مضمون ہذا سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز، حفظہ اللہ کے ایک گراں قدر مقالہ بحوث ھامۃ حول الذکوٰۃ کا ترجمہ ہے۔ یہ ریاض سے شائع ہونے والے ایک ہفت روزہ مجلہ ''الدعوۃ'' سے ماخوذ ہے۔

یہ مقالہ اگرچہ مختصر ہے اور مقلدوں کی طرح اس کی تمام جزئیات سے اتفاق کرنے میں ہمیں کچھ تردد ہے تاہم اپنے موضوع پر نہایت گراں قدر مقالہ ہے۔ اس میں دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق بعض فقہی مسائل کو نہایت احسن اسلوب سے بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً روپے اور نقدی کے متعلق علماء سے یہی سنتے آئے ہیں کہ ساڑھے باون روپے پر زکوٰۃ واجب ہو گی۔ مگر یہ بات بعید از قیاس ہے کہ ایک تولہ چاندی کی قیمت میں تقریباً ۱۶ گنا اضافہ ہو جائے اور روپے کا نصاب حسب سابق ساڑھے باون روپے ہی ہو۔ یہ تو اس وقت کی بات ہے جب کہ ساڑھے باون روپے میں بھینس خریدی جا سکتی تھی۔ اب تو بھینس کے چمڑے کا ایک متوسط جوتا بھی دستیاب نہیں ہے۔

چنانچہ انہوں نے اس مسئلہ کو یوں حل کیا ہے کہ موجودہ وقت میں ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر نقدی ہونے پر زکوٰۃ واجب ہو گی۔ آج کل چاندی کا بھاؤ تقریباً ۱۶ روپے فی تولہ ہے۔ اس حساب سے ۸۴۰ روپے پر زکوٰۃ واجب ہو گی۔

بعض لوگ زکوٰۃ سے بچنے کے لئے کچھ حیلے تراشتے ہیں اور اپنے جمع کردہ سرمایہ سے مختلف اشیاء خریدتے ہیں۔ پھر کچھ منافع پر فروخت کر دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے انہوں نے قاعدہ کلیہ یہ بیان کیا ہے کہ جو مال تجارتی نقطۂ نگاہ سے خریدا جائے خواہ حیوان ہو، اناج ہو یا مکان وغیرہ ہو سبھی کی رقم پر زکوٰۃ واجب ہو گی۔ اور مال میں جو منافع ہو گا وہ راس المال کے تابع ہو گا اور اسی پر سال کا گزرنا شرط نہیں۔

اسی طرح جو مال کسی کو قرض دیا جائے تو ایسا مال بھی زکوٰۃ سے مستثنیٰ نہیں ہو گا بلکہ صاحبِ مال کو سال گزارنے پر اس کی زکوٰۃ ادا کرنا ہو گی۔ علاوہ ازیں اور کئی مسائل کو مختصراً ایک قابلِ تحسین انداز سے بیان کیا ہے۔

سیف الرحمٰن

الحمد للّٰہ وحده والصلوٰة والسلام علی من لا نبی بعده وعلی اٰله وصحبه۔

اما بعد۔ اس مضمون کا مقصد خیر خواہی اور نصیحت ہے کیونکہ فریضۂ زکوٰۃ میں اکثر مسلمان سستی اور غفلت کا شکار ہو چکے ہیں اور مشروع طریقہ کے مطابق زکوٰۃ ادا کرنے میں پس و پیش کرتے ہیں حالانکہ اس کی اہمیت کو سب تسلیم کرتے ہیں اور یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ یہ اسلام کے ارکانِ خمسہ میں سے ہے اور اس کے بغیر اسلام کی بنیاد قائم نہیں رہ سکتی۔ کیونکہ رسولِ کریم ﷺ کا فرمان ہے۔

«نُبِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ شَھَادَةُ اَنْ لَّآاِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاَنّ مُحَمدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَاِقَامَ الصَّلوٰةِ وَاِیْتَاءِ الذَّکوٰة وَالْحَجّ وَصَوْمِ رَمَضَان» (صحیح بخاری جلد ۱ ص ۶ عن ابن عمر)

اسلام میں جن پانچ امور کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ ان کی تفصیل یہ ہے (۱) اللہ کی توحید اور حضرت محمد ﷺ کی رسالت کا اقرار (۲) نماز کی اقامت (۳) زکوٰۃ کی ادائیگی (۴) رمضان المبارک کے روزے (۵) بیت اللہ شریف کا حج۔

فوائد زکوٰۃ:

فریضہ زکوٰۃ مسلمانوں پر (اللہ کا) ایک بہت بڑا احسان ہے اور آغوش اسلام میں آنے والوں کا نگہبان اور محافظ ہے۔ یہ بے شمار فوائد کا حامل ہے۔ اس سے نادار مسلمانوں کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ دولت مندوں اور محتاجوں کے درمیان محبت اور اخوت کا رشتہ مضبوط ہوتا ہے کیونکہ انسان کی فطرت ہے کہ جو اس سے احسان کرتا ہے اس سے مودت اور محبت کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔ زکوٰۃ کا ایک بنیادی اور اصل مقصد یہ بھی ہے کہ اس سے طہارتِ نفس اور تزکیہ مال ہوتا ہے۔ بخل اور کنجوسی پردۂ عدم میں مستور ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ کتاب مقدس قرآن کریم نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ﴿خُذ مِن أَمو‌ٰلِهِم صَدَقَةً تُطَهِّرُ‌هُم وَتُزَكّيهِم بِها...١٠٣﴾ ... سورة التوبة"آپ ان کے مال سے زکوٰۃ لیجیے (اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ) نفس کی (گناہوں کی آلودگی اور نجاست سے) پاکیزگی ہو گی اور مال کا تزکیہ بھی ہو گا (توبہ)

اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مسلمان جودوسخا کی صفت سے آراستہ ہو جاتا ہے۔ حاجتمندوں، ناداروں سے مشفقانہ اور ہمدردانہ سلوک برتتا ہے۔ مزید برآن زکوٰۃ دینے سے مال میں برکت ہوتی ہے اور اس میں اضافہ اور ترقی کا باعث بنتی ہے۔ نیز مال خرچ کرنے کے بعد اس کا بہترین معاوضہ بھی مل جاتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

﴿وَما أَنفَقتُم مِن شَىءٍ فَهُوَ يُخلِفُهُ ۖ وَهُوَ خَيرُ‌ الرّ‌ٰ‌زِقينَ ﴿٣٩﴾... سورة سبا

''یعنی جو کچھ تم خرچ کرتے ہو اس کا عوض بھی حاصل ہوتا ہے (کیونکہ) سب سے اچھا رزق دینے والا وہی ہے۔''

نیز نبی اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

«یَا ابْنَ اٰدَمَ اَنْفِقْ اُنْفِقْ عَلَیْکَ»

''اے ابن آدم تم (میرے راستہ میں) خرچ کرو میں تم پر خرچ کروں گا۔''

علاوہ ازیں اس میں اور بے شمار فوائد مضمر ہیں۔

منکرینِ زکوٰۃ کو وعید:

دوسری طرف ایسے لوگوں کے حق میں سخت وعید آئی ہے جو زکوٰۃ کی ادائیگی میں بخل سے کام لیتے ہیں یا سستی اور غفلت کا شکار ہوتے ہیں جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے:

﴿وَالَّذينَ يَكنِزونَ الذَّهَبَ وَالفِضَّةَ وَلا يُنفِقونَها فى سَبيلِ اللَّهِ فَبَشِّر‌هُم بِعَذابٍ أَليمٍ ﴿٣٤﴾ يَومَ يُحمىٰ عَلَيها فى نارِ‌ جَهَنَّمَ فَتُكوىٰ بِها جِباهُهُم وَجُنوبُهُم وَظُهورُ‌هُم ۖ هـٰذا ما كَنَزتُم لِأَنفُسِكُم فَذوقوا ما كُنتُم تَكنِزونَ ﴿٣٥﴾... سورة التوبة

''جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور راہِ خدا میں خرچ نہیں کرتے تو ایسے لوگوں کو درد ناک عذاب کی خوشخبری دو۔ قیامت کے روز ان کا مال لوہے کی سلاخوں میں تبدیل کیا جائے گا اور ان سلاخوں کو جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا۔ پھر (ان سلاخوں سے) ان کے پہلو، پیشانیاں اور پیٹھیں داغی جائیں گی (فرشتے انہیں ڈانٹ پلاتے ہوئے کہیں گے) یہ تمہارا جمع کردہ سرمایہ ہے۔ اب اس کا عذاب چکھو۔''

یاد رہے کہ جس مال کی زکوٰۃ ادا نہ کی جائے اس پر کنز کا اطلاق ہتا ہے اور ایسے صاحبِ کنزکو عذاب دیا جائے گا۔ چنانچہ صحیح حدیث میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

«مَا مِنْ صَاحِبِ ذَھَبٍ وَّلَا فِضَّةٍ لَّا یُؤَدِّیْ مِنْھَا حَقَّھَا اِلَّآ اِذَا کَانَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ صَفَحَتْ لَةٗ صَجَائحُ نَارٍ فَاُحْمٰی عَلَیْھَا فِیْ نَارِ جَھَنَّمَ فَیُکْوٰی بِھَاجَنْبَةٗ وَجَیْنَةٗ وَظَھْرَةٗ کَلَّمَا بَرَدَتْ اُعِیْدَتْ لَةٗ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُةٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍ حَتّٰی یُقْضٰی بَیْنَ الْعِبَادِ فَیَرٰی سَبِیْلَةٗ اَمَّا اِلَی الْجَنَّةِ وَاَمَّا اِلَی النَّارِ» (ترغیب جلد اول صفحہ ۵۳۶)

''یعنی جس شخص کے پاس سیم و زر ہو گا اور اس کا حق ادا نہیں کرے گا تو اس کے لئے اس کا مال لوہے کی سلاخیں بنا کر جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا۔ پھر اس کا پہلو پیشانی اور پیٹھ داغے جائیں گے۔ جب یہ سلاخیں سرد پڑ جائیں گی تو پھر دوبارہ گرم کر کے اسے عذاب دیا جائے گا اور ایک دن سالم یہ کارروائی جاری رہے گی۔ یہ دن کوئی معمولی نہ ہو گا بلکہ پچاس ہزار سال کا ایک دن ہو گا جب تک بندوں کا حساب و کتاب کا معاملہ ختم نہیں ہو گا اس وقت تک یونہی عذاب میں مبتلا رہے گا۔ پھر اس کے بعد اگر وہ جنت کا مستحق ہے تو جنت کی راہ لے گا اور اگر جہنم کا مستحق ہے تو اس کا ٹھکانہ دوزخ میں ہو گا۔''

پھر سید الکونین نے ارشاد فرمایا:

«مَنْ اٰتَاةُ اللّٰهُ مَالًا فَلَمْ یُؤَدَّ زَکَوٰتَةٗ مِثّلَ لَهٗ مَا لُهٗ یَوْمَ الْقِیَامَةِ شُجَاعًا اَقْرَعَ لَهٗ زَبِیْبَتَانِ یُطَوَّقُهٗ یَوْمَ الْقِیَامَةِ ثُمَّ یَآخُذُ بِلهْزِ عَتَیْهِ یعنی شِدْقَیْهِ ثُمَّ یَقُوْلَ اَنَا مَالُکَ اَنا کَنْزُکَ »(رواہ البخاری۔ مشکوٰۃ جلد ۱ ص ۱۵۵)

''جسے اللہ تعالیٰ نے مال کی نعمت سے نوازا لیکن اس نے زکوٰۃ ادا کرنے میں پس و پیش کیا تو اس کا مال قیامت کے روز ایک گنجے سانپ کی شکل میں نمودار ہو گا اس کے سر پر دو نشان ہوں گے۔ وہ اس کے گلے میں لپٹ جائے گا۔ پھر اس کے جبڑوں کو پکڑے گا اور کہے گا۔ میں تیرا مال ہوں۔ میں تیرا خزانہ ہوں۔''

پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:

﴿وَلا يَحسَبَنَّ الَّذينَ يَبخَلونَ بِما ءاتىٰهُمُ اللَّهُ مِن فَضلِهِ هُوَ خَيرً‌ا لَهُم ۖ بَل هُوَ شَرٌّ‌ لَهُم ۖ سَيُطَوَّقونَ ما بَخِلوا بِهِ يَومَ القِيـٰمَةِ...١٨٠﴾... سورة آل عمران

''جو لوگ اللہ کے دیئے ہوئے مال میں بخل سے کام لیتے ہیں وہ اسے اپنے لیے بہتر مت خیال کریں وہ تو ان کے حق میں سراسر مضر اور نقصان دہ ہے کیونکہ جس مال پر وہ بخل کرتے ہیں وہ قیامت کے روز ان کے گلے میں طوق ہو گا۔''

زکوٰۃ کن چیزوں پر واجب ہے:

زکوٰۃ چار قسم کے مال پر واجب ہے جو مندرجہ ذیل ہیں:

1. زمین کی پیداوار خواہ غلہ ہو یا پھل۔

2. باہر چرنے والے چوپائے۔

3. سونا اور چاندی۔

4. سامانِ تجارت۔

ان چاروں میں سے ہر ایک کا علیحدہ علیحدہ نصاب مقرر ہے۔ اگر مالِ نصاب سے کم ہو تو اس میں زکوٰۃ واجب نہیں۔ اناج اور پھلوں کا نصاب پانچ دسق ہے۔ نبی ﷺ کے عہد مبارک کے صاع کے حساب سے ایک دسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔ کھجور، منقہ، گندم، چاول اور جَو وغیرہ میں حضرت رسالت مآب ﷺ کے زمانہ کے تین سو صاع میں زکوٰۃ واجب ہوتی تھی۔

ایک صاع کی مقدار ایک متوسط آدمی کے چار ہاتھ جب کہ دونوں ہاتھ بھر کر اناج کا حساب لگایا جائے (ہمارے ملک پاکستان کے حساب سے پانچ دسق تقریباً ۲۰ من ہوتا ہے) رہا معاملہ اونٹ گائے اور بکری کے نصاب کا تو اس کی تفصیل کے لئے حدیث کی طرف رجوع کیجئے۔ مال زکوٰۃ کے مصارف اہلِ علم سے دریافت کر لیجئے۔ یہاں پر اختصار پیش نظر ہے ورنہ ضرور بیان کرتا۔

سیم و زر کا نصاب:

رہا سونے چاندی کے نصاب کا معاملہ تو اس کی تفصیل یوں ہے چاندی کا نصاب دو سو درہم ہے۔ سعودی عرب کے سکے کے لحاظ سے ۵۶ ریال پر زکوٰۃ واجب ہو گی (لیکن پاکستانی سکے کے حساب سے ساڑھے باون تولے چاندی کی مروجہ قیمت پر زکوٰۃ واجب ہو گی۔ اگر اس سے کم ہو تو زکوٰۃ معاف ہے۔)

سونے کا نصاب ۲۰ مثقال ہے۔ اس کی مقدار سعودی گنی کے لحاظ سے ۷/۳ ۱ اگنیاں ہے۔ اس میں ہ۔ اس میں چالیسواں حصہ مقرر ہے لیکن یہ اس آدمی پر ہے جو ان دونوں میں سے ایک یا دونوں مل کر نصاب کی حد تک پہنچ جائیں اور ساتھ ہی یہ بھی شرط ہے کہ مال مذکور ایک سال تک اس کے پاس پڑا رہے۔ پھر اسی مال سے جو منافع ہو گا وہ اصل کے تابع ہو گا۔ اس کے لئے سال گزرنے کی شرط نہیں۔ جس طرح باہر چرنے والے مویشیوں کے بچے زکوٰۃ کے معاملہ میں اصل کے ساتھ ملحق ہوں گے۔ ان کے لئے علیحدہ سال گزرنے کی شرط نہیں جبکہ اصل مال زکوٰۃ کی حد تک پہنچ چکا ہو۔

سونا چاندی اور نوٹ جن سے لوگ لین دین کرتے ہیں ان سب کا ایک ہی حکم ہے۔ خواہ اسے دینار کہیں یا درہم سے موسوم کریں یا ڈالر وغیرہ کے لفظ سے تعبیر کریں۔ ہاں البتہ ان کی قیمت سونا چاندی کے نصاب تک پہنچنا ضروری ہے اور ایک سال گزرنے کی بھی شرط ہے۔

سونا چاندی کے زیورات کا حکم:

عورتوں کے زیورات جو سونا چاندی کے بنے ہوں ان کا حکم نقدی کا ہے بشرطیکہ نصاب کی حد تک پہنچ جائیں اور ان پر ایک سال کا مِل گزر جائے تو ایسی صورت میں ان میں زکوٰۃ واجب ہو گی خواہ اپنے ذاتی استعمال کے لئے بنائے ہوں یا کسی کو عاریۃً دینے کی غرض سے تیار کیے گئے ہوں۔ ایسی صورت میں علماء کا راجح مذہب یہی ہے کہ ان میں زکوٰۃ واجب ہو گی کیونکہ حضور اکرم ﷺ کے فرمان میں عموم ہے۔ آپ کا فرمان اوپر مذکور ہو چکا ہے۔

اس کے علاوہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام والتسلیمات سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے ایک عورت کے ہاتھ میں سونے کے کنگن دیکھے تو اس سے دریافت کیا۔

«اَتُعْطِیْنَ زَکوٰةَ ھٰذَا۔ قَالَتْ لَا۔ قَالَ اَیَسُرُّکِ اَنْ یُسُوِّرَکِ اللّٰه بِھِمَا یَوْمَ الْقِیَامَةِ سَوَارَیْنِ مِنْ نَارٍ۔ فَاَلْقَطَھُمَا وَقَالَتْ ھُمَا لِلّٰه ولِرَسُوْلِهٖ» (ابو داؤد، نسائی)

''کیا تو اس کی زکوٰۃ دیتی ہے؟'' اس نے جواب دیا نہیں۔ پھر آپ نے اس سے دریافت کیا کیا تجھے یہ بات پسند ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ تجھے ان کے بدلے دو آگ کے کنگن پہنائے۔ یہ سن کر اس نے دونوں کنگن اتار کر پھینک دیئے اور کہا ان پر میرا کوئی حق نہیں۔ یہ اللہ اور اس کے رسول کے ہو چکے ہیں۔

حضرت ام سلمہؓ سے مروی ہے کہ وہ سونے کا ہار پہنا کرتی تھیں۔ ایک دن آپ ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ کیا یہ کنز ہے۔ آپ نے جواباً ارشاد فرمایا جو مال زکوٰۃ کے نصاب تک پہنچ جائے پھر اس کی زکوٰۃ ادا کی جائے تو اس پر کنز کا اطلاق نہیں ہوتا۔ (مشکوٰۃ جلد اول ص ۱۶۰)

اس مفہوم کی اور بھی احادیث مذکور ہیں۔

مالِ تجارت کا حکم:

اب رہا معاملہ عروض کا تو اس سے مراد ہر وہ سامان ہے جو تجارت کی غرض سے خریدا جائے۔ اس کے متعلق یہ حکم ہے کہ اس کی قیمت کا حساب لگا کر چالیسواں حصہ نکالا جائے خواہ موجودہ وقت اس کی قیمت کے برابر ہو یا کم و بیش ہو (یعنی زکوٰۃ موجودہ مالیت پر لگے گی کیونکہ اس سلسلے میں حدیث مذکور ہے۔

«کَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ یَاْمُرُنَا اَنْ نَّخْرُجَ الصَّدَقَةَ مِنَ الَّذِیْ نُعدُّهٗ لِلْبَیْعِ» (ابو داؤد)

''یعنی آپ کا حکم تھا کہ جو سامان ہم نے تجارت کی غرض سے رکھا ہوا ہے اس سے زکوٰۃ ادا کریں۔''

ایسی زمین، مکان، موٹر کاریں اور پانی کی بلند ٹینکیاں جو تجارت کی غرض سے ہوں سبھی پر اس حکم کا اطلاق ہوتا ہے۔

لیکن ایسی عمارتیں جو کرایہ پر دینے کی غرض سے تعمیر کی جائیں اور ان سے تجارت مقصود نہ ہو تو ایسی صورت میں کرایہ میں زکوٰۃ ہو گی جبکہ اس پر ایک سال گزر جائے۔ اسی طرح پرائیویٹ موٹریں اور ٹیکسیاں زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہوں گی کیونکہ وہ تجارتی نقطۂ نگاہ سے نہیں خریدی گئیں بلکہ اپنے ذاتی استعمال کے لئے خریدی گئی ہیں۔ ہاں البتہ موٹر والے کی اجرت یا کرایہ جب حد نصاب تک پہنچ جائے تو کرایہ میں زکوٰۃ واجب ہو گی جب کہ اس پر ایک سال گزر جائے۔ خواہ اس نے یہ روپیہ اپنے نان نفقہ یا شادی کی غرض سے رکھا ہو۔ یا زمین خریدنے یا کسی کا قرض ادا کرنے کی غرض سے روپیہ اکٹھا کیا ہو کیونکہ شرعی دلائل میں عمومیت پائی جاتی ہے جو اس بات کی متقاضی ہے کہ مذکورہ بالا صورتوں میں زکوٰۃ واجب ہو گی اور قرض سے زکوٰۃ ساقط نہیں ہوتی۔

اسی طرح یتیموں اور پاگلوں کے مال سے زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے بشرطیکہ نصاب کی حد تک پہنچ جائے اور ایک سال گزر جائے۔ جمہور کا یہی مذہب ہے۔ یہ کام ان کے سرپرستوں کے ذمہ ہو گا۔ جب زکوٰۃ ادا کریں تو ان کی نیت کریں اور سال کے اختتام پر ان کے مال پر زکوٰۃ واجب ہو گی کیونکہ دلائل میں عمومیت پائی جاتی ہے جیسا کہ حضور اکرم ﷺ نے حضرت معاذ کو یمن کی جانب بھیجتے وقت فرمایا تھا۔

«اِنَّ اللّٰهَ قَدْ فَرَضَ عَلَیْھِمْ صَدَقَةً فِیْ اَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ اَغْنِیَائِھِمْ وَتُرَدُّ اِلٰی فُقَرَآءِھِمْ» (مشکوٰۃ ص ۱۵۵)

''اللہ تعالیٰ نے ان کے مال میں زکوٰۃ واجب ٹھہرائی ہے جو سرمایہ داروں سے لے کر ان کے ناداروں اور فقراء میں تقسیم کی جائے۔''

آدابِ زکوٰۃ:

زکوٰۃ اللہ کا حق ہے کسی غیر مستحق کو دینا جائز نہیں۔ اس سے کوئی ذاتی مفاد حاصل نہ کرے۔ کسی کی تکلیف سے بچاؤ کی خاطر بھی اسے نہ دے اور اپنے مال کی حفاظت اور مذمت سے ڈرتے ہوئے کسی غیر مستحق کو نہ دے بلکہ مسلمان کو چاہئے کہ زکوٰۃ مستحقین میں تقسیم کرے۔ اس لئے کہ وہ اس کے حقدار ہیں۔ ان سے کوئی ذاتی غرض وابستہ ہرگز نہ ہو۔ جب زکوٰۃ ادا کرے تو دل میں تنگی اور بخل محسوس نہ کرے بلکہ خوشی خوشی ادا کرے اور اس سے صرف اللہ کی رضا جوئی مقصود ہو تاکہ اس کا فرض ادا ہو جائے اور اجر عظیم کا مستحق ہو۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب میں فرمایا ہے۔

مصارفِ زکوٰۃ:

﴿إِنَّمَا الصَّدَقـٰتُ لِلفُقَر‌اءِ وَالمَسـٰكينِ وَالعـٰمِلينَ عَلَيها وَالمُؤَلَّفَةِ قُلوبُهُم وَفِى الرِّ‌قابِ وَالغـٰرِ‌مينَ وَفى سَبيلِ اللَّهِ وَابنِ السَّبيلِ ۖ فَر‌يضَةً مِنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ حَكيمٌ ﴿٦٠﴾... سورة التوبة

زکوٰۃ تو صرف ان لوگوں کا حق ہے جو فقیر ہوں، مسکین ہوں، زکوٰۃ کی وصولی پر مامور ہوں، نو مسلم ہوں جن کی تالیفِ قلوب مقصود ہو، بے گناہ قیدی جن کی رہائی مقصود ہو، مقروض ہوں یا مسافر ہوں۔ مزید براں اللہ کے راستہ میں خرچکرنا زکوٰۃ کا مصرف ہے۔ اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

اس آیت کریم کو ان دو ناموں پر ختم کرنے میں بندوں کو تنبیہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کے حالات سے خوب با خبر ہے۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ زکوٰۃ کا کون مستحق ہے اور کون غیر مستحق ہے۔ وہ اپنی شریعت میں حکمت والا ہے۔ وہ ہر چیز کو اس کے مناسب اور موزوں مقام پر رکھتا ہے اگرچہ لوگ اس کے فلسفہ کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اس لئے بندوں کو چاہئے کہ اس کی شریعت پر اطمینان کا اظہار کریں اور اس کا حکم بلا چون و چرا تسلیم کریں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو اپنے دین کو سمجھنے کی توفیق بخشے اور معاملات میں صداقت پر قائم رکھے اور جو کام اس کی رضا اور خوشنودی کا باعث ہوں ان میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی توفیق عنایت کرے اور ناراضگی کے اسباب سے بچائے۔ وہ دعا سننے اور قبول کرنے والا ہے۔

وصلی اللّٰه علٰی عبده ورسوله محمد واٰله وصحبه۔

(الف) غوث قطب ابدال

ایک فرضی چیز جو ہندو پاکستان میں عام ہو گئی

جس مدرسہ کو دیکھو مدرسہ غوثیہ، جس مسجد کو دیکھو مسجد غوثیہ لکھا ہوتا ہے۔

محدثین کی تحقیق:

احادیث اقطاب اغواث ابدال کلھا باطلٌ۔

1. المنار المنیف فی الصحیح والضعیف لابن قیم ص ۱

2. موضوعات کبیر للملا علی قاری ص

3. اسی المطالب فی احادیث مختلفۃ المراتب ص لابن درویش بیرونی

ابن قیمؒ، ملّا علی قاریؒ اور بیرونیؒ کہتے ہیں کہ قطب، غوث، بدل والی جملہ احادیث محدّثین کے نزدیک باطل ہیں!''

سیوطی جیسے حاطب اللیل اور کھوجی کو صرف ایک اثر ملا ہے۔ جس کی سند صرف کنانی تک جا کر ختم ہو جاتی ہے جو تیسری صدی کا آدمی ہے:۔

«سیدنا علی بن عبد اللّٰہ بن جھضم الھمدانی بمکة حدثنا عبید اللّٰه بن محمد العبسی قال سمعت الکنانی یقول النُقباءُ ثلاث مائة والنُجباء سُبعون والبدلا اربعون والاخیار سبعة والعمد اربعة والغوث واحد فمسکن النقباء المغرب ومسکن النجیاء مصرو مسکن الابدال الشام والاخیار سیاحون فی الارض والعمد فی زوایا الارض ومسکن غوث فی مکة فاذا عرضت الحاجة من امر العامة ابتھل فیھا النقباء ثم النجبا ثم الابدال ثم الاخیار ثم العمد فان اجیبوا و الا ابتھل الغوث فلا تتم ساعة حتی تجاب دعوته» (تاریخ دمشق لابن عساکر جلد اول ص ۲۸۷-۲۸۸)

یعنی جب تم کو امورِ عامہ میں کوئی مشکل در پیش ہو پہلے نقیب کے پاس جاؤ اس کے بعد بدل کے پاس پھر اخیار کے پاس پھر عمد کے پاس جاؤ اگر وہاں بھی کام نہ بنے تو غوث کے پاس جاؤ اور غوث مکہ میں ہوتا ہے بس یہی ایک اثر ہے جس سے ہندو پاکستان کے لوگوں نے شیخ عبد القادر جیلانیؒ کو غوث الاعظم بنا رکھا ہے۔ ایک بات بڑے مزے کی اس روایت میں یہ ہے کہ غوث مکہ میں ہوتا ہے پھر بغداد میں تو غوث نہ ہوا۔ کیونکہ عراق فتنہ کی جگہ آنحضرت ﷺ نے بتلائی ہے۔ مزید برآں اس روایت میں ایک راوی علی بن عبد اللہ بن جہضم کے متعلق اسماء الرجال والے کیا کہتے ہیں یہ بھی سنیے۔

علی بن عبد اللّٰه بن جھضم الزاھد ابو الحسن شیخ الصوفیة بحرم مکه مصنف کتاب بھجة الاسرار متھم بوضع الحدیث قال ابن خیرون تکلم فیه قال وقیل انه یکذب وقال غیره اتھموه بوضع صلاة الرغائب (میزان الاعتدال جلد ۳ صفحہ ۴۲ او لسان المیزان جلد ۴ ص ۲۳۸)

ترجمہ:

علی بن عبد اللہ بن جہضم الزاہد ابو الحسن حرم مکہ میں صوفیاء کا شیخ کتاب بہجۃ الاسرار کا مصنف احادیث وضع کرنے میں متہم ہے۔ ابن خیرون کہتے ہیں متکلم فیہ ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ جھوٹ بیان کرتا ہے۔ دیگروں کے نزدیک اس پر صلوٰۃ الرغائب کی حدیث وضع کرنے کا الزام ہے۔

(ب) شیخ عبد القادر جیلانی کے نام کی گیارھویں جس میں یا شیخ عبد القادر جیلانی شیئاً للہ کے وظائف اور ان کی امداد کی درخواستیں ہوں۔ قبل ازیں ہم نے ثابت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو غوث نہیں بنایا۔

علامہ ابن جوزیؒ جوان کے زمانہ ہی میں بغداد میں ہوئے انہوں نے اپنی کتاب المنتظم فی تاریخ الامم میں شیخ جیلانی کا ذکر کیا ہے لیکن ان کی کسی کرامت کا ذکر نہیں کیا۔

نیز النجوم الظاہرہ فی ملوک مصر والقاہرہ لابن تغری بدوی حنفی المتوفی ۷۷۴؁ھ جلد ۶ ص ۱۴۲ اور الذبل علی الروضتین ص ۱۲ میں ابو شامہ دمشقی نے اور شذرات الذہب جلد ۴ ص ۳۱۳، ۳۲۴ میں ابنِ عماد الحنبلی نے ذکر کیا ہے کہ وزیر ابو المظفر جلال الدین عبید اللہ بن یونس نے ان کی قبر اکھیڑ دی تھی۔ اور نعش کی ہڈیاں دریائے درجلہ میں پھینک دی تھیں۔ تو جو شخص اپنی نعش کی حفاظت نہ کر سکا وہ دوسروں کی کیا حفاظت کرے گا؟

یار لوگوں نے ایک کتاب لکھ دی جس میں ثابت کیا گیا ہے کہ شیخ عبد القادر جیلانی کا درجہ نبیوں اور صحابہ سے افضل ہے اور یہ کہ اللہ نے کوئی نبی یا ولی ایسا پیدا نہیں کیا جو کہ شیخ عبد القادر جیلانی کی قبر پر حاضری نہ دیتا ہو۔ (تحقیق الأولیاء في شأن سلطان الأصفیاء)

نذر نیاز غیر اللہ کے متعلق فقہ حنفی کا فیصلہ۔ واعلم أن النذر الذي یقع للأموات من أکثر العوام وما یؤخذ من الداراھم والشمع والزیت إلی ضوائح الأولیاء الکرام تقربًا إلیھم فھو بالإجماع باطل حرام۔

جان لیجیے کہ اکثر لوگوں کی طرف سے مردوں کو جو نذر و نیاز پیش کی جاتی ہے۔ نیز تقرب کے پیش نظر اولیائے کرام کی قبروں پر جو نقدی، چراغ یا تیل وغیرہ وصول کیا جاتا ہے یہ بالاجماع باطل اور حرام ہے۔

1. در مختار فقہ حنفی ص ۹۶ طبع نولکشور لکھنؤ۔

2. فتاویٰ شامی جلد ۲ صفحہ ۴۳۹ طبع مصر۔

3. طحطاوی علیٰ در مختار جلد اول ص ۷۵۵ مطبوعہ کلکتہ۔

اور طحطاوی علیٰ در مختار جلد ثانی ص ۴۹۲ طبع مصر میں ہے۔ ؎

من قال شیٌٔ للّٰه بعض یکفر + ویخشٰی علیه الکفر بعض یقرر

نیز غایۃ الاوطار شرح در مختار جلد ۲ ص ۵۲۱ میں بھی ایسا ہی آیا ہے۔

نیز علامہ عبد الحی فرنگی محلی نے بھی مجموعہ فتاویٰ جلد اول ص ۲۶۴ میں اسی طرح لکھا ہے۔

نیز ارشاد الطالبین ص ۲۰ قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے بھی ایسا ہی لکھا ہے۔

بلاغ المبین شاہ ولی اللہ ص ۶۳ و تفہیمات الٰہیہ جلد ۲ ص ۴۵

نیز کتاب الزہد ص ۱۸ وحلیۃ الاولیاء لابی نعیم اصبہانی میں ہے کہ ایک مکھی کے چڑھاوے کی وجہ سے ایک آدمی جہنم میں چلا گیا تھا۔

ملا علی قاری نے موضوعات کبیر میں لکھا ہے۔

وعن مفتریات الشیعة المشتعة ناد علیاً مظھر العجاب والغرائب۔

اور جو شیعوں نے بدترین افتراء کیا ہے اس میں سے ایک یہ بھی ہے کہ عجائب و غرائب کا اظہار کرنے والے علی کو پکارنے کا وظیفہ کرو۔

مولانا احمد رضا خاں بریلوی نے اس وظیفہ کی، ہر مشکل حل کرنے کے لئے، بڑی تعریف کی ہے مگر ملّا علی قاری اسے افتراء کہتے ہیں۔

شاہ عبد العزیز فتاویٰ عزیزی جلد اول ص ۸۹ میں لکھتے ہیں۔

استمداد از اموات خواہ نزدیک قبور باشد یا غائبانہ بے شبہ بدعت است در زمان صحابہ و تابعین نہ بود (فتاویٰ عزیزیہ جلد ۱ ص ۸۹)

نیز فقہ حنفی فتح القدیر شرح ہدایہ جلد ۴ ص ۱۰۰ و شرح عنایہ علی الہدایہ ج ۴ صفحہ ۱۰۱ و شامی وغیرہ باب الیمین فی الغرب والقتل وغیرہ باب دیکھو صاف مردوں کے سننے کا انکار ہے۔

من قال أرواح المشائخ حاضرة تعلم یکفر ومن ظن أن المیت ینصرف في الأمور دون اللّٰه واعقتد بذلك یکفر (بحر الرائق جلد ۵ ص ۲۹۸ وشامی جلد ۳ ص ۱۷۵ وفتاویٰ بزازیہ ج ۲ ص ۳۲۶ ومجمع البحار جلد ۲ ص ۷۳ تالیف علامہ طاہر فتنی)

جو شخص یہ کہے کہ مشائخ کی روحیں حاضر ہوتی ہیں اس نے کفر کی بات کہی ہے اور جو شخص یہ گمان کرے کہ اللہ کے سوال کوئی میت امور میں متصرف ہے اور وہ اس کا عقیدہ بھی رکھے تو وہ کافر ہے۔
نوٹ

یہ الفاظ مجھے نہیں ملے۔ البتہ ترغیب جلد ۲ ص ۵۰ پر یہ الفاظ ہیں۔ أنفق ینفق اللّٰه عَلَیْکَ (مترجم)

لیکن مجھے اس میں تردد ہے کیونکہ اگر سونا چاندی دونوں کو ملا کر نصاب کی حد تک پہنچنے پر زکوٰۃ واجب ہوتی تو حضور اکرم ﷺ سونا اور چاندی کا علیحدہ علیحدہ نصاب مقرر نہ فرماتے۔ (مترجم)