بسلسلہ اسلامی ریاست میں تعبیرِ شریعت کا اختیار
آج کل بہت سے سیکولر اہلِ قلم، جن میں علامہ اقبال رحمہ اللہ کے فرزند جاوید اقبال بھی شامل ہیں، فکرِ اقبال کے حوالے سے ایک شرعی اصطلاح "اجتہاد" کے بارے میں ایسی باتیں کہہ اور پھیلا رہے ہیں کہ جن سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ وہ گمراہی اور صراط مستقیم سے انحراف پر مبنی ہیں۔
علامہ اقبال رحمہ اللہ بلاشبہ ایک قومی نہیں، ملی شاعر ہیں اور ملکی نہیں، آفاقی شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں جذبہ و عمل کی جو توانائی ہے، اقدام اور ولوے کی جو فراوانی ہے اور دلوں کو حرارت ایمانی سے بھر دینے والی جو خوش نوائی ہے، اس نے یقینا ان کو انفرادیت کا ایسا مقام عطا کیا ہے، جس میں کوئی بھی شاعر ان کا شریک و سہیم نہیں اور نہ بظاہر آئندہ اس کا کوئی امکان ہی نظر آتا ہے۔ اس لحاظ سے وہ ملت اسلامیہ کے ایک عظیم محسن اور تاریخ اسلام کی ایک نہایت تاب ناک شخصیت ہیں اور ان کا کلام ہمارا ایک بیش قیمت سرمایہ ہے جس سے جامد قوتوں کو حرکت و عمل کا درس ملتا رہے گا، بے جان جذبوں کو توانائی ملتی رہے گی اور جو روح کو تڑپ اور دلوں کو حرارت بخشتا رہے گا۔ رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ
علامہ کی عظمت کے لئے ان کی جذبوں اور ولولوں سے بھرپور اور ایمان و عمل سے سرشار شاعری ہی کافی ہے۔ بنا بریں راقم ان لوگوں سے، جو ان کے بعض افکار سے یا ان کے شاعرانہ کلام سے ان کو ایک عظیم فکری رہنما بھی باور کرانا ان کی عظمت کے لئے ضروری سمجھتے ہیں، اتفاق نہیں کرتا۔ کیونکہ علامہ اقبال ایک نابغہ عصر شاعر تو ضرور تھے لیکن مسلمہ اسلامی مفکر انہیں مشکل ہی سے قرار دیا جا سکتا ہے اور اب تو اس سے بھی بڑھ کر انہیں "امام معصوم" بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ جیسا کہ اہل قلم کے بیانات و مقالات سے مترشح ہے۔ یہ حضرات علامہ اقبال کے وہ خیالات، جن سے ان میں مضمر خطرات کی بناء پر، اہل علم و فکر نے خاص اعتناء نہیں کیا، انہیں نہ صرف نہایت بلند آہنگی سے پیش کر رہے ہیں بلکہ ان کے خیال میں علامہ اقبال کے زیر بحث افکار سے بے وفائی ہی کا نتیجہ ہے کہ
"قدرت نے اس قوم کو فرقہ واریت، صوبائیت، لسانیت، علاقائیت، غربت، جہالت اور بیماری کے درد ناک عذاب میں مبتلا کر دیا" ۔۔۔ (روزنامہ نوائے وقت، 18 نومبر 1986ء مضمون ڈاکٹر محمد یوسف گورایہ و طلوع اسلام، لاہور، اکتوبر 1992ء) حالانکہ یہ نتیجہ ان افکارِ اقبال سے روگردانی و بے وفائی کا نہیں ہے جو جناب ڈاکٹر گورایہ صاحب نے پیش فرمائے ہیں بلکہ یہ نتیجہ تو اسلام سے بے وفائی اور غداری کا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ خطبات میں پیش کردہ فکرِ اقبال اِن حضرات کے نزدیک اسلام کے ہم معنی یا اس کی کامل تعبیر ہے۔ ورنہ شاید اس سے بے اعتنائی پر ڈاکٹر گورایہ صاحب وہ تبصرہ نہ فرماتے جو مذکورہ بالا اقتباس میں گزرا ہے۔ خیال رہے کہ گورایہ صاحب کا یہ مضمون چھ سال قبل "نوائے وقت" اور "جنگ" میں بھی شائع ہوا تھا اور اب ماضی قریب میں "طلوع اسلام" میں شائع ہوا ہے۔
ڈاکٹر گورایہ صاحب کے اس مقالے میں فکر اقبال کے حوالے سے جو باتیں کہی گئی ہیں، ذیل میں ان کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن قبل اس کے کہ اصل موضوع پر گفتگو ہو، تمہیدا یہ بات سامنے رہنی چاہیے کہ علامہ کے افکار اور کلام میں اسلام سے والہانہ وابستگی اور اسلامی تہذیب و تمدن کے برتر و بہتر ہونے کا تصور تو قدم قدم پر ملتا ہے۔ لیکن موجودہ دور میں اسلامی نظام و تہذیب کی صورت گری اور عملی تشکیل کس طرح ہو؟ اس سلسلے میں علامہ کے کلام و افکار سے واضح انداز میں رہنمائی نہیں ملتی بلکہ ایک گونہ تضاد سا محسوس ہوتا ہے۔ غالبا یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ انہیں اشتراکیت کا ہمنوا ثابت کرتے ہیں تو دوسرے اس کے مخالف، کچھ انہیں تصوف کا رمز آشنا باور کراتے ہیں تو کچھ اس کوچے سے نابلد۔ ایک طبقہ انہیں "ملائیت" کا دشمن قرار دیتا ہے تو دوسرے انہیں علماء کا کنفش بردار اور خادم۔ کوئی انہیں مغربی جمہوریت کا علم بردار ثابت کرتا ہے تو دوسرا اس سے متنفر اور گریزاں۔ حتیٰ کہ بعض لوگ انکارِ حدیث تک کا انتساب ان کی طرف بڑے فخر سے کرتے ہیں جب کہ دوسرے انہیں سچا عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا شیدائی سمجھتے ہیں۔ راقم کے نزدیک وہ پکے مسلمان تھے اور اشتراکیت کی ہمنوائی کے الزام سے انہوں نے خود ہی اپنی زندگی میں براءت کا اظہار کر دیا تھا۔ جن مغرب زدہ افراد نے علمائے اسلام کو بدنام کرنے کے لئے "ملائیت" کی اصطلاح گھڑی ہے، علامہ کا دامن ان کی ہمنوائی سے بھی پاک ہے، وہ علمائے حق سے خصوصی تعلق خاطر اور ان کے بارے میں احترام و عقیدت کے جذبات رکھتے تھے اور انہیں ذات رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے جس طرح عاشق تھا، اسی طرح سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی وہ دین کا ماخذ اور قرآن کریم کی طرح حجت تسلیم کرتے تھے۔
لیکن پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یارانِ سرپل نے اس کے برعکس خیالات ان کی طرف کیوں منسوب کر دئیے ہیں؟ اس کی وجہ راقم کے نزدیک وہی ہے جو ابھی اوپر عرض کی گئی ہے کہ ان کے کلام میں مربوط فکری راہنمائی کا فقدان ہے۔ نہ وہ اس میدان کے آدمی تھے نہ انہوں نے ایک متعین فکر ہی دیا ہے۔ مختلف اوقات میں مختلف احساسات و تصورات کے تحت انہوں نے مختلف قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے جس طرح کہ بالعموم شعراء کرتے ہیں۔ انہیں ان کے کلام اور شخصیت کے مجموعی تناظر میں دیکھا جائے تو ان کی تردید یا توجیہ و تطبیق زیادہ مشکل بات نہیں۔ لیکن مفاد پرستوں نے اپنے اپنے مفاد کے لئے ان کے مجموعی کلام کو نظر انداز کر کے جس طرح ان کے ایک ایک مصرعے، ایک ایک شعر یا ایک ایک بند کو اپنے پورے پورے مجموعی نقطہ نظر پر چسپاں کیا ہے، وہ بددیانتی کا بھی شاہکار ہے اور علامہ اقبال کی شخصیت اور افکار پر بھی ایک بہت بڑا ظلم، جس کی وجہ سے وہ ایک چیستاں بن کر رہ گئے ہیں۔ جو اقبال، جذبہ و توانائی کا سرچشمہ تھا، حرکت و عمل کا پیامبر تھا، اسلام کا شیدائی تھا اور اسلامی نظام و تہذیب ہی کو ملت اسلامیہ کے تحفظ و بقا کی ضمانت سمجھتا تھا۔ وہی اقبال نعوذباللہ بعض لوگوں کے نزدیک اشتراکی تھا، بعض کے نزدیک منکرِ سنت تھا اور بعض کے نزدیک علمائے اسلام کا دشمن اور اب یہ آواز اور اٹھی ہے کہ علامہ اسلامی ملکوں کے لئے نظام سیاست اگر کوئی پسند کرتے تھے اور اسی میں ان کی نجات اور ترقی سمجھتے تھے تو وہ صرف اور صرف مغربی جمہوریت اور مغربی طرز حکومت ہے۔ ع
شد پریشاں خواب من از کثرت تعبیر ہا
زاہدِ تنگ نظر نے مجھے کافر جانا
اور کافر یہ سمجھتا ہے کہ مسلماں ہوں میں
دوسری بات یہ سمجھ لینی چاہیے کہ مذکورہ اہل قلم علامہ اقبال کی جس کتاب کو بنیاد بناتے ہیں، اس میں بہت سی باتیں ان کے عمر بھر کے مجموعی کلام و نظریات کے بالکل مخالف ہیں۔ جس کی وجہ سے علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ جیسے شخص بھی، جو علامہ کے نہایت قدردان اور مزاج شناس تھے اور علامہ بھی ان کا نہ صرف نہایت درجہ احترام کرتے تھے اور دینی و علمی مسائل و معاملات میں ان سے رہنمائی حاصل کرتے تھے بلکہ علامہ نے انہیں "علوم اسلام کی جوئے شیر کا فرہاد" (اقبال، سید سلیمان ندوی کی نظر میں، ص 23، طبع بزم اقبال، لاہور) بھی قرار دیا۔ علامہ کی اس کتاب کے بارے میں یہ رائے رکھتے تھے کہ یہ لیکچر شائع نہ ہوئے ہوتے تو اچھا تھا۔ جیسا کہ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے روائع اقبال کے اردو ترجمہ "نقوشِ اقبال" کے مقدمے میں لکھا ہے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں
"میں اقبال کو کوئی معصوم و مقدس ہستی اور کوئی دینی پیشوا اور امام مجتہد نہیں سمجھتا اور نہ میں ان کے کلام سے استناد اور مدح سرائی میں حدِ افراط کو پہنچا ہوا ہوں جیسا کہ ان کے غالی معتقدین کا شیوہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ حکیم سنائی، عطار اور عارف رومی آدابِ شریعت کے پاس اور لحاظ اور ظاہر و باطن کی یک رنگی اور دعوت و عمل کی ہم آہنگی میں ان سے بہت آگے ہیں۔ اقبال کے یہاں اسلامی عقیدہ و فلسفہ کی ایسی تعبیریں بھی ملتی ہیں جن سے اتفاق کرنا مشکل ہے۔ میں بعض پرجوش نوجوانوں کی طرح اس کا بھی قائل نہیں کہ اسلام کو اُن سے بہتر کسی نے سمجھا ہی نہیں اور اس کے علوم و حقائق تک ان کے سوا کوئی پہنچا ہی نہیں، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ میں اپنی زندگی کے ہر دور میں اس کا قائل رہا کہ وہ اسلامیات کے ایک مخلص طالب علم رہے اور اپنے مقتدر معاصرین سے برابر استفادہ ہی کرتے رہے۔ (مولانا انور شاہ کشمیری، مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا مسعود عالم ندوی کے نام خطوط سے ان کے اخلاق و تواضع اور علمی ذوق کا پتہ چلتا ہے)
ان کی نادر شخصیت میں بعض ایسے کمزور پہلو بھی ہیں جو ان کے علم و فن اور پیغام کی عظمت سے میل نہیں کھاتے اور جنہیں دور کرنے کا موقع انہیں نہیں ملا۔ (ان کے مدراس کے خطبات میں جو انگریزی میں “Reconstruction of Islamic Thought” کے نام سے شائع ہو چکے ہیں اور ان کا اردو اور عربی میں ترجمہ بھی ہوا ہے، بہت سے ایسے خیالات و افکار ملتے ہیں جن کی تاویل و توجیہ اور اہل سنت کے اجماعی عقائد سے مطابقت مشکل ہی سے کی جا سکتی ہے۔ یہی احساس استاذِ محترم مولانا سید سلیمان ندوی کا تھا۔ ان کی تمنا تھی کہ یہ لیکچر شائع نہ ہوئے ہوتے تو اچھا تھا)۔"
("نقوش اقبال" ص 39-40، مطبوعہ مجلس نشریات اسلام، کراچی)
تیسری بات یہ ہے کہ علامہ اقبال کے یہ "خطبات" ایک ایسا چیستان ہے جسے کوئی اور تو کیا، خود "خطبات" کے شارحین بھی مکمل طور پر سمجھنے سے قاصر رہے ہیں، جس کا اعتراف خود ایک ماہر اقبالیات ڈاکٹر وحید عشرت نے کیا ہے۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب موصوف نے خلیفہ عبدالحکیم کی "فکر اقبال" محمد شریف بقا کی "خطبات اقبال پر ایک نظر" اور اسی نام سے مولانا سعید احمد اکبر آبادی کی کتاب، ڈاکٹر سید محمد عبداللہ کی مرتبہ کتاب "خطبات اقبال" اور پروفیسر محمد عثمان کی کتاب "فکر اسلامی کی تشکیل نو" ان تمام کتابوں کا جائزہ لے کر سب کو ناقص، ناتمام اور نامکمل قرار دیا ہے۔ ملاحظہ ہو مجلہ شش ماہی "اقبالیات" "اقبال نمبر" جنوری تا جون 1986ء، ص 177-185، مطبوعہ اقبال اکادمی پاکستان
جب "خطبات" کا ماہرینِ اقبالیات کے نزدیک بھی یہ مقام ہے کہ وہ ابھی تک ایک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا، کی حیثیت رکھتے ہیں، تو ایسی کتاب کو بنیاد بنا کر اس میں پیش کردہ مبہم اور غیر واضح باتوں کو صحیفہ آسمانی کی طرح پیش کرنا کیوں کر صحیح ہے؟ جیسا کہ گورایہ صاحب اور ان جیسے بعض "دانشور" کر رہے ہیں۔ ان تین بنیادی تنقیحات کے بعد اب ہم مقالہ مذکور پر اپنی گزارشات پیش کرتے ہیں۔ پورے مقالے کا خلاصہ حسب ذیل سات باتیں ہیں۔
1۔ ترکی کا اجتہاد، جس میں خلافت ایک منتخب اسمبلی کو تفویض کرنے کا نظریہ پیش کیا گیا ہے، روحِ اسلام کے عین مطابق ہے۔
2۔ جمہوری طرزِ حکومت روح اسلام کے عین مطابق ہے۔
3۔ قانون سازی کا صحیح اور جائز حق صرف منتخب اسمبلی کو ہے حتیٰ کہ تعبیرِ شریعت کا بھی کلی اختیار منتخب نمائندگی کو ہے، کسی نامزد ادارے یا نامزد علماء کو نہیں ہے۔
4۔ اجتہاد کا دروازہ بند ہونا محض ایک افسانہ ہے۔
5۔ انفرادی اجتہاد صحیح نہیں، عہدِ حاضر میں اجتہاد و تعبیر نو قانون ساز اسمبلی کا اختیار ہے۔
6۔ قومی اسمبلی کو فقہی مسالک سے بالا ہونا چاہیے اور کسی بھی فقہی مسلک کی بالادستی اس پر نہیں ہونی چاہیے۔
7۔ کسی امر قانون کے بارے میں صحابہ کا اجماع حجت نہیں۔
اب ہم ترتیب وار ان پر بحث کریں گے۔
(1) ترکی "اجتہاد" کی حقیقت: سب سے پہلے ترکی کے اس اجتہاد کی نوعیت و حقیقت واضح ہونی چاہیے جسے روح اسلام کے عین مطابق قرار دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے یہ وہی اجتہاد ہے جس کی رو سے خلافت کا خاتمہ کر کے مغربی جمہوریت کو نافذ کیا گیا اور سٹیٹ کو سیکولر (نا مذہبی ریاست) قرار دیا گیا، انگریزی ہیٹ کو لازم کر دیا گیا، دینی تعلیم حتیٰ کہ عربی میں اذان تک ممنوع قرار پائی، پردے کو خلاف قانون قرار دے دیا گیا، عربی حروف کی جگہ لاطینی حروف (رسمُ الخط) جاری ہوئے، مخلوط تعلیم کا نفاذ ہوا اور شرعی اداروں اور محکموں اور اسلامی قانون شریعت کو ملک سے بے دخل کر کے سوئٹزرلینڈ کا قانونِ دیوانی، اٹلی کا قانونِ فوجداری اور جرمنی کا قانونِ بین الاقوامی تجارت نافذ کیا گیا اور پرسنل لاء کو یورپ کے قانونی دیوانی کے مطابق و ماتحت کر دیا۔ غرض مصطفیٰ کمال کے انگریز سوانح نگار (H.C.ARMSTRONG) کے بقول
"ترکی قوم اور حکومت کی دینی اساس کو توڑ پھوڑ کر ختم کر دیا اور قوم کا نقطہ نظر ہی بدل دیا" (Grey Wolf-P. 190۔ بحوالہ "اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش" ص 64، طبع لکھنؤ)
ریاست کو نامذہبی (سیکولر) بنانے کا بل پیش کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے پارلیمنٹ میں جو تقریر کی، اس کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے عرفان اورگا لکھتا ہے۔
"اس بنیاد پر خاموشی اور خوبصورتی کے ساتھ عمل کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے 3 مارچ 1924ء کو ایک بل پیش کیا۔ اس بل نے ترکی کی ریاست کو نامذہبی شکل (Secular) دے دی اور خلیفہ کے منصب کو ختم کر دیا۔ بل کو پیش کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے اس موضوع پر کھل کر بحث کی۔ اس نے کہا کہ عثمانی سلطنت، اسلام کے اُصول پر قائم ہوئی تھی، اسلام اپنی ساخت اور اپنے تصورات کے لحاظ سے عرب ہے، وہ پیدائش سے لے کر موت تک اپنے پیروؤں کی زندگی تشکیل کرتا ہے اور ان کو اپنے مخصوص سانچے میں ڈھالتا ہے، وہ ان کی امنگوں کا گلا گھونٹ دیتا ہے اور ان کی جراءت و اقدام پسندی میں روڑے اٹکاتا ہے۔ ریاست کو اسلام کے مسلسل باقی رہنے سے خطرہ لاحق رہے گا۔"
نئے فیصلوں اور ان اصلاحات کا اسلام کے مستقبل پر جو اثرا پڑا اور ان سے جو دور رس تبدیلیاں واقع ہوئیں، ان کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھتا ہے۔
"پارلیمنٹ نے جو فیصلے کئے اور جن کا بہت کم نوٹس لیا گیا، حقیقت میں وہ اسلام کے حق میں کاری ضرب اور پیام موت کی حیثیت رکھتے تھے، تعلیم کی وحدت کا قانونِ نظام تعلیم میں دور رس تبدیلیوں کا باعث بنا، تمام تعلیمی نظم و نسق جو اس جمہورئیے کے حدود کے اندر پایا جاتا تھا، وزارتِ تعلیم کے قبضہ و اقتدار میں آ گیا۔ اس تبدیلی نے مدرسوں کی سرگرمیوں اور ان علماء و اساتذہ کی آزادی کو ختم کر دیا جو ان میں تعلیم دیتے تھے۔ دوسرا قدم اُمور مذہبی کے محکمے کا قیام تھا جو ایک ڈائریکٹر کے ماتحت تھا اور جو شریعت اور اوقاف کی قدم وزارت کی قائم مقامی کرتا تھا، اس وزارت کا کام مذہبی یا خیراتی مقاصد کی تکمیل اور مسجد اور یتیم خانے کی دیکھ بھال تھا۔ لیکن اس کے نظام اور طریقہ کار کا نہایت غلط اور شرمناک استعمال ہوتا تھا۔" (بحوالہ اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش، ص 65-66)
مولانا ابو الحسن علی ندوی لکھتے ہیں:
"تنہا عربی رسم الخط کے بجائے لاطینی رسم الخط کے اجراء نے ترکی قوم کی زندگی میں انقلابِ عظیم برپا کر دیا اور ایک ایسی نئی نسل کو جنم دیا جس کا رشتہ اپنی قدیم تہذیب و ثقافت سے کٹ چکا ہے۔ قدیم تہذیب و ثقافت اور علم و ادب پر اس کا جو انقلاب انگیز اثر پڑا ہے، اس کو ہمارے زمانے کے مقبول مغربی مورخ و مفکر آرنلڈ ٹائن بی (Arnold Toynbee) نے اپنی کتاب A Study of History میں بڑی خوبی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ وہ لکھتا ہے:
"ایک قدیم روایت کے مطابق اسکندریہ کی لائبریری کا کل ذخیرہ، جو نو سو سال سے زائد کی محنت کا نتیجہ تھا، پبلک حماموں کو گرم کرنے کے لئے ایندھن کے کام میں لے آیا گیا۔ ہمارے زمانے میں کتابوں کے جلا ڈالنے کے سلسلے میں ہٹلر نے وہ سب کچھ کیا جو وہ کر سکتا تھا، اگرچہ چھاپہ خانوں کے قیام کے باعث آج کل کے ظالم حکمرانوں کے لئے، جو اس سمیت قدم اٹھائیں، نتائج کے اعتبار سے مکمل کامیابی حاصل کر لینا بہت زیادہ دشوار ہو گیا ہے۔
ہٹلر کے ہم عصر مصطفیٰ کمال اتاترک نے ایک زیادہ موزوں طریقہ اختیار کیا، ترکی ڈکٹیٹر کا مقصد اپنے ہم وطنوں کے ذہن کو ایرانی تمدنی ماحول سے رہا کر کے، جو ان کو ورثے میں ملا تھا، زبردستی مغربی تمدن کے سانچے میں ڈھالنا تھا اور انہوں نے کتابیں سوخت کرنے کے بجائے حروف تہجی کو بدل ڈالنے پر قناعت کر لی۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد ترکی غازی کے لئے چینی شہنشاہ یا عرب خلیفہ کی نقل کرنا غیر ضروری ہو گیا تھا۔ فارسی، عربی اور ترکی لٹریچر کے کلاسیکی ذخائر اب نئی نسلوں کی دسترس سے باہر ہو گئے تھے، اب کتابوں کے جلانے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی تھی، کیونکہ وہ حروف تہجی، جو کہ ان کی کنجی کی حیثیت رکھتے تھے، وہی منسوخ کر دئیے گئے تھے، اب یہ ذخائر اطمینان کے ساتھ الماریوں میں بند پڑے رہ سکتے تھے۔ علاوہ چند سن رسیدہ علماء کے ان کو ہاتھ لگانے والا اب کوئی نہ تھا۔"
(A Study of History- P.518-519۔ اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش، ص 66-67)
یہ تھا وہ ترکی "اجتہاد" جس کے نتیجے میں نہ صرف خلافت کا وہ ادارہ ختم ہو گیا جو چودہ سو سال سے مسلمانوں کی مرکزیت کی علامت اور عالم اسلام کے تحفظ و بقا کی ضمانت تھا، بلکہ ترکی قوم اپنی اسلامی اقدار و روایات سے بھی بیگانہ ہو گئی۔
کہا جا رہا ہے کہ ترکی کا یہ اجتہاد روحِ اسلام کے عین مطابق تھا اور اب ہمیں بھی اسی کی پیروی کرنی چاہیے۔ إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ حالانکہ یہ مصطفیٰ کمال کی سراسر مغرب زدگی کا نتیجہ تھا جس پر خود علامہ اقبال نے بھی جاوید نامہ (ص 72) میں حسب ذیل تنقید فرمائی تھی۔
مصطفیٰ کو از تجدد می سرود
گفت نقش کہنہ را با یدز دود
نونگردو کعبہ را رخت حیات
گرزا فرنگ آیدش لات و منات
ترک را آھنگ نودر چنگ نیست
تازہ اش جز کہنہ افرنگ نیست
سینہ اورادے دیگر نبود
در ضمیرش عالمے دیگر نبود
لاجرم باعالم موجود ساخت
مثل موم از سوز ایں عالم گداخت
علاوہ ازیں علامہ نے اس مغربی تہذیب اور اس کے دل دادگان پر بھی بڑی زور دار تنقیدیں کی ہیں جس سے اہل علم باخبر ہیں جو ترکی اجتہاد کے نتیجے میں ترکی کا مقدر بنی۔
"اجتہاد" یا اسلام سے بغاوت و انحراف؟ : زیر بحث ترکی "اجتہاد" کا ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے کہ کیا اسے فی الواقع "ترکی اجتہاد" کہا بھی جا سکتا ہے؟ کیا اس "اجتہاد" میں ترکی کے سب یا قابل ذکر نمایاں اہلِ علم و فکر شامل تھے یا یہ صرف مصطفیٰ کمال اور اس کے چند رفقاء کی مطلق العنانیت اور جبر و استبداد کا نتیجہ تھا؟
حضرت علامہ تو اب اس دنیا میں موجود نہیں، لیکن ان کی ایک غیر واضح بات کو بنیاد بنا کر اس پر ایک پورے فلسفے اور نظرئیے کی عمارت کھڑی کرنے والے دانش وروں سے ہم ضرور یہ استفسار کریں گے کہ ترکی کے اس "اجتہاد" کی نوعیت واضح کریں کہ مذکورہ "اجتہادات" مصطفیٰ کمال کی ذاتی خواہشات کا نتیجہ تھے یا وہ پوری ترکی قوم کی سوچ کے عکاس تھے؟ اگر اس میں پوری قوم یا اس کے نمائندے شامل تھے تو کس طرح؟ ان اجتہادی مباحث میں کس نے کیا حصہ لیا؟ کس طرح سوچ بچار ہوا؟ کون کون سے زاوئیے بحث و نظر کی گرفت میں آئے؟ اور پھر کس طرح پوری قوم یا اس کے نمائندگان ایک رائے یا "اجتہاد" پر متفق ہوئے؟ نیز پوری قوم اس "اجتہاد" میں اس کی ہمنوا تھی تو پھر اس اجتہاد کے نفاذ میں اسے جبر و استبداد کا سہارا کیوں لینا پڑا؟ اس نے واروگیر کا بازار کیوں گرم کیا؟
ان تمام سوالات کی وضاحت ضروری ہے کیونکہ راقم کے علم کے مطابق یہ "ترکی اجتہاد" ہی نہیں تھا۔ یہ صرف ایک مطلق العنان حکمران کی اسلام سے بیزاری اور مغربی تہذیب پر فریفتگی کا شاخسانہ تھا اور ترکی میں جو کچھ ہوا ہے وہ ترکی قوم کی خواہشات کے علی الرغم ہوا ہے، سنگینوں کے سائے میں ہوا ہے، جبر و تشدد کے ذریعے سے ہوا ہے اور زبانوں پر پہرے بٹھا دینے اور ضمیروں پر قفل چڑھا دینے کے بعد ہوا ہے۔ جس شخص نے بھی اس دور کی کچھ تاریخ پڑھی ہے یا اس دور کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے والوں کے مشاہدات سنے ہیں وہ یقینا اس کا اعتراف کریں گے۔ ہو سکتا ہے بہت سے لوگوں کے لئے راقم کی یہ صراحت ایک "انکشاف" کا درجہ رکھتی ہو، اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر ایک پاکستانی صاحبِ علم و قلم بزرگ کے دورہ ترکی کے مشاہدات سے چند اقتباسات قارئین کرام کی خدمت میں پیش کر دئیے جائیں تاکہ مصطفیٰ کمال کے "اجتہادات" اور اس پر ترکی قوم کے رد عمل کی وضاحت ہو جائے۔
یہ بزرگ ہیں جناب خلیل حامدی صاحب، جنہوں نے آج سے چوبیس سال قبل 1968ء میں ترکی کا دورہ فرمایا تھا اور اپنے مشاہدات و تاثرات قلم بند فرمائے تھے۔ جناب خلیل حامدی صاحب ایک ترکی عالم شیخ الاسلام عمر نصوحی سے ملاقات کی تفصیل اور ان کی زبانی ترکی میں لادینیت کی تاریخ پر اس طرح روشنی ڈالتے ہیں۔
"شیخ عمر نصوحی کا پورے ملک میں بڑا زبردست احترام پایا جاتا ہے ۔۔۔ اسلامی فقہ پر موصوف کو زبردست عبور حاصل ہے۔ انہوں نے اس دور میں بھی تعلیم و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا ہے جب یہ شغل جاری رکھنے والوں کے سر قلم ہوتے رہے اور دین کو پکڑ کر رکھنا آگ کا انگارہ مٹھی میں لینے کے مترادف تھا۔
میں نے شیخ عمر نصوحی سے اس دور کے حالات سننے کی خواہش ظاہر کی جب ترک قوم کو دین سے بیگانہ کرنے کی مہم چل رہی تھی۔ کیونکہ شیخ عمر نصوحی نہ صرف یہ کہ اس دور کے عینی شاہد ہیں بلکہ خود ان حالات کو بھگت چکے ہیں۔ شیخ نصوحی پچھلے حالات کو چھیڑنا پسند نہ کرتے تھے۔ انہوں نے اس پر مسرت کا اظہار کیا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے دین پر جو طوفان خیز آزمائشیں ٹوٹیں اور پورا ملک ایک شبِ تاریک میں تبدیل ہو گیا، وہ اب ختم ہو رہی ہیں اور قبل اس کے کہ وہ اس دنیا سے رخصت ہوں، وہ اپنی آنکھوں سے نوجوانوں سے اندر دین کی عام بیداری کے ایمان افروز منظر دیکھ رہے ہیں۔ شیخ نے بتایا کہ ایک ہزار سال سے زائد عرصے تک جو ملک اسلام کا گہوارہ رہا، بلکہ اسلام کا محافظ رہا، اسے صرف آٹھ سال کے اندر اسلام سے بیگانہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ 1924ء سے تبدیلی کا یہ سلسلہ شروع ہوا اور 1932ء تک جاری رہا۔ موضوع نازک تھا، سب کے دلوں کے تار ہل گئے۔ مجلس میں ایک اور صاحب علم بیٹھے تھے۔ انہوں نے تاریخی ترتیب کی رعایت سے بتایا کہ سلطان وحید الدین آخری عثمانی خلیفہ تھے۔ مصطفیٰ کمال نے 29 اکتوبر 1923ء کو انہیں اختیارات سے محروم کر دیا اور صرف امور مذہبی کے سربراہ کی حیثیت سے ان کو باقی رکھا۔ 3 مارچ 1924ء کو بالآخر نیشنل اسمبلی نے خلافت پر بھی خطِ تنسیخ پھیر دیا۔ اسمبلی نے اسی اجلاس میں وزارتِ شریعت اور وزارتِ اوقاف کو بھی منسوخ کر دیا۔ کچھ دنوں بعد شرعی عدالتیں ختم کر کے انہیں سِول عدالتوں کے اندر ضم کر دیا گیا۔ اس کے بعد مصطفیٰ کمال نے دوسرا بھرپور قدم اٹھایا اور تمام دینی مدارس اور دینی اداروں کو بند کر دیا اور ایک بے اختیار اور نیم مردہ سا مذہبی ادارہ "محکمہ امورِ مذہبی" کے نام سے کھول دیا۔ بلکہ حکومت نے دینی تعلیم کے معاملے میں یہاں تک تشدد برتا کہ پرائمری اسکولوں کے اندر چھوٹے چھوٹے بچوں کو یہ سکھانا شروع کر دیا کہ ہماری پسماندگی کا اصل سبب دین ہے۔ حکومت نے باقاعدہ سابقہ دستور کے اندر سے یہ فقرہ حذف کر دیا کہ ۔۔۔ "ریاست کا مذہب اسلام ہو گا" ۔۔۔ اس تبدیلی کے بعد تمام اسلامی قوانین منسوخ کر دئیے، اسلامی شریعت کو یہ لوگ "شریعت عتیقت" کہتے تھے یعنی بوسیدہ قانون۔ اسلامی قوانین کے بجائے ان لوگوں نے سوئٹرزلینڈ کا سول لاء اور اٹلی کا فوجداری قانون، عوام الناس کی روایات و عادات کا لحاظ کئے بغیر ٹھونس دیا۔ شروع شروع میں تو خود جج ان نئے اور نامانوس قوانین کی وجہ سے سخت ذہنی اور فکری پراگندگی میں مبتلا ہو گئے اور عدالتوں کے اندر کئی کئی سال تک مقدمات فیصلے کئے بغیر پڑے رہے۔ علیٰ ہذا القیاس صوفیاء کے تمام سلسلے بھی ممنوع قرار دے دئیے اور عیسائی پادریوں کی طرح علماء کے لئے ایک خاص یونیفارم مقرر کیا یعنی سیاہ جبہ اور سفید عمامہ۔ عوام الناس کو ہیٹ اور سوٹ پہننے پر مجبور کیا گیا، ایک کروڑ باشندوں کے لئے یکایک اتنی بڑی مقدار میں ہیٹ فراہم کرنا آسان کام نہ تھا، اس غرض کے لئے یورپ بھر سے ہر طرح کا ردی (CONDEMMED) مال درآمد کیا گیا۔ جمعۃ المبارک کی بجائے اتوار کو چھٹی کا دن قرار دیا گیا۔ حکومت نے مذہبی احساسات کو یہاں تک کچلنے کی کوشش کی کہ عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے اجتماعات بھی اسے گوارا نہ تھے۔ اس نے ان اجتماعات کو بھی پہلے خلاف قانون قرار دے دیا اور پھر اس قانون پر جب بہت اضطراب پیدا ہوا تو پھر اسے تبدیل کر دیا گیا، ہجری جنتری کو ختم کر دیا گیا، عربی اذان ممنوع قرار دے دی، وراثت کے قانون میں بنیادی تبدیلی کر ڈالی اور مرد و عورت کو وراثت میں برابر کا حصہ دار ٹھہرا دیا گیا۔ وراثت کے اصل حصے داروں (ذوی الارحام) کو فروع بنا دیا اور قانونی نظام کے اندر ایسا انتشار پیدا ہوا کہ توبہ ہی بھلی۔ ترکی کا اسلام سے ہر طرح کا رشتہ کاٹنے کے لئے بالاآخر دارالحکومت کو استنبول سے انقرہ تبدیل کر دیا گیا، کیونکہ استنبول مسجدوں اور مذہبی اداروں کا شہر ہے اور یہاں کے چپے چپے سے عثمانی تہذیب جھلک رہی ہے۔ اس لئے ایک نئی زندگی کا افتتاح کرنے کے لئے یہ شہر موزوں نہ سمجھا گیا، انقرہ ایک معمولی سا قصبہ تھا اسے دارالحکومت بنا دیا گیا اور شہر کے اندر مسجد کی تعمیر ممنوع قرار دی گئی ۔۔۔ اس ملک پر سب سے زیادہ آزمائش کی گھڑی ہو تھی جب عربی رسم الخط کے بجائے لاطینی رسم الخط نافذ کیا گیا۔ یہ تبدیلی چونکہ تاریخ، فطرت اور روایات کے سراسر خلاف اور معقولیت کے ہر پہلو سے عاری تھی اس لئے نہ صرف عوام کے لئے اس کو قبول کرنا آسان نہ تھا بلکہ خود حکومت کو بھی سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت نے اپنے تمام ذرائع اس تبدیلی پر لگا دئیے اور ان تمام لوگوں کو جو لاطینی حروف کا علم رکھتے تھے، جمع کیا گیا اور انہیں عوام کی تعلیم کے لئے بہ جبر مامور کیا گیا۔ 2 اگست 1928ء کو پہلی مرتبہ انقرہ کے اندر لاطینی حروف کے رواج کا اعلان کیا گیا اور اس اعلان کے ساتھ وہ تمام مطبوعہ کتابیں جو عربی زبان میں موجود تھیں، انہیں جمع کر کے مصر، ایران اور دوسرے ممالک کو برآمد کر دیا گیا، چھاپہ خانہ والوں کو حکم دے دیا گیا کہ وہ عربی حروف کی پلیٹیں چھاپہ خانوں میں نہیں رکھ سکتے۔ کالجوں کے نصاب میں سے عربی اور فارسی زبانیں نکال دی گئیں کیونکہ اب ان کی ضرورت باقی نہ رہی تھی۔ اسی پر اکتفاء نہ کیا گیا بلکہ ترکی زبان کے اندر سے عربی اور فارسی کے الفا کو چن چن کر نکالا گیا اور ان کے بجائے ترکی زبان کے عامی الفاظ کو شامل کیا گیا یا فرانسیسی الفاظ کو اختیار کیا گیا۔ 1945ء میں ترکی کا دستور لاطینی زبان میں شائع ہوا۔
("ترجمان القرآن" لاہور، جلد 70، شمارہ 6، بابت فروری 1969ء۔ بعد میں یہ سفر نامہ ۔۔۔ ترکی، قدیم و جدید ۔۔۔ کے عنوان سے کتابی شکل میں شائع ہو گیا ہے۔ ملاحظہ ہو ص 40-44، طبع دوم)
اس کے بعد جناب حامدی صاحب نے "لادینیت کے نفاذ کا رد عمل" کے عنوان سے ترکی کے مسلم عوام کی اس مزاحمت اور ردعمل کا تذکرہ کیا ہے جس کا ظہور مصطفیٰ کمال کے "اجتہادات" کے بعد ہوا اور اپنے "اجتہادات" کے نفاذ کے لئے جو جبر و تشدد بانی انقلاب کی طرف سے کیا گیا، اس کی تفصیل بیان کی ہے۔ یہ کتاب مارکیٹ میں دستیاب ہے، چونکہ صفحات زیادہ تفصیل کے متحمل نہیں، اس لئے شائقین اصل کتاب ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ تاہم دینی تعلیم اور دینی اداروں پر پابندی کے بعد ترکوں نے دینی تعلیم کا سلسلہ جس خفیہ طریقے سے جاری رکھا، اس سلسلے میں بھی ایک اقتباس پیش کئے بغیر آگے بڑھنے کو جی نہیں چاہتا۔ جناب حامدی صاحب شیخ یشار کی زبانی لکھتے ہیں
"شیخ یشار نے بتایا انہوں نے ثانوی تک ترکی کے سیکولر اسکولوں میں تعلیم حاصل کی ہے۔ اس کے بعد انہیں دینی تعلیم اور عربی کا شوق پیدا ہوا۔ مگر یہ شوق کیسے شرمندہ تکمیل ہو؟ ملک کے اندر سیکولر تعلیم کا غلبہ تھا، اور دینی تعلیم کے حصول کے لئے ملک سے باہر نکلنے کی بھی اجازت نہ تھی۔ یہ مشکل صرف شیخ یشار کے لئے پریشانی کی موجب نہ تھی بلکہ تمام ترک مسلمانوں کے لئے قلق و اضطراب کا سبب بن چکی تھی۔ مگر ترک مسلمان اس لحاظ سے غیر معمولی داد و تحسین کا مستحق ہے کہ اُس نے "روزِ سیاہ" میں بھی "پیر کنعان" سے تعلق نہ توڑا اور اپنی ہر مشکل کا کوئی نہ کوئی حل نکال لیا۔ جب عربی اذان ممنوع تھی تو گھروں کے اندر چھپ چھپ کر عربی میں اذان دیتے اور نماز پڑھتے۔ شادی بیاہ کے قوانین اسلامی شریعت کے خلاف دیکھے تو اس میں بھی بڑا دلچسپ راستہ پیدا کر لیا (جس کی تفصیل کتاب میں دیکھی جا سکتی ہے) دینی اور عربی تعلیم کے لئے بھی انہوں نے خطر پسندی کا ثبوت دیا اور زمین دوز دینی مدرسے قائم کر دئیے۔ زمین دوز دینی مدرسوں کا وسیع نظام تھا اور پولیس بڑی جدوجہد اور جبر و تشدد کے باوجود ان کا سراغ لگانے میں ناکام رہتی تھی۔ ان مدرسوں میں تعلیم دینے والے اور تعلیم حاصل کرنے والے دونوں اپنی جانیں ہتھیلی پر لئے پھرتے تھے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ ان پر کما حقہ صادق آتے تھے کہ كالقا بض علی النار (گویا آگ مٹھی میں لے رکھی ہے) شیخ یشار نے بتایا کہ انہوں نے بھی ایسے ہی ایک مدرسے میں چار سال تک تعلیم حاصل کی ہے۔ ان کی دینی معلومات اور عربی کا ذوق اِسی مدرسے کا رہینِ منت ہے۔
شیخ بتانے لگے، ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ اندر درس ہو رہا تھا۔ استاذ طلبہ کے سامنے فقہ کے کسی مسئلے پر بحث کر رہے تھے، میں بھی ان میں شریک تھا۔ دریں اثناء یکایک باہر کا دروازہ کھٹکایا گیا۔ ہمیں متعلقہ آدمی نے اشارہ کر دیا کہ پولیس دروازے پر ہے اور وہ اس مدرسے پر چھاپہ مارنا چاہتی ہے۔ چنانچہ ہم تمام طلبہ مع کتابوں کے ایک ایسے خفیہ دروازے سے نکل گئے جسے ہم "ایمرجنسی گیٹ" کہا کرتے تھے۔ ہمارے استاذ نے دروازہ کھولا، پولیس کے سپاہی دندناتے ہوئے اندر داخل ہوئے اور بری چابک دستی کے ساتھ ادھر ادھر انہوں نے ہاتھ مارے۔ مگر انہیں کوئی ایسی چیز ہاتھ نہ لگی جس سے یہ ثابت کر سکیں کہ یہاں "رجعت پسندوں" اور "انقلاب دشمنوں" کا کوئی اڈا ہے۔ استاذ کو دھمکیاں دیں، مگر انہوں نے کہا کہ یہ ذاتی رہائش گاہ ہے، تم جس شبہ کی بناء پر یہاں آئے ہو وہ درست نہیں ہے۔ آخر کار پولیس کا دستہ خائب و خاسر واپس لوٹ گیا۔ اگر اس وقت ذرا بھی غفلت یا سستی ہو جاتی یا "رصد گاہ" کا نظام ڈھیلا ہو جاتا تو یقینا ہم پولیس کے قبضے میں ہوتے اور موت کی سزا سے لے کر عمر قید کی سزا تک سے دوچار ہوتے ۔۔ وہ دور سخت مشکلات کا دور تھا، میں نے ان مشکلات کی طوفان خیز فضا میں چار سال گزارے ہیں۔ حکمرانوں کو ضد تھی کہ ترکی میں عربی کا ایک لفظ سنائی نہ دے اور ہم درویشوں کو ضد تھی کہ عربی سے ہمیں کوئی محروم نہیں کر سکتا۔ یہ ہمارا سرمایہ ایمان ہے۔ اور ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہیں سنگِ گراں اور اس وقت "اس سرزمین کا بطن اس کے ظاہر سے بہتر تھا" کیونکہ ظاہر "يقول اتاترك" (ترکوں کا باپ یہ کہتا ہے) پکار رہا تھا اور بطن "قال الله و قال الرسول" (خدا اور اس کے رسول نے فرمایا) کہہ رہا تھا۔ شیخ یشار نے بتایا کہ زمین دوز خفیہ عربی مدرسے ارضِ روم اور مشرقی علاقے میں بکثرت پھیلے ہوئے تھے اور ان علاقوں میں آج بھی ایسے لوگ کثیر تعداد میں ملیں گے جنہوں نے ان مدرسوں میں تعلیم پائی ہے"
(ماہنامہ "ترجمان القرآن" لاہور، جلد 72، شمارہ 2، بابت اکتوبر 1969ء ص 54-55 ترکی- قدیم و جدید، ص 188-191 طبع دوم، لاہور)
ان مذکورہ تفصیلات سے ہر شخص بہ آسانی اندازہ لگا سکتا ہے کہ مصطفیٰ کمال کے ہاتھوں ترکی میں جو تبدیلی آئی وہ "اجتہاد" تھا یا اسلام سے انحراف و بغاوت کی منظم سازش اور جدوجہد؟ اس کے بعد یہ فیصلہ بھی آسانی سے ہو سکے گا کہ اسے "اجتہاد" کہا بھی جا سکتا ہے؟ علاوہ ازیں خود علامہ اقبال بھی مصطفیٰ کمال کے بارے میں جو حسنِ ظن رکھتے تھے، اس کے بعد کے اقدامات سے اس میں فرق آ گیا تھا اور اپنی رائے تبدیل کر لینے پر مجبور ہو گئے تھے۔ چنانچہ ڈاکٹر جاوید اقبال لکھتے ہیں "ترکی کے مصطفیٰ کمال اور ایران کے رضا شاہ پہلوی سے بھی اقبال وقتی طور پر متاثر ہوئے۔ لیکن بالآخر ان دونوں سے ناامید اور مایوس ہوئے اور اسی ناامیدی اور مایوسی کے عالم میں فرمایا
مری نوا سے گریبان لالہ چاک ہوا
نہ مصطفیٰ نہ رضا شاہ میں نمود اسکی
نسیمِ صبح چمن کی تلاش میں ہے ابھی
کہ روحِ مشرق بدن کی تلاش میں ہے ابھی
(زندہ رود۔ ص: 146، ج: 3)
(2) جمہوری طرز حکومت کیا روح اسلام کے عین مطابق ہے؟
یہ دعویٰ کہ جمہوری طرزِ حکومت روح اسلام کے عین مطابق ہے، اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے نظامِ خلافت و سیاست میں جمہوری اقدار موجود ہیں، اس میں اظہارِ رائے پر پابندی نہیں ہے، خلفاء و عمال کو حکومت پر تنقید کی اجازت ہے، حکمران احتساب سے بالا نہیں ہیں، حکمران عوام کے جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کے ذمے دار ہیں اور اہل صلاح افراد سے مشاورت کا اہتمام ان کے لئے ضروری ہے۔ تو یہ "جمہوریت" بلاشبہ اسلام میں ہے۔
اور اگر فاضل مقالہ نگار کے نزدیک اس سے مراد مغربی جمہوریت ہے تو راقم علیٰ وجہ البصیرت کہتا ہے کہ اسے روح اسلام کے عین مطابق قرار دینا حقائق کے یکسر خلاف ہے۔ بلاشبہ شاطرانِ مغرب نے "جمہوریت" کا ناد اس زور سے پھونکا ہے کہ بڑے بڑے اہل علم بھی اس زلفِ گرہ گیر کے اسیر ہو گئے ہیں اور شاید جمہوریت کی عشوہ طرازیوں نے سب کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ جمہوریت کی جو عام تعریف کی جاتی ہے
۔۔۔ "عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے سے، عوام کے لئے" ۔۔۔
اس کا عملا دنیا میں کہیں بھی وجود نہیں ہے۔ بلاشبہ عوام کو ووٹ دینے کا حق ضرور حاصل ہے اور اس طرح انہیں حکومت میں شریک اور حصے دار بھی باور کرایا جاتا ہے۔ لیکن
٭ ایک تو وہ حضرات جو خطابت و طلاقتِ لسانی کے جوہر سے فیض یاب، دولت کی فراوانی اور ہر طرح کے وسائل سے بہرہ ور اور وسیع اثر و رسوخ یا اونچے جاہ و منصب کے حامل ہوں، عوام کی رائے کو نہ صرف بری طرح متاثر کر لیتے ہیں بلکہ بسا اوقات انہیں سخت گمراہ کرنے میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اور اس طرح عوام کی ایک بہت بڑی اکثریت اپنی رائے کا شعوری یا غیر شعوری طور پر غلط استعمال کرتی ہے جس کا سارا فائدہ ابن الوقت، خود غرض، مخصوص مفادات کے اسیر اور شاطر و عیار قسم کے لوگوں کو ہی پہنچتا ہے۔ ہمارے اپنے ملک کی 45 سالہ سیاست اس پر شاہدِ عدل ہے۔
٭ دوسرے، منتخب شدہ افراد انتخاب کے بعد عوام کی رائے، ان کے مسائل اور ان کے جذبات کو قطعا کوئی اہمیت نہیں دیتے، وہ اپنا تمام حق ِ حکمرانی یا حقِ نیابت مخصوص اغراض و مقاصد کے لئے یا مخصوص مفادات کے حامل ٹولے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اور یوں یہ اسمبلیاں بالعموم عوامی مسائل کے حل کے بجائے جنگِ زرگری یا اقتدار کی رسہ کشی کے اڈوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔
٭ علاوہ ازیں اور بھی خرابیاں ہیں جن کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں۔ ہو سکتا ہے بعض لوگ کہیں کہ یہ خرابیاں صرف ایشیائی اور ترقی پذیر ملکوں میں ہی پائی جاتی ہیں جہاں ابھی تعلیم اور سیاسی شعور کی کمی ہے، جو تعلیم کی شرح میں اضافے اور سیاسی پختگی سے ختم ہو جائیں گی۔ لیکن جن اہل نظر کو خود انگلینڈ اور یورپ جا کر "جمہوریت" کے مشاہدے کا موقع ملا ہے، انہوں نے وہاں بھی یہی کچھ دیکھا ہے۔ چنانچہ پاک و ہند کی مسلمہ اسلامی علمی شخصیت مولانا سید سلیمان ندوی اپنے دیارِ فرنگ کے تاثرات میں لکھتے ہیں
"یورپ کی جمہوریت کا ساری دنیا میں غلغلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہاں بھی ایک طبقے کی حکومت رہتی ہے، جس میں عوام کو کوئی دخل نہیں ہوتا اور حقیقی جمہوریت وہاں بھی مفقود ہے۔ ہندوستان میں بیٹھ کر یورپ کی جمہوریت اور آزادی و حریت کے بڑے قصے سنے تھے، لیکن واقعہ یہ ہے کہ عملا یہاں بھی اربابِ حکومت اسی درجہ مستبد ہیں جس درجہ مشرق میں۔ عوام کو صرف یہ اختیار ہے کہ ممبر منتخب کر لیں، ممبروں کو یہ اختیار ہے کہ وزراء کو منتخب کریں۔ اس کے بعد عوام کو ممبروں پر اور نہ ممبروں کو وزراء پر اختیار ہے۔ فرانس جو ری پبلک کہلاتا ہے، وہاں کی حالت انگلینڈ سے بھی بدتر ہے، عوام کو حکومت کی پالیسی میں ذرہ برابر دخل نہیں۔ سب سمجھ میں آیا کہ یہاں سوشلزم کے برگ و بار پیدا کرنے کے کیا اسباب ہیں؟ یہاں امیر و غریب طبقوں میں معاشرتا اس درجہ بُعد ہیں جس قدر خدا اور بندے میں" (حیاتِ سلیمان، از شاہ معین الدین احمد ندوی ص 197)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
"یورپ کی جمہوریت کا رُعب تو یہاں آ کر فورا اتر گیا، یورپ کی جمہوری ترقی کی اصلیت صرف اس قدر ہے کہ ابتدائے ایام میں صرف مالک بادشاہ ہوتا تھا، اس کے بعد زمین دار اور تعلقہ دار و نواب مالک ہو گئے جن کو ٹوریز یا کنسرویٹوز کہتے ہیں۔ اب تمام تر قوت تاجروں، دولت مندوں اور سوداگروں کے ہاتھوں میں ہے جن کا نام لبرل ہے، ان کی سیاست کا مقصد صرف اپنی تجارت کی رونق اور دولت کا حصول ہے اور بس"
(حیاتِ سلیمان۔ ص 205)
جمہوریت کے معلم فرانس کی جمہوریت کے بارے میں لکھتے ہیں:
"فرانس کی جمہوریت اور آزادی کا افسانہ تو بہت سن چکا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ قوم انگریزوں سے بھی زیادہ مستبد اور اقتدار پسند ہے۔ عوام کو سلطنت میں کوئی دخل نہیں۔ صرف اربابِ جاہ و ثروت کے ہاتھوں میں حکومت ہے۔ پہلے یہ سن کر بہت خوشی تھی کہ فرنچ اپنی حکومت کو شہنشاہی و بادشاہی اور نو آباد شہریوں کو محکوم اقوام اور دیگر اقوام محکومہ کو انگریزوں کی طرح رعایا نہیں کہتے، بلکہ اپنی حکومت کو کامن ویلتھ (دولتِ مشترکہ) اور رعایا کو سٹیزن یعنی شہری کہتے ہیں۔ گویا فرانس کے زیر سایہ بسنے والے ایک ملک و شہر کے سب بھائی بھائی ہیں۔ لیکن افسوس یورپ آ کر معلوم ہوا کہ ہر لفظ سے اس کا اصل مفہوم مراد لینا ضروری نہیں۔ جیسے لیگ آف نیشنز (مجلسِ اقوام) انڈی پینڈنٹ (استقلال و خود مختاری) مانڈیٹ (حکم برداری) سلف ڈٹرمینیشن (اختیارِ ذاتی) وغیرہ الفاظ کے معنی یورپ میں وہ نہیں سمجھے جاتے جو ایشیاء میں از روئے لغت سمجھے جا سکتے ہیں۔ فرانس کا حق شہریت فرنچ، انڈیا، مراکش، الجیریا اور تیونس وغیرہ کے باشندوں کو آپ جانتے ہیں، کب حاصل ہو سکتا ہے؟ جب وہاں کے باشندے فرنچ قانون اختیار کر لیں، فرنچ حکومت تسلیم کر لینے کے بعد فرنچ قانون اختیار کرنے کے معنی آپ سمجھے؟ یعنی دیگر قوانینِ حکومت کے ساتھ نکاح، طلاق، وراثت اور دیگر معاملات میں اپنا مذہبی و قومی قانون چھوڑ دیا جائے، جس کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ اسلام یا ہندو دھرم کو خیرباد کہو، تب فرانس کے حقِ شہریت کی دولت عظمیٰ مل سکتی ہے اور تب نو آباد کاری کا باشندہ ایک فرنچ کے برابر اور مساوی حقوق پا سکتا ہے۔ اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اپنی قومیت و جنسیت چھوڑ کر فرانسیسی قومیت اختیار کر لو۔ ظاہر ہے کہ مسلمان اس کو قبول نہیں کر سکتے، اس لئے وہ حقِ شہریت سے محروم ہیں اور حقوق میں ایک فرنچ مین کے برابر نہیں ہو سکتے۔ جمہوریہ فرانس کا شِعار (موٹو) یہ چار الفاظ ہیں۔
اخوت، مساوات، عدالت، آزادی
حکومت کے ہر دفتر اور ایوان کے صدر دروازے پر یہ الفاظ آپ کو کندہ ملیں گے لیکن اس کے معنی وہ نہ سمجھیں جو لغت کی زبان آپ کو بتاتی ہے۔
ایک مشہور فرانسیسی مستشرق لوئی مسینان کی مجھ سے خط و کتابت ہوئی، تو میں نے پوچھا کہ ان الفاظ کے کیا معنی ہیں، اس نے سچ کہا کہ ان الفاظ کو نہ دیکھو جو دیوار و دَر پر کندہ نظر آتے ہیں، بلکہ ان کو دیکھو جو دلوں میں منقوش ہیں"
(حیاتِ سلیمان، ص 206، طبع اعظم گڑھ)
یہ ہے فرانس، یورپ اور انگلینڈ کی جمہوریتوں کا حال، جن کی صدائے بازگشت سے ساری دنیا گونج رہی ہے اور اشتراکی ملکوں کی جمہوریتوں کا جو حال ہے، وہ تو محتاجِ وضاحت ہی نہیں۔
جمہوریت کے بارے میں علامہ کی رائے ۔۔۔ انہی جمہوریتوں کے بارے میں، جن کا مشاہدہ علامہ نے بھی خود یورپ میں رہ کر کیا تھا، یہ فرمایا اور بالکل بجا فرمایا
ہے وہی سازِ کہن مغرب کا جمہوری نظام
جس کے پردے میں نہیں غیراز نوائے قیصری
دیوِ استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری
مجلس آئین و اصلاح و رعایات و حقوق
طبِ مغرب میں مزے میٹھے اثر خواب آوری
گرمیِ گفتار اعضائے مجالس الاماں
یہ بھی سرمایہ داروں کی ہے جنگِ زرگری
اس سرابِ رنگ و بو کو گلستاں سمجھا ہے تو
آہ اے ناداں قفس کو آشیاں سمجھا ہے تو
(بانگ درا، ص 262)
"ضرب کلیم" میں مرد فرنگی کی زبان میں جمہوریت کی تعریف اس طرح کرتے ہیں۔
اس راز کو اک مرد فرنگی نے کیا فاش
ہر چند کہ دانا اسے کھولا نہیں کرتے
جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گِنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
۔۔۔۔ ٭ ۔۔۔۔
تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن اندرون چنگیز سے تاریک تر
(ارمغانِ حجاز)
ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس
جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر
(ارمغانِ حجاز)
یہاں مرض کا سبب ہے غلامی و تقلید
وہاں مرض کا سبب ہے نظامِ جمہوری
(ارمغانِ حجاز)
اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
الیکشن، ممبری کونسل، صدارت
بنائے خوب آزادی نے پھندے
میاں نجار بھی چھیلے گئے ساتھ
نہایت تیز ہیں یورپ کے رندے
فارسی کلام
متاعِ معنی بیگانہ از دوں فطرتاں جوئی
زموراں شوخی طبع سلیمانے نمی آید
گریز از طرزِ جمہوری، غلامِ پختہ کارے شو
کہ از مغز دو صد خر فکرِ انسانے نمی آید
پیامِ مشرق
یہ اشعار اپنے مفہوم میں واضح ہیں، اور انہی امور کی تائید کرتے ہیں جن کی طرف ہم اشارہ کر آئے ہیں نیز مغربی جمہوریت سے علامہ کی بیزاری بھی ان سے عیاں ہے۔ کلام اقبال کے شارحین بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں، چنانچہ ہم ذیل میں صرف دو انتہائی معتبر شارحین کی صراحت پیش کرنے پر فی الحال قناعت کریں گے۔ ایک ڈاکٹر یوسف حسین خاں، جو خود بھی قدیم و جدید تعلیم سے آراستہ اور فرانس کے تعلیم یافتہ ایک بلند پایہ اہل علم و اہل قلم تھے۔ ان کی "روحِ اقبال" اقبالیات میں ایک نہایت دقیع اور گراں قدر کتاب سمجھی اور مانی جاتی ہے۔ اور دوسرے خود علامہ کے صاجزادے ڈاکٹر جاوید اقبال، جن کے مستند ہونے میں شک ہی نہیں کیا جا سکتا۔
چنانچہ ڈاکٹر جاوید اقبال فرماتے ہیں۔
"جمہوری طرز حکومت پر ایک مفکر کی حیثیت سے ان کا اعتراض خالصتا اخلاقی اور اُصولی تھا کیونکہ اس میں انتخاب کی بنیاد ووٹروں کی گنتی پر رکھی جاتی ہے اور اس گنتی میں ایک صحیح یا مناسب امیدوار محض ایک ووٹ کم پڑنے سے کسی غلط یا غیر مناسب امیدوار کے مقابلے میں شکست کھا سکتا ہے۔ جمہوری نظام کے اس سُقم کا اعتراف ہر سیاسی مفکر نے کیا ہے ۔۔ اسی طرح وہ برصغیر میں ایسے جمہوری نظام کے انعقاد کے بھی خلاف تھے جس سے مسلمان من حیث القوم ایک اقلیت میں منتقل کر دئیے جائیں۔ نیز انہیں یہ خدشہ تھا کہ کسی بھی پسماندہ ملک میں، جس کے عوام زیادہ تر ان پڑھ، غیر منظم اور فاقہ کش ہوں، وہاں جمہوریت کا تعارف سیاسی ابتری، معاشی تباہی، قومی انتشار اور ملک کے ٹوٹنے کا سبب بن سکتا ہے ۔۔ اقبال نہ مغرب کے سیکولر جمہوری نظام کے حامی تھے، نہ آج کے دور میں اسلام کے روایتی تصورِ ریاست (یعنی خلافت) کو کوئی اہمیت دیتے تھے"
(زندہ رود، ج 3، ص 660-661)
1931ء میں علامہ جب انگلستان جانے لگے تو ایک صحافی نے علامہ کا انٹرویو لیا اور اس میں اس نے حضرت علامہ سے مختلف سوال کئے۔ ڈاکٹر جاوید اقبال لکھتے ہیں
"سوال کیا گیا کہ وہ شاہی نظام کے حق میں ہیں؟ جواب دیا کہ وہ شاہی نظام قائم رکھنے کے حق میں نہیں ہیں، مگر جمہوریت کے بھی دل سے قائل نہیں، وہ جمہوریت کو محض اس لئے برداشت کرتے ہیں کہ اس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے" (زندہ رود، ج 3، ص 440)
اپنے سال وفات کی یکم جنوری 1938ء کو علامہ نے نئے سال کا ایک پیغام دیا جو آل انڈیا ریڈیو لاہور سے نشر کیا گیا۔ اس میں آپ نے فرمایا:
"عہد حاضر علم و دانش اور سائنسی اختراعات میں اپنے بے مثال ترقی پر بجا طور پر مفتخر ہے۔ آج زمان و مکان کی تمام وسعتیں سمٹ رہی ہیں اور انسان قدرت کے راز افشا کر کے اس کی قوتوں کو اپنے مقاصد کی خاطر استعمال کرنے میں حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔ لیکن تمام ترقی کے باوجود اس زمانے میں ملوکیت کے جبر و استبداد نے ڈیمو کریسی (جمہوریت) نیشنلزم (قومی پرستی) کمیونزم (اشتراکیت) فاشیزم (فسطائیت) اور نہ جانے کیا کیا نقاب اوڑھ رکھے ہیں۔ ان نقابوں کی آڑ میں دنیا کے کونے کونے میں قدرِ حریت اور شرفِ انسانیت کی ایسی مٹی پلید ہو رہی ہے کہ تاریخ عالم کا کوئی تاریک سے تاریک ورق بھی اس کی مثال پیش نہیں کر سکتا۔ نام نہاد سیاست دان، جنہیں قیادتِ عوام اور انتظام حکومت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، قتل و غارت اور ظلم و استبداد کے شیاطین ثابت ہوئے ہیں اور ان حاکموں نے، جن کا فرض ایسی اقدار کی سربلندی اور تحفظ تھا جو اعلیٰ انسانیت کی تشکیل و تعمیر کا سبب بنتی ہیں، اپنے اپنے مخصوص گروہوں کے طمع اور حرص کی خاطر لاکھوں انسانوں کا خون بہایا ہے اور کروڑوں کو اپنا محکوم بنا لیا ہے۔ (زندہ رود، ج 3، ص 634)
مذکورہ اقتباسات میں علامہ اقبال کی اپنی تصریحات بھی آ گئی ہیں جن سے ان کے ان اشعار کی تائید ہوتی ہے جن میں انہوں نے مغربی جمہوریت پر تنقید کی ہے۔
اور اب ملاحظہ فرمائیے ڈاکٹر یوسف حسین خاں کی تصریح، فرماتے ہیں:
"اقبال جدید مملکت کی جمہوری تنظیم کو ہر ملک کے لئے موزوں نہیں سمجھتا، یہی جمہوریت جو کمزور قوموں کے حقوق کی علم بردار بن کر اٹھی تھی، آج ملوکیت کے پست ترین مناظر دنیا کے سامنے پیش کر رہی ہے۔ فرانسیسی جمہوریت کو مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ انقلاب کے وقت "قوم زندہ باد" کا جو نعرہ بےبس مخلوق کو خوابِ غفلت سے بیدار کرنے کے لئے بلند کیا گیا تھا، وہی بعد میں جمہوری فرانس کی سلطنت کو وسیع کرنے اور دوسروں کو غلام بنانے کے لئے استعمال کیا گیا۔ قوت و اقتدار کا جذبہ متمدن دنیا کا سب سے زیادہ مؤثر جذبہ ہے جس کا شکار خود جمہوریتیں بن گئیں۔ پھر موجودہ جمہوریت کے خارجی مظاہر ایسے پھسپُھسے، زندگی کی دشواریوں سے گریز کرنے والے اور غیر مستحقوں کو سیاسی اقتدار کی گدی پر بٹھانے والے ہیں کہ اگر اقبال بھی اس دور کے دوسرے نامور مفکروں کی طرح ان سے بیزار ہے تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں" ۔۔ انسانیت کے تمام اہم فیصلوں کو جو زندگی کے رخ بدلنے والے ہوں محض تعداد کے تابع کر دینا انسانیت کے لئے باعثِ ننگ ہے۔ جمہوریت کا بڑا عیب جس کی طرف اقبال نے اشارہ کیا ہے یہ ہے کہ وہ شمار کرنا تو جانتی ہے لیکن وزن کرنا نہیں جانتی، جس کے بغیر ہئیت اجتماعیہ میں عدل و اعتدال قائم نہیں رہ سکتا" ۔۔ ("روحِ اقبال" ص 228-229، ادارہ اشاعتِ اردو، حیدر آباد، دکن)
کیا جمہوریت کی مخالفت کا کوئی مخصوص پس منظر تھا؟
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ علامہ اقبال نے متحدہ ہندوستان میں ایک مخصوص پس منظر کی وجہ سے جمہوریت کو ناقابل قبول قرار دیا تھا اور اس پر سخت تنقیدیں کی تھیں۔ کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو بالغ رائے دہندگی کی بنیاد پر اقتدار کی باگیں ہندو اکثریت کے ہاتھوں میں چلی جاتیں اور مسلمان ایک محکوم قوم کی حیثیت سے زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے۔ اس لئے اس پس منظر میں جمہوریت کی مخالفت بالکل صحیح تھی، تاہم علامہ کی اس مخالفت جمہوریت کو اسلامی ممالک پر چسپاں نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ اسلامی ملکوں کے لئے تو انہوں نے جمہوری طرز حکومت ہی کو روحِ اسلام کے عین مطابق قرار دیا ہے۔ علاوہ ازیں وہ آمریت و شہنشاہیت کے بھی خلاف تھے، بنا بریں اب جمہوریت کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے۔
یہ بات بلاشبہ اپنی جگہ صحیح ہے کہ متحدہ ہند میں جمہوریت کا مطلب ہندو اکثریت کا غلبہ ہی تھا، یہ بھی صحیح ہے کہ علامہ آمریت و ملوکیت کے بھی خلاف تھے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی واقعہ ہے کہ وہ مغرب کی سیکولر جمہوریت کے بھی قطعا حامی نہیں تھے۔ اس لئے ایک مخصوص پس منظر کے باوجود جمہوریت پر ان کی تنقید ایک اصول کے طور پر تھی کہ جمہوریت شمار کرنا جانتی ہے، وزن کرنا نہیں جانتی۔ اور علامہ کا یہ اعتراض علیٰ حالہ قائم ہے۔ علاوہ ازیں علامہ کا یہ خدشہ بھی کہ
"کسی بھی پسماندہ ملک میں، جس کے عوام زیادہ تر اَن پڑھ، غیر منظم اور فاقہ کش ہوں، وہاں جمہوریت کا تعارف سیاسی ابتری، معاشی تباہی، قومی انتشار اور ملک کے ٹوٹنے کا سبب بن سکتا ہے" (زندہ رود، ج 3، ص 660)
ایک امر واقعہ کی صورت میں رونما ہو چکا ہے اور ہمارا ملک اس مغربی جمہوری تماشے کی بدولت دولخت ہو چکا ہے اور یہ جمہوری تماشہ اگر اِسی طرح جاری رہا تو نہیں کہا جا سکتا کہ آئندہ ہمیں اور کیا کچھ دیکھنا پڑے گا؟ اگرچہ ہماری دعا اور خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مزید کوئی روزِ بد نہ دکھائے۔ لیکن محض ہماری خواہشوں سے حقائق تو تبدیل نہیں ہو سکتے تاآنکہ ہم حالات و واقعات کا دھارا بدلنے کے لئے کوئی مؤثر اور مفید اقدام نہ کریں۔
پس چہ باید کرد؟ اس لئے ضرورت ہے کہ مغرب کی نقالی اور اندھا دھند تقلید کی بجائے ہم کوئی ایسا طرز حکومت وضع اور اختیار کریں کہ جس میں جمہوری روح بھی کارفرما ہو اور مغرب کی متعارف خرابیوں سے پاک بھی ہو۔ راقم کے نزدیک موجودہ اسلامی ملکوں کا مغربی جمہوریت کی اندھا دھند تقلید کرنا فساد کا بہت بڑا منبع ہے۔
اِس جمہوریت کی بدولت
٭ تمام اسلامی ممالک بری طرح نظریاتی و فکری انتشار کا شکار ہیں، کیونکہ ہر نظرئیے اور فکر کی تبلیغ و اشاعت کی عام اجازت ہے اور اس پر پابندی "جمہوریت" کے خلاف سمجھی جاتی ہے۔ حالانکہ ایک اسلامی مملکت میں غیر مسلموں کو رہنے کا حق تو ضرور حاصل ہے، اسلامی مملکت ان کے جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمے دار بھی ہے اور انہیں اپنی عبادت گاہوں میں اپنے مذہبی مراسم ادا کرنے کی بھی پوری آزادی ہے۔ لیکن انہیں اپنے مذہب کی تبلیغ اور پرچار کی اجازت نہیں۔ یہ فسطائیت نہیں بلکہ ایک نظریاتی مملکت کا حق ہے، اس کے بغیر وہ اپنی نظریاتی بنیادوں کو محفوظ و مستحکم بنا سکتی ہے نہ رکھ سکتی ہے۔ لیکن اس جمہوریت کے سبب اسلامی ممالک نظریاتی اکھاڑوں میں تبدیل ہو گئے ہیں، جہاں ازم کا پہلوان اپنے ازم اور نظرئیے کے کیل کانٹے سے لیس ہو کر ڈنٹرپیل رہا ہے، دعوتِ مبارزت دے رہا ہے اور پہلوان ایک دوسرے کو پچھاڑنے میں اپنی تمام توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔
٭ اس جمہوریت کی بدولت ہر اسلامی ملک میں ہر قسم کے کاروبار کی اجازت ہے اور ہر شخص کو ہر قسم کا پیشہ اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔ صحافت اگر مادر پدر آزادی کا مظاہرہ کرتی ہے اور وہ اس سطح تک پہنچ جاتی ہے کہ ۔۔ ع
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
تب بھی اس پر کوئی قدغن عائد نہیں کی جا سکتی کہ قدغن جمہوری حق کے منافی ہے۔ کوئی مرد یا عورت یا گروہ کوئی حیا سوز اور مخربِ اخلاق پیشہ اختیار کرتا ہے اور مسلمانوں کی نوجوان نسل میں بے حیائی اور بے دینی کے زہریلے اثرات پھیلاتا ہے تو یہ بھی ان کا جمہوری حق ہے جس پر پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔
٭ کوئی مذہب کے نام پر بدعت ایجاد کرتا ہے اور اس کا مظاہرہ بھی سڑکوں پر کرتا ہے اور گلی کوچوں میں اس کا مظاہرہ فسادات اور امن شکنی کا باعث بھی بنتا ہے۔ مگر اس پر پابندی عائد نہیں کی جا سکتی کہ اس طرح جمہوری حق متاثر ہوتا ہے۔
٭ انتخابات کے موقع پر لسانی و علاقائی تعصبات یا برادری اور قبائلی تعصبات پھیلا کر ملک کی جڑیں کھوکھلی کی جاتی ہیں، برادریوں اور خاندانوں کو باہم لڑایا جاتا ہے اور گھر گھر بگاڑ اور فساد پھیلایا جاتا ہے اور یہ سب کچھ جمہوریت کے نام پر کیا جا رہا ہے۔
وعلیٰ ہذا القیاس اس قسم کی متعدد خرابیاں ہیں جو جمہوریت کو جوں کا توں اختیار کر لینے کے نتیجے میں اسلامی ملکوں میں عام ہیں اور اس وجہ سے وہ امن و استحکام سے محروم ہیں۔
کیا یہ جمہوریت ہمارے دکھوں کا علاج ہو سکتی ہے؟ ہمارے درد کا درماں ہو سکتی ہے؟ ہمارے مسائل کا حل ہو سکتی ہے؟ ملک کی سالمیت و بقاء کی ضامن ہو سکتی ہے اور سب سے بڑھ کر کیا اسلام کا نفاذ اس کے ذریعے سے ممکن ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ اگر ہم نے مسلمان رہتے ہوئے اس ملک کی ترقی میں حصہ لینا ہے، اس کی نظریاتی بنیادوں کو مستحکم کرنا ہے، علاقائی و صوبائی تعصبات سے ملک کو محفوظ کرنا اور رکھنا ہے، اسلامی تہذیب و تمدن کو فروغ دینا ہے اور اسلامی اخوت و مساوات اور عدم و انصاف کا نظام قائم کرنا ہے تو یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم کوئی ایسا نظامِ حکومت اختیار نہ کریں جو آمریت اور جمہوریت دونوں کی خرابیوں سے پاک ہو۔
جمہوریت کی مخالفت کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ راقم آمریت کا حامی ہے یا فوجی حکومت کی تحسین کر رہا ہے بلکہ مقصود صرف اس حقیقت کا اظہار ہے کہ جس طرح آمریت یا فوجی حکومت ہمارے مسائل کا حل نہیں، اسی طرح مغربی جمہوریت بھی ہمارے مسائل کا حل نہیں ہے جس طرح کہ باور کرایا جا رہا ہے۔
راقم کو تسلیم ہے کہ موجودہ دور کے لئے آمریت اور فوجی حکومت قطعا ناقابل قبول ہے، اس کا متبادل نظام ہمیں سوچنا ہو گا لیکن "جمہوریت" کو جوں کا توں اس کا بدل سمجھ لینا بھی غلط ہے۔ اس پر نظرِثانی کی شدید ضرورت ہے اور متناسب نمائندگی کا اصول یا اور اسی قسم کا کوئی معقول طرز انتخاب اختیار کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ اگر اس پہلو پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا اور اس کا مناسب اور معقول حل تلاش نہ کیا گیا تو یاد رکھئے جمہوریت کی یہ ناؤ ہمیں کبھی ساحلِ مراد سے ہمکنار نہیں کرے گی اور ہم انہی گردابوں میں پھنسے رہیں گے جن میں ہم پینتالیس سال سے پھنسے چلے آ رہے ہیں۔
(3) کیا تعبیرِ شریعت کا کلی اختیار صرف پارلیمنٹ کو ہے، نامزد علماء کو نہیں؟
تیسری بات فاضل مقالہ نگار نے حضرت علامہ کے حوالے سے یہ بیان فرمائی ہے کہ اجتہاد اور تعبیر شریعت کا حق منتخب نمائندگان کو ہے۔ نامزد علماء کو یہ حق نہیں دیا جانا چاہیے۔ سارے مقالے کی اصل بنیاد یہی نکتہ ہے اور یہی وہ نقطہ نظر ہے جس میں علامہ اقبال منفرد ہیں، ان کی اس رائے کو اہل علم و فکر میں پذیرائی نصیب نہیں ہوئی۔ کیونکہ انتظامی، سماجی، سیاسی اور معاشرتی امور و معاملات میں منتخب نمائندگان کا حق قانون سازی تو سب تسلیم کرتے ہیں، ان کے اس حق کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ لیکن اس سے بڑھ کر انہیں اجتہاد اور تعبیر شریعت کا بھی واحد اہل اور حق دار قرار دینا یکسر ناقابل قبول ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ "اجتہاد" ایک شرعی اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے "شرعی ماخذ کی روشنی میں کسی پیش آمدہ شرعی مسئلے کے حل کرنے کی پوری دیانت داری اور خدا خوفی کے ساتھ، بھرپور کوشش کرنا اور غوروفکر میں تمام علمی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا"۔ اور اس کام کا اہل وہی ہو سکتا ہے جس میں مخصوص قسم کی صلاحیت و استعداد ہو گی اور مخصوص اوصاف و شرائط کا وہ حامل ہو گا۔ محض سرمائے کے بل بوتے پر منتخب ہونے والے ارکانِ اسمبلی کے اندر یہ مخصوص استعداد اور مخصوص اوصاف پیدا نہیں ہو جائیں گے کہ انہیں "مجتہد" بھی اور شریعت کی تعبیر نو کا حق دار بھی تسلیم کر لیا جائے۔
زیر بحث نقطہ نظر کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ اس میں "اجتہاد" کے اصطلاحی مفہوم کو نظرانداز کر کے اس کی خود ساختہ تعریف کی گئی ہے کہ کسی قانونی مسئلے میں آزادانہ رائے قائم کرنے کی کوشش کا نام اجتہاد ہے۔ (تشکیلِ جدید الٰہیات اسلامیہ، ص 228)
حالانکہ ہر علم و فن کی اصطلاح کا وہی مفہوم لیا جاتا ہے جو اس علم و فن کے ماہرین اور واضعین نے متعین کیا ہے۔ نماز اور زکوٰۃ ایک مخصوص اصطلاح ہے جس کا ایک متعین مفہوم ہے۔ لیکن آج کل ایک گروہ نے ان کے لغوی معنی مراد لے کر صلوٰۃ و زکوٰۃ کی وہ حیثیت ختم کرنے کی کوشش کی ہے جو چودہ سو سال سے متفقہ طور پر ملت اسلامیہ کے اندر تسلیم ہوتی آئی ہے۔ ظاہر ہے صلوٰۃ و زکوٰۃ کی ایسی خود ساختہ تعریف، جس سے ان کی وہ حیثیت ختم ہو جائے، جو شریعت میں انہیں حاصل ہے، بتلائیے! ایسا کرنا زکویۃ و صلوٰۃ کا ماننا ہے یا اس کا انکار کرنا ہے؟ مرزائی بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ختمِ نبوت کے قائل ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین مانتے ہیں لیکن ختم نبوت اور خاتم النبیین کا خانہ ساز معنی مراد لیتے ہیں، وہ مفہوم نہیں لیتے جو خود صاحبِ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلائے ہیں، تو ان مرزائیوں کو تمام مسلمان ان کے اِس دعوے میں جھوٹا تسلیم کرتے ہیں، کیونکہ ختم نبوت کا وہ اصطلاحی مفہوم نہیں مانتے، بلکہ لغت کی رو سے اس کا خود ساختہ مفہوم مراد لیتے ہیں۔ اسی طرح اجتہاد کے اصطلاحی مفہوم سے گریز کر کے اس کے لغوی مفہوم کو بنیاد بنا کر یہ کہنا کہ آزادانہ کوشش کرنے کا نام اجتہاد ہے، نہ اس کے لئے خاص قسم کی اہلیت کی ضرورت ہے نہ خاص اوصاف و شرائط کی۔ جو شخص بھی منتخب ہو کر اسمبلی کے نگار خانے میں پہنچ گیا، اسے "اجتہاد" کا حق قانونی طور پر حاصل ہو گیا۔!!
یہ وہ بنیادی فکری کجی ہے جس کی وجہ سے اس پر تعمیر ہونے والی عمارت بھی
خشت اول چو نہد معمار کج
تاثریا می رود دیوار کج
کی آئینہ دار ہے۔
بہرحال "اجتہاد" کا یہ نظریہ ہر لحاظ سے غلط ہے، جس کی درج ذیل وجوہ ہیں۔
1 ۔۔۔ منتخب نمائندگان کی اکثریت اس عملی اہلیت و صلاحیت سے عاری اور ان اوصاف و شرائط سے بے بہرہ ہوتی ہے جو شرعی اجتہاد کے لئے ضروری ہیں۔ ان کی اکثریت قرآن کریم کے سادہ ترجمے تک سے ناآشنا ہوتی ہے چہ جائیکہ وہ اصولِ تفسیر، علوم قرآن اور احکامِ قرآنی کی علتوں اور غایتوں کو سمجھ سکیں اسی طرح وہ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بے خبر ہوتی ہے۔ اسے اصولِ حدیث اور اسماء الرجال کی باریکیوں کا کیا پتہ؟ فقہ اسلامی کا ذخیرہ بھی ان کی دسترس سے باہر ہے۔ جب صورت واقعہ یہ ہے تو منتخب افراد قرآن و حدیث کی روشنی میں اجتہاد جیسے نازک اور کٹھن کام سے کس طرح عہدہ بر آ ہو سکتے ہیں؟ جبکہ اجتہاد کے لئے مذکورہ علوم میں مہارت اور مجتہدانہ درک و بصیرت ضروری ہے۔
2 ۔۔۔ دوسری خرابی اس سے یہ پیدا ہو گی کہ ہر پانچ سال بعد شریعت کا نیا ایڈیشن تیار کرنا پڑے گا۔ کیونکہ یہ بات عام تجربہ و مشاہدہ کا حصہ ہے کہ جو بھی نئی حکومت آتی ہے، اس کے مفادات و مصالح پچھلی حکومتوں سے مختلف ہوتے ہیں اور وہ اس کی روشنی میں قوانین میں رد و بدل اور ترامیم یا نئی قانون سازی کرتی ہے۔ اگر شریعت کو بھی موم کی ناک بنا کر اس کی تعبیر اور تدوین جدید کا حق اسمبلیوں کے نمائندگان کو دے دیا گیا تو یقینا ۔۔ ع
ہر کہ آمد عمارت نو ساخت
کے مطابق شریعت کے ایڈیشن بھی بدلتے رہیں گے اور اس اکھاڑ پچھاڑ میں شریعت کا جو حال ہو گا، محتاج وضاحت نہیں۔ علاوہ ازیں ہر اسلامی ملک میں تعبیر شریعت کا اختیار ماہرین شریعت کے بجائے نمائندگان اسمبلی کو مل گیا تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ مصر کی شریعتِ اسلامیہ اور ہو گی، پاکستان کی اور، ترکی کی اور، سعودی عرب کی اور۔ ہر اسلامی ملک اپنے اپنے حالات اور مصالح کے تحت شریعت کی تعبیر کرے گا، ذرا سوچئے یہ تجویز اپنے اندر کتنے خطرناک مضمرات رکھتی ہے؟
راقم کا خیال ہے کہ علامہ کی اس تجویز کے یہ مضمرات خود ان کو بھی ناپسند ہیں جس کی تصریح ان کے اشعار اور خیالات میں ملتی ہے۔ مثلا مثنوی اسرار و رموز میں وہ "راہِ آباء" یعنی اسلاف کی روش پر چلنے کی تاکید کرتے ہیں اور ان کی پیروی کو ضبطِ ملت کے ہم معنی سمجھتے ہیں نیز زمانہ انحطاط میں "عالمانِ کم نظر" کے اجتہاد کے مقابلے میں اسلاف کی اقتداء کو محفوظ تر اور اجتہاد کو ملت کے لئے نہایت خطرناک تصور کرتے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں
راہِ آباء رو کہ ایں جمعیت است
معنی تقلید ضبطِ ملت است
اجتہاد اندر زمانِ انحطاط
قوم را برہم ہمی پیچید بساط
زاجتہادِ عالمانِ کم نظر
اقتداء بر رفتگاں محفوظ تر
اور اس کی دلیل یہ دیتے ہیں۔ ع
عقل آبایت ہوس فرسودہ نیست
کار پاکاں از غرض آلودہ نیست
فکرِ شاں ریسد ہمے باریک تر
ورع شاں ہا مصطفیٰ نزدیک تر
ذوقِ جعفر و کاوشِ رازی نماند
آبروئے ملتِ تازی نماند
تنگ برما رہگذارِ دین شد است
ہر یسمے راز دارِ دیں شد است
اس کے بعد پھر اسرار دین سے بیگانہ لوگوں کو اسلاف کے ایک ہی راستے پر مضبوطی سے چلنے اور اختلاف سے بچنے کی تاکید کرتے ہیں۔
اے کہ از اسرار دیں بیگانہ
بایک آئیں ساز اگر فرزانہ
من شنید ستم ز نباضِ حیات
اختلافِ تست مقراضِ حیات
ازیک آئینی مسلماں زندہ است
پیکرِ ملت ز قرآں زندہ است
ماہمہ خاک و دلِ آگاہ است
اعتصامش کن کہ حبل اللہ اوست
چوں گہر در رشتہ اوسفتہ شو
ورنہ مانند غبار آشفتہ شو
مکتوبات کی روشنی میں ۔۔۔
مولانا شبلی نعمانی نے "الکلام" میں شاہ ولی اللہ کے حوالے سے اِسی انداز کی بات تحریر کی تھی کہ امام وقت کو حالات و ضروریات کے تحت شعار تعزیرات اور انتظامات وغیرہ میں تعبیر جدید کا حق حاصل ہے۔ علامہ اقبال کو یہ عبارت بڑی کھٹکی اور اس میں مضمر خطرات سے وہ چونک پڑے، جس کا اظہار انہوں نے مولانا سید سلیمان ندوی کے نام ایک مکتوب میں کیا، فرماتے ہیں
"جناب کا ارشاد اس بارے میں کیا ہے؟ علیٰ ہذا القیاس ارتفاقات میں شاہ ولی اللہ صاحب کی تشریح کے مطابق تمام تدابیر جو سوشل اعتبار سے نافع ہوں، داخل ہیں۔ مثلا نکاح و طلاق کے احکام وغیرہ۔ اگر شاہ صاحب کی عبارت کی یہ تشریح صحیح ہے تو حیرت انگیز ہے۔ اگر ان معاملات میں تھوڑی بہت ڈھیل بھی دی جائے تو سوسائٹی کا کوئی نظام نہ رہے گا، ہر ایک ملک کے مسلمان اپنے اپنے دستور و مراسم کی پابندی کریں گے" ("اقبال، سید سلیمان ندوی کی نظر میں" ص 198-199)
اس کے جواب میں مولانا سید سلیمان ندوی نے حسبِ ذیل جواب دیا
"مولانا شبلی مرحوم نے شاہ (ولی اللہ) صاحب کے الفاظ کے جو وسیع معنی قرار دئیے ہیں، صحیح نہیں" (حوالہ مذکور)
مولانا سید سلیمان ندوی نے "الکلام" کے حاشیے پر بھی اپنے استاذ علامہ شبلی نعمانی کی رائے کی تردید کی ہے۔ مولانا شبلی نعمانی نے شاہ ولی اللہ کی عبارت نقل کر کے اس سے حسبِ ذیل استدلال کیا تھا
"اس اصول سے یہ بات ظاہر ہو گئی کہ شریعت اسلامی میں چوری، زنا، قتل وغیرہ کی جو سزائیں مقرر کی گئی ہیں، ان میں کہاں تک عرب کے رسم و رواج کا لحاظ رکھا گیا ہے اور یہ کہ ان سزاؤں کا بعینہا اور بخصوصہا پابند رہنا کہاں تک ضروری ہے"
مولانا سید سلیمان ندوی اس کی تردید میں لکھتے ہیں
"مصنف نے شاہ صاحب کے مقصود میں بڑی وسعت پیدا کر دی ہے۔ چوری، زنا اور قتل کی جو سزائیں ہیں وہ قرآن پاک کے منصوص احکام ہیں، جن میں تغیر نہیں ہو سکتا۔ مقصود تعزیرات سے ہے جو امام کی رائے کے سپرد ہیں، جیسے یہ کہ شرابی کی سزا یا اور دوسرے غیر منصوص انتظامی احکام، جیسے وزراء کا تقرر، امراء کا نصب اور جنگ کے سامان و اسلحہ اور طریقے وغیرہ دوسرے سیاسی و انتظامی مسائل، جن میں عربی خصائل و دستور کی پابندی کی ضرورت نہیں" ۔۔ ("الکلام" ص 120، مطبع اعظم گڑھ 1941ء)
علامہ اقبال نے شبلی نعمانی کے استدلال سے متعلق تو استفسار نہیں فرمایا، لیکن یہ استدلال شاہ ولی اللہ کی جس عبارت پر مبنی تھا، اس کی بابت استفسار فرمایا اور اپنا یہ خیال ظاہر کیا کہ اس استدلال کو اگر وسعت دے دی گئی اور اس میں ڈھیل دے دی گئی تو اسلامی سوسائٹی کا سارا نظام ٹوٹ پھوٹ کر رہ جائے گا۔ اس کے علاوہ اور بھی متعدد خطوط ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ علامہ اس بارے میں علمائے اسلام کے بالکل ہمنوا تھے کہ قرآن و حدیث کے منصوص احکام میں تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا۔ ایک اور مکتوب میں ترکی کے اس "اجتہاد" کے بارے میں جس کی رو سے قرآن کے منصوص حکم میں تبدیلی کر کے مرد و عورت کو وراثت میں یکساں قرار دے دیا گیا تھا، مولانا سید سلیمان ندوی کو لکھتے ہیں
"میں نے جو حِصص کے متعلق آپ سے دریافت کیا تھا، اس کا مقصد یہ نہ تھا کہ میں ان حصص میں ترمیم چاہتا ہوں بلکہ خیال یہ تھا کہ شاید ان حصص کی ازلیت و ابدیت پر آپ کوئی روشنی ڈالیں گے۔ میرے نزدیک اقوام کی زندگی میں "قدیم" ایک ایسا ہی ضروری عنصر ہے جیسا کہ "جدید" بلکہ میرا ذاتی میلان قدیم کی طرف ہے۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ اسلامی ممالک میں عوام اور تعلیم یافتہ لوگ دونوں طبقے علومِ اسلامیہ سے بے خبر ہیں۔ اس بے خبری سے آپ کی اصطلاح میں یورپ کے "معنوی استیلاء" کا اندیشہ ہے جس کا سدباب ضروری ہے۔ میرا ایک مدت سے یہ عقیدہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمان، جو سیاسی اعتبار سے دیگر ممالک اسلامیہ کی کوئی مدد نہیں کر سکتے، دماغی اعتبار سے ان کی بہت کچھ مدد کر سکتے ہیں۔ کیا عجب ہے کہ اسلامی ہند کی آئندہ نسلوں کی نگاہوں میں "ندوہ" علی گڑھ سے زیادہ کارآمد ثابت ہو" ۔۔۔ ("اقبال، سید سلیمان ندوی کی نظر میں" ص 188)
علامہ کے ان مکاتیب سے واضح ہے کہ وہ
٭ اسلاف کی تعبیر سے ہٹ کر شریعت کی ایسی تعبیر کو پسند نہیں کرتے تھے جس سے تجدد کو بال و پر مہیا ہوں اور یوں ملت اسلامیہ کی وحدت پارہ پارہ ہو جائے اور ہر اسلامی ملک میں جدا جدا شریعتیں بن جائیں، جیسا کہ منتخب نمائندگان کو حقِ اجتہاد عطا کر دینے کے نتیجے میں اس کا غالب امکان ہے۔
٭ وہ "جدید" کے مقابلے میں "قدیم" کو زیادہ اہمیت دیتے تھے اور ان کا قلبی میلان اسی طرف تھا، جس کا مطلب بھی یہی ہے کہ شوقِ جدت میں وہ قدیم ورثے اور اسلامی روایات و اقدار سے ہاتھ دھونا پسند نہیں کرتے تھے، بلکہ "جدید" سے اس طرح استفادے کے قائل تھے کہ جس سے "قدیم" سے کوئی تعلق نہ ٹوٹے، جیسا کہ علمائے کرام کا موقف ہے۔
٭ نیز علومِ اسلامیہ سے بے خبری ان کے نزدیک یورپ کے "معنوی استیلاء" کے مترادف تھی، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ قانون سازی، اجتہاد اور تعبیر شریعت جیسے نازک اور کٹھن فرائض کی ادائیگی کے ذمے دار اگر ایسے لوگ ہو گئے جو انگریزی اور دنیوی تعلیم سے تو آراستہ ہوں لیکن دینی علوم سے بے بہرہ ہوں تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ مغرب کی ہر چیز کو اپنانے کے جنون میں مبتلا ہو جائیں گے اور فرنگی مدنیت کی تقلید ہی ان کا منتہائے مقصود اور مطلوب نظر بن جائے گی۔ اپنے اشعار میں انہوں نے اس نکتے کی خوب وضاحت کی ہے۔ چنانچہ علامہ اسلامی ممالک میں "تجدید" کے علمبرداروں کے بارے میں اندیشہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ "تجدید" جسے اب "اجتہاد" کا عنوان دیا جا رہا ہے، کہیں تقلیدِ فرنگ کا بہانہ نہ بن جائے
لیکن مجھے ڈر ہے کہ یہ آوازہ تجدید
مشرق میں ہے تقلید فرنگی کا بہانہ
وہ تجدید و اصلاح کے علمبرداروں کی بے بضاعتی اور تہی مائیگی کا ذکر اس طرح کرتے ہیں۔ ع
میں ہوں نومید تیرے ساقیانِ سامری فن سے
کہ بزمِ خارواں میں لے کے آئے سانگیں خالی
نئی بجلی کہاں ان بادلوں کے جیب و دامن میں
پرانی بجلیوں سے بھی ہے جن کی آستیں خالی
وہ مشرق کی اسلامی اقوام کو ملامت کرتے ہیں جن کا منصب قیادت و امامت کا تھا لیکن وہ پشت درجہ کی شاگردی اور ذلیل قسم کی نقالی کا کردار ادا کر رہی ہیں
کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت
وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیرو
مولانا ابو الحسن علی ندوی لکھتے ہیں کہ یہ
"غالبا ترکوں کی طرف اشارہ ہے" ۔۔۔ (نقوش اقبال، ص 81)
اسی ضمن میں مصطفیٰ کمال کے انقلاب و اصلاح کی سطحیت اور اس کی فکری کہنگی اور یورپ کی نقالی کی مذمت علامہ نے "جاوید نامہ" میں کی ہے، وہ اشعار پہلے نقل کئے جا چکے ہیں۔
اور اسرارِ خودی میں فرماتے ہیں:
عقل تو زنجیری افکارِ غیر
در حملوئے تو نفس از تارِ غیر
بر زہانت گفتگو ہا مستعار
در دل تو آرزد ہا مستعار
قمر یانت را نوا ہا خواستہ
سرو ہایت را قباہا خواستہ
بادہ می گیری بجام از دیگراں
جام ہم گیری بوام از دیگراں
آفتاب استی یکے در خود نگر
از نجوم دیگراں تابے مخر
تاکجا طوف چراغِ محفلے
زآتش خود سوز اگر داری دلے
ص 160-161
اس کا مطلب ڈاکٹر یوسف حسین خاں بایں الفاظ بیان فرماتے ہیں۔
"جب کوئی گروہ اپنی تہذیب اور اپنی روایات ملیہ پر اعتماد نہیں رکھتا تو ضرور ہے کہ وہ حوصلہ مند قوم کا غلام ہو جائے، جو قوم اپنی عقل کو دوسروں کے افکار کی زنجیر میں گرفتار کر لے اور اپنے دل کی آرزوؤں تک کو دوسروں سے مستعار لینے میں تامل نہ کرے، وہ دنیا میں نیابت الٰہی کے حق سے کبھی عہدہ بر آ نہیں ہو سکتی۔ اقبال کو اپنے ہم مشربوں سے شکایت ہے کہ ان کے خیالات دوسروں کے افکار کے رہینِ منت ہیں، ان کی گفتگو دوسروں سے مستعار لی ہوئی ہے اور ان کی قمریوں کی نوا اور سرو کی قبا تک دوسروں سے مانگی ہوئی ہے۔ بھلا اس طور پر وہ کیسے عروج و ترقی کا خواب دیکھ سکتے ہیں" (روحِ اقبال ص 143-144)
اور غلامانِ یورپ سے گلہ کرتے ہوئے کہتے ہیں
معلوم کسے ہند کی تقدیر کہ اب تک
بے چارہ کسی تاج کا تابندہ نگیں ہے
جاں بھی گروِ غیر، بدن بھی گروِ غیر
افسوس کہ باقی نہ مکاں ہے نہ مکیں ہے
یورپ کی غلامی پہ رضا مند ہوا تو
مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے یورپ سے نہیں ہے
ترکی کے مصطفیٰ کمال اور ایران کے رضا شاہ پہلوی کے اقدامات سے بھی بالآخر علامہ نااُمید ہو گئے تھے، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے، اسی سلسلے میں انہوں نے درج ذیل شعر میں بھی اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے
نہ مصطفیٰ نہ رضا شاہ میں نمود اسکی
کہ روحِ شرق بدن کی تلاش میں ہے ابھی
خالدہ ادیب خانم (ترکی کی مشہور صحافیہ) جو مصطفیٰ کمال کی شریک کار تھیں اور ہندوستان میں آ کر انہوں نے کئی لیکچر دئیے تھے جن میں کمالی اصلاحات و اجتہادات کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی تھی، علامہ نے اس پر بھی اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔ چنانچہ جاوید اقبال لکھتے ہیں
"خالدہ ادیب خانم کے چند لیکچر جامعہ ملیہ میں ہوئے جن کا ہندوستان کے اخبارات میں خوب چرچا بھی ہوا کیونکہ ان کا زاویہ نگاہ خالصتا سیکولر تھا۔ اقبال کی رائے ان کے متعلق یہ تھی کہ
"مشرق کی روحانیت اور مغرب کی مادیت کے متعلق جن خیالات کا اظہار خالدہ ادیب خانم نے اپنے لیکچروں میں کیا ہے، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی نگاہ بہت محدود ہے"
(زندہ رود، ج3، ص 546)
اس تفصیل سے واضح ہے کہ علامہ کے نزدیک بھی اسلامی قضا یا معاملات میں اجتہاد صرف انہی اہل علم و ماہرین شریعت کا حق ہے جن کی عمریں قرآن و حدیث کی تعلیم و تدریس اور اس پر غوروفکر میں گزری ہیں۔ ہر کہ ومہ کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا۔ اگر ایسا کیا گیا تو اس کا نتیجہ تقلیدِ فرنگ کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔
حالات کے مطابق شریعت کی تعبیر نو یا اس کا انطباق؟
اس مقام پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس امر کی بھی وضاحت کر دی جائے کہ عصری مسائل و مشکلات کے حل کے لئے جو مساعی اور جدوجہد کی جائے اس کا عنوان کیا ہو گا؟ راقم کے خیال میں اس کا عنوان تطبیقِ شریعت ہونا چاہیے، تعبیر شریعت نہیں۔ کیونکہ شریعت کی تعبیر تو عہد رسالت و عہد صحابہ میں مکمل ہو چکی ہے۔ البتہ ہر دور میں شریعت کا انطباق حالات و مقتضیات کے مطابق علمائے کرام اور فقہاء و مجتہدین کرتے رہے ہیں اب شریعت کی اس سلفی تعبیر سے انحراف کی اجازت نہیں دی جا سکتی جس کے مطابق اسلام کے ادوارِ خیر القرون میں عمل ہوتا رہا ہے تاہم اس کی روشنی میں عصری مسائل کا انطباق بھی ایک اجتہادی امر ہے جو اجتہاد کے مسلمہ اصول و قواعد اور اسلام کے کلیات و ضوابط کے دائرے میں رہتے ہوئے بروئے کار لایا جائے گا۔
"تعبیر شریعت" ایک مغالطہ انگیز اصطلاح ہے جس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اس کا متبادر مفہوم یہ نکلتا ہے کہ اب زمانہ بہت تبدیل ہو چکا ہے اور آج کا معاشرہ عہد رسالت و عہد صحابہ کے معاشرے سے بہت مختلف ہے اس لئے اِس دور کے احکام و قوانین بعینہ آج کل کے دور اور معاشرے میں نہیں چل سکتے، اس لے ان کی نئی تعبیر ضروری ہے اور اس طرح ہر اہم اسلامی حکم میں رد و بدل اور ترمیم و تنسیخ کا جواز تلاش کیا جا رہا ہے۔ اور "تعبیر شریعت" کی اصطلاح استعمال کرنے والوں کے ذہن میں فی الواقع یہی جذبہ و روح کارفرما ہے، وہ مقتضیات و ضروریات وقت کو شریعت کے سانچے میں ڈھالنا پسند نہیں کرتے بلکہ شریعت کو توڑ مروڑ کر یا اس میں کتربیونت کر کے اپنے پسندیدہ سانچے میں ڈھالنا چاہتے ہیں۔
یہ نقطہ نظر بنیادی طور پر ایک دائمی و ابدی دین کے خلاف ہے۔ ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ دین اِسلام اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ہے اور قیامت تک کے لئے انسانیت کی نجات اسی دین سے وابستہ کر دی گئی ہے اللہ تعالیٰ قیامت تک آنے والے حالات سے بھی آگاہ تھے، وہ ایسے دین کو قیامت تک آنے والے انسانوں کے لئے ضروری قرار نہیں دے سکتے تھے جس کی تعلیمات چند صدیوں کے بعد مقتضیاتِ زمانہ کے ساتھ دینے سے اور نئے نئے پیش آمدہ حالات سے عہدہ بر آ ہونے کی صلاحیت سے عاری ہوتیں۔ بنا بریں ہمارا پختہ یقین ہے کہ دین اسلام کی تعلیمات میں کسی دور میں بھی ترمیم و تنسیخ کی ضرورت نہیں، ہر دور کے تقاضے اس سے پورے کئے جا سکتے ہیں بشرطیکہ ایمان و اخلاص کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔ کوئی مشکل ایسی نہیں جس کا حل نہ نکل سکے اور کوئی تقاضا ایسا نہیں جس سے وہ عہدہ بر آ نہ ہو سکے۔ اگر ہمارے حکمرانوں کے فکر و نظر کے پیمانے کارگہ مغرب کے ڈھلے ہوئے نہ ہوتے، اگر ان کے قلب و دماغ شاہدِ تہذیبِ مغرب کی عشوہ طرازیوں سے مسحور نہ ہوئے ہوتے اور ان کے ذہن ساحرانِ یورپ کے افسوں سے مرعوب نہ ہوئے ہوتے تو عصرِ حاضر بھی شریعت اسلامیہ کا انطباق چنداں مشکل کام نہیں تھا اور نہ ہے
بیاں میں نکتہ توحید آ تو سکتا ہے
ترے دماغ میں بت خانہ ہو تو کیا کہیے
مسلمہ اسلامی تعبیرات کے خلاف نئی تعبیر کی کوشش "اجتہاد" نہیں "انتشار" ہے
چند سال قبل مرکز تحقیق دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری لاہور کے زیر اہتمام شائع ہونے والے سہ ماہی مجلہ "منہاج" نے ایک "اجتہاد نمبر" شائع کیا تھا۔ اس موقع پر ارادہ "منہاج" نے ایک سوال نامہ بھی مرتب کیا تھا جس کے جوابات اہل علم سے طلب کئے تھے اس میں ایک سوال یہ بھی تھا۔
"قیاس و استنباط کے علاوہ، کیا قرآن و سنت کے احکام کی تعبیر بھی اجتہاد کہلائے گی؟" اس کا جو جواب راقم نے اس وقت دیا تھا، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسے یہاں بھی نقل کر دیا جائے۔ چنانچہ یہ جواب حسب ذیل تھا
"قرآن و سنت کے احکام کی جو تعبیر اسلافِ امت یعنی صحابہ و تابعین و تبع تابعین کے دور (جسے فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں دور خیر القرون کہا جاتا ہے) مسلم چلی آ رہی ہے، اس کے خلاف دوسری تعبیر کی قطعا اجازت نہیں دی جا سکتی کیونکہ قرآن و سنت کے مفاہیم و مطالب کو ان سے زیادہ کوئی نہیں سمجھ سکتا جن کی آنکھوں کے سامنے قرآن اترا اور اس کی عملی تشکیل انہوں نے نمونہ محمدی اور تشریح محمدی کی صورت میں اپنی آنکھوں سے دیکھی یا اپنے اپنے کانوں سے سنی اور تابعین و تبع تابعین کا زمانہ بھی چونکہ صحابہ کرام سے متصل ہے نیز خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس زمانے کی خیر و بھلائی کی وضاحت کی ہے۔ خير القرون قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم
اس لئے تابعین و تبع تابعین کا فہم قرآن بھی معتبر ہے کہ انہوں نے براہِ راست قرآن و حدیث کے احکام کی وہ تعبیر دیکھی اور سنی جو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے بلا واسطہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کی اور اس کے مطابق اسلامی معاشرے کی عملی تشکیل کی۔
اس لئے قرآن و احادیث کے احکام کی وہی تعبیر معتبر ہے جو دورِ خیر القرون سے مسلم چلی آ رہی ہے اس تعبیر کے خلاف کسی دوسری تعبیر کی کوشش "اجتہاد" نہیں "انتشار" کہلائے گی اور متجددین اور مغرب زدہ طبقہ اسی "انتشار" کو "اجتہاد" کے نام پر اسلامی معاشرے میں فروغ دے رہا ہے، جس کا سدباب انتہائی ضروری ہے ورنہ دین اسلام بازیچہ اطفال بن کر رہ جائے گا"(سہ ماہی "منہاج" لاہور "اجتہاد نمبر" ص 271، جنوری 1983ء)
(4) اجتہاد کی اہمیت و ضرورت سے کسی کو انکار نہیں ہے
چوتھی بات مقالہ زیر بحث میں یہ بیان کی گئی ہے کہ اجتہاد کا دروازہ بند ہونا محض فسانہ ہے یہ بات بالکل درست ہے۔ اجتہاد کی اہمیت ہر دور میں مسلم رہی ہے اور حالات و مقتضیات کے مطابق اجتہادی عمل بھی جاری رہا ہے اور آج بھی اس کی اہمیت، افادیت اور ضرورت کا کوئی منکر نہیں ہے۔ اسی "اجتہاد نمبر" میں ایک سوال یہ بھی تھا
"قانون سازی کے عمل میں اجتہاد کو کیا مقام حاصل ہے؟"
اس کے جواب میں راقم نے اس وقت جو کچھ کہا تھا، حسب ذیل ہے
"غیر منصوص معاملات میں شارع کی مرضی و منشا کے مطابق قانون سازی ہی کا نام قیاس و استنباط اور اجتہاد ہے، جس کی ضرورت عہدِ صحابہ رضی اللہ عنہم بلکہ عہدِ رسالت سے اب تک مسلم ہے۔ جب اجتہاد ایسی اہم چیز ہے کہ ہر دور میں اس کی ضرورت ہے تو ظاہر بات ہے کہ اس کا مقام بھی بہت اونچا ہے اس لئے اجتہاد کو فقہ اسلامی کی روح اور اس کے لئے سرچشمہ حیات قرار دیا جائے تو بجا ہے۔ کیونکہ اجتہاد کو مقصدِ اسلام اور اس کے خصائص کے ساتھ خصوصی تعلق ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اسلام کے مقصد اور اس کی خصوصیات کو سمجھ لیا جائے اس کے بعد اجتہاد کی اہمیت اور اس کا مقام بھی ازخود واضح ہو جائے گا۔
اسلام کا مقصد پوری انسانیت کی صلاح و فلاح ہے جو اس کے تمام انفرادی و اجتماعی حالات کو شامل اور اس کے حاضر و مستقبل پر حاوی ہو۔ اسلام کے متعلق ہر مسلمان کا بجا طور پر یہی عقیدہ ہے اور ہونا چاہیے اور اسلام کی خصوصیات یہ ہیں کہ یہ آخری شریعت ہے، اس کا نبی آخری نبی اور اس پر نازل شدہ کتاب آخری کتاب ہے، اب نہ کوئی نیا نبی آئے گا اور نہ کوئی نئی کتاب اور شریعت۔ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کی نجات و فلاح اب اِسی آخری شریعت اسلامیہ سے وابستہ ہے۔
دوسری خصوصیت اس کی عالمگیریت ہے اس کی تعلیمات کسی زمان و مکان کے ساتھ مخصوص نہیں، کسی زبان و نسل تک محدود نہیں بلکہ اس کی تعلیمات آفاقی اور عالم گیر ہیں۔
تیسری خصوصیت اس کی استیعابیت ہے یعنی شرعی احکام اور اس کے قواعد و ضوابط تمام پیش آمدہ مسائل اور جملہ ممکن الوقوع حوادث کو محیط ہیں اور اس لائق ہیں کہ ہر زمانے اور ہر جگہ کی قانون ضروریات کو پورا کر سکیں۔ چنانچہ علمائے اسلام نے کتبِ فقہ اور دیگر مقامات میں اس امر کی تصریح فرمائی ہے کہ موجودہ اور آئندہ زمانے میں کوئی ایسا حادثہ وقوع پذیر ہونے والا نہیں ہے جس کے حل کے لئے شریعت اسلامیہ میں کوئی ایسی نص نہ ہو جس کی روشنی میں اس کا حل ممکن نہ ہو اور وہ فقہ اسلامی کے احکام پنجگانہ یعنی ایجاب (وجوب) استجاب، اباحت، کراہت یا تحریم کے تحت نہ آ سکتا ہو۔
جب یہ بات واضح ہو گئی کہ اسلام کا مقصد تمام انسانیت کی فلاح و بہبود ہے اور اس کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ہر ممکن الوقوع حادثے اور مسئلے کا حل اس میں موجود ہے تو اس سے ازخود یہ بات متحقق ہو جاتی ہے کہ اسلام میں اجتہاد ناگزیر امر ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر پیش آمدہ مسائل کا حل ممکن ہی نہیں۔ مسائل و حوادث تو غیر متناہی ہیں، جب کہ آیات و احادیث متعلقہ احکام محدود ہیں، اس صورت میں اجتہاد کا دروازہ بند کر دینے کا مطلب یہ ہو گا کہ فقہ اسلامی پر جمود طاری ہو جائے اور وہ نئے حوادثِ اور جدید مشکلات کا حل پیش کرنے سے قاصر رہے اور ظاہر بات ہے کہ یہ بات اسلام کے اس مقصد اور خصوصیات کے منافی ہے جس کی وضاحت سطورِ بالا میں کی گئی ہے اس پہلو کی وضاحت علامہ شہرستانی اس طرح کرتے ہیں
وبالجملة نعلم ايضا ويقينا ان الحوادث والوقائع في العبادات والتفرقات مما لا يقبل الحصر والعد ونعلم ايضا قطعا انه لم يروفي كل مسالة نص ولا يتصور ذلك ايضا والنصوص اذا كانت متناهية والوقائع غير متناهية ولا يتناهي لا يضبطه ما يتناهي علم قطعا ان الاجتهاد والقياس واجب الاعتبار حتي يكون بصدد كل حادثه اجتهاد
(الملل والنحل، ج 1، ص 348، طبع 1948ء مصر)
یعنی "عبادات اور معاملات میں حوادث اس کثرت سے پیش آتے ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں۔ اور ہم یہ قطعی طور پر جانتے ہیں کہ ہر حادثے میں نص موجود نہیں ہے اور نہ ایسا ہونا ممکن ہی ہے (کہ ہر حادثے سے متعلق نص ہو پس جب نصوص متناہی ہیں اور حوادث غیر متناہی اور یہ بھی مسلم ہے کہ متناہی چیز غیر متناہی کو ضبط نہیں کر سکتی اور نہ اس پر حاوی ہو سکتی ہے تو اس سے قطعی طور پر یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ "قیاس و اجتہاد کا اعتبار ضروری ہے تاکہ ہر حادثے کے لئے اجتہاد کیا جا سکے"
(مجلہ "منہاج" لاہور، "اجتہاد نمبر" ص 269، 270)
اسلامی مملکت میں قانون سازی کا دائرہ عمل محدود اور مشروط ہے
یہاں یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اسلامی ریاست میں قانون سازی کی گنجائش ضروری ہے لیکن مغربی جمہوریتوں کی طرح اس میں قانون سازی کا یہ حق غیر محدود نہیں، محدود ہے۔ غیر مشروط نہیں، مشروط ہے۔ مغرب کے جمہوری نظام میں قانون سازی کا یہ حق عوام کو حاصل ہے، ان کی اکثریت جس چیز کو پسند یا ناپسند کرے گی اس کو قانون کی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔ لیکن ایک اسلامی ریاست میں قانون سازی کا حق صرف اللہ تعالیٰ کے لئے تسلیم کیا گیا ہے، اس لئے وہاں کے مسلم عوام اللہ کے پسند و ناپسند کو نظرانداز کر کے اپنے طور پر کوئی قانون سازی نہیں کر سکتے۔ وہاں قانون سازی کا دائرہ عمل محدود و مشروط ہے۔
چنانچہ اسلامی معاشرے و ریاست میں حسب ذیل صورتوں میں قانون سازی (اجتہاد) کی گنجائش ہے۔
1۔ جن معاملات میں شریعت بالکل خاموش ہے۔ نہ براہ راست ان کے متعلق کوئی حکم ہے اور نہ ان سے ملتے جلتے معاملات ہی کے متعلق کوئی ہدایت ملتی ہے۔
2۔ ایسے معاملات، جن کے بارے میں اگرچہ کوئی شرعی نص نہیں ہے۔ لیکن ان سے ملتے جلتے معاملات کے بارے میں شریعت کا حکم موجود ہے۔
اول الذکر معاملات میں اس انداز سے قانون سازی کی جائے گی جو اسلام کی روح اور اس کے اصول عامہ سے مطابقت رکھتی ہو گی۔
ثانی الذکر معاملات میں قانون سازی کی صورت یہ ہو گی کہ احکام کی علتوں کو ٹھیک ٹھیک سمجھ کر ان تمام معاملات میں ان کو جاری کیا جائے گا جن میں وہ علتیں پائی جائیں گی اور ان معاملات کو ان سے مستثنیٰ ٹھہرایا جائے گا جن میں وہ علتیں نہیں پائی جاتیں۔
3۔ علاوہ ازیں ایک تیسری قسم قانون سازی کی یہ بھی ہے کہ اسلامی احکام کی تدوینِ نو کی جائے اور ہر ہر باب کو شق وار اور دفع وار مرتب کیا جائے، جس طرح آج کل کے دساتیر اور قوانین ہیں۔ اس کی مثال قانونِ قصاص و دیت وغیرہ ہیں جو اسلامی نظریاتی کونسل اور دیگر حکومتی اداروں نے مل کر مرتب کئے ہیں۔
تاہم یہ اجتہاد یا قانون سازی صرف وہی اہل علم اور ماہرین شریعت کریں گے جو اجتہاد کے اوصاف و شرائط کے حامل ہوں گے، کسی پارلیمنٹ یا اسمبلی کے نمائندے محض نمائندگی کی بنیاد پر اس کے اہل نہیں ہوں گے جیسا کہ مقالہ زیر بحث میں اس امر پر زور دیا گیا ہے۔
(5) عصری مسائل و مشکلات کا حل اجتماعی اجتہاد ہی میں مضمر ہے
پانچویں بات مقالے میں یہ کہی گئی ہے کہ انفرادی اجتہاد صحیح نہیں، عہد حاضر میں اجتہاد و تعبیر نو قانون ساز اسمبلی کا اختیار ہے۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اجتہاد انفرادی ہو یا اجتماعی، واقعہ یہ ہے کہ جب تک اجتماعی اجتہاد کی کوئی صورت نہیں بنتی، عصری مسائل و مشکلات کا حل ممکن نہیں، اس لئے اجتماعی اجتہاد ناگزیر ہے۔ لیکن فاضل مقالہ نگار نے فکر اقبال کے حوالے سے اجتماعی اجتہاد کی جو صورت تجویز کی ہے وہ انتہائی غیر معقول اور ناقابلِ قبول ہے، جس پر تفصیلی بحث گزر چکی ہے۔
اجتماعی اجتہاد کی صحیح صورت یہ ہے، جسے راقم اس سے قبل بھی "منہاج" کے "اجتہاد نمبر" میں پیش کر چکا ہے کہ
"عالم اسلام کے فاضل علماء کی ایک ایسی کمیٹی تشکیل دی جائے جو اپنے اسلامی کردار اور زہد و وَرع میں بھی ممتاز ہوں اور اس لحاظ سے مسلم عوام میں قابل اعتبار گردانے جاتے ہوں اور وہ قرآن کے علوم اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر گہری نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ چاروں مذاہب فقہ کی کتابوں پر بھی دسترس رکھتے ہوں۔ وہ ہر ہر فقہ کی دو دو اہم اور بنیادی کتابیں سامنے رکھیں۔ مثلا فقہ حنفی سے المبسوط اور البدائع والصنائع، فقہ مالکی سے مؤطا امام مالک اور المدونہ الکبریٰ، فقہ شافعی سے کتاب الام اور شرح مہذب، فقہ حنبلی سے المغنی لابن قدامہ اور کشاف القناع اور فقہ ظاہری سے المحلی لابن حزم اور فقہ الحدیث سے صحیح بخاری اور دوسری کُتب صحاحِ ستہ اور ان کی شروح۔ ان کتابوں میں رد و بدل یا مزید کمی بیشی ممکن ہے۔ یہ ایک سرسری سا خاکہ ہے جس میں مزید رنگ و روغن بھرا جا سکتا ہے۔
ان متبحر علماء کی کمیٹی میں جدید علوم و فنون یعنی اقتصادیات و اجتماعیات، قانون و تجارت وغیرہ جملہ علوم عصریہ کے ایسے ماہرین بھی شامل کئے جائیں جو عقیدہ و عمل کے لحاظ سے سچے اور کھرے مسلمان ہوں۔ تعلیم جدید نے ان کی ایمانی بنیادوں کو متزلزل نہ کیا ہو۔ بلکہ وہ عصری مسائل کا ادراک و شعور رکھنے کے ساتھ ان کے شرعی حل کا احساس و جذبہ اور دلی تڑپ بھی رکھتے ہوں تاکہ علمائے شریعت جدید عصری معاملات اور فنی (ٹیکنیکل) مسائل میں ان کی رائے اور تفصیلات پر اعتماد کرتے ہوئے ان سے فائدہ اٹھا سکیں اور جدید مسائل کی تہہ تک پہنچنے میں علماء کو آسانی ہو۔
مذکورہ فقہی کاوشوں سے استفادہ کرتے ہوئے اور علم جدید سے بہرہ وَر دیانت دار لوگوں کی رائے اور معلومات کو سامنے رکھ کر کھلے دل و دماغ سے اجتہادی مسائل کا حل اس اجتماعی طریقے سے نکالا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم عصری مسائل کو شرعی احکام کے ساتھ تطبیق نہ دے سکیں اور ان کا مناسب حل تلاش نہ کر سکیں"
(سہ ماہی "منہاج" لاہور، ص 285، 286)
(6) اجتہاد کا صحیح طریقہ
چھٹی چیز مقالے میں یہ بیان کی گئی ہے کہ
"قومی اسمبلی کو فقہی مسالک سے بالا ہونا چاہیے اور کسی بھی فقہی مسلک کی بالادستی اس پر نہیں ہونی چاہیے"۔
یہاں "قومی اسمبلی" کی بجائے اہل علم و فکر کی کمیٹی ہونی چاہیے۔ کیونکہ ارکانِ اسمبلی اجتہاد کے اہل نہیں۔ اجتہاد صرف وہی کریں گے جو اس کے اہل ہوں گے قطع نظر اس بات کے کہ وہ منتخب ہوں یا نامزد۔ بلکہ ایسے اونچے درجے کے اہل علم کے تلاش کر کے نامزد ہی کرنا پڑے گا، وہ انتخابی عمل کی کھکھیڑوں اور اس کی کھٹنائیوں سے گزرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔
البتہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اجتہادی کمیٹی کو فقہی مسالک سے بالا ہونا چاہیے اور کسی بھی فقہی مسلک کی بالادستی اس پر نہیں ہونی چاہیے، بالکل صحیح ہے۔ اجتہاد کسی ایک فقہ کے محدود دائرے میں محصور ہو کر کرنا صحیح نہیں ہو گا۔ اس نکتے کی وضاحت بھی راقم "منہاج" کے "اجتہاد نمبر" میں ایک سوال "اجتہاد کا صحیح طریق کیا ہے؟" کے جواب میں کر چکا ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسے یہاں دوبارہ پیش کر دیا جائے۔ راقم نے لکھا تھا کہ اجتہاد کے دو طریقے چلے آ رہے ہیں، جس کی وضاحت شاہ ولی اللہ کے الفاظ میں حسب ذیل ہے۔
باید دانست کہ سلف در استنباط مسائل و فتاویٰ بردو وجہ بودند، یکے آنکہ قرآن و حدیث و آثار صحابہ جمع می کردند و ازاں جا استنباط می نمودند و ایں اصل راہ محدثین است۔ و دیگر آنکہ قواعد کلیہ کہ جمع از ائمہ تنقیح و تہذیب آں کردہ اند یادگیرند بے ملاحظہ ماخذ آنہا۔ بس ہر مسئلہ کہ واردمی شد جواب آں ازہمہ قواعد طلب می کردند و ایں طریقہ اصل فقہا است و غالب بر بعض سلف طریقہ اولیٰ بود و بر بعض آخر طریقہ ثانیہ (مصفی، ج1، ص 4)
ترجمہ: "سلف میں استنباط مسائل (اجتہاد) کے دو طریق تھے، پہلا یہ کہ قرآن و سنت اور آثار صحابہ رضی اللہ عنہم جمع کئے گئے اور ان کی روشنی میں پیش آمدہ مسائل پر غور کیا گیا۔ یہ محدثین (اہل الحدیث) کا طریقہ تھا۔ دوسرا طریقہ یہ کہ (قرآن و حدیث اور آثار صحابہ کی بجائے) ائمہ کے منقح اور مہذب کردہ قواعد کلیہ کی روشنی میں پیش آمدہ مسائل کا حل تلاش کیا گیا۔ اور اصل ماخذ (قرآن و حدیث) کی طرف توجہ کی ضرورت ہی نہیں سمجھی گئی۔ یہ فقہاء کا طریقہ ہے، سلف میں سے ایک گروہ پہلے طریق کا پابند ہے اور ایک گروہ دوسرے طریق کا"
اور "عقد الجید" میں شاہ صاحب نے اہل الحدیث (محدثین) کے بھی دو گروہوں کا ذکر کیا ہے، ایک محققین فقہائے اہلحدیث اور دوسرے ظاہری اہلحدیث، اور اہل ظواہر کو محققین اہل حدیث سے الگ قرار دیا ہے اور ان ظاہریوں کی علامت یہ بتلائی ہے کہ وہ (لفظ مٹا ہے صفحہ 44) و اجماع کے قائل نہیں۔ چنانچہ شاہ صاحب محققین فقہائے اہلحدیث کے طرز اجتہاد و استنباط مسائل کے ذکر کے بعد لکھتے ہیں۔
"محققین فقہائے اہل حدیث (محدثین) کا یہ طریقہ تھا اور ایسے لوگ کم ہیں، اور یہ لوگ علیحدہ ہیں، ظاہری اہلحدیث سے جو نہ قیاس کے قائل ہیں نہ اجماع کے"
(عقد الجید مع ترجمہ مسلک مروارید۔ ص 44، طبع مجتبائی دہلی)
اور حجۃ اللہ البالغہ میں شاہ صاحب نے انہی محققین فقہائے اہلحدیث کے ان قواعد کا تذکرہ فرمایا ہے جو ان کے نزدیک تطبیق بین النصوص، استنباط مسائل، اجتہاد و رائے کے لئے معیار اور بنیادی اصول ہیں۔ جن کا اردو ترجمہ حسبِ ذیل ہے۔
"جب قرآن مجید میں کوئی حکم صراحۃ موجود ہو تو اہلحدیث کے نزدیک کسی دوسری بڑی چیز کی طرف توجہ کی ضرورت نہیں۔
اگر قرآن مجید میں تاویل کی گنجائش ہو اور مختلف مطالب کا احتمال ہو تو حدیث کا فیصلہ ناطق ہو گا۔ قرآن کا وہی مفہوم درست ہو گا جس کی تائید سنت سے ہوتی ہو۔
اگر قرآن مجید کسی حکم کے متعلق خاموش ہو تو عمل حدیث پر ہو گا۔ وہ حدیث چاہے فقہاء کے درمیان مشہور و معروف ہو یا کسی شہر کے ساتھ مخصوص ہو، یا کسی خاندان یا کسی خاص طریقے سے مروی ہو، اور چاہے اس پر کسی نے عمل کیا ہو یا نہ کیا ہو وہ حدیث (بشرط صحت) قابل استناد ہو گی۔ جب کسی مسئلے میں حدیث مل جائے تو کسی امام اور مجتہد کی پروا نہ کی جائے گی، نہ کوئی اثر قابل قبول ہو گا۔ جب پوری کوشش کے باوجود کسی مسئلے میں حدیث نہ ملے تو صحابہ و تابعین کے فتووں پر عمل کیا جائے گا اور اس میں کسی قوم اور شہر کی قید یا تخصیص نہیں ہو گی۔
اگر خلفاء اور جمہور فقہاء متفق ہو جائیں تو اسے کافی سمجھا جائے گا۔ اگر فقہاء میں اختلاف ہو تو زیادہ متقی و عالم اور زیادہ حفظ و ضبط رکھنے والے شخص کی حدیث قبول کی جائے گی یا پھر جو روایت زیادہ مشہور ہو گی اسے لیا جائے گا۔
اگر علم و فضل، وَرع و تقویٰ اور حفظ و ضبط میں سب برابر ہوں تو اس مسئلے میں متعدد اقوال متصور ہوں گے، جن میں سے ہر ایک پر عمل جائز ہو گا۔
اگر اس میں بھی اطمینان بخش کامیابی نہ ہو تو قرآن و سنت کے عمومات، اقتضاء اور ایماءات (اشارات) پر غور کیا جائے گا اور مسئلہ زیر بحث کے نظائر کے حکم کو دیکھا جائے گا اور حکم استخراج کیا جائے گا۔ اصولِ فقہ کے مروجہ قواعد پر اعتماد نہیں کیا جائے گا بلکہ طمانیتِ قلب اور ضمیر کے سکون پر اعتماد کیا جائے گا، جس طرح متواتر روایات میں اصل چیز راویوں کی کثرت اور ان کی حالت نہیں بلکہ اصل شئے دل کا اطمینان اور سکون ہے۔ یہ اصول پہلے بزرگوں (صحابہ و تابعین) کے طریق کار اور ان کی تصریحات سے ماخوذ ہیں"
اس کے بعد شاہ صاحب علیہ الرحمۃ نے ان آثار کا ذکر کیا ہے جن میں ان اصولوں کی طرف رہنمائی کی گئی ہے جن میں اولیت قرآن و حدیث اور آثار صحابہ رضی اللہ عنہم کو دی گئی ہے۔ (حجۃ اللہ البالغہ، ج1، ص 149)
ہمارے خیال میں اجتہاد کا یہ طریقہ جسے شاہ صاحب نے تفہیمات میں بین بین اور عقد الجید میں محققین فقہائے اہل حدیث کا طرز بتلایا ہے جس میں ظاہریوں کی طرح قیاس صحیح اور باقاعدہ اجتہاد کا انکار ہے نہ اہل علم فقہاء کی صحیح فکری کاوشوں سے اعراض ہے اور نہ جلد مقلدین کی طرح نصوص قرآن و حدیث سے بے اعتنائی اور ان میں توجیہات بعیدہ اور تاویلاتِ رکیکہ کی تریب ہے یہی طریقہ اجتہاد صحیح ہے۔
اس تفصیل کا مطلب یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم فقہ حنفی (جس کے ماننے والوں کی ہمارے ملک میں اکثریت ہے) اور دیگر فقہوں سے استفادے کے قائل نہیں۔ ہمارے نزدیک فقہاء کی یہ فقہی کاوشیں صد احترام ہیں جن کا استخفاف مقصود نہیں۔ تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ فقہاء نے اپنے اپنے حالات اور عرف کے مطابق اجتہاد کیا اور شرعی احکام مستنبط کئے۔ اب حالات کے تقاضے اور ان کی نوعیتیں مختلف ہیں۔ عرف بدل چکے ہیں اور نئی تہذیب و تمدن اور ان کی بو قلمونیت نے بہت سی نئی مشکلات اور پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں۔ ان حالات میں گزشتہ صدیوں کے فقہاء کے اجتہادی احکام کو مِن و عَن نافذ کرنے پر اصرار کوئی معقول طریقہ نہیں ہو گا۔ نہ اکثریت و اقلیت کا راگ الاپنا مناسب ہے۔ اصل چیز قرآن و حدیث کی برتری اور عوام کی سہولت ہے۔ اس نقطہ نظر کے بعد چاہے بنیاد فقہ حنفی کو بنا لیا جائے لیکن استفادہ دیگر فقہوں سے بھی کیا جائے اور جو فقہی مسئلہ موجودہ زمانے کے مقتضیات سے زیادہ ہم آہنگ اور اَرفق بالناس ہو اسے اپنا لیا جائے، قطع نظر اس سے کہ وہ مسئلہ فقہ حنفی کا ہو، یا فقہ شافعی کا، فقہ مالکی کا ہو یا فقہ حنبلی کا۔ اس طریقے سے اس تقلیدی جمود، حزبی تعصب اور گروہ بندی کی بھی حوصلہ شکنی ہو گی جس کو اسلامی نظام کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹ باور کرایا جاتا ہے اور جس سے لادینی عناصر غلط فائدہ اٹھا کر اسلامی نظام کے نفاذ کو ٹالتے چلے آ رہے ہیں اور اس طرح عصری مسائل کا حل بھی سہل تر ہو جائے گا"۔
(سہ ماہی "منہاج" ص 281-285)
(7) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع حجتِ شرعیہ ہے، جس سے انحراف کی اجازت نہیں
ساتویں بات مقالے میں یہ کہی گئی ہے کہ کسی امر واقعی کے بارے میں تو صحابہ کرام کا اجماع حجت ہے جیسے معوذتین کے بارے میں اختلاف ہوا کہ یہ قرآن کا حصہ ہیں یا نہیں، تو صحابہ نے متفقہ طور پر فیصلہ دیا کہ یہ قرآن کا حصہ ہیں۔ لیکن کسی امر قانونی کے بارے میں صحابہ کرام کا اجماع حجت نہیں۔ اس صورت میں یہ مسئلہ محض تعبیر و اجتہاد کا ہے، جس میں ان سے مختلف اجتہاد کیا جا سکتا ہے۔
لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اجماعی مسائل میں امر واقعی اور امر قانونی کے درمیان تفریق کرنے کی کوئی دلیل نہیں، دلائل شرعیہ مطلقا ہر معاملے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اجماع کو حجت گردانتے ہیں اور اس سے انحراف کی اجازت نہیں دیتے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد منعقد ہونے والے اجماع کی حجیت پر تو پھر بھی اختلاف ہے لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اجماعِ حقیقی پر اہل سنت کے کسی بھی مکتب فکر اور کسی بھی مجتہد کا اختلاف نہیں۔ بنا بریں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اجماع سے گریز کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ جس طرح شریعت کی تعبیر میں ان کی رائے اور تعبیر سب سے زیادہ اہم ہے جس کی موجودگی میں دوسری تعبیر صحیح نہیں، اس طرح کسی بھی مسئلے میں صحابہ کی اجماعی رائے سے گریز غیر صحیح اور ناقابل قبول ہے۔
علامہ کا نظریہ اجتہاد مسلم قوم کے لئے ناقابلِ قبول ہے
مقالہ مذکور میں باتیں اور بھی ہیں جن پر گفتگو ہو سکتی ہے لیکن جو باتیں زیادہ اہم تھیں، ان پر ضروری گزارشات پیش کر دی گئی ہیں۔ آخر میں دوبارہ راقم علامہ اقبال کے افکار کے بارے میں یہ عرض کرے گا کہ ان کے وہ افکار جس میں وہ جمہور امت سے منفرد رائے رکھتے ہیں، ان کو زیر بحث لانے سے گریز کیا جائے۔ کیونکہ ان کی عظمت تو ان کی لازوال شاعری کی مرہون منت ہے، ان کے تفردات و شذوذ کی وجہ سے نہیں۔ ہر عظیم شخصیت سے کچھ فکری تسامحات کا صدور بھی ہو جاتا ہے جن سے اس کی عظیم شخصیت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا۔ البتہ اس کے فکری تسامحات کو ہی اس کی عظمت کی بنیاد ثابت کرنے کی کوشش کی جائے تو اس سے یقینا اس کی عظمت متاثر ہوتی ہے۔ اس لئے علامہ کے شذوذ و تفردات پر جو ان کے مجموعی فکر و فلسفے، نظریات و خدمات اور حیات و شخصیت سے مطابقت نہیں رکھتے، نئے نئےنظریے اور فلسفے کی بنیاد رکھنا نادان دوستی ہی کی ذیل میں آتا ہے۔
اگر کسی کو یہ شبہ ہو کہ زیر بحث نظریہ اجتہاد ان کے شذوذ میں شمار کئے جانے کے قابل نہیں، بلکہ وہ تو ان کی فکری عظمت اور بالغ نظری کی دلیل ہے تو راقم سوال کرے گا کہ اگر ایسا ہے تو پھر مسلمانوں کے اہل علم و فکر میں اس نظریے کو پذیرائی نصیب کیوں نہیں ہوئی؟ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ علامہ کے پیش کردہ اس نظریے کو نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن اب تک اسے سنجیدہ غوروفکر کا مستحق ہی نہیں سمجھا گیا اور کسی بھی حلقے نے اسے قبول نہیں کیا، جس کا اعتراف خود ڈاکٹر جاوید اقبال نے بھی کیا ہے چنانچہ وہ علامہ کے نظریہ اجتہاد اور اس میں ان کے تفردات پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
"اجتہاد کے معاملے میں انہوں نے اس قسم کی وُسعت نظر کا مظاہرہ کیا ہے اور فقہ میں قرآن و سنت کی حدود میں رہتے ہوئے ایسی انقلابی تعبیریں ان کے ذہن میں تھیں جنہیں قبول کرنے کے لئے اب تک نہ تو تقلید پسند اور تنگ نظر علماء تیار ہیں نہ مسلم قوم ۔۔۔۔۔ اقبال اپنی تحریروں میں یہاں تک آگے بڑھ جاتے ہیں کہ ان کے نزدیک مسلمانوں کی ہر نسل گزشتہ نسلوں کے فقہی تعبیر یا اجماع کی پابند نہیں۔ بالفاظ دیگر وہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کی ہر نئی نسل فقہی مسائل کا حل وقت کے جدید تقاضوں اور اپنی بدلتی ہوئی ضروریات کو مدنظر رکھ کر کرے۔ اقبال یہ حق جدید جورس پروڈنس کے ماہر اور اسلامی فقہ کے اصولوں سے شناسا وکلاء اور ججوں (قاضیوں) کو دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ جس جراءت فکر یا تحریک پر اصرار کرتے ہیں یا جس لبرل ازم کی طرف مسلمانانِ جدید کو لے جانا چاہتے ہیں، اسے ابھی تک کوئی بھی قبول کرنے پر رضامند نہیں ہوا"
(زندہ رود، ج3، ص 658)
ڈاکٹر جاوید اقبال کی یہ صراحت
مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری
کی آئینہ دار ہے۔ جس کے بعد اس امر میں کوئی شبہ نہیں رہنا چاہیے۔ کہ علامہ اقبال کا نظریہ اجتہاد بالکل اچھوتا، منفرد اور شاذ ہے اور اسے علماء اور مسلم قوم نے جس طرح اب تک قبول نہیں کیا ہے، آئندہ بھی اسے قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔ جو لوگ ایسی ناقابل قبول شاذ رائے کے منوانے پر اصرار کرتے ہیں، وہ علامہ اقبال کے ساتھ ناانصافی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ اور ایسے ہی لوگوں کے بارے میں مولانا سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ نے ایک موقعے پر تنبیہ فرمائی تھی۔
"آج کل ڈاکٹر اقبال کے نام سے متعدد رسائل نکل رہے ہیں اور مجلسیں قائم ہو رہی ہیں۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ اشخاص بھی بہ تدریج ترقی کر کے منزل مقصود کے احاطے میں داخل ہوتے ہیں اور ان کے خیالات بھی اسی تدریج کے ساتھ کمال کو پہنچتے ہیں اس لئے اگر یہ کہا جائے کہ ہر شئے جو ڈاکٹر اقبال کے کلام کے فائل میں نکل آئے، وہ ان کی تعلیم ہے تو وہ سراسر غلط ہو گا۔ بلکہ وہی چیزیں ان کی تعلیمات کے عناصر ہوں گی جن پر ان کے قلم نے ایک مدت کی تلاش کے بعد آرام کی سانس لی اور جس منزل پر پہنچ کر ان کے خیال کے مسافر نے اقامت اختیار کی۔ اس بنا پر آج کل رسالوں کے کارخانوں میں جو مال تیار ہوتا ہے اور اس پر ڈاکٹر اقبال کے نام کا مارکہ لگا کر جو دکان داری کی جا رہی ہے وہ ہمت افزائی کے لائق نہیں۔ ع   کبھی فرصت سے سن لینا بڑی ہے داستاں میری"
("معارف" اعظم گڑھ، مئی 1942ء، بحوالہ "اقبال سید سلیمان ندوی کی نظر میں" ص 112-113)
علامہ کا اپنے "نظریہ اجتہاد" سے رجوع
مولانا سید سلیمان ندوی نے جس بات کی طرف اشارہ کیا ہے، اس نقطہ نظر سے اگر علامہ کے نظریہ اجتہاد کا جائزہ لیا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ علامہ نے اپنے اس نظریہ اجتہاد سے رجوع کر لیا تھا کیونکہ اس کے بعد انہوں نے اس کے برعکس خیالات کا اظہار فرمایا ہے۔
مولانا سید سلیمان ندوی کے نام ایک خط سے معلوم ہوتا ہے کہ علامہ کے یہ "خطبات" 1922ء میں انگلستان میں زیر طبع تھے (اقبال، سید سلیمان ندوی کی نظر میں۔ ص 167) جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ یہ خطبات 1922ء سے بھی کئی سال قبل تحریر کئے گئے تھے اور یہ دور وہ تھا جب ترکی میں انجمن اصلاح و ترقی اور اس کے سرکردہ رہنما مصطفیٰ کمال اور ان کے دیگر ہم نوا ایک طرف ترکی کی اصلاحِ ترقی کے لئے مختلف کوششوں میں سرگرم تھے اور دوسرے ترکی کی بعض ریاستوں (بلقان و یونان و سمرنا وغیرہ) پر اتحادی فوجوں نے جو قبضہ کر لیا تھا، ان کے خلاف حرب و ضرب میں مصروف تھے اور اس میں انہوں نے خاصی کامیابی حاصل کی اور اتحادی فوجوں کو مار بھگایا۔ مصطفیٰ کمال کی یہی شہامت و شجاعت تھی جس نے اسے ترکی کی بازیافتہ ریاستوں میں ہیرو کا مقام عطا کر دیا تھا۔
لیکن جب 1924ء میں مصطفیٰ کمال نے خلافت اسلامیہ کا خاتمہ کر کے اور ترکی کی اسلامی حیثیت ختم کر کے اسے سیکولر ازم اور مغربیت کے راستے پر ڈال دیا (جس کی کچھ تفصیل پہلے گزر چکی ہے) تو علامہ نے مصطفیٰ کمال سے بھی مایوسی کا اظہار کیا اور اس پر تنقید کی، جیسا کہ علامہ کے یہ اشعار و خیالات پہلے نقل کئے جا چکے ہیں، اِسی ضمن میں ان کا یہ شعر بھی ہے
چاک کر دی ترک ناداں نے خلافت کی قبا
سادگی مسلم کی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ
جس سے اندازہ یہی ہوتا ہے کہ علامہ نے پہلے ترکی اجتہاد کی جو تعریف کی تھی، بعد میں مصطفیٰ کمال کے اقدامات دیکھ کر اس پر انہوں نے نظرثانی کر لی تھی۔ اس کی تائید ان خطوط سے بھی ہوتی ہے جو مولانا سید سلیمان ندوی کے نام پر جن کے بعض اقتباسات گزر چکے ہیں جن سے ان کے اس نظریے کا پتہ چلتا ہے کہ وہ ایسی تعبیر و تشریحِ جدید کے قائل نہیں رہے تھے جس کے نتیجے میں ہر اسلامی ملک میں الگ الگ احکامِ شرعی مرتب ہو جائیں اور یوں ملتِ اسلامیہ کی وَحدت پارہ پارہ ہو جائے، جیسا کہ ان کے اس نظریہ اجتہاد سے مستفاد ہوتا ہے۔ جسے اب بعض حلقے "تشکیلِ جدید الٰہیات اسلامیہ" کے حوالے سے پیش کر رہے ہیں۔
بہرحال اس توجیہ و تطبیق سے اگر کوئی حلقہ مطمئن نہیں ہوتا اور اس کا اصرار ہے کہ علامہ اپنے نظریہ اجتہاد پر ہی قائم رہے تو ہم پھر یہی عرض کریں گے کہ علامہ کا یہ نظریہ اپنے اندر نہایت خطرناک مضمرات رکھنے کی وجہ سے قابل قبول نہیں ہے اس سے اس تجدد اور مغربیت ہی کی حوصلہ افزائی ہو گی جس کو وہ خود بھی سخت ناپسند کرتے تھے۔ اور اپنے اشعار میں ان پر زور دار تنقیدیں کی ہیں اور مسلمانوں کی نئی نسل کو اس سے بچانے کی بھرپور سعی کی ہے ۔۔۔ اس لئے ہم مولانا سید سلیمان ندوی کی زبان میں اس امر کا کھلے دل سے اعتراف کرتے ہیں کہ اقبال رحمہ اللہ
"ہندوستان کی آبرو، مشرق کی عزت اور اسلام کا فخر تھا ۔۔۔۔۔ ایسا عارف فلسفی، عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، شاعر، فلسفہ اسلام کا ترجمان اور کاروانِ ملت کا حُدی خواں صدیوں کے بعد پیدا ہوا تھا اور شاید صدیوں کے بعد پیدا ہو۔ اس کے ذہن کا ہر ترانہ بانگ درا، اس کی جان حزیں کی ہر آواز زبور عجم، اس کے دل کی ہر فریاد پیامِ مشرق اور اس کے شعر کا ہر ہر پَر پرواز بالِ جبریل تھا۔ اس کی عمر گو ختم ہو گئی لیکن اس کی زندگی کا ہر کارنامہ، جاوید نامہ بن کر ان شاءاللہ زندہ رہے گا"
("معارف" مئی 1938ء بحوالہ اقبال! سید سلیمان ندوی کی نظر میں، ص 116-117)
لیکن اس کے ساتھ ہم یہ بھی کہیں گے کہ اس کی ہر بات آسمانی نہیں۔ ہر فکر، وحی و تنزیل نہیں اور ہر فرمودہ خطاء و زلل سے محفوظ نہیں۔ انسان کتنا بھی بڑا ہو لیکن انسانوں میں یہ مقام عصمت صرف انبیاء علیہم السلام ہی کو حاصل ہے۔ ہمیں اقبال کو، اقبال ہی رہنے دینا چاہیے۔ اسے پیغمبر معصوم بنانے سے گریز کرنا چاہیے۔