فلسطین جسے قدیم زمانے میں ماٹو پھر سرگون اعظم کے زمانہ میں ارض ایمورائٹ۔ یونانیوں کی تاریخ میں سیریا، رومیوں نے فلسطائنا، فونیقیوں کی مناسبت سےفونیشیا۔ بابلی نوشتوں میں کنعان، بمعنی نشیبی زمین۔ عربوں نےشام بمعنی بایاں۔ ترکوں نے سنجاک آف یروشلم یا ولایت بیروت۔ یہود نے ارض اسرائیل اور عیسائیوں نے ارض مقدس کہا ہے۔ آج سیاسی لحاظ سے دنیا کا اہم ترین قطعہ ارض بنا ہواہے۔مذہبی طورپر یہاں یہود، نصاریٰ اور مسلمانوں کےمقدس مقامات ہیں او رسیاسی طور پر تینوں اقوام کے مفادات اس خطے سے وابستہ ہیں۔ دونوں قسم کے عوامل اس قدر جاندرا ہیں کہ ان کے باعث پوری دنیا تباہی کے کنارے آن لگی ہے۔ تینوں اقوام میں سےکوئی بھی پیچھے ہٹنے کو تیارنہیں ہے۔ تینوں کا خیال ہے کہ فلسطین پر صر ف ان کا حق ہے او رکسی دوسرے کو اس میں مداخلت کا اختیار نہین ہے۔ ہم آج کی نشست میں مسئلہ فلسطین کے حقیقی پس منظر کو ایک غیر جانبدار مؤرخ کی نظر سے دیکھ کر قارئین پر اس کے صحیح خدوخال واضح کرنا چاہتے ہیں۔ ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہاں کےاصل باشندے کون سے ہیں کیونکہ وہی اس کے صحیح حق دار ہیں او رکون کون سی اقوام کہاں کہاں سے آکر کن کن ادوار میں کن مقاصد کی خاطر یہاں آباد ہوئیں ۔ ہماری نظر میں اس مسئلے کے حل میں مذہب کو دخل نہیں دینا چاہیے۔کیونکہ تینوں اقوام کے مقدس مذہبی مقامات یہاں موجود ہیں او رکوئی بھی قوم طبعی طور پر اپنے مقامات مقدسہ سے دستبردار نہیں ہوسکتی۔ جس طرح ہم اپنے قبلے بیت اللہ سے دستبردار نہیں ہوسکتے اسی طرح عیسائی اور یہودی بھی فلسطین میں موجود اپنے قبلے سے دستبردار نہیں ہوسکتے۔ جس طرح ہم مسجد اقصیٰ سے دستبردار نہیں ہوسکتے۔اسی طرح یہودی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی یادگاروں اور عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یادگاروں سے دستبردار نہیں ہوسکتے۔ ہماری نظر میں اس مسئلے کا واحد حل ''فرزند سرزمین'' کا نظریہ ہے کہ زمین انہی کی ہے جو وہاں کےاصل باشندے ہیں۔اس لیے زیرنظر مضمون کے آغاز میں ہم یہی بحث کرنا چاہتے ہیں کہ فلسطین کے قدیم ترین باشندے کون سے ہیں۔ آیا وہ قوم دنیا میں اب موجود ہے ۔ اگر موجود نہیں ہے تو ان کے بعد قدیم ترین کون سے ہیں۔ اگر وہ نسل بھی اب موجود نہیں ہے تو کون سی قدیم ترین نسل موجود ہے جسے فلسطین کاوارث تصور کیا جائے اور فلسطین کے آتش کدہ کو سرد کیا جاسکے۔ آئیے ہم آپ کو اس مقصد کی خاطر ازمنہ گزشتہ میں لے چلتے ہیں۔

فلسطین اپنی مخصوص تاریخ کے اعتبار سے محض ایک قطعہ اراض کبھی نہیں رہا بلکہ جغرافیے نے اسے کچھ ایسی اہمیت عطا کردی ہے کہ تاریخ ہمیشہ مصیبت میں مبتلا رہی ہے او ریہ ہر دور میں بین الاقوامی استخوان نزاع بنا رہا ہے۔ اس قطعہ ارض میں انسان اس وقت سے آباد ہے جب سے انسانی زندگی تاریخ کی روشنی میں آئی ہے۔ یہ بات یروشلم کے شمال مغرب میں واقع ''وادی نطوف'' کے وسطی حجری دور کے آثار قدیمہ سے پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے۔ حالیہ کھدائی سے جو بابلی اور مصری ریکار ظاہر ہوا ہے اس کی مدد سے ہم عبرانیوں سے قبل کی تاریخ بھی معلوم کرسکتے ہیں۔ ان کے ذریعے فلسطین میں اسرائیلیوں سے قدیم تر باشندوں کا کا پتہ چلتا ہے۔ آثار قدیمہ کی کھدائیوں کے لیے 1860ء میں لندن میں فلسطین ایکسپوریشن فنڈ قائم یا گیا۔پھر جرمن اور ئنٹل سوسائٹی اور فرنچ بابلی سکول آف یروشلم وجود میں آئے۔ جن کی کاوشوں سے 1890ء میں جنوبی جوڈیا میں کھدائیوں کا عملی کام شروع ہوا اور ارض مقدس سے متعلق بہت سی معلومات منظر عام پر آئیں جن کےمطابق تین ہزار قبل مسیح میں یہاں سامی آباد تھے اور ان سے پہلے یہاں کوئی اور نسل آباد تھی جن کے غیرسامی ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ ڈاکٹر میکس بینکن ہارن کے مطابق اس علاقے میں کم از کم دس ہزار سال پہلے انسان آباد ہوا۔ یہ لوگ غاروں میں رہتے تھے کیونکہ ایک غار سے شیر کی ہڈیوں کے ساتھ انسانی پنجر بھی ملا ہے۔ کھدائیوں کے باعث ایک ایسے دور کے آثار بھی ملے ہیں جن لوگوں کا گزارہ صرف شکار پر تھا۔ یہ لوگ غیرسامی تھے کیونکہ وہ اپنے مُردوں کو جلا دیتے تھے جو آریاؤں کی رسم ہے۔ (سامی اپنے مُردے کو دفن کرتے ہیں) معلوم ہوتا ہے کہ غاروں کے یہ مکین ہورائٹ یا ہورم تھے جو ابڈومائٹس کے اجداد تھے۔ اسی بنا پر بعض علماء کا خیال ہے کہ کنعان و فلسطین کے اصل باشندے یہی ہیں۔ مصری نوشتوں کے مطابق کھانی یہاں کے قدیم باشندے ہیں۔ یہ نام ہیٹوں کے پرانے پایہ تخت کی مناسبت سے ہے۔ یہ لوگ غیر سامی تھے۔ تورات سےبھی یہاں غیرسامی اقوام کاوجود ملتا ہے۔ اسی لیے علماء کی اکثریت کا کہنا یہ ہےکہ تین ہزارسے ڈھائی ہزار سال قبل مسیح تک فلسطین میں غیر سامی آباد تھے جن کی طاقت عبرانیوں نے ختم کی اور طویل جدوجہد او رلڑائیوں کے بعد ارض مقدس پراپنا تسلط جمانے میں کامیاب ہوگئے اور اسی تسلط کی بنا پر وہ آج بھی اس علاقے کے دعویدار ہیں۔

سامی حضرت نوح علیہ السلام کے صاحبزادے سام سےمنسوب ہیں اور تاریخ میں ان سے وہ لوگ مراد ہیں جو شمال میں سیرین کے نام سے جنوب میں عربوں کے نام سے، مغرب میں موآبیوں ، فونیشیوں اور عبرانیوں کے نام سے آباد تھے۔اس سارے علاقے کو ہلال زرخیز کہتے ہیں ۔ سامیوں کا اصل وطن عرب تھا جہاں سے آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ دوسرے علاقوں میں جاکر آباد ہوتے رہے۔ تاریخ میں ایسی چار ہجرتوں کا پتہ چلتا ہے۔ کنعان یافلسطین میں سامیوں کاآکر آباد ہونا دوسری ہجرت کہلاتا ہے۔ عبرانیوں کے یہاں آنے سے پہلے سامیوں کےدو گروہ کنعانی او راموری یہاں آباد تھے۔ کنعانی ساحلی علاقوں میں رہتے تھے اور اموری پہاڑوں میں۔ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ یہاں پہلے اموری آئے پھر کنعانی۔ یہ دونوں گروہ اگرچہ ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے تھے لیکن ان میں کوئی مشابہت نہ تھی۔ ان کے بعد جیسا کہ بیان ہوچکا ہےکہ سامیوں کا ہی ایک اور گروہ جسے بعد میں عبرانی اور آگے چل کر اسرائیلی او ریہودی کہا گیاعلاقہ فلسطین میں آکر آباد ہوا۔

تورات کے مطابق عبرانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہیں جوسمبریوں کے دارالحکومت ''اُر''سے ہجرت کرکے کنعان یافلسطین میں آکر آباد ہوئے۔ ''اُر ''حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دو ہزارسال قبل تہذیب و تمدن کا مرکز تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت کے بعد یوں معلوم ہوتا ہے کہ مشرق سے آنے والے خونخوار قبیلوں نے اس عظیم سلطنت کو تباہ کردیا۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ طوفان نوح جیسے ایک اور طوفان نے ان کوتباہ کردیا ہو کیونکہ اس سلطنت کے شہر تاریخ میں چار ہزار سال تک پھر کہیں نظر نہیں آئے۔ بہرحال کسی بھی وجہ سے اگرچہ یہ سلطنت برباد ہوگئی تاہم ان کاتحریری اثاثہ موجود رہا۔ جو مصر پہنچا۔پھر اسیریا یا بابل کی سلطنتوں میں پہنچا۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ سمیریا کی یہ سلطنت مشرقی او رمغربی تہذیبوں کی ماخذ ہے۔ ان تحریروں سے معلوم ہوتا کہ ساڑھے تین ہزار سال قبل مسیح میں جب کہ مصر میں بھی وحشت کا دور دورہ تھے ''اُر'' کے لوگ سونے چاندی اور دیگر دھانتوں سے شاہکار تخلیق کرتے تھے ۔ یہاں کے ماہرین تعمیرات دور جدید کے اصول تعمیر سے خوب واقف تھے۔اہل سمیریا کتابت کو کافی ترقی دے چکے تھے ۔ فن سپہ گری میں طارق تھے۔ خشکی اور سمندری راستوں سے دنیا کے دیگر ممالک سے تجارتی تعلقات رکھتے تھے۔لکڑی کا کام بہت عمدہ کرتے تھے۔نہروں کا جال بچھا ہوا تھا۔ بیلوں سے ہل چلا کر کھیتی باڑی کرتےتھے۔ ان کا اپنامجموعہ قوانین او رمنظم و مذہب تھا۔ او رقدیم زمانے میں اسی علاقے سے زیادہ خوشحال کوئی علاقہ نہیں دیکھا گیا۔

اس علاقے سے ابراہیم علیہ السلام نے ہجرت کی اور آٹھ سو میل کا فاصلہ طے کرکنعان پہنچے۔ راستے میں پہلے حران (ترکی میں ہے) پہنچے۔ پھر ساحل کے ساتھ ساتھ اس پرانے کاروانی راستے پرچلتے گئے جو فرات او رنیل کے شہروں کوملاتا ہے۔ شاید وہ دمشق میں بھی رُکے لیکن یہاں ماحول کو سازگار نہ پاکر آگے پہاڑی علاقوں کی طرف چل دیئے۔ جہاں اگرچہ کاشت مشکل تھی لیکن امن و سکون میسر آسکتا تھا۔ یہ کنعان کا وہ حصہ تھا جسے بعد میں فلسطین کہا گیا۔کنعانیوں نے ان نواردوں کو ابوس یا ابرم (دوسری جانب) کہا۔ یعنی دریائے فرات واردن کے دوسری جانب سے آنے والے۔ یہی لفظ بعد میں ہیریو یعنی عبرانی بن کر اس نسل کے لیےمخصوص ہوگیا۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ فلسطین عبرانیوں کا اصل وطن نہیں ہے بلکہ ان کا یہاں نووارد ہونا خود ان کے نام میں مضمر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عہد قدیم میں عبرانیوں نے فلسطین کو کبھی اپناوطن نہیں سمجھا او رجب انہیں محسوس ہواکہ کسی اور علاقے میں انہیں زیادہ مفادات مہیا ہوسکتے ہیں تو یہ فوراً دوسری جگہوں کی جانب چل دیئے۔ جس کی مثال حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں ان کامصر آکر آباد ہوجانا ہے۔ ہوا یوں تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پڑپوتے حضرت یوسف علیہ السلام فروخت کرکے مصر پہنچا دیئے گئے۔ہاں مغربی ایشیا کے سامی النسل چرواہوں کا ایک قبیلہ ہائیکساس حکمران تھا۔ یہ قبیلہ خود غیر ملکی تھا اس لیے غیرملکیوں کی حوصلہ افزائی کرتا اورمصریوں کو دباتا تھا۔ اس قبیلے کی حکومت میں حضرت یوسف علیہ السلام اپنی خداداد صلاحیتوں کے باعث وزیرخوراک کے منصب تک پہنچ گئے۔ اس زمانے میں ایک عالمگیر قحط سے مجبور ہوکر ان کے بھائی مصر آئے۔ جنہیں نیل کے ڈیلٹا میں ارض گوشن میں آباد کردیاگیا۔ اس طرح عبرانی فلسطین سے مصر متنقل ہوگئے اور صدیوں تک یہیں مقیم رہے۔ اس وقت تک ان کےذہن میں کبھی یہ خیال پیدانہ ہوا تھا کہ فلسطین ہماراوطن ہے اور نہ ہی انہوں نےمصر کواپناوطن قرار دیا۔ بلکہ سیاسی او رمعاشی اغراض سے مصر میں مقیم رہے اور جب یہاں یہ اغراض پورا ہونا بند ہوگئیں تو پھر مصر سےنکل کھڑے ہوئے جس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ ہائیکساس جب عیاشیوں میں مصروف ہوکر جانبازی سے عاری ہوگئے تو مصریوں نے ان کے خلاف بغاوت کرکے پندرہویں صدی قبل مسیح میں مصر میں ایک نئی اور مضبوط حکومت قائم کردی جس نے بڑی بڑی تعمیرات کا سلسلہ شروع کیا جس کے لیے بیگار کی ضرورت تھی۔ گوشن کے علاقے میں صحت مند عبرانیوں کو جو غیر ملی ہونے کے باوجود صدیوں سے وہاں آباد تھے انہیں کھٹکنے لگے اور بیگار کا قُرعہ ان کے نام پڑ گیا۔ نیز یہ مصری حکومت اس بات سے بھی خائف تھی کہ ایک خاص علاقے میں آباد خوشحال اور مضبوط غیر ملکی قوم کہیں ان کے اقتدار کو چیلنج نہ کردے اس لیے انہوں نے عبرانیوں پر سختیاں شروع کردیں جن سے تنگ آکر اور کچھ وقتی مذہبی اسباب کے تحت یہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سرکردگی میں مصر سے نکل گئے اور فلسطین کی راہ لی۔ ان کا خیال تھاکہ کنعانی پہلے کی طرح کوئی مزاحمت نہ کریں گے۔ لیکن انہیں شدیدمزاحمت سے واسطہ پڑا جس کے نتیجہ میں یہ لوگ ہمت ہار بیٹھے اور چالیس سال تک دست نوردی کرتے رہے۔ بعدازاں شکست و فتح کاکھیل کھیلتے ہوئے رفتہ رفتہ موسیٰ علیہ السلام اور یوشع بن نون کی قیادت میں فلسطین میں سرچھپانے میں کامیاب ہوگئے۔ تورات گویا ہے:

''جب یوشع بوڑھا ہوگیا تو خدا نے اسے کہا تم بوڑھے ہوگئے ہو لیکن ابھی بہت سا علاقہ فتح کرنےکے لیےباقی ہے جس میں مصر کی سرحدوں سے لے کر وہ تمام علاقہ شامل ہو جو کنعانیوں کا علاقہ کہلاتا ہے۔ میں بنی اسرائیل کے داخلے سے قبل وہاں کے اصلی باشندوں کو نکال باہر کروں گا ۔ تم بنی اسرائیل کو ان کی جگہ لینے کے لیے تیار کرو۔''

فلسطین میں مکمل برتری حاصل کرنے سے قبل عبرانی جہاں جہاں آباد ہوئے وہاں انہوں نے قلعہ بند شہر بنا لیے تھے او رکنعانیوں سے دوستانہ روابط پیدا کرکے زراعت میں مشغول ہوگئے۔کنعانی بھی ایسے ہی شہروں میں رہتے تھے جواکثر میدانی علاقوں او رخال خال پہاڑی علاقوں میں واقع تھے اور اکثر رقبہ خالی پڑا تھا۔ یہی بات یہاں عبرانیوں کے قدم جمانے کا باعث بنی۔ بعد میں جب دونوں اقوام کے مفادات ٹکرائے تو ان میں پھر حالت جنگ پیدا ہوگئی۔ جنگ گبسن کی کہانی عبرانیوں میں اسی دور کی یادگار ہے جس کے مطابق امور ائٹس کے بادشاہ نے عبرانیوں پر حملہ کرکے انہیں بے گھر کردیاتھا (تورات میں کنعانیوں کو امورائٹس او رہٹی بھی کہا گیا ہے) بعد میں پانسہ پلٹ گیا اور عبرانیوں نے کنعانیوں کے شہر حبرون اور ڈیبر وغیرہ فتح کرلیے اور تقریباً گیارہ سو سال قبل مسیح میں فلسطین کے منظر پر کنعانیوں کی بجائے عبرانی جلوہ گر ہوگئے ورنہ اصل میں یہ سرزمین کنعانیوں کی ہی تھی جیسا کہ تورات میں ہے وہ .... وہ جگہ جہاں تم اجنبی ہو کنعانیوں کی سرزمین ہے۔

کنعانیوں کی اس سرزمین پر عبرانیوں نے قابض ہوکر ایک عظیم سلطنت قائم کی۔ جس کادارالحکومت حبرون تھا۔ حضرت داؤد علیہ السلام کے خیال میں یہ جگہ پایہ تخت کے لیےمناسب نہ تھا۔ اس لیے انہوں نے موجودہ یروشلم کو جسے اس وقت جیوسائٹ کہتے تھے منتخب کیا۔سلیمان علیہ السلام نے عبرانیوں کی مرکزی عبادت گاہ تعمیر کرائی جسے ہیکل کہا گیا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام 961 ق م میں بادشاہ ہوکر 872 ق م میں فوت ہوگئے جس کے فوراً بعد شیشاک مصری نے ہیکل تباہ کردیا اور معبد کا قیمتی طلائی سامان لوٹ کر لے گیا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد عبرانیوں کی سلطنت دو حصوں میں بٹ گئی ۔ ایک کا نام جوڈیا تھا جس کا پایہ تخت یروشلم تھا۔ اس کا حکمران حضرت سلیمان علیہ السلام کابیٹا رجعام بنا۔ اور بعد ازاں اولاد سلیمان عرصہ تک یہاں حکمران رہے۔ دوسری ریاست کانام اسرائیل تھا جس کا دارالحکومت سامریہ تھا۔ یہاں عبرانیوں کے دس قبائل آباد تھے۔ ان دونوں ریاستوں کی داخلی تاریخ باہمی قتل و غارت اور سازشوں سے پُر ہے۔ آخر 721 ق م میں اسرائیل کی ریاست اشوریوں کےہاھتوں اور 588 ق م میں جوڈیا کی ریاست بابلیوں کے ہاتھوں ختم ہوگئی۔ بخت نصر شاہنشاہ بابل نے 607ق م ،597ق م اور 588 ق م میں یکے بعد دیگرے جوڈیا پرحملے کیے اور آخری حملے میں ہیکل کو بنیادوں سے اکھاڑ دیا۔ خزانہ او رمتبرک اشیا لوٹ کر ساتھ لے گیا اور بےشمار عبرانیوں کوموت کے گھاٹ اتار کر لاتعداد افراد کو گرفتار کرکے بابل لے گیا اور بیگار کیمپوں میں محبوس کردیا۔ تاآنکہ ایرانی بادشاہ سائرس نے 536ق م میں بابل فتح کرلیا اور بابلیوں کے مقبوضات اس کے قبضے میں آگئے۔ اس نے عبرانیوں کو فلسطین واپس جانے کی اجازت دے دی اور 517ق م میں یہ لوگ دوبارہ ہیکل تعمیر کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ سکندر نےایران پر غلبہ حاصل کیاتو فلسطین اور عبرانی سکندر کےمحکوم ہوگئے اور اس کی موت کے بعد یہ چیزیں اس کے جرنیل پٹولمی کے حصہ میں آئیں۔

70 ق م میں ہیکل پر پھر تباہی نازل ہوئی۔ اس کی بنیادوں میں ہل چلا دیا گیا ۔ 31ق م کے بعد ہیروڈ نے اسے دوبارہ بنوا دیا۔ لیکن 69ء ٹائیٹس نےفلسطین کو تہ و بالاکرکے 29۔اگست 70ء کو یروشلم پر قبضہ کرکے آگ لگا دی۔ ہیکل کا نام و نشان تک مٹا دیا۔مقدس صحیفوں کو نکال کرفتح کی یادگار کےطور پر روم لے گیا او ریروشلم کے گرد غیر یہودی آبادیاں قائم کردیں۔ قیصر ہادریان (117ء تا 138ء) نے ہیکل کی جگہ پر جوپیٹر کا مندر بنوا دیا اور پانچ لاکھ یہود کو قتل کروا دیا او رپورے سال میں صرف ایک دن انہیں یروشلم آنے کی اجازت ملتی۔ جس روز ٹائٹس نے بیت المقدس کومسمار کیا تھا تاکہ خدا کے پیاروں کےناخلف آکر یہاں رولیں۔ اس شخص نے یروشلم کےکھنڈرات پر ایک نیا شہر تعمیرکرکے اس کا نام ''ایلیا کاپی تولینا'' رکھا۔ اس واقعہ کے بعد فلسطین میں عبرانیوں کا یا تو داخلہ ہی ممنوع رہا اور اگر آئے بھی ہیں تو قیام اسرائیل تک محکوموں کی حالت میں۔

آج یہ قوم فلسطین کے دعویداروں میں سرفہرست ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ داؤد و سلیمان علیہم السلام کی سرزمین ہمارا ورثہ ہے او رجس طرح ہر قوم کا ایک وطن ہوتا ہے اسی طرح یہ علاقہ ہماراوطن ہے جہاں سے ہمیں جبراً نکال دیاگیا تھا لیکن جیساکہ اختصار کے ساتھ بتایا جاچکا ہے کہ یہ لوگ عہد قدیم میں بھی یہاں باہر سے آکر او رمقامی باشندوں کو دبا کر آباد ہوئے تھے اور جوں ہی ان کے مفادات متقاضی ہوتے بہ بے دریغ نئے علاقوں کی طرف چل دیتے رہے ہیں اس لیے ان کاموجودہ دعویٰ قطعاً بے بنیاد ہے۔ اس کی مزید تفصیل اگلے صفحات میں آپ ملاحظہ فرمائیںگے اب ذرا دوسرے دعویداروں سے تعارف حاصل کرلیں۔

یہود کی جلاوطنی کے بعد فلسطین رومی قیصروں کے زیرنگیں رہا۔ اس دور میں یہاں عیسائیت نے جڑیں پکڑیں۔ تاآنکہ 336ء میں رومی قیصر قسطنطین نے عیسائیت قبول کرلی جس نے اس مذہب کے فروغ کے لیے بھرپور مساعی کا آغاز کردیا۔ اس نے ہیکل سلیمانی کی جگہ گرجا بنوا دیا۔ یروشلم میں کئی اور گرجے بھی بنوائے اورمسیح کی یادگاروں پر عمارات تعمیرکروائیں جن کی زیارت کے لیے ہزار ہا عیسائی یہاں آنےلگے جن کے لیے مسافر خانے تعمیر کروائے گئے۔ اس طرح یروشلم ایک عیسائی شہر اور فلسطین ایک عیسائی ملک کی صورت اختیار کرگیا۔ صلیب مقدس تلاش کی گئی۔ قسطنطین کی ماں سینٹ ہلنا نے یروشلم کی زیارت کے سفر کو مقدس مذہبی رنگ دے دیا۔ بعد کے قیصروں نے بھی ایک عیسائی شہر بنانے میں بھرپور حصہ لیا اور ان کی زیر سرپرستی عیسائیوں کی جانب سے یہودیا عبرانیوں پر مظلم کا طویل سلسلہ شروع ہوا۔ عیسائیوں کا خیال تھاکہ مسیح اور ان کے اولین پیروکاروں پرعبرانیوں نے جومظالم کیے تھے ان کابدلہ لینے کاوقت آچکا ہے۔ گریشین اور تھیودوسیس اعظم بڑے متعصب عیسائی بادشاہ تھے۔ انہوں نے غیرعیسائیوں کو سخت سزائیں دی۔391ء میں سکندریہ کا مشہور کتب خانہ جلا دیا ۔(یہ وہی کتب خانہ ہے جس کے جلانے کا الزام مستشرقین سیدنا عمر فاروقؓ پرلگاتے ہیں)ظلم و تعصب کا یہ دور 614ء تک جاری رہا ۔ پھر خسرو شاہ ایران نے رومیوں سے ہتھیا لیا اور عیسائی مکافات عمل کی زد میں آگئے۔ ہزار ہا عیسائی تہ تیغ کردیئے گئے۔ مزار مقدس کے کلیسا اور دوسرے چرچ تباہ کردیئے گئے۔ہیکل پہلے سے ہی برباد ہوچکا تھا۔ پھر 628ء میں ہرقل نے خسرو کو شکست دے کر یروشلم کو دوبارہ عیسائی قبصہ بحال کیا او ریہود کے یہاں داخلے کی پھر سے ممانعت کردی تاآنکھ 639ء میں حضرت فاروق اعظمؓ اپنے ایک غلام کو اونٹ پربٹھائے بیت المقدس کی چابیاں حاصل کرنے کے لیے شہر مقدس تشریف لائے اور بطریق بیت المقدس بے اختیار پکار اٹھا کہ مصحف آسمانی کالکھا پورا ہوگیا۔''وہ اپنے غلام کے اونٹ کی مہار تھامے ہوئے شہر میں داخل ہوگا۔'' اس طرح شہر مقدس ایک اسلامی شہر کی حیثیت سے منظر عام پر آیا۔ گویا 338ء تک یہ شہر عیسائی حکومت کے زیرنگیں رہا اور تین صدیوں کا یہ قبضہ ان کے دعویٰ فلسطین کی ایک بنیاد بن گیا۔

عیسائیوں کا فلسطین پر دعویٰ ہر دور میں رہا ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ یہ علاقہ ان کے پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے ولادت ہے۔وہ یہیں پروان چڑھے ۔ یہیں انہیں نبوت ملی۔ ان کی تبلیغ کا میدان بھی یہی علاقہ ہے۔ یہیں انہیں پھانسی دی گئی۔ او رپھر آسمان پر جانے سے قبل وہ یہیں دفن ہوئے۔ ان کا قبلہ و کعبہ یہی علاقہ ہے۔مزید برآں ابتدائی عیسائیوں میں عبرانی یہودیوں کی کثیر تعداد شامل تھی اس لیے اگر فلسطین عبرانیوں کی میراث ہے تو یہ اب عیسائیوں کی جانب منتقل ہوجانی چاہیے۔ اپنی یہ میراث حاصل کرنے کے لیے ان لوگوں نے ہر دور میں کوشش کی ہے ۔ ہم ان کےدعویٰ پربحث کرنے سے قبل اس ارض مقدس کے دعویداروں میں تیسرے فریق کا بھی اختصار کےساتھ ذکر کردینا چاہتے ہیں جو مسلمان ہیں۔

خطہ فلسطین مسلمانوں کا قبلہ اوّل ہے۔ یہاں فاتحانہ ورود سے پہلے ہی مسلمان اس جگہ سے قلبی وابستگی رکھتے تھے۔ واقعہ معراج میں یروشلم مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔فتح بیت المقدس کے بعد مسلمانوں نے اس کی عظمت و تقدیس کو چار چاند لگا دیئے۔مکمل مذہبی آزادی عطا کی۔ باشندوں کے جانو مال و آبرو کی مکمل حفاظت کی۔ یہاں لاثانی مذہبی عمارات تعمیرکرائیں۔ ولید نے مسجد اقصیٰ بنوائی۔سلیمان نے رملہ نامی شہر بساکر اسے فلسطین کا دارالحکومت بنایا۔ یہود نے اپنی صدیوں پرانی اکیڈمی آف طریاس یروشلم میں منتقل کرلی۔ عبدالملک نے عربی زبان کو سرکاری زبان قرار دے کر جب اس کی نشوونما کے لیے اقدامات شرو ع کیے تو عبرانیوں کو بھی اپنی مردہ زبان کی نشاۃ ثانیہ کا خیال آیا جس کے نتیجہ میں عبرانی زبان پھر سے محفوظ ہوگئی۔ گویا اس ارض مقدس میں تاریخ میں پہلی مرتبہ تینوں مذاہب کے لوگ مکمل امن و امان سے رہنے لگے تاآنکہ عیسائیوں نے اپنے سابقہ اقتدار کے نشے میں گیارہویں صدی عیسوی میں اس علاقے میں مسلم اقتدار کو چیلنج کرکے مسلسل دو صدیوں تک کے لیے امن و امان کا سلسلہ درہم برہم کردیا۔ یہ دور تاریخ میں صلیبی جنگوں کادور کہلاتا ہے۔ ان جنگوں کے اسباب مذہبی کم او رسیاسی زیادہ تھے۔ مثلاً ایشیائے کوچک واپس لینے کی ایک کوشش میں رومی بادشاہ بذات خود گرفتار ہوگیا۔ اسے خطرہ پیداہوا کہ مسلمان اب اس کے پایہ تخت کو بھی روند ڈالیں گے۔ لہٰذا اس نے عیسائیوں کے مذہبی جذبات کوبرانگیختہ کرکے مسلمانوں کے مقابل لاکھڑا کیا۔ کلیسائے روم کا پاپائے اعظم عالم عیسائیت میں تفوق و برتری کی سب سے بڑی علامت تھا لیکن کلیسا ئے یونان اس کا اقتدار تسلیم نہ کرتا تھا۔ جو 1054ء سے الگ حیثیت منوا چکا تھا۔ یروشلم پر قبضہ کی صورت میں دونوں کلیساؤں کے ایک ہوجانے او رپاپائے روم کے غلبہ کی امید تھی اس لیے اس نے مذہب کی آڑ لے کر اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کی ۔ یورپ کے عوام کی معاشی حالت ناگفتہ بہ تھی اور وہ شام و فلسطین کے مسلمانوں کی مال و دولت کے قصے سنا کرتے تھے۔ لوٹ مار کے شوق نے مذہب کا لبادہ اوڑھ لیا او ریہ سب عوامل اس ایک واقعہ سے کھل کر سامنے آگئے جب کہ فاطمی خلیفہ الحاکم نے عیسائیوں کی صلیب مقدس کے ساتھ ان کے بقول غیر شائستہ سلوک کیا تھا اور یہ خطہ دو صدیوں تک جنگ کی آگ کی لپیٹ میں آگیا۔ تیرہویں صدی عیسوی میں یہ جنگیں ختم ہوئیں اور عیسائی اپنی پوری مشرقی سلطنت دے کر کمبل سے جان چھڑا سکے۔ دعویٰ فلسطین بھی بظاہر واپس لے لیا گیا۔کیونکہ رچرڈ شیردل نے یہ علاقہ اپنی بہن کے جہیز میں مسلمانوں کو دینے کی پیشکش بھی کردی تھی۔ قسطنطنیہ میں عیسائی سلطنت راکھ کا ڈھیر بن گئی اور یہ عظیم شہر آج بھی مسلمانوں کا شہر ہے ۔ یونان و بلقان جو کسی زمانے میں رومن صوبے تھے مسلمانوں کی کالونی بن گئے۔ اس سے آگے بڑھ کر مسلمانوں کو یورپ میںعمل دخل کاموقع مل گیا جس سے وہاں جہالت کا خاتمہ اور سیاسی بیداری کا آغاز ہوا۔ شاید یہی ایک فائدہ تھا جو دو صدیوں کی جنگوں سے عیسائیوں کو حاصل ہوا۔

صلیبی جنگوں کے بعد یہ علاقہ مسلمان حکمرانوں ہی کےزیرنگیں رہا۔ اس کی پاسبانی کے فرائض عثمانی ترک سرانجام دیتے رہے۔ 1517ء میں سلطان سلیم نے اس پر قبضہ کیا تویہود یہاں آکر آباد ہونے لگے۔ اس سے قبل سپین ان کامحبوب علاقہ تھا۔ یورپی ممال کےستائے ہوئے یہودی وہاں جاکر پناہ لیتے تھے اور وہاں کے علمی ماحول میں پہنچ کر علم و فن کے خادم بن جاتے تھے۔ موسیٰ بن میمون جس نے شریعت یہود کو از سر مرتب کیا تھا سپین ہی کا رہنے والا یہودی تھا۔ پھر سپین سے مسلمانوں کے اخراج کے بعد یہود پربھی وہاں کی فضا تنگ ہوگئی او ران کا رخ فلسطین کی جانب ہوگیا۔ عثمانیوں نے انہیں مذہبی آزادی عطا کی۔ یہاں ان کی مذہبی نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوا جس کامرکز سیفد نامی جگہ بنی جہاں سپین سے بھاگ کر آیا ہوا ایک یہودی عالم جیکب براپ ابادہوگیاتھا۔ عثمانی سلطان نےایسے پناہ گزینوں کو آباد کاری کے لیے طبریہ کے گرد زمین عطا کی۔ عیسائیوں سے ان کی دشمنی کا یہ عالم تھا کہ ان کے بھگوڑوں کو عیسائی جہازوں میں سفر کرنے کی اجازت بھی نہ دی۔ ترکوں کے ہمدردانہ رویہ کے باعث یروشلم اور فلسطین میں ان کی تعداد میں اضافہ شروع ہوا۔ مشہور سیاح گبروندی کے مطابق 1267ء میں یروشلم میں صرف دو یہودی خاندان آباد تھے۔ 1488ء میں پورے فلسطین میں ان کے خاندانوں کی تعداد 70 تھی جو 1495ء میں بڑھ کر 200 ہوگئی۔ ترکوں کی رواداری کے باعث یہ تعداد بڑھتی گئی تاآنکہ انیسویں صدی کے آغاز میں فلسطین میں یہود کی آبادی آٹھ ہزار ہوگئی۔ ترک مسلمانوں کے جن سلوک کا بدلہ اس احسان فراموش قوم نے یہ دیا کہ فلسطین میں وطن الیہود کے قیام کی کوششیں شروع کردی۔ 1897ء میں لارڈ ہرزل نے صیہونی تحریک شروع کرکے سلطان عبدالحمید سے مراعات حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ سلطان کے انکار پر اس نے قیصر ولیم آف جرمنی سے اس شرط پر سفارش کروائی کہ یہودی سلطان کےتمام قرضے چکائیں گے اور ترکی میں فیکٹریاں لگائیں گے لیکن سلطان نےکورا جواب دے دیا۔ اس پر ان لوگوں نے زیر زمین سازشوں کاسلسلہ شروع کردیا ۔ 1908ء میں سلطان معزول کردیا گیا۔ عرب و عثمانی کی تفریق کرکے دونوں کو ایک دوسرے سے لڑانا شروع کردیا جس کے نتیجہ میں 9دسمبر 1997ء کو جنرل ایلن بی نے فلسطین فتح کرلیا او راس طویل مسلم دور کا خاتمہ ہوگیا جو سیدنا عمر فاروقؓ کی فتح بیت المقدس سے شرو ع ہوا تھا۔بعد ازاں اس علاقے کو دو حصوں میں بانٹ کر اُردن اور اسرائیل کی حکومتیں قائم کردی گئیں۔ لیکن مسلمانوں نے اس تقسیم کو قبول کرنے سے انکا رکردیانتیجۃً کئی جنگیں ہوچکی ہیں اور تاحال اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھا۔

بہرحال یہ ہیں فلسطین کے تیسرے دعویدار ۔ آئندہ نشست میں ہم یہ دیکھیں گے کہ کس کا دعویٰ مبنی برحقائق ہے او رکون محض دھونس اور دھاندلی سے کام لے رہا ہے۔ (باقی آئندہ)