''اسلام میں عورت کا مقام و مرتبہ'' تبصرہ نگار : عبدالوکیل علوی، ایم اے
مصنفہ : محترمہ ثریا بتول علوی، ایم اے عربی،
ایم اے اسلامیات، گولڈ اینڈ سلور میڈلسٹ، بی۔ ایڈ،
اسسٹنٹ پروفیسر گورنمنٹ کالج سمن آباد لاہور
صفحات: 256
قیمت : 54 روپے
ناشر: شفیق الاسلام فاروقی
ملنے کا پتہ : حرا پبلی کیشنز 2؍14 فضل الٰہی مارکیٹ اردو بازار ، لاہور۔

آج ملت اسلامیہ ایک دوراہے پر حیران و پریشان کھڑی ہے۔ ایک طرف خدا ناآشنا مغربی ثقافت کی ظاہری چمک دمک اور چکا چوند پیدا کرنے والی سائنسی او رٹیکنالوجی ترقیاں ہیں اور دوسری طرف اسلامی تہذیب و ثقافت ہے جو گم کردہ راہ انسانیت کو احکام الٰہی کی اتباع کی دعوت او رپاکیزگی اخلاق کی تعلیم دیتی ہے ۔ یہ دو رستے ہیں ایک فلاح اخروی اور دنیوی کامرانی کی طرف لے جانے والا ہے اور دوسرا فساد او رناکامی کی طرف۔

کوئی صاحب دانش و بینش اس کا انکار نہیں کرسکتا کہ سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی کے ارتقاء کے اعتبار سے تہذیب مغرب میں چند خوبیاں بھی ہیں۔ لیکن اپنی چند خوبیوں کے جلو میں بے شمار مفاسد لے کر آئی ہے جن سے انسانیت بھیانک نتائج سے دو چار ہورہی ہے۔

آج مغرب کی خدا ناآشنا تہذیب نے صنفی بے راہ روی کا بازار گرم کررکھا ہے۔ جس نے مرد و عورت کو آزادانہ اختلاط، بے حیائی او ربدکاری کے لیے کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ اس کے تباہ کن اثرات و نتائج کو دیکھ کر تو خود اہل مغرب کے دانش مند حضرات بھی چیخ اٹھے ہیں۔ مغربی معاشرے میں عورت نے مصنوعی زیبائش اور تزئین و آرائش سے اور چہرے پر رنگ اور غازے مل کر غیر مردوں کو دعوت نظارہ دینا لازمہ زندگی بنا لیا ہے۔

تہذیب فرنگ کے اثرات اس دور میں ساری دنیا پر پھیلے ہوئے ہیں۔ اسلام کے نام سے وجود میں آنے والی مملکت خداداد پاکستان میں اس کے اثرات سرعت کے ساتھ پھیل رہے ہیں حالانکہ یہ خطہ ارضی اس وعدہ سے ساتھ مانگا گیا تھا کہ اس میں اسلامی نظام حیات کا نفاذ ہوگا۔ شریعت اسلامیہ کی بالاتری ہوگی، احکام خداوندی نافذ کئے جائیں گے۔ لیکن احکام الٰہی پر عمل پیرا ہونے کے بجائے آج مغرب زدہ خواتین بے پردگی، بے حیائی اور تبرج جاہلیہ کے بناؤ سنگھار کو آرٹ اور تہذیب کا نام دے رہی ہیں او راسلام سے مطالبہ کررہی ہیں کہ ان کی مادر پدر آزادی میں دخیل نہ ہو۔

گزشتہ سالوں سے یہ بات شدت سے محسوس کی جارہی تھی کہ کوئی مسلمان اہل علم خاتون آگے بڑھے اور ایسی کتاب منظر عام پر لائے جو مغرب زدہ خواتین کو عام فہم سادہ انداز میں ان کے مقام و مرتبہ او ران بے مثال حقوق سے آگاہ کرے جو اسلام نے انہیں عطا کئے ہیں۔ اس ضرورت کو ایک دینی گھرانے کی پروردہ، خالص دینی ذوق رکھنے والی اور دینی و دنیوی علوم سے آراستہ خاتون پروفیسر ثریا بتول علوی صاحبہ نے ''اسلام میں عورت کا مقام و مرتبہ'' نامی کتاب پیش کرکے کماحقہ پورا کرنے کی بلیغ سعی کی ہے۔ اس کتاب میں مصنفہ نے بتایا ہے کہ دور جاہلیت میں اسلام سے پہلے دنیا جہاں کی تمام تہذیبوں سے اسے حقیر ترین مخلوق تصور کیا جاتا تھا۔ اسے کسی قسم کے حقوق کا مستحق ہی نہیں سمجھا جاتا تھا اس کے ساتھ وحشیانہ سلوک روا رکھا جاتا۔ عرب کے بعض قبائل میں تو دختر کشی بھی کی جاتی تھی او راسے زندہ درگور کردیا جاتا تھا۔ نیز یہ بھی بتایا کہ اسلام نے ستم زدہ اور جور وجفا کی ماری ہوئی بے کس و مظلوم مخلوق عورت پر ایسے احسانات فرمائے جس کا جواب نہیں۔ اسے اتنا بلند مقام و مرتبہ عطا فرمایا کہ جنت اس کے قدموں کے نیچے قرار دی۔ فاضل مصنفہ نے اپنے شستہ اندا زبیاں اور عام فہم زبان میں گم کردہ راہ خواتین کو ان کا حقیقی مقام و مرتبہ سمجھانے کی سعی کی ہے۔ جو بات بھی کی ہے تجربے کی روشنی میں عمدہ عقلی و نقلی دلائل کے ساتھ کی ہے۔ جو دلائل پیش کئے بحوالہ کئے او رحوالہ جات بھی مستند ہیں۔ ایسا شائد کوئی حوالہ کتاب میں درج نہیں کیا جس کی اسنادی حیثیت قابل قبول نہ ہو۔ دلائل کو آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ سے آراستہ کیا ہے۔

کتاب آٹھ ابواب پر مشتمل ہے او رایک دیباچہ ہے۔ پہلا باب جس کا عنوان ہے ''اسلام میں عورت کا درجہ'' اس کے تحت بیسیوں ذیلی عنوانات ہیں۔ دوسرا باب ''عائلی زندگی اور مسلمان کی بیوی کے فرائض'' ہے۔ اس کے تحت بھی چالیس سے اوپر ذیلی عنوانات ہیں۔ تیسرا باب ''اسلامی معاشرے میں ماں کا درجہ او رکردار'' یہ باب بھی چالیس سے اوپر عنوانات پر مشتمل ہے۔ اس باب میں چند مثالی ماؤں کے ضمن میں امت مسلمہ کی برگزیدہ خواتین کا تذکرہ کیا ہے او رچوتھا باب تقریباً بیس ذیلی عنوانات اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اس کا عنوان ہے ''مسلمان عور ت کا دائرہ کار او راس کی سیاسی و سماجی خدمت'' اور پانچواں باب جس کا عنوان ہے ''عورتوں کی تعلیم و تربیت'' اس کے تحت علم کی فضیلت، حصول علم کی تاکید، اسلام میں خواتین کے لئے درس و تدریس کا خصوصی اہتمام ، خواتین کے لئے موجودہ دنیاوی تعلیم، ہمارا موجودہ نظام خرابیوں کی جڑ ہے، مخلوط تعلیم، خواتین کے لئے ملازمت کی مشکلات، اصلاح کی تدبیر وغیرہ او رباب نمبر 7 میں ''خواتین اور رزق حلال'' او رباب 8 میں ''خاندانی منصوبہ بندی او راسلام ''

فاضل مصنفہ نے اس کتاب میں عورت کا صحیح مقام و مرتبہ جو اسے خالق کائنات نے دیا ہے اسے نہایت اچھے اسلوب و نگارش اور عقل کو اپیل کرنے والے واضح دلائل سے ثابت کیا ہے۔ کوئی بات خلاف واقعہ اور خلاف حقیقت نہیں کہی۔ مختلف علوم وفنون پر کمال حاصل کرنے والی چند خواتین کے تذکرے بھی شامل کتاب کردیئے ہیں۔ اس طرح دینی اور معاشرتی پہلو کے ساتھ ساتھ تاریخ و ادب کے امتزاج نے کتاب کو جامع او رمفید تر بنا دیا ہے۔ مصنفہ نے گونا گوں روز مرہ کی تعلیمی و تدریسی مصروفیات اور گھریلو مشغولیات کے باوجود نہایت بلندپایہ تصنیف پیش کرکے اسلام سے اپنی ذاتی وابستگی، شیفتگی اور غیر معمولی وارفتگی کا ثبوت دیا ہے۔ اللہ رب العزت کے حضور استدعا ہے کہ ایسی بلیغ سعی پر انہیں اپنی جناب خاص سے اجرو ثواب عطا فرمائے اور ان کی قلمی کاوشوں میں دن دگنی رات چوگنی ترقی، شادابی او رروانی عطا فرمائے۔ ایسی کتاب کو ہر مسلمان خاتون کے مطالعہ میں ضرور آنا چاہیے۔