ہم عصر مخالفین کا سیوطی سے حسدوبغض
آپ نے اُمراءوسلاطین سے ہمیشہ گریز کیا۔آپ کے ہم عصر علماء آپ پر آپ کے علمٗ مزاج عادات اور مؤلفات کی کثرت کی وجہ سے بے جاالزامات اور اعتراضات کرتے رہے۔آپ کو اپنے علمٗ مزاجٗ وہبی خصائصٗ عادات اور کثرتِ مولفات کی وجہ سے بے پایاں شہرت ملی جو آپ کے ہمعصر علماء کو نہ مل سکی۔آپ کی مقبولیت اور شہرت پر حسد کی وجہ سے آپ کے ہمعصر علماء آپ پر بے جاطعن اور اعتراضات کرتے رہے جیسا کہ ہر دور میں ہمعصر لوگ کرتے آئے ہیں۔
اس علمی حسد کا اظہار ابن عبد البر نے"جامع بیان العِلم وفضلہ"میں بھی کیا ہے۔حالانکہ وہ سیوطی سے زیادہ صاحبِ علم وتقویٰ تھے وہ بھی ان کے حاسدین میں سے تھےٗ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے
العلماء اشد تغايراً من التيوس في زروبها
یہی وجہ ہےکہ اہل علم اور جرح وتعدیل کے فن سے تعلق رکھنے والے محدثین نے یہ اصول قائم کیا ہے کہ حاسدین کا ایک دوسرے کے بارے میں کوئی قول یارائے قبول نہ کی جائے۔اسی حسد کی وجہ سے آپ کے معاصرین نے آپ کے خلاف کئی کتابیں لکھیں اور خود سیوطی اور ان کے مؤیدین نے ان کے جوابات بھی تحریر کئے۔اور یوں علمی مسائل کے متعلق ان کے درمیان محاذ قائم رہا۔
اس انداز کا علمی اختلاف بعض اوقات علمی افادہ کا باعث بھی ہوتا ہے۔
چنانچہ ان کے زمانہ میں اہل علم کے دو گروہ بن گئے تھے۔سیوطی کے مخالفین کی قیادت سخاویؒ کرتے تھے اور ان کے مؤیدین میں ابن الکر کی برہان الدین بن زین الدین(متوفی922ھ) ٗ ابن الطیف احمد بن حسین مکی تلمیذ الجوجری(متوفی926ھ) ٗ شمس جوجریٗ احمد بن محمد قسطلانی(متوفی923ھ)اور شمس الدین البانی وغیرہ تھے۔
اور ان کے بالمقابل دوسرے گروہ کی قیادت خود سیوطیؒ کررہے تھے۔ان کے حامی اور مؤیدین میں فخردیمیٗ امین الدین اقصرانیٗ زین الدین قاسم حنفی اور سراج الدین عبادی وغیرہ تھے۔
دونوں گروہوں کے مابین طویل عرصہ تک ایک دوسرے سے تہمتوںٗ نقائصٗ الزاماتٗ بُرا بھلا کہنے اور عیوب ونقائص نکالنے کے تبادلے اور مخالفت رہی۔اور ایک دوسرے کے خلاف بہت سے رسائلٗ مقامات اور کتابیں تالیف کی گئیں۔جنہوں نے دونوں فریقوں کا بہت ساوقت برباد کیا۔
سخاویؒ وغیرہ کے رد میں سیوطیؒ کی تالیفات
جیسا کہ اوپر گزرا کہ سیوطی اور سخاوی کے درمیان شدید نزاع رہا۔متنازعہ مسائل کے رد اور اپنے دفاع میں سیوطیؒ نے جو کتابیں تصنیف کیںٗ ان میں سے بعض یہ ہیں
(1) الکاوی فی تاریخ السخاویؒ ٗ جسے شوکانیؒ نے"الکاوی لدماغ السخاویؒ"لکھا ہے
(2) الجواب الترکی عن قمامتہ ابن الکرکی
(3) القول المجمل فی الرد علی المہل
(4) الدوران الفلکی والصارم الھندی فی عنق ابن الکرکی
(5) الحبل الوثیق فی نصرۃ الصدیق(شمس جوجری کے ردّ میں)
(6) الجہر بمنع ابروز الی النہر
(7) الفتاش علی القشاش
(8) المقامتہ اللؤلؤیہ
(9) الاستنصار بالواحد القہار
(10) الجنح الی الصلح
(11) تنزیہ الانبیاء عن تسفیہ الاغیاء
(12) طرز العمامہ فی التفرقہ بین المقامتہ والقمامتہ
سیوطی کے چند تفرداتٗ جن کے بارے میں جوابی کتب لکھی گئیں
1.   اپنے متعلق اجتہاد کا دعویٰ
2.   اپنے متعلق نویں صدی ہجری کے مجدّد ہونے کا دعویٰ
3.   آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کی نجات کا مسئلہ
4.     قبر میں میت سے سات بار سوال و جواب کیے جانا
5.     تحریم ابروز بالبناء علی شفوط الانھار
6.     ماضی کے واقعات پر بھولے سے قسم اٹھا کر اسے توڑنا
7.     الصلوٰۃ الوسطیٰ سے ظہر کی نماز مراد ہے
8.     موضوع حدیث روایت کرنے والے کی سزا
9.       بحالتِ بیداری آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور فرشتہ کی رؤیت کا امکان
10.     الشفاء کے آخر میں قاضی عیاض کی عبارت کا صحیح تلفظ
11.   بکریاں چرانا وغیرہ ٗ جو کام پسندیدہ نہیں اس قسم کے کاموں کی انبیاء کے بارے میں ضربْ المثل کا عدمِ جواز
سیوطی پر سخاؔوی کی بعض اعتراضات اور ان کے جوابات
سخاوی اور ان کے مؤیدین نے سیوطی پر جو اعتراضات وارد کئے ہیں۔
(1) ان میں سے ایک یہ ہے کہ سیوطی نے غربت میں پرورش پائی اور غربت میں زندگی بسر کی۔ (ابن الکرکی) سیوطی نے طرزْ العمامہ میں اس کا جواب یہ دیا ہے کہ میرے لیے غربت کوئی عار نہیں۔ بلکہ یہ تو مجھ پر اللہ کا احسان اور میرے لیے باعثِ فخر ہے۔
اہل علم کا قول ہے کہ صاحبِ مروّت آدمی مال پر فخر نہیں کرتا۔    
سیوطی نے ذکر کیا ہے کہ میں نے اپنے والد کے متروکہ مال پر زندگی گزاری اور گھر میں سے کسی نے میری کفالت نہیں کی۔
ابن الکرکی نے مجھ پر غربت کا اعتراض کیا ہے حالانکہ وہ تو خود غریب تھا۔ وہ حیّ الصلیبیّہ کے زمہ میں گوّیا ٗ جامع الطولونی میں مؤذّن اور مدرسہ اشرفیہ میں پڑھتا تھا ٗ یہ میلاد اور ختم پڑھتا ٗ امراء و حکام کے پاس آتا جاتا اور ان کی حاشیہ برداری کرتا رہا ہے۔
(1) ان لوگوں کی طرف سے سیوطی پر دوسرا اعتراض یہ کیا گیا کہ یہ اپنےآپ کو لوگوں سے برتر سمجھتے اور تکبر کرتے ہیں حتیٰ کہ اپنی والدہ کا بھی خیال نہ رکھتے اور وہ اکثر ان سے شاکی رہیں۔ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ لوگ جانتے اور تاریخ میں یہ بات محفوظ و موجود ہے کہ ان کی والدہ کی وفات سیوطی کے بعد ہوئی اور وہ اکثر ان کی قبر کی زیارت کو آیا کرتی تھیں۔ انہوں نے ان کی قبر پر شاندار عمارت تعمیر کرائی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سیوطی اپنی والدہ کا اِکرام کرتے تھے وہ بھی ان سے راضی اور خوش تھیں۔
(2) مخالفین نے سیوطی کے متعلق کہا کہ یہ کسی بھلائی کے قابل نہیں۔ یہ اپنے کسی محسن کا شکریہ ادا نہیں کرتے۔ کیونکہ برہان کرکی نے کوشش کر کے انہیں اوقاف کا ناظم مقرر کر دیا ٗ ان کا وظیفہ دْگنا کر دیا ۔ مگر اس سب کچھ کے باوجود   سیوطی نے اپنے بہت سے مقامات (رسائل) میں ان کو تحکمانہ انداز میں برا بھلا کہا اور بدسلوکی کا مظاہرہ کیا۔
سیوطی اس اعتراض کا جواب دیتے ہیں کہ اس بارے میں کرکی کا مجھ پر کوئی احسان نہیں۔ بلکہ یہ تو میرا علوِشان اور استحقاق تھا جس کی وجہ سے ان حضرات کو یہ سب کچھ کرنا پڑا۔ باقی رہا وظیفہ کا اضافہ تو یہ بادشاہ کا مجھ پر انعام و اکرام ہے۔ میرے متعلق اس بارے میں قاضی قطب الدین فیفری رحمتہ اللہ نے بادشاہ سے بات کی اور قاضی تاج الدین ابن الجیعان نے دفتر میں اسے قلم بند کیا۔
(1) سیوطی پر ان لوگوں کا ایک اعتراض یہ ہے کہ وہ بڑے جھوٹے تھے۔ غلط قسم کے دعوے کیا کرتے تھے۔
مثلاً انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے قمیصیؒ محدّث کے سامنے مسندِ شافعی ایک دن میں پڑھی جبکہ قمیصی نے کہا ہے کہ کتاب کا کچھ حصہ باقی رہ گیا تھا۔ ایسے ہی سیوطی نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنی کتاب "النفحتہ المسکیتہ والتحفتہ الملکیتہ" کو ابن المقری کی کتاب "عنوان الشرف" کے انداز پر مکہ میں تالیف کیا۔
نیز یہ انہوں نے "الفیتہ الحدیث" پانچ دنوں میں تالیف کی۔
مسندِ شافعی کی ایک دن میں قرات کے متعلق شوکانی نے جواب دیا ہے کہ سیوطی کے اس دعویٰ سے کتاب کا اکثر حصہ مراد ہو سکتا ہے اور اکثر حصہ کو کل کہہ دیا جاتا ہے۔ ( کما ھوالمعروف عند الناس )
"النفحہ" اور "الفیتہ" کےمتعلق لکھتے ہیں کہ یہ کوئی بعید نہیں یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عطا کرے۔
(1) سیوطی پر ان لوگوں کا ایک اعتراض یہ ہے کہ چونکہ وہ علمِ حساب سے ناواقف تھے لہٰذا وہ کند ذہن تھے۔
شوکانی نے اس کا جواب دیا ہے کہ ذکی لوگوں کو علم حساب بہت کم آتا ہے ویسے سب جانتے ہیں کہ سیوطی علم المیقات اور علم میراث کے بڑے ماہر تھے اور ان دونوں کی بنیاد علم حساب پر ہی ہے۔
ہاں البتہ خود سیوطی کو اعتراف ہے کہ وہ علمِ حساب سے منہ موڑ گئے تھے اس لیے کہ یہ ان کیلئے بڑا ثقیل موضوع تھا۔
(1) ایک اور اعتراض یہ ہے کہ وہ براہِ راست اہل علم کی بجائے ان کی کتابوں سے استفادہ اور حصولِ علم کے قائل تھے۔ وہ اہل علم و فضل کی علمی محافل و مجالس میں شریک نہ ہوتے اس لیے اہل علم کی عبارات کا صحیح مفہوم و مراد نہ سمجھ سکنے کی وجہ سے بکثرت تحریف و تصحیف کے مرتکب ہوئے۔
شوکانی اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ آپ کی تالیفات موجود ہیں جن میں کوئی تحریف نہیں اور ان کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ وہ تمام بلاد میں پھیل چکی ہیں۔
(1) ایک اعتراض یہ ہے کہ انہوں نے مکتبہ محمودیہ وغیرہ سے مختلف فنون کی بہت سی ایسی کتابیں حاصل کر لیں جن تک ان کے اکثر ہم عصر علماء کی رسائی نہ تھی۔
ان کتابوں میں کچھ تبدیلیاں ٗ تقدیم و تاخیر وغیرہ کر کے انہیں اپنی طرف منسوب کر دیا مثلاً ان کی سب سے پہلی کتاب جو تحریمِ منطق کے متعلق ہے اسے آپ نے ابن تیمیہ کی کتاب سے تلخیص کیا ہے۔
اس اعتراض کے جواب میں شوکانی کہتے ہیں کہ: مصنّفین کا طریقہ ہے کہ وہ گزشتہ اہل علم کی کتابوں سے انداز اور دلائل اخذ کیا کرتے ہیں اور افضل تو یہ ہے کہ کسی قول کو صاحبِ قول کی طرف نسبت کر دیا جائے۔
جبکہ خود سیوطیؒ ٗ حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ پر اعتراض کیا کرتے تھے کہ وہ سیوطی کی کتابوں سے بیہقی کے اقوال کو ان کتابوں کی طرف نسبت کیے بغیر نقل کر دیتے ہیں۔ اور باقی رہا مسئلہ مکتبہ محمودیہ کی کتاب کا ٗ تو یہ تمام کتابیں ان سے پہلے حافظ ابن حجر کی نگرانی میں اور ان سے پہلے فخر عثمان المعروف بکری طاغی کی تحویل میں تھیں۔ اور یہ بات نہیں کہی جا سکتی کہ ان دونوں میں سے کسی نے ان کتابوں سے اس طرح اخذ کیا ہو حالانکہ وہ ایسا کرنا چاہتے تو ان کیلئے ممکن تھا۔
تو ایسی بات سیوطی کے متعلق کیوں کر کہی جا سکتی ہے۔ حالانکہ عین ممکن ہے کہ ایسی کتاب کا غیر معروف مصنف مرتبہ میں سیوطی سے کم تر ہو
(1) سیوطی پر ایک اور اعتراض یہ ہے کہ انہوں نے حافظ ابن حجر کی بیشتر تصانیف سے سرقہ اور ان میں کچھ تبدیلیاں کر کے ان کتابوں کو اپنی طرف نسبت کر لیا جیسا کہ مندرجہ ذیل کتابوں میں ایسا ہوا ہے
عین الاصابہ
النکت البدیعات علی الموضوعات
نشر العبیر فی تخریج احادیث الشرح الکبیر
کشف النقاب عن الالقاب
تحفتہ النابتہ بتلخیص المتشابہ
لباب النقول فی اسباب النزول
المدرج فی المدرج
تذکرۃ الموتسی بمن حدّث و نسی
مارواہ الواعون فی اخبار الطاعون
اسماء المدَ لسین وغیرہ
اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ خود سیوطی تصنیف و تالیف کی صلاحیت رکھتے تھے۔ اور بعد میں آنے والے مصنف کا تاریخی حقائق کے سلسلہ میں اپنے سے پہلے اہل علم سے استفادہ ضروری ہوتا ہے۔
کتاب کے چوری کرنے اور تالیف کرنے میں واضح فرق ہے جیسا کہ اس موضوع پر خود سیوطی کا رسالہ "الفارق بین المؤلف والسارق" بھی موجود ہے
ایک اعتراض: "الفیتْہ الحدیث" للعراقی کی "شرح زکریا انصاری" میں ہے کہ سخاوی کی غیر موجودگی میں فتح المغیث کی مدد سے سیوطی نے الفیہ تالیف کیا۔ علامہ سخاوی اس پر بڑی حیرانگی اور تعجب کا اظہار کرتے ہیں۔
حالانکہ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ فنون ٗ علوم اور تالیف کے سلسلہ میں جو اہل علم سیوطی کی مہارت اور تجربہ سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہ شروع میں تو دوسروں کی کتابوں کی تلخیص و اختصار کیا کرتے تھے بعد میں مستقل کتابیں تصنیف کرنے لگے۔ البتہ ان میں سابقین اہل علم کی کتابوں سے استفادہ کیا ٗ جیسا کہ ہمارے پیش نظر کتاب "تدریبْ الراوی" میں وہ زین الدین عراقی ٗ زرکشی اور بلقینی وغیرہ کی عبارات کی تلخیص کرتے ہیں اور بسا اوقات سیوطی جب کسی مصنف کی اصل اور مکمل عبارت نقل نہ کریں تو اصل مصنف کی طرف اس کی نسبت بھی نہیں کرتے۔
یہ الزام جیسے سخاوی نے سیوطی پر لگایا اسی طرح جواباً سیوطی نے بھی سخاوی پر یہی الزام عائد کیا ہے۔
(1) سیوطیؒ پر ایک اور اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ آپ تو اپنے مجتہد ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ آپ صحیح معنوں میں صاحبِ علم وفن ہی نہیں ہیںٗ اسی لیے تو آپ کے ہمعصر آپ کے مخالف ہوگئے اور آپ کا ساتھ چھوڑ گئے۔
شاید یہ الزام اور اعتراض سیوطی کے حاسدین کی طرف سے بغض وعناد اور حسد کی انتہا تھی کہ انہوں نے بعض ایسے گھٹیا اعتراض بھی آپ پر کئے جو آپ پر وارد نہ ہوتے تھے اور مخالفین نے ناانصافی کرتے ہوئے آپ پر ایسے حملے کئے۔مگر سیوطی بڑی نرمی سے مخالف کی باتوں کا جواب دیتے اور اپنا دفاع کرتے رہے۔
انہوں نے"الردعلی من اخلد الی الارض"میں ذکر کیا ہے کہ میں نے مستقل اجتہاد کا نہیں بلکہ اجتہاد مطلق کا دعویٰ کیا ہے جو امام شافعی کے تابع ہے۔انہوں نے شافعی کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اجتہاد میں انہی کا انداز اختیار کیا ہے اور ان کا شمار بھی اصحابِ شافعی میں ہوتا ہے نیز یہ کہ اجتہادِ مطلق کا مرتبہ مقید اجتہاد سے بلند تر ہوتا ہے۔کیونکہ مقید اجتہاد کرنے والا شخص علم حدیث اور عربی زبان سے تہی دامن ہوتا ہے جبکہ سیوطی ان دونوں میں اپنے تمام ہم عصروں سے زیادہ علم رکھتے تھے۔
نیز انہوں نے ذکر کیا ہے کہ اجتہاد کا دروازہ ہر دَور میں کھلا ہے اور کوئی زمانہ مجتہد سے خالی نہیں ہوتا۔سخاوی وغیرہ اہل علم نے ابنِ حاجب اور عضد کا جو قول نقل کیا ہے کہ کوئی دور ایسا بھی آسکتا ہے جب کوئی مجتہد نہ ہو۔تو اس یا تو مستقل مجتہد مرادلیا جائے گا یااس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایسا ہونا عقلی طور پر تو ممکن ہے شرعی طور پر نہیں۔
مدرسہ شیخونیہ کے استاد ابن الکرکی کی تردید میں سیوطی"طرزالعمامہ"میں رقمطراز ہیں
کہ"آپ نے فرضیت اور تاثیم کے متعلق جو کچھ ذکر کیا ہے وہ تو ہمارا موقف ہے جو ہمارے آئمہ اصحاب کی تمام کتب میں منقول ہے اور ہمارے آئمہ ماوردیٗ رویانیٗ شہر ستانیٗ امام الحرمینٗ بغویٗ زبیریٗ محلیٗ قاضی حسینٗ ابن سراقہٗ غزالیٗ رافعیٗ ابن الصلاح نے ادب الفتیا میںٗ لووی نے شرح مھذب اور الروضہ الطیا میںٗ ابن الرفعت نے المطلب اور الکفایہ میںٗ زرکشی نے قواعد اور بحر میں ذکر کیا ہےٗ اور اس بارہ میں ان میں سے کسی سے بھی کوئی اختلاف منقول نہیں۔
ابن حاجب نے عضدالدین کے کلام کی جو پیروی کی ہے اس کا تعلق صرف عقلی جواز یعنی امکان سے ہےٗ اس کا کوئی شرعی جواز نہیں۔
حق یہ ہے کہ سیوطی اجتہادِ مطلق کے یقیناً اہل تھے اور اہل اصول نے اجتہاد مطلق کیلئے جو شرائط ذکرکی ہیں آپ میں وہ تمام شرائط بدرجہ اتم موجود تھیں۔آپ احکام سے متعلقہ آیات واحادیث اور شروطِ قیاس کے عالم اور اس کے ساتھ ساتھ اجماع واختلاف کے مواقع کو خوب جانتے تھے۔آپ نے عملی طور پر امام شافعی کے مذہب کے مطابق صرف مسائل کی تخریج وتوضیح کااجتہاد کیا۔
اعتراض      آپ اپنی زبان وقلم سے اپنے مشائخ عضدالدین اور السید الرضی وغیرہ کی طرف بعض ایسی باتیں منسوب کردیتے تھے جن کی آپ کے پاس کوئی ٹھوس دلیل نہ ہوتی تھی۔
آپ نے دعویٰ کیا کہ السید کا قول ہے کہ حرف کا نہ تو کوئی ذاتی معنی ہوتا ہے اور نہ وہ کسی دوسرے کے معنی پر دلالت کرتا ہے جب اس قول کی چھان بین کی گئی تو بتایا کہ انہوں نے یہ بات مکہ میں کسی عالم سے سنی اور ان کی تقلید میں اسی طرح کہہ دی۔
اس بات کو اگر بالفرض تسلیم کربھی لیا جائے تو یہ ان کے اولین دور کی بات ہو سکتی ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے زمانہ میں السید اور دیگر تمام نحویوں کے اقوال کے بارہ میں سب سے زیادہ علم رکھتے تھے۔
سخاوی کے متعلق شوکانی کا تبصرہ
امام شوکانی کہتے کہ علامہ سخاوی نے اپنی تاریخ میں سیوطی اور دیگر بہت سے اہل علم کے بارے میں اس قسم کی بہت سی باتیں لکھی ہیں۔
شوکانی کا کہنا ہے کہ سخاوی اکابر اہل علم پر بہت حملے کیا کرتے تھے اور اکثر اہل علم ان کے حملوں سے محفوظ رہ سکے۔ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں:اپنے ہم عصر فضلاء کے بارے میں سخاوی کا یہی انداز ہے۔
شوکانیٗ سخاوی کی کتاب"الضوءاللامع"کے بارے میں لکھتے ہیں:کاش کہ وہ اپنی اس عظیم کتاب کو اپنے ہم عصر اکابر اہل علم پر طعن وتشنیع سے پاک رکھتے۔
انہوں نے"برہان البقاعی"کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ علماء کے مرتبہ کو نہیں پہنچ سکے۔زیادہ سے زیادہ انہیں اہل فضل میں شمار کیا جاسکتا ہے۔فن کے بارے میں ان کا علم پختہ نہیں۔
شوکانی کہتے ہیں:حالانکہ بقاعی تمام علوم وفنون میں بحر ذخار اور علم کا سمندر تھےٗ وجہ صرف یہ ہوئی کہ وہ سخاوی سے نالاں تھے۔اسی طرح سیوطی بھی بقاعی سے کچھ گریزاں رہتے تھے۔سیوطی نے اپنے رسالہ"تنبیہہ الغبی بتبرئتہ ابن العربی"میں بہت نارَوا الفاظ لکھے ہیں حالانکہ جن مسائل میں بقاعی کا شذوذ اور تفرو ہے محض ان کی بنا پر وہ اہل علم کے زمرہ سے خارج قرار نہیں پاتے۔
البدر الطالع کے مصنف(شوکانی)لکھتے ہیں کہ سخاوی ایک بہت بڑے امام تھے مگر وہ اپنے ہم عصر اکابر پر بہت زیادہ حملے کیا کرتے تھےٗ ان کی کتاب"الضوء اللامع"پڑھنے والے کو یہ تمام باتیں معلوم ہیں کہ سخاوی دیگر اہل علم کو کوئی اہمیت نہیں دیتے بلکہ اکثر اہل علم ان کی زیادتیوں سے نہیں بچ سکے۔البتہ وہ اپنے اساتذہٗ تلامذہ اور ان لوگوں کی تعظیم کرتے ہیں جو نویں صدی ہجری کے اوائل میں ان کی موت سے قبل وفات پاچکے یاوہ جو دوسرے شہروں سے تعلق رکھتے تھے یا جن سے خیر اور بھلائی کی انہیں توقع ہوتی یا جن کے شَر کا خوف ہوتا۔ان کی بھی خوب تعظیم کرتے۔
علامہ سخاوی نے اپنی کتاب"الضوء اللامع"میں عبدالباسط بن یحیی شرف الدین کے تذکرہ میں کیا شاندار لکھا ہے کہ جو فقہاء ایک دوسرے کی تنقیص کا رویہ اختیار کرتے ہیںٗ صاحب تذکرہ(عبد الباسط)نے صراحت کے ساتھ ان پر نکیر کی۔ابن الکرکی وغیرہ ہمعصر علماء کی طرف سے اور اکثر اعتراضات جو سخاوی کی طرف سے کئے گئےٗ سیوطی نے"طرزالعمامہ"میں ان تمام اعتراضات کو تین قسموں میں تقسیم کیا ہے۔
(1) وہ اعتراضات جو محض سب وشتم اور غیبت کی قسم سے ہیں انہوں نے ذکر کیا ہے کہ وہ ان اعتراضات کا جواب نہیں دیں گے۔
(2) ان حضرات کی طرف سے اعتراضات کی دوسری قسم یہ ہے کہ میں(سیوطی)نے کچھ علمی مسائل کا انکار کیا ہےٗ میں ان اعتراضات کا جواب دوں گا۔
(3) تیسری قسم کے اعتراضات میں پہلی دونوں قسمیں ملی جُلی ہیں۔ان میں سے اکثر کا جواب چھوڑ دیا ہے۔
ابن الکرکی نے ایک اعتراض یہ کیا ہے کہ سیوطی کی والدہ فارسی النسل اُمِّ ولد ہیں۔آپ نے"طرزالعمامہ"میں اس کا جواب دیا ہے۔
ماضی کے واقعات پر بھولے سے قسم اٹھا کر توڑنے کا جواب"تذکرۃ اولی الالباب" ٗ "رسالتہ المستنصریتہ" اور"الصلوۃ الوسطی انھا صلوۃ الظہر"میںٗ حدیثِ موضوع روایت کرنے والے کی تعزیر کے انکار کا جواب"الاستنصار بالواحد القہار"اور"الفتاش علی النقاش"میںٗ "حرمتہ البروز بالبناء علی النہر"کے انکار کا جواب"الجھر بمنع البروز الی النہر"میںٗ جوجری کے قرآن میں تفضیل ابی بکر کے انکار کا جواب"الحبل الوثیق"میںٗ انبیاء کے متعلق بکریاں چرانے وغیرہ کی ضرب المثل کا جواب"تنزیہ الانبیاء عن تسفیہ الاغیاء"میں اور جواز اجتہاد اور اپنے مرتبہ اجتہاد تک پہنچنے کا اثبات"الرد علی من اخلد الی الارض"میں کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیوطی کی طرف سے دفاعی اور جوابی کاروائی
سخاوی نے"الضوء اللامع"میں سیوطی کا تذکرہ جس انداز سے کیا ہے اس کے جواب میں سیوطی نے"نظم العقبان"اور"مقاماتِ سیوطی"میں سخاوی کا تذکرہ انتہائی سخت الفاظ میں کیا ہے۔اس میں زبان انتہائی شدید اور الفاظ جارح اور انداز تحکمانہ ہے اور اس میں آپ نے حد سے تجاوز اور بڑائی کا اظہار واعلان اور اپنا دفاع کیا ہے۔
آپ نے سخاوی کے ردّ میں بعض مستقل رسائل اور ابن الکرکی کے رد میں مقامات لکھےٗ سخاوی نے آپ کے جو عیوب ذکر کئے اور آپ پر جھوٹٗ جہالت اور سرقہ کے جو الزامات لگائے جوابی کاروائی کرتے ہوئے سیوطی نے بھی وہی عیوب اور الزامات سخاوی پر لگائے ہیں۔مثلاً سیوطی نے لکھا ہے کہ"الضوءاللامع"میں سخاوی نے بھی لوگوں کی عزت ومقام اور ائمہ کی شان میں تنقیص کی اور ان پر جھوٹ باندھے ہیں۔
"الدوران الفلکی"میں"الضوءاللامع"کے متعلق لکھتے ہیں کہ سخاوی کی یہ کتاب لوگوں کی غیبت اور پر جھوٹ سے پُر ہے۔اس لیے میں نے"الکاوی فی تاریخ السخاوی"کے نام سے ایک"مقامہ"تحریر کیا ہے جس میں علماء اور ائمہ کی عزت کا دفاع کیا اور اس کی تاریخ کی اساس کو گرایا ہے۔
انہوں نے"الکاوی"میں یہ بھی ذکر کیا ہے کہ سخاوی نے بلقینیٗ قایاتیٗ قرقشندیٗ مناوی اور ان کے ہم نواائمہ اعلام اور مشائخِ اسلام کی شان میں بدتمیزی کی ہے اور شعراء حضرات نے اپنے قصائد اور نظموں میں جو ہجویہ اشعار کہے ہیں وہ تمام ان مشائخ وائمہ پر چسپاں کئے ہیں۔"الکاوی"میں اس سے زیادہ وضاحت یاتفصیل نہیں ہے۔
سیوطی نے ایک اور بات بھی لکھی ہے کہ سخاوی نے حدیث اور سنت کے بارے میں جو کتابیں تالیف کی ہیں ان میں سے اکثر حافظ ابن حجر عسقلائیؒ کے وہ مسودات ہیں جو انہیں مل گئےٗ اور سخاوی نے ان کو اپنی طرف منسوب کرلیا۔مثلاً "قلم الاظفار"کے نام سے سخاوی کی جو کتاب ہے اس میں ان اُمور کا بیان ہے جن کے سبب قیامت کے روز عرش الہٰی کا سایہ نصیب ہوگا۔اس میں سخاوی نے"فتح الباری"سے حافظ ابن حجرؒ کا کلام بعینہ نقل اور سرقہ کرکے اپنی کتاب بنا کر مشہور کردی۔
سیوطی نے مزید لکھا ہے کہ سخاوی اگرچہ احادیث لکھتے ہیں تاہم وہ فقیہہ نہیں اور نہ ہی انہیں اصولِ فقہ اور علومِ اجتہاد سے کچھ تعلق ہے۔
چنانچہ"مسالک الحنفاء"میں سیوطی رقم طراز ہیں:اللہ کا شکر ہے کہ مجھے حدیثٗ فقہٗ اصولٗ عربی لغتٗ معانی ٗبیان وغیرہ تمام علوم وفنون میں خوب مہارت ہے اس لیے میں خوب جانتا ہوں کہ میں کیسے بولتا ہوں؟کیا کہتا ہوں؟کیفیتِ استدلال اور امور ترجیح سب کچھ خوب جانتا اور سمجھتا ہوں۔اور اے میرے بھائی(سخاوی)(اللہ مجھے اور آپ کو توفیق سے نوازے!آمین)آپ یہ کام نہیں کرسکتےٗ کیونکہ آپ نہ تو فقہ جانتے ہیں اور نہ اصول اور نہ ہی دیگر فنون۔حدیث کے بارے میں کلام اور اس سے استدلال کرنا کوئی آسان کام نہیں۔حدیث اور استدلال کے میدان میں وہی شخص آگے بڑھے جو ان تمام علوم کا عالم اور انہیں خوب سمجھتا ہو۔
لہٰذا آپ جس مرتبہ اور مقام کے ہیں وہیں ٹھہرے رہیں اور آگے مت بڑھیں مثلاً جب آپ سے کسی حدیث کے متعلق پوچھا جائے تو آپ صرف اتنا بتائیں کہ یہ حدیث وارد ہے یاوارد نہیں اور اسے حفاظِ حدیث نے صحیحٗ حسن یاضعیف کہا ہے۔فتویٰ دینا بھی آپ کو مناسب نہیں کیونکہ آپ اس کے اہل ہی نہیں ہیں۔آپ یہ کام ان کے لیے رہنے دیں جو اس کی اہلیت وصلاحیت رکھتے ہیں۔
آپ نے یہ سب اس وقت لکھا جب آں حضرت کے والدین کی نجات کے مسئلہ پر سخاوی نے آپ کا رد لکھا۔
سیوطی نے سخاوی پر اعتراض کرتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ سخاوی کو علم سے کوئی سروکار نہیں۔جو کام شرعاً ممکن ہو یہ اسے محال اور ناممکن کردیتے ہیں اور اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں۔
"تنویر الحلک فی امکان رویتہ النبی والملک"میں لکھتے ہیں کہ ہمارے ہمعصر لوگوں کی ایک جماعت نےٗ جنہیں علم سے کوئی سروکار نہیں اس کا انکار اور اس پر تعجب کا اظہار کرکے اس کے محال ہونے کا دعویٰ کیا ہےٗ اس لیے میں نے یہ رسالہ تحریر کیا ہے۔سیوطی مزید لکھتے ہیں کہ سخاوی عربی زبان سے بھی ناواقف ہیں اور ان کا یہ عالم ہے کہ ان کے خلاف دلائل پیش کرکے غلطی ثابت اور واضح کردی جائے تو بھی حق کی طرف مراجعت نہیں کرتے۔
"الویتہ النصر فی خِصّیصی بالقصر"میں لکھتے ہیں کہ قاضی عیاض نے اپنی کتاب الشفاء کے خاتمہ میں دعا کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وبخصنا بخصيصی زمرة بنينا و جماعة اس جملہ میں واقع لفظ"خصیصی"کے بارے میں سخاوی لکھتے ہیں کہ اس میں یاء ساکن ہے اور یہ لفظ خِصیص کی جمع اور مابعد کی طرف مضاف ہے۔
شیخ امین الدین اقصرائیٗ شیخ زین الدین قاسم حنفیٗ سراج الدین عبادی اور حافظ فخری دیمی وغیرہ اہل علم نے اس لفظ کے متعلق یہی لکھا ہے۔
لیکن اس کے برعکس سیوطی کا دعویٰ یہ تھا کہ یہ لفظ مقصور(یعنی اس کے آخر میں الف مقصورہ)مفرد مونث ہے۔انہوں نے اس کے متعلق ان تمام اہل علم کو لکھا اور انہیں علماء کی تحریرات سے مطلع کیا تو ان تمام نے سیوطی کی بات کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی تحقیق کی طرف رجوع کرلیا۔لیکن ایک سخاوی تھے جنہوں نے اس تحقیق کو قبول نہ کیاٗ ان کااعتماد"الشفاء"کے ایک نسخہ پر تھا جس کے متعلق ان کا دعویٰ تھا کہ یہ نسخہ متعدد اہل علم کے سامنے پڑھا گیا۔اور اس نسخہ میں قلم کے ساتھ یاء کے اوپر اس کے ساکن ہونے کی علامت تھی۔
سیوطی کہتے ہیں کہ محض یہ ایک بات ان(سخاوی)کی جہالت کیلئے کافی ہے اور جس شخص کا مبلغِ علم اسی قدر ہوٗ اس کے جواب میں کچھ لکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔اس قسم کی بہت سی مثالیں ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔محاکمہ۔۔۔۔۔۔۔۔
(سیوطی اور سخاوی)دونوں ایک دوسرے پر زیادتی کرنے والےٗ ایک دوسرے پر حملہ کرنے والے ہیں۔دو حاسدوں میں سے ایک کا دوسرے کے بارے میں کوئی قول معتبر نہیں۔
حق یہ ہے کہ سیوطی ایک صاحبِ فن اور اکثر فنون میں مرتبہءامامت پر فائز ہیں اور سخاوی کی نسبت متونِ کتب کے زیادہ حافظ اور شرعی احکام کے استنباط میں ان سے زیادہ صاحبِ بصیرتٗ عربی زبان پر انہیں دسترس اور تفسیر بالماثور میں ان کو بہت زیادہ قدرت ہے۔متون کے جمع کرنے اور اپنے ہمعصر علماء کی تالیفات سے جس قدر وہ باخبر تھے کوئی دوسرا ان کا اس بارے میں ہمسر یاثانی نہیں۔ان کتابوں سے انہوں نے خود فائدہ اٹھایا۔فتویٰ دینےٗ رسائل اور کتابوں کی تالیف میں ان کتابوں سے مستفید ہوئے۔
البتہ حدیث سے متعلقہ بعض کتابوں اور تالیفات میں ان سے بعض تسامحات اور تناقضات بھی سرزد ہوئے جیسا کہ حافظ احمد الصدیق نے"المغیر علی الجامع الصغیر"میں ذکر کیا ہے۔تو یہ کوئی عیب کی بات نہیں جو اہلِ علم بکثرت تصنیف وتالیف میں مشغول رہتے ہیں ان سے ایسی غلطیاں ہو ہی جاتی ہیں۔
جیسے ابو الفرج ابنُ الجوزی سے حدیث سے متعلقہ کتابوں میں ہوا۔ناقلین کی عدم توجہ اور عدم اہتمام کے سبب بھی ان حضرات کی بعض مولفات محرف ہوکر ہم تک پہنچی ہیں۔
اسی طرح سیوطی سے"الجامع الصغیر"میں احادیث کی صحت وضعف کی جو علامات بیان کی گئی ہیںٗ ان کے بارے میں ان کے شاگرد علقمی وغیرہ ان کے برعکس ذکر کرتے ہیں۔اس کتاب کے متعدد نسخے ہیں۔سیوطی نے اس سلسلہ میں بعض مقامات پر محض اجتہاد کیا۔مجتہد اگر غلطی بھی کرجائے تو بھی وہ اللہ کی طرف سے اَجر کا مستحق ہوتا ہے۔سیوطی کے حاسدین کی طرفسے بعض ایسی کتابیں سیوطی کی طرف منسوب کردی گئی جن سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔وہ ان سے مکمل طور پر بری الذّمہ ہیں۔کسی نے ایسی کتابوں کو عام اور مروج کرنے کی خاطر ان کے نام سے مشہور کردیا۔آپ کی بعض کتابیں ایسی بھی ہیں جن کی کوئی نظیر یامثال نہیں ملتی۔
اسی طرح سخاوی بھی علمِ حدیثٗ اسنادٗ رجالٗ عِلل حدیث اور تاریخ کے بہت بڑے امام ہیں۔کہ کوئی ان کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔وہ صاحبِ فن سمجھے جاتے ہیں۔اسی لئے حدیث اور علومِ حدیث کے بارے میں سیوطی کے مقابلہ میں ان(سخاوی)کے قول کو ترجیح دی جاتی ہے۔
ان کی تالیفات اہلِ تحقیق کی مرجع ہیں اور وہ اس بارے میں اپنے استاد حافظ ابن حجر کے حقیقی وارث ہیں۔
سیوطی سے بہت سے ائمہ کرام اور اہل علم وفضل نے اکتسابِ فیض کیا۔آپ بہت بڑے حافظٗ عابد اور صاحبِ کرامات بزرگ تھے۔ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ آپ کو بیداری کی حالت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوتی تھی۔آپ نے بہت سے غیبی امور کی بھی اطلاع دی۔رضی اللہ عنہ وارضاہ!آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭حافظ ابن حجر فتح الباری(12۔385)میں فرماتے ہیں کہ علامہ قرطبی نے بڑی شدت سے ان لوگوں پر نکیر کا اظہار کیا ہے جو اس بات کے قائل ہیں کہ بعد کے ادوار میں حالتِ بیداری میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رویت ممکن ہے۔یہ نظریہ اس بات کو مستلزم ہے کہ شرفِ صحبت تاقیامت جاری وساری ہو حالانکہ اہل علم میں سے کوئی بھی اس بات کاقائل نہیں۔جن لوگوں نے حالاتِ صحابہ پر کتابیں تصنیف کی ہیں ان میں سے آج تک کسی نے علامہ سیوطی کو صحابی شمار نہیں کیا۔دراصل یہ صرف توہمی مسلک ہے۔حقیقتِ حال سے اس کا دور کا بھی تعلق نہیں جسے قابلِ اعتماد استناد سمجھا جاسکے۔