میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

(بسلسلہ تعزیرات اسلام)

ہم پہلی اقساط میں متعدد مرتبہ یہ بات عرض کرچکے ہیں کہ فقہ علی العموم اس قابل نہیں کہ اسے آج کے معاشرہ میں من و عن نافذ کردیا جائے لیکن فقہ حنفی کی شان تو کچھ نرالی ہی ہےکہ جس کی بنیاد 75 فیصد حیلہ سازی پر ہے اور حیل کےذریعےمجرم کو ''ادرؤا'' کے پردہ میں تحفظ بخشا جاتاہے لیکن نامعلوم ہمارےمہربان ایسی حیلہ سازی کو ختم کرنے کی بجائے الٹا امام بخاری وغیرہ ائمہ محدثین کو کیوں کوستے ہیں کہ انہو|ں نے ان پہلوؤں کی نشاندہی فرما کر عامۃ الناس کی رہنمائی و خیرخواہی کے جرم عظیم کا ارتکاب کیوں کیا؟ یہی رونا ہمارےمہربانوں کو مولانا آزاد پر ہے کہ تذکرہ کے وہ صفحات زخم پر نمک سے کم نہیں۔لیکن حقیقۃً ہم اس فقہ سےبیسار ہیں جس کا تمام تر محور و مدار کتاب الحیل ہی ہو۔

مااہل حدیثیم و غارانہ شناسیم

حدیث نبی چوں و چرا نہ شناسیم

صد شکر کہ درمذہب ماحیلہ وفن نیست

چنانچہ حیلہ سازی کی مثال ملاحظہ فرمائیے کہ قاضی صاحب دفعہ نمبر 18 کے ضمن میں فرماتے ہیں۔''محفوظ مقام سے مال کو باہر نکالنے سے قبل ہلاک کرنا موجب ضمان ہوگا۔'' یعنی اگر محفوظ مقام سےنکالنے سے پہلے سارق مال ہلاک کردے تو اس پر حد نہیں ضمان ہوگا او رہلاک متصور ہونے کی صورتیں درج ذیل بتائی گئی ہیں۔

1۔ روپیہ پیسہ یا کوئی چیز نگل کر سارق محفوظ مقام سے باہر آجائے۔

2۔ کسی جانور کو ذبح کرکے محفوظ مقام سے باہر لائے۔

3۔ کپڑا وغیرہ پھاڑ دیا جس کی وجہ سے اس کی قیمت سرقہ سے کم ہوگئی پھر اس کو محفوظ جگہ سے باہر لایا۔وغیرہ وغیرہ۔

اب صاحب عقل یہ بات محسوس کرسکتا ہے کہ مندرجہ بالا صورتوں میں سروق منہ کی بہ نسبت سارق کازیادہ خیال رکھا گیا ہے اور موہومہ و مفروضہ صورتوں کے پیش نظر آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی ایسے احکام صادر فرمانے کی محض اس وجہ سے کوشش کی گئی ہے کہ کہیں فقہ حنفی پر یہ الزام نہ آجائے کہ وہ اب فرسودہ ہوچکی ہے ایک ہزار سال بعد قانون کی حیثیت سے وہ کام نہیں دے سکتی حالانکہ یہ خصوصیت صرف شرعیت(ارشادات الہٰیہ اور فرامین پیغمبرؐ) ہی کو حاصل ہے کہ وہ کسی دور میں ناکام نہیں ہوسکتی۔ درحقیقت یہی پس منظر ان تمام فقہی موشگافیوں کا ہے گویا یہ بھی ایک غیر معصوم پیغمبر کی شرعیت ہے جو تاقیامت قابل عمل ہے حالانکہ یہ نظر یہ سراسر ارتداد ہے آپ اسے یکے از کرشمہ ہائے تقلید سمجھیئے کہ ایک شخص کسی گھر سے بہ نیت سرقہ قدر نصاب سونا نگل لیتا ہے یا مورجہ کرنسی بقدر نصاب نگل لیتا ہے یا کوئی حجم والی چیز بقدر نصاب اور قیمتی چیز پیٹ میں ڈال لیتا ہے یا کم از کم وہ بلا ضرورت کھانے پینے والی چیز بقدر نصاب کھا لیتا ہے تو اس پر حد نہیں ہوگی۔ جب کہ آج کل ایسی متعدد صورتیں سامنے آچکی ہیں کہ سارق نگلے ہوئے مال کو منہ کے ذریعہ یا فضلہ کے راستہ خارج کرسکتا ہے بلکہ اگر اتنا سونا یا کرنسی وہ اپنی فنی مہارت کی بنا پرنگل لے جس سے اسے خاطر خواہ فائدہ ہو تو وہ یقیناً اسے اپریشن کے ذریعے نکالنے میں کامیاب ہوسکتا ہے ۔ تو پھر اس پر حد کیوں نہ جاری ہوگی؟

اسی طرح اصحاب خرد کو یہ بات بھی دعوت غوروفکر دیتی ہے کہ ایک شخص کسی گھر سے بکری یا مرغیاں ذبح کرکے لے جاتا ہے تاکہ وہ آواز وغیرہ نہ نکالے یا کسی اور مفاد کے پیش نظر تو اس پر حد کیوں نہ ہوگی ۔ کیا جانور کوزندہ لے جانے والے سارق کا یہ جرم ہے کہ اس نے جانور کو زندہ کیوں رکھا؟ یا مسروق منہ کو پہلی صورت میں منفعت حاصل ہونے کی توقع ہے۔

اسی طرح یہ بات بھی بڑا عجوبہ ہے کہ اگر ایک شخص بالفرض ایک سو گز کپڑا بقدر نصاب اٹھاتا ہے اور وہ اس کے متعدد ٹکڑے کرتا ہے یا اس میں سوراخ کردیتا ہے یا داغ لگا دیتا ہے تاکہ وہ اس حیلہ کے ضمن میں آجائے تو ان صورتوں میں کپڑے کی قیمت یقیناً کم ہوجائے گی جس کی وجہ سے وہ نصاب سے کم ہوگا لیکن اس پر حد کیوں نہ ہوگی؟

قارئین خود فیصلہ فرمائیں کہ آخر اس کا مقصد اس کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح جرائم پیشہ لوگوں کی جان بخشی کروائی جائے جو کہ بنفسہ ایک کبیرہ جرم ہے اور ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان کا خلاف ہے! حالانکہ اس ضمن میں موصوف کو یہ حقیقت مدنظر رکھنا چاہیے تھی کہ اس میں اعتبار مسروق کا کیاجانا چاہیے کہ مال کی ہلاکت میں نقصان یا عدم نقصان کا تعلق تو مسروق منہ سے ہوتا ہے سارق سے نہیں۔ جبکہ سارق کا تعلق صرف ارتکاب جرم سے ہوتا ہے یا کم از کم موصوف کو ان لغزشات سے مامون رہنے کے لیے ہلاکت کا یہ مفہوم متعین کرنا چاہیے تھا کہ جو مال ہلاک ہونے کے بعد نہ سارق کے لئے نفع بخش رہے نہ مسروق منہ کے استعمال کے قابل رہے مثلاً انڈے وغیرہ یا اسی قسم کی اور کوئی مائی وغیرہ چیز ہو جو ہلاکت کے بعد فریقین کے لیے سودمند نہ رہے؟

لیکن مال مسروق کے سارق کو فائدہ پہنچانے کی صورت میں تو اسقاط حد کا تصور تعطیل حدود کے مترادف معلوم ہوتا ہے۔

قولہ: قطع الطریق کی سزا نافذ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں مندرجہ ذیل شرائط پائی جائیں۔

1۔ راہزن مسلح ہوں بایں صورت کہ راہزنی کرتے وقت مسافر ان کے مقابلہ کی سکت نہ رکھتا ہو۔

2۔ اس جرم کا ارتکاب ایسے مقام پر ایسے وقت میں کیا گیا ہو کہ مسافر کی فریاد رسی عموماً ان حالات میں نہ کی جاسکتی ہو۔ (دفعہ نمبر 21)

اقول: ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بھی محض رائے زنی ہے جس میں دلائل کا کوئی وزن نہیں کیونکہ اولاً تو مسافر کے مسلح یا باسکت ہونے کی شرط لگانا ویسے ہی ہے کہ کوئی شخص کہہ دے کہ زنا اس وقت متحقق ہوگا جب کہ عورت زیورات سے مزین بھی ہو او رپھر ہر مسافر کا باسکت ہونا تو ویسے بھی ممکن نہیں جس کی بنا پر قاضی صاحب کو چاہیے کہ وہ ان تکلفات سے محفوظ رہنےکے لیے ویسے ہی حدود میں سے قطع الطریق کو خارج فرما دیں کہ:

نہ رہے بانس نہ بجے بانسری

نیز قاضی صاحب نے خود جو بواسطہ ہدایہ قطع الطریق کی جو تعریف کی ہےوہ اگرچہ دوسری کتب سے ملتی جلتی ہے لیکن اس میں بھی یہ شرط نہیں کہ مقطوع منہ کا باسکت ہونا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ کاسانی حنفی نے قطع الطریق میں اسےمسقط حد قرار نہیں دیا۔ جبکہ انہوں نے باقی تمام ان اسباب کا ذکر کیا ہے جو کہ سرقہ میں اسقاط حد کے لیے بیان کیے جاتے ہیں بالخصوص جبکہ اس کی نوعیت سرقہ سے کہیں سخت ہے جیسا کہ قرآن حکیم کی آیات سےبھی واضح ہے اور تقریباً یہی نوعیت مسافر کی فریاد رسی کی ہے جیسا کہ خود قاضی صاحب کی تشریح نمبر2 سے معلوم ہوتا ہے۔

قولہ:راہزنی اگر آپس میں قطع الطریق کریں تو ان پر حد قطع الطریق نافذ نہ ہوگی۔ (دفعہ نمبر 21 شرط نمبر 6)

اقول: قاضی صاحب کا یہ فیصلہ بھی کسی طرح عجوبہ روزگار سے کم نہیں۔ کاش کہ قاضی صاحب اس کی تشریح بھی فرما دیتے تاکہ ہمیں معلوم ہوسکتا کہ اس کا فلسفہ اور حکمت کیا ہے؟ کس نص صریح پر اس کی بنیاد ہے؟ لیکن سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ قاضی صاحب کسی اور طرف چلے جب کہ یہ بات واضح ہے کہ اگر ایک شخص کسی کو قتل کرنے کی نیت سے جاتا ہے لیکن راستے میں وہی شخص یا کوئی اور اسے قتل کردے تو مقتول کے قاتل پر حد جاری ہوگی۔ کیا قاضی صاحب اس قاتل کو بھی بری کرنے کی جسارت فرمائیں گے؟

بعینہ یہی نوعیت اس واردات کی ہے کہ ان کا آپس میں ٹکراؤ ہونا ایک اتفاق امر ہے جس سے مجرموں کے جرم میں تخفیف نہیں ہوسکتی۔ اگر یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ جائے کہ فریق ثانی بھی قاطع الطریق ہی تھا تو اسے تعزیر و توبیخ ہوسکتی ہے لیکن اصل مجرم سے حد کو ساقط کرنا کسی طرح بھی درست نہیں نہ شرعی طور پر نہ اخلاقی اعتبار سے ! قارئین کو یاد ہوگا کہ قاضی صاحب اس سے پہلے یہ بھی فرما چکے ہیں کہ چوری شدہ مال کی چوری سرقہ متصور نہیں ہوگی اور سارق سے حد ساقط ہوجائے گی۔ان فقہی موشگافیوں پر ہم اس کے علاوہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔

پنبہ کجا کجا نہم ... دل ہمہ داغدار شُد

قولہ: اگر عورت بھی قطع الطریق کے جرم کی مرتکب ہو تو اس کو سولی کی سزا نہیں دی جائے گی۔ البتہ باقی سزائیں دی جائیں گی۔ (دفعہ 23 سزا نمبر 4 ترجمان القرآن اپریل 1978ء)

اقول: ہمیں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ قاضی صاحب نے اس کی بنیاد کس حدیث یا اصل کو بنایاہے؟ او رجب درمختار (قاضی صاحب جس کا ترجمہ فرما رہے ہیں)کی طرف رجوع کیا کیا تو وہاں بھی لانها لا تصلب کےعلاوہ کچھ نہ ملا حالانکہ یہ مسئلہ حدود اللہ کا ہے جس میں تریم و تنسیخ کا حق یقیناً کسی کو حاصل نہیں اور یہ ایک اہم مسئلہ ہے کہ عورتوں کو مردوں سے احکام میں الگ کردیا جائے اور اس سلسلہ میں یقیناً بری احتیاط کی ضرورت ہے جس کا قاضی صاحب مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے ہیں جبکہ ایک طرف قاضی صاحب فقہ حنفی کے حوالہ سے اس بات کے قائل ہیں کہ اگر قطاع الطریق می|ں عورت بھی ہو تو تمام سے حدساقط ہوجائے گی تو نہ معلوم اس عور ت سے فقہ حنفی یا قاضی صاحب کی کون سی عداوت ہے کہ علی الاطلاق صنف نازک کا لحاظ رکھا گیا بلکہ سُولی کے علاوہ تمام حدود کے اجراء کا فتویٰ صادر فرما دیا۔

اور اگر اس سلسلہ میں تقاضاہائے صنف نازک کی آڑ لی جائے تو اس کو صنف نازک بھی باحسن طریق انجام دے سکتی ہے اور رجم کے واقعات بھی ایسی ہر صورت کی تردید کے لیے کافی ہیں۔

سردست ہم اس سلسلہ پر کچھ کہنے کی بجائے اصل مسئلہ کو سامنے لاتے ہیں کہ عورت اور مرد میں اس سلسلہ میں کچھ فرق ہے یا نہیں جس کے بعد اُمید ہے کہ کہ قارئین کرام مذکورہ صورت کا خود ہی تجزیہ کرلی|ں گے کہ وہ کس حد تک صحیح ہے۔ چنانچہ اس مسئلہ میں احناف کے بھی دو گروہ ہیں|۔ ایک گروہ اس بات کا قائل ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان فرق ہوگا اورعورت پر حد قائم نہیں کی جائے گی جبکہ دوسرا فریق اس بات کامدعی ہے کہ مرد اور عورت اس حکم میں برابر ہیں۔چنانچہ علامہ کاسانی فرماتے ہیں:

ومنها الذکورة .... في ظاهر الروایة حتی لو کانت في انقطاع امرأة قولیت القتال وأخذت المال دون الرجال لا یقام الحد علیها في الروایة الشهودة و ذکر الطحاوي رحمة اللہ وقال النساء والرجال في قطع الطریق سواء و علی قیاس قوله تعالیٰ یقام الحد علیها و علی الرجال (البدائع والصنائع:ج9 ص4284)

علامہ ابن الہمام حنفی اس سلسلہ میں فرماتے ہیں :

نص في الأصل علی أن العبد والمرأة في حکم قطع الطریق کغیرھما أما العبد فظاهر وأما المرأ ة فکغیرها في السرقة الکبری في ظاهر الروایة وهو اختیار الطحاوي (فتح القدیر:ج4ص275)

یہاں سرقہ کبریٰ سے مراد قطع الطریق ہے جیسا کہ درمختار میں ہے کہ:

قُلْت: وَبَيَانُهُ أَنَّ قَطْعَ الطَّرِيقِ سُمِّيَ سَرِقَةً كُبْرَى

ابن الہمام کہتے ہیں کہ:

فیقال السرقة الکبریٰ ولو قیل السرقة فقط لم یفهم أصلاً (فتح القدیر :ج4ص268)

بہرحال ان عبارتوں سے معلوم ہوا کہ احناف کے اس مسئلہ میں دو گروہ ہیں لیکن یہ بات کسی نے نقل نہیں فرمائی کہ اسے سوُلی دیا جائے یا نہیں|؟ اگر دیا جائے گا تو کیوں اگر نہیں تو اس کی کیا وجہ؟ کیونکہ اگر تفریق ثابت ہوجائے تو باقی سزائیں بھی معطل تصور ہوں گی۔ اگر یہ امتیاز ثابت نہ ہوسکے تو پھر اسے اطناب ہی کہا جاسکتا ہے۔ یہی وہ اصل ہے جسے اگر قاضی صاحب پیش نظر رکھتے تو وہ یقیناً صرف دُرمختار پر ہی بھروسہ نہ کرے اور یوں وہ عورت کے متعلق قرآن و حدیث کے خلاف غیر ذمہ دارانہ فتویٰ صادر نہ فرماتے۔

یاد رہے جو فریق امتیاز کا قائل ہے اس کے ہاں جووجہ امتیاز ہے وہ بھی قابل دید ہے جس سے ہم قارئین کو محروم رکھنا فقہ حنفی سے زیادتی خیال کرتے ہیں لہٰذا اسے بھی ہدیہ قارئین کرتے ہیں کہ وہ بھی محظوظ ہوں۔ چنانچہ علامہ کاسانی حنفی فرماتے ہیں:

(وَجْهُ) الرِّوَايَةِ الْمَشْهُورَةِ: أَنَّ رُكْنَ الْقَطْعِ، وَهُوَ الْخُرُوجُ عَلَى الْمَارَّةِ عَلَى وَجْهِ الْمُحَارَبَةِ، وَالْمُغَالَبَةِ لَا يَتَحَقَّقُ مِنْ النِّسَاءِ عَادَةً لِرِقَّةِ قُلُوبِهِنَّ، وَضَعْفِ بِنْيَتِهِنَّ، فَلَا يَكُنَّ مِنْ أَهْلِ الْحِرَابِ (البدائع والصنائع:ج9 ص4284)

شاید موصوف چھٹی صدی میں ہونے کی وجہ سے اس بات سے ناآشنا تھے کہ آج تو عورتوں کی فورسیں ہیں او رنبی علیہ السلام کے زمانہ میں بھی عورتیں اتنی دلیر تھیں کہ افواج کے ہمراہ ہوتیں او ربسا اوقات مردوں سے بھی زیادہ دلیری کامظاہرہ کرتیں ۔ لہٰذا علی الاطلاق عورتوں کے متعلق یہ مفروضہ قائم کرنا بالخصوص آج کی دنیا میں درحقیقت مذہب حنفی کی خاطر حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ جبکہ قاضی صاحب کومعلوم ہونا چاہیے کہ یہ دور عورتوں کے حقوق کا دور ہے۔ مزید برآں تعجب اس بات پر ہے کہ علامہ کاسانی عورت کو سرقہ کے ضمن میں مانع قرار نہیں دیتے یعنی اس وقت عورت دلیر ہوتی ہے یا پھر بزدل بھی چوری کرسکتا ہے؟ پھر اس بات پر پردہ پوشی بھی وقت اور اسلام کی ترجمانی نہیں کہ اگر عورت..... عورتوں پر قطع الطریق کرے تو اس کا کیا حکم ہوگا؟ نیز علامہ کاسانی خود تسلیم کرتے ہیں کہ:
(وَوَجْهُ) الْفَرْقِ: لَهُ أَنَّ امْتِنَاعَ الْوُجُوبِ عَلَى الْمَرْأَةِ لَيْسَ لِعَدَمِ الْأَهْلِيَّةِ؛ لِأَنَّهَا مِنْ أَهْلِ التَّكْلِيفِ (البدائع:ج9 ص4284)

اب نہ معلوم اہلیت کے باوجود اس سے اس فعل کا صدور کیونکر ناممکن ہے جبکہ محاربت باللہ والرسول اور سعی فساد فی الارض کا صدور عورت سے عین ممکن ہے۔

اس کے بعد ہم اس بحث کو علامہ ابن عابدین حنفی کے اس قول پرختم کرتے ہیں جو یقیناً اس سلسلہ میں فیصلہ کی حیثیت رکھتا ہے، آپ فرماتے ہیں:

إن المرأة كالصبي وھو ضعیف الوجه مع مصاومته لإطلاق القرآن فالعجب ممن عدل عن ظاہر الرواية کصاحب الدرایة والتجنیس والفتاوی الکبریٰ وغیرہ الخ (ج4ص117)

بہرکیف ہمیں تو افسوس اور تعجب اس بات پر ہےکہ یار لوگوں نے مسلک امام اور مذہبی حمیت کے پیش نظر قرآن و حدیث کی مقررکردہ حدود میں ترمیم و تنسیخ کے عمل جرامی کو کس دیدہ دلیری اور ہٹ دھرمی سے جاری رکھا اور رکھا ہوا ہے۔ وإلی الله المشتکیٰ

تنبیہ:

پہلی دونوں عبارتوں سے آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ علامہ کاسانی نے عدم امتیاز کے قائلین کی بات کو ظاہر الروایۃ کہا ہے جبکہ علامہ ابن الہمام وغیرہ نے اہل تفریق کی بات کو ظاہر الروایۃ کہا ہے اب یہ اصطلاحی گتھی احناف ہی کو سلجھانا ہوگی کہ کون سا قول ظاہرالروایہ ہے؟

لیکن ہم صرف اتنا عرض کریں گے کہ ردالمختار میں موصوف یوں رقم طراز ہیں کہ:

(قوله ظاهر الرواية) کذا نص عليه في المبسوط وھو اختیار الطحاوي خلافا للکرخي۔

اس کے بعد ابن عابدین فرماتے ہیں کہ:

قوله ھو المختار... قال في الشرنبلا لیة ھذا غیر ظاھر الروایة.... وھو كذالك مبني خلاف ظاهر الرواية (رد المختار:ج4 ص117)

اس کے بعد ان کا اپنا عجیب ریمارکس ملاحظہ ہو۔ فرماتے ہیں کہ:

قلت فکان ینبغي للشارح عدم ذکر ھذین النوعین لمخالفتھما لما مشی عليه المصنف من ظاهرالرواية (ردالمختار:ج4 ص117)

کاش کہ قاضی صاحب بھی اس اختلاف کو سمجھتے او راس فرع کو پس پردہ ہی رہنے دیتے کہ فقہ حنفی کی عزت و عافیت ہی اسی میں ہے۔بہرحال احناف کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کون سی بات ظاہر الروایہ ہے۔

قولہ: اگر اس نےمال نصاب سرقہ سے کم لیا ہو او رساتھ قتل بھی کیا ہوتو مجرم کو بطور قصاص قتل کیا جائے گا۔ (دفعہ 23۔ سزا نمبر 5)

اقول: بظاہر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص قتل نہیں کرتا تو اسے حد نہیں لگائی جائے گی گویا کہ یہ صورت مخاربت اور فساد فی الارض کی مصداق نہیں کہ اس پر سزا قصاص کی بجائے حد کے طور پر جاری کی جاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ قاضی صاحب نے دفعہ نمبر 23 کی ابتداء میں لکھا ہے کہ آخری دوسزاؤں (5۔6) کا شمار حد میں نہیں کیا جائے گا۔ یعنی خواہ اس کا جرم کتنا گھناؤنا یا بالتکرار ہو اسےقتل کی سزا نہیں دی جاسکے گی۔ جیسا اکہ قاضی صاحب کی بیان کردہ سزا نمبر 1 سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی نصاب سرقہ کی قید لگا کر درحقیقت ایسےمفسدین کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے جس کے قلوب و اذہان میں لوگوں کے اموال و اعراض کا کوئی مقام و احترام نہیں ہوتا جبکہ فساد فی الارض کا تحقق نصاب سرقہ سے کم میں بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ خود قاضی صاحب کی تشریحات سے بھی مترشح ہوتا ہے اور تعجب ہےکہ یہاں بھی سرقہ کی طرح کہا گیا ہے کہ اگر ہر ایک کےحصہ میں دس درہم نہ آئیں تو کسی پر حد نہ ہوگی ‎۔ (البدائع:ج9 ص4286) جس کا مطلب یہ ہواکہ دس ڈاکو اگر ننانوے درہم ہتھیالیں توکسی پر حد نہیں ہوگی۔ حالانکہ سرقہ کی طرح محاربت میں مال کا اعتبار نہیں کیاجاسکتا جیسا کہ علامہ قرطبی نے ابن خویز منداد سے نقل کیا ہے کہ:

ولا یراعی المال الذي یأخذه المحارب نصابا كما یراعی في السارق (قرطبی: ج6 ص153)

او ریہی بات امام مالک فرماتے ہیں کہ:

ليس حد المحاربین مثل حد السارق والمحارب إذا أخذ المال قلیلا و کثیرافھو سواء (مدونہ :ج6 ص300)

یہ بات علامہ قرطبی نے امام مالک سے اپنے الفاظ میں کہی ہے او راس کو صحیح مسلک قرار دیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعے نصاب سرقہ کی تعیین (ربع دینار) تو کی ہے لیکن حرابت کے متعلق کچھ ذکر نہیں کیاچنانچہ خواہ ایک دانہ کیوں نہ ہو اس پر بھی محاربت کا حکم جاری ہوگا۔ چنانچہ ان کے الفاظ ہیں:

وَقَالَ مَالِكٌ: يُحْكَمُ عَلَيْهِ بِحُكْمِ الْمُحَارِبِ وَهُوَ الصَّحِيحُ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى وَقَّتَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ الْقَطْعَ فِي السَّرِقَةِ فِي رُبُعِ دِينَارٍ، وَلَمْ يُوَقِّتْ فِي الْحِرَابَةِ شَيْئًا، بَلْ ذَكَرَ جَزَاءَ الْمُحَارِبِ، فَاقْتَضَى ذَلِكَ تَوْفِيَةَ الْجَزَاءِ لَهُمْ عَلَى الْمُحَارَبَةِ عَنْ حَبَّةٍ، ثُمَّ إِنَّ هَذَا قِيَاسُ أَصْلٍ عَلَى أَصْلٍ وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِيهِ، وَقِيَاسُ الْأَعْلَى بِالْأَدْنَى وَالْأَدْنَى بِالْأَسْفَلِ وَذَلِكَ عَكْسُ الْقِيَاسِ. وَكَيْفَ يَصِحُّ أَنْ يُقَاسَ الْمُحَارِبُ عَلَى السَّارِقِ(تفسیر قرطبی:ج6ص154)

غرضیکہ مال کثیر ہو یا قلیل او رنہ بھی ہو تو صرف ڈرانے دھمکانے اور ضرب وتشدد سے بھی قطع الطریق کا تحقق ہوجاتا ہے ۔ بنابریں دس درہم کی قیدلگانا قرآن و حدیث پربے جا زیادتی و اضافہ کے مترادف ہے اور شرع لکم من الدین مالم یاذن بہ اللہ کا مصداق ہے۔

قولہ: اس لیے فقہاء نے اس سزا کامستحق اس جماعت یا فرد کو قرار دیا ہے جومسلح ہوکر عوام پر ڈاکہ ڈالے۔ (دفعہ نمبر 24 ص82)

اقول: اس جگہ بھی اسلحہ کی قید کسی نص پر مبنی معلوم نہیں ہوتی کیونکہ جس طرح تحقیق قطع الطریق کے لیے تعداد قطاع کا کوئی اعتبار نہیں اسی طرح قطاع کی حیثیت و نوعیت کا بھی کوئی اعتبار نہیں۔ وہ مسلح ہوں یا نہ.... حکم میں یکساں ہوں گے کیونکہ اس کا تحقق اسلحہ کے بغیر بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ علامہ کاسانی حنفی رقم طراز ہیں کہ:

وَسَوَاءٌ كَانَ الْقَطْعُ بِسِلَاحٍ أَوْ غَيْرِهِ مِنْ الْعَصَا وَالْحَجَرِ، وَالْخَشَبِ، وَنَحْوِهَا؛ لِأَنَّ انْقِطَاعَ الطَّرِيقِ يَحْصُلُ بِكُلٍّ مِنْ ذَلِكَ (البدائع والصنائع:ج9 ص4283)

خیال رہے کہ قاضی صاحب نے دفعہ 25 کے ضمن میں لکھا ہے کہ اگر یہ قتل اس نے آلہ جارح یعنی لوہے کے ہتھیار سے کیا ہو تو مقتول کے ورثاء کو قصاص لینے کا حق ہے ورنہ نہیں۔ ہم اس بات کا سطحیت او رمبنی برجہالت ہونے سے قطع نظر یہ کہتےہیں کہ گویا مسلح سے ان کی مراد لوہے کا اسلحہ ہے حالانکہ قتل وغیرہ بہ تحقق دوسری چیزوں سے بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ قاضی صاحب نے آگے چل کرتصریح کی ہے لیکن نامعلوم اس کے باوجود قصاص و دیت کی تفریق کسی نص صریح یا اصل پر مبنی ہے۔

احناف نے سلاح سے جو تلواروغیرہ مراد لی ہے ان کی بنیاد ان احادیث پر معلوم ہوتی ہےکہ:

عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ «مَنْ شَهَرَ سَيْفَهُ ثُمَّ وَضَعَهُ فَدَمُهُ هَدَرٌ»
2۔عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ «مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا» (محلی ابن حزم:ج11 ص307)

لیکن حافظ ابن حزم ان آثار کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ:

فَهَذَا كُلُّهُ حَقٌّ، وَآثَارٌ صِحَاحٌ لَا يَضُرُّهَا إيقَافُ مَنْ أَوْقَفَهَا، إلَّا أَنَّهُ لَا حُجَّةَ فِيهَا لِمَنْ لَمْ يَرَ الْمُحَارِبَ إلَّا مَنْ حَارَبَ بِسِلَاحٍ؛ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إنَّمَا ذَكَرَ فِي هَذَيْنِ الْأَثَرَيْنِ: مَنْ وَضَعَ سَيْفَهُ وَشَهَرَ سِلَاحَهُ فَقَطْ، وَسَكَتَ عَمَّا عَدَا ذَلِكَ فِيهَا، وَلَمْ يَقُلْ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - أَنْ لَا مُحَارِبَ إلَّا مَنْ هَذِهِ صِفَتُهُ (محلی8ج11 ص307)

اس کے بعد علامہ موصوف نے دوسرے فریق کے دلائل ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے کہ:

فَصَحَّ أَنَّ كُلَّ حِرَابَةٍ بِسِلَاحٍ، أَوْ بِلَا سِلَاحٍ فَسَوَاءٌ؟......وَنَحْنُ نَشْهَدُ بِشَهَادَةِ اللَّهِ تَعَالَى أَنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ لَوْ أَرَادَ أَنْ يَخُصَّ بَعْضَ هَذِهِ الْوُجُوهِ لَمَا أَغْفَلَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، وَلَا نَسِيَهُ وَلَا أَعْنَتَنَا بِتَعَمُّدِ تَرْكِ ذِكْرِهِ حَتَّى يُبَيِّنَهُ لَنَا غَيْرُهُ بِالتَّكَهُّنِ وَالظَّنِّ الْكَاذِبِ.(محلی ابن حزم8 ج11 ص308)

بہرحال محولہ بالا عبارتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرتﷺ نے اس امر کی تخصیص نہیں فرمائی او رنہ ہی محاربت کو ''سلاح'' کے ساتھ مقید کیا ہے اورسلاح کو لوہے کےساتھ خاص کرنا اسی طرح ہے کہ کوئی شخص ''سلاح'' کا اطلاق صرف تلوار پر ہی کرے۔ نیز یہ لغت سے عدم واقفیت کانتیجہ ہوگا جبکہ اہل لغت نے اس بات کی صراحت فرمائی ہے کہ ''السلاح'' ہراس آلہ کو کہتے ہیں جو لڑائی میں استعمال ہو۔ چنانچہ ابن منظور لسان العرب میں لکھتے ہیں کہ ''السلاح اسم جامع لآلة الحرب'' علامہ زبیدی تاج العروس میں رقم طراز ہیں کہ: ''وفي المصباح ما یقاتل به في الحرب و یدافع''

صاحب منجد لکھتے ہیں کہ: اسم جامع لآلات الحرب والقتال یذکر و یؤنث بنابریں سلاح کی تقیید و تعیین اصولی نقطہ نظر سے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔

اس کے بعد قاضی صاحب نے دفعہ نمبر25 کے تحت انہی روایتی حیلہ سازیوں کا جال بچھایا ہے جن کاذکر ہم ثبوت سرقہ کے ضمن میں کرچکے ہیں۔ یہ تمام فقہ حنفی کی کرشمہ سازیاں ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ہیں جن کامقصد جرائم کےذریعہ خدا کی زمین میں فساد برپا کرنا ہے۔شاید فقہ حنفی ان لوگوں کی وکالت میں اس وجہ سے پیش پیش ہے کہ اس طرح اسے عروج و شہرت نصیب ہوگی کہ وہ اپنے کام میں مشغول رہیں او رہماری اپنے کام کو جاری رکھنے کی پالیسی کامیاب ہوجائے۔ چنانچہ قاضی صاحب سقوط حد کی صورتیں بیان کرتے ہوئے تحریر فرما ہیں کہ:

1۔ مجرم گرفتاری سے قبل رہزنی سے توبہ کرے۔

2۔ مستغیث یہ کہہ دے کہ ملزم کا اقرار جھوٹا ہے۔

3۔ اقرار جرم کرنے والا اقرار سے رجوع کرلے۔

4۔ مستغیث گواہوں کو جھوٹا قرار دے۔

5۔ ملزم مال کا مالک بن جائے۔

یاد رہے کہ احناف نے سقوط حد کی ایک صورت یہ بھی پیش کی ہے کہ اگر ڈاکوؤں کی جماعت میں عورت یا کوئی مرفوع القلم ہو تو کسی پر بھی حد نہیں ہوگی اسی قسم کی ایک شق آپ پہلی اقساط میں پڑھ چکے ہیں۔

اب ہر آدمی یہ سوچ سکتا ہے کہ یہ کس حد تک منشاشریعت ہے او رکہاں تک انہیں تحفظ مال میں دخیل قرار دیا جاسکتا ہے لیکن نہ معلوم درایت کو روایت پر ترجیح دینے والوں کا آرگن ان نظریات کی اشاعت میں کیوں اتنی دلچسپی رکھتا ہے جبکہ یہ تمام صورتیں اور دیگر جزئیات سراسر درایت محمدی کے منافی ہیں۔ شاید ان کے ہاں معیار درایت مودودی ہو؟ او رکیا یہی ''خدا کی زمین پر خدا کا قانون'' ہے؟

قولہ: حد کے ساقط ہونے کے بعد قصاص اور مال کی ادائیگی کا مطالبہ صرف جرم کے مرتکب سے ہوگا اس کے مددگار (اعانت کرنے والے) سے نہ ہوگا۔ (دفعہ نمبر 26 جز نمبرو)

اقول: نہ معلوم قاضی صاحب کے ہاں سقوط حد کےبعد مجرموں کی تفریق کس فارمولے پر مبنی ہے حالانکہ سقوط حد کےبعد قصاص یا مال کا مطالبہ بے معنی ہوتا ہے یعنی اگر قصاص وغیرہ ہے تو سقوط حد کیا؟ اگر سقوط حد ہے تو قصاص کا مطالبہ کیوں؟ اور ہماری اس بحث کو اگر دفعہ نمبر 23 سے ملاکر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ تمام کچھ محض ''إن هم إلا يخرصون'' کا مصداق ہے۔

حالانکہ ہونا یہ چاہے کہ اگر قصاص یا مال کا مطالبہ ہوسکتا ہے تو پھر تمام شرکاء سے مساوی کیا جائے جیسا کہ اجراء حد میں وہ مساوی مقام رکھتے ہیں جیسا کہ قاضی صاحب خود بھی لکھتے ہیں کہ ''بلکہ یہ جرم ڈاکوؤں کی جماعت میں سے ایک سے بھی صادر ہوگیا ہوتو پوری جماعت کو قتل یا سولی یا ہاتھ پاؤں کاٹنے کی سزا دی جائے گی۔ (ص82) اب اسے تضاد کے علاوہ کچھ نہیں کہا جاسکتا ورنہ یہ کہنا پڑے گا کہ یہ مددگار کی ناحق اعانت او رحوصلہ افزائی ہے اورمرتکب پر ظلم و زیادتی.... اور کیا باقی تمام دودھ پینے والے مجنون ہیں؟