2

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

نبوت کا مفہوم
نبی ٗ نبو ٗ نبا یہ تین لفظ ہیں جن سے نبوت کا لفظ ماخوذ ہے۔ از روئے لغت نبی "أَنبِئُونِي" کے وزن پر ہے جس کا مفہوم ہے " اطلاع دینے والا یا اطلاع پہنچانے والا " پس اطلاع پہنچانے کا نام بھی "نبوت" ہے اور اطلاع دینے کا نام بھی۔ قرآن حکیم میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ پہلے پارہ میں ارشاد ہے "أَنبِئُونِي " بتاؤ یا اطلاع دو مجھے !
﴿ذ‌ٰلِكَ مِن أَنباءِ الغَيبِ﴾   (1) " یہ غیبی اطلاعات ہیں "
مَنْ أَنبَأَكَ هَـٰذَا   (2) " تمہیں یہ خبر کس نے دی "
جواب دیا گیا کہ مجھے انتہائی صاحبِ علم شخصیت نے یہ بات بتائی۔ کوئی بات بتا دینا یا کسی کو پہنچا دینا اس کا نام لغت میں "نبوت" ہے     (3)
نبوت کے لغوی معنی ہیں "ارتفاع ٗ بلندی ٗ رفعت ٗ علو ٗ اونچی شان" بلند منصب کی وجہ سے نبوت کہا گیا۔ نبوت ایک ایسا منصب ہے جو کسبی نہیں یعنی اپنی کوشش یا محنت سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ وہبی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا عطیہ اور اس کی خاص عنایت ہے۔ اللہ تعالیٰ تبلیغ دین اور اپنے احکام و اوامر کو بندوں تک پہنچانے کیلئے کسی برگزیدہ بندے کو منتخب فرما کر نبوت کے بلند منصب پر فائز کر دیتے ہیں تاکہ وہ انہیں صراط مستقیم پر گامزن کرے اور جنت کے حصول کا حقدار بنائے۔ نبی ٗ اللہ کی طرف سے بذریعہ وحی غیب کی خبریں دینے والا انسان ہوتا ہے۔ ایسا برگزیدہ انسان جسے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے منصبِ نبوت کے لئے منتخب فرما کر تبلیغ دین کیلئے کسی قوم یا آبادی کی طرف پیغمبر بنا کر بھیج دے اور اپنے اس برگزیدہ بندے کو " أُرْسِلْنَا إِلَىٰ قَوْمٍ " یا "﴿قُل يـٰأَيُّهَا النّاسُ إِنّى رَسولُ اللَّهِ إِلَيكُم جَميعًا﴾ " یا اسی قسم کے اور الفاظ سے مخاطب فرمائے جس سے یہ واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس بندے کو منصبِ نبوت پر فائز فرمایا ہے۔
نبوت کوئی اکتسابی چیز نہیں کہ محنت و کوشش اور کسب و مشقت سے مل جائے۔ نبوت تو عطیہ ربانی اور محبت و بخشش الٰہی ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے اہل سمجھتا ہے نبوت سے سرفراز فرما دیتا ہے اور یہی مفہوم اس ارشاد ربانی کا ہے
﴿اللَّهُ أَعلَمُ حَيثُ يَجعَلُ رِسالَتَهُ﴾ (4)
" اللہ بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی رسالت کا اہل ہے "
انبیاء کرام کو نبوت کی بدولت تمام انسانوں پر برتری حاصل ہوتی ہے۔ اور وہ انسانیت کے عالی درجہ پر فائز ہوتے ہیں۔ نبوت عطیہ الٰہی ہے کسی شخص یا قبیلے یا قوم کی خواہش اور سفارش کو اس میں کوئی دخل نہیں۔ نبوت ایسی گراں قدر نعمت اور رحمت صرف اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے اور وہ اپنی مشیت سے جسے اس کا اہل سمجھتا رہا ہے نوازتا رہا ہے۔
کیا عورت نبی ہو سکتی ہے ؟
یہ سوال علماء امت کے مابین مختلفہ ہے کہ کیا کسی خاتون کو اللہ جل شانہ نے درجہ نبوت سے سرفراز فرمایا یا نہیں ؟ کیا آج تک کوئی عورت نبی ہوئی ؟ اور کیا حضرت مریم درجہ نبوت پر فائز تھیں ؟
علماء مختلف دلائل کی روشنی میں اس کے مختلف جوابات دیتے آئے ہیں۔ بیشتر اقوال کی بنیاد قرآن حکیم کے اس فرمان پر ہے جو کہ حضرت مریم کے بارے میں قرآن میں موجود ہے۔ (5) ﴿وَاصطَفىٰكِ عَلىٰ نِساءِ العـٰلَمينَ ﴿٤٢﴾... سورة آل عمران
اور اے مریم ؑ ! ہم نے آپ کو تمام جہانوں کی عورتوں سے چن لیا اور برگزیدہ بنا دیا۔ اس آیت کے مفہوم میں اختلاف ہے جس کی صورت کچھ یوں ہے۔
نبوت کے قائلین
وہ لوگ جو عورت کی نبوت کے قائل ہیں ان میں بڑے بڑے آئمہ ٗ علماء جہابذہ اور صاحبِ علم و فراست شخصیات شامل ہیں مثلاً علامہ محمد بن اسحاق ٗ شیخ ابو الحسن اشعری ٗ امام قرطبی اور ابن حزم رحمہم اللہ تعالیٰ اس نقطہ نظر کے حامل ہیں کہ عورت نبوت پا سکتی ہے۔ ان میں سے ابن حزم کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ حضرت حوا ٗ سارہ ٗ ہاجرہ  ٗ ام موسیٰ  ٗ آسیہ زوجہ فرعون اور مریم علیہن الصلوٰۃ و السلام تمام ہی "نبی" ہیں۔
عورت کی نبوت کے قائلین فرماتے ہیں کہ قرآن مجید نے حضرت سارہ  ٗ ام موسیٰ اور مریم کے متعلق جن واقعات کا اظہار کیا ہے ان میں بصراحت موجود ہے   کہ ان پر خدا کے فرشتے وحی لے کر نازل ہوتے اور اللہ نے ان کو مختلف مواقع پر بشارت سے سرفراز فرمایا اور ان تک اپنی معرفت و عبادت کا حکم پہنچا دیا۔
حضرت سارہ علیہ السلام کے لیے سورہ ہود اور الذاریات میں اور ام موسی علیہ السلام کے لئے سورۃ قصص میں اور حضرت مریم علیہ السلام کے لیے سورہ آل عمران اور سورہ مریم میں بواسطہ ملائکہ اور بلاواسطہ خطابِ الہٰی موجود ہے کہ ﴿وَاصطَفىٰكِ عَلىٰ نِساءِ العـٰلَمينَ ﴿٤٢﴾... سورة آل عمران"اور ظاہر ہے کہ ان مقامات پر وحی کے لغوی معنی وجدانی ہدایت یامخفی اشارہ کے مراد نہیں ہیںٗ جیسا آیت ﴿وَأَوحىٰ رَبُّكَ إِلَى النَّحلِ﴾ (6)میں شہد کی مکھی کے لیے وحی کا اطلاق کیا گیا ہے۔
بالخصوص حضرت مریم علیہ السلام کے نبی ہونے کی یہ واضح دلیل موجود ہے کہ سورہ مریم میں ان کا ذکر اس اسلوب کے ساتھ کیا گیا ہے جس طریقہ پر دیگر انبیاء ورسل کا تذکرہ کیا ہے مثلاً ﴿وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مُوسَىٰ﴾ اور ﴿وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ﴾ یا ﴿فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا﴾ کہ ہم نے مریم کی جانب اپنے فرشتہ جبریل کو بھیجا۔پھر آل عمران میں مریم علیہ السلام کو ملائکہ نے جس طرح خدا کی جانب سے پیغامبر بن کر خطاب کیا ہے وہ بھی اس دعویٰ کی روشن دلیل ہے۔
اگر قرآن نے حضرت مریم علیہ السلام کو"صدیقہ"کہا ہے تو یہ لقب ان کی شان نبوت کے اسی طرح منافی نہیں جس طرح یوسف علیہ السلام کے مسلّم نبی ہونے کے باوجود ﴿يوسُفُ أَيُّهَا الصِّدّيقُ﴾ (7)میں ان کا صدیق ہونا ان کے نبی ہونے کو مانع نہیں ہے بلکہ ذکر پاک مقامی خصوصیت کی بناء پر مذکور ہے کیونکہ جو نبی ہے وہ بہرحال"صدیق"ضرور ہے اس کا عکس نہیں ہے۔(8)
نبوت کے مخالفین
قاضی عیاض اور حافظ ابن کثیر نے جمہور کا مسلک یہ بتایا ہے کہ مریم علیہ السلام نبی نہیں تھیں اور امام الحرمین نے بھی اس پر اجماع نقل کیا ہے۔
حضرت حسن بصری امام الحرمین شیخ عبدالعزیز کا رجحان بھی اسی جانب ہے کہ عورت نبی نہیں ہوسکتی۔جوعلماء یہ فرماتے ہیں کہ عورت نبی نہیں ہوسکتی وہ اپنی دلیل میں اس آیت کو پیش کرتے ہیں۔ ﴿وَما أَرسَلنا مِن قَبلِكَ إِلّا رِجالًا نوحى إِلَيهِم﴾ (9)
اور خصوصیت کے ساتھ حضرت مریم علیہ السلام کی نبوت کے انکار پر دلیل دیتے ہیں کہ قرآن نے ان کو صدیقہ کہا ہے۔ارشاد ہے
﴿مَا المَسيحُ ابنُ مَريَمَ إِلّا رَسولٌ قَد خَلَت مِن قَبلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدّيقَةٌ﴾ (10)
"بس ابن مریم تو ایک پیغمبر ہیں جن سے پہلے اور بھی پیغمبر گزر چکے اور انکی والدہ صدیقہ تھیں"پس ثابت ہوتا ہے کہ اگر وہ نبی ہوتیں تو ان کی صفت بجائے صدیقہ کے "نبیّہ"ذکر ہوتی۔اور سورۃ نساء میں قرآن عزیز نے منعم عليهم کی جو فہرست دی ہے وہ اس کے لیے نص قطعی ہے کہ "صدیقیت" کادرجہ"نبوت"سے کمتر اور نازل ہے کہ
﴿فَأُولـٰئِكَ مَعَ الَّذينَ أَنعَمَ اللَّهُ عَلَيهِم مِنَ النَّبِيّـۧنَ وَالصِّدّيقينَ وَالشُّهَداءِ وَالصّـٰلِحينَ وَحَسُنَ أُولـٰئِكَ رَفيقًا ﴿٦٩ (11)
ان کے پاس ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اگر قائلین قرآن کریم کی ان آیات سے استدلال لیتے ہیں جو کہ مختلف مقامات پر ان عورتوں کے بارے میں واضح کرتی ہیں کہ ہم نے ان کو وحی کی تو قرآن کا یہ استعمال کسی طور قابل احتجاج نہیں کیونکہ دوسرے مقام پر انہی الفاظ کو غیر انبیاء کے لئے بھی ذکر کیا گیا ہے۔جیسا کہ فرمان ہے
﴿وَأَوحىٰ رَبُّكَ إِلَى النَّحلِ أَنِ اتَّخِذى مِنَ الجِبالِ بُيوتًا ...﴿٦٨﴾... سورةالنحل
"کہ ہم نے شہد کی مکھی کی طرف"وحی"کی کہ تو پہاڑوں میں گھر بنا"
پس ثابت ہوا کہ کسی ذات کے لئے اوحی، اوحينا یا اس کے ہم مثل الفاظ کا آجانا دلیل نہیں اس بات کی کہ وہ لازماً نبی ہے۔پس یہ استدلال غیر صحیح ہے۔
جو علماء عورت کے نبی ہونے کے مخالف ہیں ان کا کہنا ہے کہ قائلین و مثبتین کی یہ دلیل بھی اس بات کو پایہ ثبوت تک پہنچاتی کہ حضرت مریم کے لئے لفظ اصْطَفَاكِ کا استعمال نبی ہونے کی واضح دلیل ہے۔
پس مخالفین نبوت کہتے ہیں لفظ"اصطفاء"سے یہاں اس درجہ کمال کی طرف اشارہ مقصود ہے جس کی تشریح جناب رسولؐ نے اس طرح فرمائی۔صحیحین میں ہے
ابوموسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ جناب رسول اکرمؐ کا ارشاد ہے
"مردوں میں درجہ کمال کو بہت پہنچے ہیں لیکن عورتوں میں سے درجہ کمال صرف مریم دختر عمران اور آسیہ زوجہ فرعون کو حاصل ہوااور عائشہ کا مقام عورتوں میں ایسا ہے جیسے تمام کھانے میں ثرید کا"
ظاہر ہے کہ آپ کے اس ارشاد میں جس کمال کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ نبوت کے علاوہ ہے۔اور اگر وہ نبی ہوتیں تو زیادہ قرین قیاس یہ تھا کہ ان کی اعلی صفت"نبوت"ذکر کر دی جاتی لیکن قرآن مجید نے مریم علیہ السلام کے اسی کمال کی ساتویں پارے میں وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ کہہ کر تعیین کردی ہے کہ آپ علیہ السلام بہت ذومرتبت اور درجہ عالیہ پر فائز عورت تھیں۔لیکن اس کمال کی وضاحت بھی قرآن نے"صدیقہ"کے لفظ سے کردی ہے اور مقام صدیقیت نبوت نہیں ہےٗنبوت سے کمتر ہے(12)۔اللہ تعالیٰ نے منصبِ نبوت کے لئے ہمیشہ مردوں ہی کو منتخب فرمایا اور کوئی عورت کبھی اس منصب عالی پر فائز نہیں ہوئی۔
﴿وَما أَرسَلنا مِن قَبلِكَ إِلّا رِجالًا نوحى إِلَيهِم﴾ (13)
"ہم نے آپ علیہ السلام سے پہلے صرف مردوں کو ہی پیغمبر بنا کر بھیجا تھا جنکی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے"۔
اور رسولوں اور نبیوں نے بھی اپنی بشریت کا برملا اعلان فرمایا
﴿قالَت لَهُم رُسُلُهُم إِن نَحنُ إِلّا بَشَرٌ مِثلُكُم﴾ (14)
"لوگوں سے ان کے رسولوں نے کہا کہ ہم تمہارے ہی جیسے بشر اور انسان ہیں"
لیکن اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں شرفِ نبوت سے نوازا ہے اور وہ جس پر چاہتا ہے احسان فرمادیتا ہے نبی کریمؐ نے بھی اپنی امتیازی حیثیت کی صراحت فرمادی کہ میں تمہاری طرح بشر تو ہوں لیکن صاحب وحی ہوں۔
﴿قُل إِنَّما أَنا۠ بَشَرٌ مِثلُكُم يوحىٰ إِلَىَّ﴾ (15)
"آپؐ کہہ دیجئے کہ میں بھی تم جیسا انسان ہوں البتہ مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے"
ابنِ حزم کا نقطہ نظر
ابن حزم کہتے ہیں کہ اس بارے میں علماء کی تین آراء ہیں۔
علماء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ عورت نبی نہیں ہو سکتی اور جو ایسا کہے وہ ایک نئی بدعت ایجاد کرتا ہے۔دوسری جماعت قائل ہے کہ عورت نبی ہوسکتی ہے اور عورتیں نبی ہوئی ہیں۔ان دونوں سے الگ تیسری جماعت کا مسلک"توقف"کا ہے اور وہ اثبات ونفی دونوں باتوں میں سکوت کو پسند کرتے ہیں۔مگر جو حضرات عورت سے متعلق منصبِ نبوت کا انکار کرتے ہیں ان کے پاس اس انکار کی کوئی دلیل نظر نہیں آتی۔البتہ بعض حضرات نے اپنے اختلاف کی بنیاد اس آیت کو بنایا ہے۔
﴿وَما أَرسَلنا مِن قَبلِكَ إِلّا رِجالًا نوحى إِلَيهِم﴾
لیکن حضرت مریم علیہ السلام کی نبوت پر یہ دلیل بالکل واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ مریم میں ان کا ذکر انبیاء کے زمرہ میں کیا ہے اور اس کے بعد یہ بھی ارشاد فرمایا ہے
﴿أَنعَمَ اللَّهُ عَلَيهِم مِنَ النَّبِيّـۧنَ مِن ذُرِّيَّةِ ءادَمَ وَمِمَّن حَمَلنا مَعَ نوحٍ﴾ (16)
ترجمہ "یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے انعام کیا منجملہ دیگر انبیاء کے جو اولاد آدم سے تھے اور ان لوگوں کی اولاد سے تھے جن کو ہم نے نوح علیہ السلام کی معیت میں کشتی میں سوار فرمایا۔
پس اس آیت میں حضرت مریم علیہ السلام کے لئے کھلے لفظوں میں نبی کا لفظ استعمال ہواہے۔
اس عموم میں حضرت مریم علیہ السلام کی تخصیص کرکے ان کو انبیاء کی فہرست سے الگ کرلینا کسی طرح صحیح ہوسکتا ہے؟
رہی یہ بات کہ قرآن نے حضرت عیسیٰ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مریم علیہ السلام کے لیے یہ کہا وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ تو یہ لقب ان کی نبوت کے لیے اسی طرح مانع نہیں جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کے نبی اور رسول ہونے کے لیے یہ آیت مانع نہیں حضرت یوسف کو اس طرح خطاب کیا گیا ہے کہ
﴿يوسُفُ أَيُّهَا الصِّدّيقُ﴾ اور یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے(17)
ابن حزم کے موید علماء نے اس سلسلہ میں پیدا ہونے والے اس شبہ کا جواب بھی دیا ہے کہ قرآن نے جس طرح صاف الفاظ میں مرد انبیاء کو نبی اوررسول کہا ہے اسی طرح ان عورتوں میں سے کسی کو کیوں نہیں کہا۔جواب کا حاصل یہ ہے کہ
جبکہ"نبوت مع الرسالت"جو کہ مردوں کے لئے ہی مخصوص ہے کائناتِ انسانی کی رشدوہدایت اور تعلیم وتبلیغ نوع انسانی سے متعلق ہوتی ہے تو اس کا قدرتی تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو اس شرف سے ممتاز فرمایا ہے اس کے متعلق وہ صاف صاف اعلان کرے کہ وہ خدا کا بھیجا ہوا نبی اور رسول ہے تاکہ امت پر اس کی دعوت وتبلیغ کا قبول کرنا لازم ہوجائے اور خدا کی حجت پوری ہو اور چونکہ نبوت کی وہ قسم جس کا اطلاق عورتوں پر بھی ہوتا ہے وہ خاص اس ہستی سے وابستہ ہوتی ہے جس کو یہ شرف ملا ہے تو اس کے متعلق صرف یہی اظہار کردینا کافی ہے کہ جو وحی من اللہ انبیاء ورسل کے لئے ہی مخصوص ہے اس سے ان چند عورتوں کو بھی مشرف کیا گیا ہے۔
عورتوں کی نبوت کے اثبات وانکار کے علاوہ تیسری رائے ان علماء کی ہے جو اس مسئلہ میں "سکوت اور توقف" کو ترجیح دیتے ہیں۔ان میں شیخ تقی الدین سبکی نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔"فتح الباری"میں ان کا یہ قول مذکور ہے
"سبکی فرماتے ہیں اس مسئلہ میں علماء کی آراء مختلف ہیں اور میرے نزدیک اس بارے میں اثباتاً یا نفیاً کوئی بات ثابت نہیں ہے(18)
حضرت مریم کا اصطفاء کس کام کیلئے تھا؟
﴿إِنَّ اللَّهَ اصطَفىٰكِ وَطَهَّرَكِ وَاصطَفىٰكِ عَلىٰ نِساءِ العـٰلَمينَ ﴿٤٢ (19)
"تحقیق اللہ نے تجھے چن لیا اور تجھے پاک کیا اور تجھے برگزیدہ فرمایا جہانوں کی عورتوں پر"
جو علماء عورتوں میں نبوت کے قائل ہیں اور حضرت مریم علیہ السلام کو نبی تسلیم کرتے ہیں ان کے مسلک کے مطابق تو آیتِ بالا کا مطلب صاف اور واضح ہے وہ یہ کہ حضرت مریم علیہ السلام کو کائنات کی تمام عورتوں پر فضیلت حاصل ہے جو عورتیں نبی نہیں ہیں ان پر اس لئے کہ مریم علیہ السلام نبی رہیں اور جو عورتیں نبی ہیں ان پر اس لیے کہ وہ ان قرآنی نصوص کی پیش نظر جو ان کے فضائل وکمالات سے تعلق رکھتی ہیں۔باقی نبیات پر برتری رکھتی ہیں(20)
"اصطفاء"کے معنی چھانٹنے اور انتخاب کرنے کے ہیں قرآن کی اصطلاح میں اس کا مفہوم اللہ کا اپنے کسی بندے کو کسی کار خاص کے لیے منتخب کرلینا ہے حضرت مریم علیہ السلام کو اللہ نے اپنی ایک عظیم نشانی کے ظہور کیلئے منتخب فرمایا تھا(یہ نشانی ایک بہت بڑی خدائی امانت بھی تھی جو امانت کے اٹھانے کیلئے انکی خاص تربیت فرمائے تاکہ وہ آنے والے مراحل میں حالات کا مقابلہ کرنے کی اہل بن سکیں۔اسی تربیت کو یہاں"تطہیر"سے تعبیر فرمایا ہے)پھر اس اصطفاء کے متعلق تصریح فرمائی کہ یہ اصطفاء کوئی معمولی اصطفاء نہیں تھا بلکہ یہ تمام عالَم کی عورتوں پر تھا۔اللہ نے اپنی عظیم امانت سپرد کرنے کے لیے تمام دنیا کی عورتوں میں سے انہیں کا انتخاب فرمایا یہ ایک ایسا شرف ہے جس میں حضرت مریم علیہ السلام کا کوئی شریک وسہیم نہیں
اللہ کے حکم سے مریم علیہ السلام کو فرشتوں نے خبر پہنچائی کہ خدا تعالیٰ نے انہیں ان کی عبادت کی کثرت اور اس دنیا سے بےرغبتی ان کی شرافت اور شیطانی وساوس سے دوری کی وجہ سے اپنے قربِ خاص کا درجہ عنایت فرمادیا ہے اور تمام جہان کی عورتوں پر انہیں خاص فضیلت دے رکھی ہے(21)
پیر محمد کرم شاہ کہتے ہیں کہ
قدرت کی نگاہ انتخاب نے بچپن میں بھی مریم علیہ السلام کو چن لیا کہ حضرت زکریا علیہ السلام کی سرپرستی عطا فرمائی،دل میں اپنی یاد کی لگن پیدا کردی اور غیب سے طرح طرح کے پھل مہیا ہونے لگے اور فرشتے ان سے گفتگو کرنے لگے اور جب سنِ شباب کو پہنچیں تو رحمتِ الہٰی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر نبی کی ماں بنانے کے لیے منتخب فرمالیا اس لیے اصطفاء کا ذکر دوبار آیا ہے اور نساء العلمین سے مراد ان کے اپنے زمانہ کی عورتیں ہیں۔(22)
بقول مفتی محمد شفیع
مقبول فرمانا کچھ ایک دو عورتوں کے اعتبار سے نہیں بلکہ تمام جہاں بھر کی عورتوں کے مقابلے میں منتخب فرمانا ہے۔(23)
اللہ تعالیٰ نے آپ کو چن کر طہارت سے نوازا۔اللہ کا چناؤ اس لیے ہوتا ہے کہ لوگوں کو اس کی رضا کے حصول کا راستہ ملے۔اللہ تعالیٰ کو اس کے چنے ہونے کے حوالے سے جانا جائے تو ہدایت عطا ہوتی ہے اور اللہ کے چنے ہوئے کو مانا جائے تو راحت حاصل ہوتی ہے۔(24)
اصطفاءٗآلِ عمران کی تاکید اور حضرت مسیح علیہ السلام کی ولادت کی تمہید تھی۔چنانچہ مسیح علیہ السلام سے پہلے مسیح علیہ السلام کی والدہ کے فضل وشرف کا ذکر فرماتے ہیں کہ اللہ نے تجھے چھانٹ دیا۔
مولانا عثمانی نے اپنی خداداد ذہانت سے آیتِ اصطفاء اور اصطفاء کے تکرار کی وجہ لطیف انداز میں بیان کی ہے۔کہتے ہیں
اصطفاء کے معنی چھانٹ لینے کے ہیں بہت سی چیزوں میں اچھی اور عمدہ چیز کو چھانٹ لینا اصطفاء کہلاتا ہے اور چھانٹی ہوئی چیز کو"صفی"کہتے ہیں۔حضرت مریم علیہ السلام کے لیے یہاں اصطفاء تھا جو حضرت مریم علیہ السلام کا دنیا کی عورتوں میں امتیاز ایک بے غبار حقیقت ہے۔لیکن جن بزرگوں کی نگاہ یہاں تک نہ پہنچی وہ اس آیت میں حضرت مریم علیہ السلام کے لیے اصطفاء کا تکرار دیکھ کر پریشانیوں کا شکار ہوگئے اور اسی پریشان خیال کا اظہار انہوں نے یہ کہہ کر کیا کہ حضرت مریم علیہ السلام نبیّہ تھیں(25)
اصطفاء کے معنی ہیں کہ حضرت مریم علیہ السلام کو ان کی والدہ سے قبول فرمایا حالانکہ اس سے پہلے کسی لڑکی کو عبادتٗخدمتِ مسجد وغیرہ کے لیے خادمہ کے طور پر قبول نہیں کیا گیا تھا اور یہ کہ ان کو عبادت کے لیے فارغ کر دیا اور کمائی وغیرہ کیلئے جنت سے رزق پہنچا کر بے نیاز کردیا اور انہیں ان باتوں سے پاکیزہ بنادیا جو عورتوں میں قابل نفرت سمجھی جاتی تھیں۔دوسری بار جو اصطفاء فرمایا ان کا مطلب ہے انہیں ہدایت دی اور فرشتوں کو ان کی طرف بھیجا اور بلندوبالا کرامات سے نوازا جیسے بغیر شادی کے بیٹا عطا فرمایا اور بچے کو بالکل چھوٹی عمر میں قوت گویائی دے کر اس بہتان سے آپ کو بری کردیا جو یہود نے آپ پر لگایا تھا۔اور انہیں اور ان کے بیٹے کو تمام جہان والوں کے لیے نشانی بنا دیا(26)
مرد کو عورت پر فضیلت ہے
﴿الرِّجالُ قَوّ‌ٰمونَ عَلَى النِّساءِ بِما فَضَّلَ اللَّهُ بَعضَهُم عَلىٰ بَعضٍ﴾
"مردوں کو عورتوں پر قابو حاصل ہے اور اللہ نے بعض(مرد)کو بعض(عورت)پر فضیلت دی ہے"۔ (27)
جسمانی وروحانی اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو عورت فطرتاً مرد سے کمزور ہوتی ہے چونکہ کسبِ معاش کا تمام تر بار قدرت نے مرد کے کاندھوں پررکھا ہے۔لہٰذا اس کو زیادہ قوت عطا فرمائی ہے۔وہ ہر موسم میں محنت ومشقت سے کام لے کر کسبِ معاش کرسکتا ہے برخلاف عورت کے وہ زیادہ کڑی دھوپ میںٗ زیادہ سردی میںٗ زیادہ بارش میں کوئی کام انجام نہیں دے سکتی۔قدرت نے جہاد کو اسی لئے اس پر سے ساقط کر دیا ہے کہ مردوں کی طرح تلوار نہیں چلاسکتی۔زیادہ زخموں کی تاب نہیں لاسکتی اور بوقت ضرورت تیزی سے بھاگ نہیں سکتی۔
عورت کے چہرہ پر حسن کی بہار ہوتی ہے رعب نہیںٗ برخلاف مرد کے کہ اس کے چہرہ پر رعب ودبدبہ اور ہیبت ہوتی ہے اور یہ چیز بسااوقات دشمن کے مقابلہ میں مقصد براری میں مفید ہوتی ہے۔خدا نے آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم الانبیاء تک کسی عورت کو نبی یارسول نہیں بنایا کیونکہ تبلیغی ضرورتیں اول تو اس سے پوری نہیں ہوسکتیں کیونکہ قوموں کا یہ انبیاء پر ہمیشہ اولین ردعمل یہ رہا ہے کہ انبیاء ورسل کو دعوت حق کے لئے بڑے بڑے مصائب وآلام سے گزرنا پڑا اور دشمنانِ دین کے بڑے بڑے مظالم اٹھانا پڑے ہیں۔
ایک ثبوت یہ کہ عورت میں اضطراب اور گھبراہٹ مرد کی نسبت بہت زیادہ ہوتی ہے(28)
اس آیت میں اللہ نے واضح طور پر قوامیت کا مقام مرد کو دیا ہے اگرچہ براہ راست یہ آیت خانگی امور سے متعلق معلوم ہوتی ہے۔لیکن اول تو آیت میں کوئی نکتہ ایسا نہیں ہے جو اس کو خانگی امور کے ساتھ خاص کرتا ہو۔دوسرے یہ کہ یہی بات ہے کہ جس صنف کو اللہ نے ایک چھوٹے سے گھر کی سربراہی کی ذمہ داری سونپی اس کو تمام گھروں کے مجموعے اور پورے ملک کی سربراہی کی ذمہ داری کیسے سونپی جاسکتی ہے؟(29)
قاضی ثناءاللہ لکھتے ہیں
ولذلك خصوا بالنبوة والامامة والولاية
اس وجہ سے(مرد کے قوام ہونے کی وجہ سے)نبوت، امامت اور حکومت مردوں کے لئے مختص ہے(30)
امت کا اس پر اتفاق ہے کہ عورت کی یہ ثانوی حیثیت اس سے کسی بیریاحقارت ونفرت کی بناءپر نہیں ہے بلکہ اس کی فطری کمزوریوں کے باعث انہوں نے اس کو بارِ گراں کے قابل نہیں سمجھا ہے(31)
الغرض
مردوعورت کے درجات کا تعین کرتے ہوئے قرآن مجید نے مرد کی حاکمیت کا واضح اعلان کیا ہے۔اسی طرح اپنی فطری خصوصیات کی بناء پر عورت نبی ورسول نہیں ہوسکتی۔
پروفیسر گولڈ برگ کہتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ مرد عورتوں سے بہتر ہوتے ہیں اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ مرد عورتوں سے مختلف ہے۔مرد کا دماغ اس سے مختلف طرز پر کام کرتا ہے جس طرح عورت کا دماغ کرتا ہے۔یہ فرق دونوں کی حیاتیاتی نوعیت کے فرق سے پیدا ہوتا ہے نہ کہ کسی قسم کے سماجی حالات سے(32)
عورت کے بارہ میں اسلام کا کہنا یہ نہیں ہے کہ وہ مرد سے کم ہے۔اسلام کا کہنا صرف یہ ہے کہ عورت مرد سے مختلف ہے۔ہر ایک دوسرے کے مقابلے میں فرق کا معاملہ ہے نہ کہ ایک کے مقابلہ میں دوسرے سے بہتر ہونے کا(33)
آیت نمبر42سورہ آلِ عمران میں یہ فرشتوں کا کلام ہے۔ظاہر یہ ہے کہ یہ گفتگو حضرت مریم علیہ السلام کے سامنے ہو کرکی گئی مگر چونکہ یہ کلام تبلیغی وحی نہ تھا اس لیے حضرت مریم علیہ السلام کی نبوت اس سے ثابت نہیں ہوسکتی اور نبوت مردوں سے ہی خاص ہے جیسا کہ سورۃ نساء آیت نمبر32میں ہے(34)کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
"اور جس چیز میں خدا نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اس کی ہَوس مت کرو۔مردوں کو ان کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور عورتوں کو ان کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور خدا سے اس کا فضل وکرم مانگتے رہو۔کچھ شک نہیں کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے"۔
نبوت محض اطلاع پانے یااطلاع پہنچانے کا نام نہیں اور نبی اطلاع دہندے یا اطلاع یابندے کا نام نہیں اگر صرف اطلاع دہندگی یااطلاع بندگی کو نبوت کا معیار ٹھہرایاجائے تو کافرٗفاجرٗابلیس اور فرعون بھی اس کی ذیل میں آجائیں گے۔اگر نبوت کا معیار محض مکالمہ ہو تو پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے عورتوں کو بھی اپنے کلام سے نوازا ہے لیکن ان میں سے کوئی نبی کوئی رسول نہیں(35)
عورت شعائر اسلامٗ اذانٗ خطبہٗ عیدین اور اقامت جمعہ تک کی مکلف نہیں۔جو امامت کبریٰ اور امامتِ صغریٰ تک کی بھی مکلف نہیںٗ
اور جسے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ناقص العقل کہا ہےٗ جسے طلاق کا اختیار نہیں دیا گیاٗ حدود اور قصاص میں عورت کی شہادت کا کوئی اعتبار نہیں کیا گیا۔حقوق اور معاملات میں بھی اس کی تنہا گواہی مردوں کے بغیر تام نہیں۔عورت کو عدالت کی قضاءٗ وزارت کا قلمدان اور سیاست کی جھمیلوں سے بچانے کے لئے ان گراں بار ذمہ داریوں سے مستثنیٰ رکھ دیا گیا ہے۔قتلِ خطا کی دیت اور تاوان بھی مرد اداکرتے ہیںٗ عورت پر قیامت تک واجب نہیں۔جسے ولایتِ نکاح تک کا اختیار نہیں تو اسے نبوت کی مہار کیسے پکڑادی جائے۔اسلام اور نبوت عورت دونوں ایسی متضاد چیزیں ہیں جیسے روشنی اور تاریکی۔
دنیا میں نظام عالم اور انسانی فطرت اور عورت کی مصلحت کا تقاضا یہی تھا کہ مردوں کو عورتوں پر ایک قسم کی حاکمیت اور نگرانی کا حق دیا جائے بلکہ ان پر لازم کیا جائے جیسا کہ اس کا بیان آیت﴿الرِّجالُ قَوّ‌ٰمونَ عَلَى النِّساءِ ﴾میں آتا ہے۔واللہ اعلم
حوالہ جات
(1) آیت44:سورۃ آل عمران
(2) آیت3:سورۃ التحریم
(3) مولانا غلام مرشد:"لفظ نبی کی لغوی تحقیق"ص10،ماہنامہ تعمیر انسانیت"لاہور جنوری1985ء
(4) آیت125:سورۃ الانعام
(5) آیت42:سورۃ آل عمران
(6) آیت68:سورۃ النحل
(7) آیت46:سورۃ یوسف
(8) حفظ الرحمٰن سیوہاروی:"قصص القرآن"جلد4،ص23دارالاشاعت،مولوی مسافر خانہ کراچی1972ء
(9) آیت43:سورۃ النحل
(10) آیت75:سورۃ المائدۃ
(11) آیت69:سورۃ النساء
(12) محمد علی الصدیقی:"معالم القرآن"ج نمبر3،ص663،ادارہ تعلیمات قرآن سیالکوٹ1976ء
(13) آیت109:سورۃ یوسف
(14) آیت11:سورۃ ابراہیم
(15) آیت6:سورۃ حم السجدہ،سورہ کہف آیت نمبر110
(16) آیت68:سورۃ مریم
(17) ابن حزم:"الفصل فی الملل"ج5،ص12مصر1317ھ
(18) عبد الرحمن محمد:"فتح الباری"ج6،ص366قاہرہ1348ھ
(19) آیت42:سورۃ آل عمران
(20) امین احسن اصلاحی:"تدبر القرآن"ج1،ص685،مکتبہ جدید پریس لاہور،1980ء
(21) حافظ عماد الدین:"ابن کثیر"ج1،ص423،مکتبہ تعمیر انسانیت،لاہور،1986ء
(22) محمد کرم شاہ:"ضیاء القرآن"ج1،ص227،ضیاءالقرآن پبلیکیشنز،لاہور،1398ھ
(23) محمد شفیع مفتی:"معارف القرآن"ج2،ص64،ادارہ المعارف کراچی۔14،1976ء
(24) محمد اشرف فاضلی:"تفسیر فاضلی"ج1،ص208،مکتبہ جدید پریس،لاہور
(25) محمد علی الصدیقی:سابقہ حوالہ ج3،ص662
(26) قاضی بیضادی:"
(27) آیت34:سورۃ النساء
(28) ظفر حسن:"رموز القرآن"شمیم بک ڈپو۔ناظم آباد نمبر2،کراچی نمبر18
(29) محمد رفیع عثمانی:"عوررت کی سربراہی کا مسئلہ"ماہنامہ"البلاغ"ص5،فروری1989ء
(30) قاضی ثناءاللہ:"تفسیر مظہری"ج2،ص198،بلوچستان بک ڈپوٗ کوئٹہٗ 1357ھ
(31) جلال الدین:"عورت اسلامی معاشرہ میں"ص252،اسلامک پبلی کیشنزٗ لاہورٗ 1985ء
(32) گولڈ برگ پروفیسر:ڈیلی ایکسپریسٗ 4جولائی1977ء
(33) وحید الزمان:"خاتون اسلام"رائل آفسٹ پرنٹرزٗ دہلی
(34) احمد یار خاں مفتی:"تفسیر نعیمی"پارہ3،ص484،مکتبہ اسلامیہ۔مفتی احمد یار خاں روڈٗ گجرات1378ھ
(35) ماہنامہ تعمیر انسانیت:سابقہ حوالہ ص16