(1)

جس زمانے میں آفتاب اسلام فاران کی چوٹیوں سےطلوع ہورہا تھا۔ مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ جانےوالے راستے پر قدید نام کی ایک چھوٹی سی بستی صحرا کے متصل واقع تھی۔ اس میں ایک مختصر سا غریب خاندان اپنی زندگی کے دن بڑے عجیب انداز میں گزار رہا تھا۔ اس گھرانے کی ساری متاع لے دے کر ایک خیمے، بکریوں کے ایک ریوڑ،گتنی کے چند برتنوں اور مشکیزوں پر مشتمل تھی، خاندان کا سربراہ ایک جفاکش بدوی تمیم بن عبدالعزیٰ خزاعی تھا۔ اس کا بیشتر وقت بکریاں چرانے میں گزرتا تھا۔ تمیم کی اہلیہ اس کی بنت غم عاتکہ بنت خالد ابن خلیف بن منقذ بن ربیعہ بن احرم بن خبیس بن حرام بن جیثیہ بن سلول بن کعب بن عمرو تھی۔ دونوں کا تعلق بنو خزاعہ کی شاخ بنی کعب سے تھا۔عاتکہ ایک پاکدامن ، باوقار او ربلند حوصلہ خاتون تھی او رانی کنیت ''اُم معبد'' سے مشہور تھی۔ وہ عربوں کی روایتی مہمان نوازی سے خاص طور پر متصف تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں ایثار اور خدمت خلق کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھر دیا تھا ، افلاس او رتنگ دستی کے باوجود وہ قدید سے گزرنے والے مسافروں کی نہایت خوشدلی سے میزبانی کیا کرتی تھی او ران کی خدمت اور تواضع میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتی تھی۔ پانی ، دودھ،کھجوریں، گوشت جو کچھ میسر ہوتا مہمانوں کی خدمت میں پیش کردیتی تھی۔ جب کوئی مسافر اس کے خیمے میں سستا کر آگے روانہ ہوتا تو اس کی زبان پر اُم معبد کے لیے تعریف و تحسین اور دعائیں ہی دعائیں ہوتی تھیں۔ اس طرح اُم معبد کا نام مسافروں کی بے لوث خبرگیری اور خدمت و تواضع کی بدولت دور دور تک مشہور ہوگیا تھا اور لوگ اس کی عالی حوصلگی اور شرافت کی تعریفین کرتے نہیں تھکتے تھے۔

بعثت نبوی کے تیرہویں سال تک اُم معبد کوخلق خدا کی خدمت کرتے سالہا سال گزر چکے تھے اور وہ جوانی کی منزلوں سے گزر کر پختہ عمر کو پہنچ چکی تھی اس وقت رحمت عالم ﷺ عرب کے صحرا نشینوں میں''صاحب قریشؐ'' کے لقب سے مشہور تھے۔ تمیم اور اُم معبد کے کانوں میں بھی ''صاحب قریشؐ'' اور آپؐ کی دعوت کی بھنک پڑ چکی تھی تاہم وہ زندگی کی ڈگر پر اپنے معمول کے مطابق چلتے رہے۔ ان غریب اور سادہ مزاج بدویوں کے لیے یہ بڑا کٹھن کام تھا کہ ایسی باتوں کی تحقیق کے لیے دور دراز کی خاک چھانتے پھریں۔ لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ ایک دن ان کی صحرائی قیام گاہ ان صاحب قریش کی طلعت اقدس سے جگمگا اٹھے گی اور کائنات ارضی و سماوی کاذرہ ذرہ اس کےمکینوں کی خوش بختی پر رشک کرے گا۔

(2)

ربیع الاوّل 13 بعثت میں رحمت عالم ﷺ نے ارض مکہ کو الوداع کہا۔ او رتین راتیں غارثور میں گزار کر عازم مدینہ ہوئے۔ اس وقت حضرت ابوبکر صدیقؓ او رحضرت عامر بن فہیرہ آپ کے ہم رکاب تھے۔ حضورﷺ ایک اونٹنی پر سوار تھے او روہ دونوں دوسری اونٹنی پر۔ اس مقدس قافلے کے آگے آگے عبداللہ بن اریقط لیثی پیدل چل رہا تھا، وہ غیر مسلم ہونے کے باوجود ایک قابل اعتماد شخص تھا او رمکہ سے مدینہ جانے والے تمام راستوں سے واقف تھا اسی لیے حضورﷺ نے اسے راستہ بنانے کے لیے اجرت پر اپنے سات لے لیا تھا۔ایک دوسری روایت میں ہے کہ ایک سانڈنی پر سرور عالمﷺ او رحضرت صدیق اکبرؓ سوار تھے او ردوسری پر حضرت عامر بن فہیرہ اور عبداللہ بن اریقط۔ یہ مختصر سا قافلہ قدید کے مقام پر پہنچا، تو حضرت اسماء (ذات النطاقین) بنت صدیق اکبرؓ نےغار سے روانگی کے وقت جو کھانا ساتھ کیا تھا وہ ختم ہوچکا تھا۔ اور سرور عالم ﷺ او رآپ کے ساتھیوں کوبھوک او رپیاس محسوس ہورہی تھی ۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اُم معبد کی شہرت سن رکھی تھی او رانہیں یقین تھاکہ اس کی قیام گاہ پر کھانے پینے کا کچھ انتظام ہوجائے گا۔ چنانچہ یہ مقدس قافلہ اُم معبد کے خیمے پرجاکر رُکا۔ وہ اس وقت اپنے خیمہ کے آگے صحن میں بیٹھی ہوئی تھی۔ ان دنوں خشک سالی نے سارے علاقے پر قیامت ڈھا رکھی تھی او راس وجہ سے اُم معبد کے گھرانے پر پیغمبری وقت آن پڑا تھا۔ بڑی تنگی ترشی سے گزر بسر ہورہی تھی۔ حضور سید موجودات ﷺ نے ام معبد سے فرمایا۔ دودھ،گوشت، کھجوریں ، کھانے کی کوئی چیز بھی تمہارے پاس ہو تو ہمیں دو، ہم اس کی قیمت ادا کریں گے۔

ام معبد نے بعصد حسرت جواب دیا: ''خدا کی قسم! اس وقت کوئی چیز ہمارے گھر میں آپ کو پیش کرنے کے لیے موجود نہیں ہے۔ اگر ہوتی تو فوراً حاضر کردیتی۔''

اتنے میں حضورﷺ کی نظر ایک مریل سی بکری پر پڑی جو خیمے میں ایک طرف کھڑی تھی۔

آپؐ نے فرمایا: معبد کی ماں اگر اجازت دو تو اس بکری کا د ودھ دوہ لیں۔ ام معبد نے عرض کیا۔ صدقہ جاؤں اگر یہ دودھ دینے والی ہوتی تو میں نے اب تک کود ہی اسے آپ لوگوں کی خدمت میں پیش کردی ہوتی۔ دودھ دینا تو بڑی بات ہے یہ بیچاری تو اپنی لاغری او رکمزوری کی وجہ سے چرنے کے لیے جنگل میں بھی نہیں جاسکتی۔

سرور عالمﷺ نے فرمایا:جیسی بھی ہو تم اجازت دو تو ہم اس کا دودھ دوہ لیں۔

ام معبد نے کہا: آپ بڑے شوق سے دودھ دوہ لیں مگر مجھے امید نہیں کہ یہ دودھ کا ایک قطرہ بھی دے۔

اب وہ بکری حضورﷺ کے سامنے لائی گئی۔ آپ نے پہلے اس کے پاؤں باندھے او رپھر اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیر کر دعا کی۔''الٰہی اس عورت کی بکریوں میں برکت دے۔''

اس کے بعد چشم فلک نے ایک تحیر خیز نظارہ دیکھا۔سید المرسلین فخر موجودات ﷺ نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر بکڑی کے تھنوں کو چھوا۔ تھن فی الفور دودھ سے بھ گئے او ربکری ٹانگیں پھیلا کر کھڑی ہوگئی۔ حضورﷺ نے ایک بڑا برتن منگا کر دودھ دوہنا شروع کردیا۔ یہ برتن جلدی ہی لبالب بھر گیا۔ آپ نے پہلے یہ دودھ ام معبد کو پلایا۔ اس نے خوب سیر ہوکر پیا پھر آپؐ نے اپنے ساتھیوں کو پلایا جب وہ بھی سیر ہوگئے تو آخر میں آپ نے خود پیا او رفرمایا۔ ساقی القوم اخرھم (لوگوں کو پلانے والا خود آخر میں پیتا ہے) اس کے بعد حضورﷺ نے دوبارہ دودھ دوہنا شروع کیا یہاں تک کہ برتن پھر لبالب بھر گیا یہ دودھ رحمت عالمﷺ نے ام معبد کےلیے چھوڑ دیا اور آگے روانہ ہوئے۔

ام معبدؓ کا بیان ہے کہ جس بکری کا دودھ سرور کونینﷺ نے دوہا تھا وہ حضرت عمرؓ کے عہد خلافت تک ہمارے پاس رہی۔ ہم صبح و شام اس کا دودھ دوہتے تھے او راپنی ضرورتیں بخوبی پوری کرتے تھے۔

طبقات ابن سعد کی ایک روایت میں ہے کہ اس موقع پر ام معبدؓ نے ایک بکڑی ذبح کرکے سرور عالم ﷺ او رآ پ کے ساتھیوں کوکھانا کھلایا اور ناشتہ بھی ساتھ کردیا لیکن دوسرے اہل سَیر نےبکری ذبح کرنے کا ذکر نہیں کیا۔

(3)

رحمت عالم ﷺ کے تشریف لے جانے کے تھوڑی دیر بعد ام معبدؓ کا شوہر اپنے ریوڑ کو لے کر جنگل سے واپس آیا ۔ خیمہ میں دودھ سے بھرا ہوا برتن دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اہلیہ سے پوچھا۔ معبد کی ماں یہ دودھ کہاں سے آیا؟

ام معبدؓ نے جواب دیا: ''خدا کی قسم ایک بابرکت مہمان عزیز کا یہاں دُرود ہوا انہو|ں نے بکری کو دوہا ۔ خود بھی اپنے ساتھیوں سمیت سیر ہوکر دودھ پیا اور یہ دودھ ہمارے لیے بھی چھوڑ گئے۔ پھر اس نے تفصیل کے ساتھ سارا واقعہ بیان کیا۔

ابومعبد تمیم نے کہا: ''ذرا اُس کا حُلیہ تو بیان کرو۔''

ام معبدؓ نے بے ساختہ سیّد البشر ﷺ کا جو حلیہ مبارک بیان کیا تاریخ نے اسے اپنے صفحات میں محفوظ کرلیا۔ اس نے کہا :

''پاکیزہ صورت، حسین و جمیل،روشن چہرہ، بدن نہ فربہ نہ نحیف، متناسب الاعضاء، خوب صورت آنکھیں، بال گھنے او رلمبے، سیدھی گردن، آنکھ پتلیاں روشن، سرمگین چشم،باریک و پیوستہ ابرو، سیاہ گھنگریلے بال، خاموش ہوتے تو نہایت باوقار معلوم ہوتے، تکلم دل نشین، دور سے دیکھنے میں نہایت سجیلے اور دلربا، قریب سے نہایت شیریں و خوبرو، شیریں کلام، واضح الفاظ،کلام الفاظ کی کمی بیشی سے پاک، تمام گفتگو موتیوں کی لڑی جیسی پروئی ہوئی (یعنی مسلسل مربوط او ربرمحل) میانہ قد کہ کوتاہی سے حقیر نظر نہیں آتے، نہ طویل کہ آنکھ وحشت زدہ ہوجائے، زینبدہ نہاں کی شاخ تازہ، زینبدہ منظر، عالی قدر، رفتاء ایسے کہ ہر وقت گردوپیش رہتے ہیں جب وہ کچھ کہتے ہیں تو بڑی توجہ سےسنتے ہیں او رجب وہ حکم دیتے ہیں تو تعمیل کے لئے لپکتے ہیں، مخدوم، مطاع، مالوف، نہ ادھوری بات کرنے والے او رنہ ضرورت سے زیادہ بولنے والے۔''

ابومعبد یہ صفات سن کر بول اُٹھا کہ خدا کی قسم یہ تو وہی صاحب قریش تھے جن کاذکر ہم سنتے رہتے ہیں۔ میں ان سے ضرور جاکر ملوں گا۔

(4)

حضرت اُم معبدؓ کے قبولاسلام کے متعلق دو مختلف روایتیں ہیں۔ ایک روایت یہ ہے کہ ان کے کانوں میں ''صاحب قریش'' کی بھنک پہلے ہی سے پڑ چکی تھی۔ چنانچہ جب پہلے پہل ان کی نظر سرور کونین ﷺ کے رُخ انور پر پڑی تو ان کے دل نے گواہی دی کہ یہ وہی صاحب قریش ہیں جوتوحید کے داعی او رنیکی و ہدایت کا سرچمہ ہیں۔ بکری کاواقعہ دیکھا تو انہیں قطعی یقین ہوگیا کہ مہمان عزیز اللہ کے سچے رسول ہیں چنانچہ وہ اسی وقت صدق دل سے مسلمان ہوگئیں اور حضورﷺ نے ان کے لیے دعائے خیر و برکت مانگی۔

دوسری روایت یہ ہے کہ حضورﷺ کے مدینہ منورہ تشریف کے جانے کے بعد ابومعبدؓ اور اُم معبدؓ دونوں میاں بیوی ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچے اور رحمت عالمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر سعادت ایمان سے بہرہ مند ہوئے۔

حضرت اُم معبدؓ کی زندگی کے مزید حالات تاریخوں میں نہیں ملتے تاہم ان کی زندگی کے ایک ہی واقعہ نے ، جو اوپر بیان ہوا ہے، انہیں شہرت عام او رقبائے دوام کے دربار میں اتنابلند مقام عطا کردیاکہ ملت اسلامیہ کے تمام افراد بادلآباد تک اس پر رشک کرتے رہیں گے کسی شاعر نے اس واقعہ کے متعلق کیا خوب اشعار کہے ہیں:
جزی اللہ رب الناس خیر جزائه
رفیقین قالاخیمتی أمر معبد
ھما نزلا بالبر و اعتدیابه
فقد فازمن أمي رفیق محمدؐ
لیھن بنی کعب مقام فتاتھم
ومقعدہا للمسلمین بمرصد

(اللہ ان رفیقوں کو جزائے خیر دے جو اُم معبد کے خیموں میں مقیم ہوئے۔ وہ نیکی سے ٹھہرے اور وہ تو اس کے خوگر ہیں تو جو شخص محمدﷺ کا رفیق ہوا، کامیاب ہوا۔ بنی کعب کو ایسی لڑکیاں مبارک ہوں جن کا مکان مسلمانوں کی جائے پناہ ہے) رضی اللہ تعالیٰ عنها۔