(خصوصیات)

سن ہجری قمری ماہ و سال سے تعلق رکھتا ہے اور حضور اکرمﷺ کے ہجرت کے سال سے شمار ہونے کی وجہ سے مسلمانوں سے خاص نسبت رکھتا ہے۔ قمری مہینہ کے ایام میں تبدیلی ناممکن ہے۔ یہ مہینہ یا تو 29 دن کا ہوتا ہے یا 30 دن کا۔ گویا مہینہ کے ایام میں کم سے کم تفاوت ہے۔ 29 دن کے مہینہ کو کسی بھی وضعی یا اختراعی طریقہ سے 30 دن کا نہیں بنایاجاسکتا۔ نہ 30 دن والےمہینہ کو 29 دن کےمہینہ میں تبدیل کیاجاسکتاہے۔ رویت ہلال کا فرق تو محض مقامی فرق ہوتا ہے جس کا عموماً دوسرے ہی دن پتہ چل جاتا ہے۔ ورنہ اگلے ماہ قمری تقویم خود بخود درست ہوجائے گی۔

قمری سال 12 ماہ کا ہوتا ہے او ریہ ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک 12 ہی ماہ کا چلا آتا ہے۔ بقول باری تعالیٰ:

﴿إِنَّ عِدَّةَ الشُّهورِ‌ عِندَ اللَّهِ اثنا عَشَرَ‌ شَهرً‌ا فى كِتـبِ اللَّهِ يَومَ خَلَقَ السَّمـوتِ وَالأَر‌ضَ مِنها أَر‌بَعَةٌ حُرُ‌مٌ...٣٦﴾... سورة التوبة

''بلاشبہ ابتدائے آفرینش سے لے کر قوانین قدرت کے مطابق اللہ کے ہاں (سال کے) مہینوں کی کل تعداد بارہ ہے۔''

یہ سال نہ تو گیارہ یا دس ماہ کا ہوسکتا ہے اور نہ تیرہ یا چودہ ماہ کا ۔ او رجن لوگوں نے دوسرے ممالک کی دیکھا دیکھی قمری سالوں کےمہینوں میں پیوند کاری کی کوشش بھی تو ان کی یہ کوشش عام قبولیت حاصل نہ کرسکی۔

قمری سال، شمسی سال سے 10 دن 21 گھنٹے چھوٹا ہوتاہے۔ بالفاظ دیگر ایک شمسی سال میں30؍11۔12 قمری مہینے ہوتے ہیں۔30؍11 کی کسر چونکہ نصف سے کم ہے۔لہٰذا اگر شمسی سال کی رعایت ملحوظ رکھی بھی جائے تو عقل عامہ کی مناسبت سے قمری سال کے 12 ہی ماہ ہونے چاہیئیں جبکہ شمسی سال مہینوں کی مقررہ تعداد سے آزاد ہوسکتا ہے۔

ہم پہلے بتلاچکے ہیں کہ اہل عرب نے بھی دنیا کی دیکھا دیکھی قمری سال کو دنیوی اغراض و مقاصد کی تکمیل کے لیے شمسی سال سے مطابق کرنے کی کوشش کرناشروع کردی تھی اور اس مقصد کی تکمیل کے لیے اضافی دنوں یا مہینوں کی پیوندکاری (کبیسہ، لوند یا لیپ)کاطریقہ اپنالیاتھا۔ اسی طرح اللہ کے شعائر خصوصاً حج کے ایام میں گڑ بڑ پیدا کردی گئی۔ دو سال تو حج فی الواقع ماہ ذی الحجہ میں ادا کیا جاسکتا ہے ۔ پھر تین سال محرم میں پھر دو سال صفر میں پھر تین سال ربیع الاوّل میں۔ علیٰ ہذا القیاس 30 سال کا عرصہ گزرنے کے بعد پھر حج ماہ ذی الحجہ میں واقع ہوجاتا۔ اس طرح ایک سال کا عرصہ گم کردیا جاتا تھا یا 30 قمری سالوں میں 29 بار حج ادا کیاجاتا او ریہ ترکیب محض اس لیے اختیار کی گئی کہ حج کا وقت ایک ہی موسم میں آیا کرے۔

پھر یہ گڑ بڑ صرف حج تک ہی محدود نہ رہی۔ حضور اکرمﷺ کی بعثت سے پہلے حرمت کے چارمہینے قرار دیئے گئے تھے۔ ان مہینوں کے متعلق اہل عرب کو یہ ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ان مہینوں میں نہ تو آپس میں جدال وقتال کریں گے نہ کسی تاجر یا راہ گیر کو لوٹ کھسوٹ سے پریشان کریں گے۔ یہ مہینے رجب، ذی القعدہ،ذی الحجہ او رمحرم الحرام تھے۔ ان میں تین اکٹھے مہینے حج کے پُراطمینان سفرکے لیے تجویز کیے گئے تھے۔ چونکہ یہ ایک پسندیدہ دستور تھا۔لہٰذا اسلام نے اسے بحال رکھا۔ کبیسہ کے طریق کی وجہ سے ان حرمت والے مہینوں میں بھی تقویم و تاخیر اور گڑ بڑ پیدا ہوجاتی تھی اور قلامبہ کے فرائض میں یہ بات بھی شامل تھی کہ وہ اعلان حج کے ساتھ ان مہینوں کا بھی اعلان کیا کرے کہ آئندہ سال کون کون سے مہینے حرمت والے ہوں گے۔ اس تقویم و تاخیر کو اہل عرب نسئ کہتے تھے۔ اسلام نے اس مذموم فعل کو زمانہ کفر کی زیادتی قرار دے کر اس سے منع فرما دیا۔

ارشاد باری ہے:

﴿إِنَّمَا النَّسىءُ زِيادَةٌ فِى الكُفرِ‌ يُضَلُّ بِهِ الَّذينَ كَفَر‌وا يُحِلّونَهُ عامًا وَيُحَرِّ‌مونَهُ عامًا لِيُواطِـٔوا عِدَّةَ ما حَرَّ‌مَ اللَّهُ فَيُحِلّوا ما حَرَّ‌مَ اللَّهُ زُيِّنَ لَهُم سوءُ أَعمـلِهِم...٣٧﴾... سورة التوبة

''امن کے مہینے کو ہٹا کر آگے پیچھے کرلینا کفر میں اضافہ کرتا ہے۔ اس سے کافر لوگ گمراہی میں پڑے رہتے ہیں۔ ایک سال تو انہیں حلال کرلیتے ہیں اور دوسرے سال حرام تاکہ ادب کے مہینوں کی جو خدا نے مقرر کیے ہیں،گنتی پوری کرلیں او رجو خدا نے منع کیا ہے ان کو جائز کرلیں۔ ان کے بُرے اعمال انہیں بھلے دکھائی دیتے ہیں۔

اتفاق کیبات کہ حجۃ الوداع 10 ہجری فی الواقع ذی الحجہ کےمہینہ میں واقع ہوا۔اسی موقع پر یہ آیت نازل ہوئی جس کے بعد کبیسہ اور نسئ کا طریق کار حرام قرار پایا او راسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیےترک کردیا گیا او رقمری تقویم سے دوغلی پالیسی ختم کرکے اسے صحیح فطری خطوط پر مرتب کردیا گیا۔

سنہ ہجری کی ابتداء

سنہ ہجری کی ابتداء کیسے ہوئی؟ اس کے متعلق علامہ شبلی نعمانی) الفاروق میں یوں رقم طراز ہیں:

21ھ میں حضرت عمرؓ کے سامنے ایک تحریر پیش ہوئی، جس پر صرف شعبان کا لفظ تھا۔ حضرت عمرؓ نے کہا یہ کیونکر معلوم ہو کہ گذشتہ شعبان کا مہینہ مراد ہے یا موجودہ؟ اسی وقت مجلس شوریٰ طلب کی گئی او رہجری تقویم کے مختلف پہلو زیربحث آئے جن میں سے ایک بنیادی پہلو یہ بھی تھاکہ کون سے واقعہ سے سن کا آغاز ہو۔ حضرت علیؓ نے ہجرت نبوی کی رائے دی او راس پر سب کا اتفاق ہوگیا۔ حضور اکرمﷺ نے 8ربیع الاوّل کو ہجرت فرمائی تھی ۔ چونکہ عرب میں سال محرم سے شروع ہوتا ہے ۔ لہٰذا دو مہینے 8دن پیچھے ہٹ کر شروع سال سے سن ہجری قائم کیا گیا۔

سن ہجری کی ابتداء کے متعلق قاضی سلیمان منصور پوری صاحب''رحمۃ للعالمین'' علامہ شبلی نعمانی سے کچھ ا|ختلاف رکھتے ہیں۔ فرماتے ہیں:

اسلام میں سن ہجری کا استعمال حضرت عمر فاروقؓ کی خلافت میں جاری ہوا۔ جمعرات 30 جمادی الثانی 17 ہجری مطابق 12؍9 جولائی 638ء حضرت علیؓ کے مشورہ سے سن ہجری کا شمارواقعہ ہجرت سے کیا گیا او رحضرت عثمان ؓ کے مشورہ سے محرم کو حسب دستور پہلا مہینہ قرار دیا گیا۔

مزید تحقیق سے یہ معلوم ہواکہ واقعہ ہجرت سے سنین کے شمار کی ابتداء اس سے بھی بہت پہلے ہوچکی تھی(تاریخ ابن عساکر جلد1 رسالہ التاریخ للسیوطی بحوالہ تقویم تاریخی)او ریہی بات قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کیونکہ عرب میں قمری کیلنڈر کا رواج تو پہلے سے ہی موجود تھا اور حضور اکرمﷺ کی زندگی میں ہجرت کا واقعہ سب سے اہم واقعہ تھا۔ لہٰذا اس واقعہ سے سنین کے شمار کا دستور چل نکلا تھا۔ البتہ عہد فاروقی تک سرکاری مراسلات میں صحیح اور مکمل تاریخ کا اندراج لازمی نہ سمجھاجاتا تھا جسے ایک طرح کی دفتری خامی سےتعبیر کیا جاسکتا ہے اور اس خامی کا علاج حضرت عمرؓ نے مجلس شوریٰ بلا کر کردیا تھا۔

سنہ ہجری کی خصوصیات

اگر ہم سن ہجری کا دوسرے مروجہ سنین سے تقابل کرکے دیکھیں تو یہ سن بہت سی باتوں میں ممتاز نظر آتا ہے مثلاً:

1۔ ترمیمات سے مبّرا: سنہ ہجری کی بنیاد قمری تقویم پر ہے اور قمری تقویم انسانی اختراعات سے بے نیاز او ربلند ہے ۔ قمری تقویم میں اگر کبھی پیوندکاری کی گئی تو بھی اسے عام قبولیت حاصل نہ ہوسکی۔ سنہ ہجری کے آغاز سے لے کر آج تک اس میں نہ کوئی ترمیم ہوئی او رنہ آئندہ ہی ہونے کا امکان ہے۔کیونکہ اسلام نے اسے حرام قرا ر دیاہے۔لہٰذا اس سنہ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ شروع سے آج تک اپنی مجوزہ صورت پر چلا آتا ہے اورکسی دور میں بھی اس میں ترمیم کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ دنیا کے مروجہ سنین میں سے غالباً کسی میں یہ خصوصیت نہیں پائی جاتی۔

2۔ قدامت بلحاظ صحت و استعمال : اگرچہ بعض دوسر ے سنین سنہ ہجری سے بہت پہلے کےمعلو م ہوتے ہیں لیکن سب کی باقاعدہ تدوین سنہ ہجری کے بہت بعد ہوئی ہے۔

(الف) یکم محرم 1ھ کوجولین کیلنڈر 16 جولائی 334ء تھا۔ مگر حقیقت میں یہ سنہ اپنے موجودہ طریق پر سنہ ہجری سے 989 سال بعد وضع ہوا ہے ۔ یہی سنہ آخر میں سن عیسوی میں تبدیل ہوا جس میں 1582ء تک متعدد بارترامیم ہوتی رہی ہیں۔ اس آخری ترمیم کے بعد کا حال بھی ملاحظہ فرمائیے۔ انگلستان میں 2 ستمبر 1753ء یوم چہار شنبہ (مطابق 3 ذی القعدہ 1165ھ) کو ترمیم کے ذریعہ دوسرے روز یعنی 4 ذی القعدہ 1165ھ کو 14ستمبر 1752ء بنا دیا گیا۔

(ب) بکرمی سمت یکم محرم الحرام 1ھ کو 26ساون سمت 679 تھا۔ جو بظاہر سن ہجری سے 678 سال پہلے کامعلوم ہوتا ہے مگرہندواو ریورپین مورخین کی تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ سب سے پہلے سمت 898 بکرمی میں یہ سنہ بکرمی کے نام سے مشہور ہوا۔ اس طرح بلحاظ تدوین یہ سنہ، سنہ ہجری سے 225 سال بعد مدون ہوا۔

(ج) سن سکندری سنہ ہجری سے 932 سال پہلے کا ہے مگر اپنی موجودہ ہیئت میں نوزائیدہ ہے کیونکہ یہ شروع میں کئی صدیوں تک قمری مہینوں کے حساب سے جاری رہا ہے او راب اسے شمسی مہینوں میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

(د) ابتداً دنیا بھر میں سنین کا حساب قمری تقویم کے حساب سے شروع ہوا تھا۔جس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔

3۔ مساوات اور ہمہ گیری: اسلام دین فطرت ہے لہٰذامصالح عامہ پر مبنی ہے۔اسلام کی اعلیٰ خصوصیات میں سے ایک خاصیت مساوات اور ہمہ گیری بھی ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے یہی پسند فرمایا کہ اسلامی مہینے ادلتے بدلتے موسم میں آیا کریں۔ اگر اسلام کبیسہ کے طریقہ کو گوارا کرلیتا تورمضان کا مہینہ (ماہ صیام) کسی ایک مقام پر ہمیشہ ایک ہی موسم میں آیا کرتا۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا کہ نصف دنیا کے مسلمان، جہاں موسم گرما اوردن بڑے ہوتے ہمیشہ تنگی اور سختی میں پڑ جاتے او رباقی نصف دنیا کےمسلمان، جہاںموسم سرد اور دن چھوٹے ہوتے، ہمیشہ کےلیے آسانی میں رہتے۔ روزہ کے علاوہ سفر حج کا بھی تقریباً یہی حال ہے۔ پس مساوات و جہانگیری کا اقتضا ہی یہ تھا کہ اسلامی سال قمری حساب پر ہی ہو اور اسے کبیسہ جیسی انسانی اختراعات سے بھی پاک رکھا جائے۔

4۔ دنیوی اغراض کے بجائے روحانی بنیادیں:

(الف) ہجرت سے آغاز: دنیا بھر کے مروجہ سنین کی ابتدائ پرنظر ڈالیے تو معلوم ہوگا کہ کوئی سن کسی بڑے آدمی یا بادشاہ کی پیدائش ، وفات یا تاجپوشی سے شروع ہوتا ہے یا پھر کسی ارضی یا سماوی حادثہ مثلاً زلزلہ، سیلاب یا طو فان کی تاریخ سے سنہ ہجری کو ہی یہ اعزاز و شرف حاصل ہے کہ اس کا آغاز دین اسلام کی سربلندی کی خاطر اپنے وطن عزیز کو چھوڑ کر چلے جانے سے ہوا ہے، اپنے وطن کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہنا ایک بہت بڑی قربانی ہے اور ایسے اوقات میں ہر شخص کا دل بھر آتا ہے۔ حضور اکرمﷺ نے بھی ہجرت کے وقت مکہ کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا: ''اےمکہ! تو کتنا پاکیزہ اور مجھے پیارا لگتا ہے۔ اگر میری قوم مجھے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کہیں نہ رہتا ''(ترمذی)

ظاہر ہے کہ ترک وطن پر انسان صرف اسی صورت میں آمادہ ہوسکتا ہے جب وہ انتہائی مجبور ہو یا کوئی عظیم مقصد اس کے پیش نظر ہو اور مسلمانوں کے لیے یہ عظیم مقصد دین اسلام کی سربلندی تھا او رہجرت کے واقعہ کو سنہ ہجری کی بنیاد قرار دینے کامقصد ہی یہ تھا کہ مسلمانوں کو ہر نئے سال کے آغاز پر یہ پیغام یاد رہے کہ انہیں اسلام کی سربلندی کے لیے بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہ کرنا چاہیے۔

(ب) رسم و رواج کی حوصلہ شکنی:کسی ملک یا علاقہ کے رسم و رواج عموماً موسم سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ میلے ٹھیلے، تفریحی سفر، گرمیوں کی چھٹیاں، موسم بہار کی تقریبات۔ مختلف قسم کے محاصل اور نذرانوں کی وصولیوں کے اوقات وغیرہ سب امور موسم سے وابستہ ہوتے ہیں اورموسموں کا تعلق شمسی سال سے ہے۔لہٰذا جوں جوں مذہب سے لگاؤ کم ہوتا اور بیگانگی بڑھتی جاتی ہے۔ شمسی سال کے ساتھ لگاؤ بڑھ جاتا ہے۔ اسی بنا پر بیشتر لوگوں نے شمسی سال کو اپنایا یا قمری سال میں پیوندکاریکرکے اسےشمسی سال کے مطابق ڈھال لیا۔

انتہا یہ ہے کہ آج کل مزاروں کے مجاور اور منتظمین نےبھی زمانے جاہلیت کے پروہتوں کی طرح عرسوں کی تاریخیں بھی شمسی سال ۔۔۔۔ خواہ بکرمی ہویا عیسوی۔۔۔۔ کے مطابق کررکھی ہیں۔ عرسوں کا جواز یاعدم جواز بجائےخود ایک الگ مسئلہ ہے۔ سردست ہم یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ ایسی تقریبات جو خالص دینی اور مقدس سمجھی جاتی ہیں میں سے بھی ہجری تقویم کو خارج کردیا گیاہے ۔ حالانکہ یہ بات اسلامی اقدار کے منافی ہے۔ اسلام رسم و رواج کو، بشرطیکہ وہ جائز بھی ہوں، ثانوی حیثیت دیتا ہے۔ اس کا اوّلین مقصد احکامات و عبادات الہٰی اور شعائراللہ کی صحیح طور پر اور متعینہ وقت پرتعمیل ہے۔ اسی بنا پر اسلام نے قمری تقویم کو اختیار کیاجو اس کی روح کے عین مطابق ہے۔

(ج) ہفتہ کا آغاز جمعہ کے مبارک دن سے: اسلامی تقویم میں ہفتہ کا پہلادن جمعہ قرار دیا گیا ہے۔ یکم محرم الحرام 1ھ کو بھی جمعہ تھا۔جمعہ کو اجتماعی طور پر اللہ کی عبادت اور ذکر کرنےکادن قرار دیا گیا ہے۔ گو اس دن باقاعدہ تعطیل منانے کی پابندی نہیں تاہم جمعہ کے دن نہانے دھونے ، کپڑے بدلنے اور جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لیے تیاری کےخاص اہتمام پر زور دیا گیا ہے۔نماز جمعہ کے بعد کاروبار کرنےکی اجازت ہے۔بالفاظ دیگر اس تقویم میں ہفتہ کی ابتداء اللہ کی یاد سے ہوتی ہے جبکہ عیسوی تقویم میں اتوار کادن۔۔۔۔ جو ان لوگوں کی طہارت کے لیے مخصوص ہے۔ ہفتہ کا آخری دن ہے۔ یعنی چھ دن کام کرنےکے بعد جب انسان تھکا ماندہ ہو تو اللہ کی عبادت کی طرف بھی دھیان کرے۔غالباً یہی وجہ ہے کہ مجوزہ عالمی کیلنڈر میں ہرسال اور اس کی ہر سہ ماہی اتوار سےشروع کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

(د) ہفتہ کے دنوں کے نام اور نجوم پرستی: اسلامی تقویم میں ہفتہ کے ایام کے ناموں میں شرک، نجوم پرستی یا بت پرستی کا شائبہ تک نہیں پایاجاتا۔ ان ناموں کونہ تو کسی مخصوص سیارے سے منسوب کیا گیاہے اور نہ کسی دیوی دیوتا سے جبکہ عیسوی اور بکرمی تقویم میں ہفتہ کے دنوں کے نام دیوتاؤں کی دیوتائی اور سیاروں کی فرمانروائی کی یادتازہ کرتے رہتے ہیں۔جس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔

اسلامی تقویم میں ہفتہ کے دنوں کے نام یہ ہیں:

یوم الجمعة یوم السبت یوم الأحد یوم الإثنین یوم الثلثاء یوم الأربعاء یوم الخمیس

جمعہ ہفتہ پہلادن دوسرا دن تیسرا دن چوتھا دن پانچواں دن
حاشیہ:
 رحمۃ للعالمینؐ جلد دوم ص352 ۔ قاضی سلیمان منصور پوری۔