام نہیں لیا۔ اللہ رب العزت نے اپنی برگزیدہ ہستیوں انبیاء او ررُسل کا جابجا تذکرہ کیا ہے بلکہ بعض کے اسمائے گرامی بھی بار بار ذکر کیے ہیں اگراس عالم آب و گِل میں غوث، قطب او رابدال ہوتے تو کتاب الہٰی میں ان کا ضرور تذکرہ ہوتا۔ کیونکہ وہ ایسی جامع کتاب ہے جس میں انبیاء کرام کے اسمائے گرامی کے علاوہ ان کی صفات حمیدہ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

﴿وَاذكُر‌ فِى الكِتـبِ إِبر‌هيمَ إِنَّهُ كانَ صِدّيقًا نَبِيًّا ﴿٤١﴾-﴿وَاذكُر‌ فِى الكِتـبِ إِسمـعيلَ إِنَّهُ كانَ صادِقَ الوَعدِ وَكانَ رَ‌سولًا نَبِيًّا ﴿٥٤﴾﴿وَاذكُر‌ فِى الكِتـبِ موسى إِنَّهُ كانَ مُخلَصًا وَكانَ رَ‌سولًا نَبِيًّا ﴿٥١﴾... سورة مريم

سید المرسلین اور امام المتقین کے اوصاف حمیدہ او راوصاف حمیدہ سے سارا قرآن کریم بھرا ہوا ہے۔ آپ کو کبھی یایھا المزمل کبھی یایھا المدثر کبھی یٰسین او رکبھی یایھا النبی سے مخاطب کیا گیا ہے۔ کسی مقام پر یا قطب الاقطاب یا غوث الاقطاب سے نہیں پکارا گیا یہ اس بات کا بین ثبوت ہے اورروزروشن کی طرح واضح دلیل ہے کہ غوث ، قطب او رابدال سب فرضی نام ہیں۔ شریعت مطہرہ ان کے وجود کو تسلیم نہیں کرتی اور غوث ، قطب وغیرہ کا عقیدہ رکھنا مشرکین مکہ کے شرکیہ عقائد سے کم نہیں۔

حدیث کا فیصلہ: قرآن عزیز وہ بحر ذخائر ہے کہ جس میں غواصی کرنے سے ہر شخص گوہر مقصود نہیں پاسکتا۔ یعنی اس کتاب مقدس کے معانی اور مفہوم کو سمجھنے کے لیے ہرکہ دمہ کو ہمت نہیں۔ ممکن ہے کہ ہم اس کتاب ہدایت کے اشاروں سے باخبر نہ ہوں۔ اس لیہ ہم حدیث نبوی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کےفیصلے کو ناطق اور حتمی تصور کرتے ہیں۔

آئیے آنحضرتﷺ فداہ ابی و امی کی حیات مقدسہ پر غور کیجئے اور آپؐ کے اقوال ، افعال اور قابل تحسین کردا رپر ایک گہری نظر ڈالیے اور پھر بتائیے کیا آپ غوث تھے اگر غوث تھے تو آپ نے اپنی زبان مبارک سے غوث ہونے کا دعویٰ کیوں نہیں کیا؟ جیسے خاتم الانبیاء ہونے کا دعویٰ فرمایا کہ لا نبی بعدی اسی طرح یہ بھی کرنا تھا کہ میں غوث ہوں۔ اگر آپ غوث نہیں تھے تو پھر آپ نے اپنے عہد سعود میں ہونے والے غوث کی نشاندہی کیوں نہ کی او ربعدمیں آنے والے کی پیشینگوئی کیوں نہ فرمائی؟ آپ ایک معلّم کی حیثیت سے دنیا میں تشریف لائے تھے آپ نے اپنے فریضہ کی ادائیگی  میں سرمو انحراف نہیں کیا تو پھر غوث کی خبر کیوں نہ دی؟ پھر غوث سے مدد طلب کرنے کا حکم کیوں نہ فرمایا؟

دوستو! آئیے دیکھئے یہ صحیح بخاری ہے۔ یہ صحیح مسلم ہے۔ یہ دیگر کتب حدیث آپ کے سامنے موجود ہیں۔ ان کو کھول کر ان میں سے کوئی ایسی حدیث بتلاؤ جو تمہارے مدعا کو ثابت کرے جس سے ثابت ہو کہ اس عالم فنا میں غوث ہروقت موجود رہتا ہے او راپنے قطبوں کی سفارش سے لوگوں کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کرتا ہے۔میں ببانگ دہل اعلان کرتا ہوں کہ آپ کسی صحیح حدیث سے اپنے دھوکے کو مدلل ہرگز نہیں کرسکیں گے۔

ابن تیمیہ  کی رائے: امام المحققین، راس المفسرین ابن تیمیہ  اپنے فتاویٰ میں جلد نمبر 27 صفحہ نمبر 97 پر غوث، قطب او رابدال وغیرہ کا ذکر کرنے کے بعد رقم طراز ہیں:

ھذا کله باطل لا أصل له في کتٰب اللہ و سنة رسوله ولا قاله أحد من سلف الأمة ولا أئمتھا ولا من المشائخ الکبار المتقدمین من الذین یصلحون للاقتداء بھم۔

یہ تمام باتیں غلط ہیں۔ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ میں ان کا قطعاً کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ اُمت کےسلف صالحین ، ائمہ اور متقدمین میں سے او ربڑے بڑے مشائخ میں سے جو اقتدا کرنے کے لائق ہیں۔کسی نے ایسی بات نہیں کہی یعنی غوث، قطب او رابدال کی کسی نے خبر نہیں دی۔

غوث کا بطلان: غوث کے باطل ہونے کے متعلق امام ابن تیمیہ نے ایک اور عقلی دلیل پیش کی ہے جولوگ غوث کے وجود کے قائل ہیں وہ کہتے ہیں کہ غوث ہمیشہ مکہ معظمہ میں مقیم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس آنحضرتﷺ اور آپ کے خلفائے اربعہ جواپنے زمانہ میں سب سے افضل تھے۔ مدینہ منورہ میں قیام پذیر تھے وہ آخری عمر میں مکہ معظمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ میں قیام پذیر ہوگئے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ لوگ غوث کے درجے پر فائز نہیں تھے۔ پھر بتلاؤ ان کے زمانہ میں او رکون تھا جسے غوث کے نام سے پکارا گیا ہو؟ یا بعد میں جسے غوث کا لقب دیا گیا ہو؟ ظاہر ہے اس کا جواب سوائے منفی کے کچھ نہیں ہوگا؟

بعض من گھڑت احادیث: کچھ لوگ اپنے دعویٰ کومدلل کرنے کے لیے ابونعیم کی حلیۃ الاولیاء اور شیخ ابوعبدالرحمان سلمی کی بعض کتب پیش کرتے ہیں او ران میں موضوع او رمن گھڑت احادیث کی مدد سے اپنا مدعا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مجدد وقت امام ابن تیمیہ نےان تمام پر ناقدانہ نگاہ ڈال کر ان کی سخت تردید کی ہے۔ چنانچہ فتاویٰ ابن تیمیہ  جلد 27 صفحہ 98 پر لکھتے ہیں:

فلا تغتر بذالك فیه الصحیح والحسن والضعیف والموضوع و المکذوب الذي لا خلاف بین العلماء في انه کذب موضوع۔

''آپ ان کے دھوکا میں نہ آجائیں کیونکہ ان کتابوں میں صحیح، حسن ، ضعیف، موضوع اور من گھڑت حدیثیں ہیں جن کے جھوٹ اور موضوع ہونےمیں علماء کا کوئی اختلاف نہیں۔''

حافظ ابن قیم ن ےالمنار المنیف فی الصحیح والضعیف میں اس کے متعلق اپنی رائے کا یوں اظہار کیا ہے۔ أحادیث أقطاب، اغواث،أبدال کلھا باطل۔''یعنی غوث، قطب او رابدال کے سلسلے میں جس قدر روایات مروی ہیں سب بےبنیاد اور غلط ہیں۔''

اسی طرح ملا علی قاری نے ''موضوعات کبیر'' میں بیرونی نے اسنی المطالب فی احادیث مختلفہ المراتب میں ایسی تمام احادیث کو جو غوث ، قطب اور ابدال کے متعلق ہیں، موضوع قرار دیا ہے۔

کیا حسنؓ غوث تھے؟ بعض لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت حسنؓ غوث اوّل تھے۔پھر غوث کا سلسلہ ان کی اولاد میں رہا۔ لیکن قرآن کریم میں اس کی کوئی شہادت موجود نہیں۔ اسی طرح حدیث نبویؐ میں بھی اس کی تصدیق نہیں کرتی۔ حدیث شریف میں حضرت حسنؓ کے بے شمار فضائل مذکور ہیں لیکن آنحضرت نے کہیں یہ ذکر نہیں فرمایا کہ میرا یہ بیٹا غوث ہے یا غوث ہوگا یا اس کی نسل سے غوث کا سلسلہ جاری رہے گا۔ پھر آپؐ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی ان کو کبھی یا غوث اعظم نہیں کہا۔ بلکہ آپ خلیفہ ہوئے تو ان کو یا امیر المومنین کہہ کر پکارا گیا او رنہ انہوں نے خود غوث ہونے کا دعویٰ کیا۔ امام ابن تیمیہ اپنے فتاویٰ جلد 27 صفحہ 103 پر اپنی ٹھوس اور مستحکم رائے کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں:

ھذا لا یصح علی مذھب أھل السنة ولا علی مذاھب الرافضة ، یعنی یہ عقیدہ کہ حضرت حسنؓ غوث تھے اہل سنت کے مذہب کے مطابق درست ہے اور نہ روافض کے مذہب کی رُو سے جائز ہے۔

ایک اور مقام پر بیان کرتے ہیں کہ تین باتوں کا قطعاً کوئی ثبوت نہیں۔

(1) باب النصیریہ (2) منتظر الرافضہ (3) غوث الجہال

نصیریہ ایک دروازے کا نام ہے ۔ نصیریہ فرقے کا دعویٰ ہے کہ یہ دروازہ ان کے داخلہ کے لیے ہے۔ اس کا وجود تو ہے لیکن یہ دعویٰ غلط ہے کہ انکے لیے مخصوص ہے۔لیکن محمد بن حسن جس کا شیعہ حضرات انتظارکررہے ہیں اور غوث جو مکہ معظمہ میں مقیم ہوتا ہے کے متعلق بیان کرتے ہیں:

فإنه باطل لیس له وجود (فتاویٰ ابن تیمیہ،جلد 27 صفحہ 91)

شیخ عبدالقادر جیلانی : مشرک لوگ شیخ عبدالقادر جیلانی کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ قطب الاقطاب اور غوث اعظم تھے۔ انہیں دنیا کی ہر چیز کا علم ہے۔ ان کو اللہ کی قدرت اور مشیت میں پورا دخل ہے وہ اللہ سے جو چاہے کروا سکتے ہیں۔ آج بھی ان کے نام کی گیارہویں شریف دی جائے تو ہر طرح کی حاجت برآری اور مشکل کشائی کرسکتے ہیں۔

جہاں تک ان کی عزت و تکریم او ربزرگی کا تعلق ہے ہم ان کا نام نہایت عقیدت او راحترام سے لیتے ہیں او ران کی بزرگی او رپارسائی پر انگشت نمائی کو سوء ادب پر محمول کرتے ہیں۔ لیکن اس سے بڑھ کر انہیں خدا کی صفات کا مظہر قرار دینا سراسر شرک قرار دیتے ہیں۔ کیونکہ ان صفات میں ذات الہٰی واحد ہے حتیٰ کہ انبیاء او ررُسل کو جو اللہ کی نہایت برگزیدہ ہستیاں ہوئی ہیں ان صفات میں شریک نہیں کیا۔ پھر ان کے بعد اور کون شخص ایسا دعویٰ کرنے کی جرأت کرسکتا ہے اس لیے ہم کہتے ہیں کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی اللہ کے نیک او رپیارے بندے تھے لیکن غوث اور قطب الاقطاب نہیں تھے۔

نیزان مشرک لوگوں کا عقیدہ ہے کہ غوث ہمیشہ مکہ معظمہ میں رہتا ہے اور ایک وقت میں تمام روئے زمین پر ایک ہی ہوتا ہے۔ مگر یہ کہاں پیدا ہوئے؟ کہاں زندگی بسر کی او رکہاں وفات پائی اس کا صحیح جواب تاریخ ہی دیتی ہے کہ ان کی جائے پیدائش ،مسکن اور جائے تدفین عراق کے ایک مرکزی شہر بغداد میں ہے۔ پھر غوث کیسے ہوئے؟

ایک عجیب انکشاف: پیر صاحب جن کا نام شیخ عبدالقادر جیلانی ہے جن کو جاہل لوگ یاری والا پیر کہتے ہیں اور چاند کی گیارہویں تاریخ کو ان کے نام کی کھیر پکا کر لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں او رجن کے متعلق جاہل طبقہ میں مشہور ہے کہ انہوں نے ایک ڈوبی ہوئی کشتی کو بارہ سال کے بعد بمعہ جملہ مسافروں کے ساحل سمندر پر پہنچایا۔ اپنی قبر کی حفاظت بھی نہیں کرسکتے۔ آج کل بغداد میں ان کا جو مزار بنا ہوا دکھائی دیتا ہے وہ بالکل فرضی او ربے بنیاد ہے۔ وزیر ابوالمظفر جلال الدین بن عبیداللہ بن یوسف نے لوگون کو دیکھا کہ ان کی قبر پر پیشانیاں رگڑتے ہیں او ردیگر شرکیہ امور کرتے ہیں۔ چنانچہ اس نے شرک کا قلع قمع کرنے کی غرض سے ان کی قبر کو اکھیڑ دیا اور ان کی نعش کی ہڈیاں دریائے دجلہ کی لہروں کے سپرد کردیں۔ اس بات کا انکشاف ابن عماد حنبلی نے اپنی کتاب ''شذرات الذہب'' جلد4 ص313 تا 314 پر کیا ہے۔ اگر اس کی بات پر یقین آئے تو اس کی تصدیق کے دو اور نہایت معتبر مصنفوں کی گواہی حاضر ہے۔ چنانچہ ابن تفری پردی حنفی نے النجوم الزاھرۃ في ملوك مصر والقاھرة جلد 6 صفحہ 142 پر اور ابو شامہ دمشقی نے الذبل علی الروضتین میں صفحہ12 پر اس تاریخی واقعہ کی تصدیق کی ہے۔

غوث کا علم : اوّل تو غوث کا وجود قرآن و سنت کی روشنی میں ثابت نہیں ہوتا اورامام المحققین ابن تیمیہ نے غوث، قطب او رابدال کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کیا۔ اگر بالفرض ان لوگون کاوجود تسلیم کرلیا جائے تو ان کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ ان کا علم اللہ کے علم کے برابر ہے او ران کی قدرت اللہ کی قدرت سے کم نہیں ہوتی، سراسر شرک او رکفر ہے بلکہ امام ابن تیمیہ  کا یہ فتویٰ ہے کہ سید المرسلین کی ذات گرامی کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ ان کا علم اللہ کےعلم پر حاوی ہے او را ان کی قدرت اللہ کی قدرت کے مساوی ہے،کفر ہے ۔ چنانچہ اپنے فتاویٰ میں جلد 27 صفحہ 103 پر لکھتے ہیں:

إن ھذا کفر صریح و جھل قبیح وإن دعوی ھذا في رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلم کفردع ما سواه۔

''یعنی ایسا عقیدہ رکھنا صریحاً کفر ہے اور بہت بڑی جہالت ہے۔ ایسا عقیدہ رکھنا تو رسول اکرمﷺ کی ذات اقدس کے متعلق بھی کفر ہے چہ جائیکہ کوئی اور ہو۔''

الغرض غوث، قطب او رابدال کا عقیدہ رکھنا او ریہ سمجھنا کہ وہ حاجت برآری کرتے ہیں، رزق میں کشائش کرتے ہیں، بیماری دفع کرتے ہیں،مصائب و آلام دور کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ ان کا علم اللہ کے علم کے برابر ہوتا ہے او ران کی قدرت اللہ کی قدرت کے برابر ہوتی ہے تمام امور کفر و شرک ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے نہ نماز ہی فائدہ مند ہے او رنہ روزہ اور نہ دیگر عبادات کے کام آئیں گی۔ اس لیے ان مشرکانہ عقائد سے توبہ کرنی چاہیے او رعقیدہ توحید پر پختگی سے قائم رہنا چاہیے۔ یہی عقیدہ توحید ہماری نجات کاباعث ہوگا۔

﴿فَبَشِّر‌ عِبادِ ﴿١٧﴾ الَّذينَ يَستَمِعونَ القَولَ فَيَتَّبِعونَ أَحسَنَهُ أُولـئِكَ الَّذينَ هَدىهُمُ اللَّهُ وَأُولـئِكَ هُم أُولُوا الأَلبـبِ ﴿١٨﴾... سورة الزمر

۔۔۔۔۔۔:::::::۔۔۔۔۔۔۔

تصحیح و تکمیل:

سابقہ شمارے میں شائع مضمون ہجری تقویم قسط (1) کے آخر میں محولہ (جس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے) عبارت رہ گئی ہے، جو حسب ذیل ہے:

انگریزی زبان میں اتوار کو سنڈے (Sunday)سورج دیوتا کا دن، سوموار کو منڈے (Monday)چاند دیوتا کا دن کہا جاتا ہے۔مریخ (Mars)کے دیوتا کا نام (Weden) رکھا گیا اور اسی نسبت سے بُدھ(Wednesday) کو کہتے ہیں۔ (Weden)دیوتا کا ایک بیٹا تسلیم کیا جو گرج یا رعد کا دیوتا تھا اسے مشتری کا دیوتا قرار دیا گیا اور اسی نسبت سے جمعرات (Thursday)کو کہتے ہیں۔

(Weden) کی بیوی کا نام فِرگ (Frigg)یافرگا (Frigga)تجویز ہوا۔اسے جونو(Juno) بھی کہتے ہیں یہ زہرہ سیارہ کی دیوی تھی او راسی نسبت سے جمعہ کے دن کو (Friday)کہا جانے لگا زہرہ کا مالک دیوتا کی بجائے دیوی (مونث) تجویز کرنے کی شائد یہ وجہ ہو کہ زہرہ کو ایک خوبصورت سیارہ تصور کیا جاتا ہے۔زحل کو انگریزی میں(Saturn) کہتے ہیں یہی اس کے دیوتا کانام تھا اور اسی نسبت سے ہفتہ کے دن کو(Saturday) کہتے ہیں۔