2

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

عربی زبان میں "نسخ" کا لفظ مندرجہ ذیل معانی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
اولا ۔۔۔ ازالہ و ابطال، اس معنی میں یہ لفظ قرآن میں بھی موجود ہے
﴿فَيَنسَخُ اللَّهُ ما يُلقِى الشَّيطـٰنُ ...﴿٥٢﴾... سورة الحج
یعنی اللہ اس چیز کا ازالہ کر دیتا ہے جسے شیطان القاء کرتا ہے۔
ثانیا ۔۔۔ نقل و تحویل۔ اس کی تائید میں یہ قرآنی آیت ہے
﴿إِنّا كُنّا نَستَنسِخُ ما كُنتُم تَعمَلونَ ﴿٢٩﴾... سورة الجاثية" عربوں کے "تناسخ المواریث" کا کلمہ بھی اسی معنی کو ظاہر کرتا ہے یعنی ورثاء کی موت کے بعد میراث کا یکے بعد دیگرے مختلف افراد تک منتقل رہنا۔
نسخ میں مفہوم اول کو مفہومِ اصلی کی حیثیت حاصل ہے اس لئے کہ تحویل و نقل کے نتیجہ میں جب ایک صفت معدوم ہو جاتی ہے تو اس کی جگہ دوسری صفت آئے یا نہ آئے بہرحال پہلی صفت کا ازالہ تو ہو ہی جاتا ہے، اس لئے نسخ کے حقیقی اور بنیادی مفہوم میں اصل کی حیثیت "ازالہ و ابطال" ہی کو حاصل ہے نہ کہ "نقل و تحویل" کو۔ یہی وجہ ہے کہ علماء نے نسخ کے اصطلاحی مفہوم کو بایں الفاظ پیش کیا ہے
بعد میں آنے والے حکم کا پہلے حکم کو زائل کر دینا، نسخ ہے
متاخر حکم، کسی سابق حکم کی جگہ نئے عمل کو واجب کرے یا محض حکم سابق کو ختم کر دے، یہ دونوں صورتیں مفہوم نسخ میں، لغت اور شریعت کے اعتبار سے پائی جاتی ہیں۔
نسخِ احکام کی صورتیں: دنیا کی حکومتوں میں نسخِ احکام کا سلسلہ جاری رہتا ہے لیکن خدائی احکام میں نسخ کا وقوع، ان وجوہ و مصالح سے مختلف ہے جن کی بناء پر حکامِ دنیا اپنے احکام منسوخ کرتے رہتے ہیں۔
انسانی احکام میں نسخ کبھی اس وجہ سے ہوتا ہے کہ پہلا حکم غلط فہمی کی بناء پر جاری ہوتا ہے اور بعد میں جب اس کے غلط نتائج ابھر کر سامنے آتے ہیں تو اسے بدلنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور ایک دوسرے حکم کے ذریعہ حکمِ سابق کو منسوخ کر دیا جاتا ہے۔
نسخ احکام کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ حاکم نیک نیتی سے ایک حکم جاری کرے لیکن اسے حالات کا صحیح اندازہ نہ ہو اور تبدیلی شؤون و اطوار کا پیشگی علم نہ ہو، اس طرح حالات کے متغیر ہونے پر اسے نئے حکم کے اجراء کی ضرورت محسوس ہو۔
لیکن اللہ تعالیٰ کے احکام میں نسخ کا وقوع نہ تو اس وجہ سے ہے کہ اس نے پہلا حکم کسی غلط فہمی کی بناء پر دیا تھا جسے بعد میں بدلنے کی ضرورت پڑ گئی اور نہ ہی اس وجہ سے کہ اسے معاذ اللہ تبدیلی احوال کا پیشگی علم نہ تھا، اور بعد کے تغیر پذیر حالات میں اسے نیا حکم دینا پڑا ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات سے بالاتر ہے کہ کسی وقت، کسی چیز سے وہ جاہل اور بے خبر ہو، تخلیقِ کائنات سے قبل، اس کے بعد، حتیٰ کہ فناءِ کائنات کے بعد بھی ہر چیز کے جملہ کلیات و جزئیات کا علم، بلا لحاظ تفریق زمان و مکان، ہمیشہ اور ہر وقت حاصل ہے۔ لہذا اللہ تعالیٰ کے احکام میں نسخ کی وجوہ و مصالح وہ نہیں ہیں جو انسانی احکام کے نسخ میں پائی جاتی ہیں۔
نسخ احکام کی ایک تیسری صورت یہ بھی ممکن ہے کہ حکم دینے والا پہلے سے جانتا ہو کہ حالات بدلیں گے اور موجودہ حکم اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک موجودہ حالات برقرار رہیں گے۔ احوال و اطوار کے تغیر پذیر ہونے کے بعد، انہیں دوسرے حکم کا اجراء کرنا پڑے گا۔ تبدیلی احکام کی یہ وہ صورت ہے جس کا ہم روز مرہ زندگی میں مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مصالح و حکم، اشخاص و اقوام، احوال و اطوار، اور امکنہ و ازمنہ کے لحاظ سے اختلاف پذیر ہوتے رہتے ہیں۔ ایک طبیب، ایک مریض کو دوا کھانے کا حکم دیتا ہے، وہ جانتا ہے کہ دو چار دن کی اس دوا کے بعد مریض کا حال بدلے گا، پھر جونہی مریض کی حالت بدلتی ہے وہ دوسری دوا تجویز کر ڈالتا ہے اور پہلی دوا کو منسوخ کر دیتا ہے۔ پہلی دوا کا حکم اور دوسری دوا کے کھانے سے پہلی دوا کا حکمِ نسخ، یہ سب کچھ مریض کے معالج کے علم میں تھا۔
اسی طرح ایک بچے کو پالنے والی ماں، ابتداء دودھ جیسی نرم اور ہلکی غذا بچے کو دیتی ہے، پھر ایک عرصہ کے بعد وہ ہلکی غذا سے ثقیل غذا کی طرف منتقل ہو جاتا ہے، اسی طرح مرورِ ایام کے ساتھ ثقیل تر غذاؤں کی طرف بڑھتا رہتا ہے۔
یہی حال ایک معلم کا ہے کہ وہ آغازِ تعلیم میں اپنے تلامذہ کو آسان ترین معلومات فراہم کرتا ہے۔ پھر وہ درجہ بدرجہ آسان ترین سے آسان تر اور آسان تر سے آسان، اور آسان سے مشکل، اور مشکل سے مشکل تر اور پھر مشکل تر سے مشکل ترین معلومات کی طرف اپنے طلبہ کو لے جاتا ہے جس سے طلبہ کو مرحلہ وار عقلی کمال اور فکری عروج کی طرف لے جاتا ہے، جن میں ہر حالت کے احکام، بعد والی حالت کے احکام کے لئے جگہ خالی کرتے چلے جاتے ہیں۔
اقوامِ عالم بھی اس قاعدہ کلیہ سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ افراد کی طرح، اقوام بھی مختلف حالات سے گزرتی ہیں ہر حالت کے لئے مناسب قوانین انہیں دئیے جاتے ہیں۔ حالات کے بدل جانے پر احکامِ سابقہ کی جگہ نئے احکام آ جاتے ہیں جو موجودہ حالات کے لئے اسی طرح سازگار ہیں جس طرح سابقہ احکام گزشتہ حالت کے لئے سازگار تھے۔ تغیر احوال کے ساتھ اگر تبدیلی احکام نہ واقع ہو تو احکام اور حکمتوں اور قوانین اور ان کی مصلحتوں میں اختلال واقع ہو جاتا ہے۔
احکامِ خداوندی اور اس کی نازل کردہ کتابوں میں نسخ کی یہی صورت واقع ہوتی ہے، حالات کے تغیر و تبدل کے باعث کبھی ایسا ہوتا رہا کہ ایک نبی کی تعلیمات کو ایک عرصہ تک جاری رکھا گیا اور پھر تبدیلی حالات کے پیش نظر، بعد کے نبی کے ذریعہ حکم سابق کو بدل کر حکم جدید جاری کر دیا گیا اور کبھی یوں بھی ہوا کہ ایک ہی نبی کی شریعت میں کسی مصلحت کے تحت ایک حکم دیا اور بعد میں اس حکم کو بدل دیا۔
یہ ہے نسخِ احکام کی اصل حقیقت، مسلم عقلاء نے کبھی اس کا انکار نہیں کیا۔ یہود بے بہبود نے نسخ کو اللہ تعالیٰ کی حکمت و مصلحت کے پہلو سے دیکھنے کی بجائے، اس کے علم میں نقص و جہالت کے پہلو سے دیکھا اور اس پر زبانِ طعن دراز کی، اسلامی تاریخ میں، فرقہ معتزلہ کے ایک عالم ابو مسلم اصفہانی نے اعتراضاتِ یہود سے مرعوب ہو کر یہ کہنا شروع کر دیا کہ ۔۔ "احکام الٰہیہ میں وقوعِ نسخ اگرچہ ممکن ہے لیکن عملا اس کا وقوع کبھی ہوا نہیں ہے" ۔۔
نسخ اور پرویز: لیکن دور حاضرہ کے معتزلہ میں سے غلام احمد پرویز، ابو مسلم اصفہانی سے بھی دو قدم آگے بڑھ گئے اور یہود کی طرح، انہوں نے بھی مسئلہ نسخ کو، اللہ تعالیٰ کی حکمت و مصلحت کے پہلو سے دیکھنے کی بجائے، اس کے نقصِ علم کے پہلو سے دیکھا، پھر مزید ستم بالائے ستم یہ کہ اس غلط زاویہ نظر سے اس مسئلہ کو خود دیکھ کر، اس کی نسبت، ان علماء امت کی طرف کر دی جو ببانگ دہل، اس نقطہ نظر سے دیکھنے کے منکر ہیں، چنانچہ وہ آیت نسخ کا ایک ایسا مفہوم، خود گھڑ کر علماءِ امت کے کھاتے میں ڈالتے ہیں جس کو آج تک علماء میں سے نہ کسی نے لکھا ہے اور نہ ہی بیان کیا ہے۔
"اس کا مطلب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ خدا نے قرآن کریم میں کسی بات کا حکم دیا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد اس نے سوچا کہ اس حکم کو منسوخ کر دینا چاہیے، چنانچہ اس نے ایک اور آیت نازل کر دی جس سے وہ پہلا حکم منسوخ ہو گیا، یہ حکم، اس پہلے حکم سے بہتر تھا"۔ (لغاتُ القرآن: ص 1608)
"مفکر قرآن" صاحب آیت کا یہ خود ساختہ مفہوم خود گھڑتے ہیں اور اسے علماء کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں پھر اس بناءِ فاسد پر مزید فاسد کا اضافہ کرتے ہوئے، بڑی سینہ زوری سے یہ کہتے ہیں کہ
"اس عقیدہ کی رو سے دیکھئے کہ خدا، قرآن اور رسول کے متعلق کس قسم کا تصور پیدا ہوتا ہے، خدا کا تصور، اس قسم کا کہ وہ آج ایک حکم صادر کرتا ہے لیکن بعد کے حالات بتا دیتے ہیں کہ وہ حکم ٹھیک نہیں تھا اس لئے وہ قرآن کے اس حکم کو منسوخ کر کے اس کی جگہ دوسرا حکم دے دیتا ہے۔
قرآن کے متعلق یہ کہ اس میں بے شمار آیات ایسی ہیں جن کا حکم منسوخ ہو چکا ہے، لیکن اس کے باوجود، ان کی تلاوت برابر ہو رہی ہے اور یہ کہیں نہیں بتایا گیا کہ کون سی آیت منسوخ ہے اور کون سی ناسخ، اسے لوگوں پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ خود اس کا فیصلہ کریں کہ کون سی آیت منسوخ ہے اور کون سی اس کی ناسخ۔
اور رسول کے متعلق یہ تصور کہ حضور خدا کی طرف سے نازل کردہ قرآنی آیات کو بھی بھول جایا کرتے تھے۔ یا للعجب"
(لغاتُ القرآن: ص 1608)
پرویز صاحب کے علماء کی طرف منسوب کردہ اپنے اس خود ساختہ عقیدہ سے جس قسم کے تصورات، خدا، رسول اور قرآن کے متعلق پیدا ہوتے ہیں ان پر تو ہم پھر گفتگو کریں گے، فی الحال تو ہم پرویز صاحب کے ظہر الارض سے بطن الارض میں منتقل ہو جانے کے بعد، ان کی ذریت سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ یہ عقیدہ کس عالم دین کی کون سی کتاب میں مکتوب ہے؟ کیا اس کا کوئی حوالہ بھی ہے؟ یا اس کی صرف یہی دلیل ہے کہ
ع            مستند ہے پرویز کا فرمایا ہوا
حیرت ہوتی ہے کہ "مفکر قرآن" صاحب عمر بھر ایسی ہی افتراء پردازیاں کرتے رہے ہیں لیکن کسی مقام پر بھی نہ تو خوفِ خدا ہی انہیں محسوس ہوا، اور نہ مخلوق کی شرم و حیاء دامن گیر ہوئی۔ میں نے علماءِ قدیم و جدید کی وہ تمام تفاسیر دیکھ ڈالی ہیں جو مجھے میسر آ سکی ہیں، مجھے کہیں وہ عقیدہ کسی کتاب میں نہ ملا، جسے "مفکر قرآن" صاحب نے علماء کی طرف منسوب کیا ہے۔ سبحانك هذا بهتان عظيم
"مفکر قرآن" صاحب، عمر بھر جو کچھ کرتے رہے ہیں اس کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کا نام لے کر وہ قرآنی مفاہیم سے گریز کرتے رہے ہیں۔ اپنے من گھڑت تصورات کو قرآن کے منہ میں ڈالتے رہے۔ مذہبی پیشوائیت کی خود ساختہ اصلاح کی آڑ میں، علماء کو بدنام و رسوا کرنے کے لئے ان کی طرف، ایسی باتیں منسوب کرتے رہے جن سے ان کا دامن پاک ہے۔ تشریح اسلام میں، قرآنی مفردات سے فری سٹائل کشتی لڑتے اور کھینچ تان کے ذریعہ، الفاظِ قرآن سے روح قرآن کے خلاف مفاہیم کشید کرتے رہے۔ کہیں قرآن میں اپنے مَن پسند معانی کو جگہ دینے کے لئے خَدع و فریب سے کام لیتے ہوئے، الفاظ قرآن کی ایسی معنوی تحریف کرتے کہ الاماں والحفیظ۔ "مفکر قرآن" صاحب کے سیرت و کردار کی ایک جھلک زیر نظر مقالے میں قارئین کرام خود ملاحظہ کر سکتے ہیں، جس میں لغوی تحقیق اور آیات کی تشریح کے دوران یہ سب کچھ وہ کرتے رہے ہیں۔
لغوی تحقیق میں پرویزی حیلے: آئیے لغوی تحقیق کے دوران "مفکرِ قرآن" صاحب نے جن پرویزی حیلوں سے کام لیا ہے، انہیں ایک نظر دیکھ لیں۔
ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ نسخ کے لغوی مفہوم میں دو معانی شامل ہیں:
(i) نقل و تحویل اور (ii) ازالہ و ابطال۔
ازالہ و ابطال کے معنی نسخ میں، کسی حکم کے بالکلیہ ختم ہونے کا معنی بھی پایا جاتا ہے اور ازالہ حکم کے بعد کسی نئے حکم کا گزشتہ حکم کے قائم مقام بن جانے کا معنی بھی پایا جاتا ہے۔ لیکن "مفکر قرآن" صاحب کو چونکہ کسی حکم کے مجرد مٹ جانے، زائل ہو جانے اور فقط مرفوع ہو جانے کا معنی تسلیم نہیں ہے اس لئے وہ نسخ کا ایک ادھورا مفہوم بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ
"نسخ کے معنی ہیں ایک چیز کو مٹا دینا اور اس کی جگہ دوسری چیز کو لے آنا، دوسری چیز کو اس کے قائم مقام کر دینا" (ابنِ فارس)
(لغات القرآن: 1606)
"مفکر قرآن" صاحب نے یہاں اپنی ذہنی چابکدستی کا یہ مظاہرہ کیا ہے کہ ابن فارس کی ادھوری عبارت نقل کی ہے اور بعض لوگوں کے اس قیاس کو کہ ۔۔۔ "ایک چیز کی جگہ دوسری چیز کو لا کر پہلی چیز کا قائم مقام کر دینا نسخ ہے" ۔۔۔ تمام علماءِ لغت کے متفقہ فیصلے کے طور پر پیش کیا ہے حالانکہ یہ تمام علماءِ لغت کا فیصلہ نہیں ہے بلکہ بعض لوگوں کا قیاس ہے جبکہ بعض دیگر علماء ایک دوسرا قیاس پیش کرتے ہیں کہ ۔۔۔ "کسی چیز کا دوسری چیز کی طرف تحویل کرنا، نسخ ہے" ۔۔۔ لیجئے، ابنِ فارس کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیے
النون والسين والخاء اصل واحد الا انه مختلف في قياسه، قال قوم: “قياسه رفع شئی و اثبات غيره مكانه“ وقال آخرون: قياسه تحويل شئی الي شئی
ن۔س۔خ ہی اس کی اصلِ واحد ہے لیکن مفہوم نسخ کے قیاس میں اختلاف واقع ہوا ہے۔ ایک گروہ نے کہا کہ ایک چیز کو اٹھا کر اس کی جگہ کسی دوسری چیز کو ثابت کر دینا نسخ ہے جبکہ دوسرے گروہ نے کہا کہ کسی چیز کو دوسری چیز کی طرف تحویل کرنا نسخ ہے۔
(معجم مقاییس اللغۃ ج 5 ص 424)
"مفکرِ قرآن" صاحب نے ایک گروہ کے قیاس کو مفید مطلب پایا اور قبول کر لیا اور دوسرے گروہ کے اختلاف کا ذکر تک نہ کیا۔ ایسا کرتے ہوئے اپنے قارئین کو یہ یکطرفہ تاثر دیا کہ نسخ کا جو معنی وہ بیان کر رہے ہیں وہ گویا علماءِ امت کے نزدیک ایک متفق علیہ مفہوم ہے جس میں نہ کسی اختلاف کی گنجائش ہے اور نہ ہی کسی نے اختلاف کیا ہے۔ "مفکر قرآن" صاحب کی یہی وہ مطلب جویانہ ذہنیت ہے جس کا شاہکار ان کی پوری لغات القرآن ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ نسخ کے لغوی مفہوم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ایک حکم دوسرے حکم کے لئے اس طرح اپنی جگہ خالی کر دے کہ حکمِ ثانی، حکمِ اول کی جگہ کسی نئے عمل کو پرانے عمل کا قائم مقام بنائے اور یہ بات بھی کہ متاخر حکم، سابق حکم کا محض ازالہ اور فقط خاتمہ کر دے ۔۔۔ بغیر اس کے کہ کسی نئے عمل کو عملِ سابق کی جگہ رائج کرے۔ کلامِ عرب میں ان دونوں معانی کی مثالیں پائی جاتی ہیں، لیکن "مفکر قرآن" صاحب نسخ کے ایسے مفہوم کے قائل نہیں ہیں جس میں بعد والا حکم، پہلے حکم کو محض زائل اور ختم کر دینے پر اکتفاء کر دے، اس لئے وہ کلام عرب میں سے ان اقوال کی تحریف کے درپے رہے ہیں جن میں یہ معنی پایا جاتا ہے مثلا۔۔۔
والعرب تقول: “نسخت الشمس الظل وانتسخته: ازالته اذهبت الظل وحلت مكانه
عرب یہ کہتے ہیں کہ "دھوپ نے سائے کا "نسخ" یا "انتساخ" کر دیا یعنی دھوپ نے سائے کو زائل کر دیا، دھوپ سائے کو لے گئی اور خود اس کی جگہ پر آ گئی (1)
(لسانُ العرب ج 3 ص 61)
یہی مقولہ عرب، ابن فارس نے بھی پیش کیا ہے، لیکن "مفکر قرآن" صاحب جب اس مقولہ عرب کو اپنی لغات القرآن میں درج کرتے ہیں تو نسخ بمعنی ازالہ محض سے بچنے کے لئے اور نسخ کے مفہوم میں بہرحال، قائم مقامی کا تصور گھسیڑنے کے لئے جو پاپڑ بیلتے ہیں وہ ترجمہ ذیل سے ظاہر ہے
آفتاب نے سایہ کو ہٹا دیا اور اس کی جگہ روشنی لے آیا (لغات القرآن ص 1606)
نسخت الشمس الظل کا سیدھا سادہ ترجمہ ہے کہ ۔۔۔ "دھوپ نے سایہ کو ہٹا دیا" ۔۔۔ لیکن "مفکر قرآن" صاحب نے الفاظ کا مسرفانہ استعمال کرتے ہوئے اور دور کی کوڑی لاتے ہوئے، اس تین لفظی مقولے کو پورے دو جملوں میں مترجم کیا، حالانکہ اگر وہ پہلے ہی جملہ میں 'آفتاب" کی جگہ "دھوپ" لکھ دیتے تو بات واضح ہو جاتی اور دوسرے جملے کی ضرورت ہی نہ رہتی۔
کیا "مفکر قرآن" صاحب کو یہ علم نہ تھا کہ انگریزی زبان کے لفظ “Sun” کی طرح، عربی زبان کا لفظ "شمس" بھی "آفتاب" اور "دھوپ" کے دونوں معانی میں استعمال ہوتا ہے؟ یقینا علم تھا وہ خود لغات القرآن میں ش۔م۔س کے مادہ کے تحت لکھ چکے ہیں کہ ۔۔۔ "الشمس آفتاب (258/2) دھوپ" (لغات القرآن ص 978) ۔۔۔ پھر "مفکر قرآن" صاحب نے یہ جانتے ہوئے بھی (کہ لغاتِ عربیہ میں شمس بمعنی دھوپ بھی مستعمل ہے) کیوں تجاہلِ عارفانہ سے کام لیا ہے؟ اور نسخت الشمس الظل کے تین لفظی جملے کا ترجمہ پورے دو جملوں میں پھیلا کر کیوں پیش کیا؟ صرف اور صرف اس "نظریہ ضرورت" کے تحت کہ کہیں نسخ بمعنی ازالہ محض کا مفہوم نہ ظاہر ہونے پائے۔
علماءِ لغت نے اس معنی کی وضاحت کے لئے، ایک اور مقولہ عرب بھی پیش کیا ہے، اس کا ترجمہ کرتے ہوئے "مفکر قرآن" صاحب نے اسے بھی اپنے نظریہ ضرورت کی بھینٹ چڑھا دیا ہے، ملاحظہ فرمائیے
نسخت الريح آثار الديار ہوا نے آبادی کے آثار (نشانات و علامات) کو تبدیل کر دیا (یعنی وہ کھنڈرات وغیرہ، جن سے آبادی کا پتہ نشان ملتا تھا، انہیں ریت سے ڈھانک کر دگرگوں کر دیا) ۔۔ (لغات القرآن: ص 1606)
حالانکہ "نسخت الریح آثار الدیار" کا سیدھا سادا ترجمہ یہ ہے کہ "ہوا نے آبادی کے آثار کو مٹا ڈالا" لیکن نسخ میں سے "ازالہ محض" کے مفہوم کو خارج کرنے کے لئے زیر بحث مقولہ کا ترجمہ لمبی چوڑی عبارت کے ذریعہ "تبدیل کر دیا" اور "ریت سے ڈھانک کر دگرگوں کر دیا" جیسے الفاظ کی بھرمار سے کر دیا۔
پرویزی مفہوم نسخ: "مفکر قرآن" صاحب کے نزدیک نسخ کا مفہوم کسی آسمانی شریعت کا (یا اس کے بعض احکام کا) کسی بعد والی آسمانی شریعت (یا اس کے بعض احکام) سے بدل جانا اور اس کے قائم مقام ہو جاتا ہے، اس لئے ان کے تصورِ نسخ میں کسی حکم کا فقط خاتمہ اور محض ازالہ، اس وقت قابل قبول نہیں جب تک کہ منسوخ احکام کی جگہ قائم مقام احکام نہ مانے جائیں۔ مجرد احکام کا ازالہ، یا صرف ان کا معدوم ہو جانا، چونکہ انہیں قابل قبول نہیں، اس لئے وہ ان مقامات میں بھی، جہاں کوئی حکم، کسی سابقہ حکم کا قائم مقام بنے بغیر اس کا محض ازالہ یا مجرد خاتمہ کر رہا ہو، وہ وہاں بھی کوئی نہ کوئی متبادل یا قائم مقام تلاش کرنے پر تُل جاتے ہیں۔ پھر چونکہ ان کے نزدیک ناسخ و منسوخ کا وجود، ایک ہی نبی کی شریعت میں، اس کے حینِ حیات نہیں پایا جا سکتا (بلکہ کوئی بعد کی شریعت ہی اس کے احکامِ شریعت کو ختم کر سکتی ہے) اس لئے وہ قرآن میں اس نسخ کے تو قائل ہیں کہ قرآنی احکام، شرائعِ سابقہ کے احکام کو منسوخ کر دیں، لیکن اس بات کے قائل نہیں کہ قرآنی آیات میں سے کسی کو منسوخ مانا جائے، کیونکہ ناسخِ آیاتِ قرآنیہ کی صورت میں بعد از قرآن کسی وحی یا آسمانی شریعت کے نزول کا قائل ہونا پڑتا ہے اور یہ چیز چونکہ ختم نبوت کے منافی ہے، لہذا وہ قرآنی آیات کے نسخ کے منکر ہیں۔ یہ ہے "مفکر قرآن" صاحب کا مفروضہ تصورِ نسخ جس پر انکار نسخ کی پوری عمارت کو اساس پذیر کیا گیا ہے۔ اسی تصور کے زیر اثر وہ لغوی تحقیق کے دوران اپنی ذہنی چابکدستی اور ہاتھ کی صفائی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اسی کے تابع وہ آیت نسخ کی تفسیر کرتے ہوئے حدِ تحریف کو بھی پھاند جاتے ہیں۔
آیتِ نسخ اور پرویز: اب آئیے، ہم پرویز صاحب کے بیان کردہ مفہوم آیتِ نسخ کا جائزہ لیں۔ لیکن اصل مفہوم اور تفسیرِ آیت سے قبل، وہ بطورِ تمہید فرماتے ہیں
"پیچھے سے کلام کا سلسلہ یوں چلا آتا ہے کہ اہل کتاب (بالخصوص یہود) قرآنِ مجید اور رسالتِ محمدیہ پر مختلف اعتراضات کرتے ہیں (قرآن مجید ان اعتراضات کا جواب دیتا ہے) اسی سلسلہ میں ان کا ایک اعتراض یہ بھی تھا (اور یہ اعتراض بڑا اہم تھا (2)) کہ جب خدا نے انبیاءِ سابقین (مثلا حضرت موسیٰ وغیرہ) پر اپنے احکام نازل کر دئیے تھے اور وہ احکام تورات وغیرہ میں موجود ہیں، تو پھر ان کی موجودگی میں اس نئے رسول اور نئی کتاب کی کیا ضرورت تھی؟ اس آیت میں اسی اعتراض کا جواب دیا گیا ہے۔"(لغات القرآن: ص 1609)
"مفکر قرآن" صاحب کی یہ عادت تھی کہ قرآنی آیات کو خود ساختہ معانی کا لباس پہنانے کے لئے "وہ" ایک ایسی تمہید باندھا کرتے تھے جس سے وہ اپنے ذہنی مقصود تک پہنچنے کے لئے زینے کا کام لیا کرتے تھے۔ چنانچہ آیتِ نسخ کی تفسیر سے قبل، ان کی یہ تمہید بھی اسی نوعیت کی ایک مثال ہے۔
"مفکر قرآن" صاحب نے یہ تو بتا دیا کہ ۔۔۔ "پیچھے سے سلسلہ کلام یوں چلا آ رہا ہے کہ اہل کتاب (بالخصوص یہود) قرآن کریم اور رسالتِ محمدیہ پر مختلف اعتراضات کرتے تھے" ۔۔۔ لیکن یہ واضح نہ کر سکے کہ اعتراضات کا یہ سلسلہ کس آیت سے شروع ہوا اور کس آیت پر ختم ہوا، جبکہ ہم صریح طور پر دیکھ رہے ہیں کہ آیت نسخ جس رکوع میں واقع ہے، اس کی ابتداء ہی ۔۔۔ يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا ۔۔۔ کے خطاب سے ہو رہی ہے، اس آیت کے بعد والی آیات بھی اہل ایمان ہی سے مخاطب ہیں، آخر کس دلیلِ قرآنی کی بناء پر ان آیات کے خطاب کا رخ، اہل ایمان سے موڑ کر اہل کتاب کی طرف کیا جائے؟ پھر "مفکر قرآن" صاحب نے یہ بھی نہیں بتایا کہ یہود کی طرف سے، نئے نبی اور نبی کتاب کی آمد کے اعتراض کا ماخذ کون سی قرآنی آیت ہے؟ (2)
"مفکر قرآن" کا دو رُخا پن: یہاں "مفکر قرآن" صاحب کے سیرت و کردار اور ان کے اصولِ تفسیر کی پاسداری کا ایک اور پہلو بھی ملاحظہ فرمائیے جو ان کے تضادِ عمل، اور دو رُخے پن کا منہ بولتا ثبوت ہے، ایک طرف تو وہ آیتِ نسخ کی توضیح و تشریح کے لئے اعتراضاتِ یہود پر مبنی، آیت کا "شانِ نزول" خود گھڑتے ہیں، اور دوسری طرف قرآن کریم کی تحسین میں یہ ڈھنڈورا بھی پیٹتے ہیں کہ
"خدا کی یہ عظیم کتاب، اپنے مطالب کو واضح کرنے کے لئے، نہ تو شانِ نزول کی محتاج ہے اور نہ کسی اور ترتیب کی"۔(مطالب الفرقان ج 1 ص 316)
آیاتِ قرآن یا آیاتِ کتبِ سابقہ: حقیقت یہ ہے کہ یہود کا یہ اعتراض، قرآن میں کہیں موجود نہیں کجا یہ کہ وہ آیت سے قبل یا بعد متصل ہی موجود ہو، اسے "مفکر قرآن" صاحب نے اپنی ٹکسال میں خود ڈھلا تاکہ اس کی بنیاد پر آیتِ نسخ کی تشریح کرتے ہوئے وہ اپنے مقصودِ ذہنی تک پہنچ جائیں۔ چنانچہ اس خود ساختہ "شان نزول" کو وہ اپنے ذہبی مقصود کی بنیاد بنا کر اس پر اگلا ردہ یوں اٹھاتے ہیں۔
"آیت کے معنی صرف قرآن کریم کی آیت نہیں، قرآن کریم نے ہر رسول کی وحی کو آیات اللہ کہا ہے۔ مثلا اسی سورہ بقرہ میں قصہ آدم علیہ السلام میں ہے کہ آدم سے کہا گیا
﴿فَإِمّا يَأتِيَنَّكُم مِنّى هُدًى فَمَن تَبِعَ هُداىَ فَلا خَوفٌ عَلَيهِم وَلا هُم يَحزَنونَ ﴿٣٨﴾... سورة البقرة
"جب میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے تو جو کوئی اس ہدایت کی پیروی کرے گا اسے کوئی خوف اور حزن نہیں ہوتا" اور اس کے آگے ہے ﴿وَالَّذينَ كَفَروا وَكَذَّبوا بِـٔايـٰتِنا ۔۔۔ ۔۔ (39/2) ان کے برعکس جو لوگ، ہماری آیات کی تکذیب کریں گے اور ان سے انکار کریں گے ۔۔ یہاں سے ظاہر ہے کہ جہاں بھی اور جب بھی خدا کی طرف سے ہدایت آتی ہے اسے آیاتُ اللہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔" (لغاتُ القرآن ص 1611)
"مفکر قرآن" صاحب کی یہ دلیل صرف اسی سورت میں درست قرار پا سکتی تھی جبکہ آیت (38/2) میں ﴿إِمّا يَأتِيَنَّكُم مِنّى هُدًى﴾ کی جگہ كتاب یا وحی کے الفاظ ہوتے اور پھر اگلی آیت (39/2) کی روشنی میں اسے آیات اللہ سے تعبیر کیا جا سکتا تھا۔ لیکن جو لفظ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے وہ "کتاب" یا "وحی" کا لفظ نہیں بلکہ " هدی " کا لفظ ہے اور ہدایت کی آیات ضروری نہیں کہ "وحی" یا "کتاب" ہی کی آیات ہوں۔ بلکہ وہ آفاق و انفس میں پھیلے ہوئے معرفت کردگار کے آثار و علائم بھی ہو سکتے ہیں۔ قرآن کریم کی درج ذیل آیات اس پر گواہ ہیں:
1۔ عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی یہاں تک کہ ان پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ قرآن واقعی برحق ہے۔ (53/41)
﴿وَعَلـٰمـٰتٍ وَبِالنَّجمِ هُم يَهتَدونَ ﴿١٦﴾... سورة النحل
اور علامات ہیں اور لوگ ستاروں سے راہ پاتے ہیں۔ (16/16)
﴿وَكَأَيِّن مِن ءايَةٍ فِى السَّمـٰو‌ٰتِ وَالأَرضِ يَمُرّونَ عَلَيها وَهُم عَنها مُعرِضونَ ﴿١٠٥﴾... سورة يوسف
زمین اور آسمان میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ لوگ گزرتے رہتے ہیں اور ذرا توجہ نہیں کرتے۔ (105/12)
ان آیات سے واضح ہے کہ هدی یا هداية کی آیات، آفاق و انفس کے وہ آثار و نشانات بھی ہو سکتے ہیں جو خدا کی طرف سے نازل کردہ وحی یا کتاب کی آیات کے علاوہ ہوں۔ اس لئے آیتِ نسخ میں بغیر کسی دلیل، یا قرینہ سیاق و سباق کے لفظ " آيَاتِنَا " کو وحی و کتاب" کی آیات تک محدود و محصور کر دینا، "مفکر قرآن" صاحب کی ایک ایسی سینہ زوری ہے، جو الفاظ قرآن سے ان کی عقلی کشتی اور ذہنی دنگل کا عمر بھر محرک بنی رہی ہے، اس بیجا سخن سازی کے ساتھ ہی وہ اپنی تحقیق کا نتیجہ یوں بیان کرتے ہیں:
لہذا مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ میں آیات سے مراد، قرآن کریم کی آیات نہیں، بلکہ اس سے مراد ہے کسی سابق وحی کی آیات کی تبدیلی، بعد کی وحی کی آیات سے، جیسا کہ سورہ نحل کی آیات میں کہا گیا ہے
﴿وَإِذا بَدَّلنا ءايَةً مَكانَ ءايَةٍ... ﴿١٠١﴾... سورة النحل
"اور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں۔"
"مفکر قرآن" صاحب کی یہ توجیہ، دلیل سے عاری مجرد ایک دعویٰ ہے جو خود محتاجِ دلیل ہے، اس کے بُطلان پر مندرجہ ذیل امور شاہدِ عدل ہیں۔
اولا ۔۔۔ آیت کا لفظ جب مطلق بولا جائے، تو اس سے مراد آیاتِ قرآنی ہی ہوتی ہیں کیونکہ وہی ہمارے ہاں معہودِ ذہنی ہوا کرتی ہیں، اس سے خواہ مخواہ تورات و انجیل کی آیات مراد لینا، جبکہ ان کتبِ سابقہ کا سیاق و سباق میں سِرے سے ذکر ہی نہ ہو، ایک بیجا سخن سازی ہے۔
ثانیا ۔۔۔ آیتِ نسخ کے مخاطب، اہل ایمان ہیں نہ کہ اہل کتاب، کیونکہ آیت جس رکوع میں شامل ہے اس کا آغاز ہی  يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا کے الفاظ سے ہوتا ہے، لہذا جب اہل ایمان کو خطاب کر کے یہ کہا جائے کہ مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ (ہم جو آیت بھی منسوخ کرتے ہیں ۔۔) تو اس سے بالیقین آیاتِ قرآن ہی مراد ہوں گی نہ کہ تورات اور انجیل کی آیات۔
ثالثا ۔۔۔ اگر آیت سے مراد سابقہ وحی ہوتی تو قرآن ما ننسخ من وحی یا ما ننسخ من كتاب یا ما ننسخ من شرعة کے الفاظ استعمال کرتا جو مفہومِ پرویز کو ادا کرنے کے لئے زیادہ مناسب اور موزوں ہے۔
رابعا ۔۔۔ جہاں تک سورہ نحل کی آیت ﴿وَإِذا بَدَّلنا ءايَةً مَكانَ ءايَةٍ... ﴿١٠١﴾... سورة النحل" کا تعلق ہے تو یہ مکی دور کی سورت ہے، جس میں دعوت، اہل مکہ کو پیش کی گئی ہے اور اہل مکہ ہی کے اعتراضات سے تعرض کیا گیا ہے، تبدیلی آیت والے قرآنی جملے سے متصل ہی پہلے ﴿وَالَّذينَ هُم بِهِ مُشرِكونَ ﴿١٠٠﴾... سورة النحل" سے بھی پتہ چلتا ہے کہ تبدیلی آیت پر انما انت مفتر کے الفاظ سے حضور اکرم کو خطاب کرنے والے اہل کتاب سے متعلق قرار دے کر، سابقہ کتب کی آیات مراد لینا بے محل اور بے جوڑ سی بات ہے۔ آخر "مفکر قرآن" صاحب کی بات کو بلا دلیل کیسے مان لیا جائے؟ کہ تبدیلی آیت والے قرآنی جملے میں آیات کی تبدیلی سے مراد قرآن کی آیات کی تبدیلی نہیں بلکہ تورات و انجیل کی آیات کی تبدیلی ہے۔
نُنسِهَا : اس کے بعد "مفکر قرآن" صاحب آیت نسخ کے اگلے حصہ " نُنسِهَا " کی تفسیر فرماتے ہیں۔
اس کے بعد لفظ نُنسِهَا ہے، یہ لفظ نسی سے ہے۔ نسی کے معنی کسی چیز کو ترک کر دینا یا فراموش کر دینا آتے ہیں، اس لفظ میں یہ ساری حقیقت آ جاتی ہے کہ سابقہ کتبِ آسمانی، اپنی اصلی حالت میں باقی نہیں رہتی تھیں، چنانچہ قرآن میں ہے کہ جو رسول بھی آیا اس کے ساتھ یہی ہوا کہ اس کی وحی میں سرکش اور مفسد لوگوں نے اپنی طرف سے کچھ ملا دیا، لیکن خدا کی طرف سے ایسا ہوتا رہا کہ ان کی اس آمیزش اور ملاوٹ کو الگ کر دیا جاتا اور اس طرح اللہ اپنی آیات کو ازسرِنو محکم کر دیتا (25/22)
(لغاتُ القرآن: ص 1611)
اسی چیز کو "مفکر قرآن" صاحب ایک دوسرے مقام پر بایں الفاظ پیش کرتے ہیں۔
مفہومِ آیت (52/22) میں پرویزی تحریفات کا جائزہ: ان میں (کتبِ سابقہ میں ۔۔۔ قاسمی) ایسے احکام بھی تھے جنہیں اہل کتاب نے اپنی طرف سے وضع کر کے شاملِ کتاب کر رکھا تھا، اس کی شہادت قرآن پاک کے مختلف مقامات میں موجود ہے مثلا (13/5)، ان تحریفات کو جدید وحی منسوخ کر کے، ان کی جگہ اصلی احکام دے دیتی تھی۔ سورہ حج میں اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
﴿وَما أَرسَلنا مِن قَبلِكَ مِن رَسولٍ وَلا نَبِىٍّ إِلّا إِذا تَمَنّىٰ أَلقَى الشَّيطـٰنُ فى أُمنِيَّتِهِ فَيَنسَخُ اللَّهُ ما يُلقِى الشَّيطـٰنُ ثُمَّ يُحكِمُ اللَّهُ ءايـٰتِهِ وَاللَّهُ عَليمٌ حَكيمٌ ﴿٥٢﴾... سورةالنحل
"اور ہم نے (اے رسول) تجھ سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا جس کے ساتھ یہ ماجرا نہ گزرا ہو کہ اس کے بعد، اس کے تلاوت کردہ (پیغاماتِ خداوندی) میں شیطان نے اپنی طرف سے کچھ ملا نہ دیا ہو (شیاطین یہ کرتے تھے اور) اللہ ان کی آمیزش کو (دوسرے رسول کی بعثت سے) مٹا دیتا تھا اور اپنے پیغامات کو پھر محکم بنا دیتا تھا، اللہ علیم و حکیم ہے۔"
(قرآنی فیصلے ج 4 ص 42)
"مفکر قرآن" صاحب کی یہ عبارت، ان کی تحریف کو تین پہلوؤں سے طشت ازبام کر رہی ہے۔
اولا ۔۔۔ سورہ حج کی آیت میں جن تحریفات کا تذکرہ ہے، وہ کب کی گئیں؟ پیغمبر کی وفات کے بعد؟ یا اس کی زندگی میں جبکہ وہ تلاوت کر رہا ہو؟ اللہ تعالیٰ کا جواب یہ ہے کہ ﴿إِذا تَمَنّىٰ أَلقَى الشَّيطـٰنُ فى أُمنِيَّتِهِ﴾ (شیطان نے یہ کام پیغمبر کے بعد نہیں، بلکہ ان کی زندگی میں، دورانِ تلاوت کیا) لیکن "مفکر قرآن" صاحب کو اللہ تعالیٰ سے اختلاف ہے، ان کے نزدیک یہ شیطانی آمیزش، پیغمبر کے بعد ہوئی چنانچہ الفاظِ قرآن کی قیود سے آزاد ہو کر اور حدودِ مفرداتِ قرآنیہ میں انسلاخِ آیات کرتے ہوئے، ترجمہ میں اضافی الفاظ یوں داخل کرتے ہیں کہ ۔۔۔ "تجھ سے پہلے کوئی پیغمبر اور نبی نہیں بھیجا جس کے ساتھ یہ معاملہ نہ گزرا ہو کہ اس کے بعد" ۔۔۔ پرویز صاحب تو اب زیر زمین جا چکے ہیں، ان کی ذریت ہی اب یہ معمہ حل کرے کہ ۔۔۔ "اس کے بعد" ۔۔۔ کے الفاظ کن قرآنی مفردات کا ترجمہ ہیں۔
ثانیا ۔۔۔ ان آمیزشوں اور ملاوٹوں کا ارتکاب کس نے کیا؟ اللہ تعالیٰ نے اس کا مرتکب شیطان کو قرار دیا ہے۔ ﴿إِذا تَمَنّىٰ أَلقَى الشَّيطـٰنُ ﴾ لیکن "مفکر قرآن" صاحب کے نزدیک، ان کا ارتکاب، اہل کتاب اور ان کے سرکش و مفسد افراد نے کیا ہے۔ یہ ان کا اللہ تعالیٰ سے دوسرا اختلاف ہے، حالانکہ شیطان کا لفظ جب مطلق بولا جائے اور کوئی قرینہ ایسا نہ پایا جائے کہ اس سے مراد افراد انسانی لئے جائیں تو اس سے مراد وہ شیاطینُ الجن ہوتے ہیں جو نظر نہیں آیا کرتے اور جن کے متعلق خود قرآن یہ کہتا ہے کہ ﴿إِنَّهُ يَرىٰكُم هُوَ وَقَبيلُهُ مِن حَيثُ لا تَرَونَهُم﴾ (وہ اور اس کے ساتھی تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں دیکھ نہیں سکتے) پھر یہ امر بھی قابل غور ہے کہ کوئی فرد انسانی خواہ پیغمبر اور اس کے مشن کا وہ کتنا ہی زبردست مخالف ہو وہ اس امر پر قدرت نہیں رکھتا کہ پیغمبر کی تلاوت کے عین دوران میں وہ آمیزش اور ملاوٹ کر پائے یہ کام غیر مرئی ہونے کی بناء پر نگاہوں کی گرفت میں نہ آ سکنے کے باعث وہ شیطان ہی کر سکتا ہے جو شیاطین الجن میں سے ہو۔
ثالثا ۔۔۔ ان شیطانی آمیزشوں اور القاءِ ابلیسی کو اللہ کب اور کس وقت منسوخ کرتا ہے؟ جس پیغمبر کی تمنا و تلاوت کے دوران، شیطان القاء کرتا ہے، اسی پیغمبر کے زمانہ میں اور اسی کے ذریعہ؟ یا اس کے بعد آنے والے کسی دوسرے پیغمبر کے ذریعہ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ﴿إِذا تَمَنّىٰ أَلقَى الشَّيطـٰنُ فى أُمنِيَّتِهِ فَيَنسَخُ اللَّهُ ما يُلقِى الشَّيطـٰنُ ثُمَّ يُحكِمُ اللَّهُ ءايـٰتِهِ﴾ "جب رسول یا نبی تلاوت کرتا تو اس کی تلاوت میں شیطان القاء کر ڈالتا پھر اللہ شیطانی القاء کو منسوخ کر ڈالتا اور اپنی آیات کو محکم کر دیتا" لیکن ہمارے "مفکر قرآن" کو یہاں بھی اللہ تعالیٰ سے اختلاف ہی رہا، ان کے نزدیک القاءِ شیطانی کا واقعہ، کسی پیغمبر کی زندگی میں نہیں بلکہ ان کے بعد ہوتا رہا ہے، اور پھر یہ القاء شیطانی اس وقت تک برقرار رہتا تھا جب تک کہ اس کے بعد کوئی نیا رسول آ کر ان آمیزشوں کو مٹا نہیں دیتا تھا، اس مفہوم کو بیچارے اللہ تعالیٰ مناسب الفاظ میں پیش نہ کر سکے تو "مفکر قرآن" نے ترجمہ میں اپنی طرف سے کچھ الفاظ کا اضافہ کر کے اللہ تعالیٰ کی بات بنا دی اور اس کی لاج رکھ لی۔ (العیاذ باللہ)
اگر آیت (52/22) کے الفاظ پر سے "مفکر قرآن" صاحب کے فکر کا بوجھ اتار پھینکا جائے تو آیت کا سیدھا سادہ ترجمہ یہ ہو گا۔
ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول یا نبی نہیں بھیجا جس کے ساتھ یہ ماجرا نہ گزرا ہو کہ اس کی تلاوت میں شیطان نے اپنی طرف سے کچھ ملا نہ دیا ہو، پھر اللہ اس کی خلل اندازی کو مٹا دیتا ہے اور اپنی آیات کو پھر محکم بنا دیتا ہے، اللہ علیم و حکیم ہے۔
"مفکر قرآن" صاحب کے الحاقی اور اضافی الفاظ سے پاک یہ ترجمہ واضح کرتا ہے کہ جس پیغمبر نے بھی تلاوت کی شیطان نے اس میں القاء کیا اور اللہ نے اس کے القاء کو مٹا دیا اور اپنی آیات کو محکم کر دیا۔ لیکن اگر "مفکر قرآن" صاحب کے فکر کا نشانہ بننے والا بھاری بھر کم مفہوم اپنایا جائے تو صورتِ حال کچھ یوں بنتی ہے کہ ۔۔۔ ایک نبی (مثلا حضرت عیسیٰ علیہ السلام) نے اپنی وحی کی تلاوت کی، شیطان نے القاء کیا، یہ القاء شیطانی اور آمیزش ابلیسی، صدیوں تک برقرار رہی، آخر کئی صدیوں کے بعد ایک دوسرے پیغمبر (مثلا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم) تشریف لائے اور اپنی وحی کے ذریعہ، صدیوں پہلے واقع ہونے والے القاء شیطانی کا آج ازالہ کر دیا گیا ۔۔۔
خدارا ذرا سوچئے!کیااللہ اسی طرح اپنی آیات کو محکم کیا کرتا ہے کہ ایک پیغمبر کی تلاوت کے وقت ٗ ہونے والے القاء شیطانی کو ٗ اللہ تعالیٰ اسی وقت ٗ اسی پیغمبر کےذریعہ سےنہ مٹائےجس کی تلاوت کے دوران شیطان نے یہ دخل اندازی کی ہے اور اس شیطانی ملاوٹ اور ابلیسی آمیزش کو صدیوں تک برقرار رہنے دے تاکہ حق وباطل کا یہ مخلوطہ قرنہاء قرن تک جادۂ ہدایت اور راہ حق کو مسدود رکھے۔لوگ نسل در نسل گمراہی کے کھڈوں میں مسلسل گرتے رہیں ٗ مدت دراز تک افراد انسانی کی رسائی سے حق و ہدایت دور بلکہ نظروں سے اوجھل رہیں اور شیطانی آمیزشوں کا یہ زہر(جسے شیطان نے پیغمبر کی تمناوتلاوت کے وقت ٗاس کی وحی کے چشمہ صافی میں شامل کر دیا تھا)لوگوں کو صدیوں تک کفروضلالت کے قبرستانوںمیں پہچانتا رہے اور اللہ میاں اس وقت تو اس زہر کا ازالہ نہ کرے لیکن صدیاں گزر جانے کے بعد ایک اور پیغمبر بھیجے اور شیطانی ملاوٹوں سے اپنے پیغام کو پاک کرے ؟کیا یہی وہ علم و حکمت ہےجس کی بناء پر آیت کے آخر میں ٗاللہ تعالیٰ کوواللہ علیم حکیم کہا گیاہے؟
کیا کبھی "مفکر قرآن"صاحب نے اپنے فکر کی"بلند پروازی"سے نیچے اتر کر یہ بھی سوچا تھا کہ ان کی اس تشریح سے قرآن بھیجنے والے خدا کے متعلق کیا تصور پیدا ہوتا ہے جس کا طعنہ وہ ہمیشہ قائلین نسخ کو دیا کرتے تھے؟لیکن ہمارے"مفکرقرآن"صاحب کو صرف اور صرف اس سے غرض تھی کہانہوں نے اپنی دیانت و امانت کو بالائے طاق رکھ کر مسخ وتحریف کے ہتھیاروں سے لیس ہو کر ٗ تراجم آیات میں اپنے الحاقی اور اضافی الفاظ سے جو جدت طرازی کی ہے اس میں کہیں فرق نہ آنے پائے ٗخواہ یہ جدت طرازیاں اپنی اسل کے اعتبار سے یہود کی مکذوبات ہوں یا نصاریٰ کی مفتریات ٗمجوس کی مخترعات ہوں یا صناویدِعجم کی خرافات ٗمفکرین مغرب کی ہفولت ہوں یا مستشرقین کی ہرزہ سرائیاں۔
تدریج فی تحریف پرویز :حقیقت یہ ہے کہ آیت(52/22)کا مسئلہ ناسخ و منسوخ سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے چودہ صدیوں پر مشتمل اسلامی لٹریچر میں کہیں اس آیت کو ٗنسخ کے اصطلاحی مفہوم میں کبھی زیرِبحث نہیں لایا گیا ٗعلماء نے نسخ بمعنی ازالہ کے لغوی مفہوم کی وضاحت کے لیے استشہادََا اس آیت کو پیش کیا ہے ٗلیکن"مفکرقرآن"صاحب نے تعلیماتِ قرآنیہ کو اپنی ذاتی خواہشات و آراء کی بھینٹ چڑھا دینے کے لئے
(1)پہلے تو یہ کہا کہ آیتِ نسخ(106/2)یہود سے خطاب کرتے ہوئے ان کے اعتراض کا جواب پیش کرتی ہے حالانکہ آیت کا خطاب اہلِ ایمان سے ہے
(2) اس کے بعد دوسرے قدم پر﴿ما نَنسَخ مِن ءايَةٍ﴾ میں آیت سے مراد قرآنِ کریم کی آیات لینے کی بجائے کتبِ سابقہ اور گزشتہ وحی کی آیات لی گئیں
(3)پھر تیسرے قدم پر بھی غنیمت تھا اگر"مفکرقرآن"صاحب یہیں تک محدود رہتے لیکن وہ آگے بڑھتے گئے یہاں تک کہ سابقہ وحی کی آیات میں اب یہودواہلِ کتاب کی مفتریات و مخترعات بھی داخل ہو گئیں۔
یاد رکھئے قرآن کریم یہود و نصاریٰ کے خود ساختہ احکام کی تردید تو کرتا ہے لیکن ان کی تنسیخ نہیں کرتا ہے۔ اس لئے کہ نسخ و تنسیخ ٗاس حکم پر وارد ہوتی ہے جس کی اصل خدا یا رسول سے ثابت ہو ٗاور جو حکم ہوں ہی بے اصل(جیسے یہود و نصاریٰ کی مکذوبات و مخترعات)تو ان کی صرف تردید ہوتی ہے نسخ و تنسیخ نہیں۔ لیکن"مفکرقرآن"اہلِ کتاب کے خود ساختہ احکام اور من گھڑت قوانین کو بھی نسخ کے اصطلاحی مفہوم کی بحث میں گھسیٹ لائے کیا اہلِ ایمان ان انسانی قوانین پر عمل پیرا تھے کہ انہیں اب منسوخ کرنے کی ضرورت پڑ گئی ؟ اہلِ کتاب اگر ان خود ساختہ قوانین کو مان بھی رہے تھے ٗتو قرآن ٗان کے قوانین کو خود ان کے لئے کیسے منسوخ کر سکتا تھا جبکہ وہ قرآن کہ مانتے ہی نہیں تھے ؟سچی بات تو یہ ہے کہ یہود کے سرکش اور مفسد افراد کے خود ساختہ قوانین کو اصطلاحی نسخ کی بحث میں کھینچ لانا "مفکرقران"صاحب کی جہالت نہیں ہے تو شرارت ضرور ہے۔کیا دنیا میں کبھی کوئی ایسی حکومت کسی نے دیکھی ہے جو دھوکہ و فریب کی راہ سے جعلی حکمران بن جانے والے بہروپیوں کے قوانین کی تردید کرنے کی بجائے ٗان کے قوانین کو منسوخ کرے۔شاید"مفکرقرآن"صاحب"تردید کرنے"اور"منسوخ کرنے"کے درمیان جو فرق ہے ٗاس سے قطعی بے خبر تھے۔
انساء اور نسیان میں پرویز کا خلطِ مبحث:اب آئیے ٗآیت نسخ کے دوسرے جزو﴿أَو نُنسِها نَأتِ بِخَيرٍ مِنها أَو مِثلِها﴾ کی طرف۔"مفکرقرآن"صاحب لکھتے ہیں۔
اس کے بعد لفظ نُنسِهَا ہے ٌیہ لفظ نسی سے ہے ٗ نسی کے معنی کسی چیز کو ترک کر دینا یا فراموش کر دینا آتے ہیں (لغات القرآن ص 1611)
ہیئسہ بسوخت عقل ز حیرت ایں چہ بوا ا لعجبی است
جب کسی شخص کےخیالات ٗ قدم قدم پر قرآن سے ٹکراتے ہوں اور وہ اپنے خیالات کو بھی چھوڑنا نہ چاہتا ہو اور قرآن سے اپنے تمسک کا ڈھونگ بھی برقرار رکھنے پر مجبور ہو تو وہ قرآن کریم کے ایک ایک لفظ میں کتر بیونت کرنے پر تل جاتا ہے تاکہ قرآن سے ہدایت لینے کی بجائے ٗ الٹا قرآن کو ہدایت دی جائے ٗ اگر میری یہ صاف گوئی ٗ وابستگانِ طلوعِ اسلام کو ناگوار نہ گزرے تو میں یہ عرض کروں گا کہ پرویز صاحب عمر بھر اسی ادھیڑ بْن کی کیفیت سے دو چار رہے ہیں۔
لفظ" نُنسِهَا "کے متعلق ان کا یہ کہنا ٗ کہ یہ لفظ نسی سے ہے ٗ ان کے کتر بیونت اور خدع و فریب کی ایک مثال ہے۔ ایک مبتدی بھی یہ جانتا ہے کہ نُنسِهَا کا لفظ نسی سے نہیں بلکہ انسی (ينسی)سے ہے۔ نسی ثلاثی مجرد میں فعل ماضی ہے جبکہ انسی ثلاثی مزید فیہ میں فعل ماضی ہے ٗ نسی کا مصدر نسیان ہے۔ جبکہ انسی(ینسی)کا مصدر "اِنساء"ہےجس سے مضارع کا فعل ينسی متکلم جمع کے صیغہ میں مجزوم ہو کر ضمیر مفعول ھا سے ملتے ہوئے نُنسِهَا بنا ہے۔ نسی کے معنی "فراموش کر دینا"اور"ترک کر دینا"دونوں ہی ہیں جبکہ انساء کے معنی صرف"فراموش کر دینے"اور"بھلا دینے کے ہیں"۔ اس میں"ترک کر دینا یا ترک کروا دینا" کا معنی موجود نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ پرویز صاحب خود بھی تلاش بسیار کے باوجود انساء بمعنی "ترک کرنا یا کروا دینا" کی کوئی نظیر اپنی لغات القرآن میں پیش نہ کر سکے اور خود انہیں بھی ۔۔۔۔۔۔ انساه اياه اس نے اس کو بھلا دیا۔۔۔۔۔۔۔کے معنی پر اکتفاء کرنا پڑا     (ملاحظہ ہو لغات القرآن ص 1611)
نسیان اور انساء میں جو واضح فرق ہے اسے"مفکرقرآن"صاحب نظرانداز کرتے ہوئے ﴿أَو نُنسِها نَأتِ بِخَيرٍ مِنها أَو مِثلِها﴾ کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔
وہ(یعنی اقوام گزشتہ کے مفسد اور سرکش لوگ۔۔۔۔۔قاسمی)اس وحی کے"کچھ حصہ کو ترک کر دیتے تھے ٗ اس حصے کو خدا نئے رسول کی وحی میں پھر شامل کر دیتا تھا"     (لغات القرآن ص 1611)
ایک اور مقام پر"مفکرقرآن"صاحب لکھتے ہیں۔
اہل کتاب کے اپنی کتابوں کےبعض پیغامات کے فراموش کر دینے کا بھی ذکر قرآن کریم میں موجود ہے﴿وَنَسوا حَظًّا مِمّا ذُكِّروا بِهِ۔۔۔ (سورة المائده) ٗ اگر ان فراموش کردہ پیغامات کا موجود رکھنا مقصود ہوتا تو جدید وحیِ خداوندی ٗ انہیں بحال کر دیتی۔
   (قرآنی فیصلے ج 4 ص 43)
مفکرقرآن کا اللہ تعالیٰ سے اختلاف: غور فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ کیا فرما رہے ہیں اور اس کے مقابلے میں"تشریحاتِ مفکرقرآن"کیا کہہ رہی ہیں۔
اولا"۔۔۔۔۔۔اللہ بزرگ و برتر تو یہ فرما رہے ہیں کہ﴿ أَو نُنسِها نَأتِ بِخَيرٍ مِنها ﴾ اگرہم کسی آیت کو فراموش کرا دیتے ہیں(غور فرمایئے"فراموش کر دیتے ہیں" نہیں بلکہ"فراموش کرا دیتے ہیں") تو اس سے بہتر یا اس جیسی آیت لے آتے ہیں لیکن"مفکرقرآن"کی فکرزدہ تفسیر یہ کہتی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔"اہل کتاب اگر خود اپنی کتابوں کے پیغامات کو فراموش کر دیتے ٗ تو اللہ تعالیٰ جدید وحی کے ذریعہ انہی پیغامات کو بحال کر دیتا"۔۔۔
ثانیا "۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ تو یہ فرما رہے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔"ہم اگر کسی آیت کو فراموش کرا دیتے ہیں تو اس فراموش شدہ آیت کو نہیں بلکہ اس جیسی کسی دوسری آیت کو لے آتے ہیں"۔۔۔۔۔۔﴿ نَأتِ بِخَيرٍ مِنها أَو مِثلِها﴾ لیکن "مفکرقرآن"صاحب کے نزدیک ٗ فراموش شدہ پیغامات کی مثل دیگر پیغامات نہیں بلکہ انہی نسیان شدہ پیغامات کو بحال کر دیا جاتا ہے۔
کس قدر زمین وآسمان کا فرق ہے کلام خداوندی میں اور ان تشریحاتِ کلام الٰہی میں جنہیں "مفکرقرآن" صاحب نے اپنے فکر کی بھینٹ چڑھا رکھا ہے۔ ہر شخص خود دیکھ سکتا ہے کہ "مفکرقرآن"صاحب قرآن کی تفسیر کیا کرتے تھے یا تحریف؟ایسے ہی مفسرین کے متعلق اقبال نے کہا تھا
احکام تِرے حق ہیں ٗ مگر اپنے مفسر
تاویل سے قرآن کو بنا سکتے ہیں پازند
خود بدلتے نہیں ٗ قرآن کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
قرآن کو پازند بنانے کے لئے ایک اور پرویزی حیلہ: آیت نسخ میں نُنسِهَا کی تشریح میں ایک اور حیلہ بھی کیا گیا ہے تاکہ قرآن کو واقعی پازند بنایا جا سکے۔ "مفکرقرآن"فرماتے ہیں:
" انسی کے معنی کسی چیز کو علی حالہ چھوڑ دینے کے بھی ہیں ٗ اس اعتبار سے آیت انسی ينسی سے مفہوم یہ ہوگا کہ جن سابقہ احکام کے متعلق ہمارا فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ انہیں علی حالہ رہنے دیا جائے ٗ انہیں ہم نئے رسول کی وحی میں اسی طرح شامل کر دیتے ہیں"     (لغات القرآن ص 1611)
سبحان اللہ!"مفکرقرآن"کے اس تفسیری نکتے کے کیا کہنے!
           ع          جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی۔
قطع نظر اس کے انسی ينسی کے معنی"کسی چیز کو علی حالہ چھوڑ دینے"کے ہیں بھی یا نہیں؟ اگر نسی کے یہی معنی ہو تو﴿ما نَنسَخ مِن ءايَةٍ أَو نُنسِها نَأتِ بِخَيرٍ مِنها أَو مِثلِها﴾ کے معنی"کسی چیز کو علے حالہ چھڑوادینے" کے ہوں گے۔ کیونکہ آیت میں باب اِفعال کا مضارع ہی آیا ہے۔ لیکن معنی خواہ نسیان کا لیا جائے یا انساء کا دونوں میں سے کوئی معنی بھی آیتِ نسخ میں نصب نہیں ہوتا۔ الفاظِ قرآن یہ ہیں ﴿وَما كانَ رَبُّكَ نَسِيًّا ﴿٦٤ ۔۔۔ (سورة مريم: 64)"ہم جو آیت بھی منسوخ کرتے ہیں یا جس آیت کو بھی علی حالہ چھوڑتے ہیں (یا چھڑوادیتے ہیں) تو ہم اس سے بہتر یا اس جیسی آیت لے آتے ہیں"۔۔۔۔۔خود سوچئے کہ جب ایک آیت کو اللہ تعالیٰ نے خود ہی وحی یا کتاب اللہ میں علے حالہ چھوڑ دیا (یا چھڑوادیا ) تو پھر اس جیسی یا اس سے بہتر آیت لے آنے کا کیا معنی؟ بہتر یا اس جیسی آیت تو اسی صورت میں لائی جاتی جب اللہ تعالیٰ اسے اٹھالیتے خواہ بذریعہ نسخ یا بذریعہ اِنساء۔ لیکن جب آیت کو علی حالہ چھوڑ دیا گیا تو اس جیسی یا اس سے بہتر آیت لانے کا محل کیا رہا ؟
اب اس معنی کا جائزہ جسے "مفکرقرآن" نے پیش کیا ہے ٗ ایک اور پہلو سے بھی لیجئے۔
عقیدہ توحید پر ایمان ٗ عقیدہ رسالت پر ایمان اور عقیدہ آخرت پر ایمان لانے کا حکم ٗ نیز والدین سے حْسنِ سلوک ٗ اخلاقی فضائل کو اختیار کرنے اخلاقی ذمائم و رذائل کو ترک کرنے کا حکم ٗ وغیرہ وہ امور ہیں جنہیں اللہ نے ہر وحی میں شامل کیا ہے ٗ ان جملہ احکام کو اللہ تعالیٰ نے یکے بعد دیگرے آنے والے ہر پیغمبر کی وحی میں "علی حالہ چھوڑے" رکھا ہے ٗ کیا ان احکام کا ہر وحی میں "علے حالہ چھوڑے رکھا جانا" خدائے بزرگ و برتر کا "نسیان" ہے جس کے باعث یہ احکام ہر آسمانی کتاب کا آسمانی کتاب کا مستقل جزو بنے رہے ہیں ؟ اگر ایسا ھی ھے تو قرآن کریم کی آیت﴿وَما كانَ رَبُّكَ نَسِيًّا ﴿٦٤ ۔۔۔ (سورة مريم: 64)"تیرا رب بھولنے والا نہیں ہے" کا کیا مطلب ہے ٗ نیز اس فرمانِ موسوی کا کیا معنی و مفہوم ہے جسے قرآن نے بایں الفاظ نقل کیا ہے کہ ﴿لا يَضِلُّ رَبّى وَلا يَنسَى ﴿٥٢ ۔۔۔ (سورة طه: 52) میرا رب نہ بہکتا ہے اور نہ ہی بھولتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آیتِ نسخ کا اصل مفہوم وہی ہے جسے علماءِ امت چودہ صدیوں سے بیان کرتے چلے آ رہے ہیں اور جسے "مفکرِقرآن"صاحب نے اپنے ذوق تحریف کے باعث نشانہ اعتراض بنایا ہے ٗ اولا " اس لئے نُنسِهَا کے اصل معنی بھلا دینے ہی کے ہیں۔ ثانیا" اس لئے کہ قرآن نے حضور اکرم کے نہ بھولنے کو مطلق نہیں رکھا بلکہ اپنی مشیئت کے تابع رکھا ہے ٗ الفاظ قرآن ملاحظہ فرمائیے۔
﴿سَنُقرِئُكَ فَلا تَنسىٰ ﴿٦﴾ إِلّا ما شاءَ اللَّهُ ...﴿٧﴾... سورة الاعلىٰ
ہم تجھے پڑھا دیں گے ٗ پھر تم نہیں بھولو گے ٗ الا یہ کہ خود اللہ یہ چاہے ( کہ تجھے بھلا دے )
اس آیت میں الا کا استثناء استثناءِ متصل نہیں ہے بلکہ استثناءِ منقطع ہے ٗ جس کی وجہ سے ترجمہ میں فرق واقع ہو جاتا ہےٗ استثناءِ متصل کے لحاظ سے ترجمہ آیت یوں ہوگا۔۔۔۔۔۔۔"ہم تجھے پڑھا دیں گے پھر تو نہیں بھولے گا مگر وہ جو اللہ چاہے کہ تو بھول جائے"۔۔۔۔جبکہ استثناءِ منقطع کے اعتبار سے ترجمہ یہ ہوگا۔۔۔۔۔۔"ہم تجھے پڑھا دیں گے پھر تو نہیں بھولے گا مگر وہ جو اللہ چاہے کہ تجھے بھلا دے "۔۔۔۔۔۔اور یہ "بھلا دینے " کا معاملہ آیت نسخ میں(عربی میں) مذکور ہے جسے"مفکرقرآن" صاحب نے تصریفِ آیات کی آڑ میں ٗ آیات پر تصرف کرتے ہوئے "بھلا دینے" کے ایک صحیح مناسب اور راست بیٹھنے والے معنی کو چھوڑ کر دیگر معانی کا سہارا لیا ہے۔
لیکن "مفکرقرآن"صاحب کو یہ مفہوم آیت (7۔6/87) اس لئے قابل قبول نہیں ہے کہ یہ بقول ان کے ٗ خلافِ قرآن ہے۔
قرآن کریم میں ہے            
﴿وَلَئِن شِئنا لَنَذهَبَنَّ بِالَّذى أَوحَينا إِلَيكَ ثُمَّ لا تَجِدُ لَكَ بِهِ عَلَينا وَكيلًا ﴿٨٦﴾... سورةالإسراء
"اگر ہم چاہتے تو جو کچھ تیری طرف وحی کیا جاتا ہے اسے اٹھا کر لے جاتے اور پھر کوئی قوت تیری طرف سے ہمارے خلاف وکالت کر کے (اسے واپس نہ لا سکتی تھی)۔"
"اگر ہم چاہتے"سے واضح ہے کہ اگر خدا چاہتا تو وہ ایسا بھی کر سکتا تھا ٗ لیکن اس نے ایسا چاہا نہیں ٗ اس لئے ایسا نہیں کیا۔ اس سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ حضور پر نازل کیا اس میں سے کچھ بھی واپس نہیں لیا گیا       (3)
       (قرآنی فیصلے ج 4 ص 44)
اس آیت کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ اللہ نے جس رسالت سے آپ کو سرفراز کیا ہے وہ آپ سے سلب نہیں کی گئی (یا نہیں کی جائے گی) نبوت کا جو تاج آپ کے سر پر رکھا گیا ہے اسے واپس نہیں لیا گیا (یا نہیں لیا جائے گا) قرآن جس قدر بھی آپ پر نازل ہو چکا ہے اس سے آپ کو محروم نہیں کیا گیا ( یا نہیں کیا جائے گا ) آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ کوئی ایک آدھ آیت بھی بذریعہ نسخ یا بذریعہ انساء واپس نہیں لی جائے گی کیونکہ﴿الَّذى أَوحَينا إِلَيكَ﴾ سے مراد وہ پورا قرآن ہے جو اس وقت تک آپ کی طرف نازل کیا جا چکا تھا نہ کہ اس کا کوئی جز یا ایک آدھ آیت۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس آیت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(3) "اس میں سے کچھ بھی واپس نہیں لے گیا" یہ الفاظ مفہوم قرآن کو بصحت ادا نہیں کرتے ٗ اگر یہ کہا جاتا کہ "اسے واپس نہیں لے گیا" تو مفہوم صحیح طور پر ادا ہو جاتا ۔ ویسے بھی کسی چیز کو پورے کا پورا واپس لینا اور چیز ہے اور اس میں سے معمولی حصہ واپس لینا اور چیز ہے ٗ معمولی حصہ تو بذریعہ نسخ یا بذریعہ انساء(آیت نسخ کی رو سے ) واپس لیا جا سکتا ہے لیکن مکمل قرآن اور پوری وحی واپس نہیں لی جا سکتی (88/17)
میں ﴿الَّذى أَوحَينا إِلَيكَ﴾ کہنے کے بعد اگلی آیت میں بعضْ القرآن کہنے کی بجائے پورے قرآن کا ذکر بایں الفاظ کیا گیا ہے۔
کہہ دو ! اگر انسان اور جن سب کے سب مل کر اس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لا سکیں گے چاہے سب ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں۔ (88/17)
الغرض ٗ یہ آیت (87۔86/17) جس چیز کی نفی کر رہی ہے وہ یہ ہے کہ آپ سے پورا قرآن واپس لے کر آپ کو منصبِ نبوت سے معزول کر دیا جائے۔ وحی میں سے کسی آیت کو بذریعہ اِنساء یا بذریعہ نسخ واپس لینا اس آیت ( 87۔86/17) کے منافی نہیں ہے ٗ اس لئے کہ
(1) اللہ تعالیٰ نے آیت نسخ میں نُنسِهَا کا لفظ بول کر خود یہی معنی مراد لیا ہے۔
(2) آیت (7۔6/87) میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ بھولنے کے معاملے میں بذریعہ استثناءِ منقطع ٗ اس کے بھلا دیئے جانے کا خود اثبات کیا ہے
(3) قرآن میں بعض آیات خود اس پر دلالت کرتی ہیں کہ بعض آیات کو خارج از قرآن کر دیا گیا ہے ٗ اس کا ثبوت آگے آرہا ہے۔
تنکے کا سہارا : آیت (7۔6/87) میں واقع استثناء کو غیر مؤثر قرار دینے کے لئے "مفکرقرآن"صاحب نے ایک اور تنکے کا سہارا بھی لیا ہے۔ چنانچہ وہ علامہ محمد عبدہ کی تفسیرالمنار کے حوالہ سے (جسے علامہ رشید رضا نے مرتب کیا ہے) لکھتے ہیں کہ
اگر اس آیت کے معنی بھول جانے کے بھی لئے جائیں ٗ تو بھی الا ماشاءاللہ اس کی نفی کر دیتا ہے ٗ کیونکہ استثناء بالمشیت ٗ اسلوبِ قرآن میں ہر جگہ ثبوت و استمرار کے لئےآتا ہے یعنی جہاں الا کے بعد ماشاءاللہ وغیرہ الفاظ آئیں جن سے مراد مشیتِ خداوندی ہوتی ہے تو اس کامطلب یہ ہوتا ہے کہ جیسا پہلے کہا گیا ہے ٗ اس کے خلاف ہرگز نہیں ہوگا۔ ( المنارج ا ص 419۔416 بحوالہ قرآنی فیصلے ج 4 ص 45 )
اس میں شک نہیں کہ بعض آیات میں ایسا استثناء ٗ ثبوت و استمرار کے لئے آیا ہے لیکن یہ کوئی قطعی قاعدہ یا حتمی کلیہ نہیں ہے جو قرآن کریم کے ہر مقام پر راست آتا ہو۔
مثلا" قرآن کریم میں ہے﴿فَفَزِعَ مَن فِى السَّمـٰو‌ٰتِ وَمَن فِى الأَرضِ إِلّا مَن شاءَ اللَّهُ ... ﴿٨٧﴾... سورة النمل
آسمانوں اور زمین میں رہنے والے ہول کھا جائیں گے ماسواء ان لوگوں کے جنہیں اللہ اس ہول سے بچانا چاہے گا۔ یہ آیت ٗ استثناء بالمشیت ہی کی قبیل سے ہے اور ظاہر ہے الا کے کلمئہ استثناء سے پہلے جن لوگوں کا ذکر ہے ان کے لئے دہشت سے سراسیمہ ہونے کا ایسا ثبوت اور استمرار نہیں ہے کہ ہر شخص ہی خوف اور گھبراہٹ میں مبتلا ہو اور کوئی بھی اس سے مستثنیٰ نہ ہو ورنہ الا کا استثناء بےفائدہ اور بے کار محض ہوگا۔ دوسری آیت جس میں استثناء بالمشیت کا یہ قاعدہ جاری نہیں ہوتا ٗ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ہے۔
﴿قُل لا أَملِكُ لِنَفسى نَفعًا وَلا ضَرًّا إِلّا ما شاءَ اللَّهُ...﴿١٨٨﴾... سورة الاعراف
"کہہ دیجئے کہ میں اپنے لئے نفع اور نقصان کا مالک نہیں مگر یہ کہ جو اللہ چاہے "۔
اس نفع و نقصان کی ملکیت کی جو نفی کی گئی ہے وہ بھی استثناء بالمشیت کے ساتھ ہے۔ بعد میں حضور کو جنگوں میں جو فوائد پہنچے خواہ مال کی ملکیت کے ذریعہ سے یا افراد (غلاموں) کی ملکیت کے ذریعہ سے ٗ وہ بھی مشیتِ خداوندی ہی کے تحت تھے اور قرآن نے ان منافع کی ملکیت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے ہاتھ کی ملکیت سے تعبیر فرمایا ہے إِلّا ما مَلَكَت يَمينُكَ
استثناء بالمشیت کا یہ قاعدہ جہاں جاری نہیں ہوتا ٗ اس کی تیسری مثال ﴿مَن فِى السَّمـٰو‌ٰتِ وَمَن فِى الأَرضِ إِلّا مَن شاءَ اللَّهُ ... ﴿٨٧﴾... سورة النمل"کی آیت ہے۔
ظاہر ہے کہ اس آیت میں بھی الا سے قبل جو کچھ مذکور ہے وہ ایسا نہیں ہے کہ کسی فرد کا بھی استثناء نہ ہو ٗ اور ہر شخص ہی ہلاکت کا شکار ہو۔
الغرض ٗ اس قاعدے کلیے کی بنیاد پرٗ یہ دعویٰ کرنا کہ ﴿سَنُقرِئُكَ فَلا تَنسىٰ ﴿٦﴾ إِلّا ما شاءَ اللَّهُ ...﴿٧﴾... سورة الاعلىٰ" الاماشاءاللہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عدم نسیان کو ثبوت و استمرار بخشا گیا ہےاور الاماشاءاللہ کا استثناء واقع ہی نہیں ہوا ہے ٗ صرف اسی صورت میں درست قرار پا سکتا ہے جبکہ یہ استثناء ٗ استثناءِ متصل ہو ٗ اس صورت میں واقعی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طور پر بھول نہیں سکتے۔ مگر یہاں تو یہ استثناء ٗ استثناءِ منقطع ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طور پر تو نہیں بھولیں گےمگر اللہ تعالیٰ اپنی مشیت سےاِنساء کامعاملہ صادر فرما دیں گے جسے اللہ تعالیٰ نے آیت میں﴿أَو نُنسِها نَأتِ بِخَيرٍ مِنها أَو مِثلِها﴾ کو اپنے دستور کے طور پر پیش کیا ہے۔
ثبوت انساءِ آیت : اب اگر ایک طرف ٗ اللہ تعالیٰ آیتِ نسخ میں انساء کو اپنے دستور کے طور پر پیش کرتے ہیں اور دوسری طرف پیغمبر کو قرآن پڑھا دینے کے بعد ٗ ان کے بھلا دیئے جانے کو اپنی مشیت کے تابع رکھ کر استثناء کرتے ہیں اور تیسری طرف قرآن کریم میں ایسی آیات نازل کرتے ہیں جو انساء پر صریحا" دلالت کرتی ہیں تو اس کے بعد نسخ کے اس مؤقف میں کیا وزن رہ جاتا ہے جسے "مفکرقرآن" عمر بھر پیش کرتے رہے ہیں۔
اب ہم ایک ایسی آیت پیش کرتے ہیں جو انساء پر واضح دلیل ہے۔
﴿إِنَّ اللَّهَ لا يَستَحي أَن يَضرِبَ مَثَلًا ما بَعوضَةً فَما فَوقَها فَأَمَّا الَّذينَ ءامَنوا فَيَعلَمونَ أَنَّهُ الحَقُّ مِن رَبِّهِم وَأَمَّا الَّذينَ كَفَروا فَيَقولونَ ماذا أَرادَ اللَّهُ بِهـٰذا مَثَلًا يُضِلُّ بِهِ كَثيرًا وَيَهدى بِهِ كَثيرًا وَما يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الفـٰسِقينَ ﴿٢٦﴾... سورةالبقرة
بیشک ٗ اللہ اس سے ہرگز نہیں شرماتا کہ مچھر یا اس سے بھی حقیر تر کسی چیز کی تمثیلیں دے ٗ جو لوگ حق بات کو قبول کرنے والے ہیں ٗ وہ انہی تمثیلوں کو دیکھ کر جان لیتے ہیں کہ یہ حق ہے جو ان کے رب ہی کی طرف سے آیا ہے اور جو ماننے والے نہیں ہیں وہ انہیں سن کر کہنے لگتے ہیں کہ ایسی تمثیلوں سے اللہ کو کیا سروکار ؟
یہ آیت اسی امر کو واضح کرتی ہے کہ قرآن میں کوئی ایسی آیت ضرور نازل ہوئی تھی جس میں مچھر جیسی حقیر مخلوق کی مثال بیان کرتے ہوئے کوئی حکم دیا گیا تھا جسے کفار نے محض اس وجہ سے اضحوکہ بنا لیا تھا کہ خالق کائنات کی عظیم ہستی کے لئے مچھر جیسی حقیر مخلوق کی مثال بیان کرنا شانِ خداوندی سےفرو تر بات ہے ٗ ان کے اس اعتراض کا قرآن نے اس آیت (26/2) میں جواب دیا ہے۔ اب اگر اللہ تعالیٰ نے مچھر والی تمثیل پر مشتمل کوئی آیت نازل ہی نہیں کی تھی تو مشرکین کا اعتراض کس چیز پر تھا جس کا جواب آیت (26/2 ) میں دیا گیا ہے ؟ اور اگر اللہ نے ایسی آیت نازل کی تھی تو وہ شاملِ قرآن کیوں نہ ہو سکی ؟ نزول آیت کے بعد ٗ اگر پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اسے بھولا بھی نہیں ٗ اللہ نے اس کو منسوخ بھی نہیں کیا ٗ اور انساء کے ذریعہ سے ذہنوں سے محو بھی نہیں کیا تو آخر وہ آیت گئی کہاں ؟ ہمارے نزدیک ٗ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ نے بذریعہ انساء قلوب و اذہان سے اس آیت کو محو کر دیا۔
توضیحِ آیتِ نسخ اپنے سیاق و سباق میں: آیتِ نسخ پر"مفکرقرآن"صاحب کے مفکرانہ نکات کا جائزہ لینے کے بعد ٗ اب ہم اسے اس کے سیاق و سباق میں پیش کرتے ہیں۔
ہم آیات کے متن سے صَرفِ نظر کرتے ہوئے محض ترجمہ پر اکتفاء کر رہے ہیں۔
"اے ایمان والو ! رَاعِنَا نہ کہا کرو بلکہ انظُرْنَا کہا کرو ٗ اور توجہ سے بات سنا کرو یہ کافر تو عذابِ الیم کے مستحق ہیں ٗ یہ لوگ جنہوں نے دعوتِ حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے خواہ وہ مشرک یا اہل کتاب میں سے ہوں ٗ ہرگز یہ پسند نہیں کرتے کہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے اوپر کوئی بھلائی نازل ہو مگر اللہ جس کو طاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے چْن لیتا ہے اور وہ بڑا فضل فرمانے والا ہے۔
ہم جس آیت کو منسوخ کرتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں اس کی جگہ ٗ اس سے بہتر آیت لے آتے ہیں یا کم از کم ویسی ہی۔ کیا تم جانتے نہیں ہو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ؟ کیا تمہیں خبر نہیں ہے کہ زمین اور آسمانوں کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے ٗ اور اس کے علاوہ کوئی تمہاری خبرگیری کرنے والا اور تمہاری مدد کرنے والا نہیں ہے۔
پھر کیا تم اپنے رسول سے ٗ اس قسم کے سوالات اور مطالبے کرنا چاہتے ہو جیسے اس سے پہلے موسیٰ سی کئے جا چکے ہیں حالانکہ جس شخص نے ایمان کی روش کو کفر کی روش سے بدل لیا وہ راہِ راست سے بھٹک گیا " ( سورۃ البقرہ۔ آیت 104 تا 108 )
ان آیاتِ مبارکہ سے مندرجہ ذیل باتیں واضح ہیں
اولاً۔۔۔۔۔۔ آیتِ نسخ ان ہی آیات میں واقع ہے ٗ ان کا خطاب اہلِ ایمان سے ہے یہود یا اہل کتاب سے نہیں ہے کہ ان کے کسی مطالبہ پر یہ آیات اْتری ہوں۔  
ثانیاً۔۔۔۔۔۔۔ آیتِ نسخ سے قبل اہل ایمان سے خطاب کرتے ہوئے ٗ ان کے لئے راعنا کہنے کے حکم کو منسوخ کیا گیا اور انظُرْنَا کہنے کے حکم کو بطورِ ناسخ ٗ اس کا قائم مقام اور نعم البدل قرار دیا گیا ہے۔ حکمِ ناسخ اور حکمِ منسوخ دونوں ٗ شریعتِ محمدیہ ہی کے احکام ہیں نہ کہ دو مختلف شرائع کے ٗ جن میں سے بعد کی شریعت کا کوئی حکم سابقہ شریعت کے کسی حکم کا ناسخ بن رہا ہو۔
ثالثاً۔۔۔۔۔۔۔ اہل ایمان سے خطاب کر کے شریعتِ محمدیہ کے ایک حکم کو ٗ شریعتِ محمدیہ ہی کے ایک دوسرے حکم سے منسوخ کرنے کے بعد اگر مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ کہا جائے ٗ تو آیت سے کسی سابق وحی کی آیات مراد لینا ٗ تکلّفِ بیجا ہے آیت سے مراد با لیقین شریعتِ محمدیہ کا حکم ٗ یا قرآن ہی کی آیت ہے جس سیاق و سباق میں یہ آیت کہی جا رہی ہے ٗ اس میں یہی کچھ مراد لیا جا سکتا ہے نہ کہ کچھ اور۔
رابعاً۔۔۔۔۔۔ آیتِ نسخ کے بعد ٗ اہلِ ایمان سے یہ کہا گیا کہ ۔۔۔۔۔۔" وہ اپنے رسول سے ایسے سوالات نہ کریں جیسے سواالات اور مطالبات قومِ موسیٰ ؑنے حضرت موسیٰ ؑسے کئے تھے "۔۔۔۔۔ اب اس امر کی تحقیق کیجئے کہ قومِ موسیٰ کے یہ سوالات و مطالبات ٗ ان کی اپنی شریعت کے احکام سے متعلق تھے یا کسی سابقہ شریعت سے متعلق تھے جسے حضرت موسیٰ سے قبل کوئی پیغمبر لے کر آئے تھے۔ اگر بنی اسرائیل کے سوالات ٗ کسی سابقہ شریعت کے متعلق تھے تو اس امر کی گنجائش ہو سکتی ہے کہ بعد والی شریعت اپنے سے پہلے والی شریعت کے کسی حکم کو منسوخ کر ڈالے لیکن اگر ان سوالات کا تعلق موسوی شریعت ہی کے احکام سے ہو تو پھر یہ مانے بغیر چارۂ کار نہیں کہ ایک ہی شریعت کا کوئی حکم کسی دوسرے حکم کی تنسیخ یا تخصیص کر سکتا ہے۔
بنی اسرائیل کے ان سوالات و مطالبات کا تذکرہ قرآن میں موجود ہے جو انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کئے تھے۔
(1) بنی اسرائیل کا پہلا مطالبہ یہ تھا کہ حضرت موسیٰ ؑ ان کے لئے ایک بْت تراش دیں تاکہ وہ اس کی بندگی کریں۔ ﴿يـٰموسَى اجعَل لَنا إِلـٰهًا كَما لَهُم ءالِهَةٌ ۔ (سورة الاعراف: 138)
"اے موسیٰ ٗ ہمارے لئے ان لوگوں کے معبود جیسا ایک معبود بنا دیں " اس مطالبے کا براہِ راست نتیجہ یہ تھا کہ﴿وَما أُمِروا إِلّا لِيَعبُدوا إِلـٰهًا و‌ٰحِدًا﴾کا حکم ساقط اور منسوخ ہو کر رہ جائے۔
(2) ذبح بقرہ کے حکم سے جان چھڑانے کے لئے بنی اسرائیل نے پے در پے سوالات کئے جن کی تفصیل سورہ بقرہ میں موجود ہے۔ وہ گائے ذبح نہیں کرنا چاہتے تھے ﴿وَما كادوا يَفعَلونَ ﴿٧١ ذبح بقرہ کا حکم ملتے ہی وہ جس گائے کو بھی ذبح کر ڈالتے حکم کا تقاضا پورا ہو جاتا لیکن ان کی معصیت کوش روش نے انہیں اکسایا اور وہ سوال دَر سوال کا سلسلہ اٹھاتے گئے جس کے نتیجہ میں ذبح بقرہ کا حکم تو برقرار رہا لیکن ان کے ہر سوال کے نتیجہ میں قیودوشرائط بڑھتی گئیں اور انتخابِ گائے کا دائرہ   تنگ سے تنگ تر ہوتا گیا اور حکم کے عملی امثال میں وہ دقت اور دشواری کا شکار ہوتے گئے۔
(3) ان کا ایک مطالبہ اللہ کو بے نقاب دیکھنے کا بھی تھا۔ یہ مطالبہ باری تعالیٰ کے شوقِ دیدار کے باعث نہ تھا بلکہ مزاج کے تعنت کی بناء پر ٗ اتباعِ موسیٰ ؑ کے لئے بطورِ شرط رکھا گیا تھا تاکہ اتباع پیغمبر سے جان چھوٹ جائے۔ بالفاظ دیگر اتباعِ پیغمبر کا حکم ساقط و منسوخ ہو جائے۔  
الغرض بنی اسرائیل نے اپنے پیغمبر سے جتنےبھی سوالات اور مطالبات کئے ان کا تعلق کسی سابقہ شریعت سے نہ تھا بلکہ ان کی اپنی موسوی ؑ شریعت سے تھا جن کو اگر مان لیا جاتا تو دین کے اساسی احکام ہی نسخ و سقوط کا شکار ہو جاتے۔
اس صورتحال میں جب مسلمانوں سے یہ کہا گیا۔۔۔۔۔۔" کیا تم اپنے رسول سے اسی طرح سوالات و مطالبات کرنے کا ارادہ کرتے ہو جیسے حضرت موسیٰ سے کئے گئے"۔۔۔۔۔ تو امتِ محمدیہ کو امتِ موسویہ کی نظیر و مثال قرار دیا گیا۔ جس طرح امتِ موسیٰ نے سوالات کر کے اپنے احکام پر قیودوشرائط کا اضافہ کر کے ٗ انہیں مشکل بنا دیا اس طرح امتِ محمدیہ کو اس روش کے اختیار کرنے سے منع کیا گیا کہ وہ بھی اسلامی احکام پر اپنے سوالات کی بدولت شروط وقیود کا اضافہ کر کے اپنے لئے ناقابل عمل یا کم از کم عسیرْالعمل نہ بنا دیں دوسری صورت یہ ہے کہ اسلامی احکام کے نسخ پر یہود ان مسلمانوں کے دِلوں میں ٗ جن سے ان کے تعلقات زمانہ جاہلیت سے قائم تھے شکوک و شبہات کے کانٹے ڈالنے لگے تاکہ مسلمان بھی قیل و قال اور سوال دَر سوال کی بیماری میں مبتلا ہو جائیں۔ بعض منسوخ احکام سے یہود کو خاصی تکلیف ہوئی۔ مثلاً راعنا کہنے کے حکم کے منسوخ ہونے سے انہیں اس لئے تکلیف ہوئی کہ اس لفظ کی آڑ میں ان کے لئے اپنے خبثِ باطن کے اظہار کا موقع باقی نہ رہا۔ تحویلِ قبلہ کے حکم سے انہیں اس لئے دکھ ہوا کہ جو قبلہ چھوڑا گیا تھا وہ ان کا آبائی قبلہ تھا جس سے ان کی آباء پرستی پر چوٹ پڑی تھی۔ تاہم بات کچھ بھی ہو ٗ اہل ایمان کے دلوں میں شکوک و شبہات کے کانٹے یہود نے ڈالے ہوں یا یہ سوالات خودبخود ان کے ذہنوں میں پیدا ہوئے ہوں ٗ قرآن نے اہل ایمان ہی سے خطاب کیا اور یہ بتایا کہ
ہم جو حکم بھی تبدیل کرتے ہیں بذریعہ نسخ یا بذریعہ انساء تو ہم اس سے بہتر حکم لے آتے ہیں دنیا میں سہولت کے پیش نظر یا آخرت میں اجر و ثواب کے پیش نظر ٗ یا لوگوں کی منفعت کے اعتبار سے ویسا ہی حکم لے آتے ہیں کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ علیم حکیم اور قدرت والا ہے۔ جس سے خیرواحسان کے علاوہ کچھ صادر نہیں ہوتا اور اس نے یہ سیدھی سادی آسان شریعت تمہیں عطا کی ہے تاکہ اپنے بندوں پر سے اغلال واصر کے بوجھ اتار دیئے جائیں۔
یہ نہ گمان کرو کہ یہ تبدیلی احکام اس کی قدرت میں عجز یا مصلحت میں جہل کے باعث بلکہ یہ تبدیلی لوگوں کی منفعت کے ساتھ وابستہ ہے ٗ وہ لوگوں کے احوال میں مالک و متصرف ہے جو چاہے فیصلہ فرمائے جو چاہے حکم دے ٗ جس حکم کو چاہے نسخ و انساء کے ذریعہ سے تبدیل یا محو کر دے ٗ اور تمہارے لئے اللہ کے سوا کوئی کارساز نہیں ہے جو تمہارے احوال و شؤن کی رعایت کرے اور اس کے سوا کوئی حامی و مددگار نہیں ہے جو تمہاری مدد کرے پس تم اس کے علاوہ کسی پر وثوق اور اعتماد نہ کرو وہی بہترین کارساز و مددگار ہے۔
کیا تم۔۔۔۔۔۔ اے مومنو !۔۔۔۔۔۔ یہ چاہتے ہو کہ اپنے رسول کو اسی طرح اپنے سوالات و مطالبات کا نشانہ بناؤ جیسا کہ موسیٰ ؑ کو بنایا گیا ٗ پھر تم اسی طرح گمراہ ہو جاؤ جیسے وہ ہوئے تھے ٗ اور تمہاری مثال ٗ ان یہود کی طرح ہو جائے جنہوں نے تعنت اور تکبر کے ساتھ " اللہ کو بے نقاب دیکھنے کا مطالبہ کر دیا " اور اپنے نبی سے وہ کچھ طلب کیا جس کا طلب کرنا رَوا نہ تھا یعنی یہ کہ"ہمارے لئے ایک معبود تراش دو" پھر کیا تمہارے لئے۔۔۔۔۔۔ اے مومنو۔۔۔۔۔۔ یہ مناسب ہے کہ اپنے نبی سے تعنت برتو ؟ اور اپنی مشتیہات کے مطالبے کرو ؟ جس کے نتیجہ میں تم بھی یہود کی طرح گمراہ ہو کر رہ جاؤ۔
اور جو کوئی ایمان کے بدلے میں کفر اور ہدایت کے بدلے میں گمراہی کو اختیار کرتا ہے تو وہ جادۂ حق سے منحرف اور راہ راست سے الگ ہو جاتا ہے اور ہلاکت کے گڑھوں میں گر جاتا ہے ٗ وہ اپنے آپ کو ٗ اللہ تعالیٰ کے عذابِ الیم کے معرضِ خطر میں ڈال دینے کے باعث ٗ خسرانِ مبین سے دو چار کر دیتا ہے (4)
نسخِ شرائعِ سابقہ
اس پس منظر میں اس بات کی کیا گنجائش ہے کہ آیتِ نسخ میں کتبِ سابقہ کی آیات کا نسخ مراد لیا جائے ؟ باقی رہا شرائعِ سابقہ کا نسخ ٗ تو "مفکرِقرآن" صاحب نے اس میں خواہ مخواہ طولِ بحث سے کام لیا اور یہ ثابت کرنے کے لئے صفحے کےصفحے سیاہ کر ڈالے کہ آیتِ نسخ میں ٗ آیات سے مراد کتبِ سابقہ کی آیات ہیں ٗ حالانکہ یہ آیت (106/6) جس رکوع میں شامل ہے اِس کی ابتداء ہی سے خطاب ٗ اہلِ ایمان کو کیا گیا ہے اور اہل ایمان کا تعلق ٗ اگر کتبِ سابقہ اور شرائعِ گزشتہ سے تھا تو صرف اور صرف ایمان کا تعلق تھا نہ کہ عملی اتباع کا۔ کیونکہ اہل ایمان اِن شرائع کی اطاعت و پیروی پر مامور نہ تھے کہ اِن احکام کو منسوخ کرنے کی ضرورت پیش آتی ٗ ہر پیغمبر کی شریعت ٗ اسی وقت تک مامور بالعمل اور واجبْ الاتباع رہتی تھی جب تک کوئی نئی شریعت اس کے بعد خدا کی طرف سے نازل نہ ہو جاتی تھی۔ ہر نئے پیغمبر کی آمد پر ٗ سابق پیغمبر کی اطاعت از خود ختم ہو جاتی تھی ٗ بالکل اسی طرح جس طرح نئے حاکم کی آمد پر سابق حاکم کی اطاعت باقی نہیں رہتی۔ اس سیدھے سادے معاملے کو لفّاظی کے زور پر ٗ متفرق مقامات کی آیات کو جوڑ توڑ کا نشانہ بناتے ہوئے ٗ لمبی چوڑی بحثوں میں پیش کرنا پانی میں مدھانی چلانے کا ایسا فعل ہے جس کا کوئی فائدہ"مفکرقرآن"صاحب کے "اظہارِ فکر" کے سوا کچھ نہیں ہے۔  
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے اس مفہوم آیات کو دیکھئے اور پھر"مفکرقرآن"صاحب کے انہی آیات (سورہ بقرہ آیات     108) کے تحت مفہوم القرآن کو دیکھئے۔ مفہوم آیات میں مسخ و تحریف ٗ الحاقی و اضافی الفاظ کی بھرمار ٗ معانی و آیات میں الحاد ٗ اور کلام الٰہی کو اصل مفہوم سے پھیر دینے کی بدترین جسارتوں کی واضح مثالیں آپ سامنے آئیں گی۔ یہ سب کچھ "مفکرقرآن"صاحب کے "ذوق تحریف" کے کرشمے ہیں۔
عبوری دور کے احکام یا نسخِ احکام ؟
اب ہم قرآنِ کریم کی وہ آیات پیش کرتے ہیں جو نسخ کا صریح ثبوت ہیں۔ لیکن ہم خوب سمجھتے ہیں کہ اگر ان آیات کو علماءِ امت کے اصول پر اور ان کی تشریحات کی روشنی میں پیش کیا جائے تو وابستگانِ طلوع اسلام اپنی عادت و فطرت کے تحت ان کی تاویل و تحریف پر اتر آئیں گے ٗ وہ اس کا مفہوم کچھ بیان کریں گے اور ہم کچھ اور ۔۔۔۔۔۔ اور قارئین کسی نتیجہءبحث تک نہ پہنچ پائیں گے۔ اس لئے ہم ان آیات کو"مفکرِقرآن"صاحب کے اصول پر اور ان ہی کی تشریحات کی روشنی میں پیش کریں گے۔ اس لئے بھی کہ
ع             مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری
"مفکرقرآن"صاحب کے نزدیک ٗ قرآن کریم کی رْو سے مال و دولت کی انفرادی ملکیت قطعی ناجائز بلکہ شرک ہے۔ یہ بات انہوں نے اپنے پورے لٹریچر میں بتکرارِ بسیار اس قدر شرح و بسط سے بیان کی ہے کہ اس پر اِن کا اقتباس پیش کرنے کی ہم کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ مال و دولت ٗ ذرائع پیداوار یا زمین کی شخصی ملکیت کی نفی کا یہ تصور ٗ ان کے نزدیک قرآنِ کریم ہی سے ماخوذ ہے۔ لیکن قرآنِ کریم کی بعض آیات ٗ پرویز صاحب کی اپنی تشریح و وضاحت کے مطابق ٗ شخصی ملکیتِ مال پر دلالت کرتی ہیں مثلاً آیت (7/4) کے تحت وہ لکھتے ہیں
(1) ۔۔۔۔۔ لہٰذا عورتیں اپنا حقِ ملکیت الگ رکھتی ہیں ٗ یہ نہیں کہ ہر چیز کا مالک مرد ہوتا ہے ٗ عورت مالک ہی نہیں ہو سکتی۔ (مفہومْ القرآن ص 177)  
(2) ایک دوسرے کے حقوق کی حفاظت کے سلسلہ میں ٗ اس تصور کا ازالہ بھی ضروری ہے جس کی رْو سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ حقوقِ ملکیت صرف مرد کو حاصل ہوتے ہیں ٗ عورت کو نہیں ہوتے ۔۔۔۔۔۔ عورت اپنے مال و جائیداد کی آپ مالک ہوتی ہے ٗ اسی طرح یہ سمجھنا بھی غلط ہے کہ کمائی کرنا صرف
مرد کا کام ہے ٗ عورت ایسا نہیں کر سکتی۔ مرد اور عورت دونوں اکتسابِ رزق کر سکتے ہیں۔ جو کچھ مرد کمائے وہ اْس کا حصہ ہے ٗ جو کچھ عورت کمائے وہ اْس کا ۔ ( مفہوم القرآن آیت (32/4) ص 187)  
(3) مردوں اور عورتوں کے جْداگانہ حقوقِ ملکیت کا فطری تقاضا یہ ہے کہ مرنے والے کے ترکہ میں ان سب کا حصہ ہو صرف مردوں ہی کا نہ ہو۔       (مفہوم القرآن ص 188)
حق یہی ہے کہ قرآن ٗ مال و دولت کی شخصی ملکیت کا قائل ہے اور اپنی اقتصادیات کی بنیاد اسی حقِ ملکیت پر رکھتا ہے ٗ جو مرد و زَن میں سے ہر ایک کے لئے ثابت ہے ٗ پھر اسی ملکیتِ مال کی بنیاد پر زکوٰۃ و صدقات ٗ وصیّت و وراثت اور لین دین کے وسیع احکام جاری کرتا ہے ٗ ظاہر ہے کہ اگر از روئے قرآن کریم ٗ کوئی شخص ٗ زائد از ضرورت دولت کا مالک ہو ہی نہیں سکتا ( جیسا کہ"مفکرقرآن"کا عقیدہ ہے) تو اسے زکوٰۃ و صدقات اور انفاق فی سبیل اللہ کا حکم دیا ہی نہیں جا سکتا اور نہ ہی ترکہ و میراث یا غنائم کی تقسیم کا حکم دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے مال نہ خرچ کرنے کی بناء پر بخیل قرار دیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ بخیل تو وہی شخص ہو سکتا ہے جس کے پاس زائد از ضرورت مال ہی نہ ہو تو اسے انفاق فی سبیل اللہ کا حکم کیسے دیا جا سکتا ہے اور خرچ نہ کرنے کے باعث ٗ اسے بخیل کیونکر کہا جا سکتا ہے ؟ اس طرح ترکہ و میراث ٗ لین دین ٗ زکوٰۃ و صدقات ٗ تقسیمِ غنائم اور انفاق فی سبیل اللہ کے یہ سب احکام ٗ بجائے خود اس شخصی ملکیت مال کے زبردست ثبوت ہیں جن کا اعتراف خود پرویز صاحب نے بھی اپنے مندرجہ بالا اقتباسات میں کیا ہے۔ لیکن وہ قرآن ہی کی بنیاد پر ٗ اثباتِ ملکیت کے علاوہٗ قرآن ہی کی بنیاد پر ٗاس کی نفی کرتے ہیں۔ اور لین دین ٗ ترکہ و وصیت وغیرہ کے احکام کے متعلق ٗ وہ یہ فرماتے ہیں کہ
(1) وراثت ٗ قرضہ ٗ لین دین ٗ صدقہ و خیرات وغیرہ سے متعلق احکام اس عبوری دور سے متعلق ہیں جس میں سے گزر کر معاشرہ انتہائی منزل تک پہنچتا ہے۔ ( نظامِ ربوبیت ص 27)
(2) قرآن کریم میں صدقہ و خیرات کے ذریعہ غریبوں اور مسکینوں کی مدد کرنے یا ترکہ اور وراثت وغیرہ کے سلسلہ میں جو احکام آئے ہیں ٗ ان کا تعلق انہی عبوری اَدوار سے ہے۔ ( مطالبْ الفرقان ج 2 ص 363)
اب غور فرمائیے ٗ قرآن کریم کی اساس پر "مفکرقرآن"صاحب کے ان اقتباسات کی رو سے
(1) عورت اور مرد دونوں حق ملکیت رکھتے ہیں اور اپنے مال مکسوب کے خود مالک ہوتے ہیں۔
(2) افراد کی ملکیت کا حق ٗ اسلام میں نہیں ہے۔
یہ دونوں باتیں باہم متناقض ہیں ٗ عملاً دونوں کو بیک وقت اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ ملکیتِ شخصی کے مسئلہ پر علماءِ امت اور "مفکرقرآن"صاحب سب کے سب متفق الرائے ہیں اور پھر علماء کے نقطہ نظر سے ان متضاد و متصادم احکام کی توجیہ کی جائے تو وہ ناسخ و منسوخ کے اصول پر ہو گی۔ لیکن"مفکرقرآن"ان آیات میں توفیق و تطابق یوں کرتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔"اثباتِ ملکیت کی آیات ٗ عبوری دور سے تعلق رکھتی ہیں جب ہنوز ان کا خود تراشیدہ "نظامِ ربوبیت" نفاذ پذیر نہیں ہوا تھا "۔۔۔۔۔۔۔ بہرحال ٗ علماءِ امت ہوں یا پرویز صاحب ٗ آیات میں موجود تضاد و تصادم کے دونوں قائل ہیں۔ دونوں بعض آیات کو ناقابلِ عمل قرار دیتے ہیں۔ ایک فریق یہ کہ کر انہیں ناقابل عمل قرار دیتا ہے کہ۔۔۔۔۔۔ "یہ آیات منسوخ ہیں" اور دوسرا فریق یہ کہہ کر کہ " یہ احکام عبوری دور سے تعلق رکھتے ہیں جس میں سے معاشرہ گزر کر اگلی منزل میں پہنچ چکا ہے "۔۔۔۔۔ انفرادی ملکیت کے مسئلہ میں قرآنی آیات کے باہم تناقض پر اگر یہ سوال اٹھایا جائے کہ قرآن یہ کہتا ہے کہ "اگر قرآن غیر خدا کی طرف سے ہوتا تو لوگ اس میں اختلاف پاتے ﴿وَلَو كانَ مِن عِندِ غَيرِ اللَّهِ لَوَجَدوا فيهِ اختِلـٰفًا كَثيرًا ﴿٨٢۔۔۔ (سورة النساء: 82) تو اس سوال پر علماءِ امت کا جواب ٗ اصولِ ناسخ و منسوخ پرمبنی ہوتا ہےجبکہ "مفکرقرآن"صاحب کا جواب ٗ عبوری دور کے احکام کے اصول پر اساس پذیر ہوتا ہے۔
اس صورت حال میں کیا یہ بات قابلِ تعجب نہیں کہ ایک ہی حقیقت کو اگر علماء کرام ناسخ و منسوخ کے حوالہ سے بیان کریں تو "پرویز صاحب" اس کو مضحکہ خیز قرار دیں لیکن اگر اسی حقیقت کو وہ "عبوری دور کے احکام"کے حوالہ سے بیان کریں تو وہ "مفکرقرآن"قرار پائیں۔ حالانکہ ناسخ و منسوخ کا لفظ نہ سہی ٗاس لفظ کے مادہ سے چند مشتقات ٗ قرآن میں موجود ہیں ٗ جبکہ "عبوری دور کے احکام" کا کسی درجے میں بھی قرآن میں کوئی ذکر نہیں۔ پھر پرویزؔ صاحب خود تو عمر بھر ناسخ و منسوخ پر زبانِ طعن دراز کرتے رہے لیکن ناسخ و منسوخ کی حقیقت کو " عبوری دور کے احکام" کے لیبل کے تحت تسلیم کرتے رہے۔ آخر یہ واضح تو کیا جائے کہ علماء کرام کے تصورِ ناسخ و منسوخ میں اور خود "مفکرِقرآن"صاحب کے "عبوری دور کے احکام" کے تصور میں کیا جوہری فرق ہے کہ اگر اس کو ایک نام سے موسوم کیا جائے تو ناقابلِ قبول قرار پائے اور دوسرے نام سے پیش کیا جائےتو قابل قبول ؟ کیا یہ محض ایک لفظی نزاع نہیں ہے ؟ جس کی آڑ میں "مفکرقرآن"صاحب نے عقلی کشتی اور ذہنی دنگل کی بناء پر عمر بھر اکھاڑۂ بحث گرم کئے رکھا ؟ کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ "مفکرقرآن"صاحب نے "ناسخ" کا کوئی ایسا مفہوم سمجھ رکھا ہو جو علماء کرام کے بھی سان گمان میں نہ ہو ؟ میری تحقیق یہی ہے کہ انہوں نے ناسخ و منسوخ کا ایک ایسا مفہوم اپنے ذہن میں جما رکھا تھا جو خود علماءِ کرام کو بھی قابل تسلیم نہ تھا۔ اسی غلط مفہوم کے باعث انہوں نے یہ لکھا کہ۔۔۔۔۔۔۔ "قرآن پاک کی کوئی آیت ایسی نہیں ہے جو منسوخ ہو" ۔۔۔۔۔۔۔ (لغات القرآن ص 1913) سوال یہ ہے کہ منسوخ کسے کہتے ہیں ؟ اس سوال کا جواب "مفکرقرآن"صاحب نے یہ دیا ہے
"منسوخ اسے کہتے ہیں جو ہمیشہ کے لئے ساقط ہو جائے اور کبھی نافذ نہ ہو سکے قرآن کریم میں ایسا کوئی حکم نہیں۔         (لغاتْ القرآن ص 1913)
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ نسخ کے قائل ہیں ان کے نزدیک بھی کوئی حکم اس معنی میں منسوخ نہیں ہے کہ " وہ ہمیشہ کے لئے ساقط ہو جائے اور کبھی نافذ نہ ہو سکے" بلکہ وہ بھی نسخ کو عارضی اور غیر اَبدی امر قرار دیتے ہیں ٗ   لیکن منسوخ کا یہ مفہوم جو "مفکرقرآن" صاحب نے بیان کیا ہے ٗ یا تو ان کی بے علمی اور جہالت پر مبنی ہے یا پھر ان کے تجاہلِ عارفانہ اور شرارت پر تاکہ اس کی آڑ میں علماء کے خلاف اپنے خبثِ باطن کا اظہار کیا جاتا رہے۔ "مفکرقرآن"صاحب نے عمر بھر مولانا مودودی کی مخالفت کو اپنا وظیفہءحیات بنائے رکھا۔
انہوں نے بھی کسی حکم منسوخ کو دائماً ساقطْ العمل قرار نہیں دیا۔ وہ لکھتے ہیں
(1) قرآن میں نسخ دراصل تدریج فی الاحکام کی بنیاد پر ہے ٗ یہ نسخ ابدی نہیں ہے ٗ متعدد احکامِ منسوخہ ایسے ہیں کہ اگر معاشرے میں کبھی ہم کو پھر ان حالات سے سابقہ پیش آ جائے جن میں وہ احکام دیئے گئے تھے تو انہی احکام پر عمل ہوگا ٗ وہ منسوخ صرف اس صورت میں ہوتے ہیں جبکہ معاشرہ ان حالات سے گزر جائے اور بعد والے احکام کو نافذ کرنے کے حالات پیدا ہو جائیں۔     (رسائل و مسائل جلد دوم ص 107)  
بہرحال قرآن کریم کے احکام کا دائماً منسوخ رہنا اور کبھی نافذ نہ ہو سکنا ٗ نہ تو پرویزؔ صاحب کے نزدیک قابل قبول ہے اور نہ ہی دیگر علماءِ امت کے نزدیک۔ سب لوگ منسوخ احکام کے عارضی نسخ کے قائل ہیں جس سے یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ثابت ہو گئی کہ قرآن کریم میں (دائماً نہ سہی ٗ عارضی طور پر ہی سہی) بعض آیات ایسی ہیں جو ناقابلِ عمل ہیں یا متروکْ العمل ہیں۔ خواہ اس بناء پر کہ وہ منسوخ ہیں یا اس بناء پر کہ وہ عبوری دور سے تعلق رکھتی ہیں ٗ بہرحال ایسی آیات کا وجود قرآنِ مجید میں موجود ہے ان کی تلاوت بھی ہو رہی ہے اس کے باوجود کہ وہ متروکْ العمل ہیں اور یہی وہ بات ہے جسے علماء کرام نے "نسخ الحکم مع بقاء التلاوۃ "کے نام سے موسوم کیا ہے ٗ اس کا انکار جیسا کہ اس بحث سے واضح ہے پرویزؔ صاحب بھی نہیں کر پا سکے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان آیات کو قرآن میں باقی رکھنے کی کیا ضرورت ہے جن کا حکم منسوخ یا متروک ہو چکا ہے ؟ اس کے جواب میں جو کچھ علماءِ امت نے کہا ہے بالکل وہی کچھ "مفکرقرآن"صاحب نے کہا ہے ٗ سرِمْو بھی فرق نہیں ہے۔ مولانا مودوؔدی مرحوم کا یہ اقتباس دیکھئے:
" عام طور پر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ جن آیات کا حکم منسوخ ہو چکا ہے ٗ ان کی قرآن میں اب کیا ضرورت ہے ؟ کیوں نہ ان کی تلاوت بھی منسوخ ہو گئی ؟ اس کو رفع کرنے کے لئے میں نے قرآن میں ان احکام کے باقی رہنے کی حکمت یہ بتائی ہے کہ اگر معاشرے میں کبھی ہم کو پھر ان حالات سے سابقہ پیش آئے جن میں یہ احکام دیئے گئے تھے تو ہم ان پر عمل کر سکتے ہیں مثلاً کسی ملک میں مسلمان ٗ اسی طرح کے حالات سے دوچار ہوں جو مکی زندگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے اصحاب کو پیش آئے تھے تو مکی دور کی تعلیمِ صبروتحمل پر عمل کیاجائے گا نہ کہ مدنی دور کی تعلیمِ جہاد و قتال پر ٗ حالانکہ بیشتر علماء نے احکامِ قتال سے ٗ مکی دور کی ان آیات کو منسوخ قرار دیا ہے۔ اسی طرح اس حالت میں مسلمان ان بہت سے احکام و قوانین کی پابندی سے آزاد رکھے جائیں گے جو مدنی دور میں نازل ہوئے اور جن پر عمل درآمد اسلامی حکومت کی موجودگی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ ( رسائل و مسائل ج 3 ص 85۔84 )
" عبوری دور" کے جو احکام ساقط العمل ہیں ٗ ان کو قرآن میں باقی کیوں رکھا گیا ہے ؟ اس کے متعلق "مفکرقرآن"صاحب لکھتے ہیں کہ
وراثت ٗ قرضہ ٗ لین دین ٗ صدقہ و خیرات وغیرہ سے متعلق احکام اس عبوری دور سے متعلق ہیں جن میں سے گزر کر معاشرہ انتہائی منزل تک پہنچتا ہے ٗ اس کے ساتھ ہی اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھا جائے کہ دنیا میں ایسے ممالک بھی ہوں گے جہاں مسلم اقلیت میں غیر مسلم ( یا غیر قرآنی ) نظام حکومت کے تابع زندگی بسر کر رہے ہوں گے ٗ وہاں ان کی انفرادی زندگی مسلمانوں کی سی ہوگی اس لئے ان کے لئے انہی احکام قرآنی پر عمل پیرا ہونا ممکن ہوگا جنہیں ہم نے عبوری دور کے احکام کہہ کر پکارا ہے ٗ ان کے لئے کشادگی کی راہ تو یہی ہوگی کہ وہ آخر الامر اس مملکت کی طرف ہجرت کر جائیں جہاں قرآنی نظام نافذ ہو ٗ لیکن جب تک یہ ممکن نہ ہو ٗ انہیں بہرحال انفرادی احکام پر عمل پیرا رہنا ہی ہوگا                   ( نظامِ ربوبیت : ص 37 )
ان اقتباسات سے کیا واضح ہوا ؟ یہی کہ علماءِ امت ہوں یا "مفکرقرآن" ہر گروہ کے نزدیک قرآن میں ایسی آیات موجود ہیں جن کا حکم تلاوت باقی ہے لیکن ان پر عمل منسوخ یا متروک ہے ٗ ان آیات کو قرآن میں کیوں رکھا گیا ؟ ان کی تلاوت کو بھی ان کے عمل کی طرح ساقط کیوں نہ کیا گیا ؟ اس کا جواب بھی دونوں گروہوں کے نزدیک متفق علیہ ہے لیکن محض اس بناء پر کہ "مفکرین قرآن" نے خود جس حقیقت کو "عبوری دور کی آیات" کے نام سے قبول کیا ہے ٗ اسی حقیقت کو علماء نے "منسوخ آیات" کے نام سے قبول کیوں کیا ؟ " ان پر ہمیشہ زبانِ طعن دراز کرتے رہے ٗ اور ان پر ایسے اعتراضات کی بوچھاڑ کرتے رہے جن کی زد میں وہ خود بھی آئے بغیر نہیں رہ سکتے مثلاً وہ ایک اعتراض یہ کرتے ہیں کہ
( قرآن میں۔۔۔۔۔ قاسمی) یہ کہیں نہیں بتایا گیا کہ کون سی آیت منسوخ ہے اور کون سی ناسخ ٗ اسے لوگوں پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ خود اس کا فیصلہ کریں کہ کون سی آیت منسوخ ہے اور کون سی اس کی ناسخ۔     ( لْغات القرآن ص 1608)
حوالہ جات
(1) یعنی کسی اور چیز کو اس کی جگہ لانے کی بجائے، خود اس کی جگہ پر آ گئی
(2) جی ہاں! جس طرح قرآن پر یہود "اہم اعتراض" کیا کرتے تھے، اسی طرح پرویز صاحب بھی حدیث رسول پر "اہم اعتراض" کیا کرتے تھے۔ "تشابهت قلوبهم"
(3) "اس میں سے کچھ بھی واپس نہیں لے گیا" یہ الفاظ مفہوم قرآن کو بصحت ادا نہیں کرتے، اگر یہ کہا جاتا کہ "اسے واپس نہیں لے گیا" تو مفہوم صحیح طور پر ادا ہو جاتا۔ ویسے بھی کسی چیز کو پورے کا پورا واپس لینا اور چیز ہے اور اس میں سے معمولی حصہ واپس لینا اور چیز ہے، معمولی حصہ تو بذریعہ نسخ یا بذریعہ انساء (آیت نسخ کی رو سے) واپس لیا جا سکتا ہے لیکن مکمل قرآن اور پوری وحی واپس نہیں لی جا سکتی (88/17)
(4) ہمارے اس مفہوم آیات کو دیکھئے اور پھر "مفکر قرآن" صاحب کے انہی آیات (سورۃ البقرۃ: آیات 108) کے تحت مفہوم القرآن کو دیکھئے۔ مفہوم آیات میں مسخ و تحریف، الحاقی و اضافی الفاظ کی بھرمار، معانی و آیات میں الحاد، اور کلام الٰہی کو اصل مفہوم سے پھیر دینے کی بدترین جسارتوں کی واضح مثالیں آپ آئیں گی۔ یہ سب کچھ "مفکر قرآن" صاحب کے "ذوق تحریف" کے کرشمے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قاسمی صاحب کی طرف سے مسئلہ " نسخ الحكم مع بقاء التلاوة " کے بارے میں مولانا مودودی کا مؤقف بحیثیت نمائندہ علماء اور مسٹر غلام احمد پرویز کی ہمنوائی قطعاً درست نہیں۔ کیونکہ علمائے امت کے نزدیک جس طرح نسخ کی بنا پر کسی حکم کی تبدیلی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اسی طرح اس تبدیلی کا وقت مقرر کرنے کا اختیار بھی صرف اللہ ہی کو حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ظاہری تعارض آیات و احادیث کے وقت جمہور علماء نسخ سے پہلے ان کو باہمی تطبیق دیکر جمع کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر تاریخی طور پر کسی حکم کے متاخر ہونے کا ثبوت تلاش کرتے ہیں۔ لہٰذا آیات یا احادیث کا ظاہری تعارض بھی باقی نہیں رہتا بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکامات مختلف حالات اور مواقع کی مناسبت سے اطلاق پذیر قرار پاتے ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کی عظیم حکمت ہے۔ اس حکمت کے لئے لفظ نسخ کا اطلاق جن لوگوں نے کیا ہے انہوں نے اپنی اصطلاح کی وضاحت خود کر دی ہے کہ وہ تخصیص کو بھی نسخ کے تحت شمار کرتے ہیں لیکن نسخ کا جو مفہوم قاسمی صاحب نے متعین کیا ہے اس کے تحت علماء امت مسٹر غلام احمد پرویز اور مولانا مودودی کے ہمنوا نہیں ہیں چنانچہ اہلسنّت کے نزدیک نکاح متعہ جب حرام ہو گیا تو ہمیشہ کے لئے حرام ہے۔ اس کی پہلے بعض مواقع کی حلت کسی حال میں بھی واپس نہیں آسکتی۔ اسی طرح بیوہ کی عدت جو پہلے ایک سال تھی ( البقرہ 240 ) جب منسوخ ہو کر چار ماہ دس دن قرار پا گئی ( البقرہ 244 ) تو اب کسی موقع پر بھی ایک سال کا حکم واپس نہیں آسکتا قرآن کی بعض آیات کا حکم
منسوخ ہونے کے باوجود ان کی تلاوت کے بارے میں علماء کا مؤقف اور اس کی وجوہ تفصیل سے اصول کی کتابوں میں موجود ہیں جن کے لئے مستقل مضمون درکار ہے۔               ( قاری عبد الحلیم )