ہمارے عزیز دوست اور فاضل نوجوان جناب پروفیسر محمد سلیمان اظہر معروف اہل قلم او راہل علم نوجوان ہیں، انہوں نےاس موضوع پر قلم اٹھاکر کس طرح اس کا حق ادا کیا، قارئین خود پڑھ کر اندازہ فرمالیں گے۔ ہم اس کے لیےموصوف کے حددرجہ شکرگزار ہیں۔

تورات: متجددین کا خیال ہے کہ تورات حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب کا نام نہیں ہے بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے انبیاء بنی اسرائیل پرجوجو کتابیں نازل ہوئیں یہ ان سب کے مجموعے کا نام ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قرآن نے اس کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب نہیں بتایا۔ لیکن ہمارے نزدیک یہ باتیں محل نظر ہیں۔ قرآن کریم نےتورات کا نام جس سیاق میں ذکر کیاہے اس سے ''واضح'' طور پر تلمیح ملتی ہے کہ یہ صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل شدہ صحیفوں کے مجموعے کانام، مسند احمد اور صحیح مسلم کی صحیح روایات سے بھی یہی مترشح ہوتا ہے کہ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب کا نام ہے، حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مکالمے میں حضرت آدم کے یہ الفاظ ہیں۔

«قال آدم أنت موسی الذي کلمك الله واصطفاك برسالته وأنزل علیك التوراة (مسنداحمد)و کتب لك التوراة بیده» (مسلم عن أبي هریرة)

سفر تکوینی، سفر خروج، سفر احبار، سفر العدد اور سفر الاشتثناء کے مجموعےکو اسفار موسیٰ اور قرآنی اصطلاح میں ''صحف موسیٰ'' سے تعبیرکیا گیا ہے او رانہی صحف موسیٰ کو قرآن حکیم نے ''تورات'' کہا ہے، ان کے علاوہ جن کتب کو ملا کر ''تورات'' کہا جارہا ہے، وہ تغلیبا کہا جارہا ہے، کیونکہ ان میں اور جو کتابیں ملا دی گئی ہیں ان کی حیثیت ''حدیث (مدراش) فقہ اسرائیل (تالمود) تفسیر (ترگوم) یامراثی او رمواعظ ( بنییم اور کتبیم)کی ہے۔ عیسائیوں کے نزدیک ''بنییم او رکتبیم'' قابل اعتماد کتب ہیں، دوسری نہیں۔ وجہ ظاہر ہے او راسلامی لٹریچر میں اسرائیلیات کا جتنا حصہ نظر آتا ہے تقریباً وہ مدارش، ترگوم اور تالمود سے ماخوذ ہے۔

تورات تور سے ماخوذ ہے جس کے معنی مختلف ہیں۔

آگ نکالنا: النار التی تورون (پ27۔ واقعہ ع2)

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بعثت او رنبوت کے ظہور کے لیے جو بات پہلے دن سبب بنی، اس کی مناسبت سے آپ کو دی گئی کتاب کو ''تورات'' سے تعبیر کیا گیا ہو تو کچھ عجب نہیں۔ آیت میں یہ الفاظ آئے ہیں۔

﴿وَهَل أَتىكَ حَديثُ موسى ﴿٩﴾ إِذ رَ‌ءا نارً‌ا فَقالَ لِأَهلِهِ امكُثوا إِنّى ءانَستُ نارً‌ا لَعَلّى ءاتيكُم مِنها بِقَبَسٍ أَو أَجِدُ عَلَى النّارِ‌ هُدًى ﴿١٠﴾ فَلَمّا أَتىها نودِىَ يـموسى ﴿١١﴾ إِنّى أَنا۠ رَ‌بُّكَ فَاخلَع نَعلَيكَ إِنَّكَ بِالوادِ المُقَدَّسِ طُوًى ﴿١٢﴾وَأَنَا اختَر‌تُكَ فَاستَمِع لِما يوحى ﴿١٣﴾... سورة طه

''بھلاتم کو (حضرت )موسیٰ کی حکایت بھی پہنچی ہے کہ جب ان کو (دور سے) آگ دکھائی دی تو انہوں نے اپنے گھر کے لوگوں سے کہا کہ (ذرا) ٹھہرو، مجھ کو (ایک) آگ (سی) دکھائی دی ہے (میں وہاں جاؤں تو ) عجب نہیں اس (آگ) سے تمہارے لیے ایک چنگاری لے آؤں یا آگ (کےالاؤ) پر راہ کا پتہ معلوم کروں، پھر جب موسیٰ وہاں آئے تو ان کو (غائب سے) آواز آئی کہ موسیٰ (یہ تو) ہم ہیں! تمہارا رب! تو اپنی دونوں جوتیاں اتار ڈال (کیونکہ اس وقت)تم طوی (نام) کی مقدس وادی میں ہواو رہم نے تم کو پیغمبری کے لیے منتخب فرما لیا ہے، سو جو کچھ تم کو وحی کی جاتی ہے اس کو کان لگا کر سن لو۔''

اس لیے ہوسکتا ہے کہ اسی وادی ایمن کی مقدس آگ کی مناسبت سے ان صحیفوں کو تورات کہا گیا ہو جو حضرت موسیٰ پر نازل ہوئے۔

دوسرے معنی سفیر، قاصد کے بھی آتے ہیں مگرابن فارس نے اسے محل نظر بتایا ہے۔

وذکر ابن درید کلمة لوأعرض عنھا کان أحسن: قال: التورالرسول بین القوم (مقائس اللغة)

اس کے دوسرے معنی ''شریعت و قانون'' کے بھی ہیں اور جیسا کہ فاضل مضمون نگار نے تحریر فرمایا ہے، ہدایت او رتعلیم کے بھی ہیں۔

ہماری خواہش ہے کہ فاضل موصوف اگر ''ارض الحدیث اور ارض اہل الحدیث'' پر کوئی سلسلہ شروع کریں تو ایک قرض جو اب تک علمائے اہل حدیث کے ذمے چلا آرہا ہے، ادا ہوجائے، ذخیرہ احادیث اور تذکارمحدثین میں جن جن مقامات کاذکر آگیا ہے۔ ان کی جغرافیائی نشاندہی کردی جائے۔ اور بعد میں ان میں جو تغیرات آئے یا ان کے اب جو نام مشہور ہوئے اگر ان کا ہی سراغ لگ سکے تو اور ہی خوب رہے۔ (عزیز زبیدی)

تاریخ یہود: یہود اپنی تاریخ کا آغاز ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کرتے ہیں۔ لیکن یہودی مذہب کی جو شکل ہمیں آج دکھائی دیتی ہے وہ عذرا یا عزیر کے دور میںمتشکل ہوئی۔ ان دو شخصیتوں کے درمیان حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ذات گرامی ہے جواسرائیلیوں کو فراعنہ مصر کے نیچے سے نکال کر فلسطین لے جانے کے لیے صحرائے سینا میں لائے۔ یہاں انہیں اللہ تعالیٰ نے مقدس توراۃ عطا فرمائی جس کو سمجھنا او رجس پر عمل کرنا بنی اسرائیل کے ہرفرد کے لیے ضروری قرار پایا۔ یہودی تصور حیات کا منبع یہی تورات ہے جس کا ترجمہ عام طور پر قانون کیاجاتاہے مگر زیادہ بہتر ترجمہ ہدایت یا تعلیم ہے۔

تورات اور عہد نامہ عتیق و جدید: تورات کا تعلق براہ راست زندگی کے عملی مسائل سے تھا۔ جوں جوں حیات انسانی کے تقاضے بدلتے رہے اورانسانی معاشرہ ترقی کرتا گیا۔ شریعت یہود کے اطلاق اور نفاذ میں بھی توسیع ہوتی رہی اور شریعت موسوی ایک رواں چشمے کی طرح نئے نئے میدانوں سے ہوکر گزرتی رہی۔ یہودی علماء کے فتوؤں اور فیصلوں نے بھی شریعت میں مستقل مقام حاصل کرلیا۔ گویا شریعت صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تورات تک ہی محدود نہ رہی بلکہ فتویٰ، فیصلوں اور تشریحات کی بہت سی کتابوں پر پھیل گئی۔ جن کو آج عہد نام عتیق کہا جاتاہے جس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ انبائے بنی اسرائیل کی مذہبی کتب کو مسیحی علماء نے بائیبل (بمعنی کتاب) کانام دے کر دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔ (1) عہد نامہ عتیق یعنی وہ تمام کتب جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے کے انبیاء پر نازل شدہ بتائی جاتی ہیں۔ (2) عہد نامہ جدید یعنی اناجیل اربعہ جن کے ساتھ (عیسائی) رسولوں کے اعمال۔ خطوط او رمکاشفات بھی شامل ہیں۔ آج کی نشست میں ہمارا موضوع عہد نامہ عتیق تک محدود ہے۔

عہد نامہ عتیق میں کل 39 کتابیں شامل ہیں۔ لیکن علمائے یہود نے ان میں 24 یا 25 کو مستند شمار کرکے باقی کو ترک کردیا ہے اور مستند کتابوں کو تین سلسلوں میں تقسیم کردیا ہے۔ (i) سلسلہ اوّل موسوم بہ تورات ۔ اس میں پانچ اسفار یعنی پانچ کتابیں شامل ہیں۔ (1) تکوین (2) خروج (3) احبار (4) اعداد (5) تورات مثنیٰ (ii) سلسلہ دوم موسوم بہ نبیم ہے۔ اس سلسلہ میں یوشع۔ قضاۃ۔ سموئیل اول۔ سموئیل دوم۔یشعیاہ۔ یرسیاہ وغیرہ انبیاء کی کتابیں شامل ہیں ان کی تعداد تیرہ ہے۔ (iii) سلسلہ سوم موسوم بہ کبتیم اس سلسلے میں زبور۔ امثال سلیمان ۔ ایوب۔ دانیال۔عزرا۔ نحمیاہ وغیرہ کی کتابیں ہیں جن میں نظمیں مناجات اور تمثیلیں وغیرہ درج ہیں۔ ان کی تعداد سات ہے۔ اس طرح کل 25 کتابیں ہو جاتی ہیں جنہیں 90ء میں سائنڈ نے سند قبول عطا کی تھی۔ یہی کتابیں یہودیوں کی مقدس شمار ہوتی ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بہت سی کتابیں تھیں جوموسیٰ علیہ السلام کو دس احکام ملنے اور مذکورہ کتابوں کی باقاعدہ تدوین تک لکھی گئیں لیکن خود یہود نے انہیں مسترد کردیا او راب نسیاً منسیاً ہ ہوچکی ہیں۔ اب ان کا کہیں وجود نہیں ملتا۔ تاہم بعض دیگر کتب میں ان کے نام مل جاتے ہیں۔ جیسا کہ عہد نامہ عتیق کے یونانی ترجمے میں 14۔ ایسی کتابوں کے نام ملتے ہیں جنہیں یہود ہی اپوگریفا یعنی جعلی کتابیں کہتے ہیں۔

تدوین کتب: یہود کی 25 مقدس مذہبی کتابوں کی تدوین کا زمانہ متعین کرناکوئی آسان بات نہیں ہے۔ بخت نصر نے جب یروشلم فتح کیا تو اس کے کتب موسیٰ یعنی سلسلہ اوّل کو بھی تلف کردیا تھا۔ تاہم ان کے احکام معناً یہودیوں کے ذہن میں موجود تھے۔ نصف صدی کے اسیرئ بابل کے دوران یہود ان کتب کو دوبارہ صفحہ قرطاس پرمنتقل نہ کرسکے۔ جب سائرس نے بابل فتح کرکے ان کی اسیری ختم کی اور یہود کو واپس فلسطین جانے کی اجازت دے دی تو عذرا نے اس اہم کام کی جانب توجہ مبذول کی اور اسفار یا کتب موسیٰ کو دوبارہ جمع کردیا۔ یہ کام 35، ق م کے لگ بھگ ہوا۔ انہوں نے ان پانچ کتابوں کو از سر نو جمع کرکے واقعات کو مورخانہ حیثیت سے قلم بند کیا۔اس اہم کام میں مدد دینےکے لیے انہوں نے یروشلم کے چند بڑے علماء کا تقرر بھی کیا تھا ۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے تفسیر تورات کے اصول مرتب کیے اور فقہی مسائل ترتیب دیئے۔انہی کے اثرات سے تورات کالفظ تمام الہامی اور غیرالہامی دینی نوشتوں کے لیےبولا جانےلگا۔

دوسرے سلسلے کی تدوین نحمیاہ نے کی۔یہ بھی عزرا کی طرح دربار ایران کی طرف سے یروشلم کے گورنر تھے او ربادشاہ کے مقرب تھے۔ آپ نے اس سلسلے کی کتابوں کو مع زبور داؤد نبیم کے نام سے جمع کیا۔

تیسرے سلسلے کی تدوین 168 ق م کے لگ بھگ ہوئی۔ جب انٹونیس کی صورت میں یروشلم پر تباہی نازل ہوئی تو عزرا کی جمع کردہ تورات بھی اس غارت گری کی نذر ہوگئی۔ یہود امکابی نے جو اس دور ادبار میں تحریک مزاحمت کا قائد تھا او رجس کی قیادت میں یہود نے ایک نیم خود مختار حکومت بھی قائم کرلی تھی تورات کو دوبارہ جمع کروایا او راس میں تیسرے سلسلے یعنی کبتیم کا بھی اضافہ کردیا۔ اس طرح کل تعداد چوبیس یا پچیس ہوگئی۔ لیکن اس مرحلے پر یہود میں مذہبی کتب کے متعلق اختلاف رونما ہوگیا او ران کے دو فرقے ہوگئے جس کی تفصیل یوں ہے۔

حوادثات او رکتب یہود: یہودی قوم پیہم حادثات کا شکار رہی ہے او رہرحادثے کی ذوان کی مذہبی کتب پر پڑتی رہی ہے۔ ان حوادث کے باعث تورات اور صحف انبیاء کئی بار ضائع ہوئے لیکن ان کی تعلیم و تدریس کا سلسلہ بالمعنی جاری رہا۔ جس کی ابتدا یوں ہوئی کہ بابل کی اسیری کے دور میں سبت کے دن علمائے یہود لوگوں کو جمع کرکے غم و الم کے ساتھ یادرفتگان کرتے اور تورات کی آیات سے مجلس وعظ کو گرام کرکے شکستہ دلوں کی تسلی کا سامان کرتے۔ یہ رسم بابل سے واپسی کے بعد اور ہیکل سلیمان کی دوبارہ تعمیر کے بعد بھی نہ صرف جاری رہی بلکہ عزرا نے اسےباقاعدہ قانونی شکل دے دی۔ جس کی وجہ سے جابجا ایسی عمارات تعمیر ہوئیں جہاں اس قسم کی مجالس منعقد ہوتی تھیں۔ ایسی عمارت کو کنیسہ کہتے تھے۔ ہر کنیسے میں تورات کی نقل ایک صندوق میں رکھی جاتی تھی جس کے سامنے ایک شمع روشن رہتی۔ہفتہ میں تین دن او ربڑے کنیسوں میں ہر روز تین بار لوگ جمع ہوتے۔ احبار یعنی سفریم پہلے تورات کی چند آیات کی تلاوت کرتے جوقدیم عبرانی زبان میں تھی۔ پھر آرامی زبان میں جو اسیری بابل کے دوران یہود کی مادری اور عام بول چال کی زبان ہوگئی تھی ان کی تشریح کرتے۔ان احبار نے موسیٰ کی پانچوں کتابوں تورات کو 154 ٹکڑوں یامنازل میں تقسیم کررکھا تھا او ریہ التزام کیا جاتاتھا کہ ہر ہفتے ایک منزل کی تلاوت اور تشریح ہوجائے اور تین سال میں تورات کا ایک دور مکمل ہوجائے۔ اب انٹونیس نے تورات کی تلاوت حکما بند کردی تو احبار تورات کی بجائے دوسرے صحف انبیاء یعنی نبیم اور کتبیم کے 154 ٹکڑے کرکے اپنی رسم نبھانے لگے۔ جب یہود امکابی نے دوبارہ آزادی حاصل کرلی تو تورات کی تلاوت بھی جاری ہوگئی لیکن اب یہود میں دو فریق ہوگئے۔

(1) صدوقی۔ جنہوں نے سلسلہ اوّل یعنی تورات کی پانچ کتب موسیٰ پراکتفا کی او رباقی صحف انبیاء کو روزانہ تلاوت سے خارج کردیا ۔

(2) فریسی۔ جنہوں نے صحف انبیاء یعنی سلسلہ دوم و سوم کو بھی اصول دین میں شامل کرلیا او ران کی تلاوت بھی جاری رکھی۔ انہوں نے یہ روایت مشہور کردی کہ موسیٰ پر وحی مکتوبی اور وحی لسانی یعنی دو قسم کی وحی نازل ہوئی تھی۔ وحی مکتوبی تو توراۃ کی شکل میں موجود ہے ۔ لیکن وحی لسانی اولاد ہارون کی وساطت سے سینہ بسینہ عذرا تک پہنچی۔ جنہوں نے یہ وحی کنیسہ عظمیٰ کے ممبروں کو جن کی تعداد 120 تھی سکھا دی۔ پھر 250 برس تک یہ وحی ان ممبروں کی اولاد کے سینوں میں محفوظ رہی۔ شمعون عادل (300 ق م) اس جماعت مقدسہ کا آخری ممبر تھا۔ اس نے یہ وحی سفریم (کاتبان وحی) کو سکھا دی او ران سے گروہ تنائم (علماء) نے سیکھ لی اور بعدازاں کتاب شکل میں وجود میں آگئی۔ چنانچہ یہ بھی موسیٰ علیہ السلام کی وحی ہے اس لیے یہ بھی اتنی ہی مقدس و محترم ہے جس طرح موسیٰ کے سلسلہ اوّل کی پانچ کتابیں ہیں۔ اس روایت سے احبار اور ربیتین کے اقوال کو وحی الہٰی کے ہم پلّہ بنا دیا او رروایات و افسانوں کے انبار تلے اصل وحی الہٰی یعنی تورات دب کر رہ گئی۔ یہ روایات جن کی حیثیت فریسیوں کے نزدیک تورات کی تفسیر کی تھی یہود اربی کے ذریعے دوسری صدی عیسوی کے آخر میں مثناۃ کے نام سے جمع ہوئیں۔ جس کی تفصیل یوں ہے کہ یہود کی مذہبی کتب کے مذکورہ تین سلسلوں کی تدوین سے پہلے بھی عملی ضروریات کے باعث قوانین کی ضرورت موجود تھی جسے پورا کرنے کے لیے بابل کے ایک ربی ّہلیل(Hillel) نے ایک بورڈ بنایا جوبہت عرصہ تک کام کرتا رہا۔ بورڈ کو مکمل کیا اور اس مجموعہ قوانین کام مثناۃ رکھا گیا جس کے معنی تکرار کے ہیں۔

مثناۃ۔ مثناۃ چھ حصوں میں منقسم تھی اور عبرانی زبان میں 63 عنوانات کے تحت لکھی گئی تھی۔ ہر علاقے کے یہود نے اس کی افادیت کے پیس نظر اس کا خیر مقدم کیا اور کئی صدیوں تک علماء اس کو قانونی بنیاد کے طور پر استعمال کرتے رہے۔ اس کی تشریح و توضیح کے لیے اس پرلیکچر دیتے رہے۔ یہ تشریحی لیکچر آرامی زبان میں ریکارڈ ہوتے رہے او رجمارا کے نام سے موسوم ہوئے جس کے معنی تکملہ ہیں۔ جمارا کی تدوین و ترتیب کا دور تیسری صدی عیسوی کے آغاز سےسمجھا جاتا ہے۔ پہلے تشریحی دور میں مثناۃ کے قصے کہانیاں چھوڑ کر صرف احکام ہی کی تشریح و توضیح کی گئی اور باقاعدہ بتویب بھی کی گئی۔مثاً جمارا کا پہلا باب زراعین کہلاتا ہے جس کے معنی بیج کے ہیں او ریہ زراعت اور کاشتکاری سے متعلق ہے۔ دوسرا باب ۔باب المواعد ہے۔ جو تہواروں اور رسموں کے متعلق ہے۔ تیسرے باب کا نام ناشیم (بمعنی عورتیں) ہےجس میں شادی بیاہ او رجنسی تعلقات کے بارے میں احکام ہیں۔ چوتھا باب نیزاکین تاوان اور کفارے کے بارے میں ہے۔ پانچواں باب قود الیشین یعنی مقدس اشیاء کے بارے میں ہے۔ اس طرح کل 63 ابواب ہیں یہ مجموعہ قوانین منقسم ہے۔

تالمود: جمارا اور مثنا مل کر تلمود کہلاتی ہیں۔ تلمود یہود کے مذہبی ادب کی وہی قسم ہے جسے ہم حدیث کہتے ہیں۔بعض یہودی اس کی صحت پر شک کرتے ہیں لیکن اکثر اس کو الہامی مانتے ہیں اور اسےشفوی روایات سمجھتے ہیں۔

تلمود دو جگہ مرتب ہوئی کیونکہ یہود اپنے مرکز سے کٹ کر بکھرے ہوئے تھے اور مختلف حکومتوں کے زیراقتدار زندگی بسر کررہے تھے ۔ ان کا آپس میں کوئی رابطہ نہ تھا لہٰذا دو مختلف جگہوں پر مختلف لوگوں نے مشنا کی تفسیر و تشریح کا فریضہ انجام دیا۔ایک عراق میں ایرانی حکومت کے تحت، دوسرا فلسطین میں رومی حکومت کے تحت۔اس لیے تلمود کی دو قسمیں ہوگئیں۔ تلمود بابلی (عراقی) اور تلمود یروشلمی (فلسطینی) یہ معاملہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ہمارے ہاں مختلف فقہیں رائج ہیں۔ تلمود کی یہ دونوں قسمیں آرامی زبان میں لکھی گئیں کیونکہ یہی ان کی روزمردہ کی زبان تھی اورعبرانی سے ان کا رابطہ کٹ چکا تھا۔ فلسطینی تالمود نسبتاً آسان اور مختصر ہے۔ جس میں تاریخ جغرافیہ اور آثار قدیمہ سے متعلق بھی بہت سی معلومات ہیں۔ بابلی تلمود بہت طویل اور دقیق ہے۔ اوّل الذکر تلمود چوتھی صدی میں ختم ہوگئ ی۔ اس کے 131 ابواب ہیں او رنامکمل رہ گئی ہے۔ بابلی تلمود 499ء میں مکمل ہوئی اس کے موجودہ ابواب کی تعداد 37 ہے۔یہ اگر مکمل تھی تاہم مشنا کے تمام ابواب کا احاطہ نہیں کرتی۔پھر بھی ایسے دلائل موجود ہیں کہ تمام ابواب مکمل ہوگئے تھے او ربعد ازاں کچھ ضائع ہوگئے بابلی تلمود نے یہود کے مذہب ۔ان کی روز مرہ زندگی۔ان کی طرزبیان او ران کے طرز فکر پر نہایت گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

دونوں تالمود مضامین کے لحاظ سےدو قسموں میں منقسم ہیں۔ ایک حصے کو ہلکہ کہتے ہیں یعنی خالص احکام و شرائع ۔ اس حصے میں 613۔ اوامرو نواہی۔ان کی جزئی تفصیل۔ حرام و حلال کی موشگافیاں۔ صغائر و کبائر کی باریکیاں بیان کی گئی ہیں۔ عوام کو رانہ تقلید او رجہالت کے باعث ان اقوال و تشریحات کو خدا کا کلام سمجھ کر ان کی تقدیس و تحریم میں محو ہوگئے اور اصل توراۃ کے مقابلہ میں گویا ایک اور شریعت قائم ہوگئی۔ قرآن نے اسی بات کو اتخذوا احبارھم ورھبانہم اربابا من دون اللہ کہا ہے۔ تالمود کا دوسرا حصہ ہجدہ کہلاتا ہے جس میں روایات و سیز آثار و قصص وغیرہ شامل ہیں۔اس میں کہیں تو الہٰیات کے اسرار و رموز شامل ہیں اورکہیں خدا او رانبیاء کی جانب بےہودہ افعال منسوب ہیں۔کہیں ارواح خبیثہ کی خوش فعلیاں ہیں اور کہیں جادو۔اس طرح یہ مذہب مسخ ہوکر مجموعہ اوہام بن گیا۔ تاہم اس بات سے قطع نظر کہ تلمود میں حقیقت کس قدر ہے اور باطل کس قدر۔ یہ چیز بہت اہم ہے کہ تالمود کو یہود کے دینی ادب میں بڑا وقیع مقام حاصل ہے۔ اس سے بنی اسرائیل کی تہذیب۔ ثقافت پر روشنی پڑتی ہے کیونکہ ان کی قومی حکمت کا یہ خزانہ ضائع ہونے سے بچ گیا ہے۔

یہود کے دینی ادب کی ایک قسم کا نام مدراش ہے۔ عزرا ن ےبہت دنوں تک لوگوں کے سامنے بائبیل کی آیات اور تشریح کا سلسلہ شروع کیے رکھا تھا جو مدراش کہلایا۔پھر یہ قسم بھی تلمود میں شامل کردی گئی۔ تلمود کی تدوین کے بعد ہی ایک مدراش لکھی گئی جو 12 صدی عیسوی میں ربّی شلومو نے مختصر بائیبل کے نام سے لکھی تھی۔

مدراش۔یہود کے دینی ادب کی ایک قسم کا نام فتاویٰ ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ یہود کو دنیا بھر میں بکھیر دیا گیا تھا۔ یروشلم میں ان کا داخلہ تک ممنوع رہا۔ اس لیے بابل میں ان کے دو بڑے مذہبی مرکز بن گئے جن کے سربراہوں کو تمام یہودی دنیا میں سیادت حاصل تھی۔ وہ اپنے زمانے کے سب سے بڑے عالم شمار ہوتے تھے۔ ساری دنیاکے یہودی اپنے مذہبی مسائل حل کرنے کے لیے ان کی جانب رجوع کرتے تھے اور یہ عالم ان کے جواب میں فتوے جاری کرتے تھے۔بعد ازاں یہ رسم ختم ہوگئی۔لیکن مذکورہ دور کے سوالات کے جوابات پر مشتمل لٹریچر آج بھی محفوظ اور مروج ہے جسے (Responsa) کہتے ہیں۔

ابوکریفہ۔ یہود کے مذہبی ادب کی ایک قسم کا نام ابوکریفہ یعنی پوشیدہ مکتوبات ہیں۔ عزرا کی نسبت مشہور ہے کہ بابل کی اسیری سے واپسی کے بعد جب اس نے توراۃ کو از سر نو تحریر کیا تو 70 مخفی مخطوطات بھی تحریر کیے جو اگرچہ عام طور پر رائج نہ تھے لیکن خواص کو ان کی تعلیم دی جاتی تھی۔ان کتب یا مخطوطات کو یہودی اصطلاح میں سفریم جنوریم کہتے ہیں۔ جنوریم کے معنی قیمتی چیزوں کو محفوظ رکھنے کے ہیں۔ ان میں سے چودہ کتب موجودہ تالمود میں محفوظ ہیں۔ ان کتب کے بارے میں یہود میں شدید اختلافات ہیں او ران کا ایک فرقہ ان کو جعلی کتب کا نام دیتا ہے۔

ترگم۔ دینی ادب کی ایک قسم کا نام ترگم ہے جس کےمعنی مفصل ترجمہ کے ہیں۔ قدیم عبرانی زبان اسیری بابل کے زمانے میں مفقود ہوگئی تھی اور اس کی جگہ آرامی زبان نے لے لی تھی۔ عزرا کے زمانے میں یہ دستور ہوگیا تھا کہ یہودیوں کے عبرانی زبان نہ سمجھنے کے باعث یہود کے علماء تورات کی اصل آیات کا آرامی میں ترجمہ سنایا کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ کنیسوں میں تورات اس طرح پڑھی جانے لگی او ران ترجموں نے مستقل حیثیت اختیار کرلی اور عہد مسیحی میں کتابوں کی شکل میں مرتب ہوگئے۔ ان کی تعداد دس کے قریب ہے۔ سب سے مشہور ترگم انگیلاس کا ہے جوموجو دہ شکل میں تیسری صدی عیسوی کے آخر میں مرتب ہوا۔

عہد اسلام میں یہود نے حکایات ، قصوں ، افسانوں او رجادو کے کرشموں کی دنیا سے نکلنے کی کوشش کی۔ انہیں محسوس ہوا کہ یہودی مذہب کو صاف ستھری شکل دینے کی ضرورت ہے تاکہ دور جدید میں وہ مذاق بن کر نہ رہ جائیں۔اس خدشہ کے پیش نظر یہود نے مختلف کتابیں لکھیں ۔ مثال کے طور پر 12 صدی عیسوی کے ربّی شلومو نے مختصر تشریح بابل لکھی۔ اس صدی میں اندلس کے مشہور یہودی عالم موسیٰ بن میمون نے قرطبہ میں یہودی اصولوں کو ارسطو کی زبان میں لکھا اور اس کا نام (Tishne Toran) رکھا۔ اس کتاب کے موجودہ یہودیت پر لازوال اثر چھوڑا ہے۔ 1565ء میں یوسف کیرو نے ایک مختصر او رجامع مجموعہ قوانین یہود مرتب کیا۔

قارئین محترم! ان سطور تک ہم نے یہود کی تاریخ کا اجمالی خاکہ پیش کرتے ہوئے مختلف ادوار میں جنم لینے والے ان کے دینی ادب پر اپنی معلومات کو قلم بند کیا ہے۔ اب آئیے آخر میں ان وجوہات کا جائزہ لے لیں جن کے باعث موسیٰ کی تورات او رانبیاء بنی اسرائیل کے مقدس صحائ ف تحریف کی زد میں آکر اپنی اصلیت کھو بیٹھے ہیں۔

اسباب تحریف۔ یہود کی اصل الہامی کتب میں تحریف کی سب سے بڑی اور پہلی وجہ وہ ہولناک حوادث ہیں جو حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد پے در پے یہود کو پیش آئے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے فوراً بعد ان کی بدبختی کا آغاز یوں ہواکہ اسباط بنی اسرائیل میں تفرقہ پڑگیا اور ان کی دو جداگانہ او رباہم مخالف حکومتیں قائم ہوگئیں۔ دو اسباط یعنی یہود اور بنیامین نےرجعام بن سلیمان کی اطاعت کی اور دس اسباط الگ ہوکر سماریہ کو دارالحکومت بنا کر الگ مملکت قائم کربیٹھے جہاں یہوداہ (خدا) کی عبادت کے ساتھ انہوں نے سونے کی بچھڑے کی عبادت بھی شروع کردی۔ اس شرک اور سرکشی کا نتیجہ یہ ہوا کہ 722ق م میں اسیر یا والوں نے اس سلسطنت کو تباہ کردیا اور دس اسباط کو قید کرکے نینوا لے گئے۔اس طرح یہ اسباط یا توفنا ہوگئے یا بت پرست قوموں میں جذب ہوکر ہمیشہ کے لیے بنی اسرائیل سے الگ ہوگئے۔

یہود کی تباہی اور کتب یہود۔ بارہ میں سے دس کی تباہی کے بعد یہود کا لفظ صرف دو اسباط یعنی یہودا اور بنیا مین کےلیے بولا جانے لگا اور ان کی سلطنت جوڈیا کہلائی۔ جسے 586ق م میں بابل کے بخت نصر نے برباد کردیا اور بیت المقدس کو جہاں حضرت سلیمان علیہ السلام نے الواح توریت محفوظ کی تھیی|ں جلا کر خاک سیاہ کردیا۔ دونوں قبیلوں کاقتل عام کیا او رجس قدر زندہ بچ سکے انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح ہانک کر بابل لے گیا۔یہ جلا وطنی 50 سال تک رہی اس دور میں یہود کے پاس کوئی اصلی یانقلی توراۃ موجود نہ تھی۔

پچاس سال بعد جب سائرس شاہ ایران نے بابل کو فتح کرکے یہود کو آزاد کردیا او رانہیں فلسطین واپس جانے کی اجازت دے دی تو 532 ق م میں ہیکل سلیمانی دوبارہ عزرا کی کوششوں سے تعمیر ہوا۔ اسی شخص نے کتب خمسہ موسوی یعنی سلسلہ اوّل کی کتابوں کو دوبارہ مرتب کیا (یہ عزرا وہی ہے جسے قرآن نے عزیر کے نام سے یاد کیا ہے) عزرا کے فوراً بعد نحمیاہ نے سلسلہ دوم نبیم کا اضافہ کیا۔ لیکن دو سال بعد سکندر یونانی کی صورت میں یونانی فتوحات کا سیلاب آیا تو یہود پر پھر بلا نازل ہوئی۔ ان کی کتب اور مقدس مقامات برباد ہوگئے۔بعد ازاں یونانی اقتدار کے تحت ان کی نیم خود مختار سلطنف قائم ہوگئی لیکن ان کی شرارتوں سے تنگ آکر انطاکیہ کے یونانی بادشاہ انٹونیس نے یہود کی جداگانہ قومیت اور مذہب کو مٹانے کی غرض سے بیت المقدس میں ہیکل سلیمانی کو تباہ کرکے اس کی جگہ یونانی دیوتا رئیس کا مندر بنوا دیا۔ مقدس صحیفوں کو جلا دیا، تورات کی تلاوت حکماً بند کردی اور شعائر یہود کی پابندی کی ممانعت کردی۔ پھر یہودا مکابی کی ہمت سے یہود کے دن پھرے۔ بیت المقدس کو پاک کیا گیا۔ مقدس صحیفے دوبارہ مرتب ہوئے۔ اور ان میں سلسلہ سوم یعنی کبتیم کا اضافہ کردیا گیا لیکن جلد ہی رومی تلوار چمکی اور 70 ء میں ٹائٹس رومی نے بیت المقدس فتح کرکے ہیکل سلیمانی کو مسمار کردیا۔ یہاں سے یہود کو جلا وطن کردیا۔ یروشلم کے ارد گرد غیر یہودی آبادیاں قائم کیں اور مقدس صحیفوں کو فتح کی یادگار کے طور پر ساتھ لے گیا۔ اس طرح یہودی ایک مرتبہ تورات او رصحف انبیاء سے محروم ہوگئے۔ رومی قیصر ہاوریان کے دور میں یہود نے غلامی سے نجات پانے کی کوشش کی اور ایک خوفناک جنگ ہوئی جس میں پانچ لاکھ کے قریب یہودی قتل ہوئے۔ اس جنگ کے نتیجہ میں رومیوں نے یہود کو یروشلم کے کھنڈروں میں آنے کی بھی ممانعت کردی۔ان پے در پے تباہیوں کے باعث یہود اپنے مقدس صحیفوں کی حفاظت نہ کرسکے۔

تورات اور یہود کے دیگر دینی ادب میں تحریف و تبدیلی کی دوسری وجہ یہ ہوئی کہ یہود میں ان کتب کے حفظ کا رواج نہ تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو لکھے ہوئے نسخے ضائع ہوجانے پر حفاظ کی مدد سے انہیں دوبارہ بعینہ لکھ لیا جاسکتا تھا۔ نیز یہود میں تورات اور دیگر صحائف کے نسخے گھر گھر نہیں ہوتے تھے بلہ صرف ہیکل سلیمانی اور چند کنیسوں میں رکھے جانے کے لیے صرف گنتی کے نسخے ہوتے تھے او رجب تباہیوں میں یہ چند نسخے ضائع ہوجاتے تو توراۃ سے پوری دنیا سے اُٹھ جاتیں۔ اس کے برعکس قرآن کریم کی حفاظت کی ایک ضمانت یہ بھی ہے کہ دنیا میں کروڑوں ،اربوں نسخہ ہائے قرآن کے علیوہ لا تعداد افرا دکے سینوں میں بھی یہ محفوظ ہے اوردنیا کی کوئی طاقت ان دونوں چیزوں کو بیک وقت ختم کرکے قرآن کا وجود ختم نہیں کرسکتی۔

تحریف کا ایک اور سبب ۔ تیسراسبب یہود کی شعوری او رلاشعوری تحریفات ہوئیں۔لاشعوری یوں کہ توراِ ۃ کا نسخہ ضائع ہونے کے بعد جب اسے دوبارہ کئی سال بعد مرتب کیاجاتا تو یہ روایت بالمعنیٰ کے طریق پر ہوتا تھا۔پھر زبان بھی توراۃ کی سابقہ زبان کی بجائے کوئی دوسری ہوتی۔ کیونکہ اتنے عرصے میں یہود کسی اور زبان کے خوگر ہوکر پرانی زبان سے رابطہ منقطع کرچکےہوتے تھے۔ اس وجہ سے یہ بات حتمی طور پر کہی جاسکتی ہےکہ توراۃ میں اگر شعوری تحریفات کو تسلیم نہ بھی کیاجائے تب بھی توراۃ موسوی بعینہ ہمارے درمیان موجود نہیں ہے۔ اسی کے باعث ''دیباچہ علوم بائیبل'' میں ریونڈ ہارن کہتاہے..... '' عہد عتیق کی کتابیں دراصل عبرانی زبان میں ہیں اور دو ناموں سے پکاری جاتی ہیں (1) آٹو گرافس یعنی وہ نسخے جس کو صاحب الہام نے خود لکھا ہے ۔ یہ سب نسخے ناپید ہوچکے ہیں|۔ (2) ایبوگرافس۔ یعنی وہ نس|خے جو اصل نسخوں سے مکرر در مکرر نقل ہوتے آئے ہیں۔ یہ بھی دو قسموں پر مشتمل ہیں۔ ایک وہ جو یہود میں بہت معتبر اور مستند مانے جاتے ہیں۔ یہ بھی مدت سے معدوم ہوچکے ہیں اور دوسرے وہ جو کتب خانوں اور لوگوں کے پاس موجود ہیں۔'' گویا تمام مستند نسخے او ران کی مستند نقلیں مغربی محققین کے نزدیک معدوم ہوچکی ہیں۔ یہی مصنف مزید کہتا ہے ... ''عہد عتیق کی کتابیں اگرچہ دوسری صدی عیسوی میں مرتب ہوگئی تھیں لیکن اس وقت تک کسی خاص متن پراتفاق نہ ہوا تھا۔ اس وجہ سےنقلوں میں سخت اختلاف ہوتا تھا اور یہ اختلاف نقلوں کی کثرت کے ساتھ بڑھتا جاتا تھا۔'' قارئین اس طرح آپ موجودہ تورات اور دیگر صحف انبیاء کی حقیقت کا بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں۔

تحریف کا سبب رسم الخط ۔ عبرانی زبان او راس کا رسم الخط تورات وغیرہ میں تبدیلیوں اور تحریفات کا ایک اور سبب ثابت ہوئے ہیں۔ قدیم عبرانی زبان میں حروف علت بالکل نہ تھے صرف 22 صحیح حروف مستعمل تھے۔ ان میں سے بھی بعض حروف باہم اس قدر مشابہ ہیں کہ ذرا سی بے احتیاطی سے عبارت کچھ سے کچھ ہوجاتی۔ مزید ستم یہ تھا کہ عبرانی رسم الخط میں عبارت لکھتے ہوئے حروف الگ الگ لکھے جاتے تھے او رلفظوں کے درمیان کوئی علامت فاصلہ درج نہ ہوتی تھی۔ نہ ہی لفظ ||ختم ہونے پر جگہ چھوڑ کر نیا لفظ شروع کیا جاتا۔ اس لیے حروف کے غلط جوڑ ملانے سے الفاظ کچھ کے کچھ ہوجاتے۔ مثلاً اگر یہ فقرہ لکھنا ہو ''خدا قادر و عادل ہے'' تو قدیم عبرانی میں اسے یوں لکھتے ہیں۔ خ د ق در ع دل۔ اب اسے کون کیسے پڑھے او رکیا پڑھے۔ اسے سینکڑوں فقروں کی صورت میں ڈھالا جاسکتا ہے۔یہود کے علماء اسی طرح تورات کی عبارت سے اپنے مطلب کے فقرے بنا کر اپنی خواہشات کے مطابق اسے ڈھال لیا کرتے تھے۔

عمداً تحریف کی وجہ۔ تورات اور دیگر کتب یہود میں تحریف کا ایک باعث یہود کی شعوری کوششیں ہیں جہاں انہیں اپنے مروجہ عقائد یا خواہشات کے خلاف بات نظر آتی اسے بدل دیاجاتا۔ ہسٹری آف انگلش بائیبل کا مصنف 18مقامات پرمتن بائیبل میں تحریف کا اعتراف کرتا ہے جو اب تصحیحات بائیبل کے نام سے مشور ہیں۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے مطابق دوسری صدی عیسوی میں چونکہ کتب یہود باقاعدہ مرتب ہوئیں او ران پرپھر کوئی بڑی تباہی بھی نازل نہیں ہوئی اس لیے اس دور کے بعد بہت کم تحریفات ہوئیں۔ لیکن اس سے پہلے بہت کچھ ہوچکا تھا کیونکہ مؤلفین کتب متن کتاب کو اس طرح پیش کرتے کہ وہ حالات کے مطابق دینی ہدایت کے لیے مفید ثابت ہوسکیں ۔ اس لیے وہ حسب منشا خوب تحریفات کرتے۔

تحریف اور زبان کے تغیرات۔ یہود کی عام بول چال کی زبان میں باربار کی تبدیلی بھی ان کی مقدس کتب میں تحریفات و ترمیمات کا باعث بنی۔ ایک بار کتاب کی تباہی کے بعد جب اسے دوبارہ مرتب کیا جاتا تو ہر بار اس کی زبان بدل جاتی۔ پہلے کتب مقدسہ کی زبان عبرانی تھی۔عزرا نے شاید آرامی زبان میں تورات کو از سر نو مرتب کیا۔ کیونکہ نینوا میں اسیری کے دوران یہودی اپنی سابقہ زبان بھلا کر آرامی کو اپنا چکے تھے۔ پھر یونانیوں کے دور میں یہود نے یونانی زبان اپنا لی اور تورات کو یونانی زبان میں از سر نو مرتب کیا گیا۔ یونانی نسخے سے ایک بار پھر توراۃ کو واپس عبرانی میں منتقل کیا گیا۔جب رومی حکومت کا دور آیا او ریہودی رومی زبان اپنانے پرمجبور ہوئے تو کتب مقدسہ کو رومی قالب میں ڈھال لیا گیا۔ پھر لطف کی بات یہ ہے کہ نئی زبان میں ترجمہ کرتے وقت نہ تو سابقہ زبان کی عبارت ساتھ لکھی جاتی نہ ہی اسے دیکھ کرترجمہ کیا جاتا۔ کیونکہ نسخہ سابق عموماً دنیا سے اُٹھ چکا ہوتا اور یہ سب کچھ روایت بالمعنیٰ کے طور پر ہوتا رہا۔ اس صورت میں آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حقیقت کتنی خرافات میں کھوچکی ہوگی۔

دو قسم کی وحی۔ روایت بالمعنیٰ کےعلاوہ کتب مقدسہ میں تحریف و تبدیل کا ایک باعث یہود کا عقیدہ وحی لسانی بھی بنا ہے۔ عقیدہ یہ تھا کہ موسیٰ علیہ السلام پر دو قسم کی وحی نازل ہوئی تھی۔وحی مکتوبی جو تورات کی صورت میں موجود ہے اور وحی لسانی جو اولاد ہارون میں سینہ بسینہ چلی آرہی ہے۔ اس عقیدے نے سینکڑوں کتابوں کو الہامی بنا دیا کیونکہ جاہ پسند کوئی کتاب لکھ کر کہہ دیتے کہ یہ وحی لسانی پر مبنی ہے جو مجھے سینہ بسینہ پہنچی ہے۔ اس طرح کتب مقدسہ کی بھرمار ہوگئی تو یہود کو خیال آیا کہ مستند اور غیر مستند کو الگ الگ کرلیاجائے۔ 900 ء میں سائنڈ نے 24 کتب کو سند قبول عطا کی اور باقی کو جعلی قرا ردیا۔اس کے بالمقابل صدوقی صرف 5 کو مستندمانتے ہیں او رباقی تمام کو غیر مستند۔

ان سب اسباب نے مل کر وحی خداوندی کو ڈھانپ لیا او رحقیقت خرافات میں کھوگئی۔ چھٹی صدی عیسوی میں جب مسوراتیان (رواۃ یہود) نے اس وقت کے موجود بابلی اور فلسطینی نسخہ جات تورات میں اختلاف کو گنا توان کی تعداد 1314 تک پہنچ گئی۔ یہ اختلاف اب تک عبرانی تورات میں نقل کیے جاتے ہیں جن سے صاف نظر آتا ہے کہ موجودہ تورات اور صحف انبیاء کہاں تک قابل وثوق و استناد ہیں۔

تحریف سے بچنے کے لیے ایک تدبیر۔ ان مسوراتیان نے ایک او راہم کام یہ بھی کیا کہ قرآن کریم کی صحت کتابت و قرأت سے متاثر ہوکر عبرانی رسم الخط کے نقائص دور کیے اور تحریف شدہ کتب مقدسہ کو مزید تحریف سے بچانے کی خاطر متن توراۃ کی صحیح قرأت و کتابت کی بنیاد مستحکم کردی۔ لیکن پھر بھی یہ حال ہے کہ 1488ء میں پہلی دفعہ عہد نامہ عتیق کی کتب کو پریس میں شائع کرنےکے بعد 1705ء میں جب دوسری دفعہ طباعت کا اہتمام کیا گیا تو طبع اوّل سے بارہ ہزار جگہ اختلاف کرنا پڑا۔ ایسی کتابوں کی صحت اور درجہ استناد کا ندازہ کرنا اب آپ کے لیےمشکل نہیں رہا ہوگا۔ صحیح بات یہ ہےکہ ان کتابوں کی ضرورت کا زمانہ |ختم ہوگیا اس لیے ان کا صحیح متن اٹھالیا گیا ۔ اب خرافات باقی ہیں جن میں حضرت داؤد کوزانی ، حضرت سلیمان علیہ السلام کو ظالم اور بت پرست ، ہارون علیہ السلام کو گئوسالہ پرست اور لوط علیہ السلام کو اپنی بیٹیوں کے ساتھ جنسی اختلاط کرتے ہوئے دکھایا گیاہے (معاذ اللہ) اس کے برعکس قرآن کریم چونکہ ابدی ہدایت کی کتاب ہے اس لیے اس کا متن آج بھی روزِ اوّل کی طرح بلا اختلاف محفوظو مامون ہے۔ تاریخ شاہد ہےکہ مسلمانوں پر سب سے کٹھن وقت سقوط بغداد کا وقت ہے جب وحشی تاتاریوں نے مسلمانوں کی کروڑوں کتابوں کو جلاکر ان کی راکھ دریاؤں میں بہادی تھی لیکن دنیا کا کوئی انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس حادثہ فاجعہ میں قرآن کا ایک لفظ بھی ضائع ہوا ہو۔

کتابیات :

1. Rebecca Wept at the Wailing wall.

2. Legacy of Israel.

3. History of Palestine by Angelo S. Rappoport.

تاریخ لبنان از فلپ حتی 4.

5. A History of the Jewish People by James Parks.

6. History of Israel by Mortin Noth.

7. History of world religeons by Khtharina Sayage.

8. Great Battles of Biblical History.

9. A History of Jewish Erimes by Shakil Ahmad Zia.

10.

11. Encyclopaedia Britanica 1969 Yolume 15-3.

12. History of Historical Writings.

13. A Survey of Human History.

14. Liberation ___ Not___ Negotition by Ahmad Shukairy.

15. Our Jewish Heritage by Joseph Gear and Rabbi Alfred Wolf.

16. The Idea of Jewish State by Ben Helpevn.

17. Bible.

نوٹ: جلد 8 عدد5،6 میں موصوف کے شائع شدہ آرٹیکل بعنوان کنعان کنعانیوں کا ہے، کے مآخذ بھی مندرجہ بالا ہی ہیں۔ قارئین نوٹ فرمالیں۔