ارمغان حرم : جناب راسخ عرفانی

ضخامت : 96 صفحات مجلدمع رنگین گردپوش

کاغذ، کتاب، طباعت نہایت اعلیٰ:

قیمت : 12 روپے

ناشر : مکتبہ نور، ڈائمنڈ بلڈنگ گوجرانوالہ

جناب راسخ عرفانی دنیائے شعرو ادب میں محتاج تعارف نہیں، وہ ایک نغز گو شاعر ہونے کے ساتھ ایک راسخ العقیدہ دردمند اور عشق رسولؐ سے سرشار مسلمان ہیں۔ یہ کتاب ان کے نعتیہ کلام کامجموعہ ہے۔ حضرت راسخ نے ہر نعت میں گل افشانی گفتار کا معجزہ دکھایا ہے۔ اس کتاب کامطالعہ ہمیں کیف و سرور کے ایک ایسے چمنستان میں پہنچا دیتا ہےجس کے ہر پھول او رپتی کی دلآویز خوشبو سے مثام جان معطر ہوجاتاہے۔ ہر شعر شاعر کے ذوق و شوق ، عشق رسولؐ اور ندرت تخیل کا آئینہ دار ہے۔ہمیں اُمید ہے کہ بارگاہ رسالت میں جناب راسخ عرفانی کا یہ ہدیہ عقیدت درجہ قبول حاصل کرے گا او رآخرت میں ان کے لیے وسیلہ نجات ثابت ہوگا۔ ان شاء اللہ

چند مقامات پر کھٹک پیدا ہوئی مثلاً صفحہ 41 پر پہلا مصرع ہے۔

کوئی عیسیٰؑ، کوئی موسیٰ ؑہو سلیمان ؑکوئی

بلاشبہ حضورؐ ۔ سید المرسلین ہیں لیکن آپؐ کا دوسرے انبیاء سےتقابل کرتے وقت ان کے اسمائے گرامی کے ساتھ کوئی لفظ جچتا نہیں ہے۔ عیسیٰؑ عیسیٰؑ ہی تھے او رموسیٰ ؑ موسیٰؑ۔ اس صفحے پر تیسرے شعر میں بحرزخار کو بحر ذخار لکھا گیا ہے ۔ صحیح اور فصیح تر لفظ زخار ہے۔

صفحہ 49 پر یہ مصرع نطرثانی کا محتاج ہے۔ ع سرمہ مری نظر کا بھی اس کا جمال ہے

جمال اور سرمہ یعنی چہ؟

صفحہ 52،53 اور بعض دوسرے مقامات پر گزرے کو گذرے کتابت کیا گیا ہے یہ قدیم طرز تحریر ہے ۔ آج کل اس قسم کے الفاظ کو ''ز'' سے کتابت کیاجاتا ہے۔ صفحہ 54 پر ''بریں'' میں یا کے نقطے چھوٹ گئے ہیں۔ صفحہ 70 پر آخر شعر نظرثانی کی محتاج ہے۔

یوسف جیسےبکیں پیغمبر ...... مفت سر بازار محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

خود سرور کونینؐ نے منع فرمایا ہے کہ آپؐ کا تقابل دوسرے انبیاء سے اس طرح کیا جائے ۔

یہ گزارشات جذبہ خیر خواہی پر مبنی ہیں حاشا و کلا نکتہ چینی مقصود نہیں۔ فی الحقیقت یہ ایک بلند پایہ مجموعہ نعت ہے او رہرمسلمان گھرانے اور لائبریری میں رکھے جانے کے قابل ہے۔
نوٹ

ملتے جلتے معنی میں یہ مصرع یوں مناسب رہے گا: لےکے آجائے اگر بخت سلیمان کوئی (مدیر)