14۔ ماہ..... ملّی راہنماؤں کے لیے لمحہ فکریہ

پاکستان میں ''تحریک نظام مصطفیٰ'' کے نتیجہ میں 5 جولائی 1977ء کو موجودہ عوامی حکومت برسراقتدار آئی تو اس کے سربراہ جنرل محمد ضیاء الحق چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر پاکستان نے اسلامی نظام حکومت کے بارے میں اپنے خطابات او ربیانات میں بڑے مخلصانہ اور حوصلہ مندانہ خیالات کا اظہار فرمایا جس سے مسلمانوں کو عموماً اور ''تحریک نظام مصطفیٰ'' کے لیے قربانیاں دینے والوں کو خصوصاً امید پیدا ہوئی کہ تیس سال کے شدید انتطار کے بعد اب وہ سعید گھڑی آنے کو ہی ہے جب پاکستان میں سرکاری سطح پر اسلام کا دور دورہ ہوگا۔ یہ خطہ زمین حسب وعدہ ہر ذی نفس کے لیے امن و امان کا گہوارہ بنے گا اوردور حاضر میں اسلام کی مثالی تجربہ گاہ اور کلمۃ اللہ کی بلندی کا روشن مینارثابت ہوگا.... ان شاء اللہ

اب تقریباً چودہ ماہ سے مسلمانوں کا انتظار روز بروز شدت اختیار کرتا جارہا ہے کہ وہ کون سا مبارک دن ہوگا جب ہماری حکومت ہر عدالتی اور انتظامی حکم کے لیے کتاب و سنت کی مطابقت کا سرکاری اعلان کردے گی جو پاکستان میں شریعت کی عملداری کی طرف پہلا قدم ہوگا گویا جیسے ایک شہری اسلام کی حدود میں داخل ہونے کے لیے لا اله الا اللہ محمد رسول اللہ کازبان سےاقرار کرتا ہے ایسے ہی حکومت اپنے دستور و قانون میں کتاب و سنت کی بالادستی کے اعلان سے''کلمہ طیبہ'' پڑھتی لیکن جہاں یہ انتظار طول طویل ہوتا جارہا ہے وہاں اسلامی نظام کو ناقابل عمل ثابت کرنےاور شریعت کی عملداری کو مشکوک بنانے کے لیے مختلف انداز سے کئی بے کار بحثوں کا دروازہ کھول دیا گیا ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ اسلام چودہ صدیاں قبل سے نافذ ہے اگر عوام اسلام پرعمل پیرا ہوں تو کسی اعلان کی ضرورت نہیں۔ کبھی شریعت اسلام پر سرکاری طور پر عمل درآمد کے لیے ''تدریج'' کی باتیں کی جاتی ہیں اگر اگر پھر بھی عوام کی بے قراری باقی رہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ کام دو تین دن میں نہیں ہوسکتا، یہ کام کم از کم دو تین سال میں ممکن ہے۔ سمجھدار مسلمانوں کو ایسے خیالات کی اشاعت سے اگرچہ ان کے بے بنیاد ہونےکا شبہ بھی نہیں پڑسکتا کیونکہ ان کا ایمان بدیہی طور پر اس فکری غلطی کی نشاندہی کررہا ہے لیکن جس طرح بعض اسلامی ذہن کی حامل اور اسلام کے نام پر سیاسی قیادت کی دعویدار جماعتوں نے بھی موقعہ بہ موقعہ ان خیالات کی تائید کی ہے یا کم از کم خاموشی اختیار کی ہے اس سے واقعی ملت کے بہی خواہوں کو پریشانی ہوئی ہے۔ نیز ان جماعتوں کے طرز عمل سے بعض سادہ لوح بہت سی غلط فہمیوں کا شکار ہورہے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ شبہات کے ازالہ کے لیے اسلام کی بنیاد ی لائنیں واضح کردی جائیں تاکہ ان شبہات کے مبلغ دانشور طقہ کی خام خیالی کا پردہ چاک ہوجائے۔

یہ درست ہے کہ اسلام چودہ صدیاں قبل سےمکمل طور پر نافذ ہے ۔ اسی لیے ہم نماز روزہ کرتے ہیں لیکن اس سے یہ مطلب لینا بالکل غلط ہے کہ قانونی، سیاسی، معاشرتی او راقتصادی شعبوں میں جن میں آج کل کی حکومتیں تمام عوامی اختیارات کی نمائندہ بنی ہوئی ہیں اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی غیر اسلامی نظام کو تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں حالانکہ بلا شبہ ان شعبوں میں بھی چودہ صدیاں قبل سے اسلام نافذ ہے او ران شعبوں میں کلیدی اختیارات کی حامل حکومتیں اور ادارے اسی طرح مخاطب ہیں جس طرح ایک عام آدمی نماز، روزہ کا مخاطب ہے۔ شریعت کے خطاب میں تو نماس، زکوٰۃ کی حد تک بھی شہری اور حکومت کی طبقاتی تقسیم نہیں ہے اور قرآن کریم میں تقریباً ہر جگہ یہ حکم عام ہے۔ بلکہ تمکن فی الارض کی صورت میں زیادہ اختیارات کے حامل ادارے نماز، زکوٰۃ کے نظام کی ترویج اور دوسروں سے یہ کام کروانے کے بھی ذمہ داری ہیں۔لہٰذا قانونی حیثیت سے غور فرمائیے تو جن شعبوں میں ہم اسلام کے مخاطب ہوکر شریعت کی عملداری نہیں کرتے ان میں ہم خدائی حاکمیت کے باغی بنتے ہیں۔ جب کوئی قانون نافذ العمل ہو تو اس کی اتباع سے علی الاعلان انحراف ''بغاوت'' ہوتا ہے ہم چودہ صدیاں قبل سےشریعت کے نفاذ کی بات کرکے ''اعلان'' سے بچنا چاہتے تھے لیکن اس ''صحیح تصور'' نے ہمیں اسلام کی رُو سے باغی بنا دیا۔ اسی تصور نے ''اسلام کے بتدریج نفاذ'' کا نظریہ بھی باطل کردیا کیونکہ شریعت چودہ صدیاں قبل مکمل ہوچکی ہے۔ ہم مکمل شریعت کے ہی مخاطب ہیں۔ انبیاء پر شریعت کے درجہ بدرجہ اترنے کے قیاس سے اب کئی قسطوں میں ''نفاذ شریعت '' کا اعلان قطعاً غلط ہے۔ ہم پہلے واضح کرچکے ہیں کہ ''کلمہ طیبہ'' کی طرح کا اعلان ہر شخص (فرد ہو یا ادارہ، شہری ہو یا حکومت)کا فوری فریضہ ہوتا ہے اس بارے میں ایک لمحہ کا بھی موقع مل جائے تو تاخیر کی گنجائش نہیں۔ اس سلسلہ میں مخلص مسلمان کاطرز عمل حضرت ابوذر غفاری کے اس اظہار سے واضح ہے۔

''اگر تم میری گدّی پرتلوار رکھ دو پھر میں اتنی مہلت پاؤں کہ کلمہ حق زبان سے کہہ سکوں تو اس سے قبل کہ تم میری گردن کاٹو'' اس کلمہ کونافذ کردوں گا۔''

یوں تو دنیا بھر میں مسلمان اپنی حد تک انفرادی او راجتماعی دائروں میں اسلامی تعلیمات کو جزوی طور پر اپنائے ہوئے ہیں او رمسلمانوں کی سیاسی تحریکوں میں بھی حکومت کی سطح پر شریعت کے قیام کا نعرہ ایک ''موثر انقلابی قوت'' اختیارکرچکا ہے۔ لیکن یہ ایک المیہ ہے کہ ایسی تحریکوں میں بے پناہ قربانیوں کے بعد جب مملکت میں اسلامی قانون کی عملداری کامرحلہ آتا ہے تو کبھی پہلے ''معاشرتی حالات کوسازگار بنانے'' اور کبھی ''اسلامی قانون کی متفقہ تدوین'' کی باتیں شروع کردی جاتی ہیں۔ سیاسی اعتبار سے شاید یہ حربہ کامیاب ہو لیکن ذرا اندازہ کیجئے ان زخموں کا جو اسلام کا پھل چکھنے کے لیے''تحریک '' کے دوران جیالوں نےاپنا تن من دھن قربان کرکے کھائے ہوئے ہیں کہ انہیں ایسے چرکوں سے تازہ کیاجاتا ہے؟

ہم سمجھتے ہیں ایسی باتوں کا جواب مسلمان کی سوچ سے بڑا سادہ ہے کہ جب اللہ کی کتاب ''قرآن کریم'' مکمل دستور زندگی کی صورت میں تاقیامت نافذ ہے تو کیا اس میں ان الجھنوں کا حل موجود نہیں جو حکومت کی طرف سے کتاب و سنت کی بالادستی کے فوری اعلان کے ضمن میں پیش آسکتی ہے، حقیقت یہ ہے کہ دریا میں کودنے سے قبل ان مشکلات سے خلاصی حاصل نہیں کی جاسکتی جو تیراکی کے دوران میں پیش آسکتی ہیں۔ اگر ایک لمحہ کےلیے یہ فرض کرلیا جائے کہ کتاب و سنت کے عملی نفاذ سے قبل متذکرہ بالا دو مرحلوں سے گزرنا ضروری ہے تو اس کامطلب یہ ہوا کہ ہم مسلمان قرآن کریم پرایمان رکھتے ہوئے ایک طرف ہر قانونی، عدالتی او رانتظامی حکم کو کفر، ظلم اور فسق سمجھتے ہیں ۔ تو دوسری طرف حکومتی سطح پر کتاب و سنت کی دستوری حیثیت یعنی اس اہم شعبہ میں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا اعلان کیے بغیر فضا کی استواری کی امید رکھتے ہیں۔ اگر حکومت کے لیے کتاب و سنت کو اپنائے بغیر فرد و معاشرہ کا مزاج اسلام سے ہم آہنگ ہوسکتا ہے تو ایک شخص کل کلاں یہ دعویٰ بھی کرسکتا ہے کہ اب معاشرہ کی حالت اسلامی ہوچکی ہے ایسے سلجھے ہوئے معاشرہ کو اپنی صوابدید پر چھوڑ دینا چاہیے، قانونی جبر ایسے معاشرے کےلیے نامناسب ہے گویا اگر فضا کی استواری دیگر انسانی تدبیروں سے ہی ممکن ہے تو ایسے ہم مرحلہ کو الہامی رہنمائی کے بغیر طے کرنےکے بعد کتاب و سنت کی اہمیت ہی کیا رہ جاتی ہے؟ جب میدان اس چیز سے ہموار ہوجائے جسے اللہ تعالیٰ کفر ، ظلم اور فسق کہیں تو ''کتاب وسنت میں ہی ہماری فلاح و نجات ہے'' کے نعرہ کی صداقت ہی ختم ہوجاتی ہے۔

فضا کے ناموافق ہونےکے ضمن میں بعض حلقوں کی طرف سے شریعت کی عملداری کے لیے ایک اہم رکاوٹ ''اسلامی مشینری کا فقدان'' پیش کی جاتی ہے۔ یہ بات کسی فکر کوعملی جامہ پہنانے کے لیے ''مشینری کی ضرورت'' کی حد تک تو درست ہے لیکن یہ مشینری ایسے تو حاصل نہ ہوگی کہ نظام وہی باقی رہے او رکارندے بھی وہی براجمان رہیں بلکہ اس سلسلہ میں انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ذرا غور فرمائیےکہ جو لوگ اسلام کےنام پر دیوانے ہوکر قاہر او رجابر قوتوں کوسرنگوں کرسکتے ہیں وہ ان شاء اللہ اتنے تہی دامن ثابت نہ ہوں گے کہ معاونین کی معتدبہ تعداد متعلقہ شعبوں کے لیے ہ پیش نہ کرسکیں بلکہ یہ خیال بھی موہوم ہے کہ جملہ مشینری تبدیل کرنی پڑے گی جو لوگ کم از کم ذہنی طور پر مسلمان ہوں ان کی اسلامی تربیت کا انتظام کردیا جائے بلکہ ہنگامی طور پر اسلام کی سمجھ رکھنے والے اشخاص کا تعاون ہی حکومت کی گاڑی کو اسلامی طرز پر چلاسکتا ہے اور انہی اشخاص کی رفاقت میں کام کرنے سے دوسروں کی کسی حد تک تربیت بھی ہوجائے گی۔ البتہ ان لوگوں کو کلیدی جگہوں سے ہٹانا ضروری ہوگا جو اپنے اختیارات سے موجودہ نظام میں تبدیلی لانے میں رکاوٹ ہیں۔ یہ خیال بھی درست نہیں کہ افراد یا نظام کی تبدیلیوں سے سارا معاملہ گڑ بڑ ہوجائے گاکیونکہ ظاہری طور پر انسان ایسا محسوس کرتا ہی ہے جیسے دنیا میں بڑے بڑے عبقری(Genius) آتے او رپھر جاتے رہے۔ ان کے انتقال کو اس طرح محسوس کیا گیا جس طرح ایک جہان چلا گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے دنیا کا نظام ہی ایسا رکھا ہے کہ خلا پُر ہوجاتا ہے۔ پھر یہ بات تو دنیاوی امور میں نظر آتی ہے جولوگ خدا کیدین کی مدد کرتے ہیں۔ اللہ ان کی خصوصی مدد فرماتا ہے۔ ارشاد ہے:وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ(الحج:40) شرط صرف یہ ہےکہ تدبیروں کے ساتھ ساتھ تقدیروں کے مالک پر ''توکل'' کیا جائے۔ ارشاد ہے:وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (الطلاق:3) اس لیے ہم اس خیال کوصحیح نہیں سمجھتے کہ موجودہ مشیرینی اسلام کی عملداری میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔البتہ اگر کدا پر توکل کے ساتھ اپنی حالت خود بدلنے کی کوشش کرنے کی بجائے کسی غیراسلامی نظام کی تربیت یافتہ مشینری پر تکیہ کرلیا جائے تو واقعی پھر کسی اصلاح کی امید نہیں کرنی چاہیے۔ ہم کمیونسٹ انقلابیوں کو دیکھتے ہیں جو بمشکل ایک فیصد اقلیت کی سازشی قوت سے برسراقتدار آتے ہیں لیکن ببانگ دہل پہلےہی روز کمیونسٹ کلمہ 'ّعوامی حاکمیت'' کا اعلان کرتے ہیں پھر مسلم معاشروں میں سے ہی انہیں وہ مشینری بھی میسر آجاتی ہے جو کمیونسٹ انقلاب کے مکمل کرنے میں مدددیتی ہے جبکہ مسلم معاشروں میں سیاسی اسلامی تحریکیں نوے فیصد عوام کی حمایت او رپشت پناہی کا دعویٰ کرتی ہیں لیکن جب برسراقتدار آتے ہیں تو معاشرہ کی ناموافق فضا کا گلہ شروع کردیتے ہیں۔ اگردنیا ایمان متزلزل ہوتوپھر فضا غیرموافق ہی نظر آتی ہے۔ مومن کا کام ہے صحیح سمت چل پڑنا۔ فضا کو صاف کرنا او رموافق بنانا اللہ نے اپنے ذمے لے رکھا ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ ایک دفعہ اللہ پر توکل کرکے دستوری حیثیت سے کتاب و سنت کی بالادستی کا اعلان کردیا جائے تو کتاب و سنت کے خادموں کی کمی محسوس نہ ہوگی جب کوئی اپنا رخ اللہ کی طرف کرکے من انصاری الی اللہ کا نعرہ لگاتا ہے تو اسے خدائی خدمت گار مل ہی جایا کرتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ خلفائے راشدین سے لے کر زمانہ حال تک کسی علاقے میں جب کسی صاحب اختیار نے خدائی قانون کی حاکمیت قائم کرنے کے لیے مجاہدانہ جرأت کا مظاہرہ کیا ہے تو اسے غائب و خاسر نہیں ہونا پڑا۔ دور کیا جائیے دور حاضر ہی کی ایک مثال حجاز مقدس میں سعودی حکومت کا قیام اور شریعت کی عملداری کی پیش کی جاسکتی ہے۔ سعودی حکومت کے آنے سے قبل وہاں کی دگرگوں حالت کا اندازہ اس سےلگایا جاسکتا ہے کہ حج پرجانے والے زندگی بھر کے معاملات سے عہدہ برآ ہو کر اس خیال سے سفر کیا کرتے تھے کہ صحیح سلامت واپسی کا امکان کم ہے لیکن شیخ الاسلام محمد بن عبدالوھاب نے جن لوگوں کو سادہ انداز میں سلفی عقیدہ کے ساتھ جہاد کے جذبہ سے سرشار کردیا تھا ان کی مٹھی بھر تعداد نے چند دنوں میں حجاز کیکایا پلٹ کر رکھا دی۔ اپنے رب پر کامل ایمان او راسلام پر غیر متزلزل یقین رکھنے والوں نے لمحہ بھر کے لیے فضا کی عدم موافقت کااحساس رکھنا گوارا نہ کیا او رقوت حاصل کرتے ہی نہ صرف وہاں نظام شریعت قائم کرنے کااعلان کرکے انقلابی تبدیلیاں کیں بلکہ توحید پر مبنی اپنے مخصوص اعتقادات کو بھی عملی جامہ پہنایا حالانکہ یہ وہ دور تھا کہ شرعی پابندیوں کو ناروا سمجھنے والے تو ان کے مخالف تھے ہ خود کو دیندار کہنے والے لوگوں میں بھی ان کے خلاف غلط فہمیوں کی بناپر سخت نفرت پائی جاتی تھی اور دنیا بھر میں ان کے خلاف بزرگوں کی توہین کا غلط پروپیگنڈا بھی کامیاب ہوچکا تھا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ان سے نسبت اور وہابی کا لفظ آج تک ایک مذہبی گالی شمار ہوتا رہا ہے۔ انگریز سامراج نے بھی ہند میں شہیدین کی تحریک کو ناکام بنانے کے لیے ''وہابی'' کو Exploit کرکے خوب سیاسی فائدہ اٹھایا حتیٰ کہ سرکاری سطح پر یہ لفظ ''باغی'' کے مترادف سمجھا جاتا رہا۔

ان اندرونی او ربیرونی الجھنوں اور رکاوٹوں کے باوجود سعودی عرب میں شریعت کی عملداری کا کامیابی تجربہ ان بے یقین لوگوں کا جواب بھی ہے جو نبی کریمﷺ اور خلفائے راشدین کی کامیاب کوششوں کو صرف ان کی شخصیتوں کا خاصہ قرار دےکر فرار کی راہ نکال لیتے ہیں یا حالات کے مختلف ہونے کا فلسفہ بگھارا کرتے ہیں۔ لیکن تعجب اس وقت ہوتا ہے جب دوسرے ہیسانس میں یہ بھی کہنے لگتے ہیں کہنبی اکرم ﷺ نے پہلے افراد امت کی تربیت کی تھی۔ اس سے وہ یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ جس طرح تدریج سے شریعت مکمل ہوئی اسی طرح پہلے تدریج سے تربیت مکمل ہونی چاہیے۔ ہم پہلے واضح کرچکے ہیں کہ ''تدریج'' کا نظریہ غلط ہے کیونکہ اب ہم مکمل شریعت ہی کے مخاطب ہیں اسی طرح اگر بات لوگوں کومومن بنانے کی ہو تو اس کے لیے یقیناً تزکیہ کا وہی طریقہ کار ہے لیکن یہاں اصل مسئلہ حکومت کے شریعت کے مکلف ہونے کا ہے تاکہ حکومت کی سطح پر ''اسلامی قانون'' کی بالادستی سے ساری ملت کا رخ ایک ہوجائے کیونکہ جب نجی حیثیت سے پوری قوم کتاب و سنت کی مخاطب ہوتو سیاسی او رانتظامی حاکمیت بھی اسی کی ہونی چاہیے تاکہ نجی اور سرکاری حیثیت سے ملت میں وحدت قائم ہو۔ کتاب و سنت کی بالادستی کےسرکاری اعلان کامطالبہ اس لیے ہےکہ اس ثنویت کا خاتمہ ہوسکے کہ ہم ایک طرف شریعت کے تحت انفرادی اور اجتماعی زندگی کے اہم میدانوں میں غیر شرعی قانون مملکت کی بھی اطاعت کرکے شریعت کے باغی نہ بنیں ۔ ظاہر ہے کہ یہ چیز ''تزکیہ نفس'' کی بجائے ''سیاسی اقتدار'' سے متعلق ہے خود نبی ﷺ نے سیاسی اقتدار کے تحت جب بھی کوئی فیصلہ یا حکم جاری فرمایا تو وہ بموجب حکم الہٰی وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ اللہ کی شریعت سے ہی جاری فرمایا حالانکہ جس سیاق و سباق میں یہ آیت اتری وہ یہود سے متعلق ہے گویا یہود کے درمیان فیصلہ میں بھی شریعت الہٰی سے انحراف نہیں کیاجاسکتا۔ اسی طرح خلفائے راشدین کے دور میں جب غیرمسلم علاقے فتح ہوتے رہےتو ان میں فوری طور پر شریعت کے نفاذ کا اعلان ہوتا رہا کبھی کسی نے پہلے ذہنی تربیت یامعاشرتی استواری کا انتظار نہ کیا۔ ہمارے ہاں تو الحمد للہ مسلم آباد ہیں۔غیرتربیت یافتہ ہی سہی۔ شریعت کے باغی تو نہیں ہیں پھر آخر رائج الوقت قانون کے تحت بھی فیصلےہورہے ہیں۔سزائیں بھی دی جارہی ہیں جبکہ بموجب فرمان الہٰی وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ اگر کوئی شخص اس کو ظلم قرار دے تو ہمارے پاس کیا جواب ہے۔؟

بالفرض اگر مروجہ قانون و نظام کےفوری خاتمہ سے قانون و ضابطہ کا خلا بھی تسلیم کرلیاجائے (حالانکہ یہ غلط ہے کیونکہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے) تو ایسی صورت میں بھی شریعت کے تحت سمری فیصلے او رمارشل لاء احکام کی طرح شرعی احکام قرآن کی رُو سے موجودہ ظالمانہ نظام سے بدتر تو نہ ہون گے۔ آخر دنیا بھر میں عبوریدور کے لیےمارشل لاء کے فوری ضوابط اور احکام سے بھی کاروبار حکومت چلتا ہے۔

جہاں تک ''اسلامی قانون کی تدوین'' کا تعلق ہے اوّل تو یہ چیز ہی بنیادی طور پر غلط ہے کہ کتاب و سنت جیسے ''دستور زندگی'' کےعلاوہ کسی دوسرے مدون قانون کو اسلامی ریاست کامستقل دستور قرار دیاجاسکتاہے بلکہ ایسے کسی بھی مدون قانون کی حیثیت ذیلی یا مددگار قانون کی ہوگی کیونکہ مستقل حیثیت صرف کتاب و سنت کو ہی حاصل ہے جوابدی دستور ہے اسی لیے اس کی تدوین بھی ایسے انداز کی ہے جو زندگی کی فطری رہنمائی سے مناسب ہے۔ باقی قانون خواہ انسانی ذہنوں کی اختراع ہوں یا کتاب و سنت سے انسانی سوچوں کا حاصل وہ اپنی طرز کےمعاشروں میں مقامی او رہنگامی رہنما قانون تو قرار دیئے جاسکتے ہیں لیکن اسلامی ریاست جیسےمستقل ادارے کا پائیدار قانون نہیں بن سکتے، تاہم کسی وقتی ضرورت کے پیش نظر ''تدوین'' کو بڑی اہمیت بھی دے دی جائے تو الحمداللہ اس سلسلہ میں کسی سردردی کی ضرورت نہیں کہ وہ اعلان شریعت میں تاخیر کا سبب ہو۔ ہمارے ہاںمحدثانہ او رمخصوص فقیہانہ انداز کے اتنے مدون مجموعہ جات موجود ہیں کہ ان کو گننے اور صرف تعارف کرانے کے لیےبیسیوں جلدوں پر مشتمل کتابیں تیار کی جاسکتی ہیں او ربفضلہ تعالیٰ ایسے بیش قیمت تذکرے دنیابھر کی مشہور زبانوں میں موجود بھی ہیں۔ فقہ و قانون کے تقابلی مطالعہ کی کتاب و تو جدید معاشروں میں نئے پیدا شدہ مسائل پر بصیرت افروز رہنمائی کاکام دے سکتی ہیں اور نجی سطح پر علماء اور مفتی حضرات انہی سے درپیش مسائل کا جوب دیتے بھی رہتے ہیں۔ آخر نجی طور پر یہ کام پہلے چل رہا ہے تو سرکاری سطح پرکیوں نہیں چل سکتا؟ اگر زیادہ اہم معاملہ ہو تو اسی طرح علماء اور ماہرین پر مشتمل اسلامی کونسل سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ ذیلی اور مددگار قانون میں اگر اتفاق رائےممکن ہو تو یہ الہامی قانون کے قائم مقام ہوگا۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ براہ راست خدائی رہنمائی (نبوت )کے سوا انسانی سوچ پہلودار ہوتی ہے۔ اس میں اتنی جامعیت اور ابدیت نہیں ہوسکتی جو خدائی قانون کی جگہ لے سکے۔ بالفرض اگر ایسا پہلو دار قانون مستقل دستور مملکت قرار دے دیا جائے تو تو یہ ترقی پذیر معاشرے کے لیے پاؤں کی زنجیر ثابت ہوگا۔

تیسری وجہ یہ ہے کہ کتاب و سنت کے علاوہ کوئی مدون قانون متفقہ بنایا ہی نہیں جاسکتا۔ کتاب و سنت کی تعبیر میں اختلاف کے کچھ پہلو واقعی ضرر رساں ہیں لیکن اس اختلاف کا ایک روشن پہلو قانون کی لچک دار اور ارتقا پذیر شکل کو باقی رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس لیے بیک وقت یہ دو فائدوں کا حامل ہے۔درپیش مسئلہ میں''فتویٰ'' کی حیثیت سے اور آئندہ کے مسائل میں قانونی رہنما کی حیثیت سے ۔ پھر جب مستقل قانونی حیثیت سے کتاب اللہ کے لیے سنت رسول اللہﷺ کی صورت میں ایک متفقہ تعبیر اسوہ حسنہ (عملی نمونہ) کی صورت میں موجود ہے تو اس ابدی تعبیر کو اپنانے کے دوران جزو ی مسائل میں اجتہادات کا جو اختلاف رونما ہوتا ہے اس کا ضرر رساں پہلو مزید کمزور پڑ جاتا ہے۔

چوتھی بات جس کا تعلق اس بارے میں تاریخی تجزیے سے ہے یہ ہےکہ مسلمانوں کی چودہ صدسالہ تاریخ میں عموماً کتاب و سنت ہی اسلامی ریاستوں کادستور رہا ہے۔ اگر کبھی جزئیات میں کثرت اختلاف آراء یا بعض سازشوں کےسدباب کے لیےکسی مدون کتاب کو دستور مملکت بنانے کا احساس ہوا بھی تو اسلاف امت نے اسے گوارا نہ کیا کہ ''مؤطا'' کو امام مالک نے خلیفہ منصور او رپھر ہارون الرشید کے اصرار کے باوجود بلاد اسلامیہ کا قانون بنانےکی تجویز مسترد کردی تھی حالانکہ مؤطا ''فقہ الحدیث'' کی بنیادی کتاب ہے۔ کبھی امام مالک نےاس طرح معذرت کر دی کہ رسولؐ کی وفات کے بعد ذخیرہ احادیث اتنا پھیل چکا ہے کہ کسی ایک کتاب پر انحصار مکمل سنت (قانون نبویؐ ) کا احاطہ نہ کرسکے گا اور کبھی یہ جواب مامن أحدإلا وقوله مقبول و مردود عليه إلاصاحب ھذا القبر یعنی جب رسول اللہ ﷺ کے سوا کسی کا یہ مقام نہیں کہ اس کی ہر بات قابل قبول ہو تو میری کتاب مؤطا جس میں میرے یا دیگر ائمہ کے آخری دور میں مغل تاجدار اورنگ زیب عالمگیر نے علماء کی ایک جماعت کےترتیب دادہ مجموعہ کو قانونی صورت میں اختیار کیا جو ''فتاویٰ عالمگیری'' کے نام سے معروف ہے۔ لیکن''فتاویٰ'' کا لفظ خود وضاحت کررہا ہے کہ اس کی حیثیت بھی ''معاون قانون'' کی تھی کیونکہ فتاویٰ ان شرعی آراء کو کہتے ہیں جن سے ایک حاکم یاقاضی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے میں مدد لیتا ہے۔

اس سے قبل شرعی رائے کا یہی کام حکومت کا شعبہ افتاء کیا کرتا تھا۔ آج کل اس کی مثال ہماری عدالتوں میں وکلائے قانون کی ہے یا زیادہ سے زیادہ اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کے مجموعہ جات کی جو PLJ , PLD وغیرہ ناموں سےچھپتے ہیں۔ تاہم تقریباً ایک صدی سے یورپ کی تقلید نے مسلمانوں کے اندر یہ احساس اجاگر کیا کہ دفعہ وار اسلامی قانون کی تدوین کرنی چاہیے چنانچہ سب سے پہلا مدون مجموعہ 1879ء میں ترکی نے ''مجلہ عدلیہ'' کے نام سے اپنا یا جوصرف دیوانی قانون پرمشتمل ہے۔ باقی رہا مسلمانوں کا اسلام کی بنیاد پر عائلی اور شخصی قانون تو اگرچہ اس کے لیے بیسویں صدی عیسوی میں مختلف ''مجموعہ جات'' تیار کرنے کی مثالیں ملتی ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بہت سی مسلم تو کیا غیرمسلم ریاستوں میں بھی جن میں غیرمنقسم ہندو پاک کاڈھائی سو سالہ دور بھی شامل ہے، میں غیر مدون شخصی قانون نہ صرف نافذ رہا بلکہ اس کے مطابق نہ صرف مسلمان بلکہ غیرمسلم ہندو اور انگریز وکلاء بھی قانونی راہنمائی دیتے رہے اور غیرمسلم جج صاحبان بھی فیصلے کرتے رہے۔

واضح رہے کہ اسلام کے قانونی نظام کے اہم حصہ سزاؤں (تعزیرات)ک لیے آج تک سرکاری سطح پرکسی دفعہ وار مدون مجموعہ نے قانون شکل اختیار نہیں کی۔ تقریباً پچاس سا ل سےسعودی عرب اسلامی نظام تعزیرات کو اپنا کر دنیابھر کے ترقی یافتہ معاشروں کو اسلام کا یہ چیلنج پیش کررہا ہے کہ امن و امان صرف اسلام کو رائج کرنے سے حاصل ہوسکتا ہے اور یہ بھی بتا رہا ہے کہ شریعت کو اپنانے کے لیے پہلے سے ایسےمدون مجموعہ جات کی ضرورت نہیں۔پرانا فقہی ذخیرہ اور شعبہ افتاء ہی اس غرض کے لیے کافی ہے۔ سعودی حکومت کو تو اقوام متحدہ کا رکن بننے کے لیے بھی کسی ّّ مسودہ قانون'' کی ضرورت نہیں پڑی بلکہ اس نےوہاں بھی صرف ''قرآن کریم'' کو اپنے ''قانون مملکت'' کی حیثیت سے رکھا ہواہے۔

آخری بات جس کا تعلق اسلامی قانون کی تدوین کے تجربہ سے ہے یہ ہے کہ یہ تجربہ عموماً ناکام ثابت ہوا ہے بلکہ کئی کوششوں کا انجام ہی عبرتناک ہے۔ خلافت عثمانیہ کے مجلہ عدلیہ کی شکل پر مصر میں مختلف مکاتب فکر سے متعلق علماء اور ماہرین قانون کی چھ سالہ مشترکہ مساعی سے 1920ء میں ایک مجموعہ قانون تیار ہوا تھا لیکن اس کا جو حشر ہوا وہ بڑا المناک ہے۔ یہ مجموعہ اتنی تنقید کا شکار ہوا کہ شاہ مصر نےاسے سردخانہ میں ڈال کر ملک میں فرانسیسی قانون نافذ کردیا۔ اس لیے موجودہ مشاورتی کونسلوں کی ایک شعبہ افتاء و تحقیق کی حیثیت سے اہمیت تسلیم کرنے کے باوجود ان سے کسی متفقہ مسودہ قانون تیار کرنےکی اُمید ایک سراب ہی ثابت ہوگی۔ اگرچہ ابھی تک اسلامی نظریاتی کونسل کاکوئی کام سامنے نہیں آیا لیکن جس طرح طے شدہ مسائل پر بار بار بحثیں ہورہی ہیں اس کاکام برسرعام آنے کے بعد اس کی متفقہ پذیرائی کے لیے حوصلہ افزاء صورت حال نظر نہیں آتی۔ ویسے مشاورتی کونسل1962ء یعنی سولہ سال سےکام کررہی ہے او رمزید پتہ نہیں کتنا وقت لگائے؟ قومی اتحاد کا ایک ماہ میں شریعت نافذ کرنے کا دعویٰ چھوڑ اب تو بھٹو کے چھ ماہ بھی گزر چکے ہیں اور ابھی تک ''نظام مصطفیٰ'' کا پہلاقوم یعنی بنیادی اینٹ بھی رکھی نہ جاسکی ہے۔ یہ صورت حال مشاورتی کونسلوں کے ذریعہ تدوین قانون یا اس پر اتفاق کو ایک ناکام کوشش ظاہرکرتی ہےلہٰذا اس سعی لاحاصل کے انتطار میں کتاب و سنت کو معطل رکھنا درست نہ ہوگا جبکہ ہم اوپر وضاحت کرچکے ہیں کہ اسلامی ریاست کا مستقل دستور صرف کتاب و سنت ہوتے ہیں۔
حاشیہ

۔ واضح رہے کہ اسلام کے نفاذ کی بات قانونی نقطہ نظر سے ہورہی ہے جہاں تک عملی نفاذ کی بات ہے وہ اقرار سے شروع ہوکر پوری زندگی کو اللہ کے حکم کے مطابق ڈھالنے کا نام ہے اسی لیے ہم عموماً نفاذ اور تنفیذ کے الفاظ سے بچ کر شریعت کے قیام، ترویج اور عملداری کی بات کرتے ہیں تاکہ اشتباہ نہ ہو۔

۔ اللہ کا ارشاد ہے : الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ (الحج) ''(اللہ صرف ان لوگوں کی مدد کریں گے ) جنہیں اگر زمین میں جگہ ملے تووہ نماز قائم کریۃ، زکوٰۃ دیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں۔'' ہمارے نزدیک یہ خطاب اگرچہ عام ہے شہری ہو یا حکومت لیکن اختیارات کے مختلف میدانوں میں اس کی ذمہ داریاں حکومت کی سطح پر زیادہ اور زور دار ہیں۔

۔ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ....هُمُ الْفَاسِقُونَ..... هُمُ الظَّالِمُونَ (المائدہ:44،45،47) ''اور جو کوئی اللہ کے نزل کردہ (کتاب و سنت) کے ساتھ (قانونی، عدالتی یا انتظامی حکم نہ کرے، یہی لوگ کافر ہیں.... ظالم ہیں... فاسق ہیں۔''

۔ فرد و معاشرہ کی زندگی کی صرف وہ حدود کار مراد ہیں جو حکومت کے کنٹرول میں ہیں جن کا اثر نجی زندگی پربھی پڑتا ہے اگرچہ نجی حیثیت سے فرد غیر اسلامی حکومت میں بھی جزوی طو رپر شریعت پر عمل کرسکتاہے لیکن جب وہ مکمل شریعت کا مخاطب ہے تو اس حالت پر مطمئن نہیں رہ سکتا۔

۔ ولینصرن اللہ من ینصرہ ''یعنی اللہ ان کی ضرور مدد کریں گی جواللہ کی مدد کریں۔''

۔ جو اللہ پر توکل کرے اللہ اسے کافی ہے۔

۔ افغانستان کے حالیہ انقلاب کے صرف ایک مہینہ بعد معیشت کو غیر سودی بنیادوں پر قائم کرنے کااعلان کردیا گیا۔

۔ آل عمران:52۔ ''یعنی اللہ کی طرف میرا کون معاون ہے؟''

۔ المائدہ:49۔ ''ان کے درمیان اللہ کے قانون سے ہی فیصلہ فرمائیے اور ان کی خواہشات کی اتباع نہ کیجئے۔''

۔المائدہ:45۔ ''جو کوئی شریعت سے حکم نہ کرے وہ ظالم ہیں۔''

۔ ارتقاء سے مراد زمانی ارتقاء نہیں کیونکہ ایک ہی زمانہ میں بھی حالات کے اختلاف سے شرعی حکم بدل سکتا ہے ۔ فقہ کا تقابلی مطالعہ رکھنے والوں کو یہ بات بخوبی معلوم ہے کہ ائمہ کے اجتہادات کے مختلف ہونے میں زمانی اور علاقائی حالات کا کتنا دخل رہا ہے او ریہ ایک فطری امر ہے او ریہی چیز ائمہ کے فتاویٰ کےہر زمانہ میں مفید ہونے کا ایک سبب ہے۔

۔ سنت کو متفقہ کہنے سے یہ شبہ نہ ہونا چاہیے کہ یہ صرف سنی مکاتب فکر (اہل حدیث، دیو بندی،بریلوی یا حنفی ، شافعی، مالکی، حنبلی او رظاہری وغیرہ کے درمیان متفقہ ہے بلکہ نبی ﷺ کے اسوہ حسنہ (سنت) کی دستوری حیثیت تو شیعہ وغیرہ کے ہاں بھی مسلم ہے۔ اختلاف یہ ہے کہ شیعہ سنت کی روایت و درایت میں صرف ائمہ اہل بیت او ران کے حواریوں کا اعتبار کرتے ہیں جب کہ سنی عام صحابہؓ او رتابعین وغیرہ کا بھی۔

۔ افسوس کہ یورپ کی دیکھا دیکھی مسلمانوں میں یہ احساس راسخ ہوچکا ہے کہ جب تک قانون دفعہ وارمدون نہ ہو وہ نافذ العمل نہیں ہوسکتا حالانکہ اس کی تردید یورپ کی اہم ریاست ''برطانیہ'' کررہی ہے جہاں کئی صدیوں سے تحریری شکل میں مکمل دفعہ وار دستور نہ ہے۔البتہ اب انہوں نے جس حد تک کامن لاء میں ترمیم ضروری سمجھی جزوی تدوین کرلی ہے۔