زید ایک پیدائشی مجنونہ لڑکی سے اس کے والدین کی اجازت سے نکاح کر لیتا ہے نکاح کے بعد بھی لڑکی کی حالت بدستور پہلے جیسی ہے۔ زید امامت کے فرائض بھی سر انجام دے رہا ہے۔

مقتدی معترض ہیں کہ امام کی بیوی مجنونہ ہے اور وہ ایسی حرکات کرتی ہے جو شرم و حیا سے خالی ہیں بلکہ مقتدی متنفر ہیں۔ کیا ان حالات میں زید کا نکاح جائز ہے؟

نیز زید شرعاً امامت پر فائز رہ سکتا ہے۔
مستفتی سید الطاف حسین شاہ

الجواب

جب مجنونہ لڑکی کے والد نے نکاح کر دیا ہے تو نکاح تو بہرحال ہو گیا، گو نیک انسان کو بدکار سے نکاح نہیں کرنا چاہئے۔ لیکن مجنونہ کو بدکار کہنا ہی بے جا ہے کیونکہ وہ مکلف ہی نہیں ہے۔

«رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلٰثَة عَنِ الْمَجْنُوْنِ الْمَغْلُوْبِ عَلٰی عَقْلِهٖ حَتّٰی یَبْرَأَ الحدیث» (احمد، ابو داؤد عن علی و عمر)

ویسے بھی نکاح سے پہلے یا بعد میں جو زنا سر زد ہو جاتا ہے، اس سے نکاح پر اثر نہیں پڑتا۔

«لَا یُحَرِّمُ الْحَرَامُ الْحَلَالَ »(ابن ماجه عن ابن عمر و بیھقی عن عائشة)

بعض ناگزیر مجبوریوں کی وجہ سے بسا اوقات یہ کڑے گھونٹ برداشت کرنے پڑ جاتے ہیں۔

«جَاءَ رَجُلٌ إِلٰی رَسُوْلِ الله ﷺ فَقَالَ إِنَّ عِنْدِي امْرَاَة ھِي أِحَبُّ النَّاسِ إِلَیَّ وَھِیَ لَا تَمْنَعُ یَدَ لَامِسٍ قَالَ طَلِّقْھَا قَالَ لَا أَصْبِرُ عَنْھَا قَالَ اسْتَمْتَعِ بِھَا »(رواه ابو داؤد والنسائی)

اس کے باوجود جو شخص اس حد تک دیکھ کر قناعت کر لیتا ہے، وہ قابلِ ذکر شخص نہیں ہو سکتا، اسلامی زبان میں اس کو ''دیّوث'' کہا جاتا ہے، اس کے بار میں حجور کا ارشاد ہے کہ: ایسے شخص جنت میں نہیں جا سکیں گے۔

«ثَلٰثَة لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّة اَلْعَاقُّ لِوَالِدَیْه وَالدَّیُوْثُ وَالرَّجلَة »(رواه النسائی والبزار قال المنذری واللفظ لهباسنادین جیدین)

کیونکہ اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے۔

«ثَلٰثَة حَرَّمَ اللّٰه تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَلَیْھِمُ الْجَنَّة مُدٌّ مِنُ الْخَمْرِ وَالْعَاقُّ وَالدَّیُوْثُ الَّذِي یَقْراُ الخَبَثَ فِي اَھْلِهٖ» (احمد)

باقی رہی ایسے کی امامت؟ سو اگر اس کے نمازی اس سے مطمئن نہیں ہیں تو اس کو خود بخود الگ ہو جانا چاہئے کیونکہ اس کی اپنی نماز قبول نہیں ہوتی، دوسروں کی کیا ہو گی؟

«ثَلٰثة لَا تُرْفَعُ صَلَاتُھُمْ فَوْقَ رَؤُسَھُمْ شِبْرًا رَجَلٌ أَمَّ قَوْمًا وَھُمْ لَه کَارِھُوْنَ »(ابن ماجه عن ابن عباس واللفظ والترمذی عن ابی امامة)

خاص کر جو طبقہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مقلد ہے، اس کے لئے اندیشہ ہے کہ ان کی نماز ہی ضائع ہو جائے، کیونکہ ان کے نزدیک مقتدیوں کی نماز امام کی نماز پر ''مرتب'' ہوتی ہے، امام کی صحیح رہی تو ان کی بھی صحیح رہی۔ ورنہ نہیں۔

«لِأَنَّ صَلٰوتَھُمْ مُرْتَبِطَة بِصَلٰوة إِمَامِھِمْ فَإِذَا لَمْ تَکُنْ لَه صَلٰوة لَمْ تَکُنْ لَھُمْ »(تمھید لابن عبد البر جلد اول)

گو ان امور کا تعلق بظاہر فقہی ابواب سے ہے تاہم ان معنوی امکانات سے بالکلیہ صرفِ نظر بھی ممکن نہیں ہے۔

امامت، ایک عظیم قیادت ہے، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نظریہ ہے کہ جو امامتِ نماز کا اہل ہے وہی ہماری سیاسی قیادت کا بھی حق دار ہے۔ چنانچہ حضرت ابو بکرؓ کی امامت نماز سے ان کی سیاسی قیادت کے ثبوت کے لئے انہوں نے فرمایا تھا۔

«کان خلیفة رسول اللّٰہ ﷺ علی الصلٰوة، رَضِیَه لِأبْنِنَا فَرضِیْنَاه لِدُنْیَانا» (فضائل ابو بکر الصدیق للعشاری)

اس لئے اگر ایسے غیر محتاط نماز کی امامت پر فائز رہیں تو عوام کے دلوں سے نماز کا احترام بھی جاتا رہے گا۔ یہ بھی ایک قسم کی دکانداری ہو کر رہ جائے گی۔ اس لئے بہتر ہے کہ وہ شایانِ شان اصلاحِ حال کر لیں یا خود علیحدہ ہو جائیں ورنہ کسی تخریب اور تفریق کے بغیر ان کو اس سے علیحدہ کر دیا جائے۔ اگر اس سے تفریق بین المسلمین کا اندیشہ ہو تو پھر نمازی کسی دوسری مسجد میں دوسرے امام کے پیچھے جا کر نماز ادا کیا کریں۔ جہاں ایسی صورتِ حال کا سامنا نہ ہو، کیونکہ ضروری ہے کہ امام نیک شہرت کا حامل ہونا چاہئے۔

«قال رسول اللّٰه ﷺ اِجْعَلُوْا أئِمتَّکُمْ خِیَارَکُمْ فَاِنَّھُمْ وَقَدٌ فِیْمَا بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ رَبِّکُمْ عَزَّوَجَلَّ »(رواه الدارمی عن ابن عمر)

مغالطہ:

قرونِ اُولیٰ میں دستور یہ رہا ہے کہ جو سیاسی قائد ہوتا وہی امام نماز بھی ہوتا تھا، گویا کہ جو سیاسی سربراہ تھا وہ اپنے علم، تقویٰ اور طہارتِ نفس کی بنا پر امامتِ نماز کا اہل بھی ہوتا تھا اور جو امام نماز ہوتا تھا وہ صرف دو رکعت کا امام نہیں ہوتا تھا بلکہ امامت کبریٰ یعنی ملتِ اسلامیہ کی سربراہی اور قیادت کے لئے بھی وہ موزوں سمجھا جاتا تھا مگر کچھ عرصہ بعد یہ جامعیت نہ رہی۔ جو سیاسی حکام یا حکمران تھے، سیاسی فروگزاشتوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے ''سلطانِ جائر'' (ظالم یا خود سر حکمران) ہو کر رہ گئے تھے مگر کیریکٹر کے اعتبار سے ابھی ان کو بازاری کہنا مشکل تھا۔ چونکہ وہ جابر بھی تھے، اس لئے ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا بائیکاٹ کرنا جان جوکھوں میں ڈالنے والی بات بن گئی تھی، یہ صورتِ حال دیکھ کر یہ فتویٰ دیا گیا کہ آپ ان کے پیچھے نماز پڑھ لیا کریں۔ ان کی کمزوریاں ان کے ساتھ، آپ کی نماز آپ کے ساتھ۔ لیکن بعد میں جب ان کے سیاسی فسق کے علاوہ اخلاقی فسق و فجور نے بھی بال و پر نکال لیے تو فقہاء نے الاقی فسق و فجور کے مرتکب کو بھی ''سیاسی فسق'' پر قیاس کر لیا اور فتویٰ دے دیا کہ ان کے پیچھے بھی نماز پڑھ لیا کریں۔ گو علماء کے ایک دیدہ ور طبقہ نے اس سے اختلاف کیا تاہم غلبہ مجوزین کا رہا۔

صحابہ کے دور میں عجمی تابعیوں کے اختلاط کی وجہ سے کچھ فکری بے اعتدالیوں اور عجمی تُک بندیوں نے بھی راہ پالی تھی جن کو خالص علمی مغالطوں سے تعبیر کیا جا سکتا تھا۔ اس لئے مسلمان ان اہلِ بدعت کے پیچھے بھی نماز پڑھتے رہے، مگر بعد میں جب فکری گمراہیوں، الحاد اور زندقہ نے اپنے پاؤں پھیلائے تو اہلِ علم بزرگوں کے ایک خاص طبقہ نے ان کو بھی پہلے اہلِ بدعت پر قیاس کر کے ان کو بھی امامتِ نماز کے لئے گوارا کر لیا۔

ان دونوں (عملی فسق اور بے خدا لوگوں کی فکری گمراہیوں) کے باوجود ''امامت نماز'' کے لئے ان کو گوارا کرنے کا ایک مفسدہ یہ ظاہر ہوا کہ نماز کے بعد سیاسی امامت کے سلسلے میں بھی وہ احتیاط نہ رہی جو امامتِ نماز کے ساتھ ایک حد تک ملحوظ رہی۔ نماز میں ایک حد تک یہ گھپلا زیادہ پاؤں نہ پھیلا سکا۔ لیکن سیاسی امامت کا مقام ''رشد و ہدایت'' سے بالکل آزاد ہو گیا۔ چنانچہ اس پر اب تک ایسے ایسے لوگ فائز رہے ہیں جن کو سنگسار کیا جانا چاہئے تھا۔ وہ عموما بین الاقوامی شہرت کے بدکردار لوگ رہے ہیں لیکن ان کے اس پہلو پر اس لئے پردہ پڑا رہا کہ وہ برسرِ اقتدار تھے یا بدوں میں ان کی بدکرداری کی طرف انگلیاں نہ اُٹھ سکیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ اب یہ کانٹا بدل دینا چاہئے، نماز کی امامت کے لئے نیک شہرت کے حامل، بلند کردار وار دیدہ ور حضرات کو آگے لایا جائے تاکہ ان کے ذریعے اس خلا کو بھی پر کیا جا سکے جو سیاسی فضا میں سرایت کر گیا ہے اور جس نے آکر ہمارے اسلامی معاشرہ ملی مزاجاور اخلاقی اقدار کو حد درجہ غلط متاثر کیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ (۱) امامت نماز (۲) اور سیاسی امامت کو پھر باہم جوڑ کر ایک کر دیا جائے اور انہی مکارمِ حیات کے ساتھ جو کبھی ان کا طرہ امتیاز رہا ہے تو یقین کیجئے! وہ امت مسلمہ پر موجود اور مشہود ہو سکتی ہے جس کے احیاء کے لئے خاتم المرسلین کی بعثت ہوئی اور جس کو نوید حضرت خلیل اللہ سناتے رہے۔ واللہ أعلم!

نمازِ قصر کے لئے مسافت کا تعیّن

جنگل خیل (کوہاٹ) سے ایک شخص پوچھتے ہیں کہ:

ایک شخص ملازم ہے لیکن روزانہ اُسے نو میل دور جا کر واپس آنا ہوتا ہے کیا اسے وہاں قصر کرنا چاہئے یا پوری نماز پڑھنا چاہئے:

الجواب:

مسافت:

اس میں خاصا اختلاف ہے، اس کی وجہ نقلی دلیل سے زیادہ عرف کی بات ہے کہ: لوگ کتنی مسافت کو ''سفر'' تصوّر کرتے ہیں؟ جہاں تک نقلی دلیل کی بات ہے، اس سلسلے میں بعض روایات تو وہ ہیں جن میں سے سفر کی کم از کم حد اخذ کرنا مشکل ہے کیونکہ یہ کہنا کہ سفر میں فلاں فلاں جگہ آپ نے بھی قصر نماز پڑھی۔ شرعی حد سفر کی نشاندہی کے لئے کافی نہیں ہے۔ ہاں دو مرفوع روایات ایسی ہیں جن سے اس سلسلے میں مدد مل سکتی ہے۔ وہ یہ ہیں:

ابو سعید خدریؓ:

«کان رسول اللّٰه ﷺ اِذَا سَافَرَ فَرْسَخًا یَقْصُرْ الصَّلوٰة »(سعید بن منصور و ابن ابی شیبه)

''یعنی جب آپ تین میل کے سفر پر نکلتے تو قصر کرتے۔''

تھوڑے سے لفظی اختلاف کے ساتھ ہی روایت احمد بن منیع اور عبد بن حمید نے بھی روایت کی ہے، کچھ علماء نے لکھا ہے کہ سعید بن منصور والی روایت اگر صحیح ثابت ہو جائے تو کام بن جائے لیکن یہ ضعیف ہے کیونکہ اس روایت کی سند میں، ابو ہارون عمارۃ بن جوین ہے جو شیعہ متروک اور متہم بالکذب ہے۔ (میزان و تقریب)

قال البوصیری: مدار أسانیدھم علی أبي ھارون وھو ضعیف (الاتحاف)

حضرت انس:

«کان رسول اللّٰه ﷺ إِذَا خَرَجَ سِیْرَة ثَلٰثَة اَمْیَالٍ اَوْ ثَلثَة فَرَاسِخَ شعبة الشاکّ صلی رکعتین» (مسلم وغیره) یعنی تین یا نو میل کے سفر پر نکلتے تو دوگانہ پڑھتے۔

تین یا نو میل؟ حضرت شعبہ کو شک ہے، تاہم تین کے بجائے نو میل کم از کم اس کی حد تسلیم کر لی جائے تو تین بھی اسی میں آجاتے ہیں، اگر اس روایت کو نظر انداز کر دیا جائے یا اپنی صوابدید پر چھوڑ دیا جائے تو یہ ''چوں چوں کامربا یا چیستاں'' بن کر رہ جائے، کیونکہ امام ابن تیمیہؒ اور ابن القیم اور امام شوکانی وغیرہ کا جو ارشاد ہے، امام بخاریؒ کا میلان اس کے بالکل برعکس ہے، یہی حال صحابہ اور دوسرے ائمہ کا ہے۔ اس لئے قاطع نزاع حضور الصلوٰۃ والسلام کی حدیث ہے۔ اور صحیح مسلم کی مندرجہ بالا روایت سے بہتر اور کوئی روایت نہیں ہے۔

بعض بزرگوں کا یہ کہنا کہ یہ دراصل اثناء سفر کی بات ہے کہ گھر سے نکل کر جب تقریباً تین یا اس سے زیادہ فاصلہ پر پہنچتے اور نماز کا وقت آجاتا تو آپ قصر کر لیتے۔ دراصل یہ ایک تکلف ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس قسم کے اعتراضات کو رد کر دیا ہے۔ (فتح)

اتنا سفر کہ جا کر انسان ''اجنبیت'' محسوس کرنے لگ جائے تقریباً تقریباً نو میل اس کی حد ہو سکتی ہے۔ ۴۸ میل یا اس سے کم و بیش کی حد آثار صحابہ اور تابعین سے اخذ تو کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس پر صحابہ کا اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے ان کا عمل دوسرے کے لئے حجت نہیں رہتا۔ اس لئے اگر صحیح مسلم کی روایت پر قناعت کر لی جائے تو انسان کے لئے شرعی معذرت بن سکتی ہے۔ باقی رہے دوسرے سہارے؟ آپ کے لئے وجہ معذرت نہیں بن سکیں گے کیونکہ ہم نے ان کا کلمہ نہیں پڑھا۔