(قسط نمبر 2)

پچھلی مرتبہ ہم نے قاضی صاحب کی خدمت میں چند ایک گزارشات پیش کی تھیں اور چند خدشات کی طرف اشارہ بھی کیا تھا لیکن جب قاضی صاحب کے مضمون کی دوسری قسط (جوسرقہ کے متعلق ترجمان القرآن شمارہ 4 جلد88 میں ہے) سامنے آئی تو حیرت کی انتہا نہ رہی کہ بعینہ وہ خطرات منڈ لا رہے ہیں او روہی مفسدات و منکرات سراٹھاتے نظر آتے ہیں جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا تھا۔ مضمون پڑھنے کے بعد یوں محسوس ہوا کہ قاضی صاحب بحر الرائق یا در مختار کا ترجمہ فرما رہے ہیں ان کے پیش نظر بین الاقوامی طور پر تعزیرات اسلام کامجموعہ تیار کرنا نہیں۔ جب کہ ہم نے بڑے ادب سے یہ بات عرض کی تھی کہ اگر واقعی اسلام کی خدمت مقصود ہے تو پھر تقلید امام کے محدود و محبوس ذہن کووا کرنا ہوگا ۔مطالعہ کو وسعت دینا ہوگی کہ فقہاء اربعہ ہی نہیں بلکہ دیگر ائمہ کے افکار و آراء کی ورق گردانی بھی کرنا ہوگی۔ لیکن کیا بحر الرائق،ہدایہ، درمختار ، المبسوط او رکتاب الخراج لابی یوسف وغیرہ ہی مظان بحث ہیں یا ان خار دار وادی کے سفر سے پہلے تمام کتب تفسیر، شروح کتب حدیث، لغت، کتب احکام او رمغنی لابن قدامہ،الفقہ علی المذاہب الاربعۃ، بدایۃ المجتہد، نیل الاوطار،المحلی لابن حزم، المجموع شرح المہذب، الفتاویٰ المحدیثیۃ لابن حجر الہثیمی، الاحکام السلطانیہ للغراء، احکام القرآن، احکام السلطانیہ للماوردی وغیرہ۔ غرضیکہ متعد د کتب او ربھی ہیں جنکا مطالعہ اس دقیق بحث پر قلم اٹھانے سے پہلے ضروری ہے۔

مضمون کے مالہ و ما علیہ پر سرسری نظر ڈالتے ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ اس عالمگیر اور مستقل مسئلے پر لکھتے وقت قاضی موصوف کے سامنے بین الاقوامی قانون کی ترتیب کے بجائے صرف فقہ حنفی ہے۔ حالانکہ عالمگیر قانون کے تقاضوں او رمعیار کے مطابق اس مسئلہ کا حل پیش کرنا چاہیے تھا کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ کوئی فقہ ۔(بالخصوص فقہ حنفی) بھی دور جدید کا ساتھ نہیں دے سکتی بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ابن حزم کی ظاہریت اور حنفیت وغیرہ کو محدثین کے طریق فکر کے آئینہ میں ڈھالا جائے او ریہی بات دور حاصر کی صحیح رہنمائی کرسکتی ہے۔

اس فقہ حنفی کو رائج فرما کر دیکھ لیجئے اگرپہلے معاشرے میں 25 فیصد چور ہیں تو ایک تھوڑے ہی عرصہ بعد 75 فیصد چور ہوجائیں گے اور لطف یہ کہ کوئی بھی مستحق حد نہ ہوگا۔عجب فقہ اور عجیب حیلہ سازی ہے کہ حرز کے پردہ میں چور تیار ہوتے ہیں اور«ادرؤوا الحدود بالشبھات» کے لبادہ میں چوروں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔کاشی چور حضرات کم از کم فقہ کی کتاب نمبر 320 ہی کا مطالعہ فرما لیں۔ کاش سابقہ حکومت اپنے آئین میں فقہ نمبر 148 ہی رکھ لیتی تاکہ اسلام بھی آجاتا اور تمام کام بھی درست ہوجاتے۔ یہی نہیں بلکہ تجارت ہو، اکل و شرب کا معاملہ ہو، نکاح و طلاق کا مسئلہ ہو، غرضیکہ کوئی بحث اس قابل نہیں کہ اسے فقہ حنفی کی روشنی میں (بالخصوص) حل کیا جائے! شاید اسی وجہ سے (ہماری معلومات کے مطابق) مولانا ابوذر بخاری نے ایک مرتبہ مولانا چراغ صاحب جیسے دیگر علماء کو یہ کہا تھا کہ اگر آپ فقہ حنفی کو عام کرنا چاہتے ہیں تو خدارا عبادات کے علاوہ تمام مباحث پر حالات حاضرہ کے تحت نظر ثانی فرما لیجئے۔ ممکن ہے یار لوگ اس وجہ سے یہ پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں کہ فقہ حنفی کی پیروی کی تلقین تو کرو لیکن اس کے محفوظات کو عام نہ کرو۔ تعجب ہے کہ مولانا مودودی صاحب جیسا زیرک اور جدت پسند بھی دو رحاضر کے مسائل اسی فقہ کی روشنی میں حل کرتا نظر اتا ہے جو کہ اس بات کامصداق ہے ۔ ع
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

ہمارے پیش نظر کسی کی دلآزاری نہیں البتہ اتنا ضرور کہیں گے کہ موجودہ حالات کی ترجمانی اور حل۔ صرف اور صرف قرآن و حدیث او راس کی بنیادوں پر استوار شدہ اجتہاد ہی کرسکتا ہے۔

آمدم بر سرمطلب: اس مختصر سی تمہید کے بعد ہم قاضی موصوف کے مضمون پر طائرانہ نظر قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں:

قوله: دفعہ نمبر2: کوئی ناطہ، بصیر چوری کرے تو اس پر حد ہوگی ۔ ملخص

أقول: سرقہ موجب حد میں یہ دونوں شرائط جہاں دلائل سے یتیم ہیں وہاں عقل سلیم بھی ان سے إبا کرتی ہے کیونکہ اگر ایک اندھا یاگونگا آدمی بہ نیت سرقہ نصاب تام بجمیع شروط اٹھا لیتا ہے تو اس پر حد کیوں نہ ہوگی؟ کیا بصیر، بینا او رناطق کا یہی قصور ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے زبان کیوں دی؟ آنکھ کی بینائی کیوں بخشی؟

چنانچہ کسی معتمد علیہ صاحب نے شروط سرقہ میں ان دونوں کاذکر نہیں فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ ابن رُشد تعریف سرقہ میں لکھتے ہیں:

"فإنھم اتفقوا علی أن من  شرطه أن یکون مکلفا سواء کان حرا  أو عبدا ذکرا  أوأنثیٰ مسلما أو ذمیا .... الخ "(بدایة المجتہد: ج2 ص334)

اسی طرح علامہ فراء حنبلی  نے ''الأحکام السلطانیة'' میں محض یہ شرط لکھی ہے:''إذا سرقه بالغ عاقل '' علامہ ماوردی نے بھی یہی الفاظ استعمال کیے ہیں کہ ''إذا سرقه بالغ عاقل'' (احکام السلطانیہ ص226) علامہ کاسانی حنفی واضح الفاظ میں فرماتے ہیں:

''فأھلیة وجوب القطع ھي العقل والبلوغ'' (البدائع والصنائع: ج9 ص4238)

اب نہ معلوم قاضی صاحب نے ان دو شروط کا اضافہ کس نص صریح کی بنا پر فرمایا ہے اگر ان کی بنیاد کوئی نص ہے تو اس کے اظہار پر ہم مشکور ہوں گے۔ اگر محض قول امام وغیرہ ہی بنیاد ہے تو قارئین فیصلہ فرما لیں کہ کیا یہ خدمت اسلام ہے؟ یہی تعزیرات اسلام ہیں؟

قوله:۔ شرط نمبر2: کوٹ سے حاصل ہونے والی رقم کونصاب میں شامل نہیں کیا جائے گا البتہ بٹوا وغیرہ سے حاصل ہونے والی رقم کو نصاب میں شامل کیا جائے گا۔

أقول: آخر کوٹ او ربٹوا کے مظنہ رقم ہونے میں کیا فرق ہے؟ اور اگر اصطبل سے چرائی گئ ی رقم موجب حد ہے تو کوٹ کی رقم کیوں نصاب میں شامل نہیں ہوسکتی؟

قولہ: شرط نمبر4: مال بمقدار نصاب سرقہ ایک ہی مرتبہ ایک ہی محفوظ جگہ سے باہر نکالا گیا ہو۔

أقول: یعنی اگرایک چور گھر سے مال کو (نصاب سرقہ سے کم) تھوڑا تھوڑا نکالتا ہے تو اس پر حد نہیں ہوگی۔کیا وجہ جناب؟ اگر ایک ضعیف آدمی نو درہم (آپ کا مقررہ نصاب) کامال اٹھا سکتا ہے او راس نے دس چکر لگا کر نوے درہم کامال چرالیا اس پر حد تو نہ ہو اور نوجوان نے اگر ایک ہی چکر میں دس درہم کا مال اٹھا لیا اس پر حد جاری ہوجائے؟ کیا یہ سرقہ کی حد ہوگی یا خدانے جو اسےقوت دی ہے اس کی حد ہوگی؟

قوله: اگر نصاب سرقہ کو ایک سے زیادہ آدمی چرائیں تو ان پر حد نہ ہوگی۔

أقول:کیوں جناب! کس نص صریح کی بنا پر ؟ کیا یہ چوروں کی حوصلہ افزائی نہیں؟ اور جو چور اکیلا ہی چوری کرتا ہے وہ یہ نہ کہے گا۔ جرم ضعیفی مرگ مفاجات!

قوله: درخت پرلگے ہوئے پھل کو چوری موجب حد نہیں۔

أقول: جناب، قول امام کی تائید میں حدیث کی تعیین و تشریح کو کیوں پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔

قوله: کافر ذمی پربھی حدنہ ہوگی۔

أقول: شاتم رسول پر (کافر ذمی)حد کیوں نہیں؟ محبان رسول کے لیےدعوت غوروفکر!

قوله: اجازت لے کر گھر میں داخل ہونے والے پرحد نہیں۔

أقول: کیا اجازت چوری کے لیے لی یا دی جاتی ہے؟ جب کہ یہ بات تشریح نمبر5 کی صورت نمبر1، نمبر2، نمبر3 کے بھی منافی ہے تو ان دونوں میں سے کون سی بات صحیح ہے؟

قوله: مغرب اور عشاء کا وقت بھی دن میں شامل ہوگا کیونکہ اس وقت تک لوگ ابھی چلتے پھرتے رہتے ہیں۔

أقول: کیا عورتیں مغرب اور عشاء کی نماز مسجد میں ادا کرسکتی ہیں یا نہیں؟ کیا فرماتے ہیں علماء احناف بیچ اس مسئلہ کے؟

قوله: اگر چوروں میں کوئی غیر مکلف یا قابض مال کا قریبی رشتہ دار ہو تو ان چوروں پر حد نہ ہوگی۔

أقول: چوری پیشہ افراد متوجہ ہوں۔ ﴿أَلَيسَ مِنكُم رَ‌جُلٌ رَ‌شيدٌ ﴿٧٨﴾... سورة هود

قوله: ان صورتوں میں کوئی حد نہیں۔1۔ چور گھر میں نقب لگا کر گھس گیا پھر اس نے اندر سے مال دوسرے چور کو پکڑایا جو باہر کھڑا تھا۔2۔ سارق کے مکان کے اندر داخل ہونے کے بعد اس نے سامان پہلے جائے نقب پررکھا پھر خود باہر نکلا اور باہر نکل کر سامان جائے نقب سے لے گیا وغیرہ۔

أقول: چور حضرات کے یے نادر موقعہ۔ آج ہی آئیے اور رات ہی رات میں کروڑ پتی بن کر اپنا خواب شرمندہ تعبیر کیجئے۔داخلہ محدود ہے۔طعام و قیام بذریعہ کمپنی ہوگا۔ فاعتبرو یا أولي الأبصار!

فوری رابطہ کے لیے ذیلی فون نمبر 86، نمبر 252، نمبر 214، مرکزی دفتر کا فون نمبر 114۔

اس مختصر سی طائرانہ نظر کے بعد ہم ان دو مرکزی مسائل کی طرف آتے ہیں جن پر تقریباً ان تمام تفریعات کا دارومدار ہے۔

نصاب سرقہ

نصاب سرقہ کے ضمن میں موصوف نے کہا ہے کہ دس درہم ہی صحیح ہے کیونکہ اس پرتمام کا اتفاق ہے کہ دس درہم کی مالیت پر حد سرقہ جاری ہوتی ہے اور "ادرؤ وا الحدود" کا تقاضا بھی یہی ہے کہ دس درہم نصاب مقرر کیا جائے۔

ہم بڑے افسوس کےساتھ یہ عرض کرنے کی جسارت کریں گے کہ جناب اگر محض اتفاق ہی پیش نظر ہے تو پھر معلوم ہونا چاہیے کہ نصاب سرقہ کے متعلق بیس مختلف اقوال ہیں جو ''قلیل و کثیر'' سے لے کر ''چالیس درہم'' اور ''دس دینار'' تک ہیں۔ (ملاحظہ ہوفتح الباری: ج12 ص106،107وغیرہ) لہٰذا متفق قول چالیس ہوا نہ کہ دس درہم والا۔ ''ادرؤوا الحدود'' کے قریب چالیس درہم ہیں نہ کہ دس درہم۔ نیز ''ادرؤا الحدود'' کا علی الاطلاق وہ مفہوم نہیں جو موصوف لیتے ہیں جیساکہ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حکام کے پاس مقدمہ آنے سے پہلے صلح وغیرہ کی صورت نکال لی جائے یا اس کے افراد میں تفتیش و تحقیق کرلی جاوے (وغیرہ)جیساکہ نبی علیہ السلام کے عمل سے ثابت ہے او ر اس کا مقصد ہرگز نہیں کہ حیلہ سازی کے ساتھ احکام الہٰیہ میں لچک یا ترمیم پیدا کرنا ہے۔ درحقیقت حنفی فقہاء نے اس اختلاف کا فائدہ سارق کو پہنچایا ہے کہ چوری ک انصاب کم از کم دس درہم مقرر کردیا ۔ جب کہ وہی نصاب ہونا چاہیے تھا جو نبی علیہ السلام سے بسند صحیح مروی ہے کیونکہ اتفاق یا"ادرؤوا الحدود" کوئی ایسا داعیہ یا لاحقہ نہیں جونبی علیہ السلام کے بعد پیش آیا ہو۔ یقیناً آپؐ محسن انسانیت ہیں، رحمۃ للعالمین اور رؤف رحیم ہیں اور ''ادرؤوا الحدود'' کے مفہوم اور تقاضے کو ہم سے زیادہ سمجھتے او رجانتے تھے اور پھر یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ دس درہم موجودہ کرنسی کے تقریباً صرف 60 روپے اور عرب کرنسی کےمطابق 25 ریال بنتے ہیں تو کیا یہ رقم ''ادرؤوا الحدود'' کے تقاضا کو رفتار زمانہ کےتحت پورا کرتی ہے۔

مذاہب

نصاب سرقہ کے متعلق ظاہریہ، حسن بصری، خوارج اورمتکلمین کا ایک گروہ اس بات کاقائل ہے کہ مال خواہ کثیر ہو یا قلیل ہو۔ وہ موجب حد ہے۔علامہ ابن رُشد رقم طراز ہیں۔

"إلاماوري عن الحسن البصري أنه قال القطع في قلیل المسروق وکثیرہ...... وبه قالت الخوارج و طائفة من المتکلمین" (بدایۃ ص334)

لیکن جمہور فقہاء کے نزدیک چور کے ہاتھ اس وقت تک نہیں کاٹے جائیں گے جب تک مال بقدر نصاب معین نہ ہو۔

اب مال مسروقہ کے نصاب کی تعیین میں بھی اختلاف ہے۔ اس اختلاف میں بظاہر دو بڑے فریق ہیں پہلا گروہ وہ علمائے حجاز کا ہے جس میں امام مالک او رامام شافعی وغیرہ ہیں ان کے نزدیک تیس درہم (چاندی کا سکہ) یا ربع دینار (سونے کا سکہ) ہے۔ فقہائے حجاز جن احادیث سےاستدلال کرتے ہیں وہ درج ذیل ہیں:

1۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا۔ ربع دینار سے کم میں ہاتھ نہ کاٹا جائے۔

2۔ آپؓ ہی سے روایت ہے کہ نبی علیہ السلام کے زمانہ میں ہاتھ نہیں کاٹا جاتا تھامگر ڈھال کی قیمت پر۔

3۔ ابن عمرؓ فرماتے ہیں نبی علیہ السلام نے ایک ڈھال کے بدلے ہاتھ کاٹا اور ڈھال کی قیمت تین درہم تھی۔

دوسرا گروہ فقہائے عراق کا ہے ان علماء کے نزدیک نصاب سرقہ دس درہم ہے۔البتہ ان کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ آپؐ کے زمانہ میں ڈھال پر ہاتھ کاٹا گیا اور اسی کا حکم ہوا لیکن ان کے نزدیک ڈھال کی قیمت تین نہیں بلکہ دس درہم ہے! جو عمر و بن شعیب کی روایت سے معلوم ہوتی ہے لیکن عمرو بن شعیب کی روایت بنفسہ مختلف فیہ ہونے کے علاوہ اس میں حجاج بن ارطاۃ ضعیف اور مدلس ہیں۔ اسی طرح ایک روایت ابن عباس سے ہے وہ بھی نہایت مضطرب ہے۔ (فلیراجع للتفصیل فتح الباري وغیرها)غرضیکہ جتنی روایات بھی دس درہم کے متعلق ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جس کو حضرت عائشہؓ او رابن عمرؓ کی روایات کےمقابلہ میں پیش کیا جاسکے، چنانچہ ابن رُشد فرماتے ہیں: کہ بات تو دس درہم والی اچھی معلوم ہوتی ہے لیکن حضرت عائشہؓ کی موجودگی میں اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ ان کے الفاظ ہیں۔ "وھذا الذي قالوہ ھو کلام حسن لولا حدیث عائشة وھو الذي اعتمده الشافعي في ھذه المسئلة وجعل الأصل ھو ربع دینار" (بدایہ المجتہد:ج2 ص335)

حافظ ابن حزم فریقین کے دلائل پربحث فرماتے ہوئے رقم طراز ہیں:

"وأما حدیث عشرة دراھم أو الدینار فلیس فیه شيء أصلا عن رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلم فلا ینبغي أن یجوز السمویة فیه علی أحد إنما فیه موصولا به ذکر عشرة دراهم من قول عبداللہ بن عمرو بن العاص ولا یصح عنه أیضا ومن قول عبداللہ بن عباس"

"وھو قول سعید بن المسیب وأيمن کذلك وھو عنهم صحیح إلاحدیثا موضوعا مکذوبا لا یدری من رواہ من طریق ابن مسعود مسندا لاقطع إلا في ربع دینار و عشرة دراھم ولیس فیه مع علته ذکر القیمة أصلا" (محلی لابن حزم:ج11 ص354)

اسی طرح مسئلہ سےمتعلق تمام احادیث کو ذکر کرنے کے بعد علامہ شوکانی رقم طراز ہیں:

"وقد ذھب إلی مایقتصیه أحادیث الباب من ثبوت القطع في ثلاثة دراھم أو ربع دینار الجمهور من السلف و الخلف و منهم الخلفاء الأربعة" (نیل الاوطار : ج7 ص125)

تصریحات بالا سےمعلوم ہوتا ہے کہ صحیح اور متفق علیہ نصاب سرقہ تین درہم یا ربع دینار ہی ہے ۔

علامہ قرطبی نے اس بات کو تفصیل سےنقل کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ:

"فلا تقطع ید السارق إلا في ربع دینار أو فیما قیمته ربع دینار وھذا قول عمر و عثمان بن عفان و علي رضی اللہ عنهم وبه قال عمرو بن عبدالعزیز اللیث والشافعي و أبوثور" (تفسیر قرطبی:ج6ص140)

یادرہے ربع دینار اور تین درہم مساوی ہیں ۔ چنانچہ امام مالک  سے ہے کہ "تقطع الید فی ربع دینار او فی ثلاثة دراهم" (قرطبی:ج6 ص160)

اور علامہ سرخسی حنفی فرماتے ہیں:

"وقد کانت قیمة الدینار علی عهد رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلم اثنی عشر درھما فثلاثة دراهم یکون ربع دینار" (المبسوط: ج9 ص137)

غرضیکہ نصاب سرقہ کی تعیین میں صحیح بات جو دلائل کی روشنی میں معلوم ہوتی ہے وہ یہی ہے کہ ربع دینار یاتین درہم ۔چنانچہ اس بحاث کو ہم علامہ فراء کے اس قول پر ختم کرتے ہیں جو یقیناً اس بحث میں ایک نفیس قول کی حیثیت رکھتا ہے۔

علامہ موصوف رقم طراز ہیں:

"والنصاب الذي یقطع فیه مقدر بأحد شیئین ربع دینار فصاعدا من غالب الدنانیر الجیدة أو ثلاثة دراهم من غالب الدراھم الجیدة أو قیمة ثلاثة دراهم من جمیع الأشیاء" (الاحکام السلطانیہ ص250)

حرز :

اس مبحث کا دوسرا اہم مسئلہ حرز ہے۔ حرز کے متعلق اصل اختلاف یہ ہے کہ کیا حرز کااعتبار تعریف سرقہ میں ہوتا ہے یا نہیں؟ اس چیز کو معلوم کرنےکے لیے ہمارے پاس تین طریقے ہیں۔ شرع، لغت اور عرف ۔

شرع:

قرآن و حدیث میں سرقہ متعدد مقامات پر استعمال ہوا ہے لیکن کسی جگہ بھی حرز کی قید کامفہوم ادا نہیں کرتا۔ قرآن مجید میں اس لفظ کو ایک مقام پریوں استعمال کیا گیا ہے کہ

علامہ کاسانی حنفی فرماتے ہیں:

"سمیٰ سبحانه تعالیٰ أخذالمسموع علی وجه الاستغفار استراقا ... الخ" (البدائع : ج9 ص4223)

یعنی مخفی طریقہ سے کسی چیز کو اخذ کرنا سرقہ کہلاتا ہے۔اسی بنا پر ﴿وَالسّارِ‌قُ وَالسّارِ‌قَةُ فَاقطَعوا أَيدِيَهُما﴾ کو بعض اس کے اطلاق پرمحمول کرتے ہوئے حرز کے تعریف سرقہ میں شامل ہونے سے انکار کرتے ہیں۔

لغت :

لغت کے اعتبار سےبھی اس شرعی معنی کی تائید ہوتی ہےچنانچہ علامہ زبیدی ابن عرفہ سے نقل فرماتے ہیں:

"السارق عندالعرب من جاء مستترا إلی الحرز فأخذ مالا لغیرہ" (تاج العروس:...؟)

اسی بات کو صاحب لسان العرب نے بھی نقل کیا ہے اور صاحب قاموس کے بھی تقریباً یہی الفاظ ہیں کہ ہراس شخص کو سارق کہیں گے جو خفیہ طریقے سےکسی کے مال کو حرز سے اٹھانے کے لیے آئے جبکہ حرز کہتے ہیں الحرز الموضع الحصین یعنی محفوظ جگہ۔

اسی معنی پر بنیادرکھتے ہوئے تمام اصحاب فقہ و تفسیر نے سرقہ کی یہی تعریف کی ہے۔مثلاً

1۔ علامہ سرخسی فرماتے ہیں: "السرقه لغة أخذ مال الغیرعلی وجه الخفیة" (مبسوط :ج9ص133)

2۔ درمختار میں ہے: "ھي لغة أخذا لشیء من الغیر خفیة" (ج4 ص82)

3۔ ابن رُشد فرماتے ہیں: "فھي أخذ مال الغیرمستترامن غیر أن یوتمن علیه" (بدایۃ المجتہد:ج2 ص334)

مذکورہ بالا تصریحات سے معلوم ہوا کہ حرز تعریف سرقہ میں شامل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ کاسانی حنفی نے رُکن سرقہ ایک ہی بتایا ہے ، وہ فرماتے ہیں۔ "أمارکن السرقة فھوا لأخذ علی سبیل الاستخفاء "(البدائع: ج9 ص4223)

چنانچہ حرز کی کوئی تعیین و تقیید بیان نہیں کی گئی۔ بلکہ ہر چیز کا حرز اس کی نوعیت و حیثیت کے مطابق ہوتا ہے۔علامہ قرطبی فرماتے ہیں:"فإذا أحرزھا مالکھا فقد اجتمع فیھا الصون والحرز الذی ھو غایة الإمکان للانسان "(قرطبی:ج6 ص163)

دوسری جگہ علامہ موصوف اسی معروف حرز کے متعلق فرماتے ہیں: "الحزر ما نصب عادة لحفظ أموال الناس وھو یختلف فی کل شيء بحسب حاله" (ایضاً ج6 ص162)

علامہ ابن رشد کی عبارت کامفہوم بھی تقریباً یہی ہے۔ آپ فرماتے ہیں:

"والأشبه أن یقال في حد الحرز..... إنه ماشانه أن تحفظ به الأموال کی یعسر أخذھا مثل الأغلاق والخطائرد ما أشبه ذلك" (بدایہ:ج2 ص336)

یہی نہیں بلکہ آپ نے امام مالک سے اس کی تفصیل یوں نقل فرمائی ہے۔

"والحرز عندمالك بالجملة ھو کل شيء جرت العادة بحفظ ذلك الشيء المسروق فیه فمرابط الدواب عندہ إحرازہ کذلك الأوعیة وما علی الانسان من اللباس .... فالانسان حرز لکل ما علیه أوھو عندہ ... الخ" (ایضاًَ: ج2ص337)

غرضیکہ عرف کے اعتبار سے بھی تحقیق سرقہ کے لیے حرز کی قید ضروری نہیں بلکہ مال کامحفوظ کرنا بھی اسے محروز کرنا ہوتا ہے جیسا کہ علامہ کاسانی اس کی طرف ان الفاظ میں اشارہ فرماتے ہیں کہ:

"والأخذ من غیرحرز لا یحتاج إلی الا ستخفاء فلا یتحقق رکن السرقم "(البدائع:ج9 ص4242)

یعنی حرز تحقیق سرقہ میں اصل نہیں اور نہ ہی اس کی تعیین و تقیید ہوسکتی ہے شاید اسی لیے انہوں نے حرز کی دو قسمیں بنائیں ہیں۔ (1) حرز بنفسہ۔ (2) حرز لغیرہ۔

یعنی ایک حرز وہ ہے جو خود بخود حرز کے حکم میں ہے جیسے گھر اور صندوق وغیرہ اور ایک ایسا حرز ہے جو بنفسہ حرز تو نہیں البتہ کسی دوسری چیز کیوجہ سے حرز کے حکم میں ہےمثلاً میدان جہاں سامان کے پاس محافظ ہو۔

حافظ ابن حزم کامدعا بھی دراصل یہی ہےکہ حرز کو تعریف سرقہ میں بالکل شامل نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ہر چیز محرز ہوتیہے۔اس کےحرز کو متعین کرنے کی کوئی ضرورت نہیں وہ ہر چیز کی نوعیت، حیثیت او رحالات کے تحت مفہوم ہوگا۔ وہ حرز کو اس وجہ سے بھی شامل نہیں فرماتے کہ حرز کوئی ایسی چیز نہیں جو سرقہ کے تحقق یاعدم تحقق کے لیےضروری ہو بلکہ حالات کے تقاضے کے تحت حرز تبدیل ہوتے رہتے ہیں جس بنا پر حرز کا تعین ہو ہی نہیں سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ قاضی موصوف کو اس موقعہ پرغلطی لگی کہ انہوں نے بٹوے کو تو مظنہ رقم سمجھ کر حرز کا حکم لگا دیا لیکن کوٹ کو اس سے خارج کردیا حالانکہ فی زمانہ بٹوے کی نسبت کوٹ زیادہ مظنہ رقم ہے۔ یہی حال حرز کے تعین کا ہے۔

حافظ ابن حزم نے انہی تکلفات سے بچتے ہوئے حرز او رعدم حرز کو برابر قرار دیا ہے ،وہ فرماتے ہیں:

"وقالت طائفة علیه القطع سواء من حرز سرق أومن غیرحرز..... قال أبو محمد وبه یقول أبوسلیمان و جمیع أصحابنا" (محلی:ج11ص322)

حافظ ابن حزم نے اپنے نقطہ نظر کی تائید میں آیت سرقہ کی تعمیم کےعلاوہ بہت سے آثار بھی نقل کیے ہیں جن کی تفصیل اپنے مقام پر آئے گی تاہم ان تمام سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ تحقق سرقہ میں حرز دخیل نہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ سرقہ کی تعریف سے حرز کی موہومہ شرکت کا انکار کیے بغیر ان مفاسد سے محفوط رہنامشکل ہے جواس کو تسلیم کرنے سے پیش آتے ہیں او رجن سے لوگوں کے اموال کی حفاظت سے سارق کی۔ ''ادرؤوا الحدود'' کے تحت ضرورت سے زیادہ حفاطت ہوجاتی ہے۔

تفریعات :

حرز کامسئلہ تفصیلاذکر کرنےکے بعد اب ہم اس کے ضمن میں دو اہم مسئلے بیان کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے قبل یہ بات ذہین نشین رہے کہ حرز کو تعریف سرقہ یا تحقق سرقہ میں کوئی حیثیت حاصل نہیں، لہٰذا درج ذیل تفریع نمبر1 کا وجود اس بنا پر خود ہی ختم ہوکر رہ جاتا ہے۔

تفریع نمبر1 : تقریباً ائمہ اربعہ اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کوئی سارق (چور)کسی مکان کے اندر گھس گیا او رسامان اٹھا لیالیکن مکان کی چار دیواری کے اندر ہی پکڑ گیا تو اس پر حد نہیں، خواہ مال نصاب سرقہ تک کیوں نہ پہنچتا ہو۔ البتہ ابن حزم اس بات سے اختلاف کرتے ہوئے ایسے سارق پر حد کے قائل ہیں۔ آپ نے اپنے نقطہ نظر کی تائید میں بہت سی احادیث و آثار نقل فرمائے ہیں مثلاً۔

(الف) "بلغ عائشة أنھم یقولون إذا لم یخرج السارق المتاع لم یقطع فقالت عائشة لولم أجدإلاسکینا لقطعته" (محلی: ج11 ص321)

(ب) ابن الزبیرؓ کا اس لڑکی کے متعلق یہ ارشاد (جس نے گھر میں رہتے ہوئے چوری کی تھی اور پکڑی گئی) "یا سعید انطلق بھا فاقطع یدھا فان المال لو کان لم یکن علیھا القطع" (ج11 ص321)

(ج) حضرت حسنؓ فرماتےہیں:" إذا جمع السارق المتاع ولم یخرج به قطع" (ایضاً)

(د) اسی طرح خالد بن سعید اور عبداللہ بن عبید اللہ سے سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا ایسےسارق پر حد ہوگی۔الفاظ ہیں:

"عن السارق یسرق فیطرح السرقة ویوجد في البیت الذي سرق منه لم یخرج فقالا جمیعا علیه القطع" (ایضاً)

(ہ) ایسے ہی جب ابراہیم نخعی کے پاس امام شعبی کا قول" السارق لا یقطع حتی یخرج بالمتاع" پیش کیا گیا تو آپ نے اس کی تردید فرما دی۔ (ایضاً)

(و) اسی طرح جب عبیداللہ بن ابی بکرہ کے پاس ایسا چور لایاگیا جس نے مال اکٹھا تو کرلیا تھالیکن وہ چار دیواری کے اندر ہی پکڑا گیا تو آپ نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم فرما دیا۔ (ایضاً: ج11 ص323)

غرضیکہ ابن حزم اپنے مؤقف کی تائید میں متعدد دلائل نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

"وقد أوردنا عن عائشة وابن الزبیر و سعید بن المسیب و عبداللہ بن عبید اللہ والحسن و إبراھیم النخعي و عبیداللہ بن أبي بکرة القطع علی من سرقه وإن لم یخرج به من الحرز" (ایضاً:ج11 ص336)

اسی طرح حافظ ابن حزم فرماتے ہیں کہ قرآن و حدیث کے الفاظ میں حرز کا کوئی استعمال نہیں ہوا اگر یہ بات ضروری ہوتی تو نبی علیہ السلام اس کو ضرور بیان فرماتے ۔ آپ کے الفاظ ہیں:

"وَنَحْنُ نَشْهَدُ بِشَهَادَةِ اللَّهِ تَعَالَى أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَوْ أَرَادَ أَنْ لَا يَقْطَعَ السَّارِقَ حَتَّى يَسْرِقَ مِنْ حِرْزٍ وَيُخْرِجَهُ مِنْ الدَّارِ لَمَا أَغْفَلَ ذَلِكَ، وَلَا أَهْمَلَهُ، وَلَا أَعْنَتَنَا بِأَنْ يُكَلِّفَنَا عِلْمَ شَرِيعَةٍ لَمْ يُطْلِعْنَا عَلَيْهِ، وَلَبَيَّنَهُ عَلَى لِسَانِ رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إمَّا فِي الْوَحْيِ، وَإِمَّا فِي النَّقْلِ الْمَنْقُولِ.
فَإِذْ لَمْ يَفْعَلْ اللَّهُ تَعَالَى ذَلِكَ، وَلَا رَسُولُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَحْنُ نَشْهَدُ، وَنَبُتُّ، وَنَقْطَعُ - بِيَقِينٍ لَا يُمَازِجُهُ شَكٌّ - أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يُرِدْ قَطُّ، وَلَا رَسُولُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اشْتِرَاطَ الْحِرْزِ فِي السَّرِقَةِ.
إذْ لَا شَكَّ فِي ذَلِكَ فَاشْتِرَاطُ الْحِرْزِ فِيهَا بَاطِلٌ بِيَقِينٍ لَا شَكَّ فِيهِ، وَشَرْعٌ لِمَا لَمْ يَأْذَنْ اللَّهُ تَعَالَى بِهِ"
(محلی: ج11ص337)

اس کے بعد حافظ موصوف نے فریق ثانی کے ان دلائل کو مفصل طور پر بیان کیا ہے جو اقوال صحابہؓ یا فتاویٰ پر مشتمل ہیں ان پر فرداً فرداً بحث کرنے کے بعد مجموعی طور پر ان کے متعلق آپ یوں رقم طراز ہیں:

"وأما قول الصحابة فقدأوضعنا أنه لم یأت قط عن أحدمنھم اشتراط الحرز أصلا وإنما جاء عن بعضھم حتی یخرج عن الدار وقال بعضھم من البیت ولیس ھذا دلیلا علی ما ادعوہ من الحرز مع الخلاف الذي ذکرنا عن عائشة و ابن الزبیر في ذلك فلاح أن قولنا قول قد جاء به القرآن والسنن الثابتة عن رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلم" (ایضاً)

اسی طرح فریق مخالف کی طرف سے جو اجماع نقل کیاجاتا ہے کہ " اتفق جمهور الناس علی ان القطع لا فیکون الا علی من اخرج من حرز ما یجب فیه القطع" (قرطبی: ج6 ص162) اس کے متعلق آپ فرماتے ہیں:

" وأما الإجماع فإنه لا خلاف بین أحد من الأمة کلھا في أن السرقة ھي الاختفاء بأخذ الشيء لیس له وإن السارق ھو المختفی بأخذ مالیس له وإنه لامدخل للحرز فیما اقتضاہ الاسم فمن أقحم في ذلك اشتراط الحرز فقد خالف الإجماع علی معنی ھذہ اللفظة في اللغة و ادعی في الشرع مالا سبیل له إلی وجوہ ولا دلیل علی صحته" (محلی: ج11 ص337)

غرضیکہ انہوں نے ہر طرح سے فریق ثانی کا دفاع کیا ہے او ران روایات پر تفصیلا ًنقد کیا ہے جن کو حرز کا اعتبار کرنے والے پیش کرتے ہیں ان میں ایک روایت عمر وبن شعیب کے واسطہ سے ہے کہ "سئل رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلم في کم تقطع إلیه فقال لا تقطع الید في تمر معلق فإذا ضمه  الجرین قطعت ثمن المجن ولا تقطع فی حریسته الجبل فإذا أواہ المراح قطعت في ثمن المجن"

ایسی ہی ایک دوسری روایت پر اصول نقد کرنے کے بعد الزامی طور پر آپ فرماتے ہیں:

"أَنَّ فِيهِ: أَنَّ مَنْ خَرَجَ بِشَيْءٍ مِنْ التَّمْرِ الْمُعَلَّقِ فَفِيهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ - وَهُمْ لَا يَقُولُونَ بِهَذَا.وَكَذَلِكَ إذَا آوَاهُ الْجَرِينُ فَلَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ أَيْضًا غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ، وَهُمْ لَا يَقُولُونَ بِهَذَا أَيْضًا.
وَفِيهِ أَيْضًا: أَنَّ فِي حَرِيسَةِ الْجَبَلِ غَرَامَةُ مِثْلِهَا، وَأَنَّ فِيهَا غَرَامَةُ مِثْلَيْهَا، وَأَنَّ فِيهَا - إنْ آوَاهُ الْمِرَاحُ فَلَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ - غَرَامَةُ مِثْلَيْهَا، فَهُمْ قَدْ خَالَفُوا هَذَا الْخَبَرَ الَّذِي احْتَجُّوا بِهِ فِي أَرْبَعَةِ مَوَاضِعَ مِنْ أَحْكَامِهِ، فَكَيْفَ يَسْتَجِيزُ ذُو وَرَعٍ يَدْرِي أَنَّ كَلَامَهُ مَحْسُوبٌ عَلَيْهِ، وَأَنَّهُ مُحَاسَبٌ بِهِ يَخَافُ لِقَاءَ اللَّهِ تَعَالَى" (ایضاً:ج11 ص324)

اس کے علاوہ حقیقتاً دیکھا جائے تو یہ روایات اس وجہ سے بھی قابل استدلال نہیں کہ یہ اس وقت ہے جب کہ آدمی مجبور ہو ورنہ آپ نے فرمایا کہ جھولی بھر کر نہ لےجائے۔ پھر اگر وہ نصاب سے کم ہے تو اس پر حد کا کوئی بھی قائل نہیں اور اگر نصاب کو پہنچ جائے تو پھر حد کاذکر ان مذکورہ احادیث سےبھی ثابت ہے تو پھر یہ سرقہ ہی متصور ہوگا!

عقلاً :اسی طرح ابن عمر کے قیاس علی الزنا پر جو بنیادرکھی جاتی ہے وہ بھی درست نہیں کیونکہ زنا کے تحقق میں محض تلذذ کافی نہیں بلکہ زنا اس وقت متحقق ہوتا ہے جبکہ مذکر کا حشفہ مؤنث کے قبل یا دبر میں غائب ہوجائے نہ کہ محض اختلاط سے۔ جیسا کہ زنا کی تعریف سے ظاہر ہے کہ:

"الزنا ھو تغییب البالغ العاقل حشفة ذکرہ في أحد الفرجین من قبل أو دبر"(الأحکام للماوردی:ص223)

لہٰذا جب ابن عمر کا اجتہاد درست نہ تھا تو اس پررکھی گئی بنیاد کیسے درست ہوسکتی ہے؟

لیکن قطع نظر اس سے دیکھا جائے تو ابن عمرؓ کاقیاس اپنی جگہ درست ہے لیکن اس کو حرز پر دلیل بنانا قطعاً درست نہیں کیونکہ جس شخص کےمتعلق ابن عمرؓ کا فتویٰ ہے اس پر سارق کااطلاق ہی صحیح نہیں فتدبر و تفکر۔

تفریع نمبر2: یعنی ایک گھر سے اگر متعدد چور مال سرقہ بمقدار نصاب چوری کرلیں تو کیا ان پر حد ہوگی یا نہیں؟

اس مسئلہ میں امام ابوحنیفہ او رامام شافعی کا خیال ہےکہ ایسے لوگوں پرحد جاری نہیں ہوگی کیونکہ ہر ایک پر حد اس وقت ہوگی جب کہ بقدر نصاب مال ہر ایک کے حصہ میں آتا ہو لیکن امام مالک فرماتے ہیں کہ اگر مال مسروق تعاون کامحتاج ہو تو تمام پر حد ہوگی ورنہ نہیں۔ البتہ امام احمد دونوں صورتوں میں تمام پر حد کے قائل ہیں ۔چنانچہ علامہ الجزیری فرماتے ہیں:

"الحنابلة قالوا یجب علیھم القطع جمیعا سواء کان المسروق من الأشیاء الثقیلةالتي تحتاح إلی معاونة أم لا سواء اجتمعوا علی إخراجه من الحرز أوا نفردوا کل واحد بإخراج شيء إذا صار المال المسروق بمجموعة نصابا" (کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعۃ: ج5 ص192)

اس کے بعد اس کی حکمت کے متعلق یوں رقم طراز ہیں کہ:

"تعظیما لحرمة الأموال و تشدیدا في المحافظ علی حقوق العباد" (ایضاً)

جبکہ نصاب سرقہ تمام کےحصہ میں الگ الگ پورا نہ جانے کی صورت میں تمام ائمہ اس بات پر متفق ہیں کہ تمام پر حد جاری ہوگی جیسا کہ علامہ الجزیری فرماتے ہیں:

"اتفق الأئمة علی أنه لو اشترک جماعة من اللصوص في سرقة شيءمن المال وقال کل واحد منھم نصاب السرقة یجب إقامة الحد علی کل واحد منھم" (ایضاً:ج5 ص191)

عقلی اعتبار سے بھی اس سلسلہ میں امام احمد کی بات وزنی معلوم ہوتی ہے کیونکہ جس طرح قتل کےسلسلہ میں تمام مشترک اور شامل لوگوں پر حد لگائی جاتی ہے اسی طرح قطع یدمیں بھی تمام کو شامل ہونا چاہیے چہ جائیکہ ایک پر بھی حد نہ ہو.... بالخصوص امام شافعی تو اس بات کے قائل ہیں کہ اگر کوئی جماعت کسی آدمی کا ہاتھ کاٹ دے تو تمام کے ہاتھ کاٹے جائیں ۔ علامہ قرطبی اس مقام پر فرماتے ہیں:

"وقد ساعدنا الشافعي علی أن الجماعة إذا اشترکوا في قطع ید رجل قطعوا ولا فرق بینھما" (قرطبی: ج6 ص163)

علامہ فراء فرماتے ہیں: "وإذا اشترك جماعة في نقب ودخلوا لحرز وأخرج بعضھم نصابا ولم یخرج الآخرة لقطع علی جماعتھم" (الاحکام:ص252)

اس اختلاف سےبھی درحقیقت زیادہ فائدہ سارق کو پہنچتا ہے خواہ وہ ''ادرؤالحدود'' کے تحت ہو یا کسی او روجہ سے اور لوگوں کےاموال کی حفاظت کم ہوتی اور جب تک ایسی صورت حال باقی رہے گی۔ دراصل ایسے جرائم کا انسداد ممکن نہ ہوگا اور بعض اوقات ایسے اختلافات سے اس قدر ناجائز فائدہ بھی اٹھایا جاسکتا ہے کہ تمام قوانین سرقہ کے معطل ہونے کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ اسی بات پر اظہار تشویش کرتے ہوئے علامہ الجزیریؓ کچھ یوں رقم طراز ہیں کہ:"ولأن العقوبة إنما تتعلق بقدر مال المسروق أی أن ھذا القدر من المال المسروق ھو الذي یوجب القطع بحفظ المال و مراعاة لحرمته حتی نسد الباب أمام عصابات الإجرام التي تجتمع علی نھب أموال الناس" (کتاب الفقہ:ج5 ص192)

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب ۔ (باقی آئندہ ان شاء اللہ)