ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • جولائی
1978
ادارہ
ضمیر سینہ کے اندر اس پوشیدہ قوت، احساسات کی بے چین روشنی اور    مخفی آواز کا نام ہے جو انسان کے اندر ایک جج اور کانشس کے طور پر کام کرتی رہتی ہے۔ اگر دوسرے عوارض کی وجہ سے یہ نورانی ملکہ دھندلانے نہ پائے تو ایک نابینا انسان بھی اس کی روشنی میں اپنا سفرِ حیات جاری رکھ سکتا ہے۔ اور اس کی خلش، انسان کو سدا چونکا کر رکھنے کے لئے کافی ہو سکتی ہے، بشرطیکہ یہ بیداغ رہے۔
  • جولائی
1978
عبدالرحمن عاجز
میرے آقا ہے یہ حال آپ کے شیدائی کا مل گیا اس کو لقب دہر میں سودائی کا
تیری قدرت کے کمالات کا دیتا ہے پتہ رنگ یہ، حسن یہ ہر لالہ صحرائی کا
زخمِ الفت ہی میں بیمار کو حاصل ہے سکوں معجزہ ہے یہ فقط ان کی مسیحائی کا
  • جولائی
1978
عزیز زبیدی
اس دن وہ جھگڑیں گے:

ایک دوسرے کو وہ وہاں ملزم ٹھہرائیں گے اور کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم گمراہ نہ ہوتے۔

﴿ثُمَّ إِنَّكُم يَومَ القِيـٰمَةِ عِندَ رَ‌بِّكُم تَختَصِمونَ ﴿٣١﴾... سورة الزمر"﴿يَر‌جِعُ بَعضُهُم إِلىٰ بَعضٍ القَولَ يَقولُ الَّذينَ استُضعِفوا لِلَّذينَ استَكبَر‌وا لَولا أَنتُم لَكُنّا مُؤمِنينَ ﴿٣١﴾... سورة سبا
  • جولائی
1978
عبدالعزیز بن باز
مضمون ہذا سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز، حفظہ اللہ کے ایک گراں قدر مقالہ بحوث ھامۃ حول الذکوٰۃ کا ترجمہ ہے۔ یہ ریاض سے شائع ہونے والے ایک ہفت روزہ مجلہ ''الدعوۃ'' سے ماخوذ ہے۔

یہ مقالہ اگرچہ مختصر ہے اور مقلدوں کی طرح اس کی تمام جزئیات سے اتفاق کرنے میں ہمیں کچھ تردد ہے تاہم اپنے موضوع پر نہایت گراں قدر مقالہ ہے۔
  • جولائی
1978
برق التوحیدی
اقول: اس بات کی سطحیت پر کچھ کہے بغیر ہم قاضی صاحب کے دلائل کا تجزیہ کرتے ہیں۔ آپ نے پہلے ابو امیہ مخزومی کی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے امام ابو حنیفہؒ کے قول کی ناجائز تائید کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ حالانکہ اس حدیث میں کوئی لفظ تک ایسا نہیں جس سے یہ معلوم ہو کہ قاضی کو رجوع عن الاقرار کے متعلق تلقین کرنی چاہئے بلکہ علامہ خطابی تو اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں:
  • جولائی
1978
منظور احسن عباسی
تابندہ جس کی ضو سے ہے ایوانِ شش جہات  ''وہ کائنات حسن ہے یا حسنِ کائنات''
وہ جس کا لفظ لفظ حقیقت کا ترجمان وہ جس کی بات بات میں شیرینیٔ نبات
اقوال جس ک شرح کتابٔ مبین اور افعال جس کے معنیٔ آیاتِ بیّنات