تذکرہ علامہ سیوطی حافظ جلال الدین سیوطی﷫
نام، نسب، کنیت اور لقب : آپ کی کنیت ابوالفضل، لقب جلال الدین او رنام عبدالرحمٰن بن الکمال ابی بکر محمد بن سابق .......... الخضیری، الاسیوطی، الشافعی ہے۔
ولادت : آپ کی ولادت یکم رجب 849ھ بروز اتوار بعد نماز مغرب ہوئی۔
سیوطی کا انتساب : ''اُسیوط'' کی طرف نسبت سے آپ ''اسیوطی'' مشہور ہوئے۔
اسیوط کا تلفظ : پہلے حرف پر پیش، دوسرا ساکن اور تیسرے پر بھی پیش ہے۔
مراصد الاطلاع : میں ہے کہ یہ ''صعید مصر'' کے نواح میں دریائے نیل کے مغربی کنارہ پر واقع ایک شہر ہے۔

معجم الیاقوت میں اس شہر کا نام ''سیوط'' یعنی ہمزہ کے بغیر لکھا ہے۔

''القاموس'' کے حاشیہ میں ''ابن الطیب'' نے ذکرکیا ہے کہ ''اسیوط'' کے تلفظ میں ہمزہ پر تینوں حرکات (زبر، زیر او رپیش) پڑھی جاسکتی ہیں۔

آپ کے اجداد میں سے کسی بزرگ نے اس شہر میں مدرسہ کی بنیاد رکھی او راس کے لئے کچھ جائداد وقف کردی۔ آپ کے والد ''الکمال'' کی ولادت اسی شہر میں ہوئی۔

اس شہر کے متعلق آپ کا ایک رسالہ بنام ''المضبوط في أخبار أسیوط'' بھی ہے او رآپ نے ''المقامة الأسیوطیة'' کے عنوان سے ایک حکایت بھی لکھی ہے۔ یہ شہر آج کل بہت بڑا مرکزی علاقہ ہے۔

''خضیری'' کا انتساب : بغدا دکے ایک محلہ کی طرف نسبت سے آپ ''خضیری'' بھی کہلاتے ہیں۔ ''المراصد'' میں ہے کہ یہ محلہ بغداد کے مشرقی حصہ میں واقع تھا۔ ''مشهد الإمام أبي حنیفة' 'سے متصل آج کل موجود ''خضیریة'' نامی شاید وہی محلہ ہو۔ اسے ''سوق خضیر'' بھی کہتے ہیں۔ شاید آپ کے اجداد میں سے کوئی بزرگ اس محلہ سے تعلق رکھتے ہوں۔1

خاندانی پس منظر :
آپ کے آباء و اجداد اہل علم، بااثر اور معزز لوگ تھے۔ آپ کے والد گرامی کا شافعی فقہاء میں شمار ہوتا ہے۔ ان کی وفات 855ھ میں ہوئی جبکہ سیوطی کی عمر صرف پانچ سال اور سات ماہ تھی اور قرآن کریم سورة التحریم تک حفظ کرچکے تھے۔ آپ یتیمی کی حالت میں پلے اور بڑھے۔

''فتح القدیر'' کے مصنف ''الکمال بن الھمام الحنفی'' جو مدرسہ شیخونیہ میں فقہ کے استاد تھے ان کو بھی آپ کے والد نے آپ کی سرپرستی اور تربیت کی وصیت کی تھی۔ 2

تعلیم و تربیت اور اساتذہ کرام:
بچپن ہی سے سیوطی پر ذہانت و فطانت کے آثار نمایاں تھے۔ آپ ابھی آٹھ سال کے ہی تھے کہ قرآن کریم حفظ کرلیا۔ اس کے بعد العمدة، المنہاج الفقہی، المنہاج الاصولی، اور الفیہ ابن مالک حفظ کرکے 864ھ میں باقاعدہ طور پر حصول علم میں مشغول ہوگئے اور اپنے دور کے اکثر ماہرین فن سے پڑھا، سُنا او ران کی خدمت میں کافی عرصہ گزرا۔ آپ کے چند مشہور اساتذہ کرام کے نام یہ ہیں:
سراج الدین البلقینی، ان سے فقہ کا علم حاصل کیا اور ان کی وفات تک ان کی خدمت میں رہے۔
علم الدین (متوفی 868ھ) بلقینی کی وفات کے بعد ان کے بیٹے علم الدین کی خدمت میں رہ کر ان سے الحادی الصغیر، المنہاج، التبنیہ، شرح المنہاج اور الروضة کا سماع کیا۔
شہاب الدین الشار مساحی سے علم میراث پڑھا۔
الشرف المناوی ابوزکریا یحییٰ بن محمد (متوفی 871ھ) سے جو کہ الجامع الصغیر کے شارح عبدالرؤف المنادی کے دادا تھے ان سے شرح البحجہ اور تفسیر البیضاوی پڑھی۔
تقی الدین الثمنی، الحنفی (متوفی 872ھ) سے عربی لغت او رحدیث کا علم حاصل کیا۔
شیخ محی الدین محمد بن سلیمان رومی حنفی، ان کی خدمت میں آپ چودہ برس رہے اور ان سے تفسیر، اصول، عربیت او رعلم معانی پڑھا۔
سیف الدین حنفی کے پاس کشاف ، توضیح، تلخیص المفتاح اور شرح العضد کے درسوں میں حاضر ہوئے۔
جلال الدین المحلّی (متوفی 864ھ)
احمد بن ابراہیم حنبلی، العز، الکنانی
الزین العقبی (متوفی 852ھ)
البرہان ابراہیم بن عمر البقاعی، الشافعی (متوفی 885ھ)
الشمس السیرامی سے صحیح مسلم، الشفاء الفیہ ابن مالک، التسہیل، التوضیح اور اصول حنفیہ کی کتاب مغنی الخبازی
الشمس المرزبانی سے کافیہ اور شرح الکافیة لابن حاجب اور شرح الکافیة للجابرودی او راصول حدیث میں ألفیة الحدیث للعراقي
الشارمساحی سے علم میراث او رعلم حساب
المجد بن سماع
عبدالعزیز الوفائی سے المیقات
او رمحمد بن ابراہیم الدوانی، الرومی سے علم طب پڑھا۔

تدریس و تالیف کا آغاز :
866ھ کی ابتداء میں آپ کو تدریس لغت عربی کی اجازت ملی او راسی سال آپ نے تصنیف و تالیف کا آغاز کیا۔
آپ کی سب سے پہلی کتاب ''ریاض الطالبین'' ہے جس میں مختلف علوم کی روشنی میں تعوذ او رتسمیہ پر بحث کی ہے۔

اس کتاب کی حقیقت یہ ہے کہ اس پر آپ کے استاد ''علم الدین البلقیني'' نے تقریظ لکھی ۔

افتاء، تدریس علوم عامہ اور املاء حدیث کا آغاز :
871ھ میں آپ کو فتویٰ دینے او رعام علوم کی تدریس کی اجازت ملی۔ 871ھ کی ابتدائ میں آپ نے پہلا فتویٰ لکھا اور 872ھ میں آپ املاء حدیث کی مجلس منعقد کی۔

آپ کے شیخ ''تقی الدین الثمنی'' نے آپ کی شرح الفیہ ابن مالک او رعلم نحو کی جمع الجوامع کو تقریظ لکھی۔ خود آپ نے اپنی کتاب جمع الجوامع کی شرح ممع الھوامع کے نام سے کی۔ یہ کتاب بڑی جامع اور ضخیم ہے اس سے آپ کی وسعت معلومات کا اندازہ ہوتا ہے۔

حصول علم کے لیے سفر :
آپ نے طلب علم کے لئے شام، حجاز، یمن، ہند، مغرب، بلاد، تکرور او رالمحلة، الدمیاط اور الفیوم وغیرہ مصر شہروں کا طویل سفر اختیار کیا۔

سعادت حج : آپ حج کی سعادت سے بھی فیض یاب ہوئے۔ زمزم پیتے وقت آپ نے کئی دعائیں کیں۔ ان میں سے ایک دعاء یہ تھی کہ اللہ مجھے علم حدیث میں حافظ ابن حجر عسقلانی او رفقہ میں اپنے استاد شیخ سراج الدین بلقینی کے مرتبہ تک پہنچائے۔ آمین

اساتذہ کی تعداد
آپ نے جن اساتذہ سے علوم کا سماع کیا یا ان کے سامنے بیٹھ کر کتابوں کی قرأت کی، یا جن سے آپ کو محض اجازت حاصل تھی۔ آپ کے شاگرد داؤدی نے ان تمام کی تعداد ایک سو اکاون (151) لکھی ہے۔

آپ نے اپنے اساتذہ کرام کے تذکروں سے متعلق ''حاطب لیل و جارف سیل'' کے نام سے ایک معجم کبیر ، ''المنتقی'' کے نام سے ایک معجم صغیر او راپنی مرویات کے متعلق ایک معجم بنام ''زاد المسیر في الفهرست الصغیر'' تصنیف کی۔ آپ نے معجم میں اپنے پچاس اساتذہ کرام کا تذکرہ کیا ہے۔

سیوطی کا علمی مرتبہ
سیوطی صاحب فنون او ربہت سے علوم میں رتبہ امامت کو پہنچے ہوئے تھے آپ نے اپنی کتاب ''حسن المحاضرہ'' میں ذکر کیا ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بالخصوص سات علوم میں بہت زیادہ معلومات دی ہیں۔

تفسیر، حدیث، فقہ، نحو، معانی، بدیع عرب فصحاء کے انداز پر نہ کہ اہل عجم و فلسفہ کے طریق پر۔ آپ اپنی کتاب ''الردّ علی من أخلد إلی الأرض و جھل أن الاجتهاد في کل عصر فرض'' میں رقم طراز ہیں۔
کہ ''روئے زمین پر مشرق سے مغرب تک خضر، قطب یا کسی ولی اللہ کے علاوہ حدیث اور عربی کا مجھ سے بڑا عالم کوئی نہیں۔''

ان کا یہ دعویٰ عربی زبان کے بارے میں تو تسلیم کیا جاسکتا ہے البتہ حدیث کے بارے میں ان کا یہ دعویٰ غیر درست ہے۔ الا یہ کہ اس سے متون حدیث کا حفظ مراد ہو یا سخاوی کے علاوہ افراد مراد ہوں۔

نیز انہوں نے لکھا ہے کہ فقہ کے سوا باقی تمام فنون میں ان کے اساتذہ میں سے بھی کوئی ان کے ہم پلہ نہیں البتہ فقہ میں ان کے شیخ کی معلومات وسیع اور زیادہ ہیں۔ او رہاں اصول فقہ اور علم الجدل والتصریف میں مذکورہ سات علوم سے کچھ کم معلومات ہیں ان کے بعد علم الانشاء والترسل اور علم المیراث، اس کے بعد علم القرأت ہے جس میں ان کا کوئی استاد نہیں او راس کے بعد علم طب کی معلومات ہیں۔ منطق کے متعلق لکھتے ہیں کہ آغاز میں اس علم کے متعلق کچھ پڑھا تھا۔ بعد میں اس سے طبیعت اچاٹ ہوگئی او رابن صلاح کا اس علم کی حرمت کے متعلق فتویٰ پڑھا تو اسے بالکل ترک کردیا اور اس کے بدلے مجھے اللہ تعالیٰ نے علم حدیث عطا فرمایا۔

منطق کے متعلق آپ نے دو رسالے تحریر فرمائے۔
القول المشرق في تحریم الإشغال بالمنطق
صون المنطق والکلام عن فن المنطق والکلام

علم حساب آپ کے نزدیک بڑا مشکل تھا۔ اس کے متعلق لکھتے ہیں کہ جب میں حساب سے متعلق کوئی مسئلہ دیکھوں تو وہ میرے لئے اتنا مشکل اور بھاری ہوتا ہے کہ گویا مجھے پہاڑ اٹھانا پڑا ہے۔

قدرت نے آپ کو غضب کا حافظہ عطا فرمایا تھا آپ نے خود ذکر کیا ہے کہ مجھے دو لاکھ احادیث زبانی یاد ہیں۔

مدرسہ محمودیہ کا کتب خانہ
آپ نے قصبہ رضوان میں باب فرویلہ کی جانب پہلے خیمہ میں واقع جامع الکردی کی جگہ موجود مدرسہ محمودیہ کے کتبخانہ سے خوب استفادہ کیا۔

مقریزی لکھتے ہیں کہ اس کتب خانہ میں ہر فن کی اسلامی کتابیں موجود ہیں۔

یہ مدرسہ اپنے بانی محمود بن علی الاستادار کی طرف منسوب ہے۔ انہوں نے 797ھ میں اس کی بنیاد رکھی۔ یہ مدرسہ مصر کے شاندار مدارس میں شمار ہوتا ہے۔

''أنباء القمر'' میں حافظ ابن حجر عسقلانی اس مکتبہ کے متعلق لکھتے ہیں:
کہ ''اس مکتبہ میں موجود بے بہا کتب قاہرہ میں آج کل موجود تمام کتابوں سے زیادہ قیمتی اور مفید ہیں۔ یہ کتابیں وہ ہیں جو ابرہان بن جماعہ نے زندگی بھر جمع کیں او ران کی وفات کے بعد محمود آستادار نے ان کے ترکہ میں سے یہ کتابیں خرید کر بایں شرط وقف کردیں کہ ان میں سے کوئی کتاب مدرسہ سے باہر نہ جائے۔''

یہ کتب خانہ حافظ ابن حجر کی تحویل میں رہا۔ اس وقت اس میں تقریباً چار ہزار جلدیں تھیں۔ آپ نے اس کتب خانہ کی فہرست مرتب کی تھی۔

سیوطی نے ایک رسالہ میں اس کی فہرست بھی مرتب کی، اس رسالہ کا نام''بذل المجهود في خزانة محمود'' ہے ۔ یہ رسالہ استاد فواد عبدالباقی نے '' معھد المخطوطات العربیة'' کے ساتھ شائع کردیا ہے علم الدین البلقینی اور الشرف المناوی اس کتب خانہ سے کتابیں عاریتاً حاصل کرکے اپنے گھر لے جایا کرتے تھے۔

سیوطی کا مرتبہ اجتہاد، وسعت معلومات او راستغناء
سیوطی کو ملکہ اجتہاد اور اس کی تمام ضروری معلومات حاصل تھیں۔ آپ اپنی کتاب حسن المحاضرہ ، الرد علی اخلد الی الارض، طر ز العمامہ اور مسالک الحنفاء میں لکھتے ہیں:
''میں چاہوں تو ہر مسئلہ کے متعلق نقلی، عقلی دلائل، اس کے اصول و اعتراضات مع جوابات، اس بارے میں مختلف مذاہب کے اختلاف او ران کے مابین موازنہ وغیرہ کے بارے میں رسالہ لکھنا چاہوں تو اپنی قوت یا طاقت سے نہیں بلکہ اللہ کے فضل اور توفیق سے لکھ سکتا ہوں۔''

اس کےساتھ ساتھ آپ بڑے زود نویس، حاضر جواب، صحیح العقیدہ، متواضع، قناعت پسند اور بڑے عبادت گزار تھے۔

امراء و ملوک کے تحائف قبول نہ کرتے تھے۔ سلطان غوری نے ایک بار آپ کی خدمت میں ایک غلام او رایک ہزار دینار پیش کئے۔ آپ نے دینار واپس کردیئے اور غلام لے کر آزاد کردیا اور مدینہ منورہ میں حجرہ نبویہ کا خادم مقرر کردیا۔ اور بادشاہ کے قاصد سے کہا: تم دوبارہ تحائف اور ہدایا لے کر نہ آنا، ہمیں اللہ نے ان چیزوں سے مستثنیٰ کررکھا ہے۔

سیوطی نے نئے پیش آمدہ مسائل کے بارے میں امام شافعی کے اصولوں کے مطابق فتوے دیئے او راکثر فنون کے بارے میں شاندار کتابیں تصنیف کیں۔

آپ کے فتاویٰ او رمؤلفات چمکتے سورج کی طرح معروف ہوئیں او رہر علاقہ کے اہل علم نے انہیں شرف قبولیت سے نوازا۔

مقامہ مزھریہ، جس کا نام ''النحج إلی الصلح'' اس میں لکھتے ہیں کہ:
میں نے سترہ برس تک فتوے لکھے اور چالیس برس کی عمر تک تدریس و افتاء سے متعلق رہا، اس کے بعد معذرت کرکے یہ دونوں کام چھوڑ کر عبادت اور تصنیفات میں مشغول ہوگیا۔

اور اس کے متعلق ایک رسالہ تالیف کیا اس کا نام ''التفتیش في الاعتذار من ترك الإفتاء و التدریس'' رکھا۔ ''الاستنصار بالواحد القهار'' نامی مقالہ میں ذکر کیا ہے کہ انہیں فتوے دینے کی وجہ سے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ آپ نے اس منصب کو ترک کردیا اور مصمم ارادہ کرلیا نہ تو کبھی فتوی دیں گے او رنہ کسی سائل کے سوال کا جواب لکھیں گے۔3

اور اسکے بعد آپ جزیرة الروضہ (جسے آج کل ''المنیل'' کہتے ہیں) میں مقیم ہوگئے او راپنی کتابیں اہل علم او رطالبان علم کے لئے وقف کردیں۔

آپ نے بہت سے اشعار اور نظمیں کہیں آپ کے اکثر شعر متوسط درجہ کے ہیں۔

مؤلفات
اللہ تعالیٰ نے سیوطی کی عمر اور وقت میں برکت فرمائی او رآپ نے ہر فن کے متعلق ایک یا ایک سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔ بعض کتابوں میں تو آپ کا انداز منفرد اور انوکھا ہے۔ جیسا کہ تفسیر میں ''الدر المنثور فی التفسیر بالماثور'' علم نحو میں ''الأشباہ والنظائر'' اور حدیث میں ''جمع الجوامع'' وغیرہ سے ظاہر ہے۔

آپ کی بعض تالیفات میں کچھ تسامحات بھی واقع ہوئے ہیں۔ ان کی تحقیق و استدراک کی ضرورت ہے لیکن اس سے آپ کے علمی مرتبہ میں کوئی فرق نہیں آتا کہ کثیر التصانیف مصنفین سے ایسا ہی ہی جیا کرتا ہے جیسا کہ ابوالفرج ابن الجوزی سے بھی ہوا۔

آغاز میں سیوطی مختلف کتابوں کی تلخیص اور اختصار کیا کرتے تھے۔ شاید یہی چیز فقہ او ربہت سے مسائل میں ان کی وسعت و گہرائی کا ذریعہ ثابت ہوئی۔ بعد میں آپ مستقل کتابیں تصنیف کرنے لگے۔

جب آپ نے ''حسن المحاضرہ'' تصنیف کی اس وقت آپ کی تصنیفات کی تعداد تقریباً تین سو تک پہنچ چکی تھی۔ آپ کی کتابیں بڑی بڑی اور بعض تو چند اوراق و صفحات اور بعض تو صرف ایک ہی صفحہ پر مشتمل ہیں۔

آپ کے شاگرد داؤدی مالکی نے ذکر کیا ہے کہ سیوطی کی تصانیف پانچ صد سے زائد ہیں۔

ابن ایاس نے لکھا ہے کہ ''حسن المحاضرہ'' کے بعد آپ کی تالیفات کی تعداد چند سو تک پہنچ گئی تھی۔

اصول حدیث اور علم حدیث کے متعلق آپ کی تصنیفات
آپ نے ہر فن کے متعلق کتب تصنیف کیں۔ یہاں صرف ان کتابوں کا ذکرکیا جاتا ہے جن کا تعلق اصول حدیث، علم رجال اور اسناد سے متعلقہ فنون سے ہے۔
(1)عین الإصابة في معرفة الصحابة (2)دراالصحابة فیمن دخل من الصحابة
(3)دارالصحابہ کو حسن المحاضرہ کے ساتھ ضم کردیا۔ (4) ریح النسر ین فیمن عاش من الصحابة مائة و عشرین
(5) إسعاف المبطا برجال الموطا (6) کشف التلبیس عن قلب أهل التدلیس
(7) تقریب الغریب (8) المدرج إلی المدرج
(9)تذکرة الموتسی من حدث من حدیث و نسی (10) اسماء المدلسین
(11)اللمع فی اسماء من وضع (12) الروض المکلل والورد المعلل
(13)من وافقت کنیته، کنیة زوجته من الصحابة (14)زوائد الرجال علی تهذیب الکمال
(15)التہذیب في الزوائد علی التقریب (16) طبقات الحفاظ
(17) ذیل طبقات الحفاظ للذهبي (18)شدالرحال في ضبط الرجال
(19)کشف النقاب عن الألقاب (20) تحفة النابة بتلخیص المشابه
(21) لب اللباب في تحریر الأنساب (22) الفائید في حلاوة الأسانید
(23)المسلسلات الکبریٰ (24) جیاد المسلسلات
(25)مفتاح الجنة في الاعتصام بالسنة (26) قطر الدر في شرح ألفیة العراقي في العلم الأثر
(27) البحر الذی ذخر في شرح ألفیة الأثر (28) التعریف بآداب التالیف
(29) الفارق بین المؤلف والسارق (39) المنی في الکنی.... المذہر

ان کے علاوہ بھی آپ کی ''ترجمہ الامام النووی'' جیسی بے شمار مؤلفات ہیں جن سے آپ کے بعد اہل علم مستفید ہوتے رہے۔

سیوطی کا اپنے مجتہد ہونےکا دعویٰ
الرد علی من أخلد إلی الأرض، الکوکب الساطع، جمع الجوامع، حسن المحاضرہ، طرز العمامة، او رمسالک الحفاء وغیرہ اپنی تالیفات میں سیوطی نے اپنے حق میں اجتہاد مطلق کا دعویٰ کیا ہے۔ نیز اپنے ایک منظومہ، '' یحفته المھتدین بأسماء المجددین'' میں اپنے آپ کے نویں صدی ہجری کے مجدد ہونےکا دعویٰ کیا ہے۔ آپ کے فتاویٰ اور تالیفات آپ کی زندگی میں اہل میں پھیل گئیں او رمختلف علاقوں کے لوگ خط و کتابت کرکے آپ سے فتوے طلب کرتے رہے۔

وفات اور مدفن
شعرانی نے ''ذیل الطبقات'' میں ذکر کیا ہے کہ سیوطی نے 19 جمادی الاولیٰ 911ھ جمعہ کی رات کو وفات پائی او رنماز جنازہ جمعہ کے بعد الروضہ کی ''جامع الشیخ احمد اباریقی'' میں شعرانی نے پڑھائی۔ اس کے بعد بہت سے لوگوں نے مصر العتیقہ کی جامع جدید میں دوبارہ نماز جنازہ پڑھی۔ آپ سات روز تک بائیں بازو کے شدید ورم میں مبتلا رہے۔

بوقت وفات آپ کی عمر اکسٹھ(61) سال، دس ماہ او راٹھارہ روز تھی۔ بیان کیا جاتا ہے کہ وفات کے وقت آپ نے سورة یٰسین کی خود تلاوت کی۔

آپ قاہرہ میں حوش قوصون (جسے عامة الناس ''کیسون'' کہتے ہیں) میں دفن کئے گئے۔ یہ مقام باب القرافہ (جو عام لوگوں میں مام جعفر الصادق ؑ کی بیٹی کے نام سے بوابتہ السیدة عائشہ کے نام سے معروف ہے) کے باہر واقع ہے۔

یہ سلطان غوری کا دور تھا۔ لوگ ایک دوسرے پر بڑا ظلم کیا کرتے تھے۔ لیکن کسی نے آپ کے ترکہ کو ہاتھ نہ لگایا۔ سلطان نے کہا کہ شیخ نے زندگی بھر ہم سے کوئی چیز قبول نہ کی لہٰذا اب کوئی ان کے ترکہ کو ہاتھ نہ لگائے۔ ان کی قبر پر قبہ تعمیر کیا گیا۔

تیمور پاشا نے ذکر کیا ہے کہ کسی حکمران نے آپ کی قبر پر لکڑی کا ایک صندوق اور ایک سیاہ غلاف چڑھوا دیا۔ جس پر سفید رنگ سے آیة الکرسی منقش تھی۔ آپ کی والدہ نے بھی آپ کی قبر پر شاندار عمارت بنوائی۔ اطراف و اکناف سے علماء اور امراء تبرک کی خاطر آپ کی قبر کا قصد کرتے۔ پہلے پہل لوگ ہر ہفتے آپ کی قبر پر محفل کا اہتمام کیا کرتے تھے بعد میں یہ اجتماع آپ کی ولادت کے روز اسیوط شہر میں نصف شعبان کو سالانہ ہوتا رہا۔

اسیوط میں مسجد سید جلال کے اندر بھی ایک قبر واقع ہے۔ شیخ کا اس قبر سے کوئی تعلق نہیں یہ آپ کے اجداد میں سے کسی کی قبر ہے جو اس مسجد میں واقع مدرسہ کے بانی کی اولاد میں سے کسی کی ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپ کی شہری کی وجہ سے یہ مسجد آپ کے نام سے مشہور ہوگئی۔ تیمو رپاشا کی تحقیق کے مطابق آپ نے کوئی اولاد نہیں چھوڑی۔ اسیوط میں جو لوگ آپ کی طرف منسوب ہیں وہ آپ کی نسل میں سے نہیں۔ وہ مسجد کے منتظم یا خدام کی نسل سے ہیں۔

آپ کے تذکرہ نویس
بہت سے لوگوں نے اپنی کتابوں میں آپ کا تذکرہ لکھ کر آپ کی علمی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ا ن میں سے بعض کے نام یہ ہیں:
1۔ ابن ایاس (التاریخ)
2۔ شعرانی (ذیل الطبقات)
3۔ الغزی (الکواکب السائرہ)
4۔ العیدروس (النور السافر)
5۔ جمال الدین الشلی (السناالباھر)
6۔ الاسدی (طبقات الشافعیتہ)
7۔ آپ کا خود نوشت تذکرہ (حسن المحاضرہ)
8۔ عبدالغنی النابلسی (الحقیقہ والمجاز نامی سفر نامہ میں) جہاں وہ جامع قوصون کا ذکر کرتے ہیں۔ انہوں نے آپ کی قبر کی زیارت بھی کی۔
9۔ ابوالعباس الفاسی نے اپنے سفر نامہ حجاز میں آپ کا شاندار تذکر کیا ہے اس نے 1211ھ میں وہاں کی زیارت کی۔
10۔ آپ کے شاگرد عبدالقادر بن محمد الشاذلی مالکی نے اپنی تاریخ میں آپ کی تذکرہ کیا ہے۔ اللہ کریم آپ کی روح کو راحت پہنچائے، آپ کی قبر کو منور فرمائے اور آپ پر اپنی رضا کی بارش برسائے۔ جیسا کہ آپ کی تالیفات سے دل منور ہوئے اور ان کے انوار سے پوشیدہ امور ظاہر ہوکر چمکنے لگے۔ آمین

حوالہ جات
1. حسن المحاضرة
2. بغیة الوعاة
3. الاستنصار، تنویر الحوالك شرح موطأ مالك، مقالة لؤلؤیة