(قسط 24)

﴿وَظَلَّلنا عَلَيكُمُ الغَمامَ وَأَنزَلنا عَلَيكُمُ المَنَّ وَالسَّلوى كُلوا مِن طَيِّبـتِ ما رَ‌زَقنـكُم وَما ظَلَمونا وَلـكِن كانوا أَنفُسَهُم يَظلِمونَ ﴿٥٧﴾وَإِذ قُلنَا ادخُلوا هـذِهِ القَر‌يَةَ فَكُلوا مِنها حَيثُ شِئتُم رَ‌غَدًا وَادخُلُوا البابَ سُجَّدًا وَقولوا حِطَّةٌ نَغفِر‌ لَكُم خَطـيـكُم وَسَنَزيدُ المُحسِنينَ ﴿٥٨﴾ فَبَدَّلَ الَّذينَ ظَلَموا قَولًا غَيرَ‌ الَّذى قيلَ لَهُم فَأَنزَلنا عَلَى الَّذينَ ظَلَموا رِ‌جزًا مِنَ السَّماءِ بِما كانوا يَفسُقونَ ﴿٥٩﴾... سورة البقرة

''او رہم نے آپ پر ابر کا سایہ کیا اور (نیز) آپ پر من و سلویٰ اتارا کہ جو پاک روزی ہم نے تم کو دی ہے (شوق سے)کھائیں (تاہم وہ الٹے ہی مرے) انہوں نے ہمارا تو کچھ نہیں بگاڑا پر وہ اپنا ہی کچھ کھوتے رہے۔ اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے آپ سے کہا کہ آپ (اریحا نامی) اس گاؤں میں جائیں او راس میں جہاں چاہیں بافراغت کائیں (پئیں) اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوں اور (منہ سے) حطۃ کہتے جائیں ہم ان کی خطائیں معاف کردیں گے اور آپ میں سے جو مخلص لوگ ہیں، ان کو مزید (بھی) دیں گے تو جو لوگ شریر (اور سرکش) تھے، دعائے (استغفار) جو انکو بتائی گئی تھی ، اسکو بدل کر دوسری (بات) بولنے لگے تو ہم نے ان شریروں (اور سرکشوں) پر ان کی نافرمانی کی پاداش میں آسمان سے عذاب نازل کیا۔''

1۔ الغمام (بادل ۔ سفید ابر)یہاں پر اللہ تعالیٰ نے ایک او رانعام کا ذکر فرمایا ہے کہ:

(اےبنی اسرائیل) جب بیابان تیہ میں جھلسا دینے والی دھوپ کی زد میں آگئے تو ہم نے تم پر ابر کا سایہ کردیا۔

2۔ المن والسلویٰ : ( من اور سلویٰ) من اور سلویٰ کیا چیزیں تھیں؟ مختلف بیان کی گئی ہیں:

اوس کی طرح ایک شے پر پڑتی ، صبح حسب ضرورت سبھی لے کھاتے، وہ ٹھنڈی او رمیٹھی ہوتی جیسے ترنجبین اور شبنمی گوند۔ اسے من کہا گیا ہے اور بٹیر کی طرح کے پرندے سالن کی جگہ مل جاتے، جن کو بھون کر وہ کھاتے ، اسےسلویٰ کہا گیا ہے۔ علامہ راغب نے اس کے ایک معنی یہ بھی کیے ہیں کہ:

یہ دونوں دراصل ایک ہی چیز سے عبارت ہے۔ چونکہ محنت او رکلفت کےبغیر ان کو کھانے کو دیا، اللہ کاکرم اور احسان ہوا، اس لیے اس کو ''من'' کہا گیا ہے کہ یہ اس کا احسان ہے چونکہ وہ کھانے بنی اسرائیل کے لیے ''وجہ تسلی'' بھی تھے، اس کو''سلویٰ'' بھی کہا گیا ہے۔ (مفردات)

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں: الْمَنِّ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ فَإِنَّ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ كَالتَّرَنْجَبِينِ(فتح الباری : ج18 ص116)

حضرت قتادہؓ فرماتے ہیں کہ : وہ برف کی طرح پڑتی تھی ، دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں تھی۔

كَانَ الْمَنُّ يَسْقُطُ عَلَيْهِمْ سُقُوطَ الثَّلْجِ أَشَدَّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ (فتح الباری : ج18 ص116)

السلوی طائر یشبه السماني ومن طریق وھب بن منبه قال ھو السماني (ایضاً)

صحیح یہ ہے کہ من او رسلویٰ کھانے کی وہ چیزیں تھیں جو بلاکلفت او رمحنت ان کو دستیاب ہوتی تھیں، اس میں آسمانی و ارضی شیریں اور نمکین قسم کی متعدد اور مختلف اشیاء ہوسکتی ہیں۔ صحیح مسلم میں ہےکہ کھمبی بھی اس من سے ہے جوبنی اسرائیل او رحضرت موسیٰ علیہ السلام پرنازل کی گئی تھی۔

عن سعید بن زید قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: الکمأة من المن الذي أنزل اللہ عزوجل علی بني إسرائیل (ج2ص182 کتاب الاشربۃ)

وفي روایة ) علی موسیٰ علیه السلام (أیضاً)

يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ أَنْوَاعًا مِنْهَا مَا يَسْقُطُ عَلَى الشَّجَرِ وَمِنْهَا مَا يَخْرُجُ مِنَ الْأَرْضِ فَتَكُونُ الْكَمْأَةُ مِنْهُ وَهَذَا هُوَ الْقَوْلُ الثَّالِثُ وَبِهِ جَزَمَ الْمُوَفَّقُ عَبْدُ اللَّطِيفِ الْبَغْدَادِيُّ وَمَنْ تَبِعَهُ فَقَالُوا إِنَّ الْمَنَّ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ لَيْسَ هُوَ مَا يَسْقُطُ عَلَى الشَّجَرِ فَقَطْ بَلْ كَانَ أَنْوَاعًا مِنَ اللَّهِ عَلَيْهِمْ بِهَا مِنَ النَّبَاتِ الَّذِي يُوجَدُ عَفْوًا وَمِنَ الطَّيْرِ الَّتِي تَسْقُطُ عَلَيْهِمْ بِغَيْرِ اصْطِيَادٍ وَمِنَ الطَّلِّ الَّذِي يَسْقُطُ عَلَى الشَّجَرِ(فتح الباری :ج23 ص402)

قال ابن کثیر: والظاھر واللہ أعلم أنه کل ما امتن اللہ به عليهم من طعام و شراب وغیر ذلك مما يیس لھم فیه عمل ولا کد (ابن کثیر:ج1ص95)

ہاں من سےمراد محض ''امتنان او راحسان'' کے معنی لینا محل نظر ہے، قال الحافظ:

  وَفِي هَذِهِ التَّرْجَمَةِ (قَوْلُهُ بَابُ الْمَنِّ شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ)إِشَارَةٌ إِلَى تَرْجِيحِ الْقَوْلِ الصَّائِرِ إِلَى أَنَّ الْمُرَادَ بالمن فِي حَدِيث الْبَاب الصِّنْف الْمَخْصُوص وَمن الْمَأْكُولِ لَا الْمَصْدَرُ الَّذِي بِمَعْنَى الِامْتِنَانِ (فتح الباری: ج23 ص402)

بعض بزرگوں کا خیال ہے کہ : اصلی ''من'' تو وہی میٹھی شے تھی اور ''سلویٰ ''بھی وہی چھوٹا سا پرندہ لیکن بعد میں ہر ایسی چیز کومن و سلویٰ کہہ دیا جاتا ہے جو بلاکلفت او رمحنت حاصل ہو۔

وکثیرون شبھما (أي الکمأة) بالمن الذي کان ینسل علی بني إسرائیل لأنه کان تحصیل لھم بلا کلفة ولا علاج (شرح نووی:ج2 ص182)

راقم الحروف کے شیخ الشیخ حضرت مولانا نذیر احمد دہلوی (ف ...؟؟) رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے مصر سے نکلے تو خدا نے بنی اسرائیل سے وعدہ کیا کہ قوم عمالقہ سے لڑو گے تو ہم تم کو فتح دیں گے اورملک شام میں تمہاری سلطنت قائم کردیں گے۔ہرچند (حضرت) موسیٰ علیہ السلام نے سمجھایا، ان کی ہمت نہ پڑی، اس نافرمانی کی خدا نے ان کو سزا دی اور چالیس برس تک جنگلوں میں بھٹکتے پھرے، چالیس برس کی مدت ، روز کا چلنا، بڑی مصیبتیں جھیلیں، اس پر بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا کی برکت سے خدا نےبنی اسرائیل پر چند در چند مہربانیاں کیں، دھوپ سے بچاؤ کے لیے ابر کا سایہ کرتا، کھانے کےلیے من و سلویٰ ملتا، رات کو جو اوس پڑتی تو ترنجبین کی طرح کی کوئی چیز میٹھی جنگلی درختوں کے پتوں پر جم جاتی وہی من تھی اس کو کھرچ لاتے او ر فرنی کی جگہ کھاتے اور سلویٰ بٹیر کی قسم کا ایک جانور (پرندہ) تھا۔ رات کو جہاں بنی اسرائیل کا پڑاؤ پڑتا یہ جانور آپ سے آپ اُس پاس جمع ہوجاتے یہ ان کوبھون کر کباب بناتے مگر حکم یہ تھا کہ کل کے لیے ذخیرہ نہ کرو۔ ان لوگوں سے صبر نہ ہوسکا او رلگے سینت سینت کررکھنے ۔ آخر کار من و سلوی کا اترنابند ہوگیا۔

سورت مائدہ میں اس کا تذکرہ آگیا ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا:

يَا قَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوا خَاسِرِينَ (21) قَالُوا يَا مُوسَى إِنَّ فِيهَا قَوْمًا جَبَّارِينَ وَإِنَّا لَنْ نَدْخُلَهَا حَتَّى يَخْرُجُوا مِنْهَا فَإِنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا فَإِنَّا دَاخِلُونَ(مائدہ ع4)

بھائیو! (شام کا)مقدس ملک جو خدا نے تمہاری تقدیر میں لکھا دیا ہے، اس میں داخل ہوجاؤ! اور (دشمن کے مقابلے میں)پیٹھ نہ پھیرنا (اگر ایسا کرو گے) تو تم الٹے گھاٹے میں رہو گے، وہ بولے کہ اے موسیٰ! اس ملک میں تو زبردست لوگ (رہتے) ہیں او رجب تک وہ وہاں سے نہ نکل جائیں، ہم تو اس ملک میں قدم رکھتے ہی نہیں، ہاں (وہ لوگ) اس میں سے نکل جائیں تو ہم ضرورت (جا) داخل ہوں گے۔

دو بزرگوں (حضرت یوشع اور حضرت کالب بن یوقنا) نے ان کو خوف خدادلایا او رخدا پر بھروسہ کرنے کی ترغیب دلائی مگر وہ یہی کہتے رہے کہ یہ لوگ نکل جائیں گے تو پھر ہم جائیں گے۔ آپ اور آپ کا رب ، دونوں ہی جاکر لڑیں، ہم تو یہاں سے ہلنے کے نہیں! حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خدا سےدعا کی :کہ الہٰی! اپنی ذات اور بھائی کے سوا میرا کسی پر زور نہیں چلتا(مائدہ:4)

اس پراللہ تعالیٰ نے اعلان کیا کہ:

قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً يَتِيهُونَ فِي الْأَرْضِ (مائدہ ع4)

فرمایا: اچھا تو وہ ملک چالیس برس تک ان کو نصیب نہ ہوگا (مصر کے) جنگل میں بھٹکےبھٹکے پھریں گے۔

3۔ کلوا (کھاؤ! پیو!) کلو نے ان احتمالات کو رد کردیا ہے ، جوبعض بزرگوں نے ''من'' کےمعنی ''امتنان'' کرکے پید کیے تھے گو کسب اور محنت کی سردردی کے بغیربھی ''امتنان'' کی ایک شکل ہے تاہم یہ ''تنہا امتنان'' کی شکل نہیں، مع سامان امتنان کی بات ہے۔

4۔ طیبٰت (پاک او رحلال چیزیں) ان سے مراد ہر وہ چیز ہے جو آسمانی ہدایات کے مطابق میسر ہو او رمالک کی رضا کے تحت ہو۔

سوشلزم کی یہ دریافت کہ : انتفاع کا حق صرف انہیں ملنا چاہیے ، جن کے بازوؤں کی محنت نے اس شے کو تخلیق کیا ہو، قرآن حمید کی اس آیت اور روح کے خلاف ہے ۔ کیونکہ مالک برحق نے انہیں بلا مزد و محنت عطا کیا اور وافر عطا کیا۔ اور پوری قوم بنی اسرائیل ان کو اپنے کام میں لائی، پیغمبر کی موجودگی میں لائی، وحی الہٰی کاتانتا بندھا ہوا تھا، اس وقت لائی اور رب نے ان کو ان کےلیے ''طیبٰت'' کہہ کر مہر تصدیق ثبت کردی کہ ایسی چیز ان کے لیے حلال و طیب ہے۔ ایک شخص کے پاس مکان، زمین یامشین وغیرہ ہے، وہ اپنی رضا سے کسی کو ٹھیکے پر دے کر اس کی آمدنی کھا پی سکتا ہے۔

وَمَا ظَلَمُونَا وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ: کا مطلب یہ ہے کہ یہ مفت کی نعمت بھی ان کو راس نہ آئی اور ان کی شرارتوں کی وجہ سے اپنی ان نعمتوں کا سلسلہ بھی ہمیں بند کرنا پڑا۔

یظلمون (ظلم کرتے رہے، کھوتے رہے، نقصان کرتے رہے) ایک تو ان کی بے انصافی اور زیادتی نہ تھی کہ وہ من و سلویٰ جیسی نعمتوں کی ناشکری کرتے رہے، شکر کے بجائے ناک بھویں چڑھاتے رہے کہ روز روز ایک ہی چیز۔ یہ کیا تُک ہے؟ دوسرا یہ کہ: اب بھی خدا پر بھروسہ نہ کیا، من وسلویٰ کا وافر ذخیرہ بھی کرنے لگ گئے تھے، تیسرا یہ کہ یہ پہلی قوم ہے جس نے کھانے پینے کی تازہ چیزوں کو رکھ کرباسی کرنے کی داغ بیل ڈالی تھی۔

حضور ﷺکا ارشاد ہے:

لولا بنو إسرائیل لم یخنزاللحم (بخاری۔ مسلم)

''اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے (تو) گوشت (باسی ہوکر) متعفن نہ ہوتا۔''

ہمارے نزدیک اگر انسان میں یہ کمزوری نہ ہوتی تو دنیا میں بہت کم بھوکے رہتے، کیونکہ نارم اور عام حالات میں اگر وافر چیزوں کو دوسرے ٹائم کے لیے ذخیرہ کرنے کا لوگ لالچ نہ کرتے اور دوسرے ضرورت مند کو دے دیتے تو بھوک کی یہ نوبت بالکل نہ آتی مگر افسوس! بنی اسرائیل کے سیئات میں جہاں دوسری بعض برائیوں کی ایجاد کا حصہ ہے، جیسےسود، مزدکیت اور سوشلزم وغیرہ وہاں ایک یہ بھی ہے ۔ گویا کہ لوگوں کو پہلے بھوکا رکھنے کی داغ بیل بھی انہوں نے ڈالی۔ پھر اس بھوک کو بہانہ بنا کر مزدکیت او رکمیونزم کا فتنہ بھی انہوں نے ایجاد کیا۔

6۔ ھذا القریۃ : (یہ گاؤں، اس گاؤں) اس سے مراد بیت المقدس ہے یا شام کاکوئی مقدس مقام؟ اس میں اختلاف ہے۔بعض ائمہ کے نزدیک اس سےبیت المقدس مراد ہے۔ کیونکہ دوسری جگہ ہذا القریۃ کے بجائے الارض المقدسہ آیا ہے، کچھ مفسرین کا خیال ہےکہ اس سےمراد ''شام'' کی سرزمین ہے، یعنی اس کے بعض شہر یا گاؤں مراد ہیں – اصل بات یہ ہے کہ واقعۃً مقصود بیت المقدس ہے لیکن یہ ممکن ہے کہ اریحا جو بحر مردار کی شمالی جانب میں پانچ میل کے فاصلہ پر ہے۔ جسے حضرت یوشع بن نون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد فتح کیا تھا، بیت المقدس کے سلسلہ کی کوئی اہم فوجی جگہ ہو۔ اس لیے اس کا بھی نام آگیا ہو۔کچھ بزرگوں نے کچھ اور گاؤں اور قصبوں کے نام بھی لیے ہیں، ان سب کے متعلق یہی کہاجاسکتا ہے کہ یہ سب فوجی اہمیت کی کوئی جگہیں ہوں، یا یہ کہ اریحا وغیرہ بول کر مراد اس سے بیت المقدس ہو، لیکن حافظ ابن کثیر اس سے مطمئن نہیں ہیں، فرماتے ہیں:اصل مقصود بیت المقدس کو فتح کرنا تھا، باقی رہا اریحا؟ سو فرماتے ہیں کہ اس سلسلہ میں وہ بیت المقدس کے راستے میں بھی نہیں پڑتا الا یہ کہ اریحا بول کربیت المقدس مراد لیاجائے۔

وَفِي هَذَا نَظَرٌ؛ لِأَنَّ أَرِيحَا لَيْسَتْ هِيَ الْمَقْصُودُ (2) بِالْفَتْحِ، وَلَا كَانَتْ فِي طَرِيقِهِمْ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ..... [اللَّهُمَّ] (3) إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِأَرِيحَا أَرْضَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، كَمَا قَالَهُ -السَّدِّيُّ(تفسیر ابن کثیر : ج2ص37 سورہ مائدہ ع4)

یہ بھی ممکن ہے کہ یہ قصہ ہی دوسرا ہو، مصر کی شہری زنگی میں جن چٹپٹے کھانوں اور شہری لطافتوں کا ان کو چسکا پڑ گیا تھا، اب ان کو ان کی یادستاتی رہتی تھی، ہوسکتا ہے کہ ان کی اس پیاس کی تسکین کے لیے ان سے کا گیا ہو کہ دیکھئے! اس قصبے میں تمہیں داخلے کی اجازت ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اس کےپھانک میں داخل ہوتے ہی شکرانہ کے نفل پڑھیے او راستغفار کو نہ بھولیے، لیکن وہاں جاکر مذاق اور مخول کرنے لگ گئے۔ چونکہ سوشلسٹ کی دلچسپیاں پیٹ او رنان کے محور کے گرد گھومتی ہیں او ردین کامذاق اڑانا ان کی طبیعت ثانیہ ہوتی ہے ۔ اس لیے وہاں جاکر حطۃ (توبہ) کی جگہ حنطۃ (گندم کا ٹوپہ) بولنے لگ گئے! خدا اور اس کے رسول کے سلسلے میں تضحیک کا یہ انداز بہت ہی شرمناک ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر آسمان سے عذاب نازل کرکے ان کا خمار دور کیا۔

7۔ ادخلوا الباب سجدا: (دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوں) اگر اس قریہ اور سورہ مائدہ رکوع 4 میں ادخلوا الأرض المقدسة والا واقعہ ایک ہےتو اب اس کے یہ معنی ہوں گے کہ جب فاتحانہ شان سے بیت المقدس میں داخل ہوں تو نفل پڑھیں یا شکرانے کا سجدہ کریں او ررب کے حضور استغفار کیا کریں۔

سجداً اس کے دو مفہوم ہیں ایک یہ کہ جب فاتحانہ شان سے داخل ہوں تو اترا کر نہ داخل ہوں ، بلکہ رب کے غلام کی حیثیت سے سرجھکا کر اور عاجزانہ انداز میں داخل ہوں، جیسےفتح مکہ کے موقع پر رسول کریمﷺ کی کیفیت تھی، دوسرے یہ کہ شہر میں داخل ہوکر شکرانے کے نفل پڑھیں، جیسے رسول کریمﷺ نے مکہ مکرمہ میں داخلے کے بعد آٹھ رکعت نفل پڑھے تھے، بعد میں فاتح امیر جیش او رامام کے لیے یہ مسنون قرار دیاگیا کہ وہ شکرانے کے نفل پڑھا کریں چنانچہ جب ایوان کسریٰ میں حضرت سعد داخل ہوئے تو اس میں اُنھوں نے آٹھ رکعت نفل پڑھے۔

وَلِهَذَا كَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَظْهَرُ عَلَيْهِ الْخُضُوعُ جِدًّا عِنْدَ النَّصْرِ، كَمَا رُوِيَ أَنَّهُ كَانَ يَوْمَ الْفَتْحِ -فَتْحِ مَكَّةَ-دَاخِلًا إِلَيْهَا مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا، وإنَّه الْخَاضِعُ لِرَبِّهِ.... ثُمَّ لَمَّا دَخَلَ الْبَلَدَ اغْتَسَلَ وَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ...فَاسْتَحَبُّوا لِلْإِمَامِ وَلِلْأَمِيرِ إِذَا فَتَحَ بَلَدًا أَنْ يُصَلِّيَ فِيهِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ عِنْدَ أَوَّلِ دُخُولِهِ، كَمَا فَعَلَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا دَخَلَ إِيوَانَ كِسْرَى صَلَّى فِيهِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ،(ابن کثیر: ج1 ص699 ع6)

آیات کے سیاق اور احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ تمام انبیا ء کی یہ سنت کریمہ ہے کہ اسلامی فتوحات کے آخر میں بھنگڑا ناچ کے بجائے عبدیت کا پیکر بن کر رہیں۔ گردن فراز نہ ہوں، سرجھکا ہو، شکرانے کا سجدہ ادا کریں اور نفل پڑھیں۔ دین موسوی میں بھی یہ سنت تھی او راب بھی۔

8۔ قولوا حطة: (توبہ توبہ کہو) مقصد یہ ہے کہ فتح کے بعدبکواس نہ کریں نہ فلمی نوعیت کے یا متکبرانہ گیت گائیں بلکہ استغفار کریں۔ ہم آپ کی خطائیں معاف کردیں گے اور مزید کرم بھی کریں گے۔

9۔ فبدل : (تو اس نے بدل دیا) مقصد یہ ہے کہ انہوں نے ہماری ہدایت کی پابندی نہ کی اور ذلیل حرکتوں پر اتر آئے۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا۔

فقہ القرآن:

(1) سیاسی اور روحانی برتری بھی اللہ تعالیٰ کا انعام ہے ۔ واذكرو ا نعمتي التي أنعمت عليكم

(2) قیامت میں انسان کے کام صرف اپنے اعمال آئیں گے۔ لا تجزي نفس عن نفس۔

(3) وہاں ایسا کوئی رسہ گیر نہ ہوگا جو اپنے جرائم پیشہ افراد کی سفارش کرسکےگا او رنہ ہی وہ قبول کی جائے گی۔ ولا يقبل منها شفاعة کیونکہ مجرموں کے ساتھ رسہ گیروں کا مفاد وابستہ ہوتا ہے۔ لیکن شفاعت میں صرف '' خدا ترسی'' والی بات ہوگی۔ بہرحال وہاں سفارش رسہ گیروں جیسی نہیں ہوگی۔

ہاں ان دیدہ وروں سے سفارش ممکن ہوگی جو اذن الہٰی سے ان افراد کی سفارش کریں گے جو گنہگار تو ہوں گے مگر منکرخدا نہیں ہوں گے۔ واشفع تشفع (بخاری) أسعد الناس بشفاعتي یوم القیمٰة من قال لا إله إلا الله خالصا من قلبه۔

کیونکہ اب بات خطا او رکوتاہی کی رہ جاتی ہے جو صرف بشری کمزوری کانتیجہ ہوتی ہے۔ خدا کے حضور ان کی سرکشی اور بغاوت کا ان پر الزام نہیں ہوگا۔ سفارش کنندہ اس امر کا پابند ہوگی کہ جائز سفارش کرے: وقال صوابا (پ30۔عم) جائز کے یہی معنی ہیں کہ مجرم میں گند کے دھبے تو ہوں لیکن ان کامحرک ''أنا ربكم الأعلى'' کی ڈینگ نہ ہو بلکہ ہر خطا پر ان کو خوف خدا کے احساس کے جھٹکے بھی ان کو محسوس ہوتے ہوں۔

(4) وہاں رشوت کی قسم کی کوئی سبیل ممکن نہیں رہے گی، نہ ہی کوئی مال فدیہ کی کوئی بات ہوگی۔ ولا يؤخذ منها عدل۔

(5) وہاں ایسی کوئی شخصیت نہیں ہوگی جو خدا کے مقابلے میں خم ٹھونک کر میدان میں اتر آئے او رآپ کی کوئی مؤثر مدد کرپائے۔ ولاهم ينصرون۔

(6) بچوں اور عورتوں کا قتل عام فراعنہ کی سنت سیئہ ہے اسلام نے جنگ میں بھی اس کی اجازت نہیں دی۔

(7) طاقتور حکمران افراد اور اقوام اگر غلط رو ہیں تو ان کامستقبل شدید خطرہ میں ہوتاہے۔ واغرقنا آل فرعون۔

(8) معصیت او رعدوان شرک اور کفر بھی توبہ اور رجوع الی اللہ سے معاف ہوسکتے ہیں۔ ثم عفونا عنكم اس لیے ایسے افراد اور اقوام کو تبلیغ جاری رکھنی چاہیے ، کیا پتہ کس وقت کسی کو ایمان اور رجوع الی اللہ کی توفیق نصیب ہوجائے۔

(9) دنیامیں ان مادی آنکھوں سے ''خدا'' کا دیدار ممکن نہیں ہے۔ (فأخذتكم الصاعقة) من زعم أن محمدا  رأی ربه لقد أعظم علی الله الفرية (مسلم)

(10)خرق عادت کا سلسلہ روز اوّل سے جاری ہے او رانبیاء او رصلحاء سے حسب مراتب سب ممکن او ربرحق ہیں۔ ظللنا عليكم الغمام

(11) حلال او رطیب صرف وہ ہے جو حق کی بخشش یا اس کے قوانین کےمطابق حاصل ہو۔كلوا من طيبات ما رزقنكم

(12) فتح و نصرت ، بیٹھے بٹھائے حاصل نہیں ہوتی، جان جوکھوں میں ڈالنا پرتی ہے۔لیکن مظفر و منصور ہونے کے بعد بھنگڑا ناچ نہیں، توبہ و استغفار اور نوافل کا التزام کرنا چاہیے۔ ادخلوا هذي القرية

(13) انعام و اکرام اور اعزاز جس طرح مل سکتا ہے، اسی طرح اگران کی شرم نہ رہے تو ضائع بھی ہوسکتا ہے۔ فَأَنْزَلْنَا عَلى الَّذِينَ ظَلَمُوا رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِلیکن بے سبب یہ انقلاب نہیں آتا بلکہ یہ انقلاب خود ان کے اندر سے اٹھتا ہے۔

إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ(پ13۔ رعد ع2)