(قسط 23)

﴿وَإِذ وعَدنا موسى أَر‌بَعينَ لَيلَةً ثُمَّ اتَّخَذتُمُ العِجلَ مِن بَعدِهِ وَأَنتُم ظـلِمونَ ﴿٥١﴾ ثُمَّ عَفَونا عَنكُم مِن بَعدِ ذلِكَ لَعَلَّكُم تَشكُر‌ونَ ﴿٥٢﴾ وَإِذ ءاتَينا موسَى الكِتـبَ وَالفُر‌قانَ لَعَلَّكُم تَهتَدونَ ﴿٥٣﴾ وَإِذ قالَ موسى لِقَومِهِ يـقَومِ إِنَّكُم ظَلَمتُم أَنفُسَكُم بِاتِّخاذِكُمُ العِجلَ فَتوبوا إِلى بارِ‌ئِكُم فَاقتُلوا أَنفُسَكُم ذلِكُم خَيرٌ‌ لَكُم عِندَ بارِ‌ئِكُم فَتابَ عَلَيكُم إِنَّهُ هُوَ التَّوّابُ الرَّ‌حيمُ ﴿٥٤﴾ وَإِذ قُلتُم يـموسى لَن نُؤمِنَ لَكَ حَتّى نَرَ‌ى اللَّهَ جَهرَ‌ةً فَأَخَذَتكُمُ الصّـعِقَةُ وَأَنتُم تَنظُر‌ونَ ﴿٥٥﴾ ثُمَّ بَعَثنـكُم مِن بَعدِ مَوتِكُم لَعَلَّكُم تَشكُر‌ونَ ﴿٥٦﴾... سورة البقرة

''اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں (کے چلّے کا) وعدہ کیا پھر تم ان کے (گئے) پیچھے (پرستش کے لیے)بچھڑے کو لے بیٹھے اورتم (آپ اپنے اوپر) ظلم کررہے تھے۔ پھر اس کے بعد ہم نے تم سے درگزر کی تاکہ تم شکر کرو اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے موسیٰ کو کتاب(توراۃ) اور قانون فیصل عطا کیاتاکہ تم ہدایت پاؤ اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے بھائیو! تم نے بچھڑے (کی پرستش ) کرکے اپنے آپ پر (بڑا ہی)ظلم کیا تو (اب) اپنے خالق کی جناب میں توبہ کرو یعنی اپنوں کو قتل کرو۔جس نے تم کو پیدا کیا اس کے نزدیک تمہارے حق میں یہی بہتر ہے ۔ چنانچہ (جب تم نے اس کی طرف رجوع کیا تو)اس نے (بھی) تمہاری توبہ قبول فرما لی، وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے اور (وہ وقت یاد کرو) جب تم نے حضرت موسیٰ سے کہاتھا کہ اےموسیٰ جب تک ہم خدا کو ظاہر ظہور نہ دیکھ لیں ہم تمہارا یقین ہرگز نہ کریں گے اس پر تم کو بجلی نے آدبوچا اور تم دیکھاکیے پھر تمہارے مرے پیچھے ہم نے تم کو جلا اٹھایا تاکہ تم شکر کرو۔''

(1) واذ واعدنا : (اور جب ہم نے وعدہ کیا، اور جب ہم نے وقت مقرر کیا، او رجب ہم نے وعدہ کرلیا تھا)

اللہ تعالیٰ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان قول و قرار طے پایا تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ کے ہاں یعنی تنہائیوں میں آکر قیام کریں گے او ر حق تعالیٰ انہیں کتاب او رفرقان عطا کریں گے۔ تنہائیوں کو خدا کا دربار قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ جہاں اور کوئی نہیں ہوتا۔ وہاں بہرحال اللہ تعالیٰ ضرور ہوتا ہے،غسل خانہ میں جہاں اور کوئی نہیں ہوتا وہاں بھی کپڑا باندھ کر نہانے کی سفارش کی گئی ہے، کیونکہ اللہ تو بہرحال دیکھتا ہے۔ پھر تنہائیاں کچھ فضا بھی ایسی مہیا کردیتی ہیں کہ رب کی معصیت کا احساس کروٹ لینے لگتا ہے، بشرطیکہ ان تنہائیوں میں کوئی اس احساس اور گھڑیوں کو آواز دے۔ اس کے علاوہ جب کوئی شخص سب دھندے چھوڑ کر رب کے حضور، رب کے لیے یکسو ہوجاتا ہے ، تو اسے بھی ''دربار الہٰی میں بندے کی حاضری'' تصور کی جاتی ہے۔ خواہ وہ بھرے مجمع میں کیوں نہ ہو۔ جیساکہ یہاں ستر نقباء کی ہمراہی میں ہوا۔ بس اس وعدہ میں اسی قسم کی تنہائی کاذکر ہے، اور یہ وعدہ گاہ کوہ طور سینا کی داہنی جانب کی کوئی چوٹی یاجگہ تھی۔

﴿وَوعَدنـكُم جانِبَ الطّورِ‌ الأَيمَنَ...٨٠﴾... سور ة طه

محققین نے طور سینا اور اس کے محل وقوع کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ:

سینا کا جزیرہ نما خلیج سویز اور خلیج عقبہ سے گھرا ہوا ہے اور اس کے شمال میں بیاباں تیہ ہے۔ کبھی افریقہ کو عرب کے شمالی و جنوبی حصہ سے ملائے ہوئے تھا، اس جزیرہ نما میں سینا کا کوہستانی سلسلہ ہے جس میں تین علیٰحدہ علیٰحدہ پہاڑ ہیں، اول کوہ سریل جو 6750فٹ بلندہے۔ دوسرا ام شمیر 8000 فٹ اور تیسرا کوہ کتھرائن 8540 فٹ بلند ہے۔اس کی دو چو ٹیاں ہیں، شمالی کوہ 'حورب' اور جنوبی کو ''جبل موسیٰ'' کہتے ہیں، قرآن کا طور سینا بھی یہی کتھرائن ہے۔

فراعنہ کے پنجہ استبداد سے چھڑا کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو اس کوہ طور کے دامن میں لابسایا تھا او ریہیں سے کوہ طور پر اپنی وعدہ گاہ پر تشریف لے گئے تھے۔

(2) موسیٰ: (حضرت موسیٰ علیہ السلام ) آپ کا تفصیلی تذکرہ رکوع کے آخر میں کیا جائے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔

(3) اربعین لیلۃ (چالیس راتیں) دوسرے مقام پر اسے ایک ماہ دس دن سے تعبیر فرمایا ہے۔

﴿وَوعَدنا موسى ثَلـثينَ لَيلَةً وَأَتمَمنـها بِعَشرٍ‌ فَتَمَّ ميقـتُ رَ‌بِّهِ أَر‌بَعينَ لَيلَةً...١٤٢﴾... سورة الاعراف

کہتے ہیں تیس دن ماہ ذیقعد کے تھے او رپہلا عشرہ ذی الحجہ کا تھا مگر حدیث میں اس کی تفصیل نہیں آئی۔

اس سفر او رملاقات میں اسرائیل ستر نقباء اور رہنما بھی حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہمراہ وعدہ گاہ میں تشریف لے گئے تھے۔میقاتنا اس کےلیے قرینہ ہے۔

﴿وَاختارَ‌ موسى قَومَهُ سَبعينَ رَ‌جُلًا لِميقـتِنا...١٥٥﴾... سورة  الاعراف

چلّے۔ صوفیائے کرام نے اس واقعہ کو اپنے مخصوص ''چلّوں'' کے لیے بنیاد اور مآخذ قرار دیا ہے ۔مگر ہمارےنزدیک یہ بات محل نظر ہے،وہاں حضرت موسیٰ تنہا نہیں تھے۔ اس کے علاوہ امت محمدیہؐ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے لیے مسنون چلّہ ''اعتکاف'' تجویز کیا گیا ہے۔ اس ''مسنون چلّہ'' کے بجائے صوفیائے کرام کا دوسرے عجمی چلّوں پر مجتمع ہوجانا ہمارے لیے مقام حیرت ہے۔

پہلی شرع اس وقت ہمارے لیے قابل عمل ہوتی ہے جب اس سلسلے میں ہماری اپنی شریعت خاموش ہو۔ اگر پیش آمدہ صورت کےمتعلق ہماری اپنی شریعت نے کوئی مسنون طرز عمل خود ہی پیش کیا ہوتو پھر پہلے انبیاء کے شرائع کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں رہتی۔

چلّے کا یہ دستور جو صوفیائے کرام کے ہاں متداول ہے، اگر کبھی دیکھنے میں آیا ہے تو صرف انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی حد تک اس کا کہیں کہیں مشاہدہ کیا گیا ہے، لیکن غیر نبی کے بارے میں اس قسم کے چلّوں کے لیے کسی بھی شریعت نے کوئی سفارش کی ہو، ہماری نظر سے نہیں گزری۔ ہاں قرآن حکیم نے بنی اسرائیل کے اس طرز عمل کو بدعت سے تعبیر کیا ہے۔

﴿رَ‌هبانِيَّةً ابتَدَعوها ما كَتَبنـها عَلَيهِم إِلَّا ابتِغاءَ رِ‌ضونِ اللَّهِ فَما رَ‌عَوها حَقَّ رِ‌عايَتِها...٢٧﴾... سورة الحديد

رہبانیت کو انہوں نے خود ایجاد کرلیا، ہم نے ان پر اسے واجب نہیں کیا تھا، ہاں انہوں نے (یہ سب کچھ)محض اللہ کی خوشنودی کے حصول کے لیے تھا سو وہ اس کی (بھی) پوری پوری نگہداشت نہ کرسکے۔

رہبانیت، عبادت میں مبالغہ اور خلوت گزینی کا نام ہے۔ وھی المبالغة فی العبادة و الریاضة والانقطاع عن الناس (بیضاوی)

قال الرازی: والمراد من الرھبانیة توھبھم فی الجبال فارین من الفتنة فی الدین مخلصین انفسھم للعبادة متحملین کلفاً زائدة علی العبادات التی کانت واجبة علیهم من الخلوة واللباس الخشن والاعتزال عن النساء والتعبد فی الغیرات والکهوف (تفسیر کبیر۔ سورة حدید)

بیضاوی فرماتے ہیں یہ ''مجمولات'' (ایجاد بندہ، خود ساختہ) کی قسم سے ہے۔

رھبانیةمبتدعة علی أنها من المجمولات (بیضاوی)

دراصل یہ ''چلّے' دین نافہمی کی دلیل ہے، مصاف زندگی میں اور رزمگاہ حیات میں زندگی کو متوازن لے کر چلنے کا نام 'ّدین'' ہے۔ چلّے ان سے فرار کی ایک صورت ہے۔ اس لیے ہم ان چلّوں سے مطمئن نہیں ہیں۔ کچھ بزرگوں کا خیال ہے کہ جب ایک کام دین سمجھ کر کرلیاجائے تو اسے نباہ دینا چاہیے، مگر یہ نتیجہ محل نظر ہے، یہاں نباہنا تادیباً کہا گیا ہے او ریہ بات ناپسندیدگی کی علامت ہے مشروعیت کی نہیں۔

تقویم: یوم کے بجائے ''لیلۃ'' کو اختیار کرنا اس امر کاغماز ہے کہ شریعت میں معتبر تقویم، تقویم قمری ہے جو چاند کی پہلی تاریخ سے شروع ہوتی ہے۔

قال الرازي:إنما قال أربعین لیلة لأن الشھور تبتدأ من اللیالیي(تفسیر کبیر)

وقال القرطبي: دلت الآیة علی أن التاریخ یکون باللیالي دون الأیام (قرطبی)

خود تاریخ کامادہ ''ارخ'' بھی عبرانی وغیرہ سامی زبانوں میں چاند کے ہی معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رات کو تاریخ کے سلسلے میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ یعنی شمسی کے مقابلے میں قمری تقویم بالکل قدرتی ہے۔

اسلام سے پہلے مکہ والوں نے ''نسئ'' (بھلانے ، پیچھے ڈال دینے موند لگانے اور کبیسہ )کا طریقہ رائج کررکھا تھا، حیقت میں یہ کبیسہ یاموند لگانے کی صورت نہیں تھی بلکہ اغراض فاسدہ کی بنا پر مثلاً حرمت کے مہینوں (محرم، رجب، ذیقعد، ذی الحجہ) میں نیت خراب ہوجاتی اور چاہتے کہ دنگا فساد ہو اوراتفاق سے وہ مہینہ ''حرمت والا'' ہوتا جس میں بدامنی جائز نہیں ہوتی تو اس ماہ کو تبدیل کرکے اس کی جگہ کوئی دوسرا ماہ بنا لیتے مثلاً محرم کی جگہ صفر، اس کے بعد پھر محرم کا چکر چلتا۔ قبیلہ تمیم کا سردار جس کا قلمس لقب ہوتا تھا۔وہ حج کے دنوں میں اس ''نسئ'' کا اعلان کیاکرتا تھا۔ جمرہ عقبہ کے پاس کھڑے ہوکر اعلان کرتا تھا۔ (سبائک الذہب)

قرآن کریم نے انما النسئ زیادۃ فی الکفر (سورۃ توبہ ع5) مہینوں کو ہٹا دینا کفر میں اور ترقی کرنا ہے۔ ان کی اسی دھاندلی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اور 10 ھ کوحجۃ الوداع کے موقعہ پر رسول کریمﷺ نے اسی''نسئ'' کے خاتمہ کا اعلان فرمایا تھا۔

«إن الزمان قد استدار کھیئة یوم خلق اللہ السموٰات والأرض» (بخاری)

دوسری اس کی شکل کبیسہ کی تھی کہ قمری اور شمسی مہینوں کو ایک ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کیا کرتے تھے مگر انتہائی تکلف کے ساتھ۔ بہرحال دس ہجری کے بعد مسلمانوں میں قمری تقویم رائج ہوگئی۔

مالگذاری اور فصلوں کے حساب کتاب کو درست رکھنے کے لیےمسلمانوں نے ایرانی تقویم کو بھی اپنانے کی کوشش کی اور اس میں حسب ضرورت اصلاح بھی کرتے رہے۔ملک شاہ سلجوقی نے بھی 467ء میں اس کی اصلاح کے لیےعمر خیام ابوالمظفر اسفزاری، خواجہ عبدالرحمان خازنی ، میمون واسطی، محمد معموری بیہقی اور حکیم ابوالعباس سوکری وغیرہ پر مشتمل ایک کمیٹی کے سپرد کام کیا تھا۔ اس کا نام جلالی تقویم تھا جو تاتاری غارت گروی کے ہاتھ تباہ بھی ہوگئی! ہاں زیچ الغ بیگ اور اس کی شرح مؤلفہ برجندی نے اس کے فارمولوں کا کچھ کلاصہ نقل کردیا ہے، جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ کام کن لائنوں پر کیاتھا۔ آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ مسلمان ریاصی دانوں نے زمانہ جدید کے نازک اور حساس آلوں کے بغیر جو تقویم بنائی تھی وہ جدید ترین تحقیقات سے صرف بارہ سیکنڈ سالانہ مختلف نکلی ہے۔ سیکنڈوں کی کسرات کی اصلاح کے لیے بھی پوپ گریگری کے حکم کے مطابق جو اصلاح کی گئی تھی اس کی رُو سے تین یا سوا تین ہزار سال میں پورے ایکدن کافرق پڑ جاتا ہے لیکن مسلمانون نے جو طریقہ ملحوظ رکھا تھا اس کی رُو سے (35) ہزار سال سے بھی کچھ زیادہ عرصہ میں ایک دن کا فرق پیدا ہوتا ہے۔

(4)العجل : (گائے کا بچھڑا) مصر کے ایک دیوتا کا نام ''حورس'' تھا، اس کا چہرہ گائے کی شکل کا تھا، سامری نے بنی اسرائیل سے زیورات اور سونا لے جو بت بنایا تھا وہ اسی ''حورس'' کی شکل کا تھا۔ ہندوؤں کی طرح مصری بھی گوسالہ پرست تھے، یہ اسرائیلی بھی ان کی غلامی کی وجہ سے ''الناس علی دین ملوکھم'' ان کے نقش قدم پر چلے نکلے اور اس میں اس قدر راسخ ہورہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بحراحمر کے شمالی سرے سے پار لے کر سینا پر پہنچے تووہاں ایک قوم کو صنم خانوں میں بتوں کے پاس چلّے اور اعتکاف کرتے دیکھا تو تڑپ اٹھے او رکہنے لگے کہ اے موسیٰ! ہمیں بھی ان کی طرح کا کوئی دیوتا بنا دے۔

﴿وَجـوَزنا بِبَنى إِسر‌ءيلَ البَحرَ‌ فَأَتَوا عَلى قَومٍ يَعكُفونَ عَلى أَصنامٍ لَهُم قالوا يـموسَى اجعَل لَنا إِلـهًا كَما لَهُم ءالِهَةٌ قالَ إِنَّكُم قَومٌ تَجهَلونَ ﴿١٣٨﴾... سورة الاعراف

چونکہ ا ن میں گوسالہ پرستی کے جراثیم ابھی کافی طاقتور تھے اس لیے مصریوں کی غلامی سے چھٹکارا پانے کے باوجود اب بھی ان کے دماغ صنم خانے ہی تھے۔ سامری جو ایک شاطر قسم کا سیاسی آدمی بھی تھااور ذہن قسم کا ہنرمند بھی، اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیر حاضری کو غنیمت سمجھا اور لوگوں کے دلوں میں یہ بات بٹھانے میں کامیاب ہوگیا کہ خدا جانے حضرت موسیٰ علیہ السلام کہاں غائب ہوگئے۔ اب وہ واپس آئیں گے بھی یا نہیں۔ آرام سے ہم بیٹھے تھے وہاں سے لاکر ہمیں یہیں چھوڑا، اب مارے مارے پھر رہے ہیں۔ ہمارا کوئی بھی پرسان حال نہیں ہے، ان کو مایوسی کی ان اتھاہ گہرائیوں میں ڈالنے کی بعد خود کو مرجع عقیدت بنانے کی کوشش کی،اوہام پرست لوگوں کو رام کرنے کے لیے سب سے کامیابی حربہ ''عجوبہ'' کی نمائش ہوتی ہے چنانچہ اس نے بنی اسرائیل سے سونا اور زیورات منگوا کر پگھلائے او رمیکانکی طریقے سے بچھڑے کی صورت کا ایک مجسمہ بنایا جس میں جب ہو یا سورج کی کرنیں داخل ہوتیں توگائے بچھڑے کی طرح اس سے آواز نکلتی۔ اس عہد میں یہ بات کچھ بڑی بات نہیں تھی۔ پندرہویں صدی قبل مسیح میں اینوتپ سوم کے عہد میں، اس کے میرعمارت نے ، تھیبس کے مغربی میدان میں فرعون کے دو مجسمے بنائے تھے ، جن کے پیٹ سے طلوع آفتاب کے وقت آواز نکلتی تھی۔ اسی فارمولا کے مطابق سامری نے بچھڑے کو بنایا تھا ۔بس پھر کیا تھا، اس دیکھتے ہی وہ سجدے میں گر گئے۔

﴿فَأَخرَ‌جَ لَهُم عِجلًا جَسَدًا لَهُ خُوارٌ‌ فَقالوا هـذا إِلـهُكُم وَإِلـهُ موسى فَنَسِىَ ﴿٨٨﴾... سورة طه

پھر اس (سامری) نے ان (اسرائیلیوں)کے لیے اس کا ایک بچھڑا (بنا کر) نکال کھڑا کیا (وہ ایسا)بت (تھا) جس کی آواز (بھی) بچھڑے ہی کی تھی، اس پر وہ بول اُٹھے (آہا) یہی تو تمہاری معبود ہے اور موسیٰ کا (بھی) سو (افسوس) وہ بھول کر (کوہ طور پر چلا ) گیا۔

حضرت ہارون علیہ السلام نے ان کوبہت سمجھایا کہ تم ایک سازش کا شکار ہوگئے ہو، خدا تو تمہارا وہی رحمان ہے۔

﴿يـقَومِ إِنَّما فُتِنتُم بِهِ وَإِنَّ رَ‌بَّكُمُ الرَّ‌حمـنُ...٩٠﴾... سورةطه

بولے: حضرت موسیٰ آئیں گے تو دیکھی جائے گی، صرف آپ کے کہنے سے ہم اسے نہیں چھوڑ سکتے۔

قالو الن نبرح عليه عكفين حتى يرجع إلينا موسى (ایضاً)

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کی اس گمراہی کی اطلاع وہاں کوہ طور پر ہی مل گئی تھی کہ لیجئے! سامری انہیں لے ڈوبا ہے۔

﴿فَإِنّا قَد فَتَنّا قَومَكَ مِن بَعدِكَ وَأَضَلَّهُمُ السّامِرِ‌ىُّ ﴿٨٥﴾... سورة طه

حضرت موسیٰ علیہ السلام وہاں سے غصے غصے واپس تشریف لائے اور آکر قوم کو ڈانٹا اور کہا کہ : کیا میں نے مقررہ وقت سے زیادہ دیر لگا دی ہےکہ اپنی مرضی کرنے لگ گئے ہو یا ویسے ہی جوتے کھانے کو جی چاہنےلگا تھا۔

﴿أَفَطالَ عَلَيكُمُ العَهدُ أَم أَرَ‌دتُم أَن يَحِلَّ عَلَيكُم غَضَبٌ مِن رَ‌بِّكُم ... ﴿٨٦﴾... سورة طه

وہ بولے: دانستہ اور خوشی سے تو ہم نے ایسا نہیں کیا، قبطیوں کے سونے کے زیورات وغیرہ کا جو بوجھ ہمراہ لائے تھے، ناجائز تھے، انہیں اکٹھا کرکے آگ میں لا پھینکا او رہمارا طرح سامری نے بھی اس میں لاڈالا (اسرائیلیات او رمفسرین) دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اپنے زیوروں کے بوجھ سے تنگ آگئے تھے چنانچہ لاکر ان کو آگ میں لا ڈالا اور سامری نے بھی لا ڈالا۔ ایک معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ہم مصریوں سے فیشن سیکھ کر آئے اور بن ٹھن کر رہنے لگے۔ مگر اب سمجھے کہ یہ خبط ہی ہے اس لیے جاکر پھینک آئے۔

﴿قالوا ما أَخلَفنا مَوعِدَكَ بِمَلكِنا وَلـكِنّا حُمِّلنا أَوزارً‌ا مِن زينَةِ القَومِ فَقَذَفنـها فَكَذلِكَ أَلقَى السّامِرِ‌ىُّ ﴿٨٧﴾... سورة طه

کہنا وہ یہ چاہتے تھے کہ پھر سامری نے اسے آوازیں نکانے والابچھڑا بنا کر ہمارے سامنے رکھ دیا، چنانچہ ہم سوچ میں پڑگئے کہ کہیں یہی وہ معبود نہ ہو جس کی تلاش میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نکلے ہیں؟

اس کے بعد آپنے حضرت ہارون علیہ السلام کا محاسبہ کیا: انہوں نے جواب دیا کہ میری نہیں سنتے تھے۔ زیادہ مقابلہ نہ کیا کہ کہیں آپ یہ فرمائیں کہ تم نے قوم کو انتشار اور افتراق کی راہ پر ڈال دیا۔

﴿إِنّى خَشيتُ أَن تَقولَ فَرَّ‌قتَ بَينَ بَنى إِسر‌ءيلَ وَلَم تَر‌قُب قَولى ﴿٩٤﴾... سورة طه

آپ نے حضرت ہارون علیہ السلام سے سختی کے ساتھ جو باز پرس فرمائی تھی، اس کے لیے اللہ سے اب اپنے لیے اور اپنے بھائی کے لیے معافی کی درخواست کی۔

﴿رَ‌بِّ اغفِر‌ لى وَلِأَخى وَأَدخِلنا فى رَ‌حمَتِكَ وَأَنتَ أَر‌حَمُ الرّ‌حِمينَ ﴿١٥١﴾... سورة الاعراف

اب سامری کی باری آئی: کیوں جناب یہ کیا قصہ ہے؟

وہ بولا: جناب! آپ کی خاک پاکی یہ سب کرامت ہے یہ وہ بات تھی جو سب کے سمجھنےکی نہیں تھی، ایک مٹھی لے کر میں نے اس مجسمہ میں ڈال دی تو وہ آوازیں دینےلگ گیا۔ اب اگر وہ بچھڑا بول پڑا تو اس میں میرا کیا قصور ، اگر لوگ یہ محیّرالعقول صورت دیکھ کر بے قابو ہوگئے تو اس میں ان کا کیا دوش ؟ عوام، عوام ہی ہوتے ہیں، اب اگر وہ سجدہ میں گر گئے تو خدا ہی کے نام پر گرے، انہیں معذور کیوں نہ تصور کیا جائے؟ اس کےمعنی خیز الفاظ یہ ہیں:

﴿بَصُر‌تُ بِما لَم يَبصُر‌وا بِهِ فَقَبَضتُ قَبضَةً مِن أَثَرِ‌ الرَّ‌سولِ فَنَبَذتُها وَكَذلِكَ سَوَّلَت لى نَفسى ﴿٩٦﴾... سورة طه

حق تعالیٰ نے فرمایا کہ: یہ عجیب لوگ ہیں کہ اس کی صرف آواز پرمرمٹے ہیں او ریہ نہیں سوچتے کہ وہ نہ تو کوئی جواب دے سکتا ہے اور نہ کوئی نفع و نقصان۔

﴿أَفَلا يَرَ‌ونَ أَلّا يَر‌جِعُ إِلَيهِم قَولًا وَلا يَملِكُ لَهُم ضَرًّ‌ا وَلا نَفعًا ﴿٨٩﴾... سورة طه

﴿أَلَم يَرَ‌وا أَنَّهُ لا يُكَلِّمُهُم وَلا يَهديهِم سَبيلًا...١٤٨﴾... سورة الاعراف

اور فرمایا کہ جو اتنی بات بھی نہیں سمجھتے او راندھے ہوکر ان کی پوجا میں لگ گئے ہیں، ان کی زندگی بہت ہی ذلت کی زندگی گزرے گی۔

﴿إِنَّ الَّذينَ اتَّخَذُوا العِجلَ سَيَنالُهُم غَضَبٌ مِن رَ‌بِّهِم وَذِلَّةٌ فِى الحَيوةِ الدُّنيا...١٥٢﴾... سورة الاعراف

ہاں جنہو|ں نے توبہ کرلی، ان کو معاف کردیا جائے گا۔

﴿وَالَّذينَ عَمِلُوا السَّيِّـٔاتِ ثُمَّ تابوا مِن بَعدِها وَءامَنوا إِنَّ رَ‌بَّكَ مِن بَعدِها لَغَفورٌ‌ رَ‌حيمٌ ﴿١٥٣﴾... سورة لاعراف

جب ان کا کیا ان کے آگے آیا تو بہت پچھتائے او رلگے دعاویں مانگنے۔

﴿وَلَمّا سَكَتَ عَن موسَى الغَضَبُ أَخَذَ الأَلواحَ وَفى نُسخَتِها هُدًى وَرَ‌حمَةٌ لِلَّذينَ هُم لِرَ‌بِّهِم يَر‌هَبونَ ﴿١٥٤﴾... سورة الاعراف

بچھڑے کے سودائیوں کے علاوہ دو اور طبقے بھی تھے، ایک وہ جنہوں نے ان کوسمجھایا بجھایا، دوسرا وہ جو خاموش تماشائی بنا رہا۔ جوبچھڑے کے سودائی اور پجاری تھے، ان کے لیے تو قتل کی سزا تجویز ہوئی کیونکہ یہ مژہبی تقاضا کے علاوہ ان کی شریعت میں یہ ایک فوجداری جرم بھی تھا، جو رہے تماشائی یا تبلیغ کرنے والے؟ سو اُن کو حکم ہوا کہ توبہ کریں اور ان مجرموں کی گردنیں اڑائیں۔

﴿فَتوبوا إِلى بارِ‌ئِكُم فَاقتُلوا أَنفُسَكُم...٥٤﴾... سورة البقرة

بچھڑے کی پوجا ساری قوم نے نہیں کی تھی بلکہ عامی قسم کے زود اعتقاد لوگوں نے کی تھی۔

﴿ أَتُهلِكُنا بِما فَعَلَ السُّفَهاءُ مِنّا﴾

سامری سے کہا: اب تم اپن ےمعبود کا حشر دیکھو اسے راکھ بنا کر سمندر میں بہائے دیتے ہیں۔

﴿وَانظُر‌ إِلى إِلـهِكَ الَّذى ظَلتَ عَلَيهِ عاكِفًا لَنُحَرِّ‌قَنَّهُ ثُمَّ لَنَنسِفَنَّهُ فِى اليَمِّ نَسفًا ﴿٩٧﴾... سورة طه

(5) ثم عفونا عنکم: (پھر ہم نے تم سے درگزر کی)بچھڑے کا سلسلہ دراصل ایک قومی جرم تھا مگر اللہ تعالیٰ نے کرم کیا کہ جو زود اعتقاد، عجوبہ پسند اور اوہام پرست لوگ براہ راست بچھڑے کی پوجا میں ملوث ہوئے تھے صرف انہیں سزا دی گئی اور باقی جو تماشائی یاوسیع الظرف مگر بے غیرت دانشور تھے انہیں توبہ کرنے پر معاف کردیا۔ الغرض یہاںفرمایا کہ : تم نے گو بڑ ی نالائقیوں کا مظاہرہ کیا تاہم ہم نے جینے کی تم کو پھر مہلت دی او رپوری قوم کو ہمیشہ کے لیے ختم نہ کیا۔

(6) لعلکم تھتدون : (تاکہ تم ہدایت پاؤ) کے معنی یہاں گئے (یعنی تاکہ) کے ہیں۔ (طبری) یعنی کتاب اور فرقان کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حوالے کرنے سے غرض یہ تھی کہ تم ہدایت پاجاؤ بھٹکے بھٹکے نہ پھرو۔

کتاب سے مراد تورات ہے۔ تورات کی یہ صفات بیان کی گئی ہیں۔

اچھے عمل کرنے والوں کے لیے سراپانعمت ہے۔ اس میں کوئی اغلاق نہیں۔کامل تشریح ہے۔اجمال نہیں تفصیل ہے۔ سراپا ہدایت، رحمت اور کتاب مبارک ہے۔

﴿ثُمَّ ءاتَينا موسَى الكِتـبَ تَمامًا عَلَى الَّذى أَحسَنَ وَتَفصيلًا لِكُلِّ شَىءٍ وَهُدًى وَرَ‌حمَةً لَعَلَّهُم بِلِقاءِ رَ‌بِّهِم يُؤمِنونَ ﴿١٥٤ وَهـذا كِتـبٌ أَنزَلنـهُ مُبارَ‌كٌ ...١٥٥﴾... سورة الانعام

عقل مندوں کے لیے ایک یادداشت ہے۔

﴿هُدًى وَذِكر‌ى لِأُولِى الأَلبـبِ ﴿٥٤﴾... سورةغافر

کتاب تورات بصیرت افروز ہے۔

﴿وَلَقَد ءاتَينا موسَى الكِتـبَ مِن بَعدِ ما أَهلَكنَا القُر‌ونَ الأولى بَصائِرَ‌ لِلنّاسِ وَهُدًى وَرَ‌حمَةً لَعَلَّهُم يَتَذَكَّر‌ونَ ﴿٤٣﴾... سورة القصص

کتاب توراۃ سراپا روشنی ہے۔

﴿إِنّا أَنزَلنَا التَّور‌ىةَ فيها هُدًى وَنورٌ‌...٤٤﴾... سورة المائدة

یہ احکام الہٰی کا مجموعہ ہے۔

﴿وَعِندَهُمُ التَّور‌ىةُ فيها حُكمُ اللَّهِ﴾

تورات کا دامن تھام کر چلنے والوں کے لیےبرکتیں ہی برکتیں ہیں۔

﴿وَلَو أَنَّهُم أَقامُوا التَّور‌ىةَ وَالإِنجيلَ وَما أُنزِلَ إِلَيهِم مِن رَ‌بِّهِم لَأَكَلوا مِن فَوقِهِم وَمِن تَحتِ أَر‌جُلِهِم...٦٦﴾... سور ة المائدة

اس کے بغیر ان کی قیمت ایک ٹیڈی پیسہ بھی نہیں ہے۔

﴿يـأَهلَ الكِتـبِ لَستُم عَلى شَىءٍ حَتّى تُقيمُوا التَّور‌ىةَ وَالإِنجيلَ وَما أُنزِلَ إِلَيكُم...٦٨﴾... سورة المائدة

اور فرقان سے مراد وہ دینی او رپیغمبرانہ ملکہ اور روشنی ہے جو حامل کتاب کے لیے ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے، جس کے بعد کتاب سےمنشاء الہٰی کے سمجھنے او راس کی روشنی میں پیش آمدہ حالات کو حل کرنے کی توفیق نصیب ہوتی ہے۔ قرآن حکیم نے فرقان کو حکمت سے بھی تعبیر کیا ہے۔ تورات کے ذکر کے ساتھ دوسری جگہ فرقان کے بجائے ''نور'' اور اس کی روشنی میں مسائل حل کرنے کاذکر فرمایا ہے۔

﴿نّا أَنزَلنَا التَّور‌ىةَ فيها هُدًى وَنورٌ‌ يَحكُمُ بِهَا النَّبِيّونَ الَّذينَ أَسلَموا لِلَّذينَ هادوا وَالرَّ‌بّـنِيّونَ وَالأَحبارُ‌ بِمَا استُحفِظوا مِن كِتـبِ اللَّهِ...٤٤﴾...سورة المائدة

(7) خیرلکم عند باریکم: (تمہارے خالق کے نزدیک یہ تمہارے لیے بہتر ہے) توبہ کے سامان بن جانا، رب کی بڑی عنایت ہوتی ہے،ورنہ آخرت انسان کی سخت بوجھل ہوجائے۔ بظاہر یہ محسوس ہوتا ہ ےکہ جان ہی تو ایک شے تھی جو اسے دے دی ، توبہ سے اسے اب کیا ملا؟ اصل بات یہ ہے کہ اگر توبہ نہ ہوتی تو یہ چار روز ممکن ہےکہ آرام سے گزر جاتے لیکن ابدی زندگی داغدار ہوجاتی، اس لیے محدود کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک غیر محدود او رلازوال زندگی کا ان کو تحفظ دیا۔ کیا یہ کچھ کم عنایت ہے۔

(8) التواب الرحیم : (بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان) قدر ناشناس لوگوں پر اللہ تعالیٰ اپنے دروازے بند نہیں فرماتا، بلکہ سداکھلے رکھتا ہے اور ان کے انتظار میں رہتا ہے کہ اگر کوئی اب بھی باز آجائے تو اس کو تھام لیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ کرم کسی قانونی پابندی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ اس کے سراپا رحم و کرم اورفضل کا تقاضا ہے۔

(9) حتی ارنا اللہ جھرۃً (تاوقتیکہ ہم ظاہر ظہور کو دیکھ نہ لیں)

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی خدا کو خدا سے دیکھنے کی خواہش کی تھی، او ران کی قوم نے بھی ان سے خدا کو دیکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔ مگر دونوں میں فرق تھا،وہاں بات حسرت دید کی تھی او ریہاں ٹھوک بجا کر دیکھنے کی، اس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تو کہا گیا کہ :آپ کا عشق اور حسرت دید سلامت، یہ حسرت یہاں نہیں، وہاں پوری ہوگی، لیکن گستاخ اسرائیلیوں سے کہا گیاکہ : خدا کوئی جنس و کان نہیں ہے، وہ تو جان ایمان ہے، تم خدا شناس نہیں ہو، خدا کو تولنے کے مرض میں مبتلا ہو، چنانچہ ان کو اس کی سزا بھی دی گئی۔

حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ: تلاش رب کےجذبہ میں صادق ہوتے تو میرے بجائے بچھڑے کے آستان پر کیوں جان چھڑکتے، محبوب کا وصال گراں ہوجائے تو عاشق صادق کی بے چینیاں اور بڑھ جاتی ہیں ایسا نہیں کہ اب وہ متبادل کسی اور محبوب کی تلاش میں لگ جائے۔

﴿فَقالوا أَرِ‌نَا اللَّهَ جَهرَ‌ةً فَأَخَذَتهُمُ الصّـعِقَةُ بِظُلمِهِم ثُمَّ اتَّخَذُوا العِجلَ...١٥٣﴾... سورة النساء