تصنیف:حضرت مولانا عبدالرحمٰن کیلانی حفظہ اللہ
نام کتاب:"الشمس والقمر بحُسبان"
صفحات:تین سو اٹھائیس
شائع کنندہ:مکتبتہ السلامٗ وسن پورہ۔سٹریٹ نمبر20لاہور
سول ایجنٹ:دارالتذکیر142۔علامہ اقبال روڈٗ لاہور
اسلام ایک الہامی وربانی دین ہی نہیں بلکہ دین فطرت بھی ہے۔جس کے جملہ اوامر واحکام میں بےجا تکلف کی بجائے فطرت کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔
بالخصوص عبادات کے اوقات وایام کے تعین میں مظاہرِ قدرت وفطرتٗ چاند اور سورج کو معیار بنایا گیا ہے۔چنانچہ پنج وقتہ نمازوںٗ نمازِ چاشت وعیدین کے اوقاتٗ علاوہ ازیں روزہ کی افطاری وسحری کا تعلق سورج سے ہے۔
جبکہ ماہِ رمضانٗ یوم عید الفطر وعید الاضحیٰ اور یوم الحج کی تعین کے لیے چاند کو معیار بنایا گیا ہے۔قرآن مجید میں ایک مقام پر ہے۔
کہ:"سورج کے ڈھلنے سے رات گئے تک نماز کی اقامت کریں۔"
اور دوسری جگہ فرمایا﴿يَسـَٔلونَكَ عَنِ الأَهِلَّةِ قُل هِىَ مَو‌ٰقيتُ لِلنّاسِ وَالحَجِّ...﴿١٨٩﴾... سورة البقرة
یعنی"یہ لوگ آپ سے چاندوں کے بارے میں پوچھتے ہیںٗ آپ کہہ دیں کہ یہ لوگوں کے لیے اوقات کے تعین اور حج کے تعین کے لیے ذریعہ ہیں۔"
چونکہ چاند اور سورج کا اسلامی عبادات سے گہرا تعلق ہےٗ اس لیے قرآن مجید میں بہت سے مقامت پر مسلمانوں اور انسانوں کو کائنات میں بالعموم اور چاند سورج میں بالخصوص تدبر وتفکر کی دعوت دی گئی ہے۔چنانچہ ایک مقام پر ہے
﴿أَوَلَم يَنظُروا فى مَلَكوتِ السَّمـٰو‌ٰتِ وَالأَرضِ وَما خَلَقَ اللَّهُ مِن شَىءٍ ...﴿١٨٥﴾... سورة الاعراف
کہ:"کیا انہوں نے آسمانوںٗ زمینوں اور ان کے علاوہ اللہ کی پیدا کردہ چیزوں پر غور نہیں کیا"
اور ایک حدیث شریف کے مطابق سابقہ آسمانی الہامی کتابوں میں امت محمدیہ کو" رعاة الشمس "کہا گیا ہے یعنی یہ لوگ سورج کے نگہبانٗ رکھوالے اور خیال رکھنے والے ہوں گے تاکہ بروقت عبادات بجالاسکیں۔چاند اور سورج کے متعلقہ علوم کو اہل علم کی اصطلاح میں"علم فلکیات"یا"علم ہیئت"کہا جاتاہے۔چونکہ اس علم کا اسلام اور اسلامی عبادات کے ساتھ گہرا تعلق ہے اس لیے مسلمانوں کے لیے یہ علم انتہائی اہمیت رکھتا ہے مگر اس اہمیت کے باوصف چونکہ ذرا مشکل اور پیچیدہ بھی ہے اس لیے بالعموم اس کی طرف سے بے اعتنائی کی گئی ہے اور اس سلسلہ میں جس قدر علمی کام ہونا چاہئے تھاٗ نہیں ہوسکا۔
اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائیں بزرگوارِ محترم حضرت مولانا عبدالرحمٰن صاحب کیلانی کوٗ کہ جنہوں نے وقت کی ضرورت کے مدنظر اس اہم اور مشکل موضوع پر قلم اٹھا کر" الشمس والقمر بحسبان "کے نام سے جامع کتاب تصنیف فرما کر موجودہ امت کی طرف سے فرضِ کفایہ اداکر دیا ہے۔
یہ کتاب کس قدر مبارک ہے کہ قرآن کریم کی ایک مختصر سی آیت اس کا زیبِ عنوان ہی نہیں بلکہ موضوع پر دلالت کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا ذکر کرنے والے کے لیے ڈیڑھ سو نیکیوں کی نوید اور اس آیت کی تفسیر ہے۔
مولانا موصوف عمر رسیدہ ہونے کے باوجود بڑے باہمت اور جواں عزم رکھتے ہیں۔
تھوڑے ہی عرصہ میں اسلام اور جمہوریتٗ آئینہ پرویزیتٗ مترادفات القرآنٗ روحٗ برزخ اور عذابِ قبر وغیرہ جیسے اہم اور مشکل عنوانات پر ضخیم اور اہم علمی کتابیں تصنیف وشائع کرکے اہلِ علم سے داد حاصل کرچکے ہیں۔اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ!آمین
تقریباً سواتین سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب"بقامت کہترو بقیمت بہتر"کی عین مصداق ہے۔کہ مصنف موصوف نے مشکل ترین موضوع کو اس قدر سہلٗ عام فہم اور دلچسپ انداز سے اس میں یوں سمو دیا ہے کہ قدردان کتاب کو شروع کرے تو پڑھتا ہی چلاجائے۔اور کتاب کے اختتام تک دلچسپی برقرار رہے۔
کتاب میں علمِ ہیئت سے متعلقہ تقریباً تمام اہم مباحث آگئے ہیں۔مثلاً قمری تقویم کی اہم خصوصیاتٗ مہینوں اور ہفتہ کے ایام کے مختلف زبانوں میں نام اور ان کی وجوہِ تسمیہٗ روئیتِ ہلال واختلافِ مطالعٗ مطلع کی حقیقتٗ ایک سو ممالک کے معیاری اوقاتٗ اسلام اور موجودہ سائنسی نظریاتٗ دائمی نقشہ اوقاتِ طلوع فجروآفتاب وزوال وغروب آفتاب برائے لاہور شہرٗ دو شہروں کے اوقات کا فرق معلوم کرنے کا اصول اور تاریخ اسلام کے اہم واقعات کے ہجری وعیسوی سنین بقید ماہ وسال وغیرہ۔یہاں یہ بات بھی قارئین کے علم میں لانا ضروری ہے کہ کتاب میں موجود اکثر اصول اور فارمولے خود مصنف موصوف کی ذہنی کاوش کا نتیجہ ہیں۔اور آپ نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے علم فلکیات جیسے اہم موضوع پر اپنی گرانقدر تحقیقات سے نوازا ہے جس پر بجاطور پر آپ مبارکباد کے مستحق ہیں۔
مجموعی طور پر یہ کتاب تین حصون پر مشتمل ہے۔حصہ اول میں علمِ ہیئت کے نظریات اور اسلامی نظریات۔حصہ دوم میں ہجری وعیسوی سنین کے دن معلوم کرنے اور ان کے مابین مطابقت کے طریقےٗ اور حصہ سوم میں 1ھ سے1680ھ تک یعنی 622ءسے2252ءتک کی تقابلی تقویم شامل ہے۔
اس کے مطالعہ سے عیسوی تقویم کے مقابلہ میں ہجری وقمری تقویم کی افادیت واہمیت واضح ہوتی ہے۔خلاصہ اینکہ یہ کتاب بڑی مفیدٗ معلوماتی اور جامع ہونے کی بنا پر ہر صاحب علم اور ہر علمی ادارہ کی لائبریری کی ضرورت ہے۔کتابتٗ طباعتٗ کاغذ اور ٹائیٹل نہایت عمدہٗ ظاہری ومعنوی محاسن سے مزین ومرصع اور قیمت بھی انتہائی مناسب۔
جملہ اہل علم کو ضرور اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہئے۔واللہ الموفّق وھو ولی التوفیق