طلاق ثلاثہ کی بابت ماہنامہ محدث (ماہ محرم 1398ھ) میں راقم الحروف کا ایک فتویٰ شائع ہوا تھا جس میں ہم نے ضمناً حضرت عمرؓ کی وہ روایت بھی ذکر کی تھی جس سے حضرت عمرؓ کا اپنے پہلے مؤقف سے رجوع ثابت ہوتاہے،اس پر حضرت مولانا عبدالحمید ابوحمزہ (نیو سعید آباد) نے تعاقب فرمایا ہےکہ :

''رجوع والی حدیث صحیح نہیں ہے ، کیونکہ اس میں راوی خالد بن یزید بن ابی مالک باپ بیٹا دونوں ضعیف ہیں، دونوں کےمتعلق آیا ہے کہ وہ لین الحدیث ہیں، دوسرا یہ کہ یزید بن ابی مالک کی روایت جب حضرت عثمان ؓ سے منقطع ہے تو حضرت عمرؓ سے تو بطریق اولیٰ منقطع ہونی چاہیے، باقی رہا حضرت امام ابن القیم کا سکوت؟ سو وہ کوئی حجت نہیں ہے۔ (مختصراً)

الجواب

جیسا کہ آپ نے تحریر فرمایا ہے، واقعی یہ روایت منقطع بھی ہے اور ضعیف رواۃ پر مشتمل بھی۔ لیکن یہ روایت ہمارے مؤقف کا مدار علیہ نہیں ہے او رنہ ہم نے اس کو اسی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ بلکہ حضرت عمرؓ کے سلسلے کی مسلم شریف والی روایت سے جو ایک احتمال ناشی تھا، اس کے صرف اسی مکانی پہلو کو اخذ کرنے کے لیے ہم نے اس سےاستفادہ کیا ہے ۔علماء نے تصریح کی ہے کہ ایک ضعیف روایت احد المحتملات کے بیان کے لیےمفید ہوسکتی ہے۔

و إسناد وإن کان ضعیفا إلا إنه یصلح لبیان الاحتمالات (فیض الباری شرح صحیح بخاری باب البول قائما)

مسلم کی طلاق ثلاثہ والی روایت سے مترشح ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے یہ امر صرف تادیباً اور تعزیراً اختیارفرمایا تھا او ربہ دل نخواستہ اختیارکیاتھا۔ روایت کے ان الفاظ پر غور فرمائیے۔

«فقال عمر بن الخطاب إن الناس قد استعجلوا في أمر کانت لھم فیه أناة فلوأمصیناه» (مسلم)

حضرت عمرؓ کے اس اسلوب بیان سے یہ امر مترشح ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے یہ اقدام بہ دل نخواستہ کیا ہے او راس لیے اس امر کا امکان موجود تھا کہ اصلاح حال کے بعد وہ اپنے پہلے مؤقف کی طرف رجوع فرما لیں جس کا رجوع عمر والی روایت نے ذکر کیا ہے۔ کیونکہ جو بات تعزیراً اور تادیباً اختیار کی جاتی ہے وہ ہمیشہ وقتی ہی ہوتی ہے ، اگر آپ یہ بات تسلیم نہیں کریں گے تو خاکم بدہن آپ کو یہ الزام قبول کرنا پڑے گا کہ آپ حضرت عمرؓ پر یہ الزام عائد کررہے ہیں کہ وہ عمداً رسول کریم ﷺ سے ثابت شدہ امر کا خلاف کرنے میں بیباک تھے، حالانکہ وہاں ایسی بات نہیں تھی۔بہرحال ''رجوع عمر'' والی روایت کے ضعیف ضرور ہیں لیکن ایسی روایت سے ایک ثابت شدہ او رصحیح حدیث کے بعض پہلوؤں کی تشخیص اور تعیین کے لیے اگر کوئی شخص استفادہ کرنا چاہےتو کرسکتا ہے او ریہی کچھ ہم نے کیا ہے۔ حضرت امام ابن القیم کے صنیعح سے بھی یہی مترشح ہوتا ہے کہ انہوں نے بھی محض اسی امکانی پہلو کےسلسلے میں روایت سے استفادہ کیا ہے ورنہ اس تحدی کے ساتھ اس کاذکر نہ فرماتے، ان کے یہ الفاظ ملاحظہ فرمائیں:

«فان قیل :فکان أسھل من ذلك أن یمنع الناس من إیقاع الثلث و لیحرمه علیهم و یعاقب بالضرب والتأدیب من فعله لئلایقع المحذور الذي یترتب علیه؟ قیل:نعم لعمر اللہ ! قد کان یمکنه ذلك ولذلك ندم علیه في آخر أیامه وودأنه کان فعله» (اغاثۃ اللھفان :ج1ص336)

فر ض کیجئے! آپ کو علماء کے اس مؤقف سے اختلاف ہے جو ایک ضعیف روایت کےسلسلے میں وہ رکھتے ہیں، تو بھی ہمیں اس پر اصرار نہیں ہے کیونکہ ہم نے جو توجیہ بیان کی ہے، وہ صرف حضرت عمرؓ کو ایک الزام سے محفوظ رکھنے کے لیے بیان کی ہے ورنہ یہ کون نہیں جانتا کہ حضرت عمرؓ کا یہ ایک سیاسی نوعیت کا تادیبی فعل ہے ،جوصحیح اور مرفوع حدیث کا رافع نہیں ہوسکتا، یہی وجہ ہے کہ تعزیری حد تک تو صحابہؓ نے بھی حضرت کے اس فعل کے خلاف مزاحمت نہیں کی، لیکن جہاں تک ا ن کے اپنے مؤقف کی بات ہے، وہاں انہوں نے واضح الفاظ میں بات بتا دی ہے کہ بیک وقت تین طلاقیں، ایک رجعی طلاق کا حکم رکھتی ہیں۔ جہاں صحابہ یوں مختلف ہوں وہاں کسی بھی صحابی کاقول کسی کے لیے حجت نہیں رہتا۔ اصول حدیث میں یہ سب باتیں بیان کی گئی ہیں۔

چونکہ اس روایت کے راوی خالد مختلف فیہ ہیں (فتح)بلکہ مجموعی لحاظ سے وہ شدید قسم کا ضعیف راوی ہے ، اس لیے اگر کوئی صاحب ان کی اس روایت کو ''أحد الاحتمالات'' کی تشخیص کی حد تک بھی گوارا نہ کرے تو اسے اس کابھی حق پہنچتا ہے لیکن ہم اس کے بغیر بھی مطمئن ہیں کیونکہ حضرت عمرؓ کا یہ اقدام وقتی تھی کیونکہ تعزیری اور تادیبی تھا، جہاں یہ کیفیت ہو وہاں بالآخر ایسے اقدامات کو واپس لینا ہی پڑتا ہے۔ ورنہ اسے اس کی ''بے خبری'' پرمحمول کیا جائے گا جو یہاں مشکل ہے یا اسے حدیث کے خلاف ایک بیباکانہ جرأت قرا ردیا جائے گا جو او رناممکن بات ہے۔بہرحال خالد والی روایت نے حضرت عمرؓ کے اس تعزیری اور تادیبی اقدام کے امکانی پہلو سے پردہ اٹھایا ہے، اسے تخلیق نہیں کیاجو روایت کے بغیر بھی معلوم اور معروف توقع تھی۔ اس لیے اگر یہ روایت اس درجہ میں بھی آپ کوقبول نہیں تو نہ سہی، ہمیں بھی اس پر اصرار نہیں ہے، کیونکہ ہمارے مؤقف کی یہ اساس نہیں ہے بلکہ ایک ضمنی اور راہ چلتے استفادہ والی بات ہے کیونکہ وہ بات اصولی طور پر پہلے ہی ثابت ہے کہ جو اقدام وقتی بنیادوں کا مرہون منت ہوتا ہے اسے واپس لینا ہی ہوتا ہے، اس لیے توقع یہ ہے کہ انہوں نے واپس لے لیاہوگا ۔ اگر نہیں لیا جیسا کہ کچھ حضرات کاکہنا ہے تو اس پر ہم اس کے سوا اور کچھ نہیں کہہ سکتے کہ انہیں واپس لے ہی لینا چاہیے تھا۔ کیونکہ ان کا یہ اقدام رسول کریم ﷺ او رحضرت صدیق اکبرؓ کےتعامل سے مختلف ہے، خو د ان کے ابتدائی تعامل کےبھی خلاف ہے۔ وما من أحد إلا و یؤخذ من قوله و یترك إلا قول رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلم۔