میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

مدیر اعلیٰ کی تقریر....... جو 19جون 1978ء کو پاکستان نیشنل سنٹر لاہور میں کی گئی۔ موجودہ صورت میں یہ تقریر

نوٹس سے ترتیب دی گئی ہے، اس لیے الفاظ کی کمی بیشی اور بعض تفصیلات کی ذمہداری مرتب پر ہے۔ (خرم بشیر)

الحمد لله و کفیٰ و سلام علی عباده الذین اصطفیٰ۔ أمابعد

صاحب صدر و معزز حاضرین! اس بات سے تو ہم سب بخوبی واقف ہیں کہ پاکستان کی بنیاد کلمہ طیبہ ''لا إله إلا اللہ محمد رسول اللہ'' ہے۔ نیز یہ حقیقت ہے کہ کسی فلاحی ریاست کا دارومدار اس امر پر ہے کہ وہ کس حد تک فرد کے بنیادی حقوق جان، مال اور عزت کے تحفظ اور معاشرے میں قانونی عدل و مساوات، ضمیر کی آزادی، ترقی کے برابر مواقع اور قدرتی وسائل سے یکساں استفادے کی پاسداری کرتی ہے۔ گویا ریاست و سیاست کے معاملے میں کسی تصور کی بالاتری کا انحصارزیادہ سے زیادہ انفرادی اصلاح اور اجتماعی فلاح پر ہے چنانچہ اس سلسلہ میں اب تک کی انسانی فکرونظر کی معراج ''نظریہ جمہوریت'' کو سمجھا جاتا ہے حتیٰ کہ آج خاک و خون کی ہولی سے بھی جو انقلاب آتے ہیں ان کے قائد سب سے پہلا دعویٰ یہی کرتے ہیں کہ ہمارا مطمع نظر صرف جمہوریت کی بحالی ہے لہٰذا ہمیں پہلے اس امر کاجائز لینا ہے کہ متذکرہ بالا اقدار کی ضمانت اس مزعومہ جمہوریت نے کہاں تک مہیا کی ہے اور کیا ہم اس انسانی دریافت پرمطمئن ہوکر ہمہ تن جمہوریت کی استواری کے لیے وقف ہوجائیں یا انسانی فکرونظر کے مسلسل ارتقاء پر توجہ دیں؟ میں قلت وقت کے پیش نظر اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کہ کس طرح بنی نوع انسان کے مسائل حل کرنے میں انسانی سوچ درماندگی کا شکارہوئی ہے او راس بات پر مجبور ہورہی ہے کہ عقل و تجربہ سے بالاتر رہنمائی ''وحی الہٰی'' کے سامنے گھٹنے ٹیک دے بلکہ اس وقت جمہوریت کے ہی ایک بہت بڑے علمبردار(Burns)کے اعتراف پر اکتفا کرتا ہوں۔

No one denies that fxisting representative assemblies are defective, but if an automobile does not work well it is foolish to go back to from cart, However romantive.

گویا جمہوریت کے دعویدار بھی اس بات کا برملااعتراف کرتے ہیں کہ جمہوریت خامیوں سے پُر ہے او رمسلمہ اقدار کے حصول میں بُری طرح ناکام ہوچکی ہے لیکن وہ صرف اس لیے اس کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں کہ ان کی سوچ یہاں آکر رُک گئی ہے اور ان کے سامنے کوئی ایسا نظام نہیں جو کامیابی سے فرد و اجتماع کو ''معراج حقیقی'' سے ہمکنار کرسکے۔

میں اس شکست |خوردہ ذہنیت پر واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ہم مسلمانوں کے پاس خالق کائنات (رب العالمین) کا دیا ہوا ایک مستقل اور مکمل طرز زندگی اور نظام حیات موجود ہے جو اس باب میں بھی سب خامیوں سے نہ صرف پاک ہے بلکہ اتنا ترقی یافتہ بھی ہے کہ جہاں انسانی عقل و دانش کی منزل ختم ہوتی ہے وہاں سے بہت آگے اس کی ابتدا ہوتی ہے۔ وہ دین اسلام ہے جس کے بارے میں خود اس کا بخشنے والا آج سے چودہ صدیاں قبل یہ اعلان کررہا ہے۔﴿اليَومَ أَكمَلتُ لَكُم دينَكُم وَأَتمَمتُ عَلَيكُم نِعمَتى وَرَ‌ضيتُ لَكُمُ الإِسلـمَ دينًا...٣﴾... سورةالمائدة

لیکن مجھے افسوس ہے کہ آج کا مسلمان اپنی غلامانہ ذہنیت کے باوصف غیروں کا اتنا دست نگر ہوگیا ہے کہ اپنے گھر کے لعل و جواہر سےمہ موڑ کر دوسروں کے خذف ریزوں کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتا ہے ۔ اس لیے میں بالخصوص مسلمانوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے گھر کی دولت سے فائدہ اٹھائیے۔ اپنے خزانوں کو ناکافی سمجھتے ہوئے غیروں کےٹکوں کو اپنا بنانے کی کوشش ترک کردیجئے۔ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے اس کے ساتھ جمہوریت یا اشتراکیت کا پیوند نہ لگائیے۔ کوّے کو مور کے پر لگانے سے کوّا مور نہیں بن سکتا، دونوں الگ الگ جنسیں ہیں۔
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

عموماً غیر اسلامی افکار سے اسلام کو پیوند لگانے کے لیےنقطہ اجتہادکا بڑا سہارا لیا جاتاہے میں چاہتا ہوں کہ اس مغالطٰہ کا ازالہ شروع میں کردوں۔ اجتہاد کا مادہ جُہد ہے جس طرح کہ جہاد کا مادہ بھی جُہد ہے اجتہاد کتاب و سنت سے خارج کوئی چیز نہیں ہے بلکہ جس طرح کتاب و سنت کی عملاً ترویج کے لیے کشمکش کو جہاد کہتے ہیں اسی طرح کتاب و سنت سے استفادے اور افادے کے لیےذہنی کوشش کا نام اجتہاد ہے۔ اجتہاد کےمعنی قطعاً ایسے نہیں ہیں کہ اسلام میں تغیر و تبدل کے لیےاس کا سہارا لیا جائے۔اسلام ابدی دین ہے یہ مکمل ہے کہ زمان و مکاں کے لیے آخری رہنمائی ہے اس میں ذہنی کوشش کی ضرورت اس غرض سے ہوتی ہے کہ دیکھا جائے فلاں مسئلہ میں کون سی ہدایت لاگو ہوتی ہے اور درپیش قضیہ میں السام کیا فیصلہ دیتا ہے؟ مثلاً اسلام میں چغلی بُری شے ہے لیکن اسلامی تعلیمات میں سے ہی نبی ﷺ کا یہ واقعہ صحیح بخاری میں ہے کہ فاطمہ نامی ایک عورت نے آپ سے مشورہ پوچھا کہ تین آدمی مجھے نکاح کا پیغام دیتے ہیں معاویہ، ابوجہم او راسامہ۔ آپ نے فرمایامعاویہ صلعوک (کنگال آدمی) ہے اور ابوجہم کندھے سے لاٹھی نیچے نہیں رکھتا یعنی سخت گیر ہے البتہ اسامہ اچھا ہے۔ محدثین نے اپنا عظیم الشان علم اسماء الرجال (جس میں راویوں کے حالات سے بحث ہوتی ہے) کی آپؐ کے متذکرہ بالا مشورے پر بنیاد رکھی ہے۔ انہوں نے اپنے اجتہاد سے یہ سمجھا ہے کہ علم اسماء الرجال میں راویوں کے عیوب بیان کرنے میں راویوں کو کمزوریوں کے پیش نظر لغزشوں سے بچانے کے لیے آپ کا تبصرہ رہنما اصول ہے جو یہاں لاگو ہوتا ہے۔غیبت والا حکم یہاں نہیں لگتا۔ البتہ ایک چیز واضح کردوں کہ شریعت کامقصود خیر و شر او رحق و باطل کی نشاندہی ہے ۔ تدبیری امور میں کوئی بندش نہیں ہے۔ ہر زمان و مکاں میں اسلام کے قابل عمل او رلچکدار ہونے کے یہی معنی ہیں او ریہ چیز زمانہ کی تبدیلی سے بھی متعلق نہیں ہے ایک ہی زمانہ کے مختلف حالات میں مسائل میں احکام کی تبدیلی ہوتی رہتی ہے او رپھر ہر جگہ بھی ایک سی نہیں ہوتی۔ آپؐ کے زمانہ میں ہی روم و فارس کےحالات حجاز سے مختلف تھے لیکن نبی اکرمﷺ نے خود ان کے لیے ہدایات میں تغیر و تبدل نہ کیا۔ آپ صرف عرب کےلیے رسول نہ تھے عرب و عجم کے لیے بلکہ جن و انس کے لیے تھے بلکہ آپ تو رحمۃ للعالمین ہیں۔

لہٰذا تدبیری امور میں آپنے خود انسانوں کو اپنے تجربات سے بھرپور استفادے کی ترغیب دی ہے۔ تجربات کی آزادی بلکہ غیروں کی تدبیروں اور تجربات میں سے بھی کوئی حکمت کی بات ہوتو اسے اختیارکرنے سے منع نہیں کیا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس تجربہ اور ترقی کے نام پر خیرو شر کی بنیادی تعبیر بھی غیرمسلموں سے لی جائے اسی سے مجھے اختلاف ہے ۔ عبادات کے علاوہ معاملات میں جس میں شعبہ ریاست و سیاست بھی شامل ہے شریعت کی کوئی متعین شکل کی پابندی لازم نہ کرنے کامطلب یہ نہیں ہے کہ بنیادی اصول و ضوابط سے بھی آزادی مل گئی ہے۔ حالانکہ خیر و شر ، حق و باطل، عدل و ظلم کا بہت بڑا تعلق ریاست سے بھی ہے۔ اس بارے میں اسلام کی خاموشی کے معنی تو یہ ہوں گے کہ دین ناقص ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ حق و باطل اور ظلم و عدل کے بارے میں بنیادی اصول و ضوابط جنہیں آج کل دستور و قانون کا نام دیا جاتا ہے اسلام کی نگاہ میں وہ صرف کتاب و سنت ہیں جو ابدی ہیں جس طرح آج کل دستور و قانون کے تابع قواعد و صوابط(Rules and Ragulations) کی اجازت ہر ادارہ کو ہوتی ہے اسی طرح انسانوں کو صرف قواعد وضوابط (جسے ذیلی قانون سازی کا نام بھی دیا جاسکتا ہے) کی اجاز ت ہے اور قرآن کریم کے ارشاد وامرهم شوری بینھم (الشوریٰ:38) کا میدان یہی ذیلی قانون سازی ہے۔میں اسےذیلی اس لیےکہتا ہوں کہ یہ کتاب و سنت کے تابع ہوگی اس کا تعلق زیادہ تر تدبیر و انتطام سے ہوگا اور تقاضے بدلنے سے اس میں تبدیلیاں ہوتی رہیں گی۔ مسلمانوں کے معاملات کے امین باہمی غوروفکر سے Rules and Ragulations وضع کرتے رہیں جو درپیش ضروریات کے مطابق ہنگامی اور وقتی ہوں گے۔ قدیم مجتہدین امت کے اجتہادات میں بھی یہی چیز نمایاں ہے جسے ایک کوتاہ فہم آدمی قانونی اختلاف قرار دیتا ہے حالانکہ اس کا بیشتر حصہ ہرمسئلہ میں درپیش اس پہلو سے ہوتا ہے جسے مجتہد اہمیت دیتے ہوئے ایک حکم (فتویٰ) قرار دیتا ہے تو دوسرا ایک اور پہلو کے پیش نظر الگ حکم لگاتا ہے۔ ہمارے ہاں کی مشاورتی کونسلیں یا اسمبلیاں یہ کام تو کرسکتی ہیں لیکن انہیں قانون سازی کی اجازت نہیں ہے۔

اسلام میں حاکمیت کے تصور کے بارے میں بھی کچھ عرض کردوں کہ اسلام میں حاکمیت کا تصور جمہوریت سے علیحدہ ہے یعنی اسلام میں جمہور کا حاکمیت کے بجائے اللہ احکم الحاکمین کی حاکمیت تسلیم کی جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے۔ إن الله هو الحکم وإلیه الحکم (ابوداؤد) ''اللہ ہی حاکم ہے اور اسی کا حکم چلتا ہے۔''

نیز عموماً حاکمیت کے معنی اقتدار اعلیٰ کے لیے جاتے ہیں جس کی مرضی قانون ہوتی ہے۔ لیکن اسلام کی رو سے حاکمیت سےمراد قطعاً اقتدار اعلیٰ(Sovereignty) نہیں ہے کیونکہ اقتدار اعلیٰ تکوینی امر ہے جو اللہ تعالیٰ کو بلا شائبہ شرکت غیرے حاصل ہے اسی لیے وہ کفار کو بھی تسلیم ہے۔ قرآن کریم میں ہے : ﴿وله أسلم من في السموات والأرض طوعا و كرها ۔ اسی طرح وله ما في السموات والأرض كل له قانتون ومن يدبرالأمر فسيقولون الله  اس لیے یہ ایسامسئلہ نہیں ہے جس میں دو رائیں ہوں اس لیے مفکرین اسلام وضاحت کرتے ہیں کہ اصل مسئلہ تشریعی حاکمیت کا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں انسان کے اختیار کامعاملہ ہو وہاں اللہ کے فرمان کے مطابق زندگی بسر کرے اسی کے معنی عبادت کے ہیں جو زندگی کے سارے شعبوں پر حاوی ہے خواہ حقوق اللہ ہوں یا حقوق العباد۔

اس امر میں اللہ کی مرضی کا مفہوم اس مرضی سے علیحدہ ہے جو تکوینی طور پر سب کو قبول کرنی پڑتی ہے۔ اسی دوسری قسم کی مشیت اور خوشنودی کی بنیاد پر ہی اُخری جزا و سزا کا انحصار ہے۔علمائے اسلام نے دونوں مشیتوں کے فرق کے لیےدو الگ الگ اصطلاحیں مقرر کی ہیں۔ (1) توحید ربوبیت (2) توحید الوہیت۔

انبیاء کی دعوت کابنیادی نکتہ توحیدالوہیت ہی ہے کیونکہ توحیدربوبیت تو تسلیم شدہ امر ہے۔ اگر کوئی انکار بھی کرتا ہے تو فرق نہیں پڑتا اس لیےکہ وہ رب کے اقرار پرمجبور ہے۔ قال سے نہیں تو حال ہی سے!!

حاصل یہ ہے کہ اسلام میں اللہ کی حاکمیت کےاقرار کےمعنی یہ ہیں کہ بندے نے اللہ کی اطاعت قبول کرلی اور وہ الہٰ کے سامنے عبد کی حیثیت کااعلان کرنے کامکلف ہے۔ لا الہ الا اللہ کے یہی معنی ہیں۔
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ اسلام میں اصل چیز عبادت او راطاعت ہے جسے اللہ کے لیے خالص کرنےکا نام توحید الوہیت اور توحیدعبادت ہے۔ انبیاء او رمشرکین کے درمیان یہی مسئلہ نزاعی راہا کہ جب ربوبیت او رقدرت و اقتدار صرف اللہ کے لیےتسلیم ہے تو جھکنا بھی اس کے سامنے چاہیے اور فرمانبرداری بھی اسی کی کرنی چاہیے گویا تسلیم شدہ امر توحید ربوبیت کو توحید الوہیت کے اثبات کی دلیل بنایا جاتاہے۔ قرآن اسی انداز فکر سےبھرا پڑا ہے۔ کتاب و سنت میں انبیاء او رامراء کی طرف جو اطاعت کی نسبت ملتی ہے اس سے دھوکا نہ کھانا چاہیے کیونکہ درحقیقت وہ اطاعت یاتو صرف وحی الہٰی کی ہوتی ہے جو انبیاء کی طرف کی جاتی ہے جیسا کہ ﴿وَما يَنطِقُ عَنِ الهَوى ﴿٣﴾ إِن هُوَ إِلّا وَحىٌ يوحى ﴿٤﴾... سورة النجم" اور ﴿وَلَو تَقَوَّلَ عَلَينا بَعضَ الأَقاويلِ ﴿٤٤﴾ لَأَخَذنا مِنهُ بِاليَمينِ ﴿٤٥﴾ ثُمَّ لَقَطَعنا مِنهُ الوَتينَ ﴿٤٦﴾... سورة الحاقة" اور ﴿مَن يُطِعِ الرَّ‌سولَ فَقَد أَطاعَ اللَّهَ﴾ میں مذکور ہے یا انتظامی اور تدبیری اجتہادی امور میں جو قانون کی اطاعت میں داخل ہے ۔ کیونکہ اسلام میں راعی اور رعایا کے درمیان اطاعت کاتعلق اس امر سے نہیں کہ کوئی آقا ہو دوسراغلام بلکہ دونوں نظام کی اطاعت کرتے ہیں اور اس نظام میں دونوں کی الگ الگ حیثیتیں ہیں۔ ایک لحاظ سے کسی کو اہمیت ہے تو دیگر اعتبار سے دوسرے کو۔ نظم مملکت میں ہر ایک کے فرائض و حقوق ہیں۔ نیز واضح رہے کہ اطاعت کے مسئلہ میں نیابت حق کا تصور بھی غیر اسلامی ہے جوغلط طور پر عیسائیت اور عجمی تصوف کی پیداوار ہے ۔ جمہور علمائے امت اسی وجہ سے خلیفہ وقت کو ''خلیفۃ اللہ'' کہنے والے آدمی پر فاسق و فاجر کا فتویٰ لگاتے تھے۔ اس سلسلے میں حضرت ابوبکرؓ کا قول معروف ہے۔ «لست خلیفة اللہ بل أنا خلیفة رسول الله» یعنی میں اللہ کا خلیفہ نہیں بلکہ رسول اللہ کانائب ہوں۔ (الاحکام السلطانیہ للماوردی وغیرہ)

اسلام میں اصل اطاعت کتاب و سنت کی ہے خواہ راعی ہو یا رعایا ( حکومت ہو یا شہری)دونوں اس قانون الہٰی کے پابند ہیں۔ اس اعتبارسے ان میں باہمی مساوات ہے۔ اگر تدبیری امور میں بھی اختلاف ہوجائے تو حق کا معیار کتاب و سنت ہوں گے کہ تدبیری امور میں بھی عموماً بنیادی فکر ہی کارفرما ہوا کرتا ہے جس کی صحت کا معیار کتاب و سنت ہیں ۔ قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے۔ ﴿وَمَا اختَلَفتُم فيهِ مِن شَىءٍ فَحُكمُهُ إِلَى اللَّهِ﴾اور ﴿فَإِن تَنـزَعتُم فى شَىءٍ فَرُ‌دّوهُ إِلَى اللَّهِ﴾

حاکم و محکوم کی اونچ نیچ یا طبقاتی تقسیم اسلام میں نہیں ہے یہ سب چیزیں ''تصور اقتدار'' کی خرابیاں ہیں۔ جنگ قادسیہ کی فتح کے بعد حضرت عمر بن الخطاب کی تقریر اس کی وضاحت کررہی ہے۔ خود نبیﷺ اور خلفائے راشدین کی پوری زندگیاں مساوات اسلامی کی دلیل ہیں۔

حضرت عمر بن الخطابؓ نے فتح قادسیہ کی خوشخبری سن کر تقریر کی تو آخر میں فرمایا:

بھائیو! میں بادشاہ نہیں ہوں کہ تم کو اپنا غلام بنانا چاہتا ہوں۔ میں تو خود اللہ کا غلام ہوں۔ البتہ خلافت کا کام میرےسپرد ہے اگر میں یہ کام اس طرح انجام دوں کہ تم آرام سے اپنے گھروں میں اطمینان کی زندگی بسر کرو تو یہ میری خوش نصیبی ہے اور اگر خدانخواستہ میری یہ خواہش ہو کہ تم لوگ میرے دروازے پر حاضری دیا کرو تو یہ میری بدبختی ہے۔ میں تمہیں تعلیم دیتا ہوں اور نصیحت کرتا ہوں لیکن صرف قول سے نہیں عمل سے بھی۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے تو اپنے اوّلین خطبہ میں یہاں تک کہا تھا کہ تم میری اطاعت کرو اگر میں اپنے رب کی اطاعت کروں اور اگر میں اللہ کی اطاعت نہ کروں تو تم پر میری اطاعت واجب نہیں۔

رستم نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے نمائندہ حضرت ربعی بن عامر سے سوال کیا کہ جنگ سے تمہارا مقصود کیا ہوتا ہے؟ جواب دیا: اللہ نے ہمیں اس لیے بھیجا ہے کہ ہم انسانوں کو اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے نکال کر انہیں دنیا کی فراخی و آزادی سے بہرہ ور کریں ۔ ادیان و مذاہب کے ظلم و ستم سے نجات دلا کر اسلامی عدل و مساوات سے ہمکنار کریں۔

درحقیقت حقوق ربانی (Devine rule of Kingdome)کے تصور سے ماخوذ ''حکومت الہٰیہ'' کا نعرہ لگا کر انسانی فرد یا معاشرہ کو خلافت (نیابت) کا منصب سونپنا اور اس کی اطاعت کرانا، تھیاکریسی کے مماول ہے کہ اس صورت میں ایک فرد یا گروہ خدا کی (نیابت) کے دعوے سے قانونی حاکمیت کا حامل بن جاتا ہے او رپھر اپنی اطاعت کو خدا کی اطاعت قرار دیتا ہے۔ قرآن کریم اس کی تردید ان الفاظ سے کرتا ہے۔﴿اتَّخَذوا أَحبارَ‌هُم وَرُ‌هبـنَهُم أَر‌بابًا مِن دونِ اللَّهِ﴾ ۔ حالانکہ وہ زبان سے رب نہیں بناتے تھے لیکن ان کے احکام کی اطاعت اسی طرح کرتے تھے جیسے اللہ کی کرنی چاہیے۔

بعض حلقوں کی طرف سے جو یہ مطالبہ کیا جاتاہے کہ اسلامی قانون نافذ کرو یہ بھی تحصیل حاصل کے مترادف ہے۔ خدا کا قانون ایک مکمل ضابطہ حیات کی صورت میں چودہ صدیاں قبل سے نافذ ہے۔ ہمارا تعلق اس کی اطاعت سے ہے۔ ہم نے حکومت کو خدا تعالیٰ کی نیابت کے تصور سے خدائی اختیارات دے کر اس کا نفاذ حکومت کی ذمہ داری سمجھ لیا ہے حالانکہ وہ نافذ ہے۔ حکومت بھی اس کی اسی طرح پابند ہے جیسے ایک عام شہری۔ دونوں میں سے جو اس کی اطات نہ کرے وہ باغی ہے۔ البتہ اتنی وضاحت کی ضرورت ہے کہ وہ صرف قانوناً نافذ ہے اور اس کے عملی نفاذ کے لیےجدوجہد کی ضرورت ہے۔بطور مثال ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ کتاب و سنت کی حکومت قانوناً(De- Jure)موجود ہے عملاً(De-Facto) نہ ہو تو اس کے لیے ہمیں کوشاں رہنا چاہیے۔

آخر میں ، میں یہ عرض کردوں کہ اسلام کو قبول کرنے کا تعلق چونکہ انسانوں سے ہے او رانسان کا فرض نہ صرف خود اسلام پر چلنا ہے بلکہ دوسروں کو بھی اس پر چلنے میں مدد دینا یا دوسرے لفظوں میں امر بالمعروف ، نہی عن المنکر کرنا ہے اس لیے مسلمانوں کے تدبیری امور کے جو لوگ امین بنیں ان کے لیے خلافت راشدہ کے نظام سے جو حاصل ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اگرچہ اسلام نے Election یاSlection کی کوئی واضح شکل متعین نہیں کی۔ لیکن بنیادی طور پر ایسی ہدایات ضرور دی ہیں جن پر عمل کرتے ہوئے صحیح تشکیل حکومت ہوسکتی ہے چنانچہ اسلام کی رُو سے اساطین حکومت کی صفات یہ ہونی چاہیئیں۔

(1) تقویٰ (2) مہارت (3) اعتماد

تقویٰ سے مراد یہ ہےکہ جو شخص مسلمانوں کے امور کا امین بنے وہ صاحب تقویٰ ہو۔ یہ شرط بنیادی ہے۔

مہارت سے مراد یہ ہے کہ مسلمانوں کے امور صرف ان لوگوں کو سونپے جائیں جو ان امور کی اچھی طرح سمجھ رکھتے ہوں یہ نہ ہوکہ صرف ہاتھ اٹھانے والے ہوں۔ یہ تو بقول اقبال  جمہوریت کا خاصہ ہے۔
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

اعتماد سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کا باہمی اعتماد بھی ان پر ہو کیونکہ اگر کسی کو عوام کا اعتماد حاصل نہ ہو تو وہ عوام کے دلوں پر حکومت کرسکتا ہے نہ عوام ان سے تعاون کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔

باقی رہا یہ امر کہ ان صفات کے حامل لوگ کیسے آگے آئیں گے تو اس سلسلہ میں گزارش یہ ہے کہ یہ کام مسلمانوں کے اہل حل وعقد کا ہےکہ باہمی مشورت سے اپنے حالات کے مناسب ایسا طریقہ کار اپنائیں کہ ان صفات کے حامل لوگ ان کے امور میں امین بنیں۔ جمہوریت کے بالمقابل جب تک ان اصولوں کی بنیاد پر آج کے دور کے لیے کوئی نظام پیش نہیں کیا جاتا عملاً جمہوریت کی خامیوں سے نجات حاصل نہیں کی جاسکتی او ریہ چیلنج پوری ملت اسلامیہ کو ہے۔ میں اسی غوروفکر کی دعوت پر اپنی گزارشات کو ختم کرتا ہوں۔ واخر دعوانا ان الحمدلله رب العالمین۔
حوالہ وحواشی

۔ یعنی کوئی بھی اس سے انکار نہیں کرتا کہ موجودہ نمائندہ اسمبلیاں خامیوں والی ہیں لیکن یہ احمقانہ بات ہوگی اگر ایک خود کار گاڑی اچھا کام نہ کرے تو ہم چھکڑے کو اختیار کرلیں خواہ وہ کیسا ہی دلآویز کیوں نہ ہو۔

۔ آج میں نے تمہاری زندگی کالائحہ عمل مکمل کردیاہے اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی ہے او راسلام کو تمہارے لیے دین پسند کیا ہے۔

۔Dewey اپنی تصنیف Ethics of Democracy میں لکھتا ہے:

''یہ کہنا کہ جمہوریت ایک خاص طرز حکومت ہے بالکل اسی طرح جیسے یہ کہا جائے کہ مکان صرف اینٹوں کا مجموعہ ہے یا گرجا ایک ایسی عمارت ہے جو کلس او رمنبر پر مشتمل ہو (صرف اینٹوں کی وجہ سے ہرعمارت کو ایک نہیں سمجھ لینا چاہیے۔ مسجد اور گرجا میں بہت فرق ہے۔'') ( مرتب)

۔ اس سلسلہ میں رسولؐ کا ارشاد: انتم اعلم بامور دنیاکم یعنی تم دنیاوی امور میں زیادہ سمجھدار بھی ہوسکتے ہو اس لیےمیری رائے سے آزاد ہو۔

۔سورۃ آل عمران:83۔ ''زمین و آسمان کے سب انس و جن اور فرشتے خوشی یا ناخوشی سے اس کے فرمانبردار ہیں یعنی تقدیرالہٰی کے سامنے بے بس ہیں۔''

۔ سورۃ الروم :26۔ ''اللہ ہی کے لیے کل کائنات کی ملکیت و اختیار ہے سب اسی کے تابع فرمان ہیں۔''

۔ سورۃ یونس:31۔ ''تدبیر کائنات کون کرتا ہے۔کافر جواب یہی دیں گے اللہ ہی یعنی تخلیق و اختیار میں اللہ کی حاکمیت کفار کو بھی تسلیم ہے۔''

۔سورۃ النجم:3،4ـ''آپ اپنی خواہش سے نہیں کہتے وہ تو وحی ہی ہے جو آپؐ پر کی جاتی ہے۔''

۔ سورۃ الحاقہ:44،46۔''اگر اپنی طرف کی باتیں ہم پرلگاتے تو ہم دائیں ہاتھ سے آپ کو پکڑ کر آپ کی شہ رگ کاٹ دیتے۔''

۔ سورۃ النساء:80۔ ''جس نے رسولؐ کا کہامانا حقیقت میں اس نے اللہ کی اطاعت کی کیونکہ وہ نمائندہ حق ہے۔''

۔ چونکہ وہ اطاعت کتاب و سنت کی مقرر کردہ حدود میں ہوتی ہے اس لیے حقیقت میں وہ قانون کی اطاعت ہی ہے۔

۔ اس کی وضاحت کے لیے جنگ بدر کے قیدیوں کے بارےمیں صحابہ کی مختلف آراء پر غور فرمائیں کہ بعضوں کی رائے انہیں فدیہ لے کر چھوڑنے کی تھی اور بعضوں کی انہیں قتل کردینے کی۔ یہ اجتہادی امر تھااس لیے اختلاف ہوا لیکن قرآن کریم اور احادیث میں فدیہ کی رائے رکھنے والوں کو ملامت کی گئی اور رسول اللہ ﷺ کو تو وہ عذاب دکھایا گیا جو معافی نہ ملنے کی صورت میں ان کامقدر ہوتا۔ قرآن کریم نے اس اجتہادی امر کو بنیادی سوچ کی غلطی قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:  تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ  (الانفال:67) ''یعنی تم دنیا کے مال و متاع کا ارادہ کرتے ہو جب کہ اللہ |آخرت کی بھلائی چاہتے ہیں۔'' اسی طرح اجتہادی امور کے لیے اگر بنیادی فکر درست ہو تو اختلاف رائے بھی بُرا نہیں ہوتا۔ حدیث میں ہے کہ غزوہ احزاب کے فوراً بعد آپؐ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ عصر کی نماز بنوقریظہ میں پڑھیں۔ بعض نے رستہ میں تنگی وقت کا لحاظ رکھتے ہوئے نماز پڑھ لی کہ رسول اللہؐ کا اصل مقصد صرف جلدی تھا۔ بعض صحابہ نے الفاظ کا دھیان رکھتے ہوئے نماز نہ پڑھی بلکہ منزل مقصود پر جاکر قضا کی۔ رسول اللہﷺ نے دونوں کو درست قرار دیا۔ چونکہ اجتہاد کتاب و سنت کی بنیاد پر ہی ہوتا ہے اس لیے ہر قسم کے اختلاف اور نزاع کے وقت کتاب و سنت کی طرف رجوع کا حکم دیا گیا ہے۔

۔ سورۃ الشوریٰ:10۔ ''جس بارے میں تمہارا اختلاف ہوجائے اس کا فیصلہ اللہ کی طرف ہے۔''

۔ سورۃ النساء:59۔ ''پھر اگر تم مسلمانو! (امراء اور رعایا)کا باہمی نزاع ہوجائے گا تو اپنے معاملہ کو کتاب و سنت سے حل کرو۔''

۔ التوبۃ: 31۔ ''یہود و نصاریٰ نےاپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب قرار دے رکھا ہے۔''

۔ اگر خدا کا دین نافذ نہ ہو تو ہم نماز، روزہ بھی نہ کریں یہ تو معلوم ہی ہے کہ جیسے نماز روزہ دین ہے اسی طرح معاشرت......؟؟؟؟؟
مَن يُطِعِ الرَّ‌سولَ فَقَد أَطاعَ اللَّهَ