2

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

انسائیکلوپیڈیا آف قرآن
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے "الرد علی المنطقیین" میں لکھا ہے کہ شہر "حران" صائبین کا گھر تھا۔ یہ جگہ اس قوم کی منڈی تھی۔ ابراہیم علیہ السلام اسی جگہ پیدا ہوئے یا عراق سے چل کر یہاں آئے۔ یہاں بہت سے ستاروں کی مورتیاں بنتیں جسے زحل، مشتری، زہرہ، عطارد، قمر بلکہ "علت اولیٰ"، "عقل اول" اور "نفس کلیہ" کی بھی ہیکل (شکلیں) بنائی تھیں ان کا دین عیسائیوں سے پہلے تھا، پھر نصرانیت ان پر غالب آ گئی۔ کچھ صابی باقی رہے اتنے میں اسلام آ گیا یہ صابیہ اور فلاسفہ دولتِ اسلام میں آخر وقت تک باقی رہے۔ بغداد میں طبابت اور کتابت کا پیشہ کرتے تھے۔ فارابی 400ھ جب حران آیا تو اس نے یہاں کے فلاسفہ سے علم سیکھا تھا۔ اسی طرح اہل دمشق بھی عیسائیت کے ظہور سے پہلے صابی تھے قطب شمالی کی طرف نماز پڑھتے دمشق کی قدیم مساجد کا قبلہ اسی قطب کی جانب ہے۔ جامع دمشق کے نیچے اس قوم کا ایک بہت بڑا معبد تھا ان کی بھی دو قسمیں ہیں ایک حنیف (موحد) دوسرے مشرک۔
اللہ نے اسی آیت میں پہلی قسم کی تعریف فرمائی ہے۔ اس تغیر و تبدل سے پہلے تورات پر چلتے تھے۔ پھر انجیل پر چلے جو ان سے بھی پہلے تھے وہ ملتِ ابراہیمی کے تابع تھے مجوس اور مشرکین ان کے مخالفین رہے اسی لئے اللہ نے فرمایا
﴿إِنَّ الَّذينَ ءامَنوا وَالَّذينَ هادوا وَالصّـٰبِـٔينَ وَالنَّصـٰرىٰ وَالمَجوسَ وَالَّذينَ أَشرَكوا إِنَّ اللَّـهَ يَفصِلُ بَينَهُم يَومَ القِيـٰمَةِ إِنَّ اللَّـهَ عَلىٰ كُلِّ شَىءٍ شَهيدٌ ﴿١٧﴾... سورةالحج
"ترجمہ: جو لوگ مومن ہیں اور جو یہودی ہیں اور ستارہ پرست اور عیسائی اور مجوسی اور مشرک اللہ ان سب میں قیامت کے دن فیصلہ کرے گا۔ بےشک اللہ ہر چیز سے باخبر ہے۔
اس جگہ چھ ملتوں کا ذکر کیا۔ ان میں کسی مومن کا ذکر نہیں کیا، پھر یہ صائبین مشرک ہو گئے۔ فلاسفہ انہیں مشرکین میں سے ہیں۔ انہی فلاسفہ میں سے جو لوگ موحد تھے اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے وہ حنفاء صائبین میں سے تھے، جن کی اللہ نے تعریف کی اور جو صائبین مشرک ہوئے ان کی مثال عرب کے مشرکین کی مانند ہے، جن کا عقیدہ یہ تھا کہ یہ جہاں خود بخود پیدا ہو گیا ہے۔ مشرکین ہند کے بھی یہی نظریات ہیں۔ اہل مقالات نے لکھا ہے کہ ان مشرکین فلاسفہ میں سے عالم کے قدیم ہونے کا جو سب سے پہلا شخص قائل ہوا وہ ارسطو ہے۔ رہے فلاسفہ اسلام جیسے ابن سیناء وغیرہ ان کا حال بھی صائبین مشرکین کے مانند تھا ان کو علوم بھی صائبین کے مذموم فنون سے ماخوذ ہیں۔ اسی لئے علمائے اسلام نے ان کو ملحدین میں شمار کیا ہے۔ اس آخری زمانہ میں جب قیامتِ کبریٰ نزدیک معلوم ہوتی ہے سرزمین ہند میں دہریت کا زور و شر ہے، اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں مگر درپردہ اسلام کی جڑیں کاٹتے ہیں۔
آیت نمبر 63، 64
﴿وَإِذ أَخَذنا ميثـٰقَكُم وَرَفَعنا فَوقَكُمُ الطّورَ خُذوا ما ءاتَينـٰكُم بِقُوَّةٍ وَاذكُروا ما فيهِ لَعَلَّكُم تَتَّقونَ ﴿٦٣﴾ ثُمَّ تَوَلَّيتُم مِن بَعدِ ذٰلِكَ فَلَولا فَضلُ اللَّـهِ عَلَيكُم وَرَحمَتُهُ لَكُنتُم مِنَ الخـٰسِرينَ ﴿٦٤﴾... سورة البقرة
ترجمہ
"اور جب ہم نے تم سے عہد لیا اور کوہِ طور تمہارے اوپر بلند کیا اور حکم دیا کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے اسے مضبوطی سے پکڑے رکھو اور جو اس میں (لکھا ہے) اسے یاد رکھو تاکہ (عذاب سے) محفوظ رہو۔
پھر تم اس عہد سے پھر گئے اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی تمہارے شاملِ حال نہ ہوتی تو تم خسارے میں پڑ گئے ہوتے۔"
تشریح
جب تورات نازل ہوئی تو کہنے لگے کہ ہم سے اتنے حکم نہیں مانے جاتے تب اللہ نے پہاڑ سروں پر بلند کیا گویا ان کے اوپر گر پڑے گا، پھر ڈرتے ہوئے مان گئے جیسے قرآن میں ہے
﴿وَإِذ نَتَقنَا الجَبَلَ فَوقَهُم كَأَنَّهُ ظُلَّةٌ وَظَنّوا أَنَّهُ واقِعٌ بِهِم خُذوا ما ءاتَينـٰكُم بِقُوَّةٍ وَاذكُروا ما فيهِ لَعَلَّكُم تَتَّقونَ ﴿١٧١﴾... سورةالاعراف
ترجمہ
"اور جب ہم نے ان (کے سروں پر) پہاڑ اٹھا کھڑا کیا گویا وہ سائبان تھا اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ ان پر گرنے والا ہے تو (ہم نے کہا) جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑے رہو، جو اس میں لکھا ہے اس پر عمل کرو تاکہ بچ جاؤ۔"
"طور" سے مراد
طور سے مراد ایک پہاڑ ہے۔ سورہ اعراف میں بھی اسی معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین رحمۃ اللہ علیہم کی جماعت نے یہی معنی لئے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے "طور" وہ پہاڑ ہے جو کچھ اُگاتا ہو، جس میں کچھ پیدا نہ ہوتا ہو وہ طور نہیں ہے۔ طور اس پہاڑ کا نام بھی ہے جس پر اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام سے ہم کلام ہوئے۔ تورات اتری تو اس پہاڑ کو ان کے سروں پر اٹھایا گیا گویا وہ ان پر گر پڑے گا۔ بعض کا قول یہ ہے کہ سریانی زبان میں ہر پہاڑ کے لئے "طور" کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ جو پہاڑ ان کے سروں پر اٹھایا گیا، فلسطین کے پہاڑوں میں سے ایک تھا۔ حدیث الفتون میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ہے کہ جب بنی اسرائیل نے اطاعت سے انکار کیا تو پہاڑ ان کے سروں پر اٹھایا گیا تاکہ سنیں اور اطاعت کریں۔ سدی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ان کو حکم دیا تھا کہ سجدہ کریں انہوں نے انکار کیا پھر پہاڑ ان کے سروں پر اٹھایا گیا بدحواس ہو کر سجدے میں گر پڑے لیکن ایک جانب سے پہاڑ کو دیکھتے جاتے تھے کہ کہیں ان پر گر نہ پڑے۔ اللہ نے رحم کیا پہاڑ کو ہٹا لیا تو انہوں نے کہا سب سے محبوب یہی سجدہ ہے جس کے سبب سے عذاب دور ہو گیا اس لئے اب تک وہ سجدہ کرتے ہیں۔
حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ "ما ءاتَينـٰكُم " سے مراد تورات ہے یعنی اسے پکڑے رہو۔ ابو العالیہ رضی اللہ عنہ نے کہا "قوت" سے مراد اطاعت ہے۔ مجاہد رضی اللہ عنہ نے فرمایا "عمل" ہے اور قتادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا "کوشش اور اطاعت" مراد ہے۔ "وَاذكُروا " سے مراد جو کچھ اس میں لکھا ہے اس کو پڑھو سمجھو اور اس پر چلو ۔۔۔ لیکن بنی اسرائیل اس مضبوط عہد و پیمان کے بعد اپنے اقرار سے پھر گئے مگر اللہ نے ان کی توبہ قبول کی، انبیاء اور رسول بھیجے ورنہ وہ دنیا و آخرت دونوں کو برباد کر چکے تھے۔ بعض علماء نے کہا اگر پہلی بار مان لیتے تو اس عہد و پیمان کی ضرورت نہ ہوتی، ابن عطیہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا، اللہ نے سجدے کے وقت ان کے دلوں میں ایمان پیدا کر دیا تھا یہ بات نہیں ہے کہ زبردستی ایمان لائے ہیں اور دل مطمئن نہ ہوں۔ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، بنی اسرائیل کا یہ اقرار و اعتراف مصنوعی تھا، قواعدِ مذہبی کی پابندی نے مجبورا ان سے یہ بات کہلوائی ورنہ ہر عاقل جانتا ہے کہ اس سے زیادہ اِکراہ (جبر) اور کیا ہو گا کہ ایک پہاڑ لا کر سر پر کھڑا کر دیا جائے، کہ مانتے ہو تو مانو ورنہ یہ تم پر گر پڑے گا۔ بعض مفسرین نے یہ لکھا ہے کہ سامنے سے آگ آئی پیچھے دریا تھا اور اوپر پہاڑ تھا۔ ہمارے رائے تو یہی ہے کہ اللہ نے ان پر جبر کیا، وہ زبردستی ایمان لائے، اس ایمان پر اللہ نے ان سے عذاب کو اٹھا لیا۔ یہ ویسی ہی بات ہے جیسا کہ ہماری شریعت میں یہ امر ثابت ہو چکا ہے کہ جب کوئی منہ سے کلمہ طیبہ کا اقرار کر لے تو اس پر تلوار نہ چلاؤ، ہاتھ کھینچ لو، جہاں تک ہاتھ اونچا ہوا ہے وہیں تک روک لو۔ صحیح بخاری میں ہے کہ ایک شخص نے کلمہ طیبہ کا اقرار کیا دوسرے نے اسے مار ڈالا، پوچھا گیا تو اس نے کہا اس نے جان بچانے کے لئے کلمہ پڑھا ہے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا تو نے اس کا دل چیز کر دیکھ لیا ہے؟ مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ میں لوگوں کے دلوں کو چیر کر دیکھوں۔ رہی یہ بات کہ ﴿ لا إِكراهَ فِى الدّينِ﴾ اور ﴿أَفَأَنتَ تُكرِهُ النّاسَ﴾ تو یہ معاملہ حکمِ جہاد و قتال سے پہلے کا تھا پھر منسوخ ہو گیا۔ حدیث میں آیا ہے
"میں تمہارے درمیان دو اہم چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، جب تک تم ان سے چمٹے رہو گے ہرگز گمراہ نہ ہو گے ایک اللہ کی کتاب اور ایک میری سنت"
اسی طرح اور بہت سی احادیث میں قرآن و سنت سے تمسک اور ان کے اتباع کی تائید و تاکید آئی ہے۔ یہ بھی فرمایا کہ "انہیں اپنے دانتوں سے مضبوطی سے پکڑے رکھو۔ قرآن مجید میں اہل علم سے اس بات کا عہد لیا گیا ہے کہ تم قرآن کے احکام کو بیان کیا کرو، سو جس طرح بنی اسرائیل تورات پر عمل کرنے سے پھر گئے اسی طرح ایک مدت سے ان کا یہ طریقہ امتِ مسلمہ نے بھی اختیار کر لیا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تم اگلی امتوں کی قدم بقدم پیروی کرو گے۔ سو اصل تقلید یہود کے طریقے پر چلنا ہے۔ اس امت میں بھی یہ تقلید ایسی ہی آ گئی ہے کہ مہدی اور عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے سے پہلے اس کا دور ہونا محال نظر آتا ہے۔ جب سے یہ تقلید رائے اور قیاس امتِ مسلمہ نے پسند کر لی ہے اور تیرے میرے کہنے سننے پر قناعت کر کے بیٹھ گئے ہیں، قرآن کا پڑھنا، حدیث کا سمجھنا، کتاب پر چلنا اور سنت پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے، تب ہی سے اسلام "غریب" ہو گیا ہے مسلمانوں پر ادبار آ گیا اور یہود کی طرح ذلیل و محتاج ہو گئے﴿إِنّا لِلَّـهِ وَإِنّا إِلَيهِ رٰجِعونَ﴾
مسلمانوں کی یہ حالت ہو گئی ہے کہ جب تک بنی اسرائیل کے پہاڑ کی مانند کسی امام مہدی، ہادی یا نبی برحق کا کوڑا ان کو نہ لگے گا تب تک یہ اپنے عہد پر نہ چلیں گے۔ سیرۃ مہدی میں آیا ہے کہ کتاب و سنت کو زندہ اور تقلید و اطاعت کا خاتمہ کریں گے۔ پس جب کبھی ان مقلدین و مبتدعین کے سروں پر ان کی تلوار چمکے گی پھر یہ بھی مثل یہود بے بہود کے توبہ کریں گے، راہِ راست پر آ جائیں گے۔ ابھی تو نبی اسرائیل کی مانند اپنی جہالت، حماقت، ضد اور عناد پر پر جمے ہوئے ہیں اور اہل حق کا رد کرتے ہیں، ابطالِ حق اور باطل کو حق ثابت کرنے پر مستعد ہیں، مگر ان ظالموں کو بہت جلد معلوم ہو گا کہ اہل حق کامیاب ہوتے ہیں یا اہل باطل!!!
آیت نمبر 65، 66
﴿وَلَقَد عَلِمتُمُ الَّذينَ اعتَدَوا مِنكُم فِى السَّبتِ فَقُلنا لَهُم كونوا قِرَدَةً خـٰسِـٔينَ ﴿٦٥﴾ فَجَعَلنـٰها نَكـٰلًا لِما بَينَ يَدَيها وَما خَلفَها وَمَوعِظَةً لِلمُتَّقينَ ﴿٦٦﴾... سورة البقرة
ترجمہ
"اور تم ان لوگوں کو خوب جانتے ہو جو تم میں سے ہفتے کے دن (مچھلی کا شکار کرنے) میں حد سے تجاوز کر گئے تھے تو ہم نے ان سے کہا کہ ذلیل و خوار بندر ہو جاؤ
اور اس قصے کو اس وقت کے لوگوں کے لئے، اور جو ان کے بعد آنے والے تھے، باعثِ عبرت بنا دیا اور پرہیز گاروں کے لئے باعثِ نصیحت بنا دیا۔"
تشریح
یہ قصہ سورہ اعراف میں بھی ہے۔
﴿وَسـَٔلهُم عَنِ القَريَةِ الَّتى كانَت حاضِرَةَ البَحرِ إِذ يَعدونَ فِى السَّبتِ إِذ تَأتيهِم حيتانُهُم يَومَ سَبتِهِم شُرَّعًا وَيَومَ لا يَسبِتونَ لا تَأتيهِم كَذٰلِكَ نَبلوهُم بِما كانوا يَفسُقونَ ﴿١٦٣﴾... سورة الاعراف
ترجمہ
"اور ان سے اس گاؤں کا حال تو پوچھو جو لبِ دریا واقع تھا، جب یہ لوگ ہفتے کے دن کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے لگے (یعنی) اس وقت کہ جب ہفتے کے دن مچھلیاں ان کے سامنے پانی کے اوپر آتیں اور جب ہفتے کا دن نہ ہوتا تو نہ آتیں اس طرح ہم ان لوگوں کو ان کی نافرمانیوں کے سبب آزمائش میں ڈالنے لگے۔"
سعدی رحمۃ اللہ علیہ اور قتادہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ یہ گاؤں والے اہل ایلہ تھے ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ گاؤں ایلہ اور طور کے درمیان تھا اس کو "مدین" کہتے تھے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ عہد لیا تھا کہ تم سنیچر کے دن کی تعظیم کرو، اس دن مچھلی کا شکار نہ کرو۔ انہوں نے یہ طریقہ نکالا کہ ہفتے کے دن سے ایک روز قبل جال ڈال دیتے، حوض بناتے اور مچھلی اس میں پھنس کر رہتی تو رات کو پکڑ لیتے، اللہ کو غصہ آیا ان کو بندر بنا دیا۔ بندر شکل و صورت میں سب سے زیادہ انسان سے مشابہ ہے اگرچہ حقیقت میں حیوان ہے اسی طرح جبکہ ان کے اعمال اور حیلے ظاہر میں حق کے مشابہ تھے مگر باطن میں حق کے مخالف تو اللہ نے ان کو ویسی سزا دی جو ان کے جنسِ عمل کی تھی۔ مجاہد نے فرمایا کہ سچ مچ ان کی شکلیں بندر کی نہیں بنی تھیں بلکہ ان کے دل مسخ ہو گئے تھے اور یہ اسی طرح مثال ہے جیسے قرآن میں ہے
﴿كَمَثَلِ الحِمارِ يَحمِلُ أَسفارًا﴾ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجاہد کا یہ قول غریب اور آیت کے ظاہری سیاق و سباق کے خلاف ہے کیونکہ دوسری جگہ قرآن میں ہی فرمایا ﴿وَجَعَلَ مِنهُمُ القِرَدَةَ وَالخَنازيرَ﴾ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نوجوان لوگ بندر، اور بوڑھے سور بن گئے تھے۔ قتادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگوں کی دُم نکل آئی تھی پہلے وہ مرد اور عورت تھے اب بندر بن گئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ نے ان کی معصیت پر انہیں بندر بنا دیا تھا، تین دن زندہ رہے، کوئی مسخ صورت والا تین دن سے زیادہ زندہ نہیں رہتا۔ انہوں نے نہ کچھ کھایا، نہ پیا، نہ نسل چلی۔ اللہ نے بندر، سور ساری مخلوقات چھ دن میں بنائی ہیں اور اس قوم کو بھی بندر کی صورت تبدیل کر دیا۔ ان میں سے فقط وہ لوگ بچے جو قوم کو اس کام سے منع کرتے تھے ورنہ سب کے سب ہلاک ہو جاتے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ کا یہی خیال ہے کہ مسخ صوری اور معنوی دونوں طرح کا تھا۔
فتح البیان میں ہے کہ اس آیت میں امر کا صیغہ تغیر، تحویل اور تکوین کے لئے ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت کہ اس نے حقیقتِ بشر سے حقیقتِ بندر میں تبدیل کر دیا۔ مفسرین کی ایک جماعت کا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہودیوں کے تین فرقے بنے، ایک نے سنیچر کے دن مچھلی کا شکار کیا، اللہ کے حکم کی خلاف ورزی میں حد سے آگے بڑھ گئے، دوسرے فرقے نے واضح طور پر شکار سے منع کیا اور خود بھی شکار سے دور رہے، تیسرا فرقہ نہ شکار کرنے والوں میں اور نہ منع کرنے والوں میں تھا لیکن شکار کرنے والوں سے میل جول رکھتا تھا، دوسرے فرقے کے علاوہ اللہ نے سب کو مسخ کر دیا، یہ واقعہ حضرت داؤد علیہ السلام کے زمانے میں ہوا۔ جیسا کہ قرآن میں ہے۔
﴿لُعِنَ الَّذينَ كَفَروا مِن بَنى إِسرٰءيلَ عَلىٰ لِسانِ داوۥدَ وَعيسَى ابنِ مَريَمَ ذٰلِكَ بِما عَصَوا وَكانوا يَعتَدونَ ﴿٧٨﴾... سورة المائدة
ترجمہ
"جو لوگ بنی اسرائیل میں کافر ہوئے ان پر حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی یہ اس لئے تھا کہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کئے جاتے تھے۔"
دوسری جگہ فرمایا:
﴿وَلَقَد أَهلَكنا ما حَولَكُم مِنَ القُرىٰ وَصَرَّفنَا الـٔايـٰتِ لَعَلَّهُم يَرجِعونَ ﴿٢٧﴾... سورةالاحقاف
ترجمہ
"اور تمہارے ارد گرد کی بستیوں کو ہم نے ہلاک کر دیا اور بار بار (اپنی) نشانیاں ظاہر کر دیں تاکہ وہ رجوع کریں۔"
تیسری جگہ فرمایا:
﴿أَوَلَم يَرَوا أَنّا نَأتِى الأَرضَ نَنقُصُها مِن أَطرافِها ... ﴿٤١﴾... سورة الرعد
ترجمہ
"کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آئے ہیں۔"
پھر فرمایا:
﴿وَلا يَزالُ الَّذينَ كَفَروا تُصيبُهُم بِما صَنَعوا قارِعَةٌ...﴿٣١﴾... سورةالرعد
ترجمہ
"اور کافروں پر ہمیشہ ان کے اعمال کے بدلے آزمائش آتی رہے گی۔"
پھر فرمایا:
﴿أَفَلا يَرَونَ أَنّا نَأتِى الأَرضَ نَنقُصُها مِن أَطرافِها ...﴿٤٤﴾... سورة الأنبياء
ترجمہ
"کیا پس یہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں۔"
ان تمام آیات کا حاصل یہ ہے کہ اللہ نے بنی اسرائیل کو موجودہ لوگوں کے لئے باعثِ عبرت اور آئندہ آنے والوں کے لئے باعثِ نصیحت ٹھہرا دیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ نصیحت قیامت تک کے لئے ہے، حسن اور قتادہ نے کہا باعثِ عبرت اس لئے بنایا تاکہ لوگ اللہ کے عذاب سے ڈر کر معصیت سے بچیں۔ سدی رحمہ اللہ نے کہا یہاں متقین سے مراد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امتِ مطہرہ ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا متقین کے لئے یہ بات تنبیہ ہے کہ انہیں بھی اللہ کی نافرمانی سے بچنا چاہیے کہیں ایسا نہ ہو کہ جو آفت ان پر آئی تھی وہ ان پر بھی آ جائے۔
حدیثِ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ میں مرفوعا آیا ہے تم وہ کام نہ کرو جو یہود نے کیا تھا کہ معمولی حیلے بہانے سے حرام کو حلال ٹھہرا دیا (رواہ احمد)
جامی رحمہ اللہ نے فقہاء کے حیلوں بہانوں کا شکوہ خوب بیان کیا ہے، ابن قیم رحمہ اللہ نے اعلام المؤقعین میں بڑی تفصیل سے ان حیلوں کا رد بڑے مفصل انداز میں کیا ہے۔ اللہ نے اہل حدیث کو ہمیشہ حیلہ گری سے بچایا ہے اور بچاتا رہے گا۔
ما اہل حدیثیم دغار نشنا سیسم
صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
ترجمہ: میں اہل حدیث ہوں اور حدیث کے علاوہ کچھ نہیں جانتا۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میرے مذہب میں دجل و فریب کو کوئی دخل نہیں۔
آیت نمبر 67
﴿وَإِذ قالَ موسىٰ لِقَومِهِ إِنَّ اللَّـهَ يَأمُرُكُم أَن تَذبَحوا بَقَرَةً قالوا أَتَتَّخِذُنا هُزُوًا قالَ أَعوذُ بِاللَّـهِ أَن أَكونَ مِنَ الجـٰهِلينَ ﴿٦٧﴾... سورة البقرة
ترجمہ
"اور جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے وہ بولے کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو؟ (حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا) "میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ نادان بنوں"
بنی اسرائیل کی گائے
عبید سلمانی نے کہا بنی اسرائیل میں ایک شخص بانجھ تھا اس کے اولاد نہ ہوتی تھی مگر بڑا مالدار تھا، اس کا بھتیجا جو دولت کا وارث بنتا تھا اس نے اسے قتل کر دیا، پھر رات کو اس کی لاش اٹھا کر کسی اور شخص کے دروازے پر پھینک دی۔ صبح کو ان گھر والوں پر خون کا دعویٰ کر دیا۔ لوگ لڑنے مرنے پر تیار ہو گئے۔ ایک عقلمند آدمی نے کہا آپس میں خانہ جنگی نہ کرو، تمہارے درمیان حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ کے رسول موجود ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ حال سنایا، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، اللہ فرماتا ہے کہ تم ایک گائے ذبح کرو، وہ لوگ اعتراض نہ کرتے تو ایک ادنیٰ گائے کافی ہو جاتی لیکن ان کے حیلوں، بہانوں اور کٹ حجتیوں پر نوبت یہاں تک پہنچی جس کا اللہ نے اس جگہ ذکر کیا۔
ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس قصے کو حضرت عباس رضی اللہ عنہ ابو العالیہ اور سدی وغیرہ سے مختلف الفاظ میں نقل کر کے واضح کیا ہے کہ ان بیانات میں کسی قدر اختلاف ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ واقعہ بنی اسرائیل کی کتب سے ماخوذ ہے۔ سو اس کی نقل جائز، مگر نہ تصدیق ہو سکتی ہے اور نہ تکذیب! اسرائیلیات میں سے صرف وہی لائقِ اعتماد ہیں، جو قرآن و سنت کے موافق ہوں۔
(ف) ذبح بقرہ کا یہ واقعہ تلاوت میں مقدم ہے اور معنی میں آیت سے مؤخر ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وَإِذْ قَتَلْتُمْ نزول میں مقدم ہو اور ذبح کا حکم مؤخر ہو۔
آیت نمبر 68
﴿قالُوا ادعُ لَنا رَبَّكَ يُبَيِّن لَنا ما هِىَ قالَ إِنَّهُ يَقولُ إِنَّها بَقَرَةٌ لا فارِضٌ وَلا بِكرٌ عَوانٌ بَينَ ذٰلِكَ فَافعَلوا ما تُؤمَرونَ ﴿٦٨﴾... سورة البقرة
ترجمہ
"انہوں نے کہا (اے موسیٰ علیہ السلام) اپنے پروردگار سے التجا کیجئے کہ وہ ہمیں یہ بتائے کہ وہ گائے کس طرح کی ہے تو (موسیٰ علیہ السلام) نے کہا پروردگار فرماتا ہے کہ وہ گائے نہ تو بوڑھی ہو اور نہ بچھڑی، بلکہ ان کے درمیان (جوان) ہو۔ سو جیسا تم کو حکم دیا گیا ویسا ہی کرو۔
آیت نمبر 69
﴿قالُوا ادعُ لَنا رَبَّكَ يُبَيِّن لَنا ما لَونُها قالَ إِنَّهُ يَقولُ إِنَّها بَقَرَةٌ صَفراءُ فاقِعٌ لَونُها تَسُرُّ النّـٰظِرينَ ﴿٦٩﴾... سورة البقرة
ترجمہ
"انہوں نے کہا اپنے پروردگار سے درخواست کیجئے کہ ہمیں یہ بتائے کہ اس کا رنگ کیسا ہو۔ (حضرت موسیٰ علیہ السلام نے) کہا پروردگار فرماتا ہے اس کا رنگ گہرا زرد (پیلا) ہو، دیکھنے والوں کے دل کو خوش کر دیتی ہو۔"
آیت نمبر 70
﴿قالُوا ادعُ لَنا رَبَّكَ يُبَيِّن لَنا ما هِىَ إِنَّ البَقَرَ تَشـٰبَهَ عَلَينا وَإِنّا إِن شاءَ اللَّـهُ لَمُهتَدونَ ﴿٧٠﴾... سورة البقرة
ترجمہ
"انہوں نے کہا (اب کہ) پروردگار سے پھر درخواست کیجئے کہ وہ ہمیں بتائے کہ وہ گائے اور کس کس طرح کی ہو کیونکہ بہت سے گائیں ہمیں ایک دوسرے کے مشابہ معلوم ہوتی ہیں پھر اللہ نے چاہا تو ہمیں ٹھیک بات معلوم ہو جائے گی۔
آیت نمبر 71
﴿قالَ إِنَّهُ يَقولُ إِنَّها بَقَرَةٌ لا ذَلولٌ تُثيرُ الأَرضَ وَلا تَسقِى الحَرثَ مُسَلَّمَةٌ لا شِيَةَ فيها قالُوا الـٔـٰنَ جِئتَ بِالحَقِّ فَذَبَحوها وَما كادوا يَفعَلونَ ﴿٧١﴾... سورة البقرة
ترجمہ
"(حضرت موسیٰ علیہ السلام نے) کہا کہ اللہ فرماتا ہے وہ گائے محنت مشقت والی نہ ہو۔ نہ زمین جوتتی ہو، نہ کھیتی کو پانی دیتی ہو اور اس میں کسی طرح کا داغ دھبہ نہ ہو۔ کہنے لگے اب آپ نے سب باتیں درست بتا دیں (غرض) بڑی مشکل سے اس گائے کو ذبح کیا اور وہ ایسا کرنے والے نہیں تھے۔"
(ف) ان آیات میں اللہ نے بنی اسرائیل کی سرکشی بیان کی ہے کہ انہوں نے کثرتِ سوال سے رسول کو تنگ کر دیا، تو ویسے ہی اللہ نے ان پر تنگی کی۔ بنی اسرائیل اگر کوئی عام گائے پکڑ کر ذبح کر دیتے تو بات بن جاتی لیکن انہوں نے کٹ حجتیاں کیں تو ان پر سختی کی گئی۔ حدیث میں ہے اگر وہ ان شاءاللہ نہ کہتے تو قیامت تک اس گائے کا حل معلوم نہ ہوتا۔ (ابی حاتم)
"عَوانٌ بَينَ ذٰلِكَ " کا معنی "کبر اور صغر" کے درمیان قوت و حسن کی علامت ہے۔ حسن رحمہ اللہ نے کہا کہ یہ ایک جنگلی گائے تھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا جو شخص زرد جوتا پہنے گا، جب تک پہنے رہے گا خوش رہے گا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس گائے کے کُھر زرد تھے۔ ابن جبیر نے فرمایا بلکہ سینگ بھی زرد تھے۔ عطیہ رحمہ اللہ نے فرمایا زردی ایسی گہری تھی کہ سیاہی مائل تھی۔ مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا نہیں بلکہ صاف رنگ تھی، ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا معلوم ہوتا تھا کہ شدت زردی سے سفید ہو جائے۔ وہب بن منبہ رحمہ اللہ نے فرمایا تو اس کی کھال کو دیکھتا تو یوں خیال کرتا گویا سورج اس کی کھال سے نکلتا ہے۔ تورات میں اس گائے کو سرخ رنگ لکھا ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ ترجمے کی غلطی ہے حقیقت میں وہ زرد تھی اور شدت زردی سے "لال پیلی" نظر آتی۔ یہ جو فرمایا کہ اس میں کوئی داغ دھبہ نہ تھا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ ایک ہی رنگ کی تھی، سفید، سرخ یا سیاہ رنگ کا کوئی داغ دھبہ نہ تھا اور یہ جو فرمایا کہ وہ ذبح کرنے والے نہ تھے تو دراصل یہ ان کی مذمت بیان کی کہ باوجود سوال و جواب اور وضاحت کے بڑی مشکل سے انہوں نے ذبح کیا۔
بعض نے کہا کہ قیمت کے زیادہ ہونے کی وجہ سے ذبح کرنا نہ چاہتے تھے مگر یہ قول اسرائیلیات میں سے ہے۔ دراصل بات یہی ہے کہ اپنی سرکشی اور شرارت کی بنیاد پر گائے ذبح نہ کرنا چاہتے تھے۔ بعض نے کہا کہ وہ خود قول و فعل کے تضاد کا شکار تھے لیکن پہلا قول ہی اولیٰ ہے۔
(ف) اس آیت سے کئی حکم نکلتے ہیں، ایک یہ کہ حکم دینے والا خود اس عموم میں شامل نہیں ہوتا جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام حکم میں شامل نہ تھے۔ دوسرا حکم یہ ہے کہ گائے کا ذبح کرنا سنت، تیسرا یہ کہ حکم کا اجمالی طور پر بیان ہونا جائز ہے نیز بیان میں تاخیر روا ہے۔ چوتھا یہ کہ مذاق کرنے والے کو جاہل کہہ سکتے ہیں۔ پانچواں یہ کہ ان شاءاللہ کہنے سے احکام میں استثناء ہو جاتا ہے۔ چھٹا یہ کہ امر مستلزم مشیت نہیں ہوتا۔ ساتواں یہ کہ حکم فوری عمل کے لئے ہوتا ہے۔ آٹھواں یہ کہ (قربانی کا) جانور بے عیب ہونا چاہیے کہ جانور کا انتخاب اس کے وصف سے کیا جاتا ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں جانور کا بے عیب ہونا امام مالک رحمہ اللہ، امام اوزاعی رحمہ اللہ، امام لیث رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ، امام احمد رحمہ اللہ، اور جمہور علمائے سلف و خلف کا مذہب ہے۔ مگر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام ثوری رحمہ اللہ اسے شرط قرار نہیں دیتے۔
آیت نمبر 72، 73
﴿وَإِذ قَتَلتُم نَفسًا فَادّٰرَءتُم فيها وَاللَّـهُ مُخرِجٌ ما كُنتُم تَكتُمونَ ﴿٧٢﴾ فَقُلنَا اضرِبوهُ بِبَعضِها كَذٰلِكَ يُحىِ اللَّـهُ المَوتىٰ وَيُريكُم ءايـٰتِهِ لَعَلَّكُم تَعقِلونَ ﴿٧٣﴾... سورة البقرة
ترجمہ
"اور جب تم نے ایک شخص کو قتل کیا تو اس میں باہم جھگڑنے لگے لیکن جو بات تم چھپا رہے تھے اللہ اس کو ظاہر کرنے والا تھا۔
تو ہم نے کہا اس گائے کا کوئی ٹکڑا مقتول کو مارو، اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور تم کو اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھاتا ہے، تاکہ تم سمجھو۔" (البقرہ: 72، 73)
(ف) جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا۔ گائے کو ذبح کر کے اس کا ٹکڑا مقتول کی لاش پر رکھنے کا حکم دیا گیا تھا، اس طرح وہ زندہ ہو کر خود بتاتا کہ اسے کس نے قتل کیا ہے۔ پس وہ مردہ زندہ ہوا اور اس نے بتایا کہ ان وارثوں نے ہی مجھے مارا تھا۔
بخاری شریف میں ہے "ادّٰرَءتُم" کا معنی " اخْتَلَفْتُمْ " ہے اور مجاہد رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے، عطا خراسانی نے اختصمتم معنی کیا ہے۔ ابن جریج کہتے ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ بعض نے کہا تم نے مارا، دوسروں نے کہا نہیں بلکہ تم نے مارا۔ بہرحال گائے کا ایک ٹکڑا مقتول پر رکھا گیا۔ گوشت کے اس ٹکڑے کے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ کون سا حصہ تھا؟ ابن کثیر رحمہ اللہ نے بہت سے اقوال نقل کئے ہیں، پھر لکھا ہے کہ اس میں کسی عضو کا کوئی مسئلہ نہیں بلکہ یہ معجزہ ہے، اگر اس عضو کی تعیین میں کچھ فائدہ ہوتا تو قرآن و سنت میں اس کا ضرور ذکر آتا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا آیا ہے اگر کوئی شخص ایک ایسے ٹھوس پتھر کے اندر بھی کوئی کام کرے گا جس میں کوئی سوراخ نہ ہو تو وہ کام لوگوں پر ظاہر ہو جائے گا۔ مسیب بن رافع نے کہا کسی آدمی نے سات گھروں کے درمیان چھپ کر اگر کوئی اچھا کام کیا تو اللہ اسے ضرور ظاہر کر دے گا۔ اور کسی انسان نے اگر چھپ کر کوئی برا کام سات گھروں کے درمیان کیا، تو اللہ اسے بھی ظاہر کر دے گا۔
جیسے فرمایا ﴿وَاللَّـهُ مُخرِجٌ ما كُنتُم تَكتُمونَ ﴿٧٢" حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کسی انسان کی کوئی اچھی یا بری عادت ہو تو اللہ اسے ایک چادر پر ظاہر کرتا ہے جس سے وہ خصلت پہچانی جاتی ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین رحمۃ اللہ علیہم کی ایک جماعت نے اس کی تائید کی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اگرچہ یہ بات عام ہے مگر بالخصوص قتل و زنا اور سحر کسی طرح چھپ نہیں سکتا۔
(ف) ابن ابی حاتم نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ بنی اسرائیل نے چالیس برس تک گائے کو تلاش کیا پھر ایک شخص کے پاس پایا۔ کھال بھر کر سونا قیمت کے طور پر ادا کیا پھر اسے ذبح کر کے اس کا ایک حصہ مقتول پر رکھا وہ خون آلود اُٹھ بیٹھا۔ پوچھا گیا تجھے کس نے قتل کیا؟ اس نے کہا فلاں شخص نے۔ اللہ نے اس واقعہ کو آخرت کی دلیل ٹھہرایا۔ جس طرح مردہ زندہ ہو گیا اسی طرح اللہ سب مردوں کو قیامت کے دن زندہ کرے گا۔ ثابت ہوا قیامت کا آنا اور انسانوں کا دوبارہ زندہ ہونا برحق ہے اور اس کا منکر کافر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس سورہ میں مردوں کو زندہ کرنے کا ذکر پانچ جگہ فرمایا۔ ایک﴿ثُمَّ بَعَثنـٰكُم مِن بَعدِ مَوتِكُم﴾ ۔۔۔ دوسرا یہ قصہ ۔۔۔ تیسرا ﴿الَّذينَ خَرَجوا مِن دِيـٰرِهِم وَهُم أُلوفٌ حَذَرَ المَوتِ﴾ ۔۔۔ چوتھا ﴿أَو كَالَّذى مَرَّ عَلىٰ قَريَةٍ وَهِىَ خاوِيَةٌ عَلىٰ عُروشِها﴾ ۔۔۔ پانچواں قصہ حضرت ابراہیم کا چار پرندوں کو زندہ کرنا۔ اس طرح زمین کے زندہ کرنے کو اجسام کی مٹی ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کی دلیل ٹھہرایا۔
حضرت ابو رزین عقیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ مردوں کو کیونکر زندہ کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارا گزر کسی ویران جنگل سے نہیں ہوا، پھر اس سے دوبارہ گزرے ہو۔ تو اسے سرسبز پایا ہو۔ عرض کیا جی ہاں، فرمایا کہ اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کرے گا (ابوداؤد، الطیالسی)
اس حدیث کی تائید اس آیت سے بھی ہوتی ہے۔
﴿وَجَعَلنا فيها جَنّـٰتٍ مِن نَخيلٍ وَأَعنـٰبٍ وَفَجَّرنا فيها مِنَ العُيونِ ﴿٣٤﴾ لِيَأكُلوا مِن ثَمَرِهِ وَما عَمِلَتهُ أَيديهِم أَفَلا يَشكُرونَ ﴿٣٥﴾... سورة يٰس
ترجمہ
"اور ایک نشانی ان کے لئے مردہ زمین ہے کہ ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس میں سے اناج اُگایا پھر یہ اس میں سے کھاتے ہیں اور اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کئے اور اس میں چشمے جاری کئے تاکہ یہ ان کے پھل کھائیں اور ان کے ہاتھوں نے تو ان کو نہیں بنایا، تو کیا پھر یہ شکر نہیں کرتے؟"
اس بیان سے منکرین آخرت کا رد مقصود ہے، یہ رد اس بات کا متقاضی ہے کہ اس آیت کے مخاطب عرب ہوں نہ کہ یہود! کیونکہ یہود دوبارہ زندہ ہونے اور جزاء کے قائل ہیں۔ اس بنیاد پر یہ جملہ معترضہ ٹھہرے گا، جس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے بنی اسرائیل کے مقتول کو زندہ کر دیا اسی طرح سارے مردوں کو قیامت کے دن زندہ کریں گے ان دونوں معاملات میں باعتبار جواز و امکان کے کچھ فرق نہیں۔ یہ نمونہ اس لئے دکھایا گیا ہے کہ شاید تم اپنے آپ کو گناہوں سے پاک رکھو۔ در منثور میں سیوطی نے حضرت وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے گائے کا بڑا تفصیلی قصہ بیان کیا ہے، یہاں اس کے ذکر کی ضرورت نہیں اگر حدیث مرفوع ہوتی تو بیان کرتے۔ بعض نے یہ کہا کہ یہ آیت امام مالک کے مذہب پر دلالت کرتی ہے کہ زخمی کا قول کہ مجھے فلاں شخص نے قتل کیا ہے صحیح اور سچ مانا گیا ہے، اس لئے کہ جب اس مقتول نے زندہ ہو کر بتایا کہ میرا قاتل فلاں تھا تو اس کا یہ قول مقبول ٹھہرا۔ کیونکہ یہ حالت اس کی ایسی نہیں تھی کہ اس میں تہمت کی گنجائش ہو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی اس ترجیح پر دلالت کرتی ہے۔ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر پتھر سے کچل کر ہلاک کر دیا تھا، اس سے پوچھا گیا تجھے کس نے مارا؟ کیا فلاں فلاں نے مارا؟ تو جب یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے سر ہلایا۔ یہودی کو گرفتار کیا گیا، آخر اس نے اقرار کیا۔ امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں ایسے ثبوت کی صورت میں مقتول کے ورثاء قاتل سے بطورِ "قسامت" کے حلف لیں گے۔ جمہور کے نزدیک مقتول کا یہ بیان قتل کا ثبوت نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں مقتول کے بیان کا مسئلہ ابن قیم رحمہ اللہ نے کتاب طرق حکمیہ میں بڑی تفصیل سے لکھا ہے، جس کا کچھ خلاصہ کتاب "حسن المساعی" میں آ گیا ہے۔
آیت نمبر 74
﴿ثُمَّ قَسَت قُلوبُكُم مِن بَعدِ ذٰلِكَ فَهِىَ كَالحِجارَةِ أَو أَشَدُّ قَسوَةً وَإِنَّ مِنَ الحِجارَةِ لَما يَتَفَجَّرُ مِنهُ الأَنهـٰرُ وَإِنَّ مِنها لَما يَشَّقَّقُ فَيَخرُجُ مِنهُ الماءُ وَإِنَّ مِنها لَما يَهبِطُ مِن خَشيَةِ اللَّـهِ وَمَا اللَّـهُ بِغـٰفِلٍ عَمّا تَعمَلونَ ﴿٧٤﴾... سورة البقرة
ترجمہ
"پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے گویا وہ پتھر ہیں یا ان سے بھی زیادہ سخت اور پتھر تو بعض ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں اور بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وہ (خشیتِ الٰہی سے) پھٹ جاتے ہیں۔ اور ان میں سے پانی نکلنے لگتا ہے اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں۔"
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بھی بنی اسرائیل کو لتاڑا ہے کہ تم عجیب کمبخت اور نالائق ہو یہ ساری نشانیاں تم نے دیکھیں، مردے کا جی اٹھنا بھی دیکھا، اس پر بھی تمہارے دل موم نہ ہوئے بلکہ ایسے سخت دل ہو گئے جیسے پتھر
ع            موم سمجھے تھے ترے دل کو سو پتھر نکلا
اس لئے مومنین کو منع کیا تم ایسا کام نہ کرنا۔ فرمایا:
﴿أَلَم يَأنِ لِلَّذينَ ءامَنوا أَن تَخشَعَ قُلوبُهُم لِذِكرِ اللَّـهِ وَما نَزَلَ مِنَ الحَقِّ وَلا يَكونوا كَالَّذينَ أوتُوا الكِتـٰبَ مِن قَبلُ فَطالَ عَلَيهِمُ الأَمَدُ فَقَسَت قُلوبُهُم وَكَثيرٌ مِنهُم فـٰسِقونَ ﴿١٦﴾... سورة الحديد
ترجمہ
"کیا ابھی تک مومنین کے لئے اس کا وقت نہیں آیا کہ اللہ کی یاد کے وقت اور (قرآن) جو (اللہ) برحق (کی طرف) سے نازل ہوا ہے اس کے سننے کے وقت ان کے دل نرم ہو جائیں اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو ان سے پہلے کتابیں دی گئی تھیں پھر ان پر لمبا زمانہ گزر گیا تو ان کے دل سخت ہو گئے اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔"
ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب مقتول نے زندہ ہو کر کہہ دیا کہ مجھے میرے بھتیجوں نے قتل کیا ہے تو پھر وہ بدستور مردہ ہو گیا۔ اس وقت انہوں نے پھر انکار کیا کہ ہم نے نہیں مارا۔ معجزہ دیکھنے کے بعد یہ حق کا انکار تھا، اس لئے اللہ نے ان کو کہا کہ تمہارے دل تو پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو گئے ہیں کہ کسی طرح نہیں پسیجتے بلکہ تم نے تو پتھر کو بھی مات کر دیا کہ ان میں سے ندی بہتی ہے، کبھی کوئی پہاڑ اللہ کے خوف سے نیچے آ گرتا ہے لیکن تمہاری سختی ایسی ہے کہ اس کا کچھ علاج نہیں
﴿لَو أَنزَلنا هـٰذَا القُرءانَ عَلىٰ جَبَلٍ لَرَأَيتَهُ خـٰشِعًا مُتَصَدِّعًا مِن خَشيَةِ اللَّـهِ وَتِلكَ الأَمثـٰلُ نَضرِبُها لِلنّاسِ لَعَلَّهُم يَتَفَكَّرونَ ﴿٢١﴾... سورة الحشر
ترجمہ
"اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو آپ اس کو دیکھتے کہ اللہ کے خوف سے دبا اور پھٹا جاتا ہے۔"
معلوم ہوا پتھر کو بھی اللہ کا شعور اور ادراک ہوتا ہے، اللہ نے فرمایا:
ترجمہ
"ساتوں آسمان اور زمین اور جو لوگ ان میں ہیں سب اسی کی تسبیح کرتے ہیں اور (مخلوقات میں سے) کوئی چیز نہیں مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے، لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے۔"
(سورہ بنی اسرائیل: 44)
مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا ہر پتھر سے یا تو کوئی ندی نالہ نکلتا ہے یا ذرا سا پانی بہتا ہے یا اللہ کے ڈر سے پہاڑ سے نیچے گرتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض پتھر تمہارے دل سے زیادہ نرم ہیں کیونکہ تم تو اللہ کے حکم کو بھی نہیں مانتے اور وہ تو اللہ کا حکم مانتے ہیں۔
﴿يـٰجِبالُ أَوِّبى مَعَهُ وَالطَّيرَ وَأَلَنّا لَهُ الحَديدَ ﴿١٠﴾... سورة سبا
ترجمہ
"اے پہاڑو! ان کے ساتھ تسبیح کرو اور پرندوں کو ان کا (مسخر) کر دیا اور ان کے لئے ہم نے لوہے کو نرم کر دیا۔"
جیانی کا یہ قول کہ پتھر کے گرنے سے مراد ژالہ باری ہے بعید از قیاس ہے۔ امام رازی اور امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے بھی اسے بعید از قیاس سمجھ کر قرآن کے ظاہری الفاظ سے خروج کے مترادف بتایا ہے۔ اتنے پتھروں کا پہاڑوں پر سے گرنا بہت سے لوگوں نے دیکھا، خبر متواتر سے سنا ہے پھر اس کا انکار کرنا یا تاویل کرنا جائز نہیں۔ قرآن مجید کے الفاظ حجت ہیں اور ظاہر الفاظ کا اتباع فرض ہے۔ یحییٰ بن یعقوب نے فرمایا ندی سے مراد زیادہ رونا ہے، پانی بہنے سے مراد کم رونا ہے اور پتھر کے گرنے سے مراد بغیر آنسوؤں کے دل کا رونا ہے۔ بعض نے کہا کہ یہ اسناد دس طرح سے مجازی ہیں، جس طرح دیوار کے حق میں ارادہ کا ذکر کیا۔
﴿فَوَجَدا فيها جِدارًا يُريدُ أَن يَنقَضَّ فَأَقامَهُ ...﴿٧٧﴾... سورة الكهف
"انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو "جھک کر" گرنا چاہتی تھی تو (خضر نے) اس کو سیدھا کر دیا۔"
مگر رازی اور قرطبی نے کہا اس کی کچھ ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ قادر ہے پتھر میں یہ صفت پیدا کر سکتا ہے۔ جیسے اس کا فرمان ہے
"ہم نے (بار) امانت کو آسمانوں اور زمین پر پیش کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے۔" (سورہ احزاب: 72)
﴿وَالنَّجمُ وَالشَّجَرُ يَسجُدانِ ﴿٦﴾... سورة الرحمٰن
"اور بیلیں اور درخت سجدہ کر رہے ہیں"
﴿أَوَلَم يَرَوا إِلىٰ ما خَلَقَ اللَّـهُ مِن شَىءٍ يَتَفَيَّؤُا۟ ظِلـٰلُهُ عَنِ اليَمينِ وَالشَّمائِلِ...﴿٤٨﴾... سورة النحل
"کیا ان لوگوں نے اللہ کی مخلوقات میں سے ایسی چیزیں نہیں دیکھیں جن کے سائے دائیں سے بائیں کو اور بائیں سے دائیں کو لوٹتے رہتے ہیں۔" (سورہ نحل: 48)
(سورہ حم سجدہ: 21)
اور وہ کہیں گے جس اللہ نے سب چیزوں کو گویائی بخشی اس نے ہم کو بھی گویائی دی۔ صحیح حدیث میں آیا ہے " هذا جبل يحبنا و نحبه " یہ پہاڑ (اُحد) ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔
مسجد نبوی میں کھجور کے خشک تنے کا رونا خبر متواتر سے ثابت ہے۔ صحیح مسلم میں ہے میں اب تک اس پتھر کو پہچانتا ہوں۔ جو نبوت سے پہلے مجھے سلام کرتا تھا، حجراسود کے بارے میں آیا ہے کہ وہ قیامت کے دن اپنے چومنے والوں یا ہاتھ لگانے والوں کی گواہی دے گا۔ دلیلیں اور بھی بہت ہیں، حاصل کلام یہ ہے، تمہارے دل یا تو پتھر کی طرح ہیں یا پتھر سے بھی زیادہ ٹھوس ہیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا آیا ہے کہ اللہ کے ذکر کے علاوہ زیادہ باتیں نہ کیا کرو کیونکہ ذکر اللہ کے بغیر باتیں کرنا قساوتِ قلبی ہے۔ اللہ سے دور وہی دل ہیں جو ذکر سے غافل ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا بزار میں ہے کہ چار چیزیں بدبخت ہیں، آنکھ کا خشک ہونا (آنسو نہ نکلیں) دل کی سختی، لمبی امید اور دنیا کی حرص!!
آیت نمبر 75، 76
﴿أَفَتَطمَعونَ أَن يُؤمِنوا لَكُم وَقَد كانَ فَريقٌ مِنهُم يَسمَعونَ كَلـٰمَ اللَّـهِ ثُمَّ يُحَرِّفونَهُ مِن بَعدِ ما عَقَلوهُ وَهُم يَعلَمونَ ﴿٧٥﴾ وَإِذا لَقُوا الَّذينَ ءامَنوا قالوا ءامَنّا وَإِذا خَلا بَعضُهُم إِلىٰ بَعضٍ قالوا أَتُحَدِّثونَهُم بِما فَتَحَ اللَّـهُ عَلَيكُم لِيُحاجّوكُم بِهِ عِندَ رَبِّكُم أَفَلا تَعقِلونَ ﴿٧٦﴾... سورة البقرة
ترجمہ
"(اے اہل ایمان!) کیا تم امید رکھتے ہو کہ یہ لوگ ایمان لائیں گے اور تحقیق ان میں سے کچھ لوگ اللہ کا کلام (توراۃ) سنتے، پھر اس کے سمجھ لینے کے بعد اس کو جان بوجھ کر بدل دیتے رہے ہیں۔
اور یہ لوگ جب مومنین سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے ہیں اور جس وقت آپس میں ملتے ہیں تو کہتے ہیں جو بات اللہ نے تم پر ظاہر فرمائی وہ تم ان کو اس لئے بتائے دیتے ہو کہ (قیامت کے دن) اسی کے حوالے سے تمہارے پروردگار کے سامنے تم کو الزام دیں کیا تم سمجھتے نہیں؟
آیت: 77
﴿أَوَلا يَعلَمونَ أَنَّ اللَّـهَ يَعلَمُ ما يُسِرّونَ وَما يُعلِنونَ ﴿٧٧﴾... سورة البقرة
"کیا یہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ جو کچھ یہ چھپاتے اور ظاہر کرتے ہیں اللہ کو سب معلوم ہے۔"
یہود و نصاریٰ میں سے جو منافق تھے وہ خوشامد کے لئے اپنی کتاب سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں مسلمانوں سے بیان کرتے اور جو مخالف تھے وہ ان کو اس پر الزام دیتے کہ تم اہل اسلام کو اپنے علم میں سے دلائل کیوں مہیا کرتے ہو۔ تحریف کا ذکر جس طرح اس آیت میں ہے، دوسری جگہ بھی فرمایا:
﴿فَبِما نَقضِهِم ميثـٰقَهُم لَعَنّـٰهُم وَجَعَلنا قُلوبَهُم قـٰسِيَةً يُحَرِّفونَ الكَلِمَ عَن مَواضِعِهِ... ﴿١٣﴾... سورة المائدة
ترجمہ
"پس تو ان لوگوں کے عہد توڑنے کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا، یہ لوگ کلمات (کتاب) کو اپنے مقامات سے بدل دیتے ہیں۔"
ان کا تحریف کرنا پوری تفہیم اور عقل کے بعد تھا، لفظ کے کچھ اور ہی معنی بنا دیتے یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے اللہ کے دیدار کا مطالبہ کیا تھا، بجلی گری، مر گئے، پھر دوبارہ زندہ کئے گئے، کوہِ طور پر انہوں نے اللہ کا کلام سنا، سمجھا، جب لوٹ کر آئے تو ان میں سے ایک گروہ نے اسے بدل ڈالا۔ سدی رحمہ اللہ نے کہا انہوں نے توراۃ میں تحریف کی، حق کو باطل اور باطل کو حق ٹھہرایا، حلال کو حرام اور حرام کو حلال مانا، جب کوئی رشوت لے کر آتا تو اسے کتاب اللہ سے مسئلہ نکال کر بتا دیتے اور جب کوئی باطل مدعی آتا تو اس سے بھی رشوت لے کر مسئلہ نکال دیتے اور اگر کوئی آدمی رشوت نہ لاتا یا حق دار اور مدعی نہ ہوتا تو اس کو ٹھیک ٹھیک مسئلہ بتا دیتے، اس لئے اللہ نے فرمایا:
﴿أَتَأمُرونَ النّاسَ بِالبِرِّ وَتَنسَونَ أَنفُسَكُم وَأَنتُم تَتلونَ الكِتـٰبَ أَفَلا تَعقِلونَ ﴿٤٤﴾... سورة البقرة
یہی حال بعینہ آج کل کے فقہا کا ہے، جس طرح کا مسئلہ پوچھو، فتاویٰ کی کتابوں سے نکال کر بتا دیتے ہیں۔ حالانکہ خوب جانتے ہیں وہ مسئلہ قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ اسلام میں اگر یہ وبا نہ ہوتی تو اسلام کی ایسی حالت نہ ہوتی۔ جو توراۃ اور انجیل آج یہود و نصاریٰ کے پاس موجود ہے، اہل علم کے نزدیک وہ تحریف شدہ ہیں کہ کسی جگہ تحریف لفظی ہے اور کسی جگہ تحریف معنوی ہے۔ بخاری شریف میں یوں ہی آیا ہے اور امام فخر الدین رازی نے اسی کو اختیار کیا ہے۔
موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو فقط ایک سورت دی تھی، باقی ہارون علیہ السلام کی اولاد کے پاس محفوظ تھی جب وہ سب بخت نصر کے ہاتھوں قتل ہو گئے تو حضرت عزیر علیہ السلام نے حفاظ کے ذریعے تھوڑی سی تورات جمع کی۔ وہی تو رات آج موجود ہے اس میں بھی کمی و بیشی کی گئی ہے، مختلف ترجمے کئے گئے ہیں۔ اصل کا کہیں پتہ نہیں چلتا۔ یہی حال انجیل کا ہے۔ اس کے چار نسخے ہیں، چاروں میں اختلاف ہے، الفاظ و معانی دونوں میں تحریف ہے۔ اب سنا گیا ہے کہ اہل اسلام کے اعتراضات کو رد کرنے کے لئے نئے سرے سے ترمیم کی گئی ہے (حال ہی میں ڈاکٹر احمد دیدات نے تمام اناجیل پر پوری ریسرچ کی ہے) ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا ان لوگوں سے مراد منافق ہیں یہ یہودی جب اصحاب رضی اللہ عنہم رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے تو کہتے ہم تو مسلمان ہیں۔ سدی رحمہ اللہ نے کہا یہ وہ یہودی ہیں جو مسلمان ہوئے۔ پھر منافق ہو گئے یہی قول بہت سے سلف و خلف کا ہے۔ ابن وہب رضی اللہ عنہ نے کہا ایک بار رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہمارے اس مدینہ میں سوائے مسلم کے کوئی داخل نہ ہو، اس پر اہل کفر و نفاق نے عام لوگوں سے کہا تم جا کر کہو ہم مسلمان ہیں اور جب ہمارے پاس آؤ تو انکار کر دو، وہ لوگ صبح کو مدینے جاتے عصر کے بعد واپس آ جاتے، ابن وہب رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی
﴿وَقالَت طائِفَةٌ مِن أَهلِ الكِتـٰبِ ءامِنوا بِالَّذى أُنزِلَ عَلَى الَّذينَ ءامَنوا وَجهَ النَّهارِ وَاكفُروا ءاخِرَهُ لَعَلَّهُم يَرجِعونَ ﴿٧٢﴾... سورة آل عمران
"اور اہل کتاب ایک دوسرے سے کہتے کہ جو (کتاب) مومنین پر نازل ہوئی ہے اس پر دن کے شروع میں تو ایمان لے آیا کرو۔ اور دن کے آخر میں انکار کر دیا کرو تاکہ وہ (مسلمان) اسلام سے برگشتہ ہو جائیں۔"
ان کے مدینے جانے کا مقصد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خبریں حاصل کرنا تھا، اللہ نے ان کے حال کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ فتح سے مراد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا ذکر ہے۔ آپس میں چرچا کرتے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخر الزماں آنے والا ہے پھر دوسروں کو منع کرتے کہ تم ذکر نہ کرنا، مجاہد نے کہا  قریظ کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قلعہ کے قریب کھڑے ہو کر فرمایا
يا اخوان القردة والخنازير و يا عبدا الطاغوت
اس پر یہودیوں نے کہا یہ خبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کہاں سے مل سکتی تھی؟ تمہارے اندر سے ہی یہ بات نکلی ہے، تم ان سے یہ بات کیوں کہتے ہو جو تمہارے خلاف دلیل بن جائے، سدی رحمہ اللہ نے کہا ان کا مقصد یہ تھا کہ تم اپنے سابقہ عذاب کا ذکر مسلمانوں سے کیوں کرتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ ہم تمہاری نسبت اللہ کے زیادہ محبوب و مکرم ہیں، اللہ نے فرمایا تم یہ باتیں چھپ کر کہو یا علی الاعلان! اللہ کو تمہاری اس تدبیر کی سب خبر ہے۔
آیت نمبر 78، 79
﴿وَمِنهُم أُمِّيّونَ لا يَعلَمونَ الكِتـٰبَ إِلّا أَمانِىَّ وَإِن هُم إِلّا يَظُنّونَ ﴿٧٨﴾ فَوَيلٌ لِلَّذينَ يَكتُبونَ الكِتـٰبَ بِأَيديهِم ثُمَّ يَقولونَ هـٰذا مِن عِندِ اللَّـهِ لِيَشتَروا بِهِ ثَمَنًا قَليلًا فَوَيلٌ لَهُم مِمّا كَتَبَت أَيديهِم وَوَيلٌ لَهُم مِمّا يَكسِبونَ ﴿٧٩﴾... سورة البقرة
"اور بعض ان میں اَن پڑھ ہیں کہ اپنے باطل خیالات کے سوا (اللہ کی) کتاب سے واقف ہی نہیں اور وہ صرف ظن سے کام لیتے ہیں۔
تو ان لوگوں پر افسوس ہے جو اپنے ہاتھ سے تو کتاب لکھتے ہیں اور کہتے یہ ہیں کہ یہ اللہ کے پاس سے آئی ہے تاکہ اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت (دنیاوی منفعت) حاصل کریں، ان پر افسوس ہے کہ (بے اصل باتیں) اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں اور پھر ان پر افسوس ہے اس لئے کہ ایسے کام کرتے ہیں۔" (البقرہ: 78، 79)
یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو عوام کو خوش کرنے کے لئے ان کی مرضی کے فتوے دیتے ہیں اور انہیں اللہ اور رسول کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ یہود کا حال یہ تھا کہ رشوت لے کر مسئلے بناتے تھے۔ اس دور کے فقہاء نے بھی یہود و نصاریٰ کی طرح قرآن و سنت کو بازیچہ اطفال بنا دیا ہے اور بہت سی حرام باتوں کو جائز اور حلال قرار دیا ہے إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
ابن کثیر نے فرمایا اُمی وہ ہے جو لکھنا نہیں جانتا۔ ابو العالیہ، ربیع، قتادہ اور ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہم کی یہی رائے ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اُمی اس لئے کہا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لکھ نہیں سکتے تھے قرآن مجید میں ہے
﴿وَما كُنتَ تَتلوا مِن قَبلِهِ مِن كِتـٰبٍ وَلا تَخُطُّهُ بِيَمينِكَ إِذًا لَارتابَ المُبطِلونَ ﴿٤٨﴾... سورة العنكبوت
ترجمہ
"اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اسے اپنے ہاتھ سے لکھ سکتے تھے ایسا ہوتا تو اہل باطل ضرور شک کرتے"
حدیث میں ہے إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ؛ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا یعنی ہم ناخواندہ لوگ ہیں اپنی عبادات میں کسی حساب و کتاب کے محتاج نہیں قرآن مجید میں ہے هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا ۔۔۔ (سورة الجمعه)
ابن جریر نے کہا جس کسی کو لکھنا نہیں آتا عرب محاورے میں جہالت کو ماں کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، یعنی وہ اپنی ماں کی طرح جاہل (اَن پڑھ) ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ لفظ " أَمَانِيَّ " سے مراد جھوٹی باتیں ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ نے کہا اس سے مراد امیدیں و آرزوئیں ہیں، قتادہ نے کہا اللہ سے ایسی آرزو کرنا جو ان کے لئے نہیں ہے۔ ابن زید نے کہا تمنا کر کے یہ کہتے ہیں کہ ہم اہل کتاب ہیں حالانکہ نہیں ہیں۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے اہل الرائے و قیاس اپنے آپ کو "سُنی" کہتے ہیں حالانکہ تارکِ سنت اور عاملِ بدعت ہیں۔ ابن جریر کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول زیادہ صحیح ہے۔ کہ وہ تورات کو کچھ نہ کچھ سمجھتے تھے لیکن جھوٹ گھڑتے تھے۔ یہاں تمنا سے مراد جھوٹ گھڑنا ہے۔ بعض نے کہا تمنا سے مراد تلاوت ہے یعنی صرف کتاب کی تلاوت کرنا اور عمل ہرگز نہ کرنا۔ یہاں جن یہود کی خرابی کا ذکر فرمایا ہے وہ ہیں جو اَن پڑھ نہیں تھے، ابن کثیر رحمہ اللہ نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جو مکر و کذب کی طرف بلاتے تھے، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے تھے لوگوں کا مال دھوکے سے کھاتے تھے۔
"ویل" کے معنی ہیں "ہلاکت و بربادی" بعض نے کہا " واد في جهنم " (جہنم کی ایک وادی ہے) یا دوزخ کا زرد آب، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مرفوعا آیا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی ہے جس میں کافر تہہ تک پہنچنے سے پہلے چالیس برس تک نیچے کو آتا چلا جائے گا (ابن ابی حاتم) ترمذی نے اس روایت کو غریب کہا ہے مگر ابن کثیر رحمہ اللہ نے ترمذی کی سند کو منکر بتایا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا "ویل" سے مراد عذاب کی مشقت ہے خلیل بن احمد نے کہا "شر کی شدت" کو کہتے ہیں۔ سیبویہ نے کہا جو ہلاکت میں پڑا اس کو ویل کہتے ہیں۔ احمصی نے کہا ویل دکھ ہے، بعض نے کہا حزن ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا یہاں علمائے یہود اور مشرکین مراد ہیں۔
سدی رحمہ اللہ نے کہا یہودی کچھ حصہ کتاب کا لکھ کر عربوں کے ہاتھ فروخت کرتے رہتے کہ یہ اللہ کی کتاب ہے اور پھر تھوڑی سی قیمت لے لیتے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا اے مسلمانو! تم اہل کتاب سے کیا پوچھتے ہو، یہ کتاب جو اللہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری ہے یہ سب خبریں دیتی ہے۔ ترو تازہ ہے، اللہ نے تم کو بتا دیا ہے کہ اہل کتاب نے تورات، انجیل کو بدل ڈالا وہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھ کر اسے اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور تمہارے ہاتھ بیچ دیتے ہیں۔ یہ علم جو تمہارے پاس آیا ہے کیا تمہیں ان سے سوال کرنے پر منع نہیں کرتا ہے؟؟ اور ہم کبھی نہیں دیکھتے کہ یہود و نصاریٰ نے تم سے قرآن کے بارے میں کبھی کچھ پوچھا ہو۔ (جامع صحیح بخاری)
حسن نے کہا تھوڑی قیمت سے مراد ساری دنیا ہے اور جو کچھ انہوں نے اپنے ہاتھ سے لکھا ہے وہ کذب، بہتان اور افتراء ہے جو کچھ کما کر کھایا ہے وہ سب حرام ہے، تفتازانی نے کہا لفظ "ویل" کا تکرار اس لئے ہے کہ یہ دو گنا ہیں اور دونوں پر الگ الگ وعید ہے۔ سیوطی نے سلف سے کچھ ایسے آثار نقل کئے ہیں جس میں دلیل ہے کہ قرآن مجید کی تجارت مکروہ ہے لیکن سیوطی کا یہ موقف صحیح نہیں ہے پھر انہوں نے سلف سے ایسا قول بھی نقل کیا ہے جس میں اسے مکروہ نہیں کہا گیا۔
آیت نمبر 80
﴿وَقالوا لَن تَمَسَّنَا النّارُ إِلّا أَيّامًا مَعدودَةً قُل أَتَّخَذتُم عِندَ اللَّـهِ عَهدًا فَلَن يُخلِفَ اللَّـهُ عَهدَهُ أَم تَقولونَ عَلَى اللَّـهِ ما لا تَعلَمونَ ﴿٨٠﴾... سورة البقرة
"اور کہتے ہیں (دوزخ کی) آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو ہی نہیں سکے گی ان سے پوچھو کیا تم نے اللہ سے عہد لے رکھا ہے کہ اللہ اپنے اقرار کے خلاف نہیں کرے گا؟ (نہیں) بلکہ تم اللہ کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہو جن کا تمہیں مطلق علم نہیں۔"
ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہود کہتے تھے دنیا سات ہزار برس ہے، ہم ہر ایک ہزار سال کے بدلے ایک دن جہنم میں رہیں گے گویا یہ سات دن ہوئے پھر عذاب ختم ہو جائے گا، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل کی۔ دوسرا قول یہ کہتے تھے کہ ہم نے چالیس دن بچھڑے کی پوجا کی ہے۔ سو چالیس دن ہی ہمیں آگ کا عذاب آئے گا۔ تیسرا قول یہ ہے کہ چالیس برس جہنم میں رہیں گے۔
حدیث ابو ہریرہ میں ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح خیبر سے لوٹ کر یہودیوں کو جمع کیا اور پوچھا دوزخی کون لوگ ہیں؟ یہودیوں نے کہا ہم دوزخ میں تھوڑے دن رہیں گے، پھر ہماری جگہ تم سب رہو گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا منہ کالا ہو ہم ہرگز تمہاری جگہ نہ ہوں گے۔ بخاری، احمد اور نسائی میں بھی لیث بن سعد سے ایسی حدیث موجود ہے۔ اللہ کا یہ فرمان کہ کیا تم نے اللہ سے عہد لیا ہے یہودیوں کے اس جھوٹے دعوے کا رد ہے کہ وہ چند روز سے زیادہ آگ میں نہیں رہیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارا اللہ سے کوئی ایسا عہد تو نہیں ہے کہ تمہیں چند روز کے علاوہ جہنم میں نہیں ڈالے گا جو تمہارے اس دعوے کو سچا کر سکے۔ عہد سے مراد یہاں وعدہ ہے۔
آیت نمبر 81، 82
﴿بَلىٰ مَن كَسَبَ سَيِّئَةً وَأَحـٰطَت بِهِ خَطيـَٔتُهُ فَأُولـٰئِكَ أَصحـٰبُ النّارِ هُم فيها خـٰلِدونَ ﴿٨١﴾ وَالَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّـٰلِحـٰتِ أُولـٰئِكَ أَصحـٰبُ الجَنَّةِ هُم فيها خـٰلِدونَ ﴿٨٢﴾... سورة البقرة
ترجمہ
"ہاں جو برے کام کرے اور اس کے گناہ (ہر طرف سے) اس کو گھیر لیں تو ایسے لوگ دوزخ میں جانے والے ہیں اور وہ ہمیشہ اس میں جلتے رہیں گے اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال اپنائے پس یہی لوگ جنت کے حقدار ہیں اور ہمیشہ اس جنت میں رہیں گے۔" 
اللہ کا فرمان ہے کہ بات اس طرح نہیں جس طرح تم دعوے کرتے ہو بلکہ جس نے گناہ کیا اور گناہ پر اصرار کیا وہی لوگ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے اور جو ایمان لائے، نیک عمل کئے وہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔"
دوسری جگہ قرآن میں فرمایا:
﴿لَيسَ بِأَمانِيِّكُم وَلا أَمانِىِّ أَهلِ الكِتـٰبِ مَن يَعمَل سوءًا يُجزَ بِهِ وَلا يَجِد لَهُ مِن دونِ اللَّـهِ وَلِيًّا وَلا نَصيرًا ﴿١٢٣﴾ وَمَن يَعمَل مِنَ الصّـٰلِحـٰتِ مِن ذَكَرٍ أَو أُنثىٰ وَهُوَ مُؤمِنٌ فَأُولـٰئِكَ يَدخُلونَ الجَنَّةَ وَلا يُظلَمونَ نَقيرًا ﴿١٢٤﴾... سورة النساء
ترجمہ
"(نجات) نہ تو تمہاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر جو شخص برے عمل کرے گا اسے اسی طرح کا بدلہ دیا جائے گا اور وہ اللہ کے سوا کسی کو حمائتی اور مددگار نہ پائے گا اور جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت اور وہ صاحب ایمان بھی ہو گا تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی (ذرہ) تِل برابر حق تلفی نہ کی جائے گی۔"
ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: گناہ کمانے کا مطلب یہ ہے کہ جس نے تمہارے جیسے عمل کئے، تمہاری طرح کفر کیا اور ہر طرف سے اسے کفر نے گھیر لیا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں گناہ سے مراد شرک ہے، مجاہد، عکرمہ، حسن اور قتادہ کی باہمی رائے یہی ہے۔ عطاء و ابو وائل نے کہا کہ شرک نے گھیر لیا، ربیع بن خیثم نے کہا مراد ایسا شخص ہے جس کی گناہ پر موت ہوئی، توبہ نہ کر سکا، ابو رزین اور سدی کی بھی یہی رائے ہے۔ ابو العالیہ، مجاہد اور حسن نے کہا کہ اس کو ایسی خطاء نے گھیر لیا جو گناہِ کبیرہ کو واجب کرتی ہے۔
ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سارے اقوال ہم معنی ہیں پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعا حدیث نقل کی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صغیرہ گناہوں سے بچو یہ جمع ہو کر آدمی کو ہلاک کر دیتے ہیں۔ پھر مثال دی کچھ لوگ جنگل میں اترے، باورچی آیا، ہر کوئی لکڑی لایا جب ایک ڈھیر جمع ہو گیا تو آگ جلائی جو کچھ اس میں ڈالا وہ پک گیا، یعنی چھوٹے چھوٹے گناہ جمع ہوتے ہوتے گناہگار کو ہلاک کر دیتے ہیں۔ گناہ کے گھیر لینے سے یہ معلوم ہوا کہ صرف گناہ سرزد ہونا ہمیشہ جہنم میں رہنے کا سبب نہیں البتہ جب انسان کی کوئی نیکی باقی نہیں رہتی، ہر طرف گناہ ہی گناہ ہوتا ہے تو نجات کے راستے بند ہو جاتے ہیں۔ پھر ہمیشہ دوزخ میں رہنے کا سبب بن جاتا ہے۔ یہ قول کہ اس جگہ خطاء سے مراد شرک ہے، اولیٰ ہے۔ اس لئے کہ متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ سرکش موحدین دوزخ سے نکال لئے جائیں گے۔ یہاں اگرچہ الفاظ عموم پر دلالت کرتے ہیں مگر اس آیت کے نزول کا سبب یہودی ہیں اسی پر مفسرین کا اجماع ہے۔ اس قول سے معتزلہ کا قول بھی رد ہوا کیونکہ آگ میں ہمیشہ رہنا مشرکین اور کفار سے خاص ہے۔ یہ بات ثابت ہوئی کہ یہاں "سيئه و خطيئه" سے مراد کفر اور شرک ہے نہ کہ گناہِ کبیرہ۔ پہلی آیت میں فَأُولَـٰئِكَ فرمایا تھا دوسری آیت میں أُولَـٰئِكَ فرمایا، معلوم ہوا کہ شرک ہمیشہ جہنم میں رہنے کا سبب ہے مگر ایمان ہمیشہ جنت میں رہنے کا سبب نہیں بلکہ جنت میں ہمیشہ رہنا اللہ کے فضل پر موقوف ہے۔
آیت نمبر 83
﴿وَإِذ أَخَذنا ميثـٰقَ بَنى إِسرٰءيلَ لا تَعبُدونَ إِلَّا اللَّـهَ وَبِالوٰلِدَينِ إِحسانًا وَذِى القُربىٰ وَاليَتـٰمىٰ وَالمَسـٰكينِ وَقولوا لِلنّاسِ حُسنًا وَأَقيمُوا الصَّلوٰةَ وَءاتُوا الزَّكوٰةَ ثُمَّ تَوَلَّيتُم إِلّا قَليلًا مِنكُم وَأَنتُم مُعرِضونَ ﴿٨٣﴾... سورة البقرة
"اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ بھلائی کرتے رہنا اور لوگوں سے اچھی باتیں کہنا اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہنا تو چند اشخاص کے علاوہ تم سب اس عہد سے منہ پھیر کر چلے گئے اور تم اب بھی منہ پھیرے بیٹھے ہو۔" 
بنی اسرائیل کا اس عہد سے پھر جانا عمدا اور ارادتا تھا وہ اپنے عہد سے پوری طرح باخبر تھے اللہ نے انہیں حکم دیا تھا کہ عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں یہی حکم ساری مخلوقات کو تھا بلکہ خلق کو اسی لئے پیدا کیا گیا قرآن میں ہے
﴿وَما أَرسَلنا مِن قَبلِكَ مِن رَسولٍ إِلّا نوحى إِلَيهِ أَنَّهُ لا إِلـٰهَ إِلّا أَنا۠ فَاعبُدونِ ﴿٢٥﴾... سورة الأنبياء
ترجمہ: اور جو پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے ان کی طرف یہی وحی بھیجی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تم میری ہی عبادت کرو۔
دوسری جگہ فرمایا:
﴿وَلَقَد بَعَثنا فى كُلِّ أُمَّةٍ رَسولًا أَنِ اعبُدُوا اللَّـهَ وَاجتَنِبُوا الطّـٰغوتَ... ﴿٣٦﴾... سورة النحل
ترجمہ: اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور بتوں کی پرستش سے اجتناب کرو۔ پھر فرمایا:
﴿وَما خَلَقتُ الجِنَّ وَالإِنسَ إِلّا لِيَعبُدونِ ﴿٥٦﴾... سورة الذاريات
ترجمہ: اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لئے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں۔
اور سب حقوق میں سب سے بڑا اللہ کا یہی حق ہے کہ تنہا اسی کی پوجا کی جائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ اس کے بعد مخلوق کا حق ہے جس میں سب سے زیادہ اولیٰ اور تاکیدی حق ماں باپ کا ہے۔ اس لئے اللہ نے اپنے اور والدین کے حق کو ملا کر بیان فرمایا:
﴿وَوَصَّينَا الإِنسـٰنَ بِوٰلِدَيهِ حَمَلَتهُ أُمُّهُ وَهنًا عَلىٰ وَهنٍ وَفِصـٰلُهُ فى عامَينِ أَنِ اشكُر لى وَلِوٰلِدَيكَ إِلَىَّ المَصيرُ ﴿١٤﴾... سورة لقمان
ترجمہ: (نیز اس کے ماں باپ کے بارے میں بھی تاکید کی ہے کہ) میرا بھی شکر کرتا رہ اور اپنے ماں باپ کا بھی (کہ تم کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔
دوسری جگہ فرمایا:
﴿وَقَضىٰ رَبُّكَ أَلّا تَعبُدوا إِلّا إِيّاهُ وَبِالوٰلِدَينِ إِحسـٰنًا...﴿٢٣﴾... سورة الإسراء
ترجمہ: اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو۔
تیسری جگہ فرمایا
﴿وَءاتِ ذَا القُربىٰ حَقَّهُ ... ﴿٢٦﴾... سورة الإسراء
ترجمہ: اور رشتہ داروں اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو۔
صحیحین میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے آیا ہے میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا اے اللہ کے رسول! سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وقت پر نماز ادا کرنا، عرض کیا: پھر کون؟ فرمایا: ماں باپ سے نیک سلوک کرنا، عرض کیا: اس کے بعد کون سا؟ فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ۔۔۔ نماز اللہ کا حق ہے، ماں باپ سے نیک سلوک مخلوق کا حق ہے۔ اسے جہاد پر بھی مقدم رکھا، دوسری حدیث میں ہے ایک آدمی نے عرض کیا: میں کس کے ساتھ نیکی کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے۔ صحابی نے دوسری دفعہ عرض کیا اس کے بعد کس سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی والدہ کے ساتھ، تیسری مرتبہ پھر پوچھا تو آپ نے فرمایا: اپنی والدہ کے ساتھ، چوتھی دفعہ پوچھا تو فرمایا: اپنے باپ کے ساتھ۔ اس کے بعد فرمایا: جو تم سے جتنا قریب ہو۔
یتیم ان بچوں کو کہتے ہیں جن کی کفالت کرنے والا کوئی باپ دادا نہیں ہوتا، مسکین وہ ہے جو اپنے لئے اور گھر والوں کے لئے نان نفقہ نہیں پاتا۔ نیک بات کہنے سے مراد کہ اچھا کلمہ کہے، نرمی سے پیش آئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (تبلیغ) اسی میں داخل ہے۔
حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا قول حسن یہ ہے کہ نیکی کا حکم دے، برائی سے منع کرے حلم اور عفو سے کام لے، قصور سے درگزر کرے اور ہر نیک عادت جسے اللہ پسند کرتا ہے قول حسن ہے۔ ابوذر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا آیا ہے تو اتنی سی نیکی کو بھی حقیر نہ سمجھ خواہ وہ تیرا اپنے بھائی کو خندہ پیشانی سے ملنا ہی کیوں نہ ہو۔ (مسلم شریف)
بنی اسرائیل نے نیکی کے یہ سب کام (قولی و فعلی) چھوڑ دئیے تھے سوائے چند لوگوں کے جو اپنے عہد پر قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو بھی اسی طرح حکم دیا ہے۔ (سورہ النساء: 36) ابن کثیر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ جیسے یہود و نصاریٰ نے عہد کو توڑا ویسے آثار امتِ مسلمہ میں بھی موجود ہیں جو آدمی امکان اور قدرت کے باوجود ان امور پر قائم نہیں رہتا تو اس میں گویا یہود کی سرکشی اور جہالت کا ایک شعبہ موجود ہے۔ اللہ نے بنی اسرائیل سے جو اقرار لیا تھا یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں تھا۔ اس آیت میں عدم شرک اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کا حکم ہے خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہوں، جہاں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہ ہو وہاں ماں باپ کی اطاعت لازم ہے۔ محتاج ہوں تو صلہ رحمی کرے، کافر ہوں تو ایمان کی طرف بلائے، گفتگو، اٹھنا، بیٹھنا، ادب و لحاظ سے کرے، فاسق ہوں تو پیار و محبت سے نیکی کی طرف بلائے، لفظ "اُف" بھی نہ کہے۔ بعض نے کہا قول حسن سے مراد کلمہ توحید ہے یا صدق یا حسن خلق۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ یہاں قول خاص نہیں ہے۔ شرعا جس عمل کو حسن کہا جاتا ہے وہ سب اس میں داخل ہیں۔
رب العالمین کا خطاب موسیٰ علیہ السلام کے یہودیوں کو تھا یا یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے یہودیوں کو ہے۔ اللہ نے بنی اسرائیل کو یہ آٹھ حکم دئیے تھے مگر وہ اس پر قائم نہ رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمل ہی تیرا رہبر ہے مسافر
عبدالرحمٰن عاجز، مالیر کوٹلوی
یہ کس غم کا تجھ پہ اثر ہے مسافر
تو ہر لمحہ باچشمِ تر ہے مسافر
کہیں نفسِ سرکش کہیں مکر شیطاں
تِرا راستہ پُر خطر ہے مسافر
وہ کب راہ کی مشکلیں دیکھتے ہیں
کہ منزل پہ جن کی نظر ہے مسافر
نہیں کوئی ساتھی رہِ آخرت میں
عمل ہی ترا رہبر ہے مسافر
پڑا ہے تہہ خاک مجبور و بےبس
کہاں وہ ترا کروفر ہے مسافر
خدا کے سوا کون مشکل کشا ہے
تو کیوں پھر رہا دربدر ہے مسافر
محبت کریں کس سے دنیا میں عاجز
کہ دنیا میں ہر اک بشر ہے مسافر