انسانی زندگی ایک عظیم صحرا، بھیانک جنگل اور مہلیب اندھیرا ہے، کچھ پتہ نہیں۔ اس میں کب بھونچال آجائے، کہاں حوادث کا کوئی کانٹا چبھ جائے یا اندھیرے میں راہ چلتے کہاں فتنوں کا کوئی مہلک گڑھا یا غار پیش آجائے۔ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ، ان حالات میں کیسے گزرے اور کیا بنے۔ گو اسی طرح انبساط اور خوشی کے امکانات بھی موجود ہوتے ہیں، تاہم جہاں داشیانوں کے ساتھ غموں کے کوس بھی بجتے ہوں وہاں خوشی بے اثر ہو کر رہ جاتی ہے۔ عیش و آرام کے سینکڑوں چمنستاں کھلے ہوں، جب کرب و ابتلا اور غم و اوندوہ کی آندھی کا ایک جھونکا آتا ہے تو خوشیوں کے ساتھ گل و لالہ مرجھا کر جھڑ جاتے ہیں۔ اس لئے زندگی کے اس راہی کے لئے مہیب لق و دق صحرا میں جو اندیشے پوشیدہ ہو سکتے ہیں، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔

ان حالات میں اگر کوئی مونس، یار غار اور درد مند حدی خواں رفیقِ سفر ہو جائے تو اندیشوں کے امکانات کے باوجود راہی کی ڈھارس بندھ جاتی ہے، حوصلہ بڑھ جاتا ہے اور امید کی کرن میں جلا اور آب و تاب پیدا ہو جاتی ہے۔ سفر آسان ہو جاتا ہے۔ خطرات اور اندیشے منزل کے شوق میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ وہ جوں جوں آگے بڑھتا ہے، اشتیاقِ منزل میں دل بلیوں اچھلنے لگتا ہے۔ یہ وہ نفسانی کیفیات اور اقدار ہوتی ہیں، جن کی وجہ سے زندگی کا یہ تاریک گھروندا بقعۂ نور بن جاتا ہے اور انسان کے لئے جینے کی تمنّا اور سکت اوٹ لینے لگ جاتی ہے۔ اس مرحلہ پر اگر ایک انسان ہوش سے کام لے تو یہ کشتیٔ حیات ساحلِ مراد سے ہم کنار ہو کر مسّرت اور خوشیوں کا گلستان لازوال اور سرمدی بن سکتا ہے۔

قرآن حکیم اسی ''تنگ و تاریک سفرِ حیات'' کے لئے نوع انسانی کو اپنا تعاون اور دوستانہ رفاقت کا ہدیہ پیش کرتا ہے اور صرف اتنی سی وضاحت کے ساتھ کہ: تم پہلے مجھ سے مناسبت پیدا کر لو، تاکہ اس سفر میں ہماری رفاقت، تمہارے لئے کسی اجنبی کی اتفاقی رفاقت نہ رہے۔ قرآن حکیم کا دعویٰ ہے کہ اگر آپ نے اس فطری اور اصولی پیش کش پر لبیک کہی تو آپ دیکھ لیں گے کہ: آپ کا یہ سفرِ حیات انتہائی پر سکون، بیداغ اور معراج بریں ثابت ہوگا۔ کائنات کی ہر شے آپ سے محبت کرتی ہے اور آپ کے تابع فرمان ہے۔

حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: اگر تم اللہ کی مدد کرو گے (تو) وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِن تَنصُرُ‌وا اللَّهَ يَنصُر‌كُم وَيُثَبِّت أَقدامَكُم ﴿٧﴾... سورة محمد

اللہ کی مدد کرنے کے معنی، اس کے دینِ اسلام کے غلبہ اور اشاعت کے لئے کوشش کرنے کے ہیں، کوشش کے معنی ''نعرہ بازی'' یا صرف دھواں دھار تقریریں نہیں ہیں، اصل مقصد یہ ہے کہ اسے عملاً برپا کرنے کے لئے منظم سعی و جہد، بساط بھر مثالی معاشرہ اور انفرادی اسوۂ حسنہ کا نمونہ پیش کیا جائے اور اسی راہ میں جتنی اور جیسی کچھ مشکلات پیش آئیں ہمت نہ ہاریں۔

اللہ اس شخص کی مدد کرتا ہے جو اپنا وزن واقعۃً دینی محاذ اور حزب اللہ کے پلڑے میں ڈالتا ہے:

﴿قَد كانَ لَكُم ءايَةٌ فى فِئَتَينِ التَقَتا ۖ فِئَةٌ تُقـٰتِلُ فى سَبيلِ اللَّهِ وَأُخر‌ىٰ كافِرَ‌ةٌ يَرَ‌ونَهُم مِثلَيهِم رَ‌أىَ العَينِ ۚ وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصرِ‌هِ مَن يَشاءُ...١٣﴾... سورة آل عمران

''(دین اسلام سے انکار کرنے والو) ان و (مخالفت گروہوں میں تمہارے (سمجھنے کے) لئے (خدا کی قدرت کی بڑی بھاری) نشانی (ظاہر) ہو چکی ہے جو (بدر کے مقام پر) ایک دوسرے سے گتھ گئے (ان میں سے) ایک گروہ تو (سچے مسلمانوں کا تھا ج) خدا کی راہ میں لڑتا تھا اور دوسرا (گروہ) منکروں کا تھا جن کو آنکھوں دیکھتے مسلمانوں کا گروہ اپنے سے دو چند دکھائی دے رہا تھا اور اللہ اپنی (خصوصی) مدد سے جس کی چاہتا ہے مدد فرماتا ہے۔''

خاص کر جن کو اسلام کے غلبہ اور شوکت کے لئے وسائل مہیا ہیں، ان کو حق تعالیٰ ضرور آزماتا ہے کہ کون ان کا حق ادا کرتا ہے:

﴿وَلِيَعلَمَ اللَّهُ مَن يَنصُرُ‌هُ وَرُ‌سُلَهُ بِالغَيبِ...٢٥﴾... سورة الحديد

''(ہم نے رسول، کتاب، انصاف اور لوہے جیسی چیزیں عنایت کیں تاکہ اللہ جان لے کہ بے دیکھے اس کی اور اس کے رسول کی کون مدد کرتا ہے۔''

یعنی اس کے پاس آسمان سے نازل کردہ آئین، اس کے شارح پیغمبر، عدل و انصاف کے وسائل پر دسترس، عسکری اور اقتصادی قوتوں پر کنٹرول جیسا اعزاز بھی ان کو حاصل ہو تو گو وہ بہت بڑی سعادت ہے تاہم آزمائش سے کم نہیں، وہ ان کو اسلام کے غلبہ کے لئے استعمال کر کے اپنے لئے رحمت بھی بنا سکتے ہیں اور اس کے حسین مستقبل پر بوجھ بن کر ان کو اپنے لئے وبال بھی بنا سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا آسمانی معیار اور ترازو ہے جس میں ہم گھر میں بیٹھ کر ہر فرد، جماعت اور قوم کو تول سکتے ہیں اور اس کے مطابق ایک مناسب لائحہ عمل مرتب کر سکتے ہیں۔ ما شاء اللّٰه لا قوة إلّا بالله۔

فرمایا: نصرتِ الٰہی اور فتح مبین ان کے لئے مزید خدا کا ایک عطیہ ہے جو ایمان رکھتے ہیں، راہِ حق میں اپنی جانوں اور مالوں سے جہاد کرتے ہیں۔

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا هَل أَدُلُّكُم عَلىٰ تِجـٰرَ‌ةٍ تُنجيكُم مِن عَذابٍ أَليمٍ ﴿١٠﴾ تُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَرَ‌سولِهِ وَتُجـٰهِدونَ فى سَبيلِ اللَّهِ بِأَمو‌ٰلِكُم وَأَنفُسِكُم...١١﴾... سورة الصف

''اے ایمان والو! تمہیں ایسا کاروبار نہ بتاؤں جو تمہیں درد ناک عذاب سے چھٹکارا دے (وہ یہی ہے کہ) تم اللہ، اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو۔

اس کے نتیجے میں ان کو جو فوز و فلاح اور حیاتِ طیبہ کی دولت نصیب ہوئی، سو ہوئی۔ فرمایا:

﴿وَأُخر‌ىٰ تُحِبّونَها ۖ نَصرٌ‌ مِنَ اللَّهِ وَفَتحٌ قَر‌يبٌ...١٣﴾... سورة الصف

''اور ایک اور (تحفہ بھی کہ) وہ تمہیں محبوب ہے (یعنی) اللہ کی طرف سے نصرت اور فتح قریب۔''

مالوں اور جانوں سے جہاد ایک یہ کہ، لڑائی کا وقت آجائے تو راہِ حق میں مال بھی لٹائے اور گردنیں کٹانا پڑیں تو دریغ نہ کریں۔ اس کی دوسری نوعیت یہ ہے کہ: نظام مالیات ہو یا جسم و جان کی کوئی بات، قرآن و سنت کی تعلیمات پر مبنی ہوں، جہاں یہ سماں ہو گا وہاں فتح و نصرت ضرور ان کے قدم چومے گی، جسے دیکھ کر مسلم جھوم اُٹھے گا، فرمایا یہ اللہ کا وعدہ ہے۔

﴿لِلَّهِ الأَمرُ‌ مِن قَبلُ وَمِن بَعدُ ۚ وَيَومَئِذٍ يَفرَ‌حُ المُؤمِنونَ ﴿٤﴾ بِنَصرِ‌ اللَّهِ ۚ يَنصُرُ‌ مَن يَشاءُ...٥﴾... سورة الروم

''پہلے بھی (فتح و شکست کا) اللہ ہی کو اختیار تھا اور (اس واقعے کے) بعد بھی (اسی کو اختیار ہے) اور اس دن مسلمان اللہ کی طرف سے خوش ہو جائیں گے، وہ جس کو چاہتا ہے مدد کرتا ہے۔

اپنی خصوصی نصرت کی ایک مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا:

﴿وَلَقَد مَنَنّا عَلىٰ موسىٰ وَهـٰر‌ونَ ﴿١١٤﴾ وَنَجَّينـٰهُما وَقَومَهُما مِنَ الكَر‌بِ العَظيمِ ﴿١١٥﴾ وَنَصَر‌نـٰهُم فَكانوا هُمُ الغـٰلِبينَ ﴿١١٦﴾ وَءاتَينـٰهُمَا الكِتـٰبَ المُستَبينَ ﴿١١٧﴾ وَهَدَينـٰهُمَا الصِّر‌ٰ‌طَ المُستَقيمَ ﴿١١٨﴾ وَتَرَ‌كنا عَلَيهِما فِى الءاخِر‌ينَ ﴿١١٩﴾... سورة الصافات

اور ہم نے موسیٰ و ہارون پر احسانات کیے، اور ان دونوں اور ان کی قوم کو بہت بڑے (ابتلاء اور) کرب سے نجات دی اور (فرعون کے مقابلے میں) ان کی مدد کی تو (آخر کار) یہی لوگ غالب رہے اور دونوں کو ایک واضح کتاب دی اور دونوں کا سیدھا راستہ دکھایا۔ اور (ان کے بعد) آنے والوں میں ان کا ذکر خیر باقی رکھا۔

فرعون جیسی متبعد طاقت کے مقابلے میں بنی اسرائیل کی کیا پوزیشن تھی، لیکن جب بحیثیتِ قوم انہوں نے خدا کی کتاب اور خدا کے پیغمبروں کا احترام کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان مظلوموں کو فاتح بنا لیا اور جو متکبر فاتح تھے ان کو مفتوح کر کے دکھا دیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون پر سلام:

﴿سَلـٰمٌ عَلىٰ موسىٰ وَهـٰر‌ونَ ﴿١٢٠﴾... سورة الصافات

یہ انقلاب معمولی انقلاب نہیں تھا۔ ایک عظیم انقلاب تھا۔ وہ قوم مصر میں جن کی حیثیت ایک خادمہ کی تھی، اس کے ہاتھوں مصر جیسی عظیم سیاسی طاقت کا خاتمہ انتہائی محیر العقول انقلاب ہے۔ اگر اب بھی کوئی قوم اور جماعت اس کا نمونہ پیش کرنے کو تیار ہو جائے تو یقین کیجئے: فتح و نصرت کی اس عظیم مثال کو اب بھی دہرایا جا سکتا ہے۔

یہی معاملہ اللہ تعالیٰ نے ہر اس قوم سے کیا جنہوں نے انبیاء کی تعلیمات کی روشنی میں اپنے نظامِ حیات کو ترتیب دیا۔ اللہ نے ان کی خصوصی نصرت فرمائی اور جو تیس مار خاں ان کے لئے وجہ عذاب بنے رہے اللہ نے خود ہی ان سے ان کا انتقام لیا۔

﴿وَلَقَد أَر‌سَلنا مِن قَبلِكَ رُ‌سُلًا إِلىٰ قَومِهِم فَجاءوهُم بِالبَيِّنـٰتِ فَانتَقَمنا مِنَ الَّذينَ أَجرَ‌موا ۖ وَكانَ حَقًّا عَلَينا نَصرُ‌ المُؤمِنينَ ﴿٤٧﴾... سورة الروم

اور ہم نے آپ سے پہلے (بہت سے) پیغمبر ان کی قوموں کے پاس بھیجے اور وہ ان کے پاس دلائل لے کر آئے (مگر انہوں نے ان کو جھٹلایا) پھر ہم نے ان لوگوں سے انتقام لیا جو جرم کرتے رہے (اصل بات یہ ہے کہ) اہل ایمان کی مدد کرنا ہمارے ذمہ تھی۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جو لوگ اللہ کے دین کی مدد کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی ضرور مدد کرتا ہے اور وہ اس کی طاقت رکھتا ہے۔

﴿وَلَيَنصُرَ‌نَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُ‌هُ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِىٌّ عَزيزٌ ﴿٤٠﴾... سورة الحج

شرط یہ ہے کہ خدا کا خوف دل میں ہو اور خلوصِ دل کے ساتھ منکرین حق کے خلاف میں اتر آئیں۔ فرمایا: ایسی صورت میں ہم خود تمہارے ہاتھوں تمہارے دشمنوں کو جوتے لگوائیں گے اور تمہارے دل کو ٹھنڈا کریں گے۔

﴿فَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخشَوهُ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ ﴿١٣﴾قـٰتِلوهُم يُعَذِّبهُمُ اللَّهُ بِأَيديكُم وَيُخزِهِم وَيَنصُر‌كُم عَلَيهِم وَيَشفِ صُدورَ‌ قَومٍ مُؤمِنينَ ﴿١٤﴾... سورة التوبة

''اگر تم ایمان رکھتے ہو تو اللہ زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرو، ان لوگوں سے لڑو، خدا تمہارے ہی ہاتھوں ان کو سزا دے گا اور ان کو رسوا کرے گا اور ان پر تم کو فتح دے گا اور مسلمان جماعت کے کلیجوں کو ٹھنڈا کرے گا۔

فرمایا جو حق کو جھٹلاتے ہیں ہم مسلمانوں کو نصرت عطا کر کے منکرین کا بیڑا غرق کر ڈالتے ہیں۔

﴿وَنَصَر‌نـٰهُ مِنَ القَومِ الَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايـٰتِنا ۚ إِنَّهُم كانوا قَومَ سَوءٍ فَأَغرَ‌قنـٰهُم أَجمَعينَ ﴿٧٧﴾... سورة الانبياء

''اور ہم نے ان کا بدلہ لے لیا ایسے لوگوں سے جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا، بے شک وہ لوگ بہت ہی برے تھے سو ہم نے ان سب کو غرق کر دیا۔

جو لوگ حق کے لئے حق پرستوں کے ہاتھ پر جہاد کی بیعت کرتے ہیں اللہ ان کو طمانیت اور فتح دیتا ہے۔

﴿قَد رَ‌ضِىَ اللَّهُ عَنِ المُؤمِنينَ إِذ يُبايِعونَكَ تَحتَ الشَّجَرَ‌ةِ فَعَلِمَ ما فى قُلوبِهِم فَأَنزَلَ السَّكينَةَ عَلَيهِم وَأَثـٰبَهُم فَتحًا قَر‌يبًا ﴿١٨﴾... سورة الفتح

''بے شک اللہ ان مسلمانوں سے خوش ہوا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے اور اللہ کو معلوم تھا جو ان کے دلوں میں تھا، سو اللہ نے ان پر طمانیت نازل کی اور ان کو لگے ہاتھ فتح دی۔''

جو لوگ ہزار مشکلات اور اذیّتوں کے باوجود حق کا ساتھ نہیں چھوڑتے، اللہ ان کی ہی مدد کرتا ہے۔

﴿وَلَقَد كُذِّبَت رُ‌سُلٌ مِن قَبلِكَ فَصَبَر‌وا عَلىٰ ما كُذِّبوا وَأوذوا حَتّىٰ أَتىٰهُم نَصرُ‌نا...٣٤﴾... سورة الانعام

دوسرے مقام پر فرمایا (سورۂ یوسف ع ۱۲)

﴿حَتّىٰ إِذَا استَيـَٔسَ الرُّ‌سُلُ وَظَنّوا أَنَّهُم قَد كُذِبوا جاءَهُم نَصرُ‌نا...١١٠﴾... سورة يوسف

''یہاں تک کہ پیغمبر مایوس ہو گئے اور گمان کرنے لگے کہ ان سے غلطی ہوئی کہ (اتنے میں) ہماری مدد آپہنچی۔''

یقین کیجئے! اللہ جب مدد کرتا ہے اس وقت اور کوئی ان کو دبا نہیں سکتا۔

﴿إِن يَنصُر‌كُمُ اللَّهُ فَلا غالِبَ لَكُم...١٦٠﴾... سورة آل عمران

اگر اللہ تمہارا ساتھ دے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔

اگر وہ تمہارا ساتھ چھوڑ دے تو پھر تمہاری اور کوئی مدد کو نہیں آسکتا۔

﴿وَإِن يَخذُلكُم فَمَن ذَا الَّذى يَنصُرُ‌كُم مِن بَعدِهِ...١٦٠﴾... سورة آل عمران

واقعہ تو یہ ہے کہ فتح ہے تو صرف وہی فتح ہے جو اس کی طرف سے ہوتی ہے۔

﴿وَمَا النَّصرُ‌ إِلّا مِن عِندِ اللَّهِ العَزيزِ الحَكيمِ ﴿١٢٦﴾... سورة آل عمران

اصلی اور سچا دوست بھی وہی ہے اور بہترین مددگار بھی وہی ہے۔

﴿بَلِ اللَّهُ مَولىٰكُم ۖ وَهُوَ خَيرُ‌ النّـٰصِر‌ينَ ﴿١٥٠﴾... سورة آل عمران

لیکن اللہ کی طرف سے نصرت اور تائید صرف ان کو حاصل ہوتی ہے جو خدا کے دین کی مدد کرتے ہیں مخلص عمل میں کتاب و سنت کے حامل اور صبر و ثبات کا نمونہ ہوتے ہیں۔ دورِ حاضر میں عموماً مسلم پریشان ہیں، دشمنانِ دین کے۔۔۔۔ ہاتھوں بھی اور مدعیان اسلام کے ہاتھوں بھی۔ مگر افسوس! دُکھ دین کے نام پر سہتا ہے۔ حالانکہ ان کی زندگی کے شب و روز ننگِ دین ہوتے ہیں، دین کا نام لے کر دکھ سہنا کوئی معنی نہیں رکھتا، جب تک اس کی اپنی زندگی اسلام کا نمونہ نہ ہو۔

دنیا کا یہ میدانِ ابتلاء اور محسن کا میدان ہے، جب جان پر بن جاتی ہے تو کوئی کسی کے کام نہیں آتا۔ اگر آتا ہے تو صرف وہی جس سے کوئی نسبت ہوتی ہے۔ دینِ حق اور خدا سے جن کا تعلّق گہرا ہوتا ہے، اللہ اپنے ان وفا شعار دوستوں کو کبھی بھی بے یار و مددگار نہیں چھوڑتا۔ ان کی مدد کرتا ہے اور کامیاب مدد فرماتا ہے۔ اس لئے آپ پہلے اس حیثیت سے اپنا جائزہ لیں کہ کیا آپ نصرتِ الٰہی کے حق دار ہیں بھی کہ نہیں؟ اگر ہیں تو پھر ہمت نہ ہارئیے۔ اللہ کی نصرت بس آئی سو آئی۔ إن شاء اللہ۔

﴿حَتّىٰ إِذَا استَيـَٔسَ الرُّ‌سُلُ وَظَنّوا أَنَّهُم قَد كُذِبوا جاءَهُم نَصرُ‌نا...١١٠﴾... سورة يوسف

ورنہ اپنے اندر استحقاق کے لئے استعداد پیدا کریں، ان شاء اللہ خدا کی نصرت سے محروم نہ رہیں گے۔