اقلیم ہند میں اشاعت اسلام صوفیاء کی کاوشوں کا ثمر نہیں

''محدثین اور علماء کی مساعی کا پھل ہے''

پیش نظر مضمون راقم نے جناب حکیم محمداجمل خان صاحب شکراوی (مدیر 'مجلّہ اہلحدیث' گڑ گاؤں) کے ایماء پر آج سے تقریباً 13 سال قبل اپنی طالب علمی کے زمانہ میں مرتب کیا تھا لیکن دفتر 'مجلّہ' کی بدنظمی کے باعث کاغذات کے انبار میں کہیں دَب کر شائع نہ ہوپایا اور نہ ہی باوجود طلب کرنے کے واپس نہ مل سکا تھا۔ چند ماہ قبل پرانے کاغذات کی ذاتی فائل کی ورق گردانی کے دوران اتفاقاً 'مجلّہ اہلحدیث' کوبھیجے جانے والے مضمون کے مسودہ کے چند اوراق دستیاب ہوئے جن کو نظرثانی اور بعض ضروری حک و اضافہ کے بعد از سر نو ترتیب دے کر قارئین کی خدمت میں پیش کررہا ہوں۔ ؎گر قبول اُفتدز ہے عزوشرف

زیر نظر مضمون کی ترتیب کے دوران بعض ضروری مراجع و مصادر باوجود کوشش بسیار کے بھی یہاں سعودیہ میں دستیاب نہ ہوسکے لہٰذا بعض مقامات پر کچھ تشنگی باقی رہ گئی ہے جسے ان شاء اللہ آئندہ کسی مناسب وقت پر دور کرنے کی کوشش کی جائے گی، وباللہ التوفیق (مرتب)



عوام اور اہل علم ہر دو طبقات میں ایک غلط فہمی بکثرت یہ پائی جاتی ہے کہ ہندوستان میں اسلام کی اشاعت و توسیع صوفیاء کی رہین منت ہے چنانچہ پروفیسرآرنار اپنی کتاب ''اسلامی تبلیغ''(Preaching of Islam) میں لکھتے ہیں کہ ''برصغیر پاک و ہند میں صوفیائے کرام نے اسلام پھیلایا ہے''

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی بھی اشاعت اسلام میں صوفیاء کی کوششوں کے معترف نظر آتے ہیں، چنانچہ لکھتے ہیں:
''مسلمانوں میں جو جماعت سب سے زیادہ تبلیغ دین الٰہی میں ذوق شوق سے سرگرم رہی وہ صوفیائے کرام کی جماعت، ہے۔'' 1

حالانکہ ایسا کہنا نہ صرف خلاف واقعہ ہے بلکہ تاریخ اسلام کے ایک تابناک باب کو عالم گمنامی میں دفن کردینے کے مترادف ہے کتب تاریخ و سیر و رجال کے غائر مطالعہ سے یہ حقیقت اظہر من الشمس بن کر ابھرتی ہے کہ ہندوستان میں اسلامی صوفیائے کرام کے ذریعہ نہیں بلکہ فقط محدثین کرام اور علمائے حق کے ذریعہ آیا، اور آج جو کچھ ہندوستان میں موجود ہے وہ انہی محدثین عظام کی انتھک کاوشوں او ربے لوث خدمات کا ثمرہ ہے۔

برصغیر پاک و ہند میں محدثین اور علم حدیث کی اشاعت کے موضوع پر بہت سے علماء و محققین نے زور قلم صرف کیا ہے لیکن اس سلسلہ میں اکثر علماء کی تحقیق ناقص معلومات پر مبنی ہے۔ چنانچہ ان کے نزدیک بلاد ہند میں علم حدیث کا رواج چھٹی صدی ہجری کے بعد ہوا، پہلے کی پانچ صدیاں اس علم سےخالی بتائی جاتی ہیں او رعام طور پر یہ باور کیا جاتا ہے کہ پہلی چھ صدیوں تک بلاد ہند میں حدیث کی تعلیم و تدریس، روایت حدیث اور محدثین نیز ان کی تصانیف کاسرےسے کوئی وجود نہیں تھا جن بعض لوگوں نےاس سےقبل محدثین کےوجود کو تسلیم کیا ہےوہ بھی یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ اگرچہ فن حدیث ہندوستان میں چھٹی صدی ہجری سےقبل موجود تھا لیکن اس فن میں علمائے وقت کو کوئی قابل لحاظ مقام و مرتبہ حاصل نہ تھا۔ بعض علماء نے ہندوستان میں علم حدیث کی آمد کو دسویں صدی ہجری تک پیچھے دھکیل دیا ہےچنانچہ علامہ زاہد کوثر ی حنفی کےحوالہ سے استاد محمد ابوزھو مصری اپنی کتاب ''الحدیث والمحدثون'' میں لکھتے ہیں:
''ارض ہندوپاک میں اشاعت حدیث: برصغیر پاک و ہند کے رہنے والوں نے حدیث نبوی کےسلسلہ میں نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ دسویں صدی ہجری سے قبل یہ لوگ علوم نظریہ اور فقہی احکام میں منہمک رہتے تھے۔ اسی وقت سے یہ لوگ حدیث نبوی، اس کے علوم کےدرس و تدریس، نقد اسانید کو بڑی اہمیت کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔''2

اس ناقص تحقیق سے بلا د ہند کی دینی و علمی تاریخ میں بڑا خلا محسوس ہوتا ہے دراصل اس غلطی فہمی کا بڑا سبب خاطر خواہ تتبع و تحقیق کا فقدان ہے پھر جس طرح کہ فقہائے مارواءالنہر کی تصانیف نے ائمہ احناف کی امہات الکتب کو پیچھے دھکیل دیا تھا اسی طرح اوّلین دور کے ان محدثین اور علماء کے علمی کارناموں (یعنی تصانیف، مدارس اور تلامذہ وغیرہ) کو بھی ہمارے علمائے عجم کے فکری سیلان اور ان کے شیوع و رواج نے اسے بُری طرح بہا ڈالا کہ اس دور کی تاریخ کے صفحات بالکل کورے نظر آتے ہیں۔

پیش نظر مضمون اقلیم ہند و سندھ میں علم حدیث کے فروغ کے لیے کی جانے والی ابتدائی چند صدیوں کی سیوع کی خالص عربی تاریخ کا ایک خاکہ پیش کیا جارہا ہے جو ہندوستان میں علم حدیث کا عہد زریں کہلائے جانے کا مستحق ہے۔

ہماری تحقیق کے مطابق برصغیر کے چند علاقے پہلی صدی ہجری کی ابتداء ہی میں علم حدیث اور اخبرنا و حدثنا کے جانفزا کلمات سےباقاعدہ آشنا ہوگئے تھے صوفیاء کے ورود کی ابتداء تو پانچویں صدی ہجری میں ہوئی ہے پہلی جماعت جس نے اپنے قول و عمل باشندگان ہند کو علم حدیث سے روشناس کرایا وہ ان صحابہ کرام پر مشتمل تھی جو عہد عمر فاروقؓ سے عہد یزید (یعنی 15ھ تا 64 ھ) تک مختلف اوقات و مواقع پر ہندوستان تشریف لائے یہ جماعت ان نفوس قدسیہ پر مشتمل تھی جو برصغیر میں رسول اللہ ﷺ کی احادیث مبارکہ کے اوّلین مبلغ، آپؐ کے ارشادات گرامی کے پہلے داعی، اپنی ذات میں آنحضرتﷺ کے اسوہ و عمل کے آفتاب جہاں تاب کی کرنوں کے آئینہ دار، اپنے اعلیٰ اخلاق، اعمال ، عادات، اطوار، کردار اور معاملات وغیرہ کے باعث اپنے مخاطب ہندوستانیوں کو بہ جلد متاثر کرنے والے تھے۔ ان نفوس قدسیہ کی آمد سے ہی اس دیار کفر و ضلالت میں کتاب اللہ اور سنت رسول بالخصوص فرائض سنن، احکام، حلال وحرام اور اس دور کے رواج و مزاج کے مطابق حسب مواقع اور حسب ضرورت احادیث وآثار کا چرچا ہوا۔ پھر جب باقاعدہ احادیث کی تدوین کا سلسلہ شروع ہوا تو یہاں انہی حضرات سے احادیث و آثار کی روایت کا سلسلہ بھی چلا۔ خلافت راشدہ کے دوران ہندوستان تشریف لانے والے صحابہ کرامؓ کے متعلق حافظ ابن کثیر تحریر فرماتے ہیں:
''سندھ میں محمد بن قاسم کی فتوحات سے پہلے حضرت عمر اور عثمان کے زمانوں میں صحابہ نے ان اطراف کے اکثر علاقے فتح کرلئے تھے۔ وہ شام، مصر، عراق اور اوائل ترکستان کی وسیع و عریض اقالیم میں پہنچے اور علاقہ ماوراء النہر، اوائل بلاد مغرب و افریقہ اور اوائل بلا ہند میں بھی داخل ہوئے۔''3

اسی طرح ڈاکٹر این میری شمل ''شہپر جبریل '' (Gabriel's Swings) میں لکھتی ہیں:
''خلیفہ ثانی حضرت عمرؓ کے زمانے میں مسلمان عساکر نے سندھ اور گجرات کے بعض حصوں پر قبضہ کرلیا تھا اور بعد کے خلفاء کے عہد تک یہ تسلط برقرار رہا۔''4

چونکہ خلافت راشدہ او راموی دور خلافت میں سندھ مکران اور سجستان کی فتوحات فارس مہمات میں شامل تھیں او رانہی راستوں غازیان اسلام بلادہند کی طرف آئے لہٰذا اوپر بلا د ہند سے مراد سندھ مکران اور سجستان او ربلوچستان وغیرہ کے علاقے ہیں جو کہ اقلیم فارس سے متصل ہیں۔

بعض محققین بیان کرتے ہیں کہ ارض برصغیر رسول اللہ ﷺ کے پچیس صحابہ کرامؓ کے ورود مسعود سے بہر ور ہوئی ہے جس میں سے بارہ حضرت عمربن الخطابؓ کے عہد خلافت میں، پانچ حضرت عثمان بن عفانؓ کے عہد میں، تین حضرت علی بن ابی طالبؓ کے دور میں، چار حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے عہد میں اور ایک یزید بن معاویہ کے عہد میں تشریف لائے تھے۔ ان صحابہ کے علاوہ مختلف اوقات میں بلا د عرب سے اقلیم ہند میں متعدد تابعین و تبع تابعین قدم رنجہ فرماتے رہے جن کی شب و روز کا مشغلہ حدیث رسولﷺ کی ترویج و اشاعت تھا۔ یہ باشندگان ہند کو دین فطرت کے تہذیبی و ثقافتی دائرہ میں شامل کرنے اور ان کو پاکیزہ اخلاق و کردار اور تعلیم و شائستگی کی ارفع و اعلیٰ اقدار سے بہرہ مند کرنے کی سعی کرتے رہے جن کو اسلام میں اساس کی حیثیت حاصل ہے۔ غرض اس مقصد کے لئے بلاد عرب سے ہندوستان تشریف لانے والے تمام صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کے اصل اعداد و شمار یقیناً اس تعداد سے کہیں زیادہ ہوں گے جن کا تذکرہ فی الحال راقم کو مختلف قدیم کتب میں مل سکا ہے۔ یہ مختصر مضمون ان تمام نفوس قدسیہ کے تفصیلی تذکرہ کا متحمل ہرگز نہیں ہوسکتا، اس کے لئے تو کئی ضخیم دفتر درکار ہوں گے، لیکن پھر بھی قارئین کے تجسّس کے پیش نظر ذیل میں ارض ہندوستان کو اپنے وجود مسعود سے رونق بخشنے والے معزز صحابہ و تابعین کرام میں سے چند کے مختصر حالات پیش خدمت ہیں:

(1)والی بحرین و عمان حضرت عثمان بن ابی العاص الثقفیؓ:
رسول اللہ ﷺ نے آپؓ کو طائف کا امیر بنایا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے پورے عہد خلافت میں اور حضرت عمرؓ نے اپنی خلافت کے ابتدائی دور میں آپؓ کو طائف کی امارت پر برقرار رکھا۔ بعد میں بحرین و عمان کی ولایت کی ذمہ داری آپؓ کو سونپ دی گئی تھی۔ آپؓ ایک عظیم مجاہد تھے۔ علامہ ابن حزم الظاہری فرماتے ہیں:
''عثمان بن ابی العاصؓ اپنے بھائیوں میں بہترین صحابی رسول ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں طائف کا امیر مقرر فرمایا تھا۔ انہوں نے ہندوستان کے تین شہروں میں جہاد کیا ہے۔''

حضرت عثمان بن ابی العاص الثقفی سے ان کے بھتیجے یزید بن الحکم بن ابی العاص ، ان کے مولیٰ حکم، سعید بن المسیب، موسیٰ بن طلحہ، نافع بن جبیر بن مطعم، ابوالعلاء بن الشخیر اور مطرف بن الشخیر وغیرہ نے حدیث کی روایت کی ہے۔ حافظ ابن عبدالبر کا قول ہے کہ ''ان سے اہل مدینہ او راہل بصرہ نےحدیث کی روایت کی ہے'' امام احمد بن حنبل نے حسن بصری کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ''میں نے عثمان بن ابی العاصؓ سے افضل کسی کو نہیں پایا۔ ہم لوگ ان کے مکان پر جاکر ان سے حدیث کی روایت کرتے تھے۔'' حضرت عثمان الثقفیؓ کے تفصیلی حالات کے لئے تقریب التہذیب لابن حجر، تہذیب التہذیب لابن حجر، معرفة الثقات للعجلی، الإصابة في تمیز الصحابة لابن حجر او رالاستیعاب في أسماء الصحابة للقرطبي مالکی وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔5

(2)حضرت حکیم بن ابی العاص الثقفیؓ :
مشہور مؤرخ احمد بن سیحی البلاذری بیان کرتے ہیں کہ ''عہد فاروقی15ھ میں والی بحرین و عمان حضرت عثمان بن ابی العاص الثقفیؓ نے اپنے بھائی حکم بن ابی العاص الثقفیؓ کو گجرات کے شہر بھڑوچ کی مہم پر روانہ کیا تھا۔ چنانچہ یہ مقام اسلام کے زیرنگیں آگیا تھا6 پھر 23ھ میں حکم بن ابی العاصؓ کی سرکردگی ہی میں مکران کا علاقہ بھی فتح ہوا۔7

حکم بن ابی العاص الثقفیؓ کو امام بخاری، امام ابن حبان اور حافظ ابن عبدالبر وغیرہ نے بصرہ کے علمائے محدثین میں شمار کیا ہے لیکن بعض علماء نے ان سے مروی بعض احادیث کو مُرسل بتایا ہے۔ چنانچہ عجلی نے انہیں ''ثقہ تابعی'' لکھا ہے کہ ابن سعد، ابوحاتم اور ابن حجر نے ان کے متعلق صحبت رسولﷺ پانے کی صراحت کی ہے۔ ان سے حدیث کی روایت کرنے والوں میں معاویہ بن قرة کا نام قابل ذکر ہے۔ حضرت حکم بن ابی العاص بن نصر بن عبد بن دھمان الثقفی کے تفصیلی ترجمہ کے لئے تاریخ الکبیر للبخاری، معرفة الثقات للعجلی، جرح و التعدیل لابن ابی حاتم، تجرید اسماء الصحابہ للذہبی، بدایہ والنہایہ لابن کثیر ، فتوح البلدان للبلاذری، اصابہ فی تمیز الصحابہ لابن حجر او استیعاب فی اسماء الصحابہ للقرطبی مالکی وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔8

(3)حضرت مغیرہ بن ابی العاص الثقفیؓ :
آپ بھی حضرت عثمان بن ابی العاص الثقفیؓ کے بھائی تھے۔ عہد فاروقی میں والئ بحرین و عمان حضرت عثمان بن ابی العاص الثقفیؓ نے آپ کو سندھ کے شہر دیبل پر لشکرکشی کے لیے روانہ کیا تھا۔ حضرت مغیرہ نے اس معرکہ میں فتح پائی تھی۔ ملاحظہ ہو فتوح البلدان للبلاذری9 وغیرہ۔

(4) حضرت حکم بن عمرو الثعلبیؓ:
آپ کے متعلق مؤرخین نے کئی فتوحات کا ذکر کیا ہے۔ حضرت حکم الثعلبیؓ رسول اللہ ﷺ کے وہ صحابی تھے جنہوں نے حضرت عمرؓ کے عہد خلافت (یعنی 23ھ) میں مکران کا محاصرہ کیا اور وہاں کے راجا کو شکست فاش سے ہمکنار کیا۔ ابوحاجب سوادہ بن العاصم، ابو الشعثاہ ولجہ بن القیس، جابر بن زید الافروی اور عبداللہ بن الصامت وغیرہ نے آپ سے حدیث کی روایت کی ہے۔ تفصیلی حالات کے لیے اصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر اور تاریخ الطبری وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔10

(5)حضرت صحار بن عباس العبدیؓ :
حضرت صحارؓ نے عہد فاروقی (یعنی 23ھ) میں حضرت حکم بن عمرو الثعلبیؓ کی امارت میں مکران کے محاصرہ او رجنگ میں شرکت کی تھی، آپ ہی وہ صحابی رسول تھے جنہیں حضرت حکم بن عمرو الثعلبیؓ نے حضرت عمر بن الخطاب کے پاس فتح مکران کی خوشخبری او رحاصل شدہ مال غنیمت دے کر روانہ کیا تھا۔

محمد بن اسحاق الندیم اپنی ''فہرست'' میں فرماتے ہیں کہ ''صحار العبدیؓ نے نبیﷺ سے دو یا تین حدیثیں روایت کی ہیں۔ ایام معاویہ میں ان کا شمار خطباء اور نسابین میں ہوا کرتا تھا'' آپ سے حدیث کی روایت کرنے والوں میں منصور بن منصور او ران کے دو صاحبزادے (جعفر بن الصحار العبدی او رعبدالرحمٰن بن الصحار العبدی) ہیں۔ تفصیلی حالات کے لئے فہرست لابن الندیم ، اصابہ لابن حجر اور استیعاب للقرطبی مالکی وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔11

(6) حضرت عبداللہ بن عمیر الاشجعیؓ :
حضرت ابن عمیر الاشجعیؓ بھی عہد فاروقی یعنی 23 ھ میں مکران، فارس اور سجستان کے معرکوں میں شریک تھے اور آپ نے شاندار خدمات انجام دی تھیں۔ سجستان سے متصل علاقہ سندھ میں بھی آپ کی فوجی سرگرمیوں کی شہادت ملتی ہے ابن الوقدان نے آپ سے حدیث کی روایت کی ہے ابن مندہ او رابن ابی حاتم وغیرہ نے حضرت عبداللہ بن عمیر اشجعی کی مروی احادیث کی تخریج کی ہے۔ تفصیلی حالات کے لیے اصابہ لابن حجر اور استیعاب للقرطبی وغیرہ کی طرف رجوع فرمائیں۔12

(7) حضرت سہل بن عدی بن مالک بن حرام الخزرجیؓ:
حضرت عمر بن الخطابؓ نے آپ کو حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کے پاس بصرہ اس فرمان کے ساتھ بھیجا تھا کہ وہ آپ کو ہندوستان کے جہاد پر روانہ کریں، چنانچہ حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ نے حضرت سہل بن عدی کو کرمان کی مہم پر روانہ کیا۔ کرمان آپ کے ہاتھوں فتح ہوا۔ تفصیلی حالات اصابہ لابن حجرعسقلانی وغیرہ میں ملاحظہ فرمائیں۔13

(8) حضرت عبداللہ بن عبداللہ بن عثبان الامویؓ :
عہد فاروقی میں حضرت سہل بن عدی کی امارت میں آپ نے کرمان کے معرکہ میں جہاد کیا تھا ۔ ابوالشیخ نے آپ کا تذکرہ اپنی تاریخ میں کیا ہے۔ تفصیلی حالات کے لئے اصابہ لابن حجر وغیرہ کی طرف مراجعت مفید ہوگی۔14

(9) حضرت عاصم بن عمرو التمیمیؓ :
حضرت عمرؓ نے آپؓ کو حضرت سہل بن عدیؓ کے ساتھ سجستان کے معرکہ پر روانہ کیا تھا۔ اس مہم پر آپ نے خوب داد شجاعت پیش کی۔ محدثین کے نزدیک آپ کا رسول اللہ ﷺ کی صحبت پانا اور آںﷺ سے روایت حدیث درست نہیں ہے۔ مزید ترجمہ کے لیے اصابہ اور استیعاب وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔15

(10) حضرت ربیع بن زیاد الحارثیؓ:
امام بخاری، ابن ابی حاتم او رابن حبان وغیرہ نے آپ کو تابعین میں شمار کیا ہے لیکن بعض کے نزدیک آپ کو شرف صحابیت حاصل ہے۔ابن حبان فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی بکرہ نے انہیں خراسان و بلغ کا والی مقرر کرکے بھیجا تو یہ علاقے بھی آپ کے ہاتھوں ہی فتح ہوئے۔ سندھ کی قدیم ترین عربی تاریخ ''چچ نامہ'' اور ''المبرد فی الکامل'' میں مذکور ہے کہ ''امیر بصرہ حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ نے ان کو مکران، کرمان کے شہسواروں کا امیر مقرر فرمایا تھا۔'' آپؓ سے کوئی مسند حدیث مروی نہیں ہے۔ آپ نے فقط حضرت عمر بن لخطاب سے حدیث کی روایت کی ہے۔ ابن حبیب اور ابن کلبی وغیرہ نے آپ کا تذکرہ کیا ہے۔ مطرف بن الشیخہ او رحفصہ بنت سیرین نے آپ سے حدیث کی روایت کی ہے۔ تفصیلی ترجمہ کے لئے چچ نامہ ، اصابہ فی تمییز الصحابہ، استیعاب، تقریب التہذیب، مبرد فی الکامل، ثقات لابن حبان، جرح و التعدیل لابن ابی حاتم او رتاریخ الکبیر وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔16

(11) حضرت عبیداللہ بن معمر بن عثمان التیمی القرشیؓ :
آپؓ کو حضرت عثمانؓ نے 29 ھ میں مکران کی مہم پر روانہ فرمایا تھا۔ علامہ قرطبی مالکی فرماتے ہیں کہ ''حضرت عبیداللہ بن معمر نے حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہؓ کی معیت میں فتح کابل وغیرہ میں شرکت کی تھی۔ آپ صاحب ثغرہ (گندھا) تھے'' لڑکپن میں آپؓ نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا اور صحبت نبوی پائی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کے علاوہ حضرات عمر، عثمان اور طلحہ رضی اللہ عنہم سے آپ نے حدیث کی روایت کی ہے۔ آپ کے مشہور تلامذہ میں عروہ بن الزبیر، ابن سیرین اور آپ کے فرزند عمر بن عبیداللہ بن معمر وغیرہ شامل ہیں۔ ابوعاصم، بغوی اور ابن مندہ وغیرہ نے آپ سے مروی حدیث کی تخریج کی ہے۔ ابن مندہ کا قول ہے کہ ''علماء کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ حضرت عبیداللہ بن معمر نے صحبت رسول ﷺ پائی تھی یا نہیں'' تفصیلی ترجمہ کے لیے تاریخ الکبیر للبخاری، جرح والتعدیل ابن ابی حاتم اور استیعاب للقرطبی وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔17

(12) حضرت مجاشع بن سعود بن ثعلبہ السلمیؓ :
آپ نے 31ھ میں قفس او رکرمان کے علاقوں کو فتح کیا۔ جب دشمن کی ہزیمت خوردہ افواج کے مکران میں جمع ہونے کی خبر آپ تک پہنچی تو حضرت مجاشع نے بلاد ہند میں سے کابل وغیرہ کے معرکوں میں حصہ لیا او ران علاقوں کو زیر کیا تھا آپ وہاں کے مندروں میں داخل ہوئے او ربڑے بڑے بت کی آنکھوں میں سے جواہرات نکال لئے'' بعض مؤرخین یہ بتاتے ہیں کہ ''آپ وہ جواہرات لیے نہیں تھے بلکہ وہاں کے لوگوں کو یہ تعلیم دینے کے لیے بت کی آنکھوں سے نکالے تھے کہ یہ بت نہ کسی کو نفع پہنچا سکتے ہیں او رنہ کسی کو نقصان۔'' امام بخاری وغیرہ کا قول ہے کہ حضرت مجاشع کو رسول اللہ ﷺ کی صحبت پانے کا شرف حاصل ہے۔ صحیحین میں آپ کی مرویات وغیرہ موجود ہیں۔ ابوساسان الرقاشی، حصین بن المنذر، یحییٰ بن اسحاق، ابوعثمان النہدی، کلیب بن شہاب او رعبدالملک بن عمیر وغیرہ نے آپ سے احادیث کی روایت کی ہے۔ مزید حالات زندگی کے لیے اصابہ لابن حجر، استعیاب للقرطبی اور تقریب التہذیب لابن حجر وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔18

(13) حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ بن حبیب العبشمی القرشیؓ :
امام بخاری نے حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہؓ کے متعلق صحبت نبویؐ پانے کی صراحت کی ہے۔ آپ نے یوم الفتح کو اسلام قبول کیا اور غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک جہاد ہوئےتھے۔ یہ وہ صحابی رسول اللہ ﷺ ہیں جنہوں نےعہد عثمانی میں سجستان، زابلستان، رخج، کابل ، داور، سندھ اور مکران کی بعض مہمات میں مجاہدانہ سرگرمیاں دکھائی تھیں۔ ابن سعد بیان کرتے ہیں کہ ''عبداللہ بن عامر نے حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ کو سجستان ، خراسان او رکابل وغیرہ کی جنگوں کے لئے امیر مقرر کیا تھا ان مہموں میں آپ کے ساتھ حسن بن ابی الحسن، مہلب بن ابی صغرہ اور قطری بن الفجاءة وغیرہ شریک تھے یہ علاقے آپ کی سرکردگی میں فتح سے ہمکنار ہوئے'' آپ سے حدیث کی روایت کرنے والوں میں عبداللہ بن عباس، قتاب بن عمیر، حصان بن کاہل، سعید بن المسیب، محمد بن سرین حسن بصری، ابولبید اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ وغیرہ جیسے نامور تابعین شامل ہیں آپ کے تفصیلی حالات تاریخ الکبیر للبخاری، طبقات الکبریٰ لابن سعد، اصابہ لابن حجر اور استیعاب للقرطبی وغیرہ میں مذکور ہیں۔19

(14) حضرت سنان بن سلمہ بن المحتبق الہذلیؓ:
حضرت سنانؓ کو نبیﷺ کی رؤیت کا شرف حاصل ہے مگر سماع کا نہیں ہے۔ آپ نے حضرت عمر، حضرت عبداللہ بن عباس اور اپنے والد سلمہ بن المحتبق سے مرسل احادیث روایت کی ہیں۔ عجلی نے انہیں ''بصرہ کا ثقہ تابعی '' بتایا ہے۔ پہلی بار 42 ھ میں بسلسلہ جہاد بلا سندھ تشریف لائے پھر جب امیرمعاویہ نے انہیں زیاد کے پاس ہندوستان کی فتوحات میں شرکت کے لیے بھیجا تو زیاد نہ حضرت سنان بن سلمہ کو 50ھ میں ہندوستان کی مہمات کے لئے امیر بنا کر بھیجا۔ آپ نے سندھ کے علاقہ میں بہت سی فتوحات کیں۔ سلمہ بن جنادہ، معاذ بن سعوہ اور ابوعبدالصمد حبیب نے آپ سے حدیث کی روایت کی ہے۔ حضرت سنان سے قتادہ کی احادیث مدلس ہیں۔ ابن شاہین نے سلمہ بن جنادہ عنہ کی روایت سے ان کی حدیثیں وارد کی ہیں۔ حضرت سنان کا انتقال حجاج کی امارت کے اواخر میں ہواتھا۔ ترجمہ کی مزید تفصیلات کے لیے تقریب التہذیب لابن حجر ، تہذیب التہذیب لابن حجر، معرفة الثقات للعجلی، تحفة اللطیفہ للسخاوی، اصابہ لابن حجر اور استیعاب للقرطبی وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔20

(15) حضرت منذر بن جارود العبدیؓ :
ہندوستان کی فتوحات کے سلسلہ میں حضرت منذر کو ''لغرقذا، بیل،'' یعنی موجودہ ''گندا'' اور ''بلوچستان'' کے علاقوں کا امیر بن کر بھیجا گیا تھا۔ اسی سال آپ نے وفات پائی اور وہیں دفن ہوکر ارض ہند کو ایک صحابی رسول کی امین ہونے کا شرف بخشا۔ ملاحظہ فرمائیں اصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر او راستیعاب للقرطبی وغیرہ۔21

(16) حضرت عمرو بن عثمان بن سعد التیمیؓ:
آپ سندھ و مکران کی فتوحات کے سلسلہ میں ہندوستان تشریف لائے تھے۔ آپ کے تفصیلی حالات اصابہ لابن حجر اور استیعاب للقرطبی مالکی وغیرہ میں مذکور ہیں۔22

(17) حضرت خریت بن راشد الناجیؓ:
آپ کو عبداللہ بن عامر نے سندھ، مکران اور بلادفارس کی فتوحات و امارت کے لیے مامور کیا تھا۔ آپ کے تفصیلی حالات اصابہ لابن حجر اور استیعاب للقرطبی وغیرہ میں درج ہیں۔23

(18) حضرت تمیم الداریؓ:
آپ 9ھ میں مسلمان ہوئے تھے آپ کے متعلق ایک زبان زد روایت یہ ہے کہ آپ جنوبی ہند میں فتوحات کے پیش نظر نہیں بلکہ تبلیغ اور اشاعت کی غرض سے تشریف لائے تھے اور وہیں انتقال فرمایا۔ مدارس کے نواحی ساحل ''کوڈلم'' پر آج بھی ان کی قبر ان کے ورود مسعود کی شہادت دینے کے لیے موجود ہے۔ بعض لوگ حضرت تمیم الداریؓ کو صحابی رسول اور بعض تابعی بتاتے ہیں۔ مولانا قاضی اطہر مبارکپوری صاحب نے حضرت تمیم الداری کو صحابی رسول کی حیثیت سے شمار کیا ہے۔24 لیکن کتب اسماء الصحابہ میں ان بزرگ کا ترجمہ راقم کو کہیں نہ مل سکا۔ البتہ ایک اور مشہور صحابی رسول (جن کا نام بھی حضرت تمیم الداری ہے) کے متعلق متداول کتب میں مذکور ہے کہ انہوں نے حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد بیت المقدس میں سکونت اختیار کرلی تھی، جامع ترمذی وغیرہ میں ان کی مرویات موجود ہیں۔ ان کے ترجمہ کے لیے تقریب التہذیب لابن حجر، اصابہ لابن حجر اور استیعاب للقرطبی وغیرہ کا مطالعہ مفید ہوگا۔25

واضح رہے کہ سرزمین سندھ و ہند کو شرف قدم بوسی بخشنے والے اصحاب رسول اللہ ﷺ کی اصل تعداد ان سے کہیں زیادہ جیسا کہ اوپربیان کیا جاچکا ہے، پھر جن صحابہ کرام نے مکران، فھہرج، صیال پایہ، دیبل، بلوچستان ، سندھ، گندا، زابلستان، رخج، کابل ، داور، سجستان اور کرمان وغیرہ کی متعدد بار ہونے والی فتوحات میں حصہ لیا۔ ان کے تلامذہ یعنی تابعین او رتبع تابعین کی ایک کثیر تعداد بھی ان کے ہمراہ ہندوستان تشریف لائی۔ جن سب کا تذکرہ اس مختصر مضمون میں تو ممکن نہیں البتہ ان میں سے چند مشہور تابعین کا ذکر خیر ذیل میں پیش خدمت ہے:
(1)۔ اس سعید جماعت کے ایک بزرگ مشہور تابعی سعد بن ہشام بن عامر انصاری المدنی تھے جو رشتہ میں حضرت انس بن مالکؓ کے چچا زادہ بھائی تھے۔ سعد بن ہشام کو اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ، حضرت انس بن مالکؓ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ، حضرت ابوہریرہؓ، حضرت سمرہ بن جندبؓ اور حضرت ہشام بن عامر انصاریؓ وغیرہ جیسے جلیل القدر اصحاب رسول سے سماع حدیث کا شرف حاصل تھا۔ جن حضرات نے آپ کے حلقہ درس حدیث میں شمولیت کی ان میں حسن بصری، حمید بن ھلال، زرارہ بن ابی اوفیٰ، اور حمید بن عبدالرحمٰن وغیرہ کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں۔ امام ابن حجر عسقلانی ان کے متعلق فرماتے ہیں کہ ''ثقہ تھے او رمحدثین کے طبقہ سوم سے تعلق رکھتے تھے آپ نے ارض ہندوستان میں شہادت پائی تھی۔26 ''

ایک روایت میں یہ صراحت بھی ہے کہ ''سعد بن ہشام نے سرزمین ہند میں حضرت عمرؓ کے عہد خلافت میں شہادت پائی تھی۔'' امام ابن حبان بیان کرتے ہیں کہ ''آں ﷫ نے ارض مکران اور دوران غزوہ جام شہادت نوش فرمایا تھا۔ ''امام بخاری نے بھی اپنی ''تاریخ الکبیر'' میں سعد بن ہشام کے متعلق لکھا ہے: ''قتل في أرض مکران علیٰ أحسن حاله'' یعنی وہ اپنی تمام خوبیوں کے ساتھ مکران میں شہید کئے گئے۔ تفصیلی ترجمہ کے لیے ثقات لابن حبان، تاریخ الکبیر للبخاری اور تقریب التہذیب لابن حجر عسقلانی وغیرہ کی جانب مراجعت مفید ہوگی۔

(2)۔ مہلت بن ابی صفرہ : حضرت امیر معاویہ کے عہد خلافت یعنی 44ھ میں آپ نے سجستان ، خراسان او رکابل کے معرکوں میں حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ العبشمیؓ کے ساتھ مجاہدانہ شرک کی تھی۔ بلاذری کا اقول ہے کہ ''مہلت بن ابی صفرہ نے 44ھ میں ہندوستان کی سرحد پر حملہ کیا اور بنّہ او رلاہور تک پہنچا جو ملتان اور کابل کے درمیان ہیں۔'' میاں اخلاق احمد ایم۔ اے صاحب بیان کرتے ہیں کہ ''حضرت امیرمعاویہ کے زمانے میں مہلت بن مغیرہ کی فوجوں نے کابل اور ملتان کے درمیان بعض علاقوں کو فتح او ریہاں کے لوگوں کو اسلام سے روشناس کرایا۔27 امام ابن حجر عسقلانی بیان فرماتے ہیں: ثقات امراء میں سے تھے۔ جنگی تکنیک سے بخوبی واقف تھے لہٰذا آپ کے دشمنوں نے آپ پر کذب کا بہتان لگایا ہے۔ آپ کا تعلق تابعین کے طبقہ دوم سے ہے آپ سے مرسل روایات مروی ہیں۔28

(3) قطری بن الفجاءة: آپ کو بھی سجستان، حراسان او رکابل کی فتوحات میں حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ العبشمی ؓکے ساتھ شرکت کا شرف حاصل ہے، ملاحظہ ہو إصابة في تمییز الصحابة لابن حجر عسقلانی وغیرہ۔29

(4) حسن بن الحسن البصری : آپ کا شمار سادات تابعین میں ہوتا ہے۔ حضرت عثمانؓ کو آپ نے بچشم خود دیکھا اور ان کے خطبہ کو سنا تھا۔ اگرچہ حضرت علیؓ کو بھی آپ نے دیکھا تھا مگر ان سے آپ کا سماع ثابت نہیں ہے۔ احادیث کی روایت میں بکثرت ارسال و تدلیس سے کام لیتے تھے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ العبشمیؓ کے ساتھ آپ نے سجستان، خراسان او رکابل وغیرہ کی جنگوں میں 44ھ میں بغرض جہاد شرکت کی تھی۔ تفصیلی حالات کے لیے جامع التحصیل للعلائی ، اصابہ لابن حجر، تہذیب الکمال للمزی، تقریب التہذیب لابن حجر ، تعریف اہل التقدیس لابن حجر، معرفة الثقات للعجلی، تہذیب التہذیب لابن حجر، جرح والتعدیل لابن بی حاتم، تاریخ یحییٰ بن معین، تاریخ الکبیر للبخاری، علل لابن المدینی، ھدی الساری لابن حجر، فتح الباری لابن حجر، تذکرة الحفاظ للذہبی، تحفة الاحوذی للمبارکفوری، سنن الدارقطنی، مستدرک للحاکم، سنن الکبریٰ للبیہقی اور نصب الرائے للزیلعی وغیرہ کی طرف مراجعت مفید ہوگی۔30

(5)راشد بن عمرو قیس الازدی : یہ مشہور تابعی بھی بلا دسندھ و ہند کے بعض معرکوں میں شریک رہے ہیں آپ نے حضرت عثمانؓ کے عہد خلافت میں ہرمز بھی فتح کیا تھا۔ مؤرخین بیان کرتے ہیں کہ ''اہالیان سندھ کو دائرہ اسلام میں داخل کرنے کے لئے راشد بن عمرو الازدی نے بہت جدوجہد کی تھی۔ علاقہ سندھ کے ہی ایک جہاد میں آں﷫ نے شہادت پائی تھی۔''

(6) حارث بن مُرہ العبدی : تابعین کی اس جماعت کے ایک او ربزرگ حارث بن مُرہ العبدی تھے جو حضرت علیؓ کے شاگرد اور معاون خاص بھی تھے۔ آپ کا تعلق قبیلہ عبدقیس سے تھا۔ 37 ھ میں جنگ صفین کے موقع پر حضرت علیؓ کی فوج کے میسرہ پر آپ ہی مقرر تھے۔38ھ میں حضرت علیؓ کے حکم سے حدود ہند میں داخل ہوئے او روہاں اپنی فیاضی، وسعت علم اور شجاعت کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ایک روایت کے مطابق ''حارث بن مرہ العبدی نے حضرت امیرمعاویہ کے عہد خلافت میں اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ معرکہ قلات میں شہادت پائی۔'' آپ کبار صحابہ سے ملے تھے اور ان سے علم حدیث حاصل کیا تھا ۔ ایک روایت میں ہے کہ ''مدرک صحابہ میں سے تھے۔''

تابعین کرام سے بعض بزرگ حضرت امیرمعاویہ کے عہد خلافت میں اس وقت ہندوستان تشریف لائے تھے جب 44ھ میں مسلمان افواج ہندوستان کے شمال مغربی علاقوں پر حملہ آور ہوئیں۔ امیر معاویہ کے عہد میں معرکہ ہندوستان کے متعلق امام ابن کثیر فرماتے ہیں: ''وقد غزا المسلمون الھند في أیام معاویة سنة 44ھ'' 31

خیر القرون کے ان مسلمانوں کے پیش نظر ہندوستان میں لشکرکشی کا مقصد جہاں اعلائے کلمة اللہ کا جذبہ تھا۔ وہیں رسول اللہ ﷺ کی فریضہ جہاد فی سبیل اللہ بالخصوص غزوہ ہند کے بارے میں وارد مندرجہ ذیل احادیث بھی زبردست محرک تھیں۔

''عن أبي ھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنه قال: وعدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوة الهند فإن أدرکتها أنفق فیها نفسي و مالي فإن أقتل کنت من أفضل الشھداء وإن أرجع فأنا أبوھریرة المحرر ''32
''حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے ہندوستان میں غزوہ کا وعدہ فرمایا ہے۔ اگر میں اس میں شریک ہوا تو اس میں جان و مال خرچ کروں گا، اگر مارا گیا تو بہترین شہید ہوں گا اور اگر زندہ واپس آگیا تو جہنم سے آزاد ابوہریرہ رہوں گا۔''

نوٹ : حضرت ابوہریرہؓ کی ایک دوسری روایت میں ''فإن أقتل کنت من أفضل الشهداء وإن أرجع'' کے بجائے ''وإن قتلت کنت أفضل الشهداء فإن رجعت'' کے الفاظ مروی ہیں۔33

''عن ثوبان مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصابتان من أمتي حورھما اللہ من النار عصابة تغزو الھند و عصابة تکون مع عیسی بن مریم علیهما السلام''
''ثوبان مولی رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دو گروہوں کو جہنم کی آگ سے محفوظ رکھا ہے، ایک وہ گروہ جو ہندوستان میں جہاد کرے گا اور دوسرا گروہ جو حضرت عیسیٰ بن مریم کے ساتھ رہے گا۔''34

حضرت ثوبانؓ سے ایک دوسری حدیث میں ''حورھما'' کے بجائے ''احرزھما'' کے الفاظ وارد ہیں۔ اس کی تخریج امام طبرانی نے ''معجم الأوسط'' میں کی ہے مگر طبرانی کی اسناد روایت میں تابعی کا نام ساقط ہے جوبظاہر راشد بن سعد ہے۔ ''اسناد کے بقیہ رجال ثقات ہیں'' جیسا کہ علامہ ہیثمی نے ''مجمع الزوائد ومنبع الفوائد'' میں تصریح فرمائی ہے۔35

خلافت راشدہ او راموی دور حکومت میں اقلیم ہند پر جن عسکری کوششوں کی ابتدا ہوئی تھی وہ اگرچہ بہت منظم اور ویع پیمانہ پر نہ تھیں مگر ان کا سلسلہ برابر جاری رہا حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات 632ء کے تقریباً اسی سال بعد 93۔ 94ھ (بمطابق 712ء) میں محمد بن قاسم نواحی سیستان سے سندھ میں داخل ہوا۔ دیبل، بہمنو (بہمن آباد) اور مولستان (ملتان) کو فتح کرتا ہوا شہر قنوج تک جا پہنچا۔ واپسی پر اس نے کشمیر کی حدود کو بھی پے سپر کیا تھا'' محمد بن قاسم کے اس حملہ آور لشکرمیں بے شمار تابعین، تبع تابعین، جلیل القدر محدثین، فضلاء اور اتقیاء شریک ہوئے تھے جن کا تذکرہ انشاء اللہ تعالیٰ آگے کیا جائے گا۔

انجمن خدام القرآن لاہور اور تنظیم اسلامی پاکستان کے مؤسس و امیر جناب ڈاکٹر اسرار احمد صاحب اپنے مضمون ''اسلام برصغیر پاک و ہند میں'' میں محمد بن قاسم کے ہندوستان پر حملہ اس کے پس منظر اور اثرات بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
''برصغیر پاک و ہند میں خورشید اسلام اوّلاً عین غرب یعنی، مکران اور بلوچستان کے افق پر خلافت بنی امیہ کے زمانے میں اس وقت طلوع ہوا جب نبی اکرمﷺ کے انتقال پر 80 برس بیت چکے تھے اور دور خلافت راشدہ کو ختم ہوئے بھی نصف صدی کے لگ بھگ عرصہ گزر چکا تھا او راسلام کے صدر اوّل کا جوش و خروش کم ہوتے ہوئے تقریباً معدوم کے حکم میں داخل ہوچکا تھا۔ چنانچہ سرزمین ہند پر ''باب الاسلام'' سندھ کے راستے اسلام کا یہ ورودِ اوّل بھی کسی مثبت تبلیغی جذبے یا احساس فرض کا مرہون منت نہ تھا بلکہ ایک وقتی اور فوری اشتعال کا نتیجہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت اسلام کی کرنیں موجودہ پاکستان کے بھی صرف نصف جنوبی کو منور کرکے رہ گئیں اور اس مد میں بھی جزر کے آثار فوراً ہی شروع ہوگئے اور برصغیر پاک و ہند میں اسلام کی یہ آمد اوّلین نہایت محدود بھی رہی اور حد درجہ عارضی بھی۔ گویا سرزمین ہند دور نبویؐ اور عہد خلافت علی منہاج النبوة کی برکات سے تو مطلقاً محروم ہی رہی جس میں ایمان اور یقین کا کیف و سرور او رجہاد و قتال کا جوش و خروش باہم شیر و شکر تھے او رجہاد کی اصل غرض و غایت فریضہ شہادت علی الناس کی ادائیگی کا جذبہ تھا یا حصول مرتبہ شہادت کا ذوق و شوق، نہ کہ ملک گیری و کشور کشائی کی ہوس یا مال غنیمت و اسباب عیش کی حرص، مزید محرومی یہ رہی کہ اس خالص عربی الاصل اسلام کے اثرات سے متمتع ہونے کا موقع بھی بہت ہی کم ملا جس میں دین و دنیا کی وحدت و یگانگت ابھی اس حد تک باقی تھی کہ رات کے راہب ہی دن کے شہسوار ہوتے تھے۔''36

ڈاکٹر صاحب کا یہ اقتباس اغلاط کا ایک مجموعہ ہے اس میں کئی تاریخی حقائق اور وقائع کو مسخ کرکے پیش کیا گیا ہے مثال کے طور پر ''برصغیر پاک و ہند میں خورشید اسلا م اوّلاً............. اس وقت طلوع ہوا جب نبی اکرمﷺ کے انتقال پر اسی برس بیت چکے تھے اور دور خلافت راشدہ ......... عرصہ گزر چکا تھا'' حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ خورشید اسلام کی کرنوں نے 15 ھ میں ہی ہندوستان کے بعض علاقوں کو منور کرنا شروع کردیا تھا جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے اقتباس بالا کی دوسری خلاف واقعہ بات یہ ہے کہ ''اسلام کے صدر اوّل کا جوش و خروش......... داخل ہوچکا تھا''۔ یہ سچ ہے کہ ان مجاہدوں میں صدر اوّل یعنی صحابہ کرام جیسا جوش و خروچ او راسلامی جذبہ و ایثار موجود نہ ہوگا لیکن پھر بھی ان مجاہدین میں تابعین، تبع تابعین، و محدثین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جن کے اخلاص و جذبہ و ایثار پر اس حد تک شک کرنا کہ ''معدوم کے حکم میں داخل'' سمجھا جانے لگے کسی طرح روا نہیں ہے اقتباس کا اگلا حصہ صرف ''ایک فوری اشتعال کا نتیجہ '' نہ تھا بلکہ اس کے پس پشت بھی اشاعت و تبلیغ اسلام کا جذبہ ،''غزوہ ہند'' میں شریک ہوکر ''أفضل الشهداء'' اور ''إحرازمن النار'' والی نبوی بشارتیں کارفرما تھیں۔لہٰذا اس عظیم اسلامی فتح کے متعلق یہ سوئے ظن رکھنا کہ یہ لشکر کشی محض ''ملک گیری و کشور کشائی کی ہوس یا مال غنیمت و اسباب عیش کی حرص'' کے زیر اثر عمل میں آئی تھی ایک بڑی جسارت ہے۔ تاریخ پر گہری بصیرت رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ فاتح سندھ محمد بن قاسم کے حملہ نے ''موجودہ پاکستان کی صرف نصف جنوبی'' حصہ کو ہی اسلام کے زیرنگیں نہیں کیا بلکہ سندھ کے علاوہ صوبہ پنجاب کے ایک وسیع علاقے کو بھی فتح کیا تھا، پھر ''برصغیر پاک و ہند میں اسلام کی یہ آمد'' شمال مغربی علاقوں تک ''محدود'' ضرور رہی لیکن''عارضی''ہرگز نہ تھی چنانچہ اہالیان ہند کو ''اس خالص عربی الاصل اسلام کے اثرات'' و فیوض و برکات ''سے متمتع ہونے کا موقع'' ایک طویل زمانہ تک میسر رہا۔ یہ بھی حق اور واقعہ ہے کہ محمد بن قاسم کے ہندوستان پر حملہ نے اشاعت و تبلیغ اسلام کے کام کوبہت تقویت پہنچائی تھی۔ سندھ و پنجاب کے اکثر شہروں میں دروس قرآن و حدیث کے عظیم مراکز و مدارس قائم ہوئے ہیں جن میں مسانید درس پر وہ جلیل القدر تابعین و تبع تابعین جلوہ افروز ہوئے جنہوں نے معرکہ ہند میں محمد بن قاسم کے ساتھ بالفعل شرکت کی تھی۔ چنانچہ مشہور مؤرخ بلاذری اور سندھ کی قدیم تریین عربی تاریک ''چچ نامہ'' کے مؤلف بیان کرتے ہیں۔
''محمد بن قاسم نے 93۔94ھ میں ہندوستان کے دور مشہور علاقوں یعنی سندھ و پنجاب کو فتح کیا اور وہاں موسیٰ بن یعقوب الثقفی کو باقاعدہ درس حدیث پر مقرر فرمایا۔''

(8) ایک اور تابعی، جو محمد بن قاسم کے ساتھ ایک فوجی کی حیثیت سے وارد ہند ہوئے ، جہاد سندھ میں حصہ لیا اور ارشادات رسول اللہ ﷺ کی ترویج و تبلیغ کرتے رہے، کا نام ابوشیبہ یوسف بن ابراہیم التمیمی الجوھریؓ تھا۔ آں﷫ کو حضرت انس بن مالکؓ سے سماع حدیث کا شرف حاصل تھا۔ ابوشیبہ کے درس و حدیث میں عمرو بن سلیمان، قرہ بن عیسیٰ، عبدالرحمن بن حسن، عقبہ بن خالد او رمسلم بن عقبہ جیسے عظیم محدثین اور تبع تابعین نے شرکت کی او راپنے شیخ سے حدیث کی روایت کی۔ ابوشیبہ کے تفصیلی حالات کے لئے میزان الاعتدال للذہبی، تقریب التہذیب لابن حجر عسقلانی اور تحفة الاحوذی للمبارکفوری وغیرہ کی طرف مراجعت37 مفید ہوگی۔

(9) ایک او رنامور تابعی جنہوں نے جہاد ہند میں شرکت کی او رمعرکہ سندھ میں محمد بن قاسم کے دست بازو بنے، کا اسم گرامی زیاد بن الحواری العبدی تھا۔ بعض مؤرخین نے ان کا نام زید بن الحواری العبدی او ربعض نے حواری بن زیاد العبدی بھی لکھا ہے۔ محمد بن قاسم نے جس قافلہ کے ہمراہ راجہ داہر کا سر عراق بھیجا تھا اس قافلہ میں زیادہ بن الحواری بھی شریک تھا۔ آپ وہ جلیل القدر تابعی ہیں جنہوں نے حضرت انس بن مالکؓ او رعبداللہ بن عمر ؓ سے حدیث کی روایت کی ہے۔ ابوبشر جعفر اعمش ، عبدالملک بن عمیر، سبیعی محمد بن فضل بن عطیہ، سلام الطویل اور ایوب بن موسیٰ جیسے کبار محدثین نے آپ سے علم حدیث پڑھا تھا۔ امام ابن حبان نے آپ کا ذکر ثقہ راویوں میں کیا ہے۔ سندھ کے مبلغین حدیث میں آپ کا بھی شمار ہوتا ہے مزید تفصیلات کے لیے ثقات لابن حبان اور میزان الاعتدال للذہبی وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔38

(10) انہی تابعین میں ایک نامور زائدہ بن عمیر الطائی الکوفی بھی تھے۔ آں﷫ کو حضرت عبداللہ بن عباسؓ، عبداللہ بن عمرؓ، جابر بن عبداللہؓ ابوہریرہؓ اور نعمان بن بشیرؓ جیسے اکابر صحابہ سےشرف تلمذ حاصل رہا ہے۔ آپ سے حدیث کی روایت کرنے والوں میں محدث ابواسحاق السبیعی، یونس بن ابی اسحاق اور شعبہ وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ ابن سعد نے آپ کو ''طبقہ ثالثہ'' کے تابعین میں شمار کیا ہے۔ ابن حبان نے آپ کو کتاب ''الثقات'' میں ذکر کیا ہے او رعجلی نے ''معرفة الثقات'' میں ذکر کیا ہے۔ زائدہ بن عمیر الطائی بھی فتح سندھ کے موقع پر محمد بن قاسم کے ہمرکاب ہوکر ہندوستان تشریف لائے اور ملتان کی طرف پیش قدمی کے وقت اسلامی لشکر میں شریک تھے۔ سندھ کے نومسلموں میں اسلامی احکام کی تعلیم و اشاعت کی ذمہ داری آپ کے سپرد تھی۔ زائدہ بن عمیر کے تفصیلی ترجمہ کے لیے معرفة الثقات للعجلی، جرح و التعدیل لابن ابی حاتم ، تاریخ الکبیر للبخاری اور ثقات لابن حبان وغیرہ کا مطالعہ مفید ہوگا۔39

(11) انہی خوش نصیب تابعین میں ایک تابعی ابو قیس زیاد بن رباح القیسی البصری بھی تھے جنہوں نے محمد بن قاسم کے دوش بدوش جہاد سندھ میں شرکت کی اور نہایت دلیری و شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ صاحب ''چچ نامہ'' بیان کرتے ہیں:
''محمد بن قاسم نے راجہ داہر کا سر او رجہاد سندھ میں تمام حاصل شدہ مال غنیمت جن دو سپاہیوں کی حفاظت میں عراق بھیجا تھا ابوقیس اس حفاظتی دستہ کے امیر تھے۔''

ابوقیس نے حضرت ابوہریرہؓ وغیرہ سے علم حدیث حاصل کیا تھا۔ حسن بصری وغیرہ نے آپ سے حدیث کی روایت کی ہے ۔ امام ابن حبان، عجلی اور ابن حجر عسقلانی وغیرہ نے آں کو حدیث کی روایت میں ثقہ قرار دیا ہے۔ ابن حجر فرماتے ہیں کہ ''آپ محدثین کے طبقہ ثالثہ سے تعلق رکھتے تھے'' آپ کی مرویات سنن نسائی، صحیح مسلم اور سنن ابن ماجہ میں وارد ہیں۔ جہاد سندھ کے دوران ابوقیس نے تبلیغ اور درس حدیث کا سلسلہ برابر جاری رکھا تھا۔ تفصیلی ترجمہ کے لئے ملاحظہ فرمائیں معرفة الثقات للعجلي، تقریب التهذیب لابن حجر، تهذیب التهذیب لابن حجر اور تحفة اللطیفة في تاریخ المدینة الشریفة للسخاوي وغیرہ 40

پس واضح ہوا کہ اس پاک باز گروہ کا ہر فرد نہیں تو کم از کم بیشتر افراد اپنے عمل و کردار سے علم حدیث کے مبلغ ضرور تھے۔ خواہ انہوں نےباقاعدہ مسند درس نہ سنبھالی ہو۔ ان کی زندگی کے ہر ہر گوشہ میں اتباع رسول اللہ ﷺ او راس کی اشاعت کا داعیہ موجزن تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان بزرگوں سے متاثر ہوکر اہالیان ہند میں سے بہت سے غیر مسلم مشرف بہ اسلام ہوئے او راللہ و رسول کے حلقہ اطاعت میں شامل ہوگئے۔

اب ان اعلیٰ صفات بزرگوں کے علم و فضل بے کراں سے اسلام سے نابلد اللہ کی مخلوق جوق در جوق مسلمان ہونے لگی تو اس اہم و مبارک کام کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے اس دور سعید کے دوسرے علماء کو یہ شوق و ولولہ پیدا ہوا کہ بلاد عرب سے اقلیم ہند کی طویل او رپر صعوبت مسافت طے کرکے ہندوستان جائیں اور وہاں دین اسلام کی اشاعت میں پوری یکسوئی کےساتھ منہمک و مصروف ہوسکیں چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ محمد بن قاسم کے حملہ کے بعد بھی متعدد جلیل القدر تابعین و تبع تابعین سرزمین ہند پر جلوہ افروز ہوتے رہے مثال کے طور پر۔

(12) یزید بن ابو کیشہ الشامی : جن کے والد کا نام ''حیومل'' تھا۔ ایک مشہور تابعی تھے۔ آپ حجاج کے زمانہ میں امیر جنگ کے عہدہ پر فائز تھے۔ حجاج بن یوسف کی وفات کے بعد ولید بن عبدالملک نے انہیں بصرہ کے منصب ولایت پر متعین کردیا تھا۔ امام ابن حجر عسقلانی بیان کرتے ہیں کہ : ''یزیدبن کیشہ سلیمان بن عبدالملک کےعہد میں سندھ کے والئ خراج تھے اور انہی کے عہد خلافت میں آپ نے وفات پائی تھی۔''41

مملکت کے فوجی و انتظامی امور میں سربراہی کے علاوہ آپ وقت کے ایک بلند پایہ محدث بھی تھے۔ آپ نے شرجیل بن اوس او رحضرت ابوالدرداء وغیرہ سے روایت حدیث کی سعادت پائی تھی۔ ابوبشر، حکم بن عتبہ، معاویہ بن قرہ او رابراہیم بن عبدالرحمٰن وغیرہ نے آپ سے احادیث روایت کی ہیں۔ امام بخاری نے اپنی ''صحیح'' میں ، ''امام حاکم '' نے اپنی ''مستدرک علی الصحیحین'' میں اور امام محمد بن حسن نے کتاب ''الآثار'' وغیرہ میں ان کی مرویات کی تخریج کی ہے۔ یزید بن ابوکیشہ حالت سفر میں روزہ رکھا کرتے تھے۔ امام بخاری نے اپنی ''صحیح'' میں ان کے متعلق ایک روایت یوں وارد کی ہے۔ ''فکان یزید یصوم فی السفر''42 مگر ھشیم عن العوام بن حوشب کی روایت جس کی تخریج اسماعیلی نے کی ہے میں یہ الفاظ مروی ہیں: ''وکان یزید بن بی کیشة یصوم الدھر'' یعنی یزید بن ابوکیشہ ہمیشہ روزہ رکھا کرتے تھے۔

96ھ میں یزید بن ابوکیشہ بغرض تبلیغ سندھ تشریف لائے لیکن یہاں آنے کے کچھ دن بعد انتقال فرما گئے تھے۔ مزید تفصیلی حالات کے لیے ثقات لابن حبان، تاریخ الکبیر للبخاری اور فتح الباری لابن حجر عسقلانی وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔

(13) اسی دور کے ایک تابعی موسیٰ السیلانی تھے جو سندھ کے رہنے والے تھے۔ آپ نے حضرت انس بن مالکؓ سے حدیث کی سماعت کی تھی اور سندھ کے علاقہ میں ہی علم حدیث کی نشرواشاعت کے لیے اپنی زندگی وقف کردی تھی۔ حضرت انس بن مالکؓ سے موسیٰ السیلانی کی ملاقات کا ذکر حافظ ابن الصلاح نے اپنے مقدمہ میں اس طرح کیا ہے۔
''وروینا عن شعبة عن موسیٰ السیلاني والى علیه خیراً قال أتيت أنس بن مالك فقلت ھل بقي من أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلم أحد غیرك قال بقي ناس من الأعراب قدراوہ فأما من صحبه فلا إسنادہ جید حدث به مسلم بحضرة أبي زرعة''43

(14) ایک اور مشہو رتابعی سعید بن اسلم بن زرعہ الکلابی تھے جن کا تعلق قبیلہ بن ربیعہ بن کلاب سے تھا آپ نے اپنے موالی سے حدیث کی روایت کی ہے جو بنی غفار سے تعلق رکھنے والے اصحاب رسول اللہ ﷺ میں سے تھے۔ آپ نے باقاعدہ درس حدیث بھی دیا ہے، بکیر بن اشجع وغیرہ نے آپ سے حدیث کی سماعت کی ہے۔ ابن ماکولا وغیرہ کا قول ہے کہ سعید بن اسلم خراسان اور سندھ کے والی تھے۔ بعض کتب تاریخ میں مذکور ہے کہ آپ مکران کے بھی والی تھے او روہیں آپ نے شہادت پائی۔ جب تک آپ سرزمین مکران و سندھ پر مقیم رہے درس حدیث کو اپنا اوّلین مقصد بنائے رکھا۔ مزید حالات کے لیے ثقات لابن حبان اور تاریخ الکبیر للبخاری وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔

(15) اسی کاروان مبلغین کے ایک اور بزرگ تابعی حضرت ابن اسید بن اخنس الثقفی تھے۔ آپ نے اپنے والد اسید بن اخنس ثقفی، اپنے چچا مغیرہ بن اخنس 44 اور بعض تابعین سے حدیث کی سماعت کی تھی۔ آپ اُموی خلیفہ عبدالملک بن مروان کے عہد میں سندھ کے والی مقرر ہوئے تھے۔ آں نے بھی سندھ کے علاقہ میں اشاعت حدیث کی بہت خدمت انجام دی ہے۔

(16) اشاعت اسلام کے کارواں میں شامل ایک او ربزرگ تابعی عبدالرحمٰن بن ابوزید السیلمانی تھے۔ آپ کا شمار مشاہیر تابعین میں ہوتا ہے۔ آپ نے کبار صحابہ میں سے حضرت عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس، عثمان بن عفان، امیر معاویہ، سعید بن زید، عمرو بن اوس، عمرو بن عصبہ وغیرہ رضی اللہ عنہم اور تابعین میں سے نافع بن جبیر او رعبدالرحمٰن الاعرج وغیرہ سے حدیث کی سماعت کی ہے۔ آپ کے دروس حدیث سے فیضاب ہونے والے شاگردوں کی ایک طویل فہرست ہے جن میں سے زید بن اسلم، سماک بن فضل، ربیعہ بن ابوعبدالرحمٰن ، خالد بن ابوعمران، یزید بن طلق اور آپ کے صاحبزادہ محمد بن عبدالرحمٰن السیلمانی نے آپ سے حدیث کی روایت کی ہے۔ شیخین کے علاوہ دوسرے آئمہ حدیث مثلاً امام ترمذی او رامام نسائی وغیرہ نے آپ کی روایات کی تخریج کی ہے۔ امام ذہبی فرماتے ہیں کہ ''آپ کبار شعراء میں سے تھے۔''

عبدالرحمٰن بن ابوزید سیلمانی اصلاً یمن کے رہنے والے تھے او رحضرت عمر فاروقؓ کے عہد خلافت میں ایک غلام کی حیثیت سے مدینہ لائے گئے تھے بعد میں آپ نے ''سیلمان'' نامی مقام پر مستقل سکونت اختیار کرلی تھی۔ اسی نسبت سے آپ کو سیلمانی کہا جانے لگا۔ ''سیلمان'' سندھ او رگجرات کے علاقہ کاٹھیاوار کے درمیان واقعہ ایک قصبہ ہے جس کا اصل نام ''بھیلمان'' ہے۔ عرب مؤرخین نے ''بھلیمان'' کی تعریف میں اس کو ''سیلمان'' کردیا ہے۔ بھیلمان کے گرد و نواح کو عبدالرحمٰن بن ابوزید نے ایک عرصہ دراز تک اپنے دروس حدیث سے فیضاب کیا۔ آں کے ترجمہ کے لیے ثقافت لابن حبان ، فتح الباری لابن حجر، تقریب التہذیب لابن حجر، میزان الاعتدال للذہبی اور تحفة الاحوذی للمبارکفوری وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔45

اب چند اتباع تابعین کے اسمائے گرامی او ران کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے:
1۔ اس کاروان کے ایک بزرگ اسرائیل بن موسیٰ بصری تھے۔ آپ ہندوستان میں علم حدیث کا درس دینے کی ہی غرض سے تشریف لائے اور ایک عرصہ دراز تک سندھ میں درس حدیث دیتے رہے آپ کو امام حسن بصری، ابوحازم اور ائمہ حدیث کی ایک جماعت سے شرف تلمذ حاصل تھا۔ حسین الجعفی او ریحییٰ القطان جیسے کبار محدثین نے آپ سے حدیث کی روایت کی ہے۔ صحیح بخاری، سنن ابوداؤد، جامع ترمذی اور سنن نسائی میں آپ کی مرویات موجود ہیں۔ امام ابن حجر عسقلانی نے آپ کو محدثین کے طبقہ ششتم کے ثقات میں شمار کیا ہے اور ''نزیل الہند'' لکھا ہے۔ مگر علامہ ذہبی نے مزید صراحت فرماتےہوئے آپ کو ''نزیل السند'' لکھا ہے۔ تفصیلی حالات کے لیے تقریب التہذیب لابن حجر ، میزان الاعتدال للذہبی ، تحفة الاحوذی للمبارکفوری اور فتح الباری لابن حجر عسقلانی وغیرہ کی طرف رجوع فرمائیں۔46

2۔ اس جماعت کے دوسرے بزرگ ابوسلیمان ایوب بن یزید بن قیس بن زرارہ تھے بعض لوگوں نے انہیں ابن ابی یزید بھی لکھا ہے۔ بعض مشہور تابعین سے آپ کو حدیث کی سماعت کا شروع حاصل تھا۔ آپ ایک عظیم المرتبت خطیب، ممتاز محدث اور ادیب تھے، فصاحت و بلاغت میں آپ کا کوئی ثانی نہ تھا۔ حجاج بن یوسف کے دور میں آپ نے ہندوستان کے بہت سے علاقوں او ربالخصوص پنجاب، سندھ او رمکران وغیرہ کی خوب سیاحت کی او رجہاں آپ نے قیام کیا وہاں کے لوگوں کو اپنے اخلاق و اعمال و کردار اور وسعت علم سے متاثر کئے بغیر نہ چھوڑا۔ 84ھ میں حجاج بن یوسف نے آں  کو قتل کروا دیا تھا۔ فإنا للہ وإنا إلیه راجعون۔

ابوسلیمان کے تفصیلی ترجمہ کے لیے میزان الاعتدال للذہبی، ضعفاء المتروکین لابن الجوزی او رابن خلکان وغیرہ ملاحظہ فرمائیں''47

3۔ اسی قافلہ محدثین کے ایک اور بزرگ جنہوں نے سرزمین ہند کو اپنے ورود سے سرفراز فرمایا ابومحمد رجاء بن السندی تھے۔ امام ابن حجر عسقلانی نے ''تقریب التہذیب'' میں انہیں ابومحمد رجاء ''السندی'' لکھا ہے۔48 مگر ''تہذیب التہذیب'' میں انہی بزرگ کا نام ''ابومحمد رجاء بن السندی'' لکھا ہے او ریہی زیادہ صحیح ہے ، واللہ اعلم۔ سندھ میں آکر مستقل سکونت اختیار کرلینے کے باعث ہی آپ ''السندی'' کہلائے۔ صحیح بخاری میں آپ کی مرویات موجود ہیں۔ علامہ ابن حجر نے آپ کو طبقہ دہم کے ''صدوق'' محدثین میں شمار کیا ہے۔ سرزمین سندھ میں آپ نے حدیث کی جو خدمت انجام دی اس کی تفاصیل کتب میں موجود ہیں۔

4۔ اس سعید جماعت کے ایک بزرگ عبدالرحمٰن بن ابوزید سیلمانی کے فرزند محمد بن عبدالرحمٰن سیلمانی بھی تھے جنہوں نے اپنے والد کے بعد سندھ کی مسند درس سنبھالی تھی۔ آپ نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابوزید سیلمانی سے حدیث کی سماعت کی تھی۔ آپ سے روایت کرنے والوں میں صالح بن عبدالجبار الحضرمی او رمحمد بن حارث الحارثی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ محمد بن عبدالرحمٰن سیلمانی اپنے وقت کے ایک نامور محدث تھے، سنن ابن ماجہ ا ور سنن ابو داؤد میں آپ سے مروی احادیث موجو دہیں۔ امام ابن حجر عسقلانی نے آپ کو محدثین کے طبقہ ہفتم میں شمار کیا ہے بعض ائمہ جرح والتعدیل نے آپ کو ضعفاء میں شما رکیا ہے۔ مزید حالات زندگی کے لیے میزان الاعتدال للذہبی، جرح والتعدیل لابن ابی حاتم، مجروحین لابن حبان، کامل فی الضعفاء لابن عدی، ''تقریب التہذیب'' لابن کشف الحثیث للحلبی، ضعفاء والمتروکین للنسائی، ضعفاء والمتروکین للدارقطنی، ضعفاء الکبیر للعقیلی، ضعفاء الصغیر للبخاری، تاریخ الکبیر للبخاری اور تاریخ الصغیر للبخاری وغیرہ کی طرف رجوع فرمائیں۔49

5۔ ہندوستان تشریف لانے والے ایک اور بزرگ محدث ربیع بن صبیح السندی البصری تھے آپ خلیفہ مہدی عباسی کےعہد میں بغرض اشاعت اسلام ہندوستان آئے اور مستقلاً یہیں بس گئے۔ رامھر مزی کا قول ہے کہ ''آپ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے حدیث کےموضوع پر پہلی مبّوب کتاب تصنیف فرمائی تھی'' آپ کو امام حسن بصری، مجاہد اور یزید الرقاشی وغیرہ سے سماعت حدیث کا شرف حاصل تھا۔ آپ سے حدیث کی روایت کرنے والوں میں ابن مہدی ، عاصم بن علی، آدم اور علی الجور جیسے کبار محدثین شامل ہیں۔ امام بخاری نے معلقاً او رامام ترمذی و ابن ماجہ نے آپ سے مروی احادیث کو قبول کیا ہے۔ شعبہ کا قول ہے کہ ''آپ سادات المسلمین میں سے تھے۔'' امام ابن حجر عسقلانی نے انہیں محدثین کے طبقہ سابعہ میں شمار کیا ہے۔ اگرچہ ہندوستان میں آپ کی آمد کا مقصد درس و تدریس تھا لیکن آپ نے یہاں غزوہ ہند (فتح اربد) میں باقاعدہ شرکت کی تھی چنانچہ امام شافعی فرماتے ہیں: ''کان رجلاً غزاء''

آپ نے 160ھ میں انتقال فرمایا اور سندھ میں مدفون ہوئے۔ مزید تفصیلات کے لئے تقریب التہذیب لابن حجر، میزان الاعتدال للذہبی، تاریخ الخلفاء، ابجد العلوم للنواب صدیق حسن خاں اور تحفة اللحوذی للمبارکفوری وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔50

6۔ ہندوستان تشریف لانے والےایک بزرگ ابومعشر نجیح بن عبدالرحمٰن السندی الھاشمی بھی ہیں۔ آپ کو قرظی سعید بن ابی سعید، ھشام، حویرث، مقبری، ابن منکدر، اعمش اور محمد بن قیس وغیرہ سے شرف سماعت حدیث حاصل ہے۔ آپ سے حدیث کی روایتکرنے والے محدثین میں بشر بن ولید، محمد بن بکار، ابوربیع الزھرانی اور آپ کے فرزند محمد بن ابو معشر وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ امام ابن حجر عسقلانی نے آپ کو محدثین کے طبقہ ششم میں شمار کیا ہے۔ آپ سے مروی احادیث کوبجز شیخین کے متعدد ائمہ مثلاً سعید بن منصور اور عبدالرزاق وغیرہ نے قبول کیا ہے۔ سندھ میں ایک عرصہ تک آپ نے علم حدیث کا درس دیا تھا۔ 170ھ میں آپ نے وفات پائی تھی۔مزید تفصیلی ترجمہ کے لیےتاریخ یحییٰ بن معین، تاریخ الکبیر للبخاری، تاریخ الصغیر للبخاری، ضعفاء الصغیر للبخاری، کُنٰی للمسلم، معرفة التاریخ للبستوی، ضعفاء والمتروکین للنسائی، جرح والتعدیل لابن ابی حاتم، کُنٰی للدولابی ، کامل فی الضعفاء لابن عدی، ضعفاء الکبیر للعقیلی، مجروحین لابن حبان، ضعفاء والمتروکین للدارقطنی، تاریخ بغداد للخطیب بغدادی، میزان الاعتدال للذہبی ،تہذیب التہذیب لابن حجر عسقلانی، (شرح صحیح البخاری) للامام ابن حجر عسقلانی او رتحفة الاحوذی (شرح جامع الترمذی) للشیخ عبدالرحمٰن المبارکفوری وغیرہ کی طرف رجوع فرمائیں۔51

ان کےعلاوہ ہمیں بعض ایسے بزرگ بھی نظر آتے ہیں جواپنے قلوب میں ہندوستان آنے کی شدید تڑپ اور خواہش رکھتے تھے مگر بعض عوارض کے باعث یہاں تشریف نہ لاسکے، مثال کے طور پر حضرت انس بن مالکؓ کے ایک شاگرد حباب بن فضالہ الذہلی الیمامی تابعی کا نام نامی پیش پیش ہے۔ آپ کو حضرت انس بن مالکؓ سے، آپ سے احمد بن محمد الارزقی المکی وغیرہ کو سماعت حدیث کا شرف حاصل رہا ہے۔ آپ کے ہندوستان تشریف لانے کی شدید خواہش کا تذکرہ امام ذہبی نے ''میزان الاعتدال'' میں انہی کی زبانی یوں قلمبند کیا ہے۔

''میں بصرہ آیا اور حضرت ابسؓ سے ملاقات کی۔ عرض کیا کہ میں سفر کا ارادہ رکھتا ہوں، آپ سے اجازت کا طالب ہوں۔ آںؓ نے دریافت فرمایا کس جگہ جانا چاہتے ہو؟ عرض کیا: ہندوستان پوچھا کہ : کیا تمہارے والدین یا ان میں سے کوئی بحیات ہے؟ میں نے عرض کیا : دونوں بقید حیات ہیں۔ آپؓ نے پھر سوال کیا ،کیا وہ تمہارے گھر سے چلے جانے پر رضا مند ہیں؟ میں نے عرض کیا نہیں، بلکہ خفا ہیں میرے والد نے مجھ پر زیادتی کی، وہ امیر کے پاس گئے او رامیر نے مجھے سفر سے روک دیا ہے۔ حضرت انسؓ نے پھر پوچھا: تجھے دنیا مطلوب ہے یا آخرت کی بھلائی؟ میں نے عرض کیا دونوں۔ تو انہوں نے فرمایا پس تو گھر لوٹ جا او راپنے والدین کےساتھ رہ کر ان کے ساتھ بھلائی کر، اس سے بڑھ کر کوئی اور بہتر کام تجھے نہ مل سکے گا۔''52

یہ تھا دوسری صدی ہجری تک ہندوستان تشریف لانے والے محدثین عظام میں سے تقریباً چالیس نفوس قدسیہ کا مختصر سا تعارف۔ اس دوران کے علاوہ او ربھی بہت سے بزرگ ہندوستان پر جلوہ افروز ہوئے جن کے حالات ، تاریخ، سیر او ر رجال کی کتب میں مرقوم اور مزید تحقیق و تتبع کے متقاضی ہیں۔ دوسری صدی ہجری کے بعد بھی بزرگان دین کے ورود مسعود کا یہ سلسلہ برابر جاری رہا جن کے علوم سے باشندگان ہند مستقل فیضیاب ہوتے رہے پھر جن بزرگوں ن ےان دو صدیوں کے دوران ہندوستان کے باشندوں کو علم حدیث سے روشناس کرایا تھا خود ان کے مقامی تلامذہ کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر تیار ہوچکا تھا، جو ہندوستان کے طول و عرض میں پھیلا اور وہاں کے غیر مسلموں کو مشرف بہ اسلام کرنے نیز علم حدیث کی ترویج و اشاعت میں مصروف عمل ہوگیا اس دوران جگہ جگہ درس حدیث کیلئے بڑے بڑے دینی مراکز او رطالبان حدیث کے بے شمار حلقے قائم ہوئے۔ جابجا مساجد بھی تعمیر ہوئیں جن کے آثار خستہ حالت میں آج بھی پاک و ہند کے متعدد گوشوں میں اپنے شاندار ماضی کی یاد تازہ کرنے کے لئے موجود ہیں۔

پس ثابت ہوا کہ ہندوستان میں اسلام پہلی صدی ہجری کے اوائل ہی میں داخل ہوگیا تھا او رمسلسل وسعت پذیر تھا۔ اس کی اشاعت و مقبولیت کی وجہ جہاں اسلامی فتوحات ہیں، وہیں اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین او رمحدثین عظام نے اسلام کی اشاعت کےلیے اپنےمال او راپنی زندگیوں کو وقف کردیا تھا۔ اس اہم مقصد کے حصول کے لیے اپنے اعزاء و اقرباء یا وطن عزیز کو خبرباد کہنا ان کے نزدیک کوئی معنی نہ رکھتا تھا۔

ہندوستان کے شمالی مغربی خطہ میں اسلام کی ترویج و اشاعت کے ساتھ ساتھ جنوب مغربی سواحل پربھی اسلام کے انوار و برکات کا ترشح اوّلین دور صحابہ سے مسلسل ہوتا رہا ہے۔ عرب تاجروں کے علاوہ صحابہ ، تابعین اور تبع تابعین کی ایک قابل لحاظ تعداد کو چین، کالی کٹ، گوا (GOA) کوکن، اور دیگر مالا باری علاقوں میں آئی اور علم حدیث کے فروغ کے لیے یہیں بس گئی۔ ان بزرگوں کی مساعئ جمیلہ سے گردو نواح کی بے شمار مخلوق مشرف بہ اسلام ہوئی۔ آج بھی ان علاقوں میں ان بزرگوں کی قبریں، ان کی تعمیر کردہ مساجد و مدارس کے خستہ آثار نظر آتے ہیں چنانچہ مشہور ہے کہ ''مدارس کے نزدیک محمود بندر کے مقام پر دو صحابہ کرام کے مزارات موجود ہیں۔''53

ہندوستان کے ایک مشہور ہندو مؤرخ ڈاکٹر تارا چند اپنے مضمون ''برصغیر میں اشاعت اسلام'' کے تحت تحریر فرماتے ہیں: ''کولم میں میتاکیوں کے نام کے قبرستان میں علی بن عثمان کی قبر 166ھ (783ء) کا کتبہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آٹھویں صدی (عیسوی) میں مالابار کے ساحل پر مسلمان آباد ہوگئے تھے۔''54

چونکہ ہندوستان کے ان علاقوں میں عرب مسلمانوں کی آمد بغرض جہاد نہ تھی اس لیے یہاں آنے والے بزرگوں کی تبلیغ و اشاعت اسلام کی رفتار نسبتاً سست رہی ہے۔ بحیثیت مجموعی یہ کہا جاسکتا ہ کہ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں اسلام کی توسیع و ترویج کا کام تقریباً ابتدائی تین صدیوں تک بحسن و خوبی چلتا رہا جسے بلاشبہ ہندوستان اسلامی تاریخ کا سنہرا دور کہا جاسکتا ہے ۔ اس امر کی شہادت بھی ہندو مؤرخ ڈاکٹر تارا چند کی زبانی ملاحظہ فرمائیں:
''نویں صدی (عیسوی) کے بعد سے اسلام کا اثر دن بدن بڑھتا چلا گیا۔ مسعودی نے 916ء (یعنی تقریباً 292ھ) میں ہندوستان کا سفر کیا تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ چولی میں دس ہزار سے زائد مسلمان آباد تھے۔ ان کا ایک سردار تھا جسے پرامہ کہتے ہیں۔ ابوولادت مستمر بن الہلہلی بھی چولی کی مسجدوں کا ذکر کرتا ہے۔''55

ہندوستانی اسلامی تاریخ کے اس سنہرے دور کے بعد پھر اسلامی فتوحات کا سلسلہ شروع ہوتا نظر آتا ہے۔ شمال مغربی سرحد پر واقع پہاڑی دروں کے راستہ سے سلطان سبکتگین اور سلطان محمود غزنوی نے ہندوستان کی غیر مسلم ریاستوں کے خلاف علم جہاد بلند کیا او ران پر متعدد بار حملے کئے محموع غزنوی کا سترہواں حملہ 393ھ میں سومنات کے مندر پر ہوا جو اس کا سب سے بڑا اور کامیاب حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ وہی تاریخی مندر ہے جسے محمود غزنوی کے سترہویں حملے کے بعد ہندوستان کے سیاسی قائدین نے آزادی ہند (1947ء)کے فوراً بعد ہندو رعایا کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی غرض سے ازسر نو تعمیر کروایا ہے۔

مشہور اسلامی مؤرخ ابوالفداء عمادالدین ابن کثیر محمود غزنوی کے اس حملہ کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:56
''وقد غزا الملك الکبیر الجلیل محمود صاحب غزة في حدود أربع مأة بلاد الهند فدخل فیها وقتل و سرد دخل السومنات و کسر الند الأ عظم الذي بعبدونه ثم رجع سالماً مویدا منصورا............... الخ''

محمود غزنوی کے ہندوستان پر حملوں کے متعلق مؤرخ توقیر پاشا بیان کرتے ہیں:
'' ......... اب سلطان محمود کے حوصلے بہت بلند ہوگئے او راس نے ہندوستان پر حملہ کرنے کے بارے میں سوچا۔ اس نے ہندوستان پر سترہ حملے کئے او ران حملوں کو اس نے جہاد کا نام دیا۔ اس سے مسلمان اس کے ہمدرد و مددگار بن گئے57 اور ''........... محمود نے جب یہ دیکھا کہ اس کے سپاہیوں کا جوش ختم ہورہا ہے تو انہیں جوش دلا کر اسلام پر فد ا ہونے کو کہا چنانچہ محمود کے سپاہی بڑی بہادری سے لڑے اور ہندوؤں کو شکست دی۔''58

بعض متغصب اور اسلامی دشمن مؤرخین کا دعویٰ ہے کہ سلطان محمود غزنوی نے ہندوستان پر صرف اپنی دولت میں اضافہ کرنے کی غرض سے یکے بعد دیگرے سترہ حملے کئے تھے۔اسے مسلمانوں یا اشاعت اسلام سے کوئی سروکار نہ تھا۔ افسوس کہ انہی لوگوں کی اتباع میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے سابقہ استاد پروفیسر خلیق احمدنظامی اپنی کتاب "Relition and Politics" (مذہب اور سیاست) کے ایک مقام پر لکھتے ہیں:
''محمود نے اپنےمعرکوں میں ہندوؤں سے زیادہ مسلمانوں کا خون بہایا تھا۔ اس نے درحقیقت مذہب جو اس دور کی ایک بڑی سماجی طاقت تھا، کا سہارا صرف اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی غرض سے لیا تھا۔''

اسی طرح جناب یوسف حسین صاحب "Indo Muslim Polity" (ہندوستانی مسلم سیاست) میں لکھتے ہیں:
''اس کے لیے وہ تمام لوگ میدان جنگ میں تھے جواس کے حکم کی خلاف ورزی کرتے تھے خواہ وہ ہندو ہوں یا کہ مسلمان''

حالانکہ اس قسم کی تمام باتیں قطعی بے بنیاد، صریح تعصب پر مبنی، لغو اور محتاج دلیل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سلطان محمود غزنوی نہایت اعلیٰ کردار اور اسلامی اقدار کا حامل تھا۔ ہندوستان پر حملوں کا اصل محرک اس کا جذبہ او راس خطہ سے کفر و شرک کی ضلالت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا مصمم ارادہ تھا۔ مؤرخ توقیر پاشا سلطان محمود غزنوی کے اوصاف حمیدہ بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں۔

''.............محمود اعلیٰ درجہ کا منصف مزاج بھی تھا اور ہر ایک کے ساتھ پورا پورا انصاف کرنے کی کوشش کرتا تھا مظلوموں اور عاجزوں کی مدد کرنے کے لئے وہ ہر وقت تیار رہتا تھا او راپنے افسروں او رحاکموں کی خطاؤں سے درگزر کرتا تھا۔وہ پکا سنی مسلمان تھا۔ پانچ وقت کی نماز اور رمضان میں روزے رکھنا اپنا فرض سمجھتا تھا ۔ وہ رمضان کے مہینے میں زکوٰة بھی ادا کرتا تھا یعنی اپنی دولت کا اڑھائی فیصدی حصہ غریبوں میں خیرات کردیتات ھا مگر وہ تعصب سے کوسوں دور تھا............. محمود حالانکہ ناخواندہ اور بے پڑھا لکھا انسان تھا مگر عالموں اور پڑھے لکھے لوگوں کی بے حد عزت کرتا تھا اس کا دربار اپنے وقت کے عالم اور قابل لوگوں سے بھرا رہتا تھا۔ البیرونی محمود کے دربار کا زبردست عالم تھا۔ یہ مؤرخ فلاسفر، نجومی، طبیب غرض کہ سب کچھ تھا۔ وہ محمود کے ساتھ ہندوستان آیا او ریہاں کے حالات قلمبند کئے۔''59

یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ مجاہد اسلام سلطان محمود غزنوی کے ہندوستان پر ان پے درپے حملوں سے ہندوستان کے ماحوإ پر زبردست اثر پڑا تھا۔ ایک طرف تو ان غیر مسلم ہندوستانیوں کے لیے بھی اسلام کوئی اجنبی دیننہ رہا جن تک صحابہ کرام، تابعین ، اتباع تابعین او ران کی تلامذہ کی رسائی نہ ہوئی تھی اور دوسری طرف ہندوستان کے شمالی خطوں میں آباد تمام مسلمان اپنے آپ کو پہلے سے زیادہ آزاد اور محفوظ سمجھنے لگے تھے کیونکہ بقول ایک انگریز مؤرخ اسٹین کونو (Sten Konow)۔
''شمالی ہند میں جو مسلمان آباد تھے ان پر ہندو راجاؤں نے ٹیکس لگا رکھا تھا۔''60

سلطان محمود غزنوی کے ہندوستان پر حملوں کے ان ثمرات کے ساتھ یہ بات بھی اپنی جگہ قطعی درست ہے کہ اس دور کے بعد ہی ہندوستان میں اسلام رفتہ رفتہ اپنی ہیئت و مرکزیت کھونے لگا۔ پہلا مسلم دانشور جس نے اہل اسلام کو ہندوانہ تصوف (دیدانت وغیرہ) سے روشناس کرایا سلطان محمود غزنوی کا ہی ایک درباری عالم ابوریحان البیرونی تھا۔ اس نے ضلع جہلم (پنجاب) کے پنڈتوں سے سنسکرت زبان سیکھی۔ پھر ہندوؤں کی بہت سے اہم کتابوں کا عربی اور فارسی میں ترجمہ کیا۔ انہی تراجم سے ہندوستانی مسلمان پہلی بار اپنشدوں اور یوگ وغیرہ کی تعلیمات سے آشنا ہوئے۔ اس کے علاوہ سلطان محمودکے فوجیوں کے ذریعہ ہی ہندوستان میں یونانی فلسفہ بھی پہنچا جو عباسی خلیفہ مامون الرشید کے عہد میں یونانی کتب فلسفہ عربی میں مترجم ہونے کے باعث کافی مقبول ہوچکا تھا۔ ان چیزوں کی درآمد س قبل تک ہندوستان میں مسلمان صرف کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کے علوم سے ہی واقف تھے۔ مگر ہندوانہ تصوف اور فلسفہ نے رفتہ رفتہ علوم شریعت کی جگہ لینی شروع کردی اور بالآخر ہندوستانی مسلمان ان تمام خرافات میں بُری طرح مبتلا ہوکر رہ گئے۔

محمود غزنوی کے بعد چھٹی صدی ہجری میں سلطان محمد غوری کے حملوں نے بھی ہندوستان میں مسلمانوں کو سیاسی و معاشرتی طور پر کافی تحفظ اور وقار بخشا، یہی وجہ ہے کہ اس دوران مسلمان ہندوستان کے طول و عرض کے ہر ہر گوشہ میں پھیلے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس کا واضح ثبوت ہندوستان کے مختلف مقامات پر پائی جانے والی اس دور کی قبریں اور مساجد ہیں۔ مثال کے طور پر بہرائچ میں سید سالار کی قبر، بدایوں میں میران ملحم کی قبر، بلگرام میں خواجہ مجدالدین کی قبر، اناؤ (آسیوان) میں گنج شہیداں مانیر (Maner) میں امام تقی فقیہ کی قبر اور علی گڑھ میں محمود غزنوی کی تعمیر کردہ کالی مسجد وغیرہ۔ آثار قدیمہ کے ماہرین بیان کرتے ہیں کہ:
''یہ تمام قبریں جو یوپی، بہار، بنگال اور سندھ او رپنجاب وغیرہ کے مختلف علاقوں میں پائی جاتی ہیں محمد غوری کے ہندوستان پر حملے سے قبل کی ہیں۔''

ایک ہندو مؤرخ آر ایس ترپاٹھی "The History of Qannouj"(تاریخ قنوج)میں لکھتا ہے:
''جدید مؤرخین نے ثابت کردکھایا ہے کہ مسلمانوں کی بستیاں قنوج میں ترک کی فتوحات سے قبل بھی موجود تھیں۔''

ہندوستان پر محمد بن قاسم، سبگتگین، محمود غزنوی او رمحمد غوری کے حملوں کے بعد یعنی 1206ء تا 1526ء دہلی کے تخت پر پہلے کچھ ترکی النسل غلام حکمران رہے، بعد ازاں کچھ افغان خاندان (خلجی اور لودھی وغیرہ) پھر 1526ء تا 1857ء مغل بادشاہوں کا دور حکومت رہا لیکن افسوس کہ ان حکمرانوں میں سے (الا ماشاء اللہ) اکثر نے توسیع و اشاعت اسلام کا مقدس فریضہ کماحقہ انجام نہیں دیا۔ انہیں تو فقط کشور کشائی، اپنے اقتدار اور عیش طلبی سے غرض تھی۔ ورنہ اللہ عزوجل نے مسلمانوں کو ہندوستان پر حکومت کرنےکی تقریباً آٹھ صدیوں کو جو طویل مہلت عطا کی تھی وہ پورے ہندوستان کو مسلمان بنا لینے کے لئے کسی طرح بھی ناکافی نہ تھی۔ تاریخ کے اسباق بتاتے ہیں کہ جب یہودیوں کوبخت نصر نے اپنا غلام بنا کر رکھا تو صرف (80) سال کے مختصر عرصہ میں وہ اپنی اور اپنے مذہب کی ہر شناخت فراموش کرچکے تھے۔ تو پھر کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ ہندوستان میں ہندو مت آٹھ سو سال بعد بھی نہ صرف زندہ بلکہ تندرست و توانا باقی رہا؟

ہندوستان میں اسلام کے فروغ کو جہاں ویدانتی تصوف و فلسفہ وغیرہ کی یلغار اور ارباب اقتدار کی بے حسی سے نقصان پہنچا وہیں ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ غلام اور افغان خاندانوں کے اکثر درباری اور سپاہی علاقہ ، ماورا ء النہر سے تعلق رکھتے تھے جہاں پہلے ہی سے ایک طرف دینی مدارس میں حنفی فقہ، اشعری و ماتریدی عقائد، یونانی فلسفہ و منطق اور ان سب کے معجون مرکب علم کلام کا دور دورہ تھا تو دوسری طرف خانقاہوں میں وحدت والوجو، وحدت الشہور اور حلول وغیرہ کا سکہ رائج تھا۔ لہٰذا غلام اور افغان خاندانوں کے ادوار حکمرانی میں ہندوستان میں اشاعت اسلام کی بنیاد قرآن و حدیث کی تدریس و تعلیم کو بدل کر شدید حنفیت اور وجودی تصوف کے ستونوں پر استوار کی گئی۔ پھر اوائل عہد مغلیہ میں ایران سے سرکاری و غیر سرکاری سطح پر شیعیت کی درآمد کے ساتھ ہندوستان میں گویا مشرکانہ عقائد و خیالات، بدعات و رسومات کا ایک ناپید کنار سیلاب اُمد آیا او رمسلمان رفتہ رفتہ اپنی باقی ماندہ اسلامی روایات و اقدار بھی کھونے لگے۔

مغل بادشاہ اکبر کے دور حکومت میں تو ہندوستان میں اسلام پر انتہائی غربت اور شدید بے کسی او رکسمپرسی کی حالت طاری ہوگئی تھی۔ اس کے جاری کردہ ''دین الٰہی'' (دین گمراہی) نے دین محمدی کی کامل بیخ کنی کرنے او راسے سرزمین ہند سے ملک بدر کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا تھا۔ ابوریحان البیرونی کے بعد جلال الدین محمد اکبر ہی وہ شہنشاہ گزرا ہے جس نے ہندوؤں کی مقدس کتاب مہابھارت، رامائن او راسی نوع کی دوسری سنسکرت کتابوں کا اپنی سرکاری زبان یعنی فارسی میں ترجمہ کروایا۔ اس کے بعد ایک دوسرے مغل بادشاہ داراشکوہ نے ہندوانہ تصوف سے مسلمانان ہند کو مزید قریب کرنے کے لئے بنارس کے ہندو پنڈتوں کی مدد سے اپنشدوں کا فارسی ترجمہ کروایا اور اس کا نام ''سراکبر'' رکھا وہ خود اس کے مقدمہ میں لکھتا ہے کہ ''قرآن کریم میں جس ''کتاب مکنون'' کا ذکر آیا ہے وہ اپنشد ہی ہیں۔ اس نے یوگ بششٹ کا فارسی ترجمہ ''منہاج السالکین'' کے نام سے کروایا۔ ان کتابوں میں وحدت الوجود کا فلسفہ پوری شدومد کے ساتھ بیان کیا گیا ہے علامہ اقبال نے اکبر اور داراشکوہ کے الحاد کو اشعار کی صورت میں یوں بیان کیا ہے۔ ع

تخم الحاد کہ اکبر پرورید ................ باز اندر فطرت دارا و مید
شمع دل در سینہ ہاروشن نبود................ ملت ما از فساد ایمن نہ بود
(رموز بےخودی)

ایک طرف ہندوستان میں کفر والحاد کا یہ عالم تھا تو دوسری طرف شیعت، باطنیت اور تصوف کے خانوادوں نے بھی اسلام کی بیخ کنی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی۔ یہ تمام صوفیاء وحدة الوجود، وحدة الشہود اور حلول کے علمبردار تھے۔ ان کی مجلسوں میں قال اللہ و قال الرسول کے درس کے بجائے فقروزہد، توکل و مجاہدہ، کشف و کرامات، جذب و مستی، کیف و سرور، وجد و رقص، ذکر و مراقبہ، تزکیہ نفس و مشاہدہ حق، وصل و ہجر، سکرو صحو، سماع و قولی، ولایت و قطیت، اوراد اور تصور شیخ، فنا فی اللہ اور فنا فی الشیخ وغیرہ کی گونجیں سنائی دیتی رہیں۔ ان صوفیاء نے کہیں توکل کی غلط تعلیم دی تو کہیں تدبیر و تقدیر کے مسائل میں الجھا کر مسلمانوں کو تقدیر پر شاکر رہنا سکھایا۔ کبھی مجاہدہ و ریاضت کے نام پر ترک دنیا کی تلقین کی تو کبھی رہبانیت کو راہ بتاکر ''لارھبانیة في الإسلام''61 '' إن الرھبانیة لم تکتب علینا''62 اور ''إني لم أومر بالرھبانیة''63 کی کھلے بندوں خلاف ورزی کی گئی۔

پھر اسی پر بس نہیں کیا بلکہ ایمان و عقائد پربھی زبردست ضرب لگائی یہاں تک کہ اسلام جس کی بنیاد توحید پر تھی اس کو اس قدر کھوکھلا کردیا کہ دین کی پوری عمارت ہلکے سے دھکے میں سرنگوں ہوجانے کے قابل ہوکر رہ گئی۔ کہیں مرشد کو پیر کی زندگی میں او رمرنے پر اس کی قبر کو سجدہ کرنے کی تعلیم دی گئی تو کہیں مُرشد سے پیر کے نام کا کلمہ پڑھوایا گیا۔ کہیں نذرونیاز لغیر اللہ کو جائز ہی نہیں بلکہ باعث اجروثواب بتا کر بہ یک کرشمہ دوکار یعنی مسلمانوں کے دین و مال کی بربادی اور داعیان تصوف کی شکم پر ہی کا سامان کیا گیا او رکہیں ''وما أهل به لغير الله''64 کو حلال و طیب بتایا گیا تو کہیں استغاثہ عن المخلوق کو عین اسلامی حکم قرار دیا گیا۔ الغرض تصوف نے ہر ہر طرح خدا پرست مسلمانوں کو مخلوق پرست انسان بنا کر دائرہ شرک میں داخل کردیا۔

یہ تصوف کیا ہے؟ اور اسلام سے اس کا کیا ربط و تعلق ہے؟ یہ ایک الگ بحث ہے اس بارے میں راقم گاہے بگاہے اپنے سابقہ مضامین میں ضمناً لکھتا رہا ہے علامہ اقبال کے الفاظ میں مختصراً اس کو یوں سمجھا جاسکتا ہے۔

''میرے نزدیک تصوف وجودی مذہب اسلام کا کوئی جزو نہیں بلکہ مذہب اسلام کے خلاف ہے او ریہ تعلیم غیر مسلم اقوام سے مسلمانوں میں آئی ہے۔'65 اور
''اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ تصوف کا وجود ہی سرزمین اسلام میں ایک اجنبی پودا ہے جس نے عجمیوں کی دماغی آب و ہوا میں پرورش پائی ہے۔''66

صوفیاء پر شیطان نے کس کس طرح غلبہ پایا ہے اس کا مفصل ذکر علامہ ابوالفرج ابن الجوزی حنبلی بغدادی (597ھ) نے اپنی مشہور کتاب ''تلبیس ابلیس'' میں کیا ہے۔67 جس کا اُردو ترجمہ راقم کے پرنانا عبدالحق املوی (اعظم گڑھی) نے ''تجنیس تدلیس'' کے نام سے کیا تھا یہ ترجمہ پہلے مطبع فاروقی دہلی سے 1323ھ میں طبع ہوا پھر میر محمد کتب خانہ کراچی سے متعدد بار طبع ہوکر اہل علم طبقہ میں مقبول ہوچکا ہے۔

ایک انگریز مصنف لوتھراپ اسٹاڈرڈ(Lothrap Staderd) ہندوستان میں تصوف کی حشر سامانیوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے:
''دیگر تمدنی امور کی طرح مذہب کی حالت بھی بے حد پستی میں تھی تصوف کے توہمات نے اسلامی تعلیم توحید کو بُری طرح مات دے دی تھی، مساجد ویران پڑی تھیں، جاہل عوام ان سے دور بھاگتے تھے۔ تعویذ گنڈے او رمالا کے چکر میں پڑ کر او ربے ہودہ او رنیم دیوانے فقیروں سےبھلائی پہنچانے کی امید میں اعتقاد رکھتے تھے۔ بڑے بڑے گنبد والی قبروں پر زیارت کے لیے جاتے تھے او ران کی پرستش اللہ تعالیٰ کے پاس سفارش کرنے والے تصور کرکے کرتے تھے۔ ان جاہلوں کا خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ کی بزرگی و برتری کے باعث اس کی بارگاہ میں بلا واسطہ و ذریعہ کے کوئی دعا قبول ہو ہی نہیں سکتی۔ قرآن شریف کی تعلیم سے نہ صرف یہی کہ بے اعتنائی برتی جاتی تھی بلکہ اس کی خلاف ورزی کھلے بندوں کی جاتی تھی۔ شراب نوشی اور افیون کا استعمال آزادانہ ہوتا تھا۔ زنا اور فواحش شرمناک حد تک ترقی کرگئے تھے................الخ''68

واقعہ یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کو دینی تعلیمات سےد ور کرکے محو خواب کرنے کے لیے تصوف بہترین نسخہ ثابت ہوا۔ اس کی افیونی تاثیر سے تقریباً پوری قوم بہت جلد گراں خوابی میں مبتلا ہوگئی جس نے نتیجتاً ان کے ذوق عمل کو قطعاً برباد کرکے چھوڑا۔ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب، جو خود بھی تصوف سے حد درجہ متاثر بلکہ اس کے مداح ہیں، اس امر کی شہادت ان الفاظ میں دیتے ہیں۔

''ان تمام سلاسل میں وحدت الوجود کو گویا اصول موضوعہ کی حیثیت حاصل تھی اور اس کے زیر اثر کیف و سرور، جذب و مستی اور وجد و رقص کا ذوق و شوق بڑھ رہا تھا اور فنا فی اللہ کو شغل و سلوک کے منتہائے مقصود کی حیثیت حاصل ہورہی تھی جس کے باعث قویٰ مضمحل ہورہے تھے او رجذبہ جہاد تو دور رہا جذبہ عمل بھی سرد پڑتا جارہا تھا۔''69

یہ تھیں وہ تمام دینی خدمات، جو صوفیاء نے ہندوستان میں اپنے ورود غیر مسعود و غیر مشکور کے بعد انجام دی تھیں۔ جماعت حز ب اللہ پاکستان کے مؤسس جناب ڈاکٹر مسعود الدین مرحوم نے کیا ہی عمدہ اور مبنی برصداقت بات کہی ہے۔70

''آج جو دین اسلام کے نام سے اس دنیا (برصغیر) میں پایا جاتا ہے وہ انہیں حضرات کا ایجاد کردہ ہے، قرآن و حدیث کے دین سے بالکل الگ، یکسر ممتاز، دین بندگی کے بجائے دین خدائی۔''

پروفیسر آرنلڈ سے تو ہمیں شکایت نہیں لیکن نہ معلوم مولانا مودودی مرحوم نے کس طرح ہندوستان میں اشاعت اسلام کی کوششوں کا سہرا صوفیاء کی جماعت کے سر ڈالنے کی کوشش کی ہے؟ مولانا کے جملے پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یا تو ان کے اندر پوشیدہ ان کی آبائی مودودیت کی رگ حمیت پھڑک اُٹھی تھی یا پھر مولانا نے نہ ہندوستانی اسلامی تاریخ کا بغور مطالعہ کیا تھا او رنہ ہی کبھی تصوف کو سمجھنے کی کوشش کی تھی۔ واللہ اعلم ۔

عموماً بیان کیا جاتا ہے کہ ہندوستان میں تصوف ساتویں صدی ہجری میں خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے ذریعہ آیا تھا جیسا کہ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کے مندرجہ ذیل اقتباس سے مترشح ہے۔

''تصوف کے خانوادوں میں سے ارض ہند پر سب سے پہلے چشتی سلسلے نے قدم جمائے او رکم و بیش دو صوبوں تک خواجگان چشت ہی کا طوطی بولتا رہا۔ جیسے ہی اس سلسلے میں قدرے ضعف کے آثار پیدا ہوئے وسطی اور جنوبی ہند میں سہروردیہ اور شطاریہ سلسلوں کو فروغ حاصل ہوا اور شمالی مغرب میں خصوصاً موجودہ پاکستان کے وسطی علاقوں میں قادریہ سلسلے نے عروج پایا۔''71

لیکن یہ عام خیال ہندوستان میں تصوف کی آمد کی تاریخ سے لا علمی پر مبنی ہے کیونکہ ہندوستان میں سب سے پہلے صوفی سید سالار مسعود (م 424ھ) تھے جس کا مدفن بھڑائچ میں ہے، ان کے بعد علی ہجویری المعروف بداتا گنج بخش لاہوری (م465ھ) ہندوستان کے مشہور صوفی ہوئے۔ ''کشف المحجوب'' آپ کی مشہور تصنیف ہے۔ ان دو حضرات کے بعد تقریباً ڈیڑھ سو سا لتک کوئی معروف صوفی ہمیں نظر نہیں آتا۔ پھر پیر مکی سید عزیز الدین (م612ھ) کا دور آتا ہے جن کا مدفن لاہور میں ہے۔ ان کے بعد کہیں خواجہ معین الدین چشتی (م633ھ) کا دور آتا ہے گنج االاسرار، حدیث المعارف، دیوان خواجہ اور انیس الارواح، ملفوظات خواجہ عثمان ہارونی آپ کی مشہور تصانیف ہیں۔ ان کے بعد خواجہ قطب الدین بختیارکاکی (634ھ) کا نمبر آتا ہے پھر اس چشمہ تصوف سے سیراب ہوکربے شمار صوفی آب و گیاہ کی طرح جگہ جگہ اُگ آئے۔

مثال کے طور پر حمیدالدین ناگوری (م651ھ، مرشد شہاب الدین سہروردی)، جلال الدین تبریزی (م 642ھ، خلیفہ شہاب الدین سہروردی، مدفن :بنگال) ، لعل شہباز قلندر (م650ھ، خلیفہ بہاؤالدین زکریا ملتانی ،مدفن سیہون)، بہاؤ الدین زکریا ملتانی (م666ھ، مدفن :ملتان)، فریدالدین گنج شکر (م570ھ، صاحب فوائد السالکین ملفوظات بختیار کاکی، مدفن :پاک پتن،ضلع ساہیوال)، صدر الدین عارف (م684ھ، صاحب کنوزالفوائد، مدفن: ملتان)، علاؤ الدین صابر 0م 690ھ،خلیفہ بابا فرید الدین گنج شکر مدفن: کلیر)، شرف الدین بوعلی قلندر (م 724ھ، خلیفہ بختیار کاکی، مدفن : پانی پت)، نظام الدین اولیاء (م725ھ مدفن : دہلی)، سید شرف الدین بلبل شاہ (م727ھ، مدفن : سری نگر)، ابوالفتح رکن الدین (م735ھ مرشد جہانیاں جہاں گشت، مدفن :ملتان)، امیرحسن بن علاء سنجری دہلوی المعروف بخواجہ حسن دہلوی (م736ھ)، حمید الدین ابوحاکم ہنکاری (م737ھ مرید شہاب الدین سہروردی و بہاء الدین زکریا ملتانی، مدن: اُچ)، برھان الدین غریب (م738، حلیف خواجہ نظام الدین، صاحب حصول الوصول، ہدایت القلوب، نفائس الانفاس ، مدفن:دکن)، ابوالحسن امیرخسرو (م1325ء مرید نظام الدین اولیاء)، نصر الدین محمود چراغ دہلوی (م 757ھ، مرید نظام الدین اولیاء، مدفن :دہلی)، شمس الدین اسماعیل (م757ھ، مدفن : اُچ، ضلع بہاولپور)، سید تاج الدین سمنانی جو 760ھ میں کشمیر آئے تھے، سید حسین سمنانی جو 773 میں کشمیر ائے، جلال الدین مخدوم جہانیاں جہاں گشت (م785ھ صاحب خزانہ جلالی، سراج الہدایہ، جامع العلوم، مدفن: اُچ)، امیرکبیر سید علی ہمدانی جو 785 ھ میں کشمیر کے دورہ پر آئے تھے شاہ جلال یمنی (م786ھ مدفن :سلہٹ آسام)، سید علی ہمدانی (م791ھ مدفن :کشمیر) گیسو دراز (م825ھ خلیفہ چراغ دہلوی، صاحب حواشی کشاف، شرح مشارق ، خطائر القدس، شرح فصوص الحکم لابن عربی، اسماء الاسرار، مدفن: گلبرگہ)، شاہ مدار(م850ھ ، شاہ مینا لکھنؤی (م870ھ)، عبدالقدوس گنگوہی (م945ھ صاحب شرح عوارف، محشی فصوص الحکم، رسالہ قدسیہ، غرائب الفوائد، رشد نامہ، مظہر عجائب، مدفن: سہارنپور)، داؤد کرمانی (م982ھ، مولد: ملتان مدفن: ساہیوال)، صفی الدین حقانی (م1007ھ مرید ابواسحاق گارزونی، مدفن: اُچ)، خواجہ باقی اللہ دہلوی (م1012ھ مرید شیخ احمد سرہندی)، میاں میرلاہوری (م1020ھ مدفن، لاہور)، شاہ حسین (م1599ھ مدفن: لاہور تعلق از فرقہ ملامیتہ)، خیرالدین شیخ ابوالمعالی قادری (م1024ھ صاحب دیوان غربتی، تحفہ القادری، گلدستہ باغ ارم، رسالہ مونس جان، زعفران زار، مدفن : لاہور)، شیخ احمد سرہندی المعروف بہ مجدد الف ثانی (م1034ھ صاحب مکتوبات ربانی و رسالہ در رد روافض)، شاہ عبدالحق دہلوی (م1052ھ)،ابوعبداللہ سعد معز الدین المعروف بہ آدم بنوری سرہندی (م1643ء خلیفہ مجدد الف ثانی )، شاہ دولہ (م1075ھ مدفن:گجرات)، محمد سعید سرمد (م1658ء صوفی شاعر)، شاہ ابوالرضا محمد (م1100ھ)، شاہ لطیف بھٹائی (1115ھ) ، سلطان باہو (م1690ء پنجاب صوفی شاعر، صاحب ابیات باہو ،مد فن: شورکوٹ جھنگ) ، شاہ عبدالرحیم دہلوی (م1131ھ)، محمد غوث گوالیاری (م1153ھ صاحب رسالہ غوثیہ مدفن لاہور)، سیداحمد سلطان سخی سرور(م1174ھ خلیفہ شاہ مودود چشتی ، مدفن شاہکوٹ ڈیرہ غازی خان)، شاہ ولی اللہ دہلوی (م1176ھ)، بلھے شاہ قصوری (م1758ء )فرید الدین عطار (م1229ھ آپ نے ہندوستان کا سفر بھی کیا تھا)، عبدالوھاب سچل سرمست (م1828ء، سندھ صوفی شاعر صاحب دیوان آشکارا، رہبر نامہ، راز نامہ، قتل نامہ، مرغ نامہ وصیت نامہ)، اسحاق گارزونی سہروردی لاہوری(م1284ھ)، امداد اللہ مہاجر مکی (م1899ء صاحب جہاد اکبر، مثنوی، تحفة العشاق، ارشاد مرشد ، وحد ت الوجود، فصیلہ ہفت مسئلہ، گلزار معرفت، مرقومات امدادیہ، مکتوبات امدادیہ، درنامہ غضبناک، ضیاء القلوب)، خواجہ غلام فرید (م1901ء پنجابی صوفی شاعر، مدفن مٹھن کوٹ)، اشرف علی تھانوی (م1943ء صاحب عرفان حافظ وغیرہ)، شمس الدین نور بخشی جو 1496ء میں کشمیر آئے، میاں شیرمحمد شرقپوری نقشبندی (م1928ء مدفن شیخوپورہ)، وارث علی شاہ (م1904ء مولد دیوہ شریف ضلع بارہ بنکی)، عبدالرحمٰن بابا (م1706ء پشتو صوفی شاعر، مدفن ہزار خوانی)، عبدالجلیل چوہڑشاہ بندگی سہروردی (م1504ء مدفن: لاہور)، صدر الدین پرسچین شاہ (1320ء میں کشمیر آئے تھے)، احمد رضا خاں بریلوی، قاسم نانوتوری دیوبندی، شاہ علی حیدر، عبداللہ شطاری، ملا شاہ بدخشی، سلیم چشتی (مدفن آگرہ) ،محمد علی رضا، شمس الدین سبزواری ثم ملتانی، صدر الدین اسماعیلی (مدفن :اُچ)، تاج الدین بابا (مدفن ناگپور)، شاہ لطیف بری (مولد جہلم)، فخرالدین زنجانی (پیر سعد الدین حموی مدفن:لاہور)، سیدکبیر الدین حسن سہروردی (مدفن: اُچ)، موسیٰ آہنگر سہروردی (مرید بہاء الدین زکریا ملتانی، مدفن لاہور)،شاہ جمال سہروردی، سید شاہ محمد سہروردی (فرزند مخدوم جہانیاں جہاں گشت، مدفن اُچ)، سید راجو قتال بخاری (خلیفہ و برادر مخدوم جہانیاں جہاں گشت، مدفن : اُچ) او ران کے علاوہ بہت سے صوفیاء یکے بعد دیگر ہندوستان میں پیدا ہوتے رہے جن کے مزارات حیدر آباد، دکن، گلبرگہ، اورنگ آباد، بریلی، دیوہ، کچھوچھ، بدایوں، ماہریرہ، بمبئی، ردولی، جلال پور، پیروالا، سیہوان، درازہ، حجرہ شاہ مقیم، بھٹ شاہ او رٹھٹھہ وغیرہ مقامات پر موجود ہیں مگر یہ ان تمام کی تفصیل کا موقع نہیں ہے۔

مختصر یہ کہ تصوف کی بھول بھلیوں میں صدیاں بیت گئیں۔ تمام اقوام عالم بیدار ہوتی رہیں لیکن عام ہندوستانی مسلمان تصوف کے افیونی نشہ کے زیر اثر محو استراحت ہی رہا۔ مگر ہندوستان میں صوفیا کے اس غلبہ سے ہمارا یہ قطعی مقصد نہیں ہے کہ اہل حق موجود نہ رہے ہوں، سرے سے ہی معدوم ہوگئے ہوں بلکہ ہمارا مقصد فقط یہ ہے کہ تصوف کی آمد سے عوام کا رجحان علوم شریعت کی طرف سے ہٹ کر تصوف اور سلوک کی جانب منتقل ہوگیاتھا۔ اگرچہ اس پرآشوب دور میں بھی علمائے حدیث و قرآن مسلسل پیدا ہوتے رہے لیکن ان کی تعداد بہت کم اور حلقہ درس بہت محدود تھا نتیجتاً اشاعت اسلام کا دائرہ جو کبھی وسعت پذیر تھا تنگ سے تنگ تر ہوتا چلا گیا۔ اس پستی کے دور میں تصوف کو پھلنے پھولنے کا خوب موقع ملا لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوستان میں تصوف بہت جلد دین اسلام کے متوازی ایک دوسرے دین کی حیثیت سے کھڑا تھا او راسلام کے مدمقابل بہت حد تک تندرست و توانا بھی تھا۔

اوپر ہم بیان کرچکے ہیں کہ اس پُرفتن دور میں بھی بعض سعید روحیں ہندوستان کے مختلف گوشوں میں پیدا ہوتی رہی ہیں ذیل میں ہم انہی سعید روحوں میں سے چند کا تذکرہ کریں گے۔

چھٹی صدی ہجری (یعنی 577ھ) میں ایک بزرگ علامہ رضی الدین ابوالفضائل الحسن بن محمد بن الحسن بن حیدر بن علی القرشی العدوی العمری الصفانی الحنفی بمقام لاہور پیدا ہوئے۔ آپ نے ہندوستان کے علمائے وقت کے علاوہ علمائے یمن و عرب کے سامنے بھی زانوائے تلمذ تہہ کیا تھا۔ آپ کثیر التصانیف تھے آپ کی مطبوعہ تصانیف میں مشارق الانوار النبویہ من صحاح الاخبار المصطفویتہ، الاضداد یفعول، العباب الزاخرد اللباب الفاخر اور موضوعات الصفانی، اور غیر مطبوعہ تصانیف میں مجمع البحرین التکملہ لصحاح الجوھری، اسامی شیوخ البخاری، الشوارد فی اللغات، شرح القلادة السمطیہ فی توشیخ الدریدیتہ، شرح صحیح البخاری، شرح ابیات المفصل، کتاب فعل علی وزن حزام او قطام، کتاب الترکیبہ، کتاب درالسحابہ فی مواضع وفیات الصحابہ، مختصر الوفیات ماتفرد بہ بعض ائمة اللغہ، فعلان علی وزن سیان ،کتاب الافتعال، الانفعال، کتاب الاصفاد، کتاب العروض، کتاب فی اسماء الاسد، کتاب فی اسماء الذئب، کتاب مصباح الدجی، کتاب الشمس المنیرہ من الصحاح الماثورہ،، کتاب الضعفاء، کتاب الفرائض، کتاب فی اسماء العادة، کتاب فی تعزیر بیتی الحریری، کتاب ذیل العزیزی، کتاب نظم عددآی القرآن، کتاب نقبتہ الصدیان فی علم الحدیث ، الدر الملتقط فی تبیین الغلط و نفی اللغط آپ کے کمال علم پر دلیل ہیں۔ آں﷫ اپنی کتاب ''مشارق الانوار'' کے دیباچہ میں خود تحریر فرماتے ہیں۔72

''یہ کتاب صحت او رمتانت میں میرے اور اللہ کے مابین حجت ہے۔ وہی خوب جانتا ہے کہ میں نے اس کی تالیف میں کس قدر مشقت اٹھائی ہے۔ اس کتاب کی خوبی اور بزرگی ہر شخص دریافت نہیں کرسکتا، اس کو صرف علماء جانتے ہیں اور علماء میں سے صرف وہی عالم جانتے ہیں جن کو علم حدیث میں بڑا ملکہ اور کمال مہارت حاصل ہے۔''

آں﷫ ہی مشارق الانوار کے خطبہ میں اس کی وجہ تصنیف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
''جب زمانہ بگڑا او راہل علم مرکھپ گئے اور کم علم نافہم جن کو صحیح اور ضعیف کے مابین تمیز نہیں، عالم اور پیشوا مشہور ہوئے تو میں نے اس کتاب ''مشارق الانوار'' میں اپنی دو تصانیف مصباح الوجی اور شمس المنیرہ کی صحیح احادیث جمع کیں اور کتاب النجم لاقلیثی و کتاب الشہاب للقضاعی سے بھی جو صحیح روایات ملیں وہ اس میں شامل کیں تاکہ صحیح احادیث مختصر کتاب میں یکجا جمع ہوجائیں۔''73

اس کتاب کی اہمیت، جامعیت اور افادیت ، کااندازہ علامہ گارزونی کے اس قول سے بخوبی ہوتا ہے کہ ''مشارق الانوار ''میں سب احادیث (2246) ہیں۔'' مشارق الانوار کی بہت سی شروح لکھی گئی ہیں جن کی تفصیل دادامرحوم علامہ عبدالرحمٰن مبارکپوری نے ''مقدمہ تحفة الحوذی'' 74 میں درج کی ہے۔

علامہ صغائی کی ایک دوسری کتاب ''الدر الملتقط'' کے متعلق علامہ کتائی بیان کرتے ہیں:
''رضي الدین ابوالفضائل حسن بن محمد بن الحسن بن حیدر العدوی العمری الصغانی جن کو بعض لوگ الصغائیبھی کہتے ہیں، نے اس کتاب میں احادیث موضوعہ جمع کی ہیں اور اس میں ایسی بہت سی احادیث بھی درج کردی ہیں جو موضوع کے درجہ کونہیں پہنچتی ہیں وہ محدثین میں سے ابن الجوذی اور فیروز آبادی صاحب ''سفر السعادة'' وغیرہ کی طرح اس بارے میں بہت متشدد تھے۔''75

علامہ اسماعیل بن محمد العجلونی الجراحی، ابوطاہر محمد بن یعقوب الفیروز آبادی، محمد درویش حوت البیروتی، محمد الشوکانی ، ملا علی القاری او رمحدث العصر علامہ شیخ محمد ناصرالدین الالبانی حفظہ اللہ نے احادیث موضوعہ سے متعلق علامہ صغائی کی تصریحات کوبہت سے مقامات پر قبول کیا ہے۔76 آں ﷫ کا سنہ وفات 650ھ ہے۔

علامہ صغائی کے تفصیلی ترجمہ کے لئے الاعلام لخیر الدین زرکلی، بغیتہ الوعاة فی طبقات النحاة للسیوطی، جواہر المرضیتہ فی طبقات الحنفیہ لعبد القادر قرشی، شذرات الذہب، العبر، العقد الثمین لتقی الدین الفاسی، فوات الوفیات، معجم الادباء، النجوم الزاہرہ لابن تفری بردی، تاریخ التراث العربی لفواد سزکین، الرسالہ المستطرفہ للکتائی، تحفة الاخیار، ابجد العلوم للنواب صدیق حسن خاں اور مقدمہ تحفة الاحوذی للمبارکفوری وغیرہ کی طرف رجوع فرمائیں۔77

علامہ صغائی سے قبل قاضی سعدالدین خلف بن محمدالکروی الحسنا بادی، شیخ نظام الدین، محمد بن الحسن المرغینائی اور شیخ مسعود بن شیبہ بن الحسین ابن السندی عمادالدین (صاحب کتاب التعلیم وغیرہ کا شمار ہندوستان کے مشاہیر علماء میں ہوتا تھا۔78 اوّ ل الذکر و علماء سے علامہ صغائی کو شرف تلمذ حاصل رہا ہے ۔

علامہ صغائی کے بعد شیخ محمود بن محمد سعدالدین دہلوی (م671ھ، صاحب افاضتہ الانوار فی اضاءة اصول المنار ایک معروف عالم دین تھے۔79 ان کے بعد قاضی جلال الدین دہلوی اور علامہ نجم الدین ابوالخیر سعید بن عبداللہ دہلوی (م749ھ) کا دور آتا ہے پھر شمس الدین ابی عبداللہ محمد بن عبدالدائم بن موسیٰ برماوی شافعی (831ھ صاحب الامع الصیح شرح جامع صحیح بخاری)، عبدالاول جونپوری (م928ھ صاحب فیض الباری شرح صحیح البخاری)، شیخ علی مہماومی، شیخ علی المنتقی بن حسام الدین جونپوری (م975ھ صاحب کنز العمال)، شیخ ناگوری، مولانا یداللہ السوہی، شیخ برخورددار السندی، شیخ وجیہ الدین گجراتی (شارح نخبتہ الفکر) اور شیخ محمد بن طاہر بن علی پٹنی گجراتی حنفی ( م 986ھ، صاحب مجمع بحار الانوار فی غرائب التنزیل ولطائف الاخبار، الموضوعہ والرجال الضعفاء) وغیرہ جیسے کبار ائمہ حدیث پیدا ہوئے ان میں سے شیخ محمد بن طاہر بن علی پٹنی گجراتی کے متعلق علامہ عبدالرحمٰن مبارکپوری نے مقدمہ تحفة الاحوذی میں شاہ عبدالحق محدث دہلوی کا یہ قول نقل کیا ہے:

'' میاں محمد طاہر در پٹن گجرات بودہ .......... بحرمین شریفین رفت و مشائخ آں دیار شریف را دریافت تحصیل و تکمیل علم حدیث نمود بالشیخ علی متقی رحمت اللہ علیہ صحبت داشت و مرید شد در علم حدیث توالیف مفیدہ جمع کردہ ازاں جملہ کتابیست کہ متکفل شرح صحاح است مسمی بمجمع البحار و رسالہ دیگر مختصر مسمی بمغنی کہ تصحیح اسماء رجال کردہ بے تعرض بہ بیان احوال بغایت مختصر و مفید و درخطب ہائے این کتب مدح شیخ علی متقی بسیار کردہ''80

اس کے بعد شیخ احمد سرہندی المعروف بہ مجدد الف ثانی (م1034ھ صاحب مکتوبات امام ربانی، در لاثانی، مبداء و معاد، رد روافض) شاہ عبدالحق بن سیف الدین دہلوی (م1052ھ صاحب اللمعات شرح مشکوة بزبان فارسی البیان في أدلة مذهب الإمام أبي حنیفة النعمان، اخبار الاخبار، مدارج النبوة، جذب القلوب)، شیخ عبدالحلیم بن شمس الدین سیالکوٹی (م1067ھ صاحب حواشی شرح المواقف، تفسیر بیضاوی، مقدمات التوضیح والمطول)، شاہ نور الحق بن عبدالحق دہلوی (م1073ھ صاحب تیسیر القاری شرح صحیح البخاری بزبان فارسی، لمعات التنقیح شرح مشکوٰة بزبانعربی، اشعتہ اللمعات شرح مشکوٰة بزبان فارسی، رسالہ اسناد حدیث و اسماء الرجال)، شیخ خازن الرحمت (ابن شیخ احمد سرہندی)، شیخ محمد سعید (محشی مشکوٰة)اور شیخ سلام اللہ (شارح موطا) وغیرہ کا دور آتا ہے۔ یہ وہ دور ہے جس میں خالص علوم شریعت کو اعلیٰ پیمانہ پر فروغ نہ مل سکا۔ اگر اس دور میں کسی چیز کی تبلیغ و اشاعت بڑے پیمانے پر ہوئی تو وہ یا تو تصوف تھا یا پھر تصوف و شریعت دونوں کا معجون مرکب................. اس دور کی ایک نامور شخصیت شیخ احمد سرہندی کے متعلق نواب صدیق حسن خاں قنوجی ثم بھوپالی ''ابجد العلوم'' میں فرماتے ہیں: ''قد کان من کبراء المحدثین بالھند'' یعنی ہندوستان کے اکابر محدثین میں سے تھے۔ اسی طرح ڈاکٹر اسرار احمد صاحب مجدد الف ثانی کی مدح میں بیان کرتے ہیں:
''حضرت مجدد کی تجدیدی مساعی کا اصل رخ تصحیح عقائد، رد بدعات، التزام شریعت اور اتباع سنت کی جانب تھا او راس ضمن میں انہوں نے رائج الوقت علمی و نظری او راخلاقی و عملی ہر نوع کی گمراہیوں اور ضلالتوں پربھرپور تنقید کی۔ چنانچہ تردید شیعیت پر بھی نہ صرف یہ کہ ان کے مکاتیب میں بہت زور ہے بلکہ ''رد روافض'' کے عنوان سے مستقل رسالہ بھی انہوں نے تحریر فرمایا۔''81

علامہ اقبال بھی حضرت مجدد الف ثانی کی شان میں فرماتے ہیں: ع


حاضر ہوا میں شیخ مجددکی لحد پر ............ وہ خاک کہ ہے زیر فلک مطلع انوار
گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے............ جس کے نفس کرم سے ہے گرمئی احرار
وہ ہند میں سرمایہ ملت کا نگہبان ............اللہ نےبروقت کیا جس کو خبردار

لیکن حقیقت یہ ہے کہ شیخ احمد سرہندی، جنہیں نواب صدیق حسن خاں بھوپالی نے ہندوستان کے اکبر محدثین میں شمار کیا ہے اصلاً ایک صوفی منش آدمی تھے۔ فلسفہ ''وحدة الوجود'' کے مقابلے میں نظریہ ''وحدة الشہود'' کی تدوین و ترویج صوفیاء کے نزدیک ان کا بڑا اہم کارنامہ تھا۔ اس کے ساتھ ہی ان کی شدید مقلدانہ روش انہیں شان محدثیت سےبہت فروتر لاکھڑا کرتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ ان کے مکاتیب میں رد بدعات، تصحیح عقائد اور رد روافض پر بھی کافی زور نظر آتا ہے، لیکن چونکہ اس دور میں تصوف اور شریعت کے مرکب کو ہی اصل اسلام سمجھا جانے لگا تھا لہٰذا مجدد الف ثانی بھی اپنے آپ کو تصوف کی نظریاتی یلغار سے محفوظ نہ رکھ سکے تھے۔ جن لوگوں نے آپ کے مکاتیب اور مبداء و معاد کو بغور دیکھا اور پڑھا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ان میں متصوفانہ نظریات کی آمیزش کس قدر ہے۔ نظریہ ''وحدة الشہود'' کی ترویج و اشاعت کے لیے آپ نے جو کام کیا ہے اس کے پیش نظر ہی راقم نے ان کو صوفیاء کی فہرست میں شمار کیا ہے۔ شیخ احمد سرہندی کی مقلدانہ شدت کے متعلق ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی یہ شہادت ہدیہ قارئین ہےؓ
''بایں ہمہ حضرت مجدد کے یہاں بھی حنفیت میں غلو اسی شدت کےساتھ موجود ہے جو مسلم انڈیا کی پوری تاریخ کا جزو لاینفک ہے۔''82

اسی دور کی ایک اہم شخصیت شیخ عبدالحق محدث دہلوی کے متعلق عام طور پر مشہو رہے کہ سرزمین ہند میں علم حدیث نبویؐ کا پودا لگانے کی خدمت حضرت محدث نے سرانجام دی تھی۔ چنانچہ مسلک اہلحدیث کے سرخیل نواب صدیق حسن خاں بھوپالی فرماتے ہیں:
''یہ جان لو کہ جن مسلمانوں نے ہندوستان کو فتح کیا اس وقت یہاں علم حدیث موجود نہ تھا بلکہ کبریت احمر کی طرح پردیسی اور عنقا کی طرح ناپید تھا۔ اکثر مسلمان علوم قرآن و سنت کے ساتھ اعراض و تغافل برتتے اور قدیم زمانہ کے فنون و فلسفہ نیز حکمت یونان کو فروغ دیتے تھے البتہ کچھ فقہ کا درس دینے والے ضرور موجود تھے، چنانچہ اس دور تک آپ ان کو علوم شریفہ سے قطعاً عاری پائیں گے آج بھی ان کا زیور تحقیق کے بجائے تقلید کے طریقہ پر یہی فقہ حنفی ہے، الا ماشاء اللہ تعالیٰ۔ اسی باعث یہ فقہی تقلید ایک نسل کے بعد اگلی نسلوں تک وراثت کے طور پر منتقل ہوتی رہی اور فتاویٰ و روایات کی بہتات ہوگئی، جن پر تقلیدی اعتبار سے محکم نصوص کو چھوڑتے ہوئے عمل کیا جاتا تھا۔ سید البریاتؐ کی سنن پردیسی ہوگئی تھیں۔ تعلیم فقہ کو حدیث کے اوپر ترجیح دی گئی او رمجتہدات ک تطبیق سنن کے ساتھ کی جانے لگی اور اس پر ایک زمانہ بیت گیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس علم کو فروغ دینے کے لیے شیخ عبدالحق بن سیف الدین الترک الدھلوی (م1052ھ) وغیرہ کو مفوض کیا گیا۔ آپ وہ پہلے شخص تھے جواس علاقہ میں آئے او راپنے مکان کو اچھی طرح مسند درس بنایا۔ ان کے بعد ان کے بیٹے شیخ نو رالحق (م1073ھ) کو ان کے کچھ تلامذہ.......... پھر ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے شیخ الاجل، محدث الاکمل، ناطق و حکیم وقت، اس طبقہ کے افق و زعیم شیخ ولی اللہ بن عبدالرحیم الدھلوی (م1176ھ) کو بھیجا۔ پھر ان کی اولاد اور اولاد کی اولاد کو اس علم کی نشرواشاعت کے لیے مقرر فرمایا جن کے ذریعہ دور بھگایا ہوا علم حدیث مرغوب چیز بن کر لوٹا او راللہ تعالیٰ نے ان کے علوم سے بہت سے مومنوں کو نفع بخشا۔ شرک و بدعات اور دین میں محدثات الامور کے فتنوں کی تردید میں ان کی مساعی کو مشکور فرمایا پھر ان سے مستفید ہونے والے علماء نے علم سنت کو دوسرے علوم پر ترجیح دینا شروع کیا اور فقہ کو اس کا تابع و محکوم بنا دیا۔''83

ڈاکٹر اسرار احمد صاحب بھی شاہ عبدالحق محدث دہلوی کی دینی خدمات کے سلسلہ میں نواب صاحب کے ہم خیال نظر آتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
''اور واقعہ یہ ہے کہ یہی حضرت محدث کی اصل خدمت(Contribution) ہے کہ انہوں نے علم حدیث کا پودا سرزمین ہند میں لگایا اور حدیث رسولؐ کی باقاعدہ درس و تدریس کا بھی آغاز کیا او راس کے متعلق تصنیف و تالیف کا بھی۔''84

یہ سب کچھ درست ہے کہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی نے ہندوستان میں کئی صدیوں بعد علم حدیث کی باقاعدہ تعلیم و تدریس اور اس سلسلہ میں تصنیفات کی داغ بیل ڈالی تھی مگر اس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آں  مجتہد نہیں بلکہ ایک مقلد اور صوفی بزرگ تھے۔ ''التبیان في أدلة مذهب الإمام أبي حنیفة النعمان'' آپ کی مقلدانہ ذہنیت کی عکاس اور ''مدارج النبوة'' نیز ''اخبار الاخیار'' آپ کے متصوفانہ افکار کی شاہکار تصانیف ہیں۔ آپ کے صوفی اور مقلد ہونے کا اعتراف ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے ان الفاظ میں کیا ہے:
''چنانچہ وہ صوفی بھی تھے اور خواجہ باقی اللہ کے مرید بھی لیکن اس کے باوجود کہ انہیں بھی وحدت الوجود سے بعد تھا (مگر) وہ اس کی تردید میں اس درجہ سرگرم نظر نہیں آتے، اسی طرح وہ حنفی بھی تھے لیکن متشدد نہیں بلکہ فقہ حنفی کا رشتہ حدیث رسولؐ کے ساتھ جوڑنے کی سعی اوّلاً انہی سے شروع ہوئی۔''85

بارہویں صدی ہجری میں شاہ عبدالرحیم (م1131ھ، والد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی) ایک بلند پایہ صوفی تھے۔ علامہ نور الدین ابوالحسن محمد بن عبدالھادی السندی (م1139ھ صاحب حواشی علی البیضاوی و مسند احمد و صحیح البخاری و صحیح المسلم و سنن النسائی، و سنن ابن ماجہ، و جامع الترمذی، و فتح القدیر والجلالین والاذکار نبویہ شرح النخبتہ و شرح الھدایہ و کتاب الوجازة فی الاجازة لکتب الحدیث)، شیخ محمد ابوالطیب السندی (م1140ھ، صاحب حواشی علی الاصول السنہ)، شیخ نور الدین احمد آبادی (م1155ھ صاحب نور القاری شرح صحیح البخاری)، شیخ محمد حیات بن ابراہیم السندی (م1163ھ صاحب اعفاء اللحی)، شاہ ولی اللہ دہلوی (م1176ھ صاحب ازالة الخفاء عن خلافتہ الخلفاء ، قرة العینین فی تفضیل الشیخین، حجتہ اللہ البالغہ، فوزالکبیر فی اصول التفسیر، فیوض الحرمین، البلاغ المبین، المسوی شرح موطا بزبان عربی، المصفی شرح موطا بزبان فارسی، عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید، الانصاف فی بیان سبب الاختلاف، فتح الرحمٰن ترجمتہ فی القرآن، قول الجمیل، ہمعاف ، اطیب النعم، چہل حدیث، المقالتہ الوضیتہ فی النصیحہ والوصیة، الجزء اللطیف، الطاف القدس، تفہیمات الہیہ، الخیرالکثیر، شرح تراجم ابواب صحیح البخاری، البدور البازعہ، فتح الخبیر بمالا بدمن حفظہ فی علم التفسیر، تاویل الاحادیث فی رموز قصص الانبیاء، الدرالثمین فی مبشرات النبی الامین، انسان العین فی مشائخ الحرمین، فیصلہ وحدت الوجود والشہود، انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ اور انفاس العارفین)، شیخ ہاشم بن عبدالغفور السندی (صاحب فاکہتہ البستان و ترتیب صحیح البخاری علی ترتیب الصحابہ)، شیخ محمد افضل سیالکوٹی (استاد شاہ ولی اللہ دہلوی)، شیخ محمد معین الدین السندی (م1180ھ تلمیذ شاہ ولی اللہ، صاحب درسات اللبیب فی الاسوة الحسنہ بالحبیب)، شیخ عبداللطیف القرشی السندی (م1189ھ صاحب ذبابات الدراسات عن المذاہب الاربعتہ المتناسبات)، شیخ غلام علی آزاد بلگرامی (م1194ھ صاحب سبحتہ المرجان فی اثار ہندوستان، یدالبیضاء، ماثر الکرام فی تذکرہ علماء بلگرام، ضوء الداری شرح صحیح البخاری) اور شیخ شہاب الدین دولت آبادی (صاحب بحر مواج تفسیر قرآن کریم بزبان فارسی) وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء گزرے ہیں۔

اس بارہویں صدی ہجری میں جو علماء گزرے ہیں ان میں سے اکثر سابقہ دور کی طرح تصوف و شریعت ہی کے مرکب (یعنی تھوڑی توحید اور تھوڑا شرک) کے علمبردار تھے۔ اس پوری صدی میں تنہا شیخ محمد حیات بن ابراہیم السندی کی ذات گرامی ایسی نظر آتی ہے ''جو نہ صرف تصوف کے اثرات سے بہت دور تھی بلکہ مقلدانہ روش بھی ان کا شعارنہ تھا۔86

شاہ ولی اللہ کے والد بزرگوار شاہ عبدالرحیم دہلوی اپنے وقت کے ایک مشہور صوفی تھے ان کی متصوفانہ ہفوات کے مطالعہ کے لیے ان کے گھر کی شہادت ہی یعنی ''انفاس العارفین'' کی طرف مراجعت مفید ہوگی۔

جہاں تک شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا تعلق ہے تو وہ بیک وقت اپنے والد شاہ عبدالرحیم کی طرح اپنے وقت کے ایک بڑے صوفی او رعالم دونوں تھے۔ جن لوگوں کو ان کی متصوفانہ کتب تک رسائی نہیں ہوئی ہے وہ ان حضرات کے متعلق بہت خوش فہم نظر آتے ہیں چنانچہ محی السنہ نواب صدیق حسن خاں قنوجی رئیس بھوپال فرماتے ہیں:
''پھر (شاہ عبدالحق محدث دہلوی او ران کے فرزند کے بعد) اللہ تعالیٰ نے شیخ الاجل، محدث الاکمل، ناطق و حکیم وقت، اس طبقہ کے افق و زعیم شیخ ولی اللہ بن عبدالرحیم الدھلوی (م1176ھ) کوبھیجا۔''87

شارح ترمذی مولانا عبدالرحمٰن مبارکپوری تحریر فرماتے ہیں:
''شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے ہندوستان میں علم حدیث کا پودا لگایا، بعد میں اس پودے نے توانائی اختیار کی اور آس پاس کے بہت سے شہروں اور علاقوں میں اس کی شاخیں پھیل گئیں ان کے علم سے فیضیاب ہوکر ایک ایسی عظیم جماعت تیار ہوئی جو علم دین اور سنت نبویہ کی اشاعت کے لیے اُٹھ کھڑی ہوئی او ران کی کوششوں سے ایک بڑا طبقہ پیدا ہوگیا جو علوم حدیث او راس کی تبلیغ و اشاعت کے لیے جدوجہد کرنے لگا۔''88

اس طرح بعض لوگوں نے شاہ ولی اللہ دہلوی کی ذات کو ''اسلام کی نشاة ثانیہ کے طویل عمل کا اصل نقطہ آغاز'' بنایا ہے۔ لیکن افسوس کہ یہ تمام حضرات یہ بتانا بھول گئے کہ شاہ ولی اللہ صاحب نے تصوف کی جو خدمت انجام دی اس کی شاخیں ہندوستان میں کہاں کہاں پھیلیں او ران سے فیض حاصل کرنے والے کس دین و مذہب کی تبلیغ و اشاعت کے لیے کمر بستہ ہوئے؟ اگر شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی بحیثیت ایک صوفی کے دیکھا جائے تو آپ ''وحدة الوجود'' اور ''وحدة الشہود'' دونوں نظریات کا حامل نظر آتے ہیں۔ درّالثمین، انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ، فیوض الحرمین، تفہیمات الہیہ، فیصلہ وحدت الوجود والشہود اور انفاس العارفین تصوف پر آپ کی گراں مایہ تصانیف تصور کی جاتی ہیں صرف ''انفاس العارفین'' کہ جس میں شاہ ولی اللہ نے اپنے والد گرامی عبدالرحیم کی بزرگی کی الم غلم حکایات کو ملفوظات کی شکل میں بلا تبصرہ و تنقید جمع فرمایا ہے، ہی آپ کو صوفیاء کی اگلی صف میں لاکھڑا کرنے کے لیے کافی ہے۔ واضح رہے کہ ''انفاس العارفین'' شاہ ولی اللہ صاحب کی آخری تصنیف تھی او ربقول علامہ عبید اللہ سندھی صاحب ''یہ شاہ ولی اللہ کے فلسفہ اور تصوف کی روح ہے۔''89

مگر اس کے ساتھ ہی علم حدیث اور تفسیر پر بھی آپ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں چنانچہ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے کام کودو حصوں میں تقسیم سمجھا جائے۔ پہلا حصہ وہ ہے جو تجدید و احیائے دین سے متعلق ہے اور بلا شبہ قابل قدر ہے مگر آپ کے کام کا دوسرا حصہ جو تصوف سے متعلق ہے بلا شبہ قرآن و سنت میں اس کی کوئی گنجائش کم از کم اس کوتاہ نظر کو نظر نہیں آتی۔ واللہ اعلم ۔

نہ معلوم ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی مرحوم کے اس قول میں کس درجہ صداقت ہے:
''اگر ان صوفیاء میں سے کسی نے بھی قرآن و حدیث کا نام لیا ہے تو وہ بھی صر ف اپنے دین اتحاد کی مخصوص اصطلاحات کو صحیح ثابت کرنے کےلیے''90

اس کے بعد آنے والے دور میں شیخ محمد باقر آگاہ (م1220ھ)، قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی (م1225ھ، تلمیذ شاہ ولی اللہ، صاحب تفسیر مظہری، منار الاحکام، السیف المسلول، مالا بدمنہ، ارشاد والطالبین، عبدالعلی بن ملا نظام الدین لکھنؤی (م1225ھ، صاحب فواتح الرحموت بشرح مسلم الثبوت)، شاہ عبدالقادر بن شاہ ولی اللہ دہلوی (م1230ھ ، صاحب تفسیر موضح القرآن)، شاہ رفیع الدین بن شاہ ولی اللہ دہلوی (م1235ھ، صاحب علامات قیامت، راہ نجات، دفع الباطل و معاون موضح القرآن)، احمد حسن دہلوی (م1238ھ)، شاہ عبدالعزیز بن شاہ ولی اللہ دہلوی (م1239ھ) صاحب بستان المحدثین ، العجالتہ النافعہ، تحفة اثنا و عشریہ، تفسیر عزیزی، فتاویٰ عزیزی)، عبدالعزیز فرہادی ہندی (م1241ھ، صاحب کوثر النبی)، عبدالرحیم غزنوی (م1242ھ) شاہ عبدالحئ بڈھانوی (1243ھ)، شاہ اسماعیل شہید ابن عبدالغنی دہلوی (م 1246ھ، تلمیذ شاہ عبدالعزیز دہلوی، صاحب تقویة الایمان، اصول فقہ، عظمت صحابہ و اہل بیت، تنویر العینین فی اثبات رفع الیدین، منصب امامت ، صراط مستقیم، عبقات)، سید احمد شہید (م1246ھ)، فرحت حسین (م1247ھ)، محمد عابد السندی (م1257ھ ، صاحب حصر الشارد، طوالع الانوار علی الدرّ المختار شرح مسند ابی حنیفہ)، ملا اخوند شیر محمد (م1257ھ)، محمد علی رامپوری (1258ھ)، شاہ عبدالخالق دہلوی (م1261ھ)، شاہ محمد اسحاق بن بنت شاہ عبدالعزیز دہلوی (م1262ھ)، اسماعیل مراد آبادی ( استاد بشیر الدین قنوجی)، اوحدالدین بلگرامی (اساد بشیر الدین قنوجی)، محمد حسن بریلوی (استاذ بشیر الدین قنوجی)، ولایت علی صادق پوری (م1269ھ)، نور الاسلام بن سلام اللہ (استاذ بشیر الدین قنوجی)، محمد علی رامپوری (استاد بشیر الدین قنوجی)، مفتی شرف الدین (استاذ بشیر الدین قنوجی)، شاہ نور علی (م1272ھ)، احمد علی چڑیا کوٹی (م1272ھ)، قاضی محمد بشیرالدین قنوجی (1273ھ استاذ سیدامیر حسن، صاحب مذہب ماثور، تبصرة الناقد صیانتہ الناس )، عنایت علی عظیم آبادی (م1273ھ)، ابوعبدالرحمٰن شرف الحق محمد اشرف ڈیانوی (تلمیذ بشیر الدین قنوجی)، سخاوت علی جونپوری (م1273ھ)، سید احمد حسن عرشی (م1277ھ)، قاضی عبیداللہ مدراسی (م1280ھ، صاحب جزء من تفسیر فیض الکریم)، محمد یعقوب) اخوالشیخ محمد اسحاق الدھلوی (م 1282ھ)، مفتی صدر الدین خان آزردہ (م1285ھ، تلمیذ شاہ عبدالعزیز دہلوی) ، عبدالحق محدث بنارسی (م 1286ھ)، فضل الحق خیر آبادی (م1861ھ مدفن انڈمان)، نواب مصطفیٰ خان شیفتہ (م1286ھ)، کرامت علی جونپوری (1290ھ) فضل امام (استاد مفتی صدر الدین آزردہ )، مرزا حسن علی محدث لکھنؤی (تلمیذ شاہ عبدالعسیز )، محمد رحیم الدین بخاری (تلمیذ شاہ عبدالعزیز و شاہ عبدالقادر دہلوی )، نواب قطب الدین (تلمیذ شاہ محمد اسحاق، صاحب مظاہر حق)، ابوسعید عبدالغنی مجددی دہلوی (تلمیذ شاہ محمد اسحاق)، محمد ناصر حازمی (تلمیذ شاہ محمد اسحاق )، فضل الرحمٰن مراد آبادی (تلمیذ شاہ محمد اسحاق)، ابواسحاق لہراوی اعظمی (تلمیذ شاہ عبدالعزیز دہلوی، صاحب نور العینین فی اثبات رفع الدین)، سید امیر حسن سہسوانی (م1291ھ، تلمیذ میاں محمد نذیر حسین دہلوی، صاحب براہین اثناء عشرہ)، غلام رسول (م1291ھ)، الف علی بہاری (م1296ھ)، احمد علی سہارنپوری (م1297ھ، صاحب حل صحیح البخاری)، مولانا محمد قاسم نانوتوی (م1297ھ، مدفن دیوبند)، سید عبداللہ غزنوی (م1298ھ، تلمیذ میاں محمد نذیر حسین دہلوی، صاحب حمائل غزنویہ)، عبدالقیوم بن بنت شاہ عبدالعزیز دہلوی (م1299ھ، تلمیذ شاہ محمد اسحاق دہلوی)، شاہ محمد عاشق پھلہتی، شاہ نور اللہ بڈھانوی ،شیخ جمال الدین، شاہ محمد امین کشمیری، شیخ محمد عیسیٰ، شیخ حسن جان، شاہ عبدالجلیل علی گڑھی، (استاد سید امیر حسن سہسوانی) عبدالحلیم انصاری لکھنؤی (استاد و والد شیخ ابوالحسنات عبدالحئ لکھنؤی)، محمد بن عبداللہ غزنوی (تلمیذ میاں محمد نذیر حسین دہلوی)، شاہ مخصوص اللہ بن شاہ رفیع الدین دہلوی، حسن علی ہاشمی لکھنؤی، عبدالحئ دہلوی، (تلمیذ شاہ عبدالعزیز دہلوی) وغیرہ وسعت علم، تقویٰ و ورع، فضل زہد اور تحقیق و اتقان میں اپنے زمانہ کے امام تھے۔ ان میں سے اکثر علماء کے دلوں میں علم حدیث، اس کی اتباع، ترویج، اشاعت اور تدریس کی محبت رچی بسی تھی مگر ان تمام حضرات میں سب سے زیادہ ممتاز شاہ ولی اللہ کے فرزند شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی شخصیت تھی۔

علامہ مبارکپوری شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کا ذکر خیر فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
''ان سب میں شیخ الاجل، مسند وقت، فقیہ، مفسر ، محدث شاہ عبدالعزیز کو علوم حدیث و قرآن کی نسبت سے امتیازی مقام حاصل تھا۔ سترہ سال کی عمر میں اپنے والد کے انتقال کے بعد انہوں نے تدریس ، افتاء، ارشاد و ہدایت کی ذمہ داری سنبھالی تھی۔ لوگوں نے دین و علوم شرعیہ کی مشکلات کے حل کے لیے انہیں مرجع بنا لیا تھا۔''91

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے بعد ان کے جانشین شاہ محمد اسحاق دہلوی مہاجر مکی کی شخصیت ایک نابغہ روزگار بن کر ابھری۔ آں کے متعلق علامہ عبدالرحمٰن مبارکپوری فرماتے ہیں:
''ان سب میں شاہ محمد اسحاق دہلوی آفاقی حیثیت رکھتے تھے چنانچہ انہوں نے مسند درس سنبھالی۔ ان کے زمانہ میں ریاست حدیث ان پر ختم تھی۔ ان کے علم سے مستفید ہوکر شاگردوں کی ایک بڑی جماعت خارج ہوئی۔''92

اس دور کے ایک اور عبقری عبداللہ بن محمد بن شریف الغزنوی تھے، جن کے متعلق محی السنہ نواب صدیق حسن خاں فرماتے ہیں:
''چرخ اگر ہزار چرخ زند مشکل کہ چنیں ذات جامع کمالات بر روئے ظہور آردہم محدث بود۔''93
ترجمہ: '' آسمان اگر ہزار بار بھی گردش کرے تو مشکل ہے کہ اب ایسی جامع کمالات ہستی معرض وجود میں آئے وہ محدِث و محدَث دونوں تھے۔''

آں  کے متعلق مولانا سید عبدالحئ الحسنی بیان کرتے ہیں:
''الشیخ الإمام العالم المحدث عبداللہ بن محمد بن محمد شریف الغزنوي الشیخ محمد أعظم الزاھد المجاھد، الساعي والمرضاة اللہ، الموثر لرضوانه علی نفسه وأھله و ماله وأوطانه صاحب المقامات الشهرة والمعارف العظیمة الکبیرة''94
ترجمہ: ''حضرت عبداللہ بن محم دبن محمد شریف، غزنوی شیخ تھے، امام تھے، عالم تھے، زاہد تھے، مجاہد تھے، رضائے الٰہی کے حصول میں کوشاں تھے۔ اللہ کی رضا کے لیے اپنی جان ، اپنا گھر بار، اپنا مال، اپنا وطن غرض سب کچھ لٹا دینے والے تھے۔ علماء سوء کے خلاف آپ کے معرکے مشہور ہیں۔''

اور شارح سنن ابوداؤد علامہ شمس الحق عظیم آبادی فرماتے ہیں:
''إنه کان في جمیع أحواله مستفرقاً في ذکر اللہ عزوجل حتی إن لحمه و عظامه و أعصابه و أشعارہ و جمیع بدنه متوجھا إلی اللہ تعالیٰ فنی في ذکرہ عزوجل''
ترجمہ: ''وہ ہر وقت او رہر حال میں اللہ عزوجل کے ذکر میں ڈوبے رہتے تھے حتیٰ کہ ان کا گوشت، ان کی ہڈیاں، ان کے پٹھے، ان کے بال اور تمام بدن اللہ عزوجل کی طرف متوجہ تھا، اللہ کے ذکر میں فنا ہوگئے تھے۔''95

آں کے ان تمام اوصاف حمیدہ کو تسلیم کرنے کے باوجود راقم یہ لکھنے پر مجبور ہے کہ ہمارے بعض علمائے اہلحدیث نے ان سے عقیدت و محبت میں غلو کے باعث یہ لکھ دیا ہے کہ ''آپ کو اللہ عزوجل سے براہ راست ہمکلامی کا شرف حاصل تھا'' فإنا للہ وإنا إلیه راجعون''

اس دور کے بعد محمد یعقوب نانوتوی (م1300ھ)، محمد مظہر نانوتوی(م1302ھ، استاذ حافظ عبدالمنان محدث وزیرآبادی) سید عبدالباری سہسوانی(م1303ھ)، ابوالحسنات عبدالحئ لکھنؤی(م1304ھ) صاحب آثار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعہ، رفع و التکمیل فی الجرح والتعدیل، اجوبتہ الفاضلہ، تعلیق الممجد علی موطا امام محمد، عمدة الرعایہ علی شرح الوقایہ، ظفر الأمانی فی شرح مختصر الجرجانی، تحفة الاخیار فی احیاء ستہ السید الابرار، سعایہ فی کشف ما فی شرح الوقایہ، فوائد البہیہ فی تراجم الحنفیہ) نور محمدملتانی (تلمیذ ابوالحسنات لکھنؤی، صاحب تذکرة المنتھی فی رد اسکات المعتدی) محمد حسن سنبھلی (م1305ھ، صاحب تنسیق النظام فی ترتیب مسند الامام فی ابی حنیفہ النعمان )، احمد بن سید امیر حسن، (م1306ھ) امیر احمد بن سید امیر حسن (م1306ھ) حامد حسین بن محمد الحسینی لکھنؤی (م1306ھ، صاحب اسقصاء الافحام فی الرد علی منتھی الکلام)، محی السنہ نواب صدیق حسن خاں قنوجی رئیس بھوپال (1307ھ صاحب فتح البیان فی مقاصد القرآن، ترجمان القرآن بلطائف البیان، اکسیر فی اصول التفسیر، بلوغ المرام، من ادلتہ الاحکام کی شروح مسک الختام، فتح العلام، الروض البسام، عون الباری لحل ادلتہ البخاری ،سراج الوہاج فی شرح مختصر الصحیح مسلم بن الحجاج، اتحاف النبلاء المتقین، باحیاء ماثر الفقہاء المحدثین، الحطہ فی ذکر الصحاح الستہ ابجد العلوم، ملک السعادة فی افراد اللہ تعالیٰ بالعبادہ، الدین الخالص، تقصار من تذکار جیود الاحرار، نصح السدید التوحید، النفکیک عن انحاء الشرک، اخلاص توحید، اخلاد الفوائد الی توحید بالعبادة، دعایتہ الایمان الی توحید الرحمٰن، الانفکاک عن اسم الاشراک ، اللواء المعقود لتوحید الرب المعبود، منہاج العبید الی معراج التوحید، استوی علی العرش بشارة الفساق، عاقبتہ المتقین روز مرہ اسلام، ارکان اربعہ، توبہ عن الذنوب، ہادی الارواح، تذکیر الناسی، تکفیر الذنوب، صلہ ارحام، ایقاظ الرقود الی یوم الموعود وغیرہ) رحمت اللہ کیرانوی (م308ھ، صاحب ازالتہ الاوھام، معیار الحق، معدل الموجاج المیزان، اوضح الاحادیث) حسام الدین مئوی (م1310ھ)، عبیداللہ مالیر کوٹلوی (م1310ھ، صاحب تحفة الہند)، محمد بن بارک لکھوی (م1311ھ)، رحیم بخش لاہوری (م1312ھ، صاحب سلسلہ کتب اسلام، محی الدین عبدالرحمٰن لکھوی(م1312ھ)، مفتی محمد سعید خاں مدراسی  (م1312ھ، صاحب تکملہ تفسیر فیض الکریم)، بدیع الزمان حیدر آبادی (م1312ھ مترجم جامع ترمذی و سنن ابن ماجہ) فضل اللہ بن نعمت اللہ لکھنؤی (1312ھ، استاد شمس الحق عظیم آبادی )، عبدالاول غزنوی (م1313ھ، تلمیذ میاں محمد نذیر حسین دہلوی، مترجم مشکوٰة المصابیح و ریاض الصالحین)، خواجہ الطاف حسین حالی (م1914ء، صاحب مسدس)، فضل الرحمٰن گنج مراد آبادی (1313ھ، تلمیذ شاہ محمد اسحاق دہلوی)، ابوعبدالرحمٰن محمد فرید آبادی (م1315ھ تلمیذ حافظ عبدالمنان وزیر آبادی و میاں محمد نذیر حسین دہلوی، صاحب حواشی الجدیدہ علی السنن المجتبیٰ النسائی)، شاہ علی حبیب پھلواروی (1315ھ)، عبدالسلام کیفی ندوی (م1918ء، صاحب سیرت عمر بن عبدالعزیز، اسوہ صحابہ ، شعر الہند)، فیض اللہ مئوی (م1316ھ، استاد علامہ مبارکپوری )، محمد بن ابراہیم آروی (م1319ھ تلمیذ میاں محمد نذیر حسین دہلوی )، نواب محسن الملک مہدی علی خاں (م1907ء، صاحب آیات بینات، مدفن علی گڑھ)، عبدالجبار بن نور احمد ڈیانوی (م1319ھ)، قاضی محمدمچھلی شہری (م1320ھ تلمیذ شیخ عبدالحق بنارسی ، سخاوت علی جونپوری ،نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ وغیرہ صاحب فتوح العلام شرح بلوغ المرام) ، عبداللہ صادق پوری (م1320ھ استاد علامہ مبارکپوری)، شیخ الاجل و محدث دوراں سید محمد نذیر حسین دہلوی (م1320ھ صاحب معیار حق فی ردّ علی تنویر الحق ، الایمان یزید و ینقص، قراة خلف الامام، اثبات رفع یدین، توثیق تقویة الایمان، حرمت نذر لغیر اللہ، تردید بدعات حسنات و سیئات، افضل البضاعة فی حقیقت الشفاعة، دافع البلوی فی ردّ تقلید، عمل اہل حرمین حجت شرعی نہیں، رسالہ در مسئلہ نماز جمعہ فی القریہ و فتاویٰ نذیریہ)، محمد بشیر سہسوانی (م1321ھ)، صاحب تبصرہ الناقد)، محمد سعید بنارسی (م1322ھ تلمیذ میاں محمد نذیر حسین دہلوی و شمس الحق عظیم آبادی و حافظ عبدالمنان وزیر آبادی و عبداللہ غازی پوری ، صاحب ہدایة المرتاب بجواب کشف الحجاب)، ظھیر احسن نیموی (م1322ھ، صاحب آثار السنن تعلیق الحسن تلمیذ عبدالحئ لکھنؤی)، شاہ عین الحق پھلواروی (م1323ھ،تلمیذ میاں محمد نذیر حسین دہلوی )، سلامت اللہ جیراجپوری (م1323ھ، استاد علامہ مبارکپوری)، حافظ عبداللہ غازی پوری (م1323ھ تلمیذ محمد نذیر حسین دہلوی صاحب البحرالمواج شرح مقدمہ صحیح مسلم بن الحجاج) رشید احمد گنگوہی (م1323ھ، صاحب الکوکب الدری تعلیقات علی الترمذی ، ہدایہ المعتدی، گاؤں میں جمعہ کے احکام، سبیل الرشاد، مسئلہ غیب دانی، فتاویٰ میلا شریف، ہدایة الشیعہ، امداد السلوک، زبدة المناسک، فتاویٰ رشیدیہ)، ابوالحسن سیالکوٹی (م1325ھ، صاحب فیض الباری شرح صحیح بخاری)، محمد بشیر سہسوانی (م1326ھ، تلمیذ میاں محمدنذیر حسین دہلوی، صاحب الحق الصریح فی اثبات حیاة المسیح، القول المحقق المحکم فی زیارة الحبیب الاکرم، القول المحمود فی رد جواز السود، برہان العجاب فرضیة فاتحہ خلف الامام) فاروق چڑیاکوٹی (1327ھ استاد علامہ مبارکپوری)، شیخ حسین بن محسن انصاری الیمانی(م1327ھ صاحب تعلیقات علی المجتبیٰ، التحفة المرضیة فی حل بعض المشکلات الحدیثیہ)، شمس الحق عظیم آبادی (م1329ھ تلمیذ میاں محمد نذیر حسین دہلوی، و بشیر الدین قنوجی، حسین بن محسن الیمانی وغیرہ، صاحب فضل الباری ترجمہ تلاقیات البخاری، النجم الوہاج شرح مقدمہ صحیح المسلم بن الحجاج، غایة المقصود شرح سنن ابوداؤد، ہدایة اللوزعی بنکات الترمذی، تعلیق المغنی علی سنن الدارقطنی، عون المعبود شرح مختصر سنن ابوداؤد)، محمود الحسن اسیرمالٹا (م1339ھ، صاحب ایضاح الادلتہ مختصر المعانی، تقاریر شیخ الہند)، عبدالحمید سوہدروی (م1330ھ، تلمیذ میاں محمد نذیر حسین دہلوی و حافظ عبدالمنان وزیر آبادی و شمس الحق عظیم آبادیوغیرہ)، عبدالرحیم مبارکپوری، (م1330ھ ، استاد علامہ مبارکپوری)، ڈپٹی حافظ نذیراحمد دہلوی (1330ھ صاحب تسہیل القرآن، حقوق و فرائض) محمد عبدالاحد (م1330ھ، تصحح تحفة الہند)، سید عبدالکبیر بہاری، (م1331ھ)، سید عبدالجبار غزنوی (م1331ھ، تلمیذ میاں محمد نذیر حسین دہلوی) شبلی نعمانی (م 1332ھ ، صاحب سیرة النبیؐ، سیرة النعمان، الغزالی، الفاروق، المامون، سوانح مولانا روم، الکلام وعلم الکلام، شاہ عین الحق پھلواروی (م1333ھ، تلمیذ میاں محمد نذیر حسین دہلوی)، خدا بخش میراج گنجی (م1333ھ، استاد علامہ مبارکپوری)، حافظ عبدالمنان وزیرآبادی (م 1334ھ، تلمیذ مولانا عبدالجبار محدث، میاں محمد نذیر حسین دہلوی وغیرہ) محمد تلطف عظیم آبادی(تلمیذ میاں محمدنذیر حسین دہلوی، شمس الحق و بشیر الدین و حسین بن محسن الیمانی وغیرہ) ابوعبداللہ ادر سی بن ابی الطیب ڈیانوی (تلمیذ عبداللہ غازی پوری، میاں محمد نذیر حسین دہلوی، شمس الحق عظیم آبادی وغیرہ) سید محمد عبدالحفیظ (ابن الاخ، و زوج بنت البنت سید میاں محمد نذیر حسین دہلوی ) ابوتراب رشد اللہ شاہ الراشدی(تلمیذ میاں محمد نذیر حسین دہلوی، صاحب درج الدرر فی وضع الایدی علی الصدر) قدر ت اللہ شاہ الراشدی(تلمیذ میاں محمد نذیر حسین دہلوی)، عبدالحلیم شرر (تلمیذ میاں محمد نذیر حسین دہلوی، مترجم الاتقان فی علوم القرآن، کتاب التوحید وغیرہ) ابوسعید محمد حسین، (تلمیذ میاں محمد نذیر حسین دہلوی، صاحب منح الباری فی ترجیح صحیح البخاری، عبدالحق ملوی اعظم گڑھی (تلمیذ میاں محمدنذیر حسین دہلوی، تجسیس تدلیس ترجمہ تلبیس ابلیس لابن الجوزی)، قاضی احتشام الدین (تلمیذ میاں محمدنذیر حسین دہلوی ، صاحب اختیار الحق)، شہود الحق (تلمیذ میاں محمد نذیر حسین دہلوی، صاحب بحرذخار بجواب انتصار الحق)، برہان الدین ہوشیارپوری (استاد حافظ عبدالمنان وزیر آبادی)، عظمت اللہ (استاد عبدالعزیز رحیم آبادی )، یحییٰ بہاری (استاد عبدالعزیز حلیم آبادی)، محمود عالم (استاد عبدالعزیز رحیم آبادی)، عبدالسلام(م1335ھ)،احمداللہ امرتسری (م1336ھ)، عبدالعزیز رحیم آبادی (1336ھ تلمیذ میاں محمد نذیر حسین دہلوی، صاحب حسن البیان فیما فی سیرة النعمان، سواء الطریق، ھدایتہ المعتدی فی القراة المقتدی، رسالتہ الوضوء، مارمی الجمرہ، روئداد مناظرہ مرشد آباد)، عبداللہ محدث غازی پوری (م1337ھ، استاد علامہ مبارکپوری)، رفیع الدین شکرانوی (م1337ھ، تلمیذ میاں محمد نذیر حسین دہلوی)، عبدالمنان بقاء (م1337ھ)، مفتی عبداللطیف سنبھلی (م1337ھ)،محمد حسین لاہوری (ة1337ھ)، ابویحییٰ محمد بن کفایت اللہ شاہجہانپوری (م1338ھ، تلمیذ میاں محمد نذیر حسین دہلوی صاحب تکملہ حواشی الجدیدہ علی السن المجتبیٰ النسائی)، وحیدالزمان حیدر آبادی (م1338ھ تلمیذ مفتی عنایت اللہ، سلامت اللہ کانپوری، عبدالحئ لکھنؤی، محمد بشیر الدین قنوجی، عبدالحق بنارسی، لطف اللہ علی گڑھی، میاں محمد حسین دہلوی، حسین بن محسن الیمانی، فضل الرحمٰن گنج مراد آبادی وغیرہ صاحب تفسیر وحیدی، بتویب القرآن، لغات الحدیث، تیسیر الباری ترجمہ صحیح بخاری، تسہیل القاری، العلم ترجمہ صحیح مسلم، جائزة الشعوذی، معطا ترجمہ موطا، زہرالربی ترجمہ سنن المجتبیٰ للنسائی، الہدی المحمود، رفع العجاجہ، کشف الغطاء، اشراق الابصار ترجمہ سنن ابوداؤد، تصحیح کنزالعمال وغیرہ) محمد حسین بٹالوی (م1338ھ تلمیذ میاں محمد نذیر حسین دہلوی صاحب فتح الباری فی ترجیح البخاری)، ابوالوزیر احمد حسن دہلوی (م1338ھ تلمیذ میاں محمد نذیر حسین دہلوی  صاحب احسن التفاسیر، احسن الفوائد، تلخیص الانظار فیما بنی علیہ انتصار بجواب انتصار الحق، حاشیہ بلوغ المرام، تتقیح الرواة بتخریج احادیث المشکوٰة)، امیر احمد سہسوانی (م1339ھ ، تلمیذ میاں محمد نذیر حسین دہلوی)، محمدعلی جونا گڑھی (م1340ھ، صاحب اربعین محمدی، ارشاد محمدی، انعام محمدی، اشعار محمدی، امام محمدی، ایمان محمدی، برہان محمدی، تعویذ محمدی، تحفہ محمدی، تعلیم محمدی، توحید محمدی، تفسیر محمدی، شعبان محمدی، نصیحت محمدی، نکاح محمدی، نور محمدی، وضو محمدی، قطبغہ محمدی، وظائف محمدی، ہدایت محمدی، حیات محمدی، حجت محمدی، خطبہ محمدی، خطبات محمدی، خطاب محمدی، درود محمدی، دلائل محمدی، دین محمدی، ذمہ محمدی، الایمان محمدی ، رکوع محمدی، زیارت محمدی، سراج محمدی، سلام محمدی، سیرت محمدی، سیف محمدی، شمع محمدی، صدائے محمدی، صلوٰة محمدی، صدام محمدی،صراط محمدی، صمصام محمدی، ضرب محمدی، طریق محمدی، ظفر محمدی، عقیدہ محمدی، عقائد محمدی،عصائے محمدی، غیہ محمدی، فرمان محمدی، فیصلہ محمدی اور فضائل محمدی وغیرہ)، محمد عبدالسلام مبارکپوری (م1342ھ، صاحب سیرة البخاری)، عبدالرحیم غزنوی (م1342ھ) عبدالقادر لکھنؤی (م1342ھ)، عبدالحئ حسنی (م1342ھ صاحب نزیتہ الخواطر و بہجتہ المسامع والنواظر) ابوعبداللہ محمد بن جمال الدین بھوجیانی امرتسری (م1343ھ)، عبدالباری فرنگی محلی (م1342ھ)، خلیل احمد سہارنپوری (م1342ھ، صاحب بذل المجہود فی حل سنن ابی داؤد)، سید ابوالحبیب ( م 1342ھ تلمیذ عبداللہ غازیپوری )، شوکت علی(م1342ھ)، قاضی محمد سلیمان منصورپوری (م1348ھ، صاحب غایت المرام، رحمة للعالمین، الجمال والکمال، تفسیر سورہ یوسف، تاریخ المشاہیر، شرح اسماء الحسنیٰ خطبات سلیمانی، سبیل الرشاد، المسح علی الجوربین)،غلام نبی ربانی سوہدروی (م1348ھ تلمیذ میاں محمد نذیر حسین دہلوی)، احمد اللہ پرتاب گڑھی (م1348ھ تلمیذ بشیر سہسوانی)، شمس الحق عظیم آبادی ،صاحب برہان العجاب فی فرضیة قراة خلف الامام)، احمد اللہ محدث دہلوی (م1348ھ)، اکبر شاہ خان نجیب آبادی (م1938ء ، صاحب تاریخ اسلام)، محمدعلی جوہر (م1349ھ ، نواب سلطان جہاں بیگم بھوپالی (م1349ھ)، عبدالواحد غزنوی (1349ھ تلمیذ میاں محمدنذیر حسین دہلوی)، عبدالرحمٰن ولایتی (م1349ھ)، محمد اقبال سیالکوٹی (م1938ء، صاحب رموز بیخودی بال جبریل بانگ درا وغیرہ)، عبدالوہاب دہلوی (م1351ھ)، عبدالحامد بدایونی (م1351ھ)، عبدالغفور غزنوی (م1352ھ تلمیذ میاں محمد نذیر حسین دہلوی)، عبدالجبار عمرپوری (م1352ھ) مناظر احسن گیلانی (صاحب تدوین قرآن، تدوین حدیث، تذکرہ شاہ ولی اللہ، امام ابوحنیفہ کی سیاسی زندگی، مقالات احسانی النبی الخاتم، مقدمہ تدوین فقہ، تفسیر سورہ کہف، ابوذرغفاریؓ وغیرہ) انورشاہ کشمیری (م1352ھ، صاحب کشف الستر، فصل الخطاب، نیل الفرقدین، فیض الباری شرح صحیح البخاری، عرف الشذی، گنجینہ اسرار، خاتم النبین، عبدالرحمٰن مبارکپوری (م1352ھ) تلمیذ عبداللہ محدث غازی پوری، میاں محمد نذیر حسین دہلوی، فیض اللہ مئوی، حسام الدین مئوی، عبدالرحیم مبارکپوری وغیرہ صاحب تحفة الاحوذی، شرح جامع الترمذی، ابکار المنن فی تنقید اثار السنن، شفاء العلل، مقالتہ الحسنی فی سنیتہ المصافحة بالید الیمنی، تحقیق الکلام فی جوب القراة خلف الامام، خیر الماعون فی منع الفرار من الطاعون، کتاب الجناز، نور البصار، ضیاء الابصار، تنویر البصار، القول السدید فیما تکبیرات العید، الدرا المکنون فی تائید خیر الماعون، الوشاح الابریزی فی حکم الرواء الالکلیزی، ارشادہ الہائم منع خصاء البہائم، الکلمتہ الحسنی فی تائید المقالتہ الحسنی، مسائل عشر، مرتب فتاویٰ، نذیریہ و فتاویٰ عبداللہ محدث غازی پوری )، عبدالغفور غزنوی (م1352ھ)، محمد بن یوسف سواتی(م1361ھ)، اشرف علی تھانوی (م1362ھ صاحب تفسیر بیان القرآن،بہشتی زیور، مناجات مقبول، امداد الفتاویٰ، تربیت السالک، نشر الطیب، فتاویٰ اشرفیہ، سہل المواعظ، مقالات صوفیہ، عرفان حافظ وغیرہ) عبدالحفیظ اعظم گڑھی (م1363ھ)، محمد عبدالباقی لکھنؤی (م1364ھ)، عبدالتواب ملتانی (م1366ھ ، صاحب تعلیقات علی مصنف ابن ابی شیبہ، حواشی علی مسند عمر بن عبدالعزیز و قیام اللیل للمروزی و حاشیہ علی ابی الحسن السندی، علی صحیح مسلم اُردو ترجمہ صحیح البخاری و بلوغ المرام) ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری (م1347ھ، تلمیذ میاں محمد نذیر حسین دہلوی، صاحب تفسیر القرآن بکلام الرحمٰن، بیان القرآن علی علم البیان، تفسیر ثنائی، فقہ اور فقیہ اجتہاد و تقلید، اربعین ثنائیہ، حجیت حدیث ، اتباع رسول، شمع توحید، حق پرکاش بجواب ستیاتھ پرکاش، مسیحیت ، اور اسلام ، مقدس رسول بجواب رنگیلا رسول، رسالہ وید اور گوشت خوری، رسائل در ردّ قادیانیت، ہفت روزہ اخبار الحدیث وغیرہ) عبیداللہ سندھی (م1944ء، صاحب شاہ ولی اللہ او ران کا فلسفہ وغیرہ مدفن خانپور)، حبیب الرحمٰن خاں شیروانی (م1469ھ)، فیض الحسن سہارنپوری (استاد شیخ جماعت علی شاہ ) قاضی عبدالرحمٰن محدث پانی پتی ( استاد جماعت علی شاہ)، ابوالقاسم سیف بنارسی (م1369ھ صاحب مشکلات البخاری، شبیراحمد عثمانی(م1369ھ صاحب فتح الملہم شرح صحیح المسلم، تفسیر عثمانی، اعجاز القرآن، حیات شیخ الہند، العقل والنقل، مسئلہ تقدیر، فضل الباری شرح صحیح البخاری)، نذیر املوی اعظم گڑھی (م1369ھ، جماعت علی شاہ (م1370ھ، کفایت اللہ دہلوی (م1372ھ، صاحب تعلیم الاسلام)، سید سلیمان ندوی (م1373ھ، صاحب تاریخ ارض القرآن، حیات مالک، خطبات مدراس، سیرت عائشہؓ، عربوں کی جہاز رانی، برید فرہنگ، اہل سنت والجماعت، رحمت عالمؐ، سیرت النبیؐ، نقوش سلیمانی، حیات شبلی ، اسلامی کے سیاسی نظام کی تدوین، میر محمد ابراہیم سیالکوٹی (م1375ھ، تلمیذ حافظ عبدالمنان محدث وزیرآبادی و میاں محمد نذیر حسین دہلوی، صاحب شہادة القرآن، معلم الوصول الی اسرار سراء الرسول، تاریخ اہلحدیث، تفسیر سورہ فاتحہ، نزول ملائکہ والروح الی الارض، آئین قادیانی، اعجاز القرآن، تاریخ نبویؐ، اخلاق محمدیؐ، عصمت انبیاءؑ، تائید القرآن، تعلیم القرآن، احکام المرام، سیرت مصطفیٰ وغیرہ) عبدالسلام ندوی (م1376ھ)، ابوالکلام آزاد(م1378ھ، صاحب ترجمان القرآن، اُم الکتاب ، تفسیر سورہ فاتحہ، شہادت حسینؑ، ولادت نبویؐ، اصحاب کہف، رسول رحمتؐ، قرآن کا قانون عروج و زوال، غبار خاطر، آزادی ہند، مقالات ابوالکلام، مکاتیب ابوالکلام)، احمد سعید دہلوی (م1378ھ صاحب تفسیر کشف الرحمٰن، وعظ سعید، معجزات رسولؐ، صلوٰة و سلام)، عبدالمجید سوہدروی (م1379ھ، صاحب عمدة الاحکام، انتخاب الصحیحین)، اسلم جیراجپوری (م 1956ء)، صاحب تاریخ القرآن، حیات حافظ، حیات جامی، الوراثہ فی الاسلام، تاریخ الامت)، ابوسعید شرف الدین محدث دہلوی (م1381ھ)، عبدالجبار محدث کھنڈیلوی (م1382ھ، تلمیذ علامہ مبارکپوری صاحب اختلاف خاتمہ، ازالتہ الحیرة عن فقاہت ابی ہریرہؓ، مقاصد الامامہ، اتمام الحجة، مقدمہ صحیح بخاری، حاشیہ صحیح بخاری)، سید محمد داؤد دراز (م1383ھ)، سید احمد داؤد غزنوی (م1383ھ)، حافظ عبداللہ امرتسری روپڑی (م 1384ھ تلمیذ شمس الحق عظیم آبادی  و میاں محمد نذیر حسین دہلوی و بشیر سہسوانی وغیرہ۔ صاحب تخریج آیات الجامع الصحیح البخاری، شرح مشکوٰة المصابیح، شرح سنن ابن ماجہ، مسند احمد، مودودیت اور حدیث نبویہ، اہلحدیث کی تعریف، اہل سنت کی تعریف)، مسعود عالم ندوی (م1385ھ، صاحب ہندوستان کی پہلی اسلامی تحریک، محمد بن عبدالوہاب ایک بدنام مصلح) ابویحییٰ امام خاں نوشہروی(م1385ھ ، صاحب تراجم علمائے اہلحدیث ہند)، عبدالرحمٰن بن یحییٰ المعلمی الیمانی(م1386ھ، صاحب طلیعہ التکیل، مقام ابراہیم، انوار الکاشفہ، اغاثہ العلماء من طعن صاحب الوراثہ، تعلیق علی تاریخ الکبیر، خطاء امام البخاری فی تاریخہ، تصحیح تذکرة الحفاظ للذہبی ، تصحیح جرح والتعدیل لابن ابی حاتم، تصحیح موضح اوہام للخطیب بغدادی، المعانی الکبیر لابن قتیبہ، فوائد المجموعہ للشوکانی، الاکمال لابن ماکولا، الانساب للسمعانی، السنن الکبری للبیہقی، مسندابی عوانہ، کفایہ فی علم الروایہ للخطیب بغدادی، صفة الصفوہ لابن الجوزی، منتظم لابن الجوزی وغیرہ) محمد اسماعیل سلفی (م1387ھ، ، صاحب حجیت حدیث وغیرہ، ظفر احمد تھانوی عثمانی (م1394ھ، صاحب اعلاء السنن، انھاء السکن)، عبدالسلام بستوی(م1394ھ)، سید ابوبکر غزنوی (م1395ھ)،عبدالماجد دریا بادی (م1398ھ، صاحب تفسیر ماجدی، نورانی جہیز، تصوف اور اسلام، بشریت انبیاء معاصرین، آپ بیتی) ، مفتی محمد شفیع (صاحب معارف القرآن، فتاویٰ دارالعلوم، جواہر الفقہ، کشکول، مقام صحابہ، علامات قیامت، نزول مسیح، ضبط ولادت وغیرہ)، عبدالشکور لکھنؤی (صاحب علم الفقہ، فتنہ ابن سباء، تاریخ مذہب شیعہ، خلفائے راشدین)، ابوالمحاسن قائم بن صالح السندی (صاحب فوز الکرم بماثبت فی وضع الیدین تحت السرة اوفوقھا تحت الصدر عن الشفیع المنطلل بالغمام)، حمید الدین فراہی (استاد امین احسن اصلاحی، صاحب مجموعہ تفسیر فراہی، اقسام القرآن، ذبیح کون ہے؟) حفظ الرحمٰن سیوھاروی (صاحب قصص القرآن، اخلاق اور فلسفہ اخلاق، بلاغ المبین، اسلام کا اقتصادی نظام)، حسین احمد مدنی (صاحب حلیة المسلمین، الشہاب الثاقب، نقش حیات، سلاسل طیبہ، داڑھی کی شرعی حیثیت، عقائد علمائے دیوبند، خادم الحرمین)، محمد ادریس کاندھلوی( صاحب حیات الصحابہ، سیرة المصطفیٰ، شرح مشکوٰة المصابیح)، محمد یوسف کاملپوری (صاحب تکملہ الحاشیہ علی تخریج الزیلعی)، سرسید احمد خاں، (صاحب تفسیر احمدی، آثار الصنادید، مکاتیب سرسید)، سرراس مسعود، یوسف بنوری (صاحب معارف السنن)، عبدالرزاق ملیح آبادی (صاحب ترجمہ الوسیلہ لابن تیمیہ)، امیر علی (تلمیذعبدالحئ لکھنؤی، صاحب التذنیب)،فضل اللہ حیدر آبادی (صاحب فضل اللہ الصمد فی توضیحہ الادب المفرد للبخاری)، عبدالعزیز پنجابی (صاحب تعلیق علی نصب الرایہ للزیلعی، اطراف البخاری)، اکرم بن عبدالرحمٰن السندی (صاحب امعان النظر بشرح نخبة الفکر)، ولی اللہ فرخ آبادی ( صاحب المطر الثجاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج بلسان الفارسی)، محمود حسن ٹونکی (صاحب معجم المصنفین)، محمد بن قاسم حیدر آبادی (صاحب قول المستحسن فی فخر الحسن)، عبدالحق الٰہ آبادی (صاحب تقریر شرح المناسک لعلی القاری، محمد بدر عالم میرٹھی (صاحب تعلیقات علی فیض الباری للعلامہ انور شاہ کشمیری، ترجمان السنہ، جواہر الحکم)، بحرالعلوم لکھنؤی (صاحب تنویر المنار)، ولی اللہ لکھنؤی (صاحب شرح مسلم الثبوت)، حیدر علی فیض آبادی (صاحب منتہی الکلام)، ملا جیون (صاحب تفسیر احمدی)، اللہ داد جونپوری، (محشی ہدایہ)، مہدی حسن شاہجہاں پوری( صاحب شرح کتاب الاثار لمحمد بن الحسن الشیبانی)، فخر الحسن گنگوہی (محشی سنن ابی داؤد)، مرزا حیرت دہلوی (صاحب حل صحیح البخاری)، سراح احمد سرہندی (شارح ترمذی)، عبدالحق حقانی (صاحب تفسیر حقانی)، حکیم محمد اشرف سندھو (صاحب مقیاس حقیقت بجواب مقیاس، حنفیت، پیغام جیلانی، مقام اہلحدیث، رکعات قیام رمضان من اقوال اصحاب النعمان، فرقہ ناجیہ ، البشریٰ بسعادة الدارین فی سوانح سید نذیر حسین ،بریلوی عقائد و اعمال، بریلویت کا پس منظر، تصور شیخ کا پس منظر، عقیدہ حیات النبیؐ، اکمل البیان فی شرح حدیث بحد قرن الشیطان، اکابر علماء دیوبند کا مذہب ، فرقہ وجودیہ کی اصلیت او رپہچان وغیرہ)، اسدعلی اسلام آبادی، سید شاہجہاں، شیخ نذیر فریدی، اعظمی، حافظ شاہ محمد نعیم عطا، ابواسماعیل یوسف حسین خانپوری ہزاروی، احمد علی سہارنپوری، محمد بن بارک اللہ پنجابی، محمد اویس فگرانی، عبدالسلام قدوائی ندوی، عبدالمجید سالک، فضل الحق خیرآبادی، آزاد سبحانی، محمد اسحاق سندیلوی، حمیداللہ حیدر آبادی، جعفر حسین، احمد حسن امروہوی، حسین علی میانوالی، یوسف کاندھلوی، محمد الیاس میواتی، (بانی تبلیغی جماعت) نورالحسن کاندھلوی، امام علی الحق سیالکوٹی، ملا کمال کشمیری، قطب الدین سہالوی، کریم الدین عثمانی، غلام حیدر بن شیخ ہدایت اللہ عظیم آبادی، ابوعبیداللہ، فضل الرحمٰن مراد آبادی، فضل الرحمٰن ابن حاجی عبدالسمیع مبارکپوری، لطف اللہ علی گڑھی، حفیظ اللہ علی گڑھی، غلام علی قصوری، علامہ سنبھلی (صاحب احیاء السنن)، قاضی بدرالدولہ مدارسی(صاحب تفسیر فیض الکریم)، عبداللہ الٰہ آبادی، محمد سعید مغلپوری، نور اللہ بن شہباز الہندی، عبدالقدوس گنگوہی، محب اللہ الٰہ آبادی، امان اللہ پانی پتی، ڈاکٹر محمد رفیع الدین، احسان اللہ شاہ ابن ابی تراب رشد اللہ شاہ الراشدی، محمد خلیل بن محمد سلیم خیرپوری، حافظ فتحی جہلمی، بہاء الدین خاں جلال آبادی، قطب الدین ہالیجوی، نور عیسیٰ خیلی، عبدالکریم نواب شاہی، ابواسحق نیک محمد امرتسری (خلیفہ عبدالجبار غزنوی)، بشیر احمد ملتانی، عطاء اللہ لکھوی، حافظ گوندلوی، عبدالقادر حصاری، عنایت اللہ وزیرآبادی، ابومحمد عبدالستار، محمد یوسف کلکتوی، عبدالشکور شکراوی، عبدالجلیل سامرووی سورتی، شفیع محمد المنکیو سکرندی، عاشق الٰہی میرٹھی، سعید احمد اکبر آبادی، حکیم محمد صادق سیالکوٹی، عبدالقہار، محمد یونس دہلوی، حکیم عبدالسمیع شفاء اثری، (صاحب ترجمہ صاحب تحفة الحوذی، علم غیب، اہلبیت رسولؐ) سید تفریظ احمد سہسوانی، سید ابوالاعلیٰ مودودی (صاحب تفہیم القرآن، پردہ، خلافت و ملوکیت، الجہاد فی السلام، رسالہ دینیات، ہندوستان کی سیاسی کشمکش، رسائل و مسائل، خطبات، سیرت سرور دو عالم وغیرہ)، محمد زکریا کاندھلوی (صاحب اجوز المسالک فی شرح موطا امام مالک، تاریخ مشائخ چشت، مکتوبات تصوف، صحبت بااولیاء، انعام الباری شرح اشعار البخاری، شمائل ترمذی، تبلیغی نصاب، فضائل حج وغیرہ) اور علامہ احسان الٰہی ظہیر (صاحب الشیعہ و اہل البیت، الشیعہ والسنہ، الشیعہ والقرآن، الشیعہ والتشیع، البریلویہ، القادیانیہ، البہائیہ، الاسماعیلیہ، البابیہ، التصوف، بین الشیعہ و اہل السنہ) وغیرہ جیسے مشاہیر علماء پیدا ہوئے لیکن ان میں سے نواب صدیق حسن خاں بھوپالی، میاں سید محمد نذیر حسین دہلوی، شیخ حسین بن محسن الیمانی، عبداللہ محدث غازیپوری، اور عبدالرحمٰن مبارکپوری کو جو مقام حاصل ہوا وہ کسی دوسرے کے حصہ میں نہ آیا۔ ذیل میں ہم ان چند بزرگوں کا ذکر خیر مختصراً کریں گے۔

(1)جب شاہ محمد اسحاق محدث دہلوی ہجرت کرکے مکہ مکرمہ تشریف لے جانے لگے تو اپنا جانشین ایک ایسے شخص کو بنایا جو اپنے زمانہ کا منفرد اپنے وقت کا قطب، مرجع آفاق، بالاتفاق استاد عرب و عجم اور تیرہویں صدی ہجری کا مجدد اعظم تھا یعنی شیخ الاجل سید محمد نذیر حسین دہلوی ، شاہ محمد اسحاق دہلوی کی مسنددرس و افتاء پر آپ بارہ سال تک مختلف علوم و فنون کی تمام متداولہ کتب کا درس دیتے رہے پھر آپ پر قرآن و حدیث کی درس و تدریس کی محبت غالب آگئی چنانچہ آپ نے ان علوم شریفہ کے علاوہ باقی دوسرے تمام علوم سے کنارہ کشی اختیار کرلی مگر فقہ سے یک گونہ اشتغال باقی رہا۔ آخر عمر تک آں ان علوم کی درس و تدریس میں مصروف رہے۔ 1270ھ تا 1330ھ تک تقریباً 62سال آپ کا یہ فیض جاری رہا۔ علوم حدیث پر آپ کی نظر اس قدر وسیع تھی کہ لوگ آپ کوبیہقئ وقت پکارا کرتے تھے۔ ڈاکٹر محمد تقی الدین الھلالی المراکشی (سابق استاذ حدیث جامعہ الاسلامہ مدینہ منورہ ) فرماتے ہیں کہ ''آپ اپنے وقت کے امام بخاری تھے''96 آپ کی درس گاہ سے تقریباً بیس ہزار جویان علم و دانش فیضاب ہوئے اور اقطائے عالم میں پھیل کر دین کی اشاعت و خدمت میں مصروف ہوئے۔ آپ کے ان تلامذہ میں ہندوستان کے علاوہ حجاز، مصر، شام، یمن، بلخ، بدخشاں، سمرقند، کابل اور بخارا وغیرہ کے طلبہ بھی شامل تھے۔ علامہ سید سلیمان ندوی آں کے متعلق فرماتے ہیں:
''علمائے اہلحدیث کی تدریسی و تصنیفی خدمت قدر کے قابل ہے۔ پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں مرحوم کے قلم او رمولانا سید محمد نذیر حسین دہلوی کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا۔ بھوپال ایک زمانہ علمائے حدیث کا مرکز رہا۔ قنوج، سہسوان اور اعظم گڑھ کے بہت سے نامور اہل علم اس ادارہ میں کام کرتے تھے۔ شیخ حسین عرب یمنی ان سب کے سرخیل تھے او ردہلی میں مولانا سید نذیر حسین صاحب کی مسند درس بچھی تھی اور جوق در جوق طالبین حدیث مشرق و مغرب سے ان کی درسگاہ کا رُخ کررہے تھے۔''97

(2) اس صدی کی دوسری اہم شخصیت یعنی نواب صدیق حسن خاں قنوجی ثم بھوپالی کے متعلق سید سلیمان ندوی کے تاثرات آپ نے اوپر ملاحظہ فرمائے، سابقہ صفحات میں آپ کی بلند پایہ علمی تصانیف کا تذکرہ بھی ہوچکا ہے۔ اب مولوی ابویحییٰ امام خاں نوشہروی مرحوم کے تاثرات ملاحظہ فرمائیں، لکھتے ہیں:
''السید نواب صدیق حسن خاں صاحب قنوجی مرحوم کی دستار فضیلت جس وقت طرہ شاہانہ سے مزین ہوئی تو ریاست بھوپال ایک سرے سے منبع علم و مرجع علماء ہوگئی۔ حضرت والا جاہ نے ایک محفل علم سجائی۔مولانا قاضی بشیرالدین قنوجی مرحوم، مولانا قاضی محمد مچھلی شہری، مولانا سلامت اللہ جے راجپوری، شیخ حسین عرب یمنی، مولانا محمد بشیر سہسوانی۔ بھوپال میں تشریف فرما ہیں متعدد مدارس علم و فن قائم ہوئے۔ طلبہ کھنچے چلے آرہے ہیں ریاست کے تمام مسلمان اس خدمت کی دینی برکتوں سے مالا مال ہورہے ہیں۔ گویا کہ علم و فن کے اعتبار سےبھوپال ی قسمت ہی جاگ اٹھی۔''98

اور مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی فرماتے ہیں:
''نواب صاحب نے اصولاً شاہ ولی اللہ صاحب کے فقہی نقطہ نظر کی بنیاد پر 1268ھ میں بلوغ المرام کی فارسی شرح مسک الختام، 1294ھ میں تجرید صحیح بخاری، للشرحی کی شرح عون الباری، 1299ھ میں تلخیص صحیح مسلم للمنذری کی شرح السراج الوہاج تالیف فرمائیں علاوہ ازیں اصحاب تحقیق کے لئے اگر ایک طرف ہزاروں کے صرفہ سے 1297ھ میں نیل الاوطار، 1300ھ میں 50 ہزار روپے خرچ کرکے فتح الباری شرح صحیح بخاری بولاق مصر سے شائع کرائیں تو دوسری طرف صحاح ستہ بشمول موطا امام مالک کے اُردو تراجم و شرح لکھوا کر شائع کرنے کا بھی اہتمام کیا تاکہ عوام براہ راست علوم و سنت کے انوار سے متمتع ہوسکیں۔''99

نواب صدیق حسن خاں کی علمی خدمات کا اعتراف علامہ محمد منیر الدمشقی نے بھی بہت عمدہ انداز میں کیا ہے جس کا تذکرہ یہاں طول محض کا باعث ہوگا۔100

(3)اب اس صدی کی تیسری اہم شخصیت علامہ سید حسین عرب یمنی کے متعلق مولانا ابوالحسن علی الحسنی الندوی کے تاثرات ماحظہ فرمائیں۔

''شیخ حسین بن محسن کا وجود او ران کا درس حدیث ایک نعمت خداوندی تھا جس سے ہندوستان اس وقت بلاد مغرب و یمن کا ہمسر بنا ہوا تھا او راسنے ان جلیل القدر شیوخ حدیث کی یاد تازہ کردی تھی جو اپنے خدادا حافظہ، علو سند او رکتب حدیث و رجال پر عبور کامل کی بنا پر خود ایک زندہ کتب خانہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ شیخ حسین بہ یک واسطہ علامہ محمد بن علی الشوکانی صاحب نیل الاوطار کے شاگرد تھے او ران کی سند حدیث بہت عالی اور قلیل الوسائط سمجھی جاتی تھی۔ یمن کے جلیل القدر اساتذہ حدیث کے تلمذ و صحبت ، غیر معمولی حافظہ جواہل عرب کی خصوصیت چلی آرہی تھی، سالہا سال تک درس و تدریس کے مشغلے اور طویل مداولت او ران یمنی خصوصیات کی بنا پر جن کی ایمان و حکمت کی شہادت احادیث صحیحہ میں موجود ہے۔ حدیث کا فن گویا ان کے رگ و ریشہ میں سرایت کرگیاتھا او ران کے دفتر ان کے سینہ میں سما گئے تھے وہ ہندوستان آئے تو علماء و فضلاء (جن میں بہت سےدرس و صاحب تصنیف بھی تھے) نے پروانہ وار ہجوم کیا اور فن حدیث کی تکمیل کی او ران سے سند لی۔

تلامذہ میں نواب صدیق حسن خاں، مولانا محمد بشیر سہسوانی، مولانا شمس الحق عظیم آبادی، مولانا عبداللہ غازیپوری، مولانا عبدالعزیز رحیم آبادی، مولاناسلامت اللہ جے راج پوری، نواب وقار نواز جنگ، مولانا وحید الزماں حیدر آبادی ، خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔''101

(4)اس دور کے چوتھے عبقری علامہ عبداللہ محدث غازیپوری کے متعلق سیدسلیمان ندوی لکھتے ہیں:
''اس درس گاہ (مولانا سید محمد نذیر حسین دہلوی کی درسگاہ) کے تیسرے نامور حافظ عبداللہ محدث غازیپوری ہیں جنہوں نے درس و تدریس کے ذریعے خدمت کی او رکہا جاسکتا ہے کہ مولانا سید محمد نذیر حسین صاحب کے بعد درس کا اتنا بڑا حلقہ اور شاگردوں کا مجمع ان کے سوا کسی اور ان کے شاگردوں میں نہیں ملا۔''102

(5)اسی دور کے ایک مشہور محدث مولانا عبدالرحمٰن مبارکپوری تھے جن کی تصانیف و اساتذہ کا مختصر تذکرہ اوپر گزر چکا ہے۔آپ کے تبحر علمی کا تذکرہ کرتے ہوئے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے سابق استاد حدیث علامہ ڈاکٹر محمد تقی الدین المراکشی جنہیں علامہ مبارکپوری سے شرف تلمذ بھی حاص تھا اپنے مضمون ''ہندوستان میں اہلحدیث'' قسط نمبر 3 (مترجم آزاد رحمانی) میں فرماتے ہیں:
''میں اپنے رب کو شاہد بنا کر کہتا ہوں کہ ہمارے شیخ عبدالرحمٰن بن عبدالرحیم مبارکپوری اگر تیسری صدی ہجری کی شخصیت ہوتے تو آپ کی تمام وہ حدیثیں جنہیں آپ نبی کریم ﷺ سے یا آپ کے اصحاب سے روایت کرتے صحیح ترین احادیث ہوتیں اور ہر وہ چیز جسے آ. روایت کرتے حجت بنتیں او راس بات میں کسی دو آدمی کا بھی اختلاف نہ ہوتا۔''103

علامہ مبارکپوری کے مشہور تلامذہ میں مولانا عبدالسلام مبارکپوری (صاحب سیرة البخاری)، مولانا عبیداللہ رحمانی مبارکپوری، (صاحب مرعاة المفاتیح شرح مشکوٰة المصابیح)، مولانا عبدالجبار محدث کھنڈیلوی، مولانا امین احسن اصلاحی (صاحب تدبر قرآن)، شیخ عبداللہ نجدی قویغی ثم المصری، عبدالقادر تقی الدین ہلالی المراکشی، حکیم مولوی عبدالسمیع شفاء اثری مبارکپوری (صاحب ترجمہ علامہ مبارکپوری) اور والد محترم مولانا محمد امین اثر رحمانی مبارکپوری (صاحب تحفہ حدیث ، کتاب روزہ) زید مجدہ وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ آں کے تفصیلی حالات زندگی کےلیے تذکرہ علمائے حال، تراجم علمائے اہلحدیث، مقدمہ تحفة الاحوذی، معجم المؤلفین للشیخ محمد رضا کحالہ، نزہتہ الخواطر، تذکرہ علمائے مبارکپور للقاضی اطہر مبارکپوری، حیات عبدالحئ لابی الحسن علی الندوی، ماہنامہ صوت الجامعہ بنارس، مقدمہ مختارات الاحادیث والحکم النبویہ عبدالوہاب عبداللطیف مصری، مجلہ الحج مکہ مکرمہ اور علامہ مبارکپوری کی علمی خدمات پر مولوی عبدالکبیر عبدالقوی حفظہ اللہ کی غیر مطبوعہ بحث وغیرہ کی طرف مراجعت مفید ہوگی۔104

یہ ہے ہندوستان میں چودہ(1400) سو سالہ محدثین کرام او رعلمائے حق کی اشاعت اور اسلام کے سلسلہ میں کی گئی جانفشانیوں کی ایک مختصر سی تاریخی جھلک، ان علماء اور خدام دین کے علاوہ ہندوستان میں بے شمار صحاب علم و قلم اور بھی گزرے ہیں مگر یہاں ان کے اسمائے گرامی مضمون کو طوالت سے بچانے کے پیش نظر ترک کردیئے گئے ہیں۔

عالم اسلام کے متعدد اہل دانش وبینش، نے ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پربھی اشاعت اسلام بالخصوص علم حدیث کی خدمات کےسلسلہ میں ہندوستان کے علمائے حدیث کے مقتداء ہونے کا اعتراف برملا کیا ہے۔ چنانچہ استاد محمد ابوزھو مصری، علامہ زاہد کوثری حنفی کے حوالہ سے ''ارض ہندوپاک میں اشاعت حدیث'' کے زیر عنوان لکھتے ہیں:
''............. ایسے آڑے وقت میں جب کہ لوگ حدیث کے لئے کمربستہ نہ تھے اور ہمتیں پست ہوگئی تھیں۔ اہالیان ارض پاک و ہند نے حدیث نبوی او راس کے علوم کی جو خدمات جلیلہ انجام دی تھیں، انہیں دیکھ کر حیرت ہوتی ہے ۔ برصغیر کے علماء ایسے تھے جنہوں نے صحاح ستہ کی نہایت مفید شرحیں لکھیں او ران پر قیمتی حواشی تحریر کئے۔ احادیث احکام سے متعلق علماء نے ضخیم کتب تصنیف کیں، نقد و رجال ، علل حدیث کے ذکر و بیان اور شرح الاثار کے ضمن میں ان کے احسانات ناقابل فراموش ہیں۔ اسی طرح مختلف علوم الحدیث او ران کے متعلقات کے بارے میں بھی ان کی تصانیف کچھ کم قابل قدر نہیں۔''105 اسی طرح علامہ سید رشید رضا مصری (م1354ھ) بھی ہندوستان کے علمائے حدیث کو ان کی مساعی جمیلہ پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے یوں لکھتے ہیں:106
''ولولا عنایة إخواننا علماء الھند بعلوم الحدیث في ذا العصر بقضی علیها بالزوال من أمصار الشرق فقد ضعفت في مصر و الشام العراق والحجاز منذالقرن العاشرة للھجرة حتى بلغت منتهی المضعف في أوائل ھذا القرن الرابع عشر۔''

حاصل کلام یہ کہ اقلیم ہند میں اشاعت اسلام کا سہرا فقط محدثین اور علمائے حق کے سر ہے، صوفیاء کا اس میں قطعاً کوئی حصہ نہیں ہے کیونکہ اشاعت اسلام کے لئے جدوجہد بنیادی طور پر ان کے لائحہ عمل کا جزو نہ تھی۔ بلکہ انہوں نے تو تصوف کو اسلام کے رُوبرو ایک متوازی دین بنا کر کھڑا کردیا تھا۔ یہ بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہےکہ ان صوفیوں نے ہندوستان میں غیر مسلم اقوام کے ساتھ ہمیشہ خوشگوار تعلقات قائم رکھے او رانہیں دین اسلام کی دعوت نہ دے کر ان ہندوؤں کے طور طریقوں کو اختیار کرلیا تھا۔ اس حقیقت کو تو بہت سےمستشرقین مثلاً ہارٹن(Horton) ، بلوشیت(Blochet) ، ماسی نون(Massignon)، گولڈزیہر(Goldziher) اور اولیری(O'Leary)وغیرہ بھی تسلیم کرتے ہیں۔

الحمدللہ اس معاملہ میں ڈاکٹر اشتیاق احمد ظلی صاحب بھی ہم سے متفق نظر آتے ہیں کہ صوفیائے کرام نے برصغیر میں اشاعت اسلام کے لیے سرے سے کوئی کاوش نہیں کی۔ چنانچہ اپنے تازہ مضمون ''اسلام کی توسیع و اشاعت میں صوفیاء کرام کا حصہ'' میں ایک مقام پر لکھتے ہیں:
''یہ حقیقت ہے کہ اشاعت دین کے لیے سعی کرنا تصوف کے بنیادی مقاصد میں کبھی شامل نہیں رہا۔''107

ڈاکٹرظلی صاحب کی اس شہادت کے ساتھ ہی زیر نظر مضمون اختتام پذیر ہوا۔

وآخر دعواناأن الحمدللہ رب العالمین۔


حوالہ جات
1. تصوف اور تعمیر سیرت للمودودی مرتبہ، عاصم نعمانی ص102، طبع اسلامک پبلیکیشنز، لاہور
2.  تاریخ حدیث و محدثین (اردو ترجمہ الحدیث والمحدثون) از غلام احمد حریری، ص588 طبع لاہور
3.  بدایة والنہایة لابن کثیر، جلد نمبر 9 ص 88، معرفة الرجال، ص234
4.  شہپر جبریل، مترجم ڈاکٹر محمد ریاض، ص14
5.  تقریب التہذیب لابن حجر، ج نمبر 2 ص 10، تہذیب التہذیب لابن حجر، ج نمبر7 ص128، معرفة الثقات للعجلی ج نمبر 3 ص129 الاصابہ لابن حجر عسقلانی، ج نمبر 2 ص453، الاستیعاب فی اسماء الصحابہ للقرطبی المالکی علی ھوامش الاصابہ ج نمبر 3 ص90
6.  فتوح البلدان للبلاذری، ص438
7.  بدایة والنہایة لابن کثیر، ج نمبر 6 ص 141، تاریخ اسلام جلد نمبر 2 ص48
8.  معرفة الثقات للعجلی ، ج نمبر 1 ص 312، جرح والتعدیل لابن ابی حاتم، ج نمبر 3 ص120، تجرید اسماء الصحابہ للذہبی ج نمبر 1 ص 135، اصابہ لابن حجر ج نمبر 1 ص 344، استیعاب للقرطبی ج نمبر 1 ص315۔
9.  فتوح البلدان للبلاذری، ص438
10.  اصابہ لابن حجر، ج نمبر 1 ص346، تاریخ الطبری ج نمبر 4 ص181
11.  اصابہ لابن حجر ، ج نمبر 2 ص 170۔ 171 ،استیعاب للقرطبی مالکی، ج نمبر 2 ص193
12.  اصابہ لابن حجر، ج نمبر 2 ص 346، استیعاب للقرطبی ج نمبر 2 ص353
13.  اصابہ لابن حجر، ج نمبر 2 ص88
14.  ایضاً، ج نمبر 2 ص328
15.  ایضاً، ج نمبر 2 ص238، استیعاب ج نمبر 3 ص 135
16.  چچ نامہ ، ص 73، اصابہ ج نمبر 1 ص492 ،استیعاب ج نمبر 1 ص503، تقریب التہذیب ج نمبر 1 ص244
17.  اصابہ ج نمبر 2 ص432، استیعاب ج نمبر 2 ص425۔ 426
18.  تقریب التہذیب لابن حجر ج نمبر 2 ص229، اصابہ ج نمبر 3 ص 342، استیعاب ج نمبر 3 ص449
19.  اصابہ ج نمبر 2 ص393، استیعاب ج نمبر 2 ص 394
20.  تقریب التہذیب لابن حجر ج نمبر 1 ص334، اصابہ لابن حجر ج نمبر 2 ص130، تحفة للسخاوی ج نمبر2 ص195، تہذیب التہذیب لابن حجر ج نمبر 4 ص241 معرفة الثقات للعجلی ج نمبر 1 ص438، استیعاب للقرطبی ج نمبر 2 ص80
21. اصابہ ج نمبر 3 ص439، استیعاب ج نمبر 3 ص441
22.  اصابہ ج نمبر 3 ص7، استیعاب ج نمبر 2 ص491
23.  اصابہ، ج نمبر 1 ص423، استیعاب ج نمبر 1 ص453۔ 454
24.  خلافت راشدہ او رہندوستان مصنفہ قاضی اطہر مبارکپوری ص47، ندوة المصنفین دہلی 1972ء
25.  اصابہ ج نمبر 1 ص191، تقریب التہذیب ج نمبر 1 ص113
26.  تقریب التہذیب ج نمبر1 ص289
27.  دو قدیم صوفی مرتبہ میاں اخلاق احمد ص42
28.  تقریب التہذیب ج نمبر 2 ص280
29.  اصابہ لابن حجر ج نمبر 1 ص191
30.  جامع التحصیل للعلائی ص135، اصابہ لابن حجر ج نمبر 1 ص191، تہذیب الکمال للمزی ج نمبر 1 ص255۔ 259، تقریب التہذیب لابن حجر ج نمبر 1 ص165، تذکرة الحفاظ للذہبی ج نمبر 1 ص71، تعریف اہل التقدیس لابن حجر ص56، معرفة الثقات للعجلی ج نمبر 1 ص293، تہذیب التہذیب لابن حجر ج نمبر 2 ص263، جرح والتعدیل لابن ابی حاتم ج نمبر 3 ص40۔42، تاریخ یحییٰ بن معین ج نمبر 4 ص229، تاریخ الکبیر للبخاری ج نمبر 2 ص290، علل لابن مدینی ص 51۔ 53،ھدی الساری لابن حجر ص367، فتح الباری لابن حجر ج نمبر 1 ص109، ج نمبر 2 ص268، ج نمبر 4 ص 419، ج نمبر 5 ص89۔241۔ 307، ج نمبر 6 ص 437 ، ج نمبر 9 ص222۔ 382۔ 403، ج نمبر 10 ص277، ج نمبر 11 ص 69، ج نمبر 12 ص80، ج نمبر 13 ص 66، تحفة الاحوذی للمبارکفوری ج نمبر 1 ص535، ص 537۔ 538، ج نمبر 4 ص436۔ 520۔ 686، ج نمبر 6 ص591، ج نمبر 7 ص 111۔297۔ 484، ج نمبر 8 ص199، ج نمبر 9 ص187، نصب الرایہ للزیلعی ج نمبر 1 ص20۔48۔ 51۔88۔ 89۔ 90۔91۔ 172، 205، ج نمبر 2 ص92، 126، 159، 419، 476، ج نمبر 3 ص 221، 386، ج نمبر 4 ص39۔ 48۔ 164۔ 167۔ 270۔ 313، سنن الدارقطنی ج نمبر 1 ص102، سنن الکبریٰ للبیہقی ج نمبر 4 ص168، ج نمبر 5 ص288، 313، ج نمبر 6 ص42، ج نمبر 8 ص35، ج نمبر 10 ص70، 80، مستدرک للحاکم ج نمبر 1 ص171، 215، 274 ج نمبر 2 ص35۔
31.  بدایة النہایة لابن کثیر ج نمبر 6 ص223
32.  سنن نسائی مع تعلیقات السلفیہ ج نمبر 2 ص56 و کذا فی البدایة والنہایة لابن کثیر ج نمبر 9 ص95، سجتہ المرجان از غلام علی آزاد ص 21، خلافت راشدہ او رہندوستان للقاضی اطہر مبارکپوری ص36
33.  سنن نسائی مع تعلیقات السلفیہ ج نمبر 2 ص56
34.  ایضاً
35.  مجمع الزوائد للہیثمی ج نمبر 5 ص282
36.  ماہنامہ حکمت قرآن لاہور ج نمبر 6 عدد شمارہ نمبر 2 ص 37 مجریہ ماہ فروری 1987ء
37. میزان الاعتدال فی نقد الرجال للذہبی ج نمبر 4 ص461، تقریب التہذیب لابن حجر ج نمبر 2 ص379، تحفة الاحوذی للمبارکفوری ج نمبر 4 ص340
38.  میزان الاعتدال للذہبی ج نمبر 1 ص622
39.  معرفتہ الثقات للعجلی ج نمبر 1 ص366، جرح و التعدیل لابن ابی حاتم ج نمبر 3 ص613، تاریخ الکبیر للبخاری ج نمبر 3 ص421 ، ثقات لابن حبان ج نمبر 4 ص265
40.  معرفتہ الثقات للعجلی ج نمبر 1 ص 373، تقریب التہذیب لابن حجر ج نمبر 1 ص267، تہذیب التہذیب لابن حجر ج نمبر 3 ص366، تحفة اللطیفہ للسخاوی ج نمبر 2 ص86
41.  صحیح بخاری مع فتح الباری ج نمبر 6 ص136
42.  ایضاً
43.  مقدمہ لابن الصلاح مع تقیید والایضاح للعراقی ص 258
44.  ترجمہ کے لئے ''اصابہ فی تمیز الصحابہ'' لابن حجر ج نمبر 3 ص431 وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔
45.  فتح الباری لابن حجر ج نمبر 12 ص262، تقریب لابن حجر ج نمبر 1 ص474، میزان الاعتدال للذہبی ج نمبر 2 ص551، تحفة الاحوذی للمبارکفوری ج نمبر 2 ص118
46.  تقریب التہذیب لابن حجر ج نمبر 1 ص64، میزان الاعتدال للذہبی ج نمبر 1 ص208، تحفة الاحوذی للمبارکفوری ج نمبر 3 ص 243، فتح الباری لابن حجر ج نمبر 13 ص65
47.  میزان الاعتدال للذہبی ج نمبر 1 ص295، ضعفاء والمتروکین لابن الجوزی ج نمبر 1 ص134
48.  تقریب التہذیب لابن حجر عسقلانی ج نمبر 1 ص248
49.  میزان الاعتدال للذہبی ج نمبر 3 ص617، جرح والتعدیل لابن ابی حاتم ج نمبر 3 ص311، مجروحین لابن حبان ج نمبر 2 ص 264، کامل فی الضعفاء لابن عدی ج نمبر 2 ص2187، تقریب التہذیب لابن حجر ج نمبر 2 ص 182، کشف الحثیث للحلبی ص 386، ضعفاء والمترکون للنسائی ترجمہ نمبر 526، ضعفاء والمتروکون للدارقطنی ترجمہ نمبر 454 ، تاریخ الکبیر للبخاری ج نمبر 1 ص163، تاریخ الصغیر للبخاری ج نمبر 2 ص109، ضعفاء الصغیر للبخاری ترجمہ نمبر 329، ضعفاء الکبیرللعقیلی ج نمبر 4 ص101۔
50.  تقریب التہذیب لابن حجر ج نمبر 1 ص245، میزان الاعتدال للذہبی ج نمبر 2 ص41، تحفة الاحوذی للمبارکفوری ج نمبر 4 ص82۔
51. تاریخ یحییٰ بن معین ج3، ص160، 204، 255، تاریخ الکبیر للبخاری ج نمبر 4 ص114، ضعفاء الصغیر للبخاری ترجمہ نمبر 380، کُنٰی للمسلم نمبر 96، معرفة والتاریخ للبستوی ج نمبر 3 ص171، 206، ضعفاء والمتروکین للنسائی ترجمہ نمبر 590، جرح والتعدیل لابن ابی حاتم ج نمبر 4، ص 493، کُنٰی للدولابی ج نمبر 2 ص203، کامل فی الضعفاء لابن عدی ج نمبر 7 ص2516، ضعفاء الکبیر للعقیلی، ج نمبر 4 ص308، مجروحین لابن حبان ج نمبر 3 ص 60، ضعفاء والمتروکین للدارقطنی ترجمہ نمبر 55، تاریخ بغداد للخطیب ج نمبر 13، ص 430، میزان الاعتدال للذہبی ج نمبر 4 ص 246، تہذیب التہذیب لابن حجر ج نمبر 10 ص421، تقریب التہذیب لابن حجر ج نمبر 2 ص298، فتح الباری لابن حجر ج نمبر 2 ص371 ج نمبر 3 ص 375 ج نمبر 4 ص113 ج نمبر 5 ص197، 278 ج نمبر 8 ص 16 ج نمبر 9 ص 405 ج نمبر 13 ص55، سوالات محمد بن عثمان ص 100، تذکرة الحفاظ للذہبی ج نمبر 1 ص234 ، تحفة الاحوذی للمبارکفوری ج نمبر 1 ص279 ج نمبر 3 ص194۔
52. میزان الاعتدال للذہبی ج نمبر 1 ص448
53.  سہ ماہی فکر و نظر ماہ اکتوبر تا دسمبر 1988ء
54.  ماہنامہ ضیائے حرم لاہور ج نمبر 15 عدد نمبر 10 ص 49 ماہ جولائی 1985ء ،بشکریہ ''دعوت'' دہلی
55. ایضاً
56.  بدایة والنہایة لابن کثیر ج نمبر 6 ص223
57. تاریخ ہند مصنفہ توقیر پاشا ص144
58.  ایضاً ص 147
59.  ایضاً ص149
60. "Epigrafia, Indica" by Sten Konow
61. مسنداحمد ج نمبر 6 ص226
62. ایضاً
63. دارمی کتاب النکاح باب نمبر 2
64.  سورہ البقرہ:173
65.  خطوط اقبال مرتبہ رفیع الدین ہاشمی ص127 شائع کردہ مکتبہ خیابان ادب، لاہور
66. اقبال نامہ ج نمبر 1 ص78، رسالہ معارف ج نمبر 4 ص73 ماہ اپریل 1954ء
67. تلبیس ابلیس لابن الجزری مع تجنیس تدلیس ص248۔489
68.  نیوورلڈ آف اسلام ص20۔21
69. ماہنامہ حکمت قرآن لاہور ج نمبر 6 عدد نمبر 2 ص42
70.  توحید خالص قسط اوّل مصنفہ مسعود الدین عثمانی ص110 طبع علی گڑھ
71.  ماہنامہ حکمت قرآن لاہور ج نمبر 6 عدد نمبر 2 ص42
72.  کما فی مقدمہ تحفة الاحوذی للمبارکفوری ص135
73. ایضاً
74. ایضاً ص 136۔ 137
75.  رسالة المستطرفہ للکتانی ص151
76. سفر السعادة للفیروز آبادی ص145 مطبعہ دارالعصور 1332ھ، کشف الخفاء للعجلونی ج نمبر 2 ص92، ص 286، 293، 300، فوائد المجموعہ للشوکانی ص147، 217، 257، أسنی المطالب للحوت ص 130، اسرار المرفوعہ للقاری ص270، المصنوع فی معرفة الاحادیث الموضوع للقاری ص27، 61، 90، 91، 112، 114، 129، 150، 155، 177، 182، 204، 214، 218،231، 232، 236، 237، 238، 245، 248، سلسلہ الاحادیث الضعیفہ والموضوعہ للالبانی ج نمبر 1 ص65، 165
77. الاعلام لخیر الدین زرکلی ج نمبر 2 ص232، طبع قاہرہ 1959ء بغیتہ الوعاة للسیوطی ج نمبر 1 ص519، داراحیاء الکتب العربیہ 1964ء الجواہر المضیتہ للقرشی ج نمبر 1 ص201، 202، شذرات الذہب ج نمبر 5، ص250، العبر ج نمبر 5 ص 205۔ 206، العقد الثمین ج نمبر 4 ص176۔ 179، فوات الوفیات ج نمبر 1 ص1261،۔ 262، معجم الادباء ج نمبر 9 ص189۔ 191، النجوم الطاہرہ ج نمبر 7 ص26، طبع دارالکتب المصریہ 1932ء، تاریخ التراث العربی للفواد سزکین ج نمبر 1 ص201، رسالتہ المستطرفہ للکتانی ص 151، طبع دارالفکر بدمشق 1964ء مقدمہ تحفة الاحوذی للمبارکفوری ص135۔ 137
78.  الجواہر المضیتہ للقرشی ج نمبر 2 ص169
79.  ایضاً ج نمبر 2 ص308
80.  مقدمہ تحفة الاحوذی للمبارکفوری ص189۔ 190، بحوالہ اخبارالاخبار للدھلوی۔
81.  ماہنامہ حکمت قرآن لاہور ج نمبر 6 عدد نمبر 2 ص44
82.  ایضاًؐ ج نمبر 6 ص46 عدد نمبر 2
83. الحطتہ للنواب صدیق حسن خان ص 70
84.  ماہنامہ حکمت قرآن لاہور ج نمبر 6 عدد نمبر 2 ص46
85. ایضاً
86.  الاتحاف النبلاء المتقین للنواب صدیق حسن خاں ص 43 و ابجد العلوم للنواب صدیق حسن خاں ص849 وغیرہ۔
87.  الحطتہ للبوفالی ص 70
88. مقدمہ تحفة الاحوذی للمبارکفوری ص 26
89. شاہ ولی اللہ او ران کا فلسفہ از عبیداللہ سندھی ، ص215
90.  توحید خالص قسط اوّل از ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی ، ص146
91. مقدمہ تحفة لللحوذی للمبارکفوری ، ص27
92.  ایضاً ص 27۔ 28
93. تقصار من تذکار جیود الاحرار للبوفالی ، ص192
94.  نزہتہ الخواطر و بہجتہ المسامع والنواظر للحسنی ج نمبر 7 ص302
95. مقدمہ غایتہ المقصود فی حل سنن ابی داؤد للعظیم آبادی
96. صوت الجامعہ بنارس ماہ فروری 1974ء
97.  تراجم علمائے حدیث ہند مصنفہ ابویحییٰ امام خاں نوشہروی ج نمبر 1 ص36 طبع دہلی
98.  ہندوستان میں اہلحدیث کی علمی خدمات ص 26 طبع لاہور
99.  پندرہ روز ہ ترجمان دہلی مارچ 1968ء
100.  الہوذ ص 388 بحوالہ پندرہ روزہ ترجمان دہلی مارچ 1968ء
101. حیات عبدالحئ از مولانا ابوالحسن علی الندوی ص 63 طبع دہلی
102. تراجم علمائے حدیث ہند ج نمبر 1 ص37
103. صوت الجامعہ بنارس بابت رجب المرجب 1394ھ
104. تذکرہ علمائے حال ص 43، نزہتہ الخواطر ج نمبر 8 ص 242، مقدمہ مختارات الاحادیث والحکم النبویہ للشیخ عبدالوہاب ص3، تذکرہ علمائے مبارکپور للقاضی اطہر مبارکپوری ص145۔ 156.صوت الجامعہ بنارس ماہ فروری، مئی و اگست 1974ء
105. تاریخ حدیث و محدثین (ترجمہ الحدیث والمحدثون، مترجم غلام احمد حریری) ص588۔ 589، طبع لاہور و مقالات محمد زاہد الکوثری ص71
106. مقدمہ مفتاح کنوز السنہ ص ق طبع داراحیاء التراث العربی بیروت 1983ء
107. ہفت روزہ آئین لاہور (ماہانہ ایڈیشن) ماہ دسمبر 1988ء ص 45