محترم غازی عزیر کے مقالات علمی اور تحقیقی ہونے کے ساتھ ساتھ علمی حلقوں میں دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں اور مآخذ و مراجع کی کثرت کے باعث اہل علم کی توجہ کا مرکز بنے رہتے ہیں۔ رسالہ "محدث" لاہور میں ان کے مقالات نظر سے گزرتے ہیں، بسا اوقات مجلہ "اہلحدیث" لاہور اور "الاعتصام" میں بھی شائع ہوتے ہیں۔ میں بھی مذکورہ بالا اوصاف کے پیش نظر ان کے مقالات دیکھتی اور پڑھتی ہوں۔ محدث جلد نمبر 23 عدد 2 بابت ماہ جنوری 1993ء میں محترم کا "برصغیر میں محدثین کی مساعی" تحقیقی مقالہ نظر سے گزرا۔ اس میں موصوف نے ان صحابہ و تابعین کا ذکر تفصیل سے کیا ہے جو ہند میں وارد ہوئے اور انہوں نے ہند میں حدیث کا فیض پہنچایا اور تبع و تابعین کی جماعت (عدد نمبر 3، ص نمبر 166) پر ابوبکر محمد رجاء السندھی یا رجاء بن سندھی کا تذکرہ اور تعارف درج کیا ہے۔ موصوف ان کے تذکرہ میں لکھتے ہیں۔
سندھ میں آ کر مستقل سکونت اختیار کر لینے کی وجہ سے ہی "السندھی" کہلائے ۔۔۔ "صحیح بخاری میں ان کی مرویات موجود ہیں۔"
راقمۃ الحروف کہتی ہے یہ تو بجا ہے کہ آپ نے سندھ میں آ کر مستقل سکونت اختیار کر لی بلکہ امام حاکم لکھتے ہیں کہ ان کے اعقاب میں بھی بہت سے محدثین ہو گزرے ہیں۔ سید سلیمان نے اعقاب کے کچھ نام بھی دئیے ہیں جن میں ابو محمد عبداللہ بن محمد بن رجاء اور ابوبکر محمد بن رجاء مشہور تر ہیں۔ پہلا نام حافظ ابن حجر نے بھی تہذیب التھذیب میں درج کیا ہے۔
موصوف (               ) کے بعد پیدا ہوئے اور ایران پہنچ کر اسفرائینی کی نسبت سے مشہور ہوئے اور بالآخر سندھ میں وفات پائی۔ علامہ طبری نے بھی 231ھ میں ان کا تذکرہ کیا ہے۔
الجوزجانی اور ابو حاتم نے ان سے روایت کی ہے، 231ھ میں ان کی وفات مذکور ہے۔ تاہم شیخین نے ان سے روایت نہیں لی۔ تو فاضل مقالہ نگار کا ان کے تذکرہ میں یہ لکھنا کہ "صحیح بخاری میں ان کی مرویات موجود ہیں" سبقتِ قلم یا تسامح کا نتیجہ ہے۔ میں قارئین کے علم میں یہ لانا چاہتی ہوں کہ یہ رجاء سندھی وہی ہیں جن پر علامہ کوثری نے "تانیب الخطیب" (ص 92) جرح کی ہے اور لکھا ہے کہ وہ طویل اللسان تھے اور اصحاب الاصول نے ان سے روایت نہیں لی۔ چنانچہ علامہ عبدالرحمٰن معلمی "تنکیل" میں علامہ کوثری کے جواب میں لکھتے ہیں:
استاذ کوثری نے فصیح اللسان کو بذی اللسان کہتے ہیں حالانکہ بکر بن خلف نے ان کے حق میں کہا ہے " ما رايت افصح منه " اگر استاذ اس کو طول اللسانی سے تعبیر کریں تو یہ استاذ کو ہی لائق ہے۔"
لیکن اصحاب الاصول کے ان سے روایت نہ لینے کی وجہ ان کا ضعف نہیں ہے بلکہ ترمذی، نسائی، ابن ماجہ نے تو ان کا زمانہ ہی نہیں پایا اور ابوداؤد نے فی الجملہ ان کا زمانہ تو پایا ہے مگر ملاقات ثابت نہیں کیونکہ وفات 221ھ ہے۔ امام احمد نے ان سے روایت لی ہے اور ابراہیم بن موسی اور ابو حاتم نے بھی ان سے روایت لی ہے، ملاحظہ ہو (تنکیل ج 1 رقم 92)
ممکن ہے مقالہ نگار کو حافظ ابن حجر کے اس جملہ سے مغالطہ ہوا ہو، جو حافظ نے "تہذیب التھذیب" ج 3 ص 267 پر رجاء السندھی کے ترجمہ میں نقل کیا ہے
وعنه البخاري فيما ذكره صاحب الكمال
تو گزارش ہے کہ اولا تو حافظ نے رجاء پر کوئی نشان نہیں لگایا اور پھر اس جملہ کے بعد حافظ نے علامہ مزی کا قول نقل کیا ہے (قال المزي ولم اجلله ذكرا في الصحيح) اور مزی کے قول پر سکوت کیا ہے جس سے ظاہر ہے کہ حافظ ابن حجر مزی کے ساتھ متفق ہیں اور پھر صاحب الکمال کے اس جملہ و "عنہ البخاری" سے یہ کب لازم آتا ہے کہ امام نے اپنی صحیح میں ان سے روایت کی ہے۔ امام بخاری نے اپنی کسی دوسری تالیف میں ان سے روایت لی ہو گی جس کی بنا پر صاحب الکمال (عبدالغنی المقدسی) نے و عنہ البخاری لکھ دیا۔
میری اس مختصر کاوش سے یہ بات عیاں ہے کہ نہ صرف صحیح بخاری و مسلم بلکہ سننِ اربعہ میں بھی ان کی کوئی روایت نہیں ہے۔ رجاء سندھی پر مزید تو بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن زیر نظر مقالہ میں راقمہ کے پیش نظر صرف اس غلط فہمی کا ازالہ تھا جو کہ بحمد اللہ رفع ہوا۔ امام مسلم کے متعلق معلمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ
جہاں تک امام مسلم رحمہ اللہ کا تعلق ہے تو رجاء کی وفات کے وقت ان کی عمر فقط سولہ برس تھی۔ عین ممکن ہے کہ امام نے صغر سنی میں ان سے سماع فرمایا ہو۔ لیکن اس سماع کو آپ نے اپنی صحیح میں درج کرنے کے لائق نہ سمجھا۔
(بغدادی 13/393 اور تانیب ص 92)