سعودی عرب کا دستور جدیث مارچ 1992ء سے مملکت میں نافذ العمل ہے۔ ہر چند کہ اخبارات و جرائد میں اس کا بے حد چرچا رہا لیکن اکثریت اس کی بنیادی خاکہ سے بھی ناواقف ہے۔ چند ایک ترجمے بھی شائع ہوئے لیکن وہ مترجمین کے مخصوص نظریات کے بھینٹ چڑھ گئے۔ دستور تاحال اپنی اصلی روح کے ساتھ منظر عام پر نہیں آیا۔ اسی ضرورت کے مدنظر ادارہ ہذا نے اس کے ترجمے کا اہتمام کیاہے تاکہ نہ صرف اسلامک لاء سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بلکہ قارئین محدث کے لئے بھی معلومات میں اضافہ کا باعث ہو اور دستور کی صحیح ترجمانی کا حق بھی ادا ہوسکے۔ نیز حکومتی اراکین کے لیے اسلامی قانون کے نفاذ کی پیش رفت میں بھی مفید اور سود مند ثابت ہو۔زیر نظر دستور میں واضح طور پر کتاب و سنت کو مکمل دستور پر حاوی او ربالاتر قانون قرار دیا گیا ہے او راس کی بنیادیں عین اسلامی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے استوار کی گئی ہیں۔ قبل ازیں بھی سعودی عرب میں اسلام عملاً نافذ تھا لیکن اس دستور میں اس کو اعلیٰ تر قانون تسلیم کرکے مملکت نے ہمیشہ کے لئے اپنی راہیں متعین کرلی ہیں۔ اس کے تین بنیادی اور اہم حصے ہیں۔حصہ اوّل عمومی دستوری قوانین سے بحث کرتا ہے دوسرے حصہ میں مجلس شوریٰ کے نظام کا مفصل خاکہ پیش کیا گیاہے اور تیسرے حصہ میں امن عامہ، علاقائی نظم و ضبط اور شہری حقوق ہیں۔ درج ذیل دستور اساسی دستوری قوانین سے متعلق ہے۔ (ادارہ)



.........................................


حکومت کا سیاسی نظام
نمبر : 1؍90
تاریخ : 27 شعبان المعظم 1412ھ بمطابق یکم مارچ 1992ء

اللہ تعالیٰ کی توفیق اور خصوصی کرم کے ساتھ:
ہم (فہد بن عبدالعزیز آلِ سعود فرمانروائے مملکت عربیہ سعودیہ) مصلحت عامہ کے تقاضوں ، مختلف میدانوں میں مملکت کی ترقی او رمطلوبہ مقاصد کے حصول کے لیے درج ذیل فرمان جاری کررہے ہیں:
اوّلاً : حکومت کا سیاسی نظام اس فرمان کے ساتھ درج ذیل عبارت میں جاری کیا جاتا ہے۔
ثانیاً : ان تمام قوانین، احکامات اور قراردادوں پر بدستور عمل جاری رہے گا جو اس نظام کے اجراء کے وقت مملکت میں نافذ تھے۔ یہاں تک کہ
انہیں اس نئے دستوری نظام سے ہم آہنگ کردیا جائے۔
ثالثاً: یہ دستور سرکاری گزٹ میں شائع کیا جائے گا اور تاریخ اشاعت سے ہی نافذ العمل ہوگا۔

باب اوّل : عام بنیادی اصول
دفعہ (1) مملکت سعودیہ مکمل طور پر خود مختار عرب اسلامی ملک ہے، اس کا دین ''اسلام'' دستور کتاب اللہ اور سنت رسولؐ، زبان عربی اور دارالحکومت ''الریاض'' ہے۔
دفعہ (2) ملک کی دو عیدیں (عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ) ہیں اور اس کی تقویم (کیلنڈر) ہجری تقویم ہے۔
دفعہ (3) ملک کا پرچم اس طرح ہوگا:
(الف رنگ : سبز (ب) چورائی ، لمبائی کے دو تہائی کے برابر (ج) درمیان میں کلمہ طیبہ ''لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ'' او راس کے نیچے بے نیام تلوار۔ یہ پرچم کبھی سرنگوں نہیں ہوگا اور اس کے متعلق دیگر احکام الگ قانون واضح کرے گا۔
دفعہ (4) ملک کا امتیازی نشان ''دو ایک دوسرے کو کاٹتی ہوئی تلواریں جن کے اوپر والے خلاء میں کھجور کا درخت'' ہے ملک کے ترانے او راس کے تمغوں کا تعین بھی اسی نظام کے ذریعے ہوگا۔

باب دوم : نظام حکومت
دفعہ (5) (الف) ملک کا نظام حکومت ''بادشاہی'' ہوگا۔
(ب) حکومت، بانی سلطنت عبدالعزیز بن عبدالرحمٰن الفیصل آلِ سعود کے بیٹوں اور پوتوں میں ہوگی ان میں سے جو زیادہ صالح ہوگا، اس کی بیعت کتاب اللہ اور سنت رسولؐ پر کی جائے گی۔
(ج) بادشاہ، ولی عہد (Crown Prince) کو منتخب کرے گا اور اسے ایک فرمان کے ذریعے معزول بھی کرسکے گا۔
(د) ولی عہد (بادشاہ کا جانشین) جانشینی اور بادشاہ کی طرف سے سونپی گئی ذمہ داریوں کے لیے یکسو اور فارغ ہوگا۔
(ھ) ولی عہد بادشاہ کی وفات کے بعد اس کے اختیارات اپنی بیعت کے مکمل ہونے تک سنبھال لے گا۔

دفعہ (6) ملک کے تمام شہری بادشاہ کی کتاب اللہ اور سنت رسولؐ پر نیز تنگی و خوشحالی اور پسند و ناپسند، ہر صورت میں سمع و طاعت پر بیعت کریں گے۔

دفعہ (7) حکومت ، ملک میں اپنے اختیارات ، کتاب اللہ اور سنت رسولؐ سے حاصل کرے گی، او ران دونوں (کتاب و سنت) کو اس نظام حکومت او رملک کے تمام قوانین پر بالادستی اور برتری حاصل ہوگی۔

دفعہ (8) حکومت، شریعت اسلامی کے مطابق عدل و انصاف، شورائیت اور مساوات جیسے بنیادی اصولوں پر قائم رہے گی۔

باب سوم : سعودی معاشرے کی بنیادیں
دفعہ (9) سعودی معاشرے کی بنیاد ''خاندان'' ہے۔ جس کے افراد کی تربیت اسلامی عقیدے او راس کے تمام تقاضوں (مثلاً اللہ اور اس کے رسول اور اولوالامر کی اطاعت و فرمانبرداری، نظام حکومت کا احترام اور اس کا نفاذ، وطن سے محبت پر اور اس کی شاندار تاریخ پر افتخار) کی اساس پر کی جائے گی۔

دفعہ (10) حکومت ۔۔۔ خاندان کے مابین تعلق کو مضبوط بنانے، اس کی عربی اور اسلامی اقدار کی حفاظت کرنے، اس کے تمام افراد کی دیکھ بھال اور ان کی اہلیتوں اور صلاحیتوں کو پروان چڑھانے او ران سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لئے مناسب ماحول مہیا کرنے میں انتہائی طور پر کوشاں رہے گی۔

دفعہ (11) سعودی معاشرے کا قیام اس اساس پر ہوگا کہ اس کے تمام افراد اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں، نیکی او رپرہیزگاری کے اصولوں پر ایک دوسرے سے تعاون کریں، باہم ایک دوسرے کا سہارا بنیں او رتفرقہ سے اجتناب کریں۔

دفعہ (12) ملکی وحدت او رسالمیت کی حفاظت ہر سعودی شہری کا فرض ہے او رحکومت ہر ایسی کوشش سے روکے گی جو فرقہ بندی، فتنہ فساد اور انسا(م پر منتج ہو۔

دفعہ (13) مقاصد تعلیم درج ذیل ہوں گے:
نئی نسل کے دلوں میں اسلامی عقدے کی تزکیز وآبیادی، اسے علوم و فنون میں مہارت حاصل کرنے کے لیے امداد مہیا کرنا او راسے اس طرح تیار کرنا کہ وہ اپنے معاشرے کی تعمیر میں نفع بخش ثابت ہو، اپنے وطن سے محبت اور اپنی تاریخ پر فخر کرے۔

باب چہارم : اقتصادی اصول
دفعہ (14) وہ تمام معدنی یا قدرتی وسائل جو اللہ نے زمین کے اندر یا باہر، علاقائی پانیوں یا مملکت کے اس بری و بحری دائرے میں ودیعت کیے ہوئے ہیں جہاں تک مملکت کی حدود پھیلی ہوئی ہیں۔ ان کی اور ان سے حاصل ہونے والی دولت کی ملکیت، مملکت کو اُس طریقے کے مطابق حاصل ہوگی جسے ایک الگ قانون واضح کرے گا۔

قانون یہ بھی واضح کرے گا کہ ان تمام قدرتی وسائل سے استفادہ کرنے کے ذرائع کیا ہوں گے؟ ان کی حفاظت کس طرح ہوگی؟ حکومت کے امن اور اس کے اقتصاد کی مصلحت کے لیے ان کی نشوونما کیسے ہوگی؟

دفعہ (15) قانونی طریق کار کے بغیر کسی کو کوئی خصوصی حق یا ملک کی کسی آمدنی کو کاروبار میں لگانے کا اختیار نہیں دیا جائے گا۔

دفعہ (16) قومی املاک کی حرمت تسلیم کی جائے گی، حکومت کے لیے ملک کے شہریوں اور دیگر مقیم افراد کا تحفظ ضروری ہوگا۔

دفعہ (17) ملکیت، سرمایہ اور محنت...... ملک کے اقتصادی او راجتماعی ڈھانچے کی بنیادیں ہیں۔ یہ خاص (انفرادی) حقوق ہیں جو شریعت کے مطابق اجتماعی خدمت سرانجام دیتے ہیں۔

دفعہ (18) حکومت، انفرادی ملکیت کی آزادی او راس کی حرمت کی ضمانت دے گی او راسے کسی سے سَلّب نہیں کیا جائے گا۔ لیکن مصلحت عامہ کے لیے مالک کو منصفانہ معاوضہ دے کر اس سے اس کی ملکیت حاصل کی جاسکے گی۔

دفعہ (19) املاک کی عمومی ضبطی (Confiscation) ممنوع ہے، چنانچہ کسی خاص شخص کی جائیداد ضبط کرنے کی سزا صرف عدالتی فیصلے سے عمل میں آئے گی۔

دفعہ (20) ٹیکس او رمحصولات صرف ضرورت کے تحت اور منصفانہ بنیاد پر عائد کئے جائیں گے۔ ان کا عائد کرنا یا ان میں کوئی ترمیم، یا ان کو معاف کرنا وغیرہ صرف اور صرف قانون کے مطابق عمل میں آئیں گے۔

دفعہ (21) زکوٰة وصول کی جائے گی او راسے اس کے شرعی مصارف میں خرچ کیا جائے گا۔

دفعہ (22) اقتصادی اور اجتماعی ترقی کی تکمیل علمی اور منصفانہ منصوبے کے تحت کی جائے گی۔

باب پنجم :
دفعہ (23) حکومت، عقیدہ اسلام کی حفاظت اور شریعت اسلامیہ کو نافذ کرے گی، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دے گی اور دعوت الی اللہ کا اہتمام کرے گی۔

دفعہ (24) حکومت، حرمین شریفین کی تعمیر اور ان کی خدمت کا فرض پورا کرے گی۔ ان کی طرف قصد کرنے والوں کے لیے امن و سلامتی اور ان کی دیکھ بھال کو یقینی بنائے گی تاکہ حج و عمرہ اور زیارت (مسجد نبوی)اطمینان و سکون سے انجام پاسکیں۔

دفعہ (25) حکومت، عرب او رمسلم امت کے باہمی تعاون اور اتحاد کی آرزؤں کی تکمیل کے لیے انتہائی کوشاں رہے گی او ردوست ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات مستحکم کرے گی۔

دفعہ (26) مملکت شریعت اسلامیہ کے مطابق حقوق انسانی کی حفاظت کرے گی۔

دفعہ (27) ہنگامی حالت، بیماری ، معذوری او ربڑھاپے میں حکومت سعودی شہری او راس کے خاندان کے حقوق کی کفالت، ''سوشل سیکیورٹی'' (تحفظ عامہ) کے نظام کی مالی امداد اور فلاحی کاموں میں حصہ لینے والے اداروں اور افراد کی حوصلہ افزائی کرے گی۔

دفعہ (28) کام کرنے کی صلاحیت اور قدرت رکھنے والے ہر فرد کے لئے حکومت روزگار کے مواقع مہیا کرے گی نیز ایسے قوانین وضع کرے گی جو ورکر (ملازم) اور مالک کاروبار دونوں کی حفاظت کرسکیں۔

دفعہ (29) حکومت ۔۔۔۔۔۔۔۔ سائنس اور ادب و ثقافت کی حفاظت، علمی بحث و مباحثے کی حوصلہ افزائی اور عربی و اسلامی ثقافتی سرمائے کی نگرانی کرے گی۔ عربی، اسلامی اور انسانی تہذیب کو پروان چڑھانے میں ہاتھ بٹائے گی۔
دفعہ (30) حکومت ۔۔۔ تعلیم کو عام کرے گی اور ناخواندگی کو ختم کرنا اپنا فرض تصور کرے گی۔
دفعہ (31) حکومت ۔۔۔۔ صحت عامہ کا اہتمام کرے گی اور ہر شہری کے لئے حفظان صحت کے انتظامات کرے گی۔
دفعہ (32) حکومت ۔۔۔۔ ''ماحول'' کی حفاظت کرنے، اس کو بہتر بنانے او راسے آلودگی سے بچانے کے اقدامات کرے گی۔
دفعہ (33) حکومت ۔۔۔۔ مسلح افواج بنائے گی۔ انہیں عقیدہ اسلامیہ، حرمین شریفین، معاشرے اور وطن عزیز کے دفاع کیلئے تیار کرے گی۔
دفعہ (34) عقیدہ اسلامیہ، معاشرے اور وطن کا دفاع کرنا ملک کے ہر شہری پر لازمی ہوگا۔ایک الگ قانون فوجی خدماتت کے دیگر احکام کو واضح کرے گی۔
دفعہ (35) مملکت سعودیہ عربیہ کی شہریت(Nationality) کے احکام دوسرے قانون کے ذریعے واضح کئے جائیں گے۔

دفعہ (36) مملکت اپنے تمام شہریوں او راپنی سرزمین پر دیگر رہنے والوں کیلئے امن و سلامتی کی ذمہ دار ہوگی۔ کسی کے معاملات میں بیجا دخل اندازی نہیں کی جائے گی۔ اسے کسی قانونی کام سے روکا جائے گا نہ قید و بند میں ڈالا جائے گا۔ الا یہ کہ اسے کسی قانون کے تحت پابند یا قید کرنا پڑے۔

دفعہ (37) چار دیواری کی حُرمت تسلیم کی جائے گی۔ مالک کی اجازت کے بغیر کسی کے گھر میں داخل ہونا ناجائز ہوگا اور نہ ہی خانہ تلاشی لی جائے گی سوائے ان حالات کے جن کی دستور میں وضاحت ہوگی۔

دفعہ (38) سزا فرد کا شخصی معاملہ ہے۔ کسی شرعی یا قانونی اساس کے بغیر کوئی فعل جرم قرار پائے گا نہ اس پر سزا دی جاسکے گی اور سزا اسی فعل پر دی جاسکے گی جو اس کے متعلق جاری ہونے والے قانون کے بعد مستوجب سزا قرار پائے گا۔

دفعہ (39) تمام ذرائع ابلاغ اور وسائل نشرواشاعت۔ پاکیزہ اقوال او رمملکت کے قوانین کی پابندی کریں گے قوم کی تربیت کرنے او را س کی وحدت کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار سرانجام دیں گے۔ نیز ان تمام چیزوں سے اجتناب کریں گے جو فتنہ و فساد یا انتشار کا موجب ہوں گی یا جن سے مملکت کے امن و امان میں خلل واقع ہوگا او راس کی تعلقات متاثر ہوں گے یا جن سے انسان کی عزت او راس کے حقوق کی توہین ہوگی۔

قوانین دستور ان سب امور کی وضاحت کریں گے۔

دفعہ (40)تار، ٹیلیفون اور دیگر ذرائع اطلاع رسانی کی مکمل رازداری ہوگی۔ خطوط وغیرہ کو ضبط کیا جائے نہ ان کی ترسیل میں تاخیر کی جائے گی اور نہ ہی انہیں پڑھا جائے گا۔

ٹیلیفون خفیہ طور پر سننا صحیح نہیں ہوگا۔بجز ان صورتوں کے جنہیں قانون کے ذریعے واضح کردیا جائے گا۔

دفعہ (41) مملکت سعودیہ میں مقیم تمام افراد پر اس کے قوانین کی پابندی لازمی ہوگی۔نیز سعودی معاشرے کی اقدار کی پاسداری، اس کی روایات او راس کے جذبات کا احترام کرنا بھی ان پر لازم ہوگا۔

دفعہ (42) جب مصلحت عامہ کا تقاضا ہوگا تو مملکت سیاسی پناہ کا حق عطا کرے گی او رملکی قوانین او ربین الاقوامی معاہدات ایسے قواعد و ضوابط ترتیب دیں گے جن کے ذریعے عادی مجرموں کو ان کی حکومت کے حوالے کیا جاسکے گا۔

دفعہ (43) بادشاہ اور ولی عہد کے ایوان ہر شہری او رہر اس شخص کے لئے کھلے ہیں جسے کوئی شکایت ہو یا جس کا حق سَلّب کیا گیا ہو۔ نیز ہر شہری کو اپنے معاملات کے سلسلے میں متعلقہ حکام سے رجوع کرنے کا حق ہوگا۔

باب ششم : مملکت کےبااختیار ادارے
دفعہ (44) حکومت کے بااختیار ادارے تین ہوں گے:
(i) عدلیہ
(ii) تنفیذیہ۔۔۔ احکام اور فیصلے نافذ کرنے والا ادارہ
(iii) انتظامیہ

یہ بااختیار ادارے اپنے فرائض سرانجام دینے میں اس دستور اور دیگر قوانین کے مطابق ایک دوسرے سے تعاون کریں گے او ران سب کا مرجع بادشاہ کی ذات ہوگی۔

دفعہ (45) مملکت میں فتویٰ دینے کا سرچشمہ کتاب اللہ اور سنت رسولؐ ہے۔ قانون کے ذریعے ''تنظیم کبار علماء'' اور ''ادارہ بحوث علمیہ'' کی ترتیب او ران دونوں کے فرائض کو بیان کردیا جائے گا۔

دفعہ (46) ''عدلیہ'' ایک آزاد او ربااختیار ادارہ ہوگا جس پر شریعت اسلامیہ کی بالادستی و برتری کے علاوہ اور کوئی بالادستی نہیں ہوگی۔

دفعہ (47) عدالتوں سے فیصلہ کرانے کا حق ملک کے ہر شہری اور دیگر مقیم لوگوں کو مساوی طور پر حاصل ہوگا۔ البتہ قانون اس کے لازمی طریقے کو واضح کرے گا۔

دفعہ (48) تمام عدالتیں پیش ہونے والے جملہ مقدمات میں شریعت اسلامیہ کے احکامات کے مطابق فیصلہ کریں گے جس طرح کہ وہ کتاب اللہ اور سنت رسولؐ سے ثابت ہیں۔ اور ولی الامر (امیر) کی طرف سے نافذ کردہ ان قوانین کے مطابق فیصلہ کریں گی جو کتاب اللہ اور سنت رسولؐ کے مخالف نہ ہوں۔

دفعہ (49) دفعہ نمبر 53 میں جو کچھ ذکر کیا گیا ہے اس کا لحاظ کرنے کے ساتھ ساتھ عدالتون کو تمام تنازعات اور جرائم میں فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

دفعہ (50) بادشاہ یا اس کا نائب عدالتی فیصلوں کو نافذ کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔

دفعہ (51) قانون ''عدالتی سپریم کونسل'' کی تشکیل، اس کے اختیارات ، عدالتوں کی ترتیب او ران کے اختیارات کو واضح کرے گا۔

دفعہ (52) ججوں کا تقرر او رانہیں ان کی ''خدمت'' سےفارغ کرنا، دونوں کام ایک فرمان کے ذریعے مکمل ہوں گے۔ جس طرح کہ قانون کی وضاحت دیکھ کر ''اعلیٰ عدالتی کونسل'' تجویز پیش کرے گی۔

دفعہ (53) قانون کے ذریعے ''دیوان المظالم'' (Ombudsman) کی ترتیب او راس کے اختیارات کو واضح کیا جائے گا۔

دفعہ (54) الزامات او ران کی تحقیق کے لئے ایک بورڈ قائم کیا جائے گا، جس کی تشکیل اور اس کے اختیارات قانون کے ذریعہ واضح کردیئے جائیں گے۔

دفعہ (55) بادشاہ اپنے قومی امور کو احکام اسلام کے مطابق اور شرعی سیاست کے ساتھ چلائے گا۔ وہ شریعت اسلامیہ، ملکت کے قوانین او راس کی عام پالیسیوں کو نافذ کرنے، نیز ملک کی حفاظت او را س کے دفاع کا نگران ہوگا۔

دفعہ (56) بادشاہ ہی کے پاس ''وزیراعظم'' (Prime Minister) کے اختیارات ہوں گے۔ اس دستور اور دیگر قوانین کے مطابق کابینہ کے اراکین بادشاہ کے فرائض کی انجام دہی میں اس سے تعاون کریں گے۔ کابینہ کے بارے میں ایک قانون اس کے اختیارات کو واضح کرے گا جو داخلی و خارجی امور، حکومتی اداروں کو منظم کرنے او ران کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے سے متعلق ہوں گے۔

دفعہ (57) (الف) بادشاہ اپنی شاہی فرمان کے ذریعے نائب وزیراعظم او رکابینہ کے ارکان (وزراء) کو مقرر اور معزول کرسکے گا۔

(ب) نائب وزیراعظم او راراکین کابینہ ۔۔ شریعت اسلامیہ، قوانین او رملک کی عام پالیسی کے نفاذ کے سلسلے میں بادشاہ کے سامنے جوابدہ ہوں گے۔

(ج) بادشاہ کو کابینہ توڑ دینے او راسے دوبارہ تشکیل دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔

دفعہ (58) بادشاہ کو ہر وزیر، نائب وزیر اور اعلیٰ عہدہ دار کے تقرر اور اسے سبکدوش کرنے کا اختیار حاصل ہوگا جس طرح کہ دستور کی اس بارے میں وضاحت ہوگی۔ وزراء اور مستقل شعبوں کے سربراہ اپنی وزارتوں اور متعلقہ شعبوں کے سلسلے میں وزیراعظم کے سامنے جوابدہ ہوں گے۔

دفعہ (59) ''سول سروس'' کے احکام مثلاً تنخواہیں، الاؤنس، معاوضے ، خصوصی مراعات او رپنشن وغیرہ کی وضاحت بذریعہ قانون کی جائے گی۔

دفعہ (60) بادشاہ تمام مسلح افواج کا سربراہ ہوگا اور وہی افسران کے تقرر او ران کی سبکدوشی کے احکام بذریعہ قانون جاری کرے گا۔

دفعہ (61) بادشاہ ہنگامی حالت میں عمومی بھرتی اور جن کے اعلان کا مجاز ہوگا جن کے بارے میں قانون کے ذریعہ مزید وضاحت کی جائے گی۔

دفعہ (62)جب کبھی مملکت یا قومی سلامتی، وحدت اور مصالح عامہ کو کوئی خطرہ لاحق ہوگا، یا مختلف سرکاری اداروں کے فرائض کی ادائیگی میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوگی تو بادشاہ کو انہیں رفع کرنے کے لیے ہنگامی کارروائی کے اختیارات حاصل ہوں گے اور اگر بادشاہ یہ سمجھے گا کہ ان کارروائیوں کو جاری رکھنا ضروری ہے تو وہ اس سلسلے میں ایک فرمان جاری کرے گا۔

دفعہ (63) بادشاہ دیگر ممالک کے سربراہوں کا استقبال کرے گا اور اپنے سفیر دوسرے ملکوں میں مقرر کرے گا، نیز دوسرے ملکوں کے سفیروں کی تقرری کی اسانید قبول کرے گا۔

دفعہ (64) بادشاہ خصوصی ''نشان'' اور ''تمغے'' عطا کرے گا جس کا قانون میں طریقہ کار واضح کردیا جائے گا۔

دفعہ (65) بادشاہ کو ایک فرمان کے ذریعے اپنے کچھ اختیارات ولی عہد کو منتقل کرنے کا اختیار ہوگا۔

دفعہ (66) بادشاہ ملک سے باہر جاتے ہوئے ایک فرمان جاری کرے گا جس میں وہ مملکت کے معاملات چلانے اور قومی مصالح کی نگرانی کرنے کے لیے ولی عہد کو اپنا نائب مقرر کرے گا او را س کی کیفیت کے بارے میں بھی اسی فرمان میں وضاحت کردی جائے گی۔

دفعہ (67)انتظامیہ کو شریعت اسلامیہ کے دائرے میں رہتے ہوئے ایسے قواعد و ضوابط بنانے کا اختیار حاصل ہوگا جو مصالح عامہ اور رفع مفاسد کے لئے معاون ثابت ہوں اور وہ اپنے اختیارات۔ اس دستور ،'' مجلس الوزراء'' او رمجلس شوریٰ کے دساتیر کے مطابق استعمال کرے گا۔

دفعہ (68) ایک مجلس شوریٰ بنائی جائے گی جس کی تشکیل ، اراکین کا انتخاب اور اختیارات کو استعمال کرنے کا طریقہ کار ''نظام مجلس شوریٰ'' میں واضح کردیا گیا ہے۔

دفعہ (69) بادشاہ کو اختیار ہوگا کہ وہ کابینہ او رمجلس شوریٰ کا مشترکہ اجلاس طلب کرے او رجن امور و معاملات کو بحث مباحثے کے قابل سمجھے ان میں بحث و تمحیص کے لئے وہ جس کو چاہے اس مشترکہ اجلاس میں دعوت کا مجاز ہے۔

دفعہ (70)قوانین، معاملات، بین الاقوامی سمجھوتوں اور خصوصی مراعات کا اجراء او ران کے انر ترامیم بادشاہ کی خصوصی منظوری سے ہوں گے۔

دفعہ (71) تمام قوانین سرکاری گزٹ میں شائع ہوں گے اور تاریخ اشاعت سے ہی نافذ العمل ہوں گے الا یہ کہ ان کے نفاذ کی کوئی دوسری تاریخ واضح کردی گئی ہو۔

باب ہفتم : مالی معاملات
دفعہ(72) (الف) قانون کے ذریعے مملکت کی تمام آمدنیوں کے احکام اور انہیں سرکاری خزانے میں جمع کرانے کے سلسلے میں قواعد و ضوابط مرتب ہوں گے۔

(ب) آمدنی اور اخراجات کاحساب انہیں اصولوں کے ذریعے کیا جائے گا جو از روئے قانون وضع کئے جائیں گے۔

دفعہ (73) سرکاری خزانے سے کسی ادائیگی کا التزام بحٹ کے قواعد کے مطابق کیا جائے گا۔ بجٹ (Balance Sheet) کے الفاظ اور مفاہیم اگر اس ادائیگی کی اجازت نہیں دیتے تو یہ ادائیگی بادشاہ کی خصوصی منظوری کے بعد ہوگی۔

دفعہ (74) صرف قانون کے مطابق ہی مملکت کی املاک کی فروخت یا انہیں کرایہ پر دیا جائے سکے گا۔

دفعہ (75) کرنسی، بینک چارجز (کمیشن) او رناپ تول کے قواعد و ضوابط قانون کے ذریعے واضح کیے جائیں گے۔

دفعہ (76) مملکت کے مالی سال کی تحدید بذریعہ قانون کی جائے گی۔ بجٹ مالی سال کے شروع ہونے سے کم سے کم ایک ماہ قبل بادشاہ کی منظوری کے بعد جاری ہوگا۔ جس میں اس مالی سال کی آمدنیوں اور اخراجات کے تخمینے شامل ہوں گے۔ اضطراری وجوہات کی بنا پر اگر بجٹ مالی سال کے شروع ہونے سے ایک ماہ قبل جاری نہ ہوسکا او رنیا سال شروع ہوگیا تو گزشتہ بجٹ پراس وقت تک عمل درآمد ہوتا رہے گا جب تک نیا بجٹ جاری نہیں ہوگا۔

دفعہ (77) متعلقہ مالی ادارہ گزرے ہوئے سال کا آخری حساب تیار او راسے وزیراعظم کو ارسال کرے گا۔

دفعہ (78) خود مختار اداروں کے بجٹ اور ان کے مستند حسابات پر وہی احکام و قوانین نافذ العمل ہوں گے جو مملکت کے بجٹ او رحسابات پر نافذ العمل ہیں۔

باب ہشتم: آڈٹ کا نظام
دفعہ (79) ملک کی تمام آمدنیوں او راس کے اخراجات کا ہر سال کے آخر میں آڈٹ ہوگا۔ اس آدٹ میں مملکت کی تمام منقولہ و غیر منقولہ املاک شامل ہوں گی اس بات کی جانچ پڑتال ضروری ہوگی کہ سرکاری املاک کا صحیح استعمال او ران کی حفاظت کی گئی ہے اور اس کی سالانہ رپورٹ کابینہ کے سربراہ (وزیراعظم) کو ارسال کردی گئی ہے۔

آڈٹ کے نظام کے لیے ایک خاص ادارے کا قیام او راس کے اختیارات بذریعہ قانون متعین کئے جائیں گے۔

دفعہ (80) حکومتی اداروں کے آڈٹ کی تکمیل میں ان کی بہتر کارکردگی اور قوانین پر ان کے عمل درآمد کو پیش نظر رکھ کر او رہر مالی یا انتظامی کوتاہی کی نشاندہی کرکے ساری رپورٹ کابینہ کے سربراہ (وزیراعظم) کو ارسادل کی جائے گی۔

باب نہم : عام قواعد و ضوابط
دفعہ (81) اس دستور کو ان معاہدات اور بین الاقوامی سمجھوتوں پر نافذ العمل نہیں کیا جائے گا جو مملکت نے دوسری حکومتوں او ربین الاقوامی تنظیموں سے طے کئے ہوئے ہیں۔

دفعہ (82) ''دفعہ نمبر 7 میں خلل اندازی کیے بغیر'' الا یہ کہ وہ حکم نامہ جنگ یا ہنگامی حالت میں وقتی طور پر نافذ کیا گیا ہو اور قانون میں اس کی وضاحت کردی گئی ہو۔

دفعہ (83) اس دستور میں ترمیم اسیس طریقہ کار سے ہوسکے گی جس کے مطابق یہ جاری ہوا ہے۔

مرکزی مجلس شوریٰ کا نظام
خادم الحرمین الشریفین ملک فہد بن عبدالعزیز آل سعود نے مجلس شوریٰ کے نظام کے بارے میں جو فرمان جاری کیا، اس کا متن درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

نمبر ) 1؍91
تاریخ: 27 شعبان 1412ھ

اللہ کی توفیق و مدد اور خاص کرم کے ساتھ :
ہم ؍ فہد بن عبدالعزیز آل سعود مملکت سعودیہ عربیہ کے فرمانروا اللہ کے ارشاد وَأَمْرُ‌هُمْ شُورَ‌ىٰ بَيْنَهُمْ اور وَشَاوِرْ‌هُمْ فِى ٱلْأَمْرِ‌ اور نبی کریمﷺ کے اپنے اصحاب سے مشورہ طلب کرنے کے اتباع میں نیز مصلحت عامہ کےتقاضوں کے پیش نظر ''مجلس شوریٰ کے نظام'' مجریہ 1347ھ کو مدنظر رکھتے ہوئے حسب ذیل فرمان جاری کررہے ہیں:
اوّلاً : مجلس شوریٰ کا نظام اس فرمان کے ساتھ درج ذیل عبارت میں جاری(Promulgate) کیا جائے۔
ثانیاً : یہ نظام مجلس شوریٰ کے اس نظام کی جگہ لے گا جو 1347ھ میں جاری ہوا تھا، اور نئی مجلس کی تاسیس و ترتیب ایک شاہی فرمان کے ذریعے مکمل ہوگی۔
ثالثاً : ان تمام قوانین، فرامین اور قرار دادوں پر بدستور عمل جاری رہے گا جن پر ان نظام قانون کے جاری ہونے کے وقت تک عمل ہورہا تھا تاآنکہ ان میں اس نظام کے مطابق ضروری ترمیمات نہ کرلی جائیں۔
رابعاً : اس نظام کی اشاعت کے بعد زیادہ سے زیادہ 6 ماہ میں اس پر عمل درآمد لازمی ہوگا۔
خامساً : یہ قانون سرکاری گزت میں شائع کیا جائے گا۔

نظام مجلس شوریٰ :
دفعہ (1)

فَبِمَا رَ‌حْمَةٍ مِّنَ ٱللَّهِ لِنتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ ٱلْقَلْبِ لَٱنفَضُّوامِنْ حَوْلِكَ ۖ فَٱعْفُ عَنْهُمْ وَٱسْتَغْفِرْ‌ لَهُمْ وَشَاوِرْ‌هُمْ فِى ٱلْأَمْرِ‌ ۖ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُتَوَكِّلِينَ ﴿١٥٩...سورۃ آل عمران
(ترجمہ) ''تو یہ اللہ کی رحمت ہی تو ہے جس کی وجہ سے تم ان کے لئے نرم خو ہوگئے، اگر تم درشت مزاج اور سخت دل ہوتے تو وہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے، پس (اب) تم ان سے درگزر کرو، ان کے لیے اللہ سے معافی چاہو اور اہم امور میں (حکومت کے معاملے میں) ان سے مشورہ کرلیا کرو، پھر جب تم کسی بات کا پختہ ارادہ کرچکو تو اللہ پر بھروسہ کرو، بے شک اللہ توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔''

وَٱلَّذِينَ ٱسْتَجَابُوالِرَ‌بِّهِمْ وَأَقَامُواٱلصَّلَو‌ٰةَ وَأَمْرُ‌هُمْ شُورَ‌ىٰ بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَ‌زَقْنَـٰهُمْ يُنفِقُونَ ﴿٣٨...سورۃ الشوری
(ترجمہ) ''او رجن لوگوں نے اپنے رب کے حکم پر لبیک کہا، نماز قائم کی اور جو اپنے معاملات باہمی مشورے سے طے کرتے ہیں او رہم نے جو ان کو دیا وہ اس سے خرچ کرتے ہیں۔''

مذکورہ بالا ارشادات کی تعمیل کرتے ہوئے اور اپنے اصحاب کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کے مشورہ کرنے کی سنت، نیز باہمی مشورہ کرنے کی جو ترغیب آپؐ نے امت کو دی ہے ، کی روشنی میں ایک مجلس شوریٰ قائم کی جائے گی او راللہ کے تفویض کردہ اہم فرائض حکومت کے دستور اساسی، کتاب اللہ اور سنت رسولؐ کی پابندی کرتے ہوئے، نیز اخوت اور تقویٰ کے کاموں میں تعاون کے اصول کو سامنے رکھتے ہوئے انجام دیئے جائیں گے۔

دفعہ (2) مجلس شوریٰ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے او ر اسلامی قانون سازی کے سرچشموں کے ساتھ مضبوط وابستگی کی بنیاد پر قائم ہوگی۔ مجلس کے اراکین عام لوگوں کے مفاد، جماعت کی وحدت، مملکت کے استحکام او رامت کی اصلاح کے جذبہ اور خواہش کو بروئے کار لائیں گے۔

دفعہ (3) مجلس شوریٰ۔ ایک صدر اور 60 ۔ اراکین پر مشتمل ہوگی، ان سب کا انتخاب علم، تجربہ اور خصوصی مہارت رکھنے والے اصحاب میں سے بادشاہ خود کریں گے۔ ارکان مجلس کے حقوق، ان کے فرائض او ران کے دیگر معاملات شاہی فرمان کے ذریعے مقرر کردیئے جائیں گے۔

دفعہ (4) مجلس شوریٰ کے رکن کے لئے درج ذیل شرائط ہوں گی۔
(الف) وہ بلحاظ اصل اور جائے پیدائش کے اعتبار سے سعودی شہری ہو۔
(ب) وہ ایسا فرد ہو جس کی نیکی او راہلیت کے بارے میں لوگ گواہی دیتے ہوں۔
(ج) اس کی عمر تیس سال سے کم نہ ہو۔

دفعہ (5) رکن مجلس کو رکنیت سے مستعفی ہونے کے لیے اپنا استعفیٰ سربراہ مجلس کو پیش کرنا ہوگا جو یہ استعفیٰ بادشاہ کے سامنے پیش کرے گا۔

دفعہ (6) اگر کوئی رکن شوریٰ اپنے فرائض میں کوتاہی کا مرتکب ہوگا تو اس کی تحقیق اور اس کے بارے میں فیصلہ ان قواعد اور کارروائیوں کے مطابق کیا جائے گا جو شاہی فرمان کے ذریعے نافذ العمل ہوں گی۔

دفعہ (7) اگر مجلس میں کسی رکن کی جگہ کسی بھی وجہ سے خالی ہوجائے تو بادشاہ اس کی جگہ کسی دوسرے فرد کو منتخب کرے گا او را س کے لیے ایک شاہی فرمان جاری ہوگا۔
دفعہ (8) کسی رکن مجلس شوریٰ کے لیے یہ جائز نہ ہوگا کہ وہ اپنی رکنیت کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرے۔
دفعہ (9) مجلس شوریٰ کی رکنیت کے ساتھ کسی اور سرکاری محکمے، ادارے یا کمپنی کی ملازمت اختیار کرنے کی اجازت نہ ہوگی، الا یہ کہ خود بادشاہ اس کی ضرورت محسوس کرے۔
دفعہ (10) صدر مجلس، اس کے نائب اور سیکرٹری جنرل کا عزل و نصب شاہی فرمان کے ذریعے عمل پذیر ہوگا، ان کی تنخواہیں، حقوق و فرائض اور ان کے جملہ معاملات بھی شاہی فرمان کے ذریعے طے کئے جائیں گے۔
دفعہ (11) صدر مجلس، ارکان مجلس اور معتمد عمومی اپنی ذمہ داری سنبھالنے سے قبل بادشاہ کے رُوبرو درج ذیل حلف اٹھائیں گے۔
''میں اللہ عزوجل کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے دین، اپنے بادشاہ او راپنے ملک کے لئے مخلص رہوں گا۔ میں مملکت کے کسی راز کو افشاء نہیں کروں گا۔ میں مملکت کی مصالح اور اس کے قوانین کی حفاظت کروں گا او راپنے فرائض سچائی، امانت، اخلاص اور عدل کے ساتھ کروں گا۔''

دفعہ (12) مجلس شوریٰ کا مرکز ''ریاض'' میں ہوگا۔ البتہ اگر بادشاہ مناسب خیال کرے تو مملکت کے اندر کسی بھی جگہ اس کے اجلاس منعقد ہوسکیں گے۔

دفعہ (13) مجلس کی میعاد چار ہجری سال ہوگی جس کا آغاز مجلس کی تشکیل کے سلسلے میں جاری ہونے والے شاہی فرمان میں مقررہ تاریخ سے ہوگا۔ ہر نئی مجلس کی تشکیل سابقل مجلس کی مدت ختم ہونے سے کم از کم دو ماہ قبل مکمل کردی جائے گی او راگر نئی مجلس کی تشکیل سے قبل پہلی مجلس کی مدت ختم ہوجائے تو سابقہ مجلس نئی مجلس کی تشکیل مکمل ہونے تک ذمہ داری کے ساتھ سرانجام دیتی رہے گی۔

نئی مجلس کی تشکیل کے موقعہ پر اس بات کو ملحوظ رکھا جائے گا کہ مجلس میں نئے اراکین کی تعداد نصف سے کم نہ ہو۔

دفعہ (14) شاہ یا اس کا کوئی نائب مجلس شوریٰ کو ہر سال خطاب کرے گا جس میں دیگر امور کے علاوہ مملکت کے داخلی اور خارجی حکمت عملی واضح کی جائے گی۔

دفعہ (15) مجلس شوریٰ مملکت کی اس عام حکمت عملی کے بار ے میں اپنی رائے ظاہر کرے گی جس کو وزیراعظم اس کے پاس بحث کے لئے ارسال کرے۔ نیز مجلس شوریٰ کو درج ذیل خصوصی اختیارات حاصل ہوں گے۔

(الف) اقتصادی ترقی کے عمومی منصوبے پر بحث اور اس کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار۔
(ب) قوانین، ضوابط، معاہدات، بین الاقوامی سمجھوتوں اور خصوصی مراعات کا جائزہ او ران کے بارے میں اپنی تجاویز پیش کرنا۔
(ج) قوانین کی تشریح ۔
(د) وزارتوں اور حکومتی اداروں کی جانب سے پیش کردہ سالانہ رپورٹوں پر بحث او ران کے سلسلہ میں تجاویز پیش کرنا۔

دفعہ (16) مجلس شوریٰ کا اجلاس باضابطہ تصور نہ کیا جائے گا تاوقتیکہ اجلاس میں کم از کم دو تہائی ارکان بشمول صدر مجلس یا نائب صدر حاضر نہ ہوں۔ نیز مجلس کے فیصلے اسی وقت باضابطہ تصور کئے جائیں گے جب مجلس کی اکثریت ان کی تائید کرے۔

دفعہ (17) مجلس کے فیصلے وزیراعظم کو ارسال کئے جائیں گے جو ان کو اپنی کابینہ میں غور کے لیے پیش کرے گا، پھر اگر ان دونوں مجالس (مجلس شوریٰ او رکابینہ) کا نقطہ نظر ایک ہی ہوا تو شاہ کی منظوری کے بعد فیصلوں کو نافذ کردیا جائے گا اور اگر دونوں مجالس کے نقطہ نظر میں اختلاف پایا گیا تو بادشاہ کو اختیار ہوگا کہ وہ جس فیصلے کو چاہے اختیار کریں۔

دفعہ (18) قوانین، معاہدے، بین الاقوامی سمجھوتے اور خصوصی مراعات مجلس شوریٰ کے غور کے بعد بادشاہ کی منظوری سے جاری کئے جائیں گے یا ان میں ترمیم کی جائے گی۔

دفعہ (19) مجلس شوریٰ اپنے اختیارات کو بروئے کار لانے کے لیے اپنے ارکان پر مشتمل خصوصی مہارت رکھنے والی کمیٹیاں تشکیل دے گی۔ مجلس کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ ایجنڈے میں شامل مسائل پر بحث کرنے کے لیے خصوصی کمیٹیاں قائم کرے۔

دفعہ (20) صدر مجلس کی اجازت سے شوریٰ کی کمیٹیوں کو حق ہوگا کہ وہ غیر ارکان شوریٰ میں سے جسے مناسب سمجھیں اس سے مشورہ حاصل کریں۔

دفعہ (21) مجلس شوریٰ کا ایک عمومی انتظامی ڈھانچہ ہوگا جو صدر، نائب صدر اور خصوصی کمیٹیوں کے سربراہوں پر مشتمل ہوگا۔

دفعہ (22) صدر مجلس کے لیے یہ لازمی ہوگا کہ وہ وزیراعظم سے حکومت کے کسی بھی ذمہ دار اہلکار کو مجلس کے ان اجلاسوں میں حاضر ہونے کی درخواست کرے جن میں مجلس اس کے اختیارات پر بحث کررہی ہو۔ اس طرح سے طلب کیا جانے والا اہلکار بحث و مباحثہ میں حصہ لے سکے گا لیکن اسے ووٹ دینے کا حق نہ ہوگا۔

دفعہ (23) مجلس شوریٰ کے کوئی بھی دس ارکان کسی نئے قانون کی منظوری یا کسی نافذ قانون میں ترمیم کی تجویز دینے اور اس کو صدر مجلس کے سامنے پیش کرنے کے مجاز ہوں گے۔ صدر اس تجویز کو بادشاہ کی خدمت میں ارسال کرے گا۔

دفعہ (24) صدر مجلس کے لیے یہ لازمی ہوگا کہ وہ وزیراعظم کو حکومتی اداروں کے پاس موجود ایسی دستاویزات یا رپورٹیں مہیا کرنے کے لیے درخواست کرے جن کو مجلس اپنے کام باآسانی چلانے کے لیے ضروری تصور کرتی ہے۔

دفعہ (25) مجلس شوریٰ کا صدر بادشاہ کی خدمت میں مجلس کی کارکردگی کی سالانہ رپورٹ ارسال کرے گا جو مجلس نے اپنے داخلی ضوابط کے مطابق انجام دی ہے۔

دفعہ (26) مجلس کے ملازمین او رعہدے داروں پر سول سروز سے متعلق قوانین کا اطلاق ہوگا، الا یہ کہ مجلس کے داخلی ضوابط کے تحت کوئی دوسرا فیصلہ کیا گیا ہو۔

دفعہ (27) مجلس کا اپنا خاص بجٹ ہوگا جس کی منظوری بادشاہ سے حاصل کی جائے گی۔ اس بجٹ کے تحت جملہ اخراجات بھی فرمان کے ذریعے ہی مقررہ قواعد کے مطابق کئے جاسکے گے۔

دفعہ (28) مجلس شوریٰ کے مالی معاملات، آڈٹ او رحسابات شاہی فرمان کے ذریعے نافذ کردہ قواعد کے مطابق انجام دیئے جائیں گے۔

دفعہ (29) مجلس کا داخلی قانون صدر مجلس ، نائب صدر، معتمد عمومی اور مجلس کے مختلف اداروں کے اختیارات ترتیب دے گا۔ اسی طرح اسکے اجلاسوں کی کارروائی کی کیفیت، اس کے اپنے کاموں او را س کی کمیٹیوں کے کاموں کی انجام دہی ، رائے دہی کا طریقہ کار، نیز بحث و مباحثہ کے قواعد اور تردید کے اصول وغیرہ جیسے معاملات ( جن کا مقصد مجلس کے اندر نظم و ضبط پیدا کرنا ہے تاکہ وہ اپنے اختیارات ان کاموں کیلئے استعمال کرسکے جن میں مملکت کی فلاح اور اس کے عوام کی بہتری ہو) کی ترتیب بھی اسی داخلی قانون سے ہوگی جو کہ شاہی فرمان کے ذریعے جاری (Promulgate) ہوگا۔

دفعہ (30) اس نظام میں ترمیم صر ف اسی طریقہ سے ہوسکے گی جس کا طریق کار اسی نظام میں بتلایا گیا ہے۔