الجامع الصحیح، روایات اور نسخے
صحیح بخاری کی شہرت اور محدثینِ وقت اور اساتذہ فن کی توثیق تو مصنف رحمہ اللہ کی زندگی میں ہو چکی تھی اور فربری کی روایت کے مطابق نوے ہزار اہل علم مؤلف الجامع سے اس کا سماع کر چکے تھے اور کسی کتاب کا مصنف کی زندگی میں اس قدر مقبول ہو جانا صاحبِ کتاب کی خوش نصیبی اور کتاب کی عظمت کی دلیل ہے۔
تاہم مصنف سے اتصالِ سند کے ساتھ جو روایات اور نسخے ہم تک پہنچے ہیں وہ بقول ابن حجر رحمہ اللہ پانچ ہیں۔ ان پانچ روایات کے علاوہ کچھ دیگر روایات بھی ہیں جن پر اعتماد ہو سکتا ہے۔
(1) روایت ابو عبداللہ محمد بن یوسف بن مطر بن صالح بن بشر الفربری الشافعی (231-320ھ) موصوف نے اولا اپنے قصبہ "فربر" میں علی بن خشرم اور دیگر محدثین سے سماع کیا، پھر امام المحدثین سے "الجامع الصحیح" کا سماع کیا۔ ابن خیر مالکی لکھتے ہیں:
سمع الفربري الكتاب من البخاري مرتين، مرة بفربر 248 و مرة ببخاري
"فربری نے امام بخاری سے دو مرتبہ بخاری کا سماع کیا ایک مرتبہ فربر میں 248ھ اور ایک مرتبہ بخارا میں" (فہرستہ ابن خیر ص 95)
یہی بات ابن السمعانی رحمہ اللہ نے سالوں کی قید کے ساتھ لکھی ہے۔ (الانساب 9/261) علامہ فربری نے الجامع الصحیح کا تین مرتبہ سماع کیا، یعنی 248ھ و 253ھ اور 255ھ میں اور پھر فربری سے ایک بڑی جماعت نے روایت کی ہے۔
پھر ابن طاہر الفتنی رحمہ اللہ "مجمع البحار الانوار" میں لکھتے ہیں:
سمع منه جامعه تسعون الفا ولم يبق سوي الفربري قره عليه صحيحه ثلاث مرات
(مجمع البحار 3/524 لکھنؤ ہند)
ابن خلکان نے فربری کو آخری راوی قرار دیا ہے، جو دوسروں کی وفات کے بعد الجامع کی روایت کرتے رہے۔ چنانچہ ان کے الفاظ ہیں:
وهو آخر من روي الصحيح عن البخاري
"اور یہ آخری راوی ہیں جنہوں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے بخاری روایت کی۔"
(وفیات 4/290)
لیکن حافظ ابن حجر نے اس پر تنقید کی ہے اور لکھا ہے کہ آخری راوی ابو طلحہ البزدوی اور علامہ فربری کے بعد کئی سال تک زندہ رہے ہیں۔ (مقدمہ فتح الباری، النبلاء 15/10، شذرات 2/242، تاج العروس (فربر) الانساب 9/261) اور فربری کے نسخہ میں بعض روایات علو کے ساتھ بھی ہیں۔ مثلا موسیٰ اور خضر کا قصہ، علی بن خشرم عن سفیان بن عیینہ، حموی رحمہ اللہ کی روایت میں یہ موجود ہے۔ پس فربری کو علی بن خشرم سے سماع حاصل ہے اور حموی کا سماع 315ھ کا ہے اس کے برعکس المستملی رحمہ اللہ نے 314ھ کو فربری کی طرف رحلت کی۔ اور ابو زید المروزی رحمہ اللہ کی 318ھ میں ہے۔ اور الکثمینی رحمہ اللہ نے 320ھ میں سماع کیا۔
فربری سے رواۃ
علامہ فربری سے 9 معروف رواۃ نے الجامع الصحیح کی روایت کی ہے جو متصل اسانید کے ساتھ ہم تک پہنچی ہیں۔
(1) ابو علی سعید بن عثمان بن السکن المتوفی 352ھ
(2) ابو اسحاق ابراہیم بن احمد المتوفی 376ھ
(3) ابو نصر احمد بن محمد الخسیکتی رحمہ اللہ المتوفی 376ھ
(4) ابو زید المروزی الفاشانی الفقیہ محمد بن احمد المتوفی 371ھ سمع الصحیح 318ھ
(5) الشبوی: ابو علی محمد بن عمر بن شبویہ المروزی المتوفی 378ھ
(6) ابو احمد محمد بن محمد الجرجانی المتوفی 366ھ
(7) ابو احمد عبداللہ بن احمد بن حمویہ السرخسی (293-381) سمع الصحیح 315ھ
(8) ابو الھیثم محمد بن مکی الکشمیہنی رحمہ اللہ المتوفی 389ھ
(9) اسماعیل بن محمد بن احمد بن حاجب الحاجبی م 391ھ
علاوہ ازیں فربری سے رواۃ کے مزید نام بھی ملتے ہیں جو تراجم کی کتابوں میں مذکور ہیں اور ہم نے اسانید حافظ ابن حجر میں ان کے تراجم ذکر کئے ہیں۔ منجملہ ان کے محمد بن احمد بن مت الاشیخنی ہیں، جنہوں نے 370ھ میں بخاری کا سماع کیا ہے (ترجمہ کے لئے الانساب 1/268، معجم البلدان 1/196، اللباب 1/63، العِبر 3/40، طبقات للسبکی 3/99 والنبلاء 16/521) اور ابو لقمان یحییٰ بن عمار الختلانی بھی فربری سے راوی ہیں اور یہ روایت "اعلیٰ الاسانید فی الدنیا" شمار ہوتی ہے۔ ہم نے اسانید حافظ ابن حجر میں اس کی تفصیل ذکر کی ہے۔
ان روایات میں سب سے اتقن ابوذر کی روایت ہے جو ابن حجر اپنے مشائخِ ثلاثہ (المستملی ابو اسحاق، السرخسی، الکشمیہنی رحمہ اللہ) سے روایت کرتے ہیں۔ قطف الشمر میں ہے
اصحها واشهرها طريق ابي ذر وهي طريق المغاربة والمكبين
"ان میں سب سے صحیح اور سب سے مشہور طریق ابوذر کا ہے جو کہ اہل مغرب اور مکہ والوں کا طریق ہے۔"
حافظ ابن حجر نے اسی روایت پر اعتماد کیا ہے اور فتح الباری میں اسی متن کو بنیاد قرار دیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
فليقع الشروع في الشرح والاقتصار علي اتقن الروايات عندنا الا وهي رواية ابي فرعن مشائخه الثلاثة لضبطه لها وتميزه لاختلاف سياقها مع التنبيه الي ما يحتاج اليه مما يخالفها وبالله التوفيق
"پس اب شرح اور سب سے زیادہ متقن روایت پر اقتصار کرنے کا آغاز ہونا چاہیے جو کہ ابی ذر کی ہے جو وہ اپنے تین شیوخ سے بہترین ضبط سے روایت کرتا ہے اور چونکہ وہ سیاق میں اختلافات کو معہ ضروری اشارات و تنبیہ کے واضح کر دیتا ہے۔"
(دیباچہ فتح الباری ص 8)
علامہ کرمانی نے بھی اپنی اسانید میں ابو الحسن عبدالرحمٰن عن السرخسی و کریمہ بنت احمد الکشمیھنی و ابی ذر عن مشائخہ الثلاثہ والی روایت کو اتقن قرار دیا ہے۔ علامہ نووی لکھتے ہیں:
واشتهر في بلادنا عن ابي الوقت الداردي عن الحموي
"اور ہمارے ملک میں یہ طریق مشہور ہے عن ابی الوقت الداؤدی عن الحموی"
متاخرین علماء نے اسانید کے سلسلہ میں رسائل، اثبات اور معاجم لکھتے ہیں، جن سے اختلاف اسانید اور ان کی وسعت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔
ابن العماد حنبلی نے فربری کی روایت کو احسن قرار دیا ہے اور ابن خلکان نے بھی موصوف کو "راویۃ البخاری" کا لقب دیا ہے اور باقی روایات اربعہ کے مقابلہ میں یہ روایت معتبر اور متداول ہے۔ (1)
(3) راویہ ابی طلحہ البزدوی: منصور بن محمد بن علی بن قرینہ البزدوی النسفی رحمہ اللہ (2) (المتوفی بعد 397ھ)
حافظ ذہبی نے ان کو الشیخ الکبیر المسند لکھا ہے اور ابن ماکولا نے اس کی توثیق کی ہے، ابن ماکولا لکھتے ہیں:
كان آخر من حدث بالجامع الصحيح عن البخاري
"یہ سب سے آخری تھے جنہوں نے امام بخاری سے جامع صحیح کی روایت کی"
یہی بات ابن حجر نے لکھی ہے اور مزید کہا ہے
بق بعد الفربري تسعة اعوام وبه قال ابن ماكولا
"آپ فربری کے بعد 9 سال تک حیات رہے اور ابن ماکولا نے بھی یہی کہا ہے"
تاہم جعفر بن محمد المستغفری لکھتے ہیں:
يضعفون روايته من جهة صغره حين سمع ويقولون وجد سماعه بخط جعفر بن محمد مولي امير المؤمنين دهقان توين، فقرا كل الكتاب من حماد بن شاكر
جب انہوں نے سماع کیا اس وقت ان کی صِغر سنی کے باعث وہ ان کی روایت کو ضعیف گردانتے ہیں اور جعفر بن محمد مولی امیر المؤمنین دھقان توین کے خط سے اس کا سماع ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کتاب حماد بن شاکر سے پڑھی۔
بہرحال اہل بلد نے ابو طلحہ سے سماع کیا ہے اور اہل علم نے ان کی طرف رحلت بھی کی ہے۔ ابو القاسم عبیداللہ بن عبداللہ بن محمد السرخسی المتوفی (380ھ) نے اس سے الجامع الصحیح روایت کی ہے۔ (3) تاریخ بغداد میں ہے (4)
قدم نسف سنة 327 لسماع الصحيح من ابي طلحة النسفي حدث عن القاضي المحاملي وآخرين
آپ ابو طلحہ النسفی سے صحیح کے سماع کے لئے 327ھ میں نسف تشریف لائے اور قاضی محاملی و دیگران سے حدیث بیان کی"
(3) قاضی علامہ، محدث ثقہ، مسند الوقت، ابو عبداللہ الحسین بن اسماعیل بن محمد بن اسماعیل بن سعید بن ابان البغدادی المحاملی (نسبۃ الی المحامل)
235ھ کو پیدا ہوئے اور 244ھ میں پہلا سماع کیا۔ جن محدثین سے سماع کیا ان میں امام بخاری بھی شامل ہیں۔ علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کے مشائخ کی فہرست دی ہے (5) اور لکھا ہے
وصار سند اهل العراق مع التصدر للافادة والفتيا ستين سنة
"آپ ساٹھ سال تک اہل عراق کے لئے فتاویٰ و افادہ کے لئے مرجعِ عام رہے۔"
ان سے دارقطنی، طبرانی، ابن جمیع وغیرھم محدثین کی ایک جماعت نے روایت کی ہے۔ ابوبکر خطیب لکھتے ہیں:
فاضل اور متدین تھے۔ ساٹھ سال کوفہ میں رہے۔ (6)
اور ابن جمیع صیدلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
"قاضی محاملی کے پاس ابن عیینہ کے اصحاب میں سے ستر نفوس جمع رہتے اور مجلس حدیث میں دس ہزار آدمی حاضر ہوتے۔"
محاملی نے متعدد مجالس املاء کروائیں جن میں آخری مجلس 330ھ میں تھی اس کے بعد بیمار پڑ گئے اور گیارہ دن کے بعد فوت ہو گئے۔ 
تاہم ابن حجر رحمہ اللہ محاملی کی روایت صحیح اور ان کے نسخہ کے متعلق لکھتے ہیں: (7)
سمعه ببغداد بعد ابي طلحة ولكن لم يكن عنده الجامع الصحيح وانما سمعه ببغداد في آخر قدومها البخاري وقد غلط من روي البخاري من طريق المحاملي
"ابو طلحہ کے بعد آپ نے بغداد میں سماع کیا لیکن ان کے پاس جامع صحیح نہ تھی اور انہوں نے ان سے کچھ مجالسِ حدیث میں سماع کیا جن کو امام بخاری نے آخری مرتبہ بغداد میں تشریف آوری کے دوران منعقد کروایا تھا اور جس نے بخاری کی روایت بطریقِ محاملی ذکر کی ہے اس نے غلطی کھائی ہے۔"
لیکن علامہ ذہبی نے ان کی مجالس کو اہمیت دی ہے اور لکھا ہے
كان يحضر مجلسه عشرة آلاف رجل وعقد بالكوفة سنة سبعين ومأتين مجلسأ في داره للفقه فلم يزل اهل العلم والفقه يختلفون فيه
"آپ کی مجلسِ حدیث میں 10 ہزار آدمی حاضر ہوتے اور آپ نے 270 ہجری میں کوفہ میں اپنے گھر میں مجلس منعقد کی پس اہلِ علم اور فقہاء ہمیشہ ان کی طرف رجوع کرتے رہے۔"
امام حاکم نے ان سے صحیح بخاری روایت کی ہے۔ نیز حافظ ذہبی "تذکرہ" میں لکھتے ہیں
وآخر من روي عنه عاليا ابو القاسم سبط السلفي
"اور ان سے عُلوا سب سے آخر میں ابو القاسم سبط السلفی نے روایت کیا ہے"
علامہ محاملی سے دیگر رواۃ بھی "شذرات" وغیرہ میں مذکور ہیں:
(1) عبدالواحد بن محمد بن عبداللہ الفارسی ثم البغدادی البزاز ابو عمر بن مھدی
(2) ابو محمد ابن الاکفانی قاضی القضاۃ عبداللہ بن محمد الاسدی البغدادی حدث عن المحاملی مات سنہ 405ھ عن تسع و ثمانین سنہ
(3) احمد بن عبداللہ بن حمید بن زریق البغدادی ابو الحسن نزیل مصر کان من الثقات الاثبات روی عن المحاملی توفی 391ھ ("شذرات" 3/135)
(4) قاضی ابو عبداللہ الحسین بن ھارون البغدادی
املي كثيرا عن الكثير وهو غاية في الفضل توفي سنة 398 (شذرات: 3/151)
"آپ نے بہت سے رُواۃ کو کثیر رواۃ سے املاء کروائی اور آپ انتہا درجہ فضیلت کے حامل تھے اور 398ھ میں دنیا سے رحلت فرمائی"
(5) ابو الحسین البغدادی روی عن المحاملی وغیرہ
(4) ابراھیم بن معقل بن الحجاج (8) النسفی ابو اسحاق السانجنی (المتوفی 295ھ)
حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: (9)
كان من الحفاظ وله تصانيف وكانت وفاته سنة 294ه وكان فاته من الجامع اوراقا رواها بالاجازة عن البخاري نبه علي ذلك ابو علي الجياني في كتابه “تقييد المهمل“
"آپ حفاظِ حدیث سے تھے اور آپ کی متعدد تصانیف ہیں۔ آپ کی وفات 294ھ میں ہے۔ اور آپ سے بخاری کے کچھ اوراق کھو گئے تھے جنہیں آپ نے اجازۃ روایت کیا ہے۔ ابو علی الجیانی نے اپنی کتاب "تقیید المہمل" میں اس کی وضاحت کی ہے۔"
حافظ ذہبی رحمہ اللہ تذکرہ میں لکھتے ہیں: (10)
وحدث بصحيح البخاري عن المصنف وقال ابو يعلي الخليلي: هو ثقة ثبت
"آپ نے مصنف سے صحیح بخاری روایت کی اور ابو یعلی الخلیلی نے کہا کہ: آپ ثقہ اور ضابط ہیں"
ان سے ان کے بیٹے محمد زکریا اور عبدالمؤمن بن خلف النسفی نے روایت کی ہے موصوف "نسف" کے قاضی عالم اور مصنف ہیں۔ "المسند الکبیر" اور "تفسیر" ان کی یادگار ہے۔ ابن العماد لکھتے ہیں
كان بصيرأ بالحديث عارفا بالفقه والاختلاف، روي الصحيح عن البخاري
"آپ حدیث میں بصیرت کے حامل تھے، فقہ اور اختلاف کی معرفت رکھتے تھے آپ نے امام بخاری سے ان کی صحیح روایت کی ہے۔"
علامہ کوثری "شروط الائمۃ حازمی" کے تحت حاشیہ میں لکھتے ہیں: ابراھیم بن معقل اور حماد بن شاکر دونوں حنفی ہیں اگر یہ دونوں نہ ہوتے تو فربری صحیح بخاری کی روایت میں منفرد نظر آتا جیسا کہ ابراہیم بن محمد بن سفیان حنفی صحیح مسلم کی روایت ہی میں منفرد ہوتا۔
(5) حماد بن شاکر بن سویہ
الامام المحدث الصدوق ابو محمد النسفی المتوفی 311ھ
عیسیٰ بن احمد العسقلانی، امام بخاری اور ترمذی تینوں سے روایت کرتے ہیں اور صحیح بخاری کے رواۃ میں سے ایک ہیں جو مصنف سے بلاواسطہ روایت کرتے ہیں۔ علامہ ذہبی لکھتے ہیں یعنی "بہت سے علماء نے حماد سے روایت کی ہے"
حافظ جعفر المستغفری صاحب "تاریخ نسف" لکھتے ہیں: (11)
هو ثقة مامون، وحل الي الشام حدثني عنه بكر بن محمد بن جعفر بن راهب النسفي بصحيح البخاري وحدثني عنه ابو احمد القاضي (12)
"آپ ثقہ اور امین ہیں اور آپ نے شام کی طرف سفر کیا۔ مجھے ان سے بکر بن محمد بن جعفر بن راہب النسفی نے صحیح بخاری بیان کی اور مجھے ان سے ابو احمد القاضی نے بھی حدیث بیان کی۔"
علامہ ذہبی لکھتے ہیں:
"صحیح بخاری کے رواۃ میں طاہر بن محمد بن مخلد بھی ہیں۔" (13)
تاہم حافظ ابن حجر کو اس نسخہ کی سند حاصل نہیں ہے اس کی وضاحت نہیں کی۔
روایاتِ خمسہ کا جائزہ
صحیح بخاری کی ان روایاتِ خمسہ میں گو الفاظ اور جملہ کی کمی بیشی پائی جاتی ہے مگر تعداد احادیث کے لحاظ سے سب برابر ہیں۔ حافظ ابن حجر نے صرف المحاملی کے نسخہ کو ناقص اور ناقابل اعتماد قرار دیا ہے جیسا کہ ہم بیان کر آئے ہیں لیکن ذہبی کے کلام سے اس کی تلافی ہو جاتی ہے اور امام حاکم اور دیگر محدثین نے محاملی سے صحیح بخاری کا سماع کیا ہے۔ حماد بن شاکر میں بھی کچھ فوات پائے جاتے ہیں اور ابراہیم نسفی کی روایت کے متعلق گزر چکا ہے کہ ان کے صحیح بخاری سے کچھ اوراق گم ہو گئے جن کو بعد میں انہوں نے اجازۃ امام بخاری سے روایت کیا تھا۔ پھر جب حافظ ابن الصلاح نے الجامع الصحیح کی احادیث کی تعداد پر بحث کی اور لکھا کہ مکرر سمیت کل مسند احادیث 7573 ہیں۔ (14) تو اس پر شیخ عراقی نے ملاحظہ لکھا ہے: (15)
المراد بهذا العدد رواية محمد بن يوسف الفربري فاما رواية حماد بن شاكر فهي دونها مائتي حديث وانقص الروايات رواية ابراهيم فانها تنقص عن رواية الفربري ثلاث مائة حديث
"ان اعداد سے محمد بن یوسف الفربری کی روایت سے احادیث کی تعداد مراد ہے اور حماد بن شاکر کی روایت میں اس سے دو سو (200) احادیث کم ہیں اور جس روایت میں سب سے کم احادیث ہیں وہ ابراہیم کی روایت ہے جس میں فربری کی روایت سے 3 صد احادیث کم ہیں۔"
علامہ عراقی کے اس ملاحظہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان ہر دو روایات میں نقص پایا جاتا ہے لیکن حافظ ابن حجر لکھتے ہیں ۔۔ ایسا نہیں بلکہ اصل کتاب کے تینوں نسخے برابر ہیں اور حماد بن شاکر کے سماع میں جو فوات ہیں ان کا جبر اجازہ روایت سے ہو گیا ہے یہی حال ابراہیم نسفی کی روایت کا ہے حافظ ابو الفضل (16) نے "اطراف الکتب السنۃ" اور حافظ ابو علی الجیانی (17) نے "تقیید المھمل" میں اس کی وضاحت کر دی ہے۔
ان البخاري اجازله آخر الايمان في اول الاحكام الي آخر مارواه النسفي من الجامع
"امام بخاری نے انہیں آخر دیوان (یعنی احکام کی ابتدا سے وہاں تک جہاں تک نسفی نے جامع سے روایت کیا ہے) کی روایت کی اجازت دی۔"
اور ابراہیم نسفی نے خود بھی کہا ہے
واما من اول كتاب الاحكام الي آخر الكتاب فاجازه لي البخاري
"اور جہاں تک کتابُ الاحکام کے شروع سے آخر کتاب تک کا معاملہ ہے تو اس کی امام بخاری نے مجھے اجازتِ روایت دی۔"
ابو علی الجیانی مزید لکھتے ہیں:
وكذا فاته من حديث عائشة رضي الله عنها في قصة الافك في باب قوله تعاليٰ: يُرِيدُونَ أَن يُبَدِّلُوا كَلَامَ اللَّـهِ (الي آخر الباب)
"اور اسی طرح آپ سے حضرت عائشہ کی قصہ اُفک والی حدیث (جو کہ اللہ کے فرمان " يُرِيدُونَ أَن يُبَدِّلُوا كَلَامَ اللَّـهِ " کے تحت مندرج ہے) آخری باب تک چھوٹ گئی ہے۔"
اور حماد بن شاکر کی روایت میں "اثناء کتاب الاحکام" سے الیٰ "آخر الکتاب" فوات ہیں۔ الغرض اس سے ہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ حماد بن شاکر اور ابراہیم کی روایت میں فوات عدمِ سماع کا ہے اور یہ حصہ ان کو اجازۃ سے حاصل ہے ورنہ اصل نسخوں میں کوئی تفاوت نہیں ہے اور ترقیم احادیث میں تینوں نسخے برابر ہیں اس سے عراقی کے کلام میں جو وہم ہوتا ہے اس کا ازالہ ہو جاتا ہے۔ حافظ ابن حجر لکھتے ہیں۔ (النکت ج1 ص 294)
وغايته ان الكتاب جميعه عن الفربري بسماع و عند هذين بعضه بسماع و بعضه باجازة۔ والعدة عند الجميع في اصل التصنيف سواء۔ فلا اعتراض علي ابن الصلاح فبما اطلقه (والله اعلم)
"مختصرا یہ کہ تمام کتاب فربری کے سماع سے منقول ہے اور ان دونوں کے مطابق کچھ سماع اور کچھ اجازۃ سے مروی ہے اور اصل تصنیف میں مکمل تعدادِ حدیث تمام کے نزدیک یکساں ہے۔ لہذا ابنِ صلاح پر کوئی اعتراض نہیں جس کا انہوں نے اطلاق کیا ہے۔"
عالم اسلام میں ان ہر خمسہ نُسخ کا انتشار ہوا اور محدثین حافظ ابن الصلاح، علامہ عراقی اور حافظ ابن حجر عسقلانی نے انہیں نسخوں کا اعتناء کیا۔ چنانچہ "اسانید ابن حجر الی البخاری" میں ہم اس کی تفصیل بیان کر چکے ہیں اور یہاں پر فربری سے رواۃ کا مختصر تعارف بھی مرقوم ہو چکا ہے۔ یہاں پر ہم صرف ابو لقمان یحییٰ بن عمار الختلانی والی روایت کا تعارف کراتے ہیں جو "اعلیٰ الاسانید فی الدنیا" شمار ہوتی ہے۔ یہ سند نہ تو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کو میسر ہو سکی اور نہ ہی سیوطی کو۔ شاہ ولی اللہ الدہلوی نے حدیث "مسلسل بالمشافہ" کو "اتحاف النبیہ" میں اس سند کے ساتھ روایت کیا ہے چنانچہ لکھتے ہیں:
واما الاسناد العالي فقد اخبرني بجميع صحيح البخاري شيخنا ابو الطاهر محمد عن ابيه قال اخبرنا العبد الصالح المعمر الصوفي عبدالله بن ملا سعد اللاهوري نزيل المدينة والمنورة (1083ء) سماعا عليه بجميع ثلاثياته وحديثين من رياعيته الملحقة بالثلاثيات واجاز لسائره عن الشيخ قطب الدين المهروالي (949ه) عن الحافظ نور الدين ابي الفتوح الطاؤسي عن الشيخ معمر بابا يوسف الحروي (822ه) عن الشيخ المعمر محمد بن شاد بخت الفرغاني عن الشيخ المعمر ابي لقمان يحييٰ بن عمار بن مقبل بن شاهان الختلاني بسماع عن الفربري
اس اسناد کے بعد شاہ ولی اللہ دہلوی لکھتے ہیں:
فبهذا الاسناد تكون ثلاثيات البخاري لنا اربع عشرية ورياعياته لنا خمس عشرية وهذا اعلي ما يوجد الان (والله اعلم)
علامہ شمس الحق عظیم آبادی صاحب عون المعبود "الوجازہ" میں لکھتے ہیں:
وفيه بيني و بين البخاري عشر وسائط و بيني و بين النبي صلي الله عليه وسلم باعتبار ثلاثيات البخاري اربعة عشر واسطة وهذا السند أعلي ما يوجد الآن في الدنيا والحمدلله رب العالمين
"اور اس میں میرے اور بخاری کے مابین دس واسطے ہیں اور میرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان بخاری کی ثلاثیات کے اعتبار سے چودہ واسطے ہیں۔"
سید مرتضیٰ زبیدی نے فربری سے رواۃ کی جو فہرست دی ہے ان میں الشیخ المعمر الختلانی کی روایت موجود ہے۔
علاوہ ازیں الامام ابو حامد احمد بن عبداللہ بن نعیم بن الخلیل النعیمی السرخسی نزیل ھرۃ 386ھ بھی فربری سے رواۃ میں شریک ہیں۔
عدد احادیث البخاری
امام نووی کے مطابق صحیح بخاری میں کل مسند احادیث سات ہزار دو سو پچھتر ہیں اور مکرر کے حذف کے بعد چار ہزار ہیں۔ حافظ ابن حجر لکھتے ہیں:
علامہ حموی سرخسی، فربری سے صحیح کے راوی ہیں اور انہوں نے تمام احادیث کے شمار کے بعد یہ تعداد بیان کی ہے اور بعد والے حموی کی تقلید میں یہی تعداد بیان کرتے چلے آئے ہیں۔ میرے شمار کے مطابق معلقات اور متعابعات کو چھوڑ کر 6397 ہے اور مکرر چھوڑ کر کل تعداد 2602 حدیثیں ہیں اور ایک ہزار تین سو اکتالیس معلقات ہیں جن میں سے اکثر تو موصولا مذکور ہیں، صرف ایک سو ساٹھ احادیث وہ ہیں جن کو مسند موصول بیان نہیں کیا۔ اور آٹھ سو بیس احادیث چھوڑ کر باقی متفق علیہ ہیں اور صحیح مسلم میں مکرر نکال کر چار ہزار ہیں لیکن فواد عبدالباقی کی ترقیم کے مطابق مکرر چھوڑ کر 3033 حدیثیں ہیں اور ابو الفضل احمد بن سلمہ کے مطابق مکرر سمیت بارہ ہزار ہیں۔ (التقیید والایضاح ص 27)
حافظ ابن حجر مزید لکھتے ہیں:
جميع ما في الجامع من الاحاديث بالمكرر موصولا و معلقا وما في معناه من المتابعات تسعة آلاف واثنان و ثمانون حديثا فمن ذلك المعلق وما في معناه من المتابعة مائة و ستون حديثا والباقي موصول وجميع ما فيه موصولا و معلقا بغير تكرار الفان وخمس مائة وثلاث عشر حديثا
"اور جامع کے اندر تمام ایسی مکرر حدیثیں جو موصول، معلق یا متابعات سے ہوں کل 9280 حدیثیں ہیں اور اس میں سے معلق اور جو اس کے ہم معنی متابعات ہیں وہ ایک صد ساٹھ احادیث ہیں۔ باقی موصول ہیں اور تمام موصول و معلق احادیث بلا تکرار دو ہزار پانچ صد تیرہ احادیث ہیں۔"
پس یہ امام نووی کا وہم ہے کہ مکرر سمیت کل تعداد سات ہزار دو سو پچھتر ہے اور بغیر مکرر کے چار ہزار ہے۔
الجامع الصحیح میں آثار کی تعداد 1608 ہے۔
جامع صحیح بخاری کے شروح و حواشی
جامع صحیح کے جلیل القدر اور بلند معیار پر ہونے کا اندازہ اس سے بھی ہو سکتا ہے کہ سلف و خلف نے اس کی طرف کس قدر توجہ دی ہے۔ صحیح بخاری کے تراجم ابواب کی تشریح و تنقیح اور اصول کی تراجم سے مطابقت، تعلیقات بخاری کی تغلیق، شرح الغریب، اعراب تراکیب مشکلہ، احادیث کے متون اسانید پر تنقید، الغرض علماء نے کسی پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑا۔ حتیٰ کہ تفاسیر قرآن کی طرح صحیح بخاری پر بھی جتنا کچھ آج تک لکھا جا چکا ہے اور لکھا جا رہا ہے اس کا اندازہ نہایت دشوار ہے۔ علماء نے شروح و حواشی کی کثرت پر حیرت و استعجاب کا اظہار کیا ہے۔ ذیل میں ہم خاص طور پر ان شروح کا ذکر کریں گے جن سے حافظ ابن حجر اور علامہ عینی نے استفادہ کیا ہے۔
امام بخاری 256ھ میں بعمر 62 سال فوت ہوئے۔ ان کے قلمبند خاص محمد بن یوسف فربری نے الجامع للبخاری کا نسخہ مرتب کیا ہے جو امام بخاری سے تین مرتبہ سماع کیا اور اس میں اپنی طرف سے بعض فوائد کا اضافہ کیا ہے بعض مقامات پر امام بخاری کے مقالات سے اپنے نسخہ کو مزین کیا۔ یہ صحیح بخاری کی پہلی خدمت ہے جو مدارس اسلامیہ میں متداول ہے۔ اس کے بعد ان مستخرجات کا نمبر ہے جو صحیحین یا صحیح بخاری پر تالیف کی گئیں۔ گزشتہ صفحات میں ان کا تعارف گزر چکا ہے۔ ان کے بعد شروح و حواشی کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جو ترتیب زمانی کے لحاظ سے مندرجہ ذیل ہیں۔
(1) اعلام السنن للخطابی رحمہ اللہ
علامہ خطابی کا نام حمد والد کا نام محمد اور ابو سلیمان کنیت ہے۔ آپ 309ھ کو پیدا ہوئے، سلسلہ نسب زید بن الخطاب تک پہنچتا ہے۔ اس لیے نسبت "الخطابی" ہے۔ بعض نے ان کا نام احمد بن محمد نقل کیا ہے اور النجوم الزاھرہ میں بھی احمد مرقوم ہے۔ علامہ ذہبی نے اس کو وہم قرار دیا ہے۔ حموی نے معجم البلدان اور الادباء میں بھی "حمد" کو ترجیح دی ہے۔ ابن خلکان رحمہ اللہ نے بھی حمد ہی لکھا ہے۔ علامہ خطابی کو ابن الاعرابی اور اسماعیل بھی محمد الصغار اور ابن داستہ اور ابو العباس الاصم سے سماع حاصل ہے۔ مدت دراز تک نیشاپور میں مقیم رہے، وہاں پر غریب الحدیث، معالم السنن، شرح السنن لابی داؤد کے علاوہ اعلام السنن شرح الجامع الصحیح تالیف کی۔ 388ھ کو فوت ہوئے۔
معالم السنن کے بعد بلخ میں لوگوں کے تقاضا پر یک جلدی شرح لکھی۔ علامہ محمد تمیمی نے اس پر استدراک لکھا اور کچھ اضافے بھی کئے ہیں۔
(2) شرح المھلب بن ابی صفرہ المتوفی 435ھ
ابی صفرہ کا نام احمد بن اسید ہے اور مھلب کی کنیت ابو القاسم، نسبت الاسدی المیتمی ہے۔ آپ مغربی اندلس کے راسخین فی العلم میں شمار ہوتے اور فقہ و حدیث میں ممتاز، ابن فرحون لکھتے ہیں
صحب الاصيلي و تفقه معه وكان صهره
اصیلی کے علاوہ موصوف نے ابو الحسن القابسی، ابوذر الھروی، یحییٰ بن محمد الطحان اور ابو جعفر وغیرھم سے سماع کیا۔ ابو الاصبغ بن سھل لکھتے ہیں
موصوف علامہ الاصیلی کے کبار اصحاب سے تھے اور انہی کی وجہ سے اندلس میں صحیح بخاری کا احیاء ہوا کیونکہ موصوف نے تاحیات تفقہ و بحث سے الجامع کا درس دیا اور پھر اس کی شرح بھی لکھی اور اس شرح کا اختصار کر کے اس کا نام "الصحیح فی اختصار الصحیح" رکھا۔ اس اختصار پر ان کی تعلیقات شرح بخاری کے سلسلہ میں نہایت مفید سمجھی جاتی ہیں۔
ان سے ابن المرابط، ابو عمر ابن الخداء، ابو العباس (18) اور حاتم بن محمد نے سماع کیا۔ سنہ 433ھ میں وفات پائی۔ (19)
(3) شرح ابن المرابط
شارح کا پورا نام ابو عبداللہ محمد بن خلف بن سعید بن وھب الاندلسی المریی اور ابن المرابط کے عرف سے معروف ہیں۔ موصوف نے شرح المھلب کا اختصار کیا اور اس پر اضافے کئے۔ صاحب ہدیۃ العارفین لکھتے ہیں کہ آپ کی تالیفات میں "تاریخ بلنسیہ" اور "مختصر شرح المھلب" ہے۔
اور الصلہ ابن بشکوال میں ہے
وله تاليف في شرح البخاري سمع منه ۔۔۔
ابن المرابط نے ابو القاسم المھلب، ابو الولید بن میقل سے سماع حدیث کیا اور طلبہ کے لئے مرجع بنے رہے۔ چنانچہ ان سے ابو عبداللہ بن عیسیٰ تمیمی، ابو علی بن سکرۃ اور ابو محمد بن ابی جعفر البستی وغیرھم نے حدیث اخذ کی اور سنہ 485ھ کو بڑی عمر میں وفات پائی۔ ترجمہ کے لئے مراجع مذکورۃ الذیل ملاحظہ ہوں (الصلہ 2/557، معجم البلدان 5/119، العبر 3/308، الوافی 3/46، الدیباج لابن فرحون 273، ہدیۃ العارفین 2/76، النبلاء 19/66)
(4) ابو الاصبغ شارح بخاری
پورا نام اور نسبت حسب ذیل ہے عیسیٰ بن سھل بن عبداللہ الاسدی الجیانی المالکی (486ھ) قرطبہ میں حاتم الطرابلسی سے فقہ حاصل کی اور محمد بن عتاب سے فقہ میں تخصص کیا۔ ابن القطان سے بھی علم اخذ کیا اور یحییٰ بن زکریا القلیعی اور قاضی ابن اسد الغلیغلی سے سماع کیا۔ بالآخر حافظ ابن عبدالبر سے اجازہ حاصل کیا۔
علامہ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں
ان سے قاضی ابو محمد بن منصور، قاضی ابراہیم بن احمد النصری اور ابن الجوزی نے سماع کیا اور ابو اسحاق بن جعفر نے ان سے فقہ میں اختصاص کیا۔ احکام میں ان کی ایک عمدہ کتاب "الاعلام بنوازل الاحکام" کے نام سے مشہور ہے۔ صاحب الصلہ لکھتے ہیں کہ "آپ کا شمار عظیم فقہاء اور کبار علماء میں ہوتا تھا اور آپ مذاہب رائے کے حافظ تھے"
ابن العماد حنبلی شذرات میں لکھتے ہیں
"آپ نے مہلب بن ابو صفرہ ازدی سے روایت کی اور صحیح بخاری کی شرح تالیف کی اور آپ مالکی مذہب میں ستون کی حیثیت رکھتے تھے۔
موصوف سنہ 485ھ میں فوت ہوئے۔ علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے تاریخ وفات 486ھ رقم کی ہے اور لکھا ہے کہ 73 سال کی عمر میں وفات پائی۔ حالات کے لئے
(الصلہ 2/438 بغیۃ الملتمس 403، العبر 3/311، الدیباج ص 181، شذرات 3/377، ھدیۃ العارفین 1/807، ترتیب ج 174، النبلاء ذہبی 19/25، الاحاطہ فی تاریخ غرناطہ)
(5) شرح ابن ورد تمیمی رحمہ اللہ
شارح کا پورا نسب نامہ یہ ہے
احمد بن محمد بن عمر یوسف بن ادریس بن عبداللہ بن ورد تمیمی (المتوفی 540ھ)
اندلس کے شہر "مریہ" کے رہنے والے تھے۔ کنیت ابو القاسم اور ابن ورد کے نام سے معروف تھے۔ علامہ ملاحی لکھتے ہیں کہ آپ جلیل فقہاء محدثین سے تھے۔
اور ابن الزبیر نے لکھا ہے کہ
آپ ادب، نحو اور تاریخ میں اعلیٰ ذوق کے حامل، علم اصول اور تفسیر میں بلند مقام رکھتے تھے اور مذہب مالک میں آپ پر علمیت تمام تھی۔ علاوہ ازیں آپ نے ایک مجلس قائم کی تھی جس میں صحیحین پر بحث و مباحثہ ہوتا۔
اور الصلہ میں ہے
کہ آپ 465ھ کو پیدا ہو کر 540ھ کو رحلت فرما گئے اور آپ نے جامع بخاری پر ایک شرح بھی لکھی ہے۔
دیکھئے: الدیباج ص 41 و ہدیۃ العارفین 1/84 والاحاطہ فی تاریخ غرناطہ 1/175
(6) شرح ابن التین
عبدالواحد ابو محمد الصفاقبی المعروف بابن التین المتوفی 611ھ ان کی شرح بخاری معروف ہے اس کا نام ہے المنجد الفصیح فی شرح البخاری الصحیح علامہ قسطلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ میں نے اس کا مطالعہ کیا ہے۔
حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں اس سے استفادہ کیا ہے اور اکثر مقامات پر "وقال ابن التین" مرقوم ہے اور اس کے اوھام و اخطاء بیان کئے ہیں (ملاحظہ ہو نیل الابتہاج علی ھامش الدیباج 188)
(7) شرح ابو حفص عمر بن الحسن بن عمر بن عبدالرحمٰن الھوزنی الاشبیلی المحدث المالکی
اشبیلیہ کے رہنے والے تھے اور ھوزن، ذوالکلاع کے ایک بطن کا نام ہے۔ کبار فقہاء سے تھے اور متعدد علوم و فنون کے ماہر مانے جاتے۔ قاضی عیاض لکھتے ہیں کہ روایت حدیث اور فقہ پر دسترس کے ساتھ ساتھ اچھے اور بہترین اسلوب میں علوم قدیمہ پر بھی آپ کی بھرپور نظر تھی۔
یہ قاضی ابو عبداللہ الباجی کے تلمیذ تھے۔ حج کے دوران متعدد ممالک کے شیوخ سے سماع کیا اور اندلس میں ابو الولید الباجی شارح المؤطا سے متعدد مباحثے کئے۔ ان سے ان کے صاجزادے ابو الحسن نے سماع کیا اور ابو محمد بن ابی جعفر الفقیہ نے ان سے حدیث بیان کی۔ سنہ 460ھ میں مقتول ہوئے۔ ہدیۃ العارفین میں ہے
سنہ 392ھ کو تولد فرمایا اور 460ھ میں متقول ہوئے اور آپ کی تصانیف میں شرح بخاری بھی ہے۔
حاجی خلیفہ نے کشف الظنون میں العوزی الاشبیلی لکھا ہے جو محرف ہے۔ درست الھوزنی ہے جیسا کہ المدارک (4/825) اور ہدیہ العارفین (ج1 ص 282) میں ہے۔
(8) شرح ابن بطال
علامہ ابو الحسن علی بن خلف بن بطال البکری القرطبی المعروف بابن اللجام ابی عمر الطلمنکی۔ ابن عفیف، ابی المطرف القنازعی اور یونس بن مغیث سے حدیث اخذ کی۔ ابن بشکوال "الصلہ" میں لکھتے ہیں "آپ اصحاب علم و معرفت سے تھے اور آپ نے علم حدیث کا بھرپور اہتمام فرمایا اور مختلف سفروں میں صحیح بخاری کی شرح کی اور لوگوں نے آپ سے روایت لی ہے۔
علاوہ ازیں دیگر تالیفات بھی مشہور ہیں۔ امام ذہبی نے ان کی وفات 474ھ نقل کی ہے اور ترتیب المدارک میں 444ھ ہے۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ نے مزید لکھا ہے کہ موصوف مھلب بن ابی صفرۃ کے تلمیذ تھے اور مھلب بن ابی صفرۃ، الاصیلی کے۔ اور الاصیلی نے ابو زید المروزی سے الجامع الصحیح کا سماع کیا اور ابو زید نے فربری عن البخاری اس طرح ابن بطال اور امام بخاری کے درمیان صرف چار واسطے ہیں۔ نیز ابن فرحون لکھتے ہیں
"آپ سے علماء کی ایک جماعت نے حدیث بیان کی۔"
تفصیل کے لئے: ترتیب المدارک 4/827، الصلہ 2/414، العبر 3/219، الوافی 12/56، الدیباج ص 203، وشذرات 3/283 و شجرۃ النور الزکیہ 1/115
(9) شرح ابن المنیر الاسکندرانی المتوفی 688ھ
علی بن محمد بن منصور الجذامی الاسکندرانی زین الدین المعروف بابن المنیر
آپ محدث، فقیہ اور مالکی المذھب تھے۔ اسکندریہ کے قاضی رہے۔ ہدیۃ العارفین میں ہے "آپ کی تصانیف میں شرح بخاری و ابن بطال کے ساتھ ساتھ تراجم بخاری پر بھی "المتواری علی تراجم البخاری" کے نام سے شرح موجود ہے۔ ترجمہ کے لئے: الدیباج 2/133 حسن المحاضرہ 2/317 شجرۃ النور 1/188
ابن فرحون لکھتے ہیں کہ آپ نے اپنے بڑے بھائی ابن منیر سے فقہ کی تعلیم حاصل کی۔
ان کے بڑے بھائی ابن المنیر کا نام احمد بن محمد بن منصور بن ابی القاسم مختار بن ابی بکر الجذامی ہے جو کہ ابن المنیر الاسکندرانی المالکی القاضی کے نام سے معروف ہیں۔ ان کا لقب ناصر الدین اور کنیت ابو العباس ہے۔ 620ھ کو پیدا ہوئے اور 683 کو مقتول ہوئے۔ تصانیف میں "مناسبات تراجم البخاری" معروف ہے۔
ابن فرحون ان کے بھائی کے متعلق لکھتے ہیں
كان اماما بارعا في الفقه ورسخ فيه وفي الاصلين والعربية وله الباع الطويل في علم التفسير والقراءات
ابن قرمس نے ان کے مشیخہ کی تخریج کی ہے اور علامہ ابن الحاجب المالکی نے وہ نسخہ موصوف پر قراءت کیا ہے۔ یہ ابن الحاجب رحمہ اللہ کے خصوصی تلامذہ میں شمار ہوتے تھے (ابن فرحون ص 614 ص 18، والدیباج ص 345)
ابن المنیر نے کئی جلدوں میں بخاری کی شرح لکھی ہے جو بے مثل ہے (مناسبات تراجم البخاری) ترجمۃ الباب پر پہلے مشکل سوالات وارد کرتا ہے حتی کہ قاری محسوس کرتا ہے کہ اس کا جواب نہیں ہو سکتا پھر خود ہی جوابات دیتا ہے اس کے بعد فقہ الحدیث اور مذاہب علماء کی تفصیل ذکر کرتا ہے۔ موصوف مذہب مالکی میں مجتہد سمجھے جاتے تھے۔
(10) شرح ابو جعفر احمد بن نصر الداؤدی الاسدی (20)
مالکی ائمہ میں شمار ہوتے ہیں۔ فقیہ فاضل اور عمدہ تالیفات کے مالک تھے ان کی تالیفات میں "النصیحہ فی شرح البخاری الصحیحہ" معروف ہے۔ قاضی عیاض لکھتے ہیں کہ آپ نے اکیلے علم حاصل کیا اور اکثر علوم کسی بڑے امام سے نہیں سیکھے بلکہ اپنے عقل و ادراک سے اس مقام تک پہنچے ہیں۔
ان سے ابو عبدالعبونی اور ابوبکر ابن الشیخ ابی محمد بن ابی زید نے حدیث اخذ کی ہے۔ فتح الباری کے بغور مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بڑی مفید شرح ہے۔ صاحب سیرۃ البخاری لکھتے ہیں "شیخ الکل علامہ السید نذیر حسین دہلوی کے نسخہ عتیقہ پر شرح داؤدی سے حواشی مرقوم ہیں" ابو حاتم الطرابلسی لکھتے ہیں کہ "تلمسان" میں 402ھ کو وفات پائی۔
المدارک میں قاضی عیاض نے ان کی وفات 411ھ بھی نقل کی ہے۔ لیکن پہلی تاریخ وفات اصح ہے۔ ابن فرحون نے ان کے حالات ص 35 پر درج کئے ہیں۔
(11) شرح الحلبی
عبدالکریم بن عبد النور بن منیر الحلبی ثم المصری الحافظ قطب الدین، ابو علی ابن اخت الشیخ نصر المنبجی 664ھ میں پیدا ہوئے۔ سماع و روایت کا اعتناء کیا۔ العزالحرانی، غازی الحلاوی اور ابن خطیب المزۃ سے سماع کیا اور دمشق میں الفخر وغیرہ سے سماع کیا۔ حافظ ابن حجر لکھتے ہیں (الدرر الکامنہ ج2 ص 398)
واستكثر من الشيوخ جدا و كتب العالي والنازل وخرج لنفسه التساعيات والمتبانيات والبلدانيات وتلا بالسبع علي ابي الطاهر المليحی
موصوف نے مصر کی تاریخ جمع کی، بخاری شریف کی مبسوط شرح لکھنا شروع کی اور نصف کے قریب تبییض کی۔ ان کے شیوخ کی تعداد تقریبا ایک ہزار تین صد ہے۔ ان میں گیارہ اعلیٰ شیوخ ہیں جن کو ابن طبرزد وغیرہ سے روایت حاصل ہے۔ 735ھ کو وفات پائی۔ (الدرر الکامنہ ج 2 ص 398 تذکرہ 4/1502)
(12) شرح مغلطائی
مغلطائی بن قلیح بن عبداللہ البکجری الحنفی الحافظ علاؤ الدین تقریبا 689ھ کے بعد متولد ہوئے۔ (21) دبوسی اور احمد بن شجاع الھاشمی وغیرھم سے سماع کیا حافظ ابن حجر لکھتے ہیں (22)
واكثر جدا من القراءة بنفسه والسماع وكتب الطباق ۔۔۔ ولي مشيخة الظاهرية للمحدثين
"انطاہریہ" میں مدرس الحدیث رہے۔ حافظ ابن حجر مزید لکھتے ہیں
"انساب میں عمدہ معرفت رکھتے تھے مگر متعلقات حدیث میں متوسط تھے۔ تالیفات میں شرح البخاری (التلویح فی شرح الصحیح)، شرح ابی داؤد و شرح ابن ماجہ ہیں۔ آخری دونوں ناقص ہیں اور بھی بہت سی تالیفات ہیں۔ سنہ 762ھ میں فوت ہوئے۔
(13) مختصر شرح ابن قلیح
شارح کا نام احمد بن یوسف اور جلال الدین لقب ہے۔ التبریزی التبانی کی نسبت سے مشہور ہیں 793ھ میں فوت ہوئے۔ بعض نے اس کا اصل نام محمد بن القاضی شمس الدین احمد لکھا ہے دیکھئے: کشف الظنون 1/366، مقدمہ ارشاد الساری 1/35، مبارکپوری سیرت ص 90 والدرر الکامنہ 4/311۔ شوکانی لکھتے ہیں:
نسبة الي تبانة ظاهر القاهرة اختصر شرح مغلطائي علي البخاری (البدر الطالع ج1 ص 186، ہدیۃ العارفین 1/367) نیز شوکانی لکھتے ہیں حدیث سے محبت رکھتے، صحیح العقیدہ تھے۔ اتحادیہ اور مبتدعہ کے دشمن!
(14) شرح محمد بن یوسف بن علی الکرمانی ثم البغدادی المتولد 717ھ والمتوفی 786ھ
قاضی عضد الدین شیرازی کے بارہ سال مصاحب رہے اور محدث ناصر الدین الفارقی سے بخاری شریف کا سماع کیا اور "الکوکب الدراری" کے نام سے اس کی شرح لکھی۔ ایک جماعت نے شرح کا سماع کیا جن میں قاضی محب الدین البغدادی بھی ہیں۔ حافظ ابن حجر لکھتے ہیں (23) کہ مفید شرح ہے باوجود نقل میں بعض اوہام کے۔
شرح کرمانی مطبوع اور متداول ہے۔ مصنف نے اپنی شرح کے خطبہ میں ابن بطال، قطب حلبی اور مغلطائی کی شرح کے عیوب بیان کئے ہیں۔ (24) فی نفسہ یہ شرح نہایت مفید اور جامع فوائد و زوائد ہے۔ لائق مصنف نے اعراب نحویہ اور الفاظ مشکلہ غریبہ کا خوب حل کیا ہے۔ مؤلف نے مختصر ابن حاجب کی "السبع السیارۃ" کے نام سے شرح لکھی ہے کیونکہ سات شروح سے استفادہ کیا ہے۔
(15) شرح البخاری لتقی الدین یحییٰ بن محمد بن یوسف الکرمانی
اپنے والد کی شرح سے مدد حاصل کی ہے اور شرح ابن الملقن و زرکشی اور فتح الباری سے اضافے کئے ہیں۔
(16) شواھد التوضیح
شارح کا نام عمر بن علی بن الملقن اور سراج الدین لقب ہے۔ 804ھ میں وفات پائی۔ علامہ سخاوی لکھتے ہیں۔
اس شرح میں ابن الملقن کا زیادہ تر اعتماد اپنے شیخ مغلطائی کی شرح "تلویح" پر ہے جو بیس جلدوں میں اس کا پورا نام "الاعلام بفوائد عمدة الاحكام" ہے۔ ان کی شرح بخاری و دیگر شروح ہم مفصل لکھیں گے۔
(17) فتح الباری شرح الجامع الصحیح للبخاری
حافظ ابن حجر کی اس شرح کے متعلق مشہور ہے "لا ھجرۃ بعد الفتح" کہ فتح الباری کے بعد اب کسی شرح کی ضرورت نہیں ہے اور صحیح بخاری کا جو امت پر دین تھا، ادا ہو گیا۔ حاجی خلیفہ کشف الظنون میں لکھتے ہیں کہ اس کی شہرت اور انفرادیت کی وجہ اس کا حدیثی، ادبی نکات اور فقہی فوائد پر مشتمل ہونا ہے جو خاص اس کا ہی وصف ہے۔
مؤلف نے پہلے مقدمہ الشرح لکھا جس میں الجامع الصحیح کے تمام فنی پہلوؤں پر بحث کی۔ اس شرح کی ابتدا 817ھ میں بطور املاء کروائی اور 842ھ میں اختتام پذیر ہوئی۔ مؤلف ایک ہفتہ میں جو مواد جمع کرتے علماء کی مجلس میں اس کو پڑھ کر سنا دیا جاتا اور اس پر مناقشات اور مباحث ہوتے پھر علامہ ابن خضر پڑھ کر سناتے حتی کہ تہذیب و تنقیح کے بعد اس کو آخری شکل دے دی جاتی (25) بالآخر 842ھ میں اختتام کو پہنچ گئی پھر اس کے بعد تا دم زندگی مباحث کا الحاق ہوتا رہا۔ اس شرح کی اشاعت کے بعد جو بھی شارح آیا اس نے فتح الباری سے استفادہ کیا۔
اور پھر اس میں حک و اضافہ ہوتا رہا۔ علماء نے اس شرح کے کمال کے سبب کہا ہے "لا ھجرۃ بعد الفتح" اور ابن خلدون وغیرہ دوسرے محققین نے اس کی تعریف کی ہے اور اس شرح کے متعلق یہ مقولہ بھی مشہور ہے كل الصيد في جوف الفرا (الامام البخاری و صحیحہ ص 230) اور فھرس الفھارس میں ہے کہ اسلام میں کسی بھی کتاب حدیث پر شروح میں سے کوئی شرح ایسی نہیں لکھی گئی۔
الغرض یہ شرح اپنے ماخذ کے لحاظ سے بھی بے نظیر ہے اور اس سے حافظ ابن حجر کے ذاتی کتب خانہ کی بھی نشان دہی ہوتی ہے۔ بعض علماء نے فتح الباری کے ماخذ جمع کئے ہیں اور فتح الباری سے جتنی شروح لکھی گئی ہیں مؤلف نے ان کو سامنے رکھا ہے۔ ان مصادر و ماخذ کی تعداد 1430 ہے جو حروف تہجی کی ترتیب سے جمع کئے گئے ہیں اور وہ بھی جو غیر منسوب ہیں۔ معجم المؤلفات ابو عبیدۃ مشھور بن حسن اور ابو حذیفہ صبری میں ان کی تفصیل دیکھی جا سکتی ہے۔
(ii) حافظ ابن حجر نے صحیح بخاری کے سلسلہ میں فتح الباری کے علاوہ دیگر مفید کتابیں تالیف کی ہیں۔ ان میں سے ایک تغلیق التعلیق ہے جسے فتح الباری کی تکمیل کنندہ کتاب کہنا بجا ہے پھر اس تغلیق کو مختصر کر کے اس کا نام "الشویق الی وصل المہم من التعلیق" رکھا جس میں اسانید کو حذف کر دیا۔ اس مختصر کا وجود نہیں ملتا۔ اس سلسلہ کی ایک تیسری کتاب التوفیق کے نام سے تالیف کی اس میں صرف ان احادیث کو جمع کیا جو صحیح بخاری میں معلق ہی آئی ہیں
(تدریب الراوی 1/118) یہ بھی ناپید کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔
(iii) الکنت (26) علی صحیح البخاری: شیخ سعید القرقی اپنے وراستہ میں لکھتے ہیں
توجد منه نسخة في مجلد بقلم معتاد قديم بادلها وقف تاريخه سنه (196ه) وبها خرم و آثار رطوبة في (161 ورقه) في مكتبة الازهر تحت رقم (295) 2228 عام (فهرسة الازهر 1/634)
(vi) ھدی الساری: یہ 813ھ میں مکمل ہوئی جو شرح کے جمیع مقاصد پر حاوی ہے اور دس فصول پر مرتب ہے۔ خطبہ میں مؤلف اس کی غرض بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ میں نے ضروری سمجھا کہ شرح سے پہلے ایک مقدمہ لکھوں جو اس کے تمام مقاصد پر حاوی ہو اور دس فصلوں میں اس کے جملہ مباحث کو سمیٹ لوں۔
(18) عمدۃ القاری شرح الجامع للبخاری
شارح کا نام علامہ بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد العینی (805ھ) ہے۔ آپ حنفی المشرب اور حافظ ابن حجر کے معاصر تھے جبکہ حافظ ابن حجر شافعی المسلک اور فنون حدیث میں یگانہ روزگار تھے۔ بعض علماء محققین نے ان دو شروح میں موازنہ اور مقارنہ بھی کیا ہے۔
علامہ عینی نے فتح الباری سے استفادہ بھی کیا ہے۔ حاجی خلیفہ کشف الظنون میں لکھتے ہیں
"اس میں "فتح الباری" کو پھیلا دیا گیا ہے حتی کہ بعض اوقات مکمل کا مکمل صفحہ بھی نقل کیا گیا ہے۔ الخ"
یہ ضرور ہے کہ ان ہر دو شروح میں بعض امتیازات ہیں۔ علامہ عبدالسلام مبارکپوری سیرت بخاری میں لکھتے ہیں۔ "فتح الباری کاملین کے لئے مفید ہے" اور عینی طلبہ کے لئے فائدہ بخش ۔۔ مولانا عبدالحئی لکھنؤی لکھتے ہیں
فتح الباری، عینی پر تحقیق و تنقید کے لحاظ سے فائق ہے اور عینی کی شرح میں توضیح و تفصیل پائی جاتی ہے۔ انور شاہ فیض الباری میں لکھتے ہیں (27) کہ حافظ کی شرح صناعت حدیث اور حسن تقریر کے اعتبار سے تمام شروح میں افضل و اعلیٰ ہے اور شرح عینی کا جہاں تک معاملہ ہے تو الفاظ کی شرح اور تفسیر کے لحاظ سے زیادہ کامل ہے۔
تاہم عمدۃ القاری میں انتشار پایا جاتا ہے اور فتح الباری کی طرح اتقان و نظم نہیں ہے۔ اب رہے فوائد حدیثیہ تو اس باب میں عمدۃ القاری یتیم نظر آتی ہے اور اس سلسلہ میں متعدد مواضع کو بطور موازنہ پیش کیا جا سکتا ہے۔
علمائے ہند اور خدمت بخاری
الجامع الصحیح للبخاری کی علماء ہند نے بھی خدمت کی اور بہت سے حواشی اور شروح ترتیب دئیے۔ بعض شروح کا ذکر نزھۃ الخواطر اور الثقافتہ الاسلامیہ میں علامہ سید عبدالحئی الحسنی نے کیا ہے مثلا آزاد بلگرای کی شرح ضوء الدراری (19) شارح کا نام سید غلام علی الحسینی (المتوفی 1194ھ یا 1200ھ) اور تیسیر القاری (20) شرح بخاری للشیخ عبدالحق بن سیف الدین الدہلوی البخاری۔ ثقافتہ الہند اور ابجد العلوم میں اس کا تذکرہ ملتا ہے جو کہ فارسی میں ہے اور نواب محمود علی ریاست ٹونک کے اہتمام سے 1298ھ کو طبع ہوئی۔ اس کے حاشیہ پر شیخ محب اللہ البخاری دہلوی کی شرح بخاری (21) ہے۔ موصوف شیخ نور اللہ بن شیخ نور الحق بن شیخ عبدالحق کے فرزند ہیں اور شروح بخاری میں شرح السید عبدالاول جونپوری (22) بھی ہے جس کا نام بھی "فیض الباری" ہے۔ صاحب الثقافتہ الاسلامیہ نے اس کا ذکر کیا ہے اور سید عبدالحئی الحسنی نے بھی نزھۃ الخواطر میں "احد کبار الفقہاء الحنفیہ" لکھا ہے اور وفات 968ھ بتائی ہے۔ شرح شیخ نور الدین بن محمد صاحب الگجراتی بنام نور القاری (23) اور علی قاری نے "اعراب القاری علی اول باب البخاری" (24) تالیف فرمائی ہے۔
مولانا الحافظ احمد علی سہارنپوری جو کہ سہارنپور میں مدرسہ مظاہر العلوم کے بانی ہیں، انہوں نے صحیح بخاری پر ایک مبسوط (25) حاشیہ لکھا اور شروع میں ایک مقدمہ بھی ترتیب دیا۔ مولانا سہارنپوری، شاہ محمد اسحاق دہلوی المہاجر کے تلامذہ میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس حاشیہ کے ساتھ صحیح بخاری مطبع احمدیہ دہلی سے شائع کرنا شروع کی جو 25 پاروں تک ہے، اس کے بعد 5 پاروں پر مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کے حواشی (26) ہیں۔ مولانا احمد علی 1297ھ کو 72 سال کی عمر پا کر فوت ہوئے جبکہ مولانا محمد قاسم نانوتوی چند روز پہلے فوت ہو چکے تھے۔ مولانا نانوتوی اس زمانہ میں مطبعہ احمدیہ میں تصحیح کتب کے لئے ملازم تھے۔ یہ مطبعہ 1857ھ کے انقلاب کے بعد میرٹھ میں منتقل ہو گیا اور وہاں بھی موسس مطبعہ کی تصحیح سے بعض کتب شائع ہوئیں۔ دہلی میں صحیح بخاری کی طباعت 1264ھ کو شروع ہوئی اور 1270ھ میں مکمل ہوئی پھر 1281ھ کو مطبعہ احمدیہ میرٹھ میں شائع ہوئی۔
سید عبدالحئی الحسینی نے ثقافت اسلامیہ میں بعض دیگر شروح ہندی کا بھی ذکر کیا ہے۔ جن میں غایۃ التوضیح (27) شرح بخاری، شیخ محمد یعقوب بن الحسن الصرفی الکشمیری المتوفی 1003ھ و شرح (28) الشیخ عثمان بن عیسیٰ بن ابراھیم السندی برھانپوری و شرح (29) الشیخ طاہر بن یوسف السندی برھانپوری و شرح (30) الشیخ ابو یوسف یعقوب البیانی اللاہوری المتوفی 1098ھ المسمی "بخیر الجاری" و شرح الشیخ محمد اعظم (31) بن سیف الدین سرہندی (المتوفی 1114ھ) جس کا نام فیض الباری ہے۔
شروح بخاری میں حضرت النواب صدیق حسن خاں کی شرح المسمی بعون الباری (32) ہے جو کہ شیخ شھاب الدین ابو العباس احمد بن زین الدین الشرجی الزبیدی المتوفی 893ھ کی تجرید بخاری پر جس کا پورا نام التجرید الصریح لاحادیث الجامع الصحیح ہے۔ جیسا کہ نواب صاحب نے مقدمہ میں تصریح کی ہے۔ اس تجرید کی بعض دیگر علماء نے بھی شروح لکھی ہیں اور حضرت النواب نے اردو میں شرح ثلاثیات بخاری (33) بھی لکھی ہے جس کا نام "غنیۃ القاری" ہے اور فیض الباری (34) شرح بخاری شیخ جعفر بن محمد الحسینی کی ہے اور اغاثہ القاری (35) شرح ثلاثیات البخاری للشیخ یحییٰ بن امین العباسی الالہ آبادی نے تحریر کی ہے اور نظم اللائی شرح ثلاثیات البخاری (36) للشیخ عبدالباسط بن رستم علی قنوجی کی ہے اور تعلیق الملا علی القاری شرح ثلاثیات البخاری (37) المتوفی 1014ھ اور مولانا عبدالعزیز کیمل پوری نے نبراس الساری باطراف البخاری (38) ترتیب دی۔
علاوہ ازیں علمائے دیوبند کی تقاریر ہیں جو ان کے تلامذہ نے قلمبند کی ہیں۔ جن میں مولانا محمد حسن المکی اور مولانا محمد یحییٰ الکاندلوی 1334ھ اور مولانا محمد زکریا سہارنپوری شامل ہیں۔
حواشی صحیح بخاری میں حضرت میاں صاحب السید نذیر حسین دہلوی کے حواشی ہیں (39) جو قلمی ہیں۔ اور نسخہ عتیقہ (حضرت میاں صاحب) پر مرقوم ہیں۔ یہ نسخہ نہایت قیمتی تھا جو مولانا احمد علی سہارنپوری نے بھی حواشی بخاری کے ضمن میں عاریۃ لیا تھا۔ تاہم راقم الحروف کو اس کے متعلق کچھ علم نہیں۔ مولانا عبدالسلام نے اس نسخہ کا نام "حل صحیح بخاری" رکھا ہے۔
اور انور شاہ کی فیض الباری (40) تو متداول اور دروس میں اساتذہ کی زیر مطالعہ آتی رہتی ہے۔ علامہ قسطلانی نے "ارشاد الساری" (41) کے نام سے شرح صحیح بخاری لکھی ہے۔ جو مطبوع اور متداول ہے۔ اس کے متن کا نسخہ یونینی کا اصح ترین نسخہ ہے۔ علامہ قسطلانی نے اپنی شرح کا مقدمہ لکھا ہے جس میں نسخہ یونینی کی تصحیح و ترتیب کا ذکر کیا ہے اور راقم الحروف نے بخاری کے نسخوں کے سلسلہ میں اختصار سے سمو دیا ہے۔
علامہ قسطلانی کی ولادت 851ھ اور وفات 923ھ ہے۔ ان کی دیگر تالیفات بھی معروف ہیں۔ ان کے حالات البدر الطالع (1/102) الضوء اللامع (2/103) اور النور السافر (ص 113) میں مذکور ہیں۔ حافظ ابن حجر، علامہ عینی، کرمانی اور قسطلانی رحمہم اللہ کی شروح بخاری ایسی ہیں جن سے بعد کے شارحین نے خوب استفادہ کیا ہے۔
اعراب مشکلہ صحیح بخاری کے حل کے لئے شواھد التوضیح والتصحیح لمشکلات الجامع الصحیح (42) ملاحظہ کریں جس کے مصنف کا نام ابن مالک نحوی صاحب الالفیہ فی النحو (المتوفی 672ھ) ہے جو کہ نہایت مفید کتاب ہے۔
ابو الحسن علی بن ناصر الدین محمد بن محمد بن محمد المالکی نے معونۃ القاری (43) اور صیانۃ القاری (44) کے نام سے صحیح بخاری کی دو شروح لکھی ہیں۔ جب شرح الیونینی کی تصحیح الجامع اور اصولِ صحیحہ پر مقابلہ کے وقت ابن مالک نے اپنی یہ کتاب ترتیب دی جیسا کہ مقدمہ سے ظاہر ہے
نواب وحید الزمان حیدر آبادی المخاطب بہ نواب وقار نواب جنگ بہادر نے بھی حدیث کی خدمت کی ہے (45) جو نہایت مفید اور گراں بہا ہے۔ صحیح بخاری کا اردو ترجمہ مطلب خیز ہے اور تشریحات بھی ہیں مقدمہ میں نواب صاحب نے اپنا سلسلہ سنددس طرق سے امام بخاری تک پہنچایا ہے۔
شیخ ابو الحسن سندی نے بھی صحاح ستہ پر مفید تعلیقات لکھی ہیں۔ جو نہایت مفید ہیں ان میں صحیح بخاری پر بھی ایک مختصر حاشیہ (46) ہے جو بہت اہم ہے۔
صحیحین کے اطراف پر بہت سے علماء نے توجہ دی ہے اور اطراف ستہ کے علاوہ مستقل طور پر بھی اطراف جمع کئے گئے ہیں۔ الشیخ الحافظ ابو مسعود ابراہیم بن محمد بن عبیداللہ الدمشقی (المتوفی 400ھ) اور ابو محمد خلف بن محمد بن حمدون الواسطی المتوفی 401ھ دونوں نے صحیحین کے اطراف جمع کئے ہیں۔ حافظ ابن عساکر الدمشقی (571ھ) نے "الاشراف علی معرفۃ الاطراف" میں دونوں کا ذکر کیا ہے اور ابو نعیم احمد بن عبداللہ الاصفہانی المتوفی 517ھ نے بھی اطراف جمع کئے اور حافظ ابن حجر کی "النکت انطراف" نہایت عمدہ فوائد پر مشتمل ہے جو کہ علامہ عبدالصمد الکتبی نے تحفہ الاشراف للمزی کے ذیل میں ضم کر دی ہے۔ حافظ مزی المتوفی 742ھ کے اطراف کا ذہبی رحمہ اللہ نے اختصار لکھا ہے۔
علامہ بدر الدین زرکشی (794ھ) کی "التنقیح فی حل مشکلات الصحیح" نہایت مفید (47) ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس سے استفادہ کیا ہے اور قسطلانی نے شروح میں اس کا ذکر کیا ہے۔ حافظ ابن حجر لکھتے ہیں کہ آپ نے صحیح بخاری کی شرح شروع کی پھر اسے درمیان میں ہی چھوڑ دیا۔ بعد ازاں اس سے ایک جلد میں "تنقیح" کی تلخیص کی۔ (الدرر ج3 ص 351)
زرکشی کی اس تنقیح پر ابن حجر رحمہ اللہ نے "النکت" جمع کئے ہیں۔ علامہ قسطلانی لکھتے ہیں کہ حافظ ابن حجر کے اس پر نکات ہیں لیکن یہ پایہ تکمیل نہ پہنچ پائے۔
اور علامہ سیوطی نے بھی تنقیح زرکشی کی طرز پر مختصر تعلیق لکھی ہے (48) جس کا نام "التوشیح علی الجامع الصحیح" ہے۔ علامہ سیوطی رحمہ اللہ خود بھی مقدمہ میں لکھتے ہیں امیر المؤمنین کی صحیح پر یہ تعلیق باسم "توشیح" ہے اور یہ امام بدر الدین زرکشی کی "تنقیح" کی طرز پہ ہے اور اس میں فوائد سے کچھ اضافے ہیں۔
علامہ سیوطی نے اسی طرز پر صحاح ستہ پر حواشی لکھے ہیں۔ شرح مسلم پر حاشیہ کا نام الدیباج اور ابوداؤد پر مرقات الصعود الی سنن ابی داؤد اور ترمذی پر "قوت المغتذی علی جامع الترمذی" اور نسائی پر "زھر الربی علی المجتبیٰ" للنسائی اور ابن ماجہ پر بھی شرح لکھی ہے جس کا نام "مصباح الزجاجہ علی سنن ابن ماجہ" رکھا ہے۔ مگر ان تعلیقات میں سے صرف زہر الربی ہی مطبوع ہے جو طبع ہندی اور مصری دونوں پر ہے۔ پھر علامہ سید علی بن سلیمان المغربی المالکی نے تمام تعلیقاتِ ستہ کو مستقل رسائل کی شکل دے کر شائع کر دیا ہے اور ہر رسالہ کا نام سیوطی کے حواشی کی طرف اضافت کے ساتھ رکھ دیا ہے۔
(1) روح التوشیح (2) وشی الدیباج (3) درجات مرقاۃ الصعود (4) نفع قوت المغتذی (5) عرف زھر الربی (6) نور مصباح الزجاجہ
ہمارے بعض علماء ان حواشی کو مختصر رسائل سے اخذ کر کے اسے سیوطی کی طرف نسبت کر دیتے ہیں جو مبنی بر مسامحت ہے۔
عبداللہ بن سعد بن ابی جمرہ الازدی (المتوفی 675ھ) نے الجامع الصحیح سے تقریبا تین صد احادیث مختصر کر کے جمع کیں اور اس کا نام "جمع النہایہ فی بدء الخیر والغایہ" رکھا پھر "بہجتہ النفوس" کے نام سے اس کی شرح لکھی۔ کتب خانہ ولی الدین سلطان بایزید جامع شریفی واقعہ قسطنطنیہ میں اس کا نسخہ موجود ہے اور ابن الحاج نے المدخل میں اس سے مواد لیا ہے لیکن نقل مذہب میں یہ دونوں معتمد نہیں ہیں۔
علاوہ ازیں صحیح بخاری کی مختصرات بھی لکھی گئی ہیں جن میں بہترین مختصر علامہ شرجی الزبیدی کا ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے۔
علامہ ابو الحسن نور الدین محمد بن عبدالھادی السندی الکبیر الحنفی نزیل المدینہ المنورہ سندھ کے قصبہ تتہ میں پیدا ہوئے اور تحصیل علم کے بعد المدینہ المنورہ میں سکونت اختیار کر لی اور ابراہیم الکورانی وغیرہ سے اخذ علوم میں مشغول رہے۔ کتب ستہ پر ان کے حواشی مشہور ہیں مگر ترمذی پر حاشیہ غیر مکمل ہے اور مسند احمد پر بھی حاشیہ لکھا ہے دیگر اصول اور فقہ میں کتابوں کے مؤلف ہیں۔ 1138ھ کو المدینہ المنورہ میں وفات پائی۔ دوسرے ابو الحسن السندی الصغیر ہیں جن کا نام محمد صادق ہے جو کہ شیخ محمد حیات السندی کے تلمیذ ہیں۔ موصوف نے جامع الاصول کی شرح لکھی ہے (28) اور حافظ دراز پشاوری نے (ملا حسن صدیقی پنجابی) مسخ الباری کے نام سے بخاری کی شرح لکھی ہے۔
حوالہ جات:
(1) فربری کے ترجمہ کے لئے الانساب 9/220، معجم البلدان 4/246، وفیات 4/290 العبر 2/183، تاج العروس (فربر)
(2) تاریخ بغداد 9/394 الاکمال 7/243، المشتبہ 1/33 لسان المیزان 6/100
(3) تاریخ بغداد 9/394، العبر 3/30، طبقات سبکی 3/305 شذرات 3/103
(4) النبلاء 15/259
(5) تاریخ بغداد 8/20
(6) دیباچہ فتح الباری
(7) حالات کے لئے: تاریخ بغداد 8/19، الانساب، المنتظم 6/327، تذکرۃ الحفاظ 3/824، العبر 2/222، الوافی 12/341، البدایہ 11/203، شذرات 2/326
(8) حالات کے لئے: تاریخ بغداد 8/19، الانساب، المنتظم 6/327، تذکرۃ الحفاظ 3/824، العبر 2/222، الوافی 12/341، البدایہ 11/203، شذرات 2/326
(9) فتح الباری دیباچہ
(10) تذکرہ 2/274، شذرات 2/218، النجوم 3/164، تہذیب ابن عساکر 2/200
(11) الموذن راوی صحیح البخاری عن حماد بن شاکر متوفی 380ھ
(12) حالات کے لئے: تاریخ بغداد 9/351، العبر 3/13، میزان الاعتدال 2/342، النجوم الزاھرۃ (حرف مٹے ہوئے ہیں صفحہ 86) شذرات 3/97 والنبلاء 1/396
(13) الاکمال 4/394، المشتبہ 1/377، والنبلاء 15/5 وفی حاشیۃ المراجع
(14) التقیید والایضاح
(15) النکت علی ابن الصلاح لابن حجر ج 1 ص 294-296
(16) محمد بن طاہر بن علی بن احمد المقدسی الشیبانی من حفاظ الحدیث لہ مؤلفات منھا اطراف الکتب الستہ مات سنہ 507ھ تذکرۃ ذہبی 4/1233
(17) حسین بن محمد بن احمد الجیانی من تلامذہ ابن عبدالبر کتابہ تقیید المھمل من اجود الکتب مات 498ھ
(18) ابو العباس بن دلھات الدلائی ابن عبدالبر المالکی النمری کے اصحاب میں شمار ہوتے ہیں۔
(19) ترجمہ: جذوۃ المقتبس ص 352، ترتیب المدارت (4/751) الصلہ لابن بشکوال 3/26، بغیۃ الملتمس 471، العبر 3/184، الدیباج 348، کشف الظنون 545، شذرات 3/255، ھدیۃ العارفین 4852، شجرۃ النور الزکیہ 1/114
(20) کشف الظنون میں ابو جعفر احمد بن سعید الداذدی مرقوم ہے لیکن الصواب مار قمناہ
(21) الوافی بالوضیات
(22) الدرر الکامنتہ ج 4 ص 352
(23) ج 4 ص 31-311
(24) الدرر ج 4 ص 311
(25) سیرت البخاری ص 221
(26) بعض نے لکھا ہے کہ النکت فتح الباری کا اختصار ہے جو حافظ ابن حجر نے خود کیا ہے مگر یہ صحیح نہیں کیونکہ حافظ ابن حجر کی یہ کتاب دراصل "نکت علی تنقیح الزرکشی" ہے دیکھئے راقم الحروف کا مقالہ "فتح الباری"
(27) فتح الباری 1/38
(28) سلک الدرر مرادی 4/66، عجائب الاثار فی التراجم والاخبار ج نمبر 1 ص 85، فہرس الضارس ج 1 ص 103