آیت نمبر 48:
وَٱتَّقُوا يَوْمًا لَّا تَجْزِى نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ شَيْـًٔا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَـٰعَةٌ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلَا هُمْ يُنصَرُ‌ونَ ﴿٤٨...سورۃ البقرۃ
ترجمہ: ''اور اس دن سے ڈرو جب کوئی شخص کسی کے کام نہیں آئے گا۔ کسی کی سفارش منظور نہیں کی جائے گی اور نہ ہی کسی سے کسی طرح کا بدلہ قبول ہوگا۔ نہ ہی لوگ (کسی اور طرح) مدد حاصل کرسکیں گے۔''

ہمارے پیغمبر ہمیں چھڑا لیں گے !

مذکورہ اعلان اللہ تعالیٰ کی طرف سے بنی اسرائیل کے اس دعوے کی تردید ہے جس میں وہ کہتے تھے کہ ہم چاہے کتنے ہی گناہ کرتے رہیں، ہمارے باپ دادا اور پیغمبر ہمیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا لیں گے۔ بنی اسرائیل کے اس دعوے سے مکمل مماثلت رکھتے ہوئے اسی دعویٰ کے الفاظ آج کل ایک گروہ کے ہونٹوں سے یوں ادا ہوتے ہیں۔
''ہم عشق رسولﷺ سے سرشار ہیں۔ ہم احکامات نبویہ ﷺ کی چاہے کتنی حکم عدولی کرتے رہیں۔ آخر کار نبئ رحمت ﷺ ہماری محبت اور عشق کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا لیں گے۔''

اس دن کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا:
اللہ تعالیٰ ایسے فکری مغالطے کے شکار انسانوں کو بار بار اپنا حکم سناتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَلَا تَزِرُ‌ وَازِرَ‌ةٌ وِزْرَ‌ أُخْرَ‌ىٰ...﴿١٨﴾...سورۃ الفاطر
ترجمہ:''اور کوئی شخص کسی کے (گناہ کا ) بوجھ نہیں اٹھائے گا۔''

دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں:
لِكُلِّ ٱمْرِ‌ئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ ﴿٣٧...سورۃ عبس
ترجمہ: ''اور ہر شخص اس روز ایک فکر میں مبتلا ہوگا، وہی اس کے لیے کافی ہوگا۔''

اور فرمایا:
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُوا رَ‌بَّكُمْ وَٱخْشَوْايَوْمًا لَّا يَجْزِى وَالِدٌ عَن وَلَدِهِۦ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِۦ شَيْـًٔا...﴿٣٣﴾...سورۃ لقمان
ترجمہ: ''اے لوگو! ڈرو اپنے رب سے اور ڈرو اس دن سے جس دن کوئی باپ اپنے بیٹے کے بدلے کام نہیں آئے گا اور نہ ہی کوئی بیٹا اپنے باپ کے بدلہ میں جزاپائے گا۔''

کتنے گستاخ ہیں وہ لوگ!
جواللہ تعالیٰ کے ان واضح اعلانات کے باوجود اپنی اسی فکری گمراہی پر مُصر اور نازاں ہیں ان سے بڑھ کر گستاخ الٰہ کون ہوسکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، باپ کا بیٹے کے کام آنا یا بیٹے کا باپ کے کام آنا تو بہت دور کی بات ہے اس دن تو بھائی، باپ اور ماں ایک دوسرے سے بھاگیں گے۔ البتہ زیر نظر آیت میں پہلےنفس کا استعمال نفس مؤمنہ کے لیے ہے اور دوسرے نفس سے مراد نفس کافرہ ہے۔ یعنی کسی اللہ کے فرماں بردار کی اطاعت کسی نافرمان کی معصیت کی وجہ سے ملنے والی سزا کو دور نہیں کرسکے گی اور ن ہی کسی کی سفارش چل سکے گی جس پر جو سزا اللہ کی طرف سے لازم قرار دی گئی اس کا بھگتنا اس کے لیے ضروری ہوگا۔

مزید وضاحت کےلیے اللہ جل شانہ فرماتے ہیں:
فَمَا تَنفَعُهُمْ شَفَـٰعَةُ ٱلشَّـٰفِعِينَ ﴿٤٨...سورۃ المدثر
ترجمہ: ''کسی سفارش کرنے والے کی سفارش انہیں فائدہ نہیں پہنچا سکے گی۔''

اسی طرح دوزخ میں اسیر گنہگاروں کی زبان سے اس کی تصدیق کراتے ہوئے فرمایا:
فَمَا لَنَا مِن شَـٰفِعِينَ ﴿١٠٠﴾ وَلَا صَدِيقٍ حَمِيمٍ ﴿١٠١...سورۃ الشعراء
ترجمہ: ''(اور اہل نار کہیں گے ) کوئی نہیں ہماری سفارش کرنے والا اور نہ ہی کوئی گہرا دوست۔''

اسی طرح اگر کوئی یہ چاہے یا سوچے کہ اس دن کوئی فدیہ یا بدلہ دے کر رہائی ہو جائے گی تو یہ بھی ناممکن ہے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُ‌واوَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ‌ فَلَن يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِم مِّلْءُ ٱلْأَرْ‌ضِ ذَهَبًا وَلَوِ ٱفْتَدَىٰ بِهِۦٓ ۗ أُو۟لَـٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ وَمَا لَهُم مِّن نَّـٰصِرِ‌ينَ ﴿٩١...سورۃ آل عمران
ترجمہ: ''اور وہ لوگ جو کافر ہوئے اور کفر ہی کی حالت میں مرگئے، ان میں سے کسی ایک سے زمین بھر کا سونا بھی بدلے میں قبول نہیں کیا جائے گا۔''

دوسری جگہ اسی مفہوم کو ان الفاظ میں بیان فرمایا:
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُ‌وا لَوْ أَنَّ لَهُم مَّا فِى ٱلْأَرْ‌ضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُۥ مَعَهُۥ لِيَفْتَدُوا بِهِۦ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ ٱلْقِيَـٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿٣٦...سورۃ المائدہ
ترجمہ: ''بلا شبہ وہ لوگ جو کافر ہوئے، چاہے ان کے پاس اتنا مال ہو جو ساری زمین میں پائی جانے والی دولت کے برابر ہو، اس کے برابر اور بھی مزید ہو۔ انہیں قیامت کے دن عذاب سے رہائی نہیں دلوا سکے گا، نہ ہی اسے قبول کیا جائے گا۔ ان کے لیے دردناک عذاب مقدر ہوچکا ۔''

ایک اور آیت میں ارشاد فرمایا:
وَإِن تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا يُؤْخَذْ مِنْهَآ...﴿٧٠﴾...سورۃ الانعام
ترجمہ: ''اگر بدلہ دے ہر امکانی بدل سے تو بھی ان سے قبول نہیں کیا جائے گا۔''

واضح تنبیہہ:
ارشاد ہے:
فَٱلْيَوْمَ لَا يُؤْخَذُ مِنكُمْ فِدْيَةٌ وَلَا مِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُ‌وا  ۚ مَأْوَىٰكُمُ ٱلنَّارُ‌ ۖ هِىَ مَوْلَىٰكُمْ ۖ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ‌ ﴿١٥...سورۃ الحدید
ترجمہ: ''آج کے دن نہ تم سے کوئی فدیہ قبول ہوگا اور نہ ہی ان لوگوں سے جو کافر ہیں، (فیصلہ کن بات یہ ہے) کہ تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے اور یہی دوزخ تمہارا دوست ہے۔''

گویا،ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فیصلہ کو بار بار سناتے ہوئے بتا دیا ہے کہ جو لوگ اس دنیا میں نہ رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کو سچ مانتے ہیں، نہ ہی ان کی اطاعت کرتے ہیں تو قیامت کے دن ہمارا رویہ ان سے ایسا ہی ہوگا کہ نہ کوئی رشتہ داری ان کے کام آئے گی، نہ کسی بڑے شخص (چاہے وہ ولی یا کسی دوسرے اعزازی نام سے پکارا جاتا ہو) کی سفارش کام آئے گی۔ اس کے علاوہ اگر زمین بھر کا سونا بھی دیں تو وہ بھی ان سے قبول نہیں ہوگا۔

گویا محض دعوائے عشق بغیر اطاعت کے بے کار ہے۔

سودے بازی ، دوستی اور سفارش :
قیامت کے دن۔ عدالت کی کارروائی کیسی ہوگی۔ اس کی ترجمانی اللہ تعالیٰ یوں فرماتے ہیں:
مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَـٰعَةٌ...﴿٢٥٤﴾...سورۃ البقرۃ
ترجمہ: ''خبردار ہوجاؤ اس دن کے ہونے سے پہلے جس دن نہ سودے بازی ہوگی نہ دوستی اور نہ ہی سفارش چلے گی۔''

اور مزید ہوش اُڑا دینے والا ارشاد سنئے :
يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خِلَـٰلٌ ﴿٣١...سورۃ ابراھیم
''نہ ہی اس میں کسی قسم کی تجارت (Horse Trading) ہوگی نہ دوستی (دوست نوازی) ہوگی جو اس کو اس کی سزا سے عافیت دلا سکے۔''

عدل سے کیا مراد ہے؟ :
ابن عباسؓ فرماتے ہیں۔ عدل سے مراد بدل ہے اور بدل ''فدیہ'' کہلاتا ہے چنانچہ اسلاف کی ایک جماعت بھی اسی معنی سے متفق ہے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے خیال میں ''صَرف نفل ہے، عدل فریضہ ہے'' لیکن یہ غریب قول ہے اور پہلی رائے ہی قرین قیاس ہے۔ ایک حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ عدل ''فدیہ'' ہے یہ حدیث ابن جریر نے روایت کی ہے۔

مقصد تفکریہ ٹہرا کہ گنہگاروں کو مدد نہیں ملے گی۔ وہاں کوئی شخص ایسا نہیں ہوگا جو بارگاہ خداوندی میں سفارش کرنے کی جرأت و ہمت رکھے کہ وہ کسی کو عذاب الٰہی سے نجات دلا دے، غرض نہ کوئی اپنا ہوگا نہ پرایا، جو کسی کے کام آسکے۔

چنانچہ فَمَا لَهُۥ مِن قُوَّةٍ وَلَا نَاصِرٍ‌ۢ سے بھی یہی مراد ہے کہ کافر کو عذاب سے رہائی دلانے میں نہ کوئی قوت اور نہ ہی کوئی مدد یا فدیہ کارگر ہوگا۔

نبی اکرم ﷺ کی اطاعت سے گریز اور محض محبت رسولﷺ کا دعویٰ کرنا، اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل سے فرار اور اس کے محبوب و منتخب نبی ﷺ سے سفارش یا شفاعت کی امید رکھنے کا انجام کیا ہوگا۔ مزید وضاحت کرنے والی مندرجہ ذیل آیات الٰہیہ پر غور فرمائیں۔

ارشاد ہے :
وَهُوَ يُجِيرُ‌ وَلَا يُجَارُ‌ عَلَيْهِ...﴿٨٨﴾...سورۃ المومنون
ترجمہ: ''وہ (اللہ جل شانہ سب سے بچانے کی مکمل قدرت رکھتا ہے)  وہ پناہ دیتا ہے، مگر اس کے خلاف پناہ نہیں دی جاسکتی۔''

اپنی کبریائی کی ہیبت سے مبہوت انسانوں کی بے بسی کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد ہے:
فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُۥٓ أَحَدٌ ﴿٢٥﴾ وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُۥٓ أَحَدٌ ﴿٢٦...سورۃ الفجر
ترجمہ: ''اس دن اس کے عذاب سے زیادہ کسی کا عذاب نہیں ہوگا۔ اور اس کی کڑی گرفت سے زیادہ کسی کی مضبوط گرفت نہیں ہوگی۔''

اس دن بڑے بڑے متکبرین کا عالم بیان فرماتے ہوئے ارشاد ہے:
مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُ‌ونَ ﴿٢٥﴾ بَلْ هُمُ ٱلْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُونَ ﴿٢٦...سورۃ الصافات
ترجمہ: ''تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے بلکہ آج کے دن تو وہ فرماں بردار ہیں۔''

اللہ سے قربت حاصل کرنے کا وسیلہ اور اس کا حشر :
فَلَوْلَا نَصَرَ‌هُمُ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوامِن دُونِ ٱللَّهِ قُرْ‌بَانًا ءَالِهَةًۢ ۖ بَلْ ضَلُّواعَنْهُمْ ۚ وَذَ‌ٰلِكَ إِفْكُهُمْ وَمَا كَانُوايَفْتَرُ‌ونَ ﴿٢٨...سورۃ الاحقاف
ترجمہ: ''تو پھر جن کو ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے تقرب کےلیے اللہ کے سوا معبود بنایا ہوا تھا انہوں نے ان کی کیوں مدد نہ کی بلکہ وہ ان کے سامنے سے گم ہوگئے اور یہ ان کا جھوٹ تھا اور یہی وہ افترا کیا کرتے تھے۔''

اللہ تبارک و تعالیٰ سے قربت حاصل کرنے یا خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جن اشخاص کو بھی وسیلہ بنایا جائے اللہ تعالیٰ کا ان وسیلوں کے بارے میں کیا فیصلہ ہے، ہر صاحب ہوش کو فکری گمراہیوں سے بچانے کے لیے یہی کافی ہے۔

ابن جریر فرماتے ہیں کہ اس آیت کے معنی یہی ہیں کہ اس دن کوئی کسی کی مدد کرے گا نہ کسی کی سفارش چلے گی، نہ ہی کوئی بدلہ قبول ہوگا، نہ فدیہ لیا جائے گا گویا دوستی باطل، شفاعت بے کار، رشوت مسترد، تعاون ناممکن، اس دن ترازوئے عدل اس عادل اعلیٰ کے ہاتھ میں ہوگا۔جو بدی کی سزا اس کے برابر اور نیکی کا اجر کئی گنا دے گا۔

حتمی فیصلہ یہی ہے کہ:
مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُ‌ونَ ﴿٢٥﴾ بَلْ هُمُ ٱلْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُونَ ﴿٢٦﴾ وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَآءَلُونَ ﴿٢٧...سورۃ الصافات
''کھڑا رکھو ان سے پوچھنا ہے! کیا ہوا تم کو آج ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے؟ بلکہ آج کے دن تو وہ بڑے مطیع و فرماں بردار ہورہے ہیں۔''

غرض اہل کتاب ہوں یا مشرکین، اس دن کسی کی رہائی ناممکن ہے۔ وہ دن دنیا داروں کا سا دن نہیں ہوگا۔ جہاں لینے دینے، کھانے کھلانے، خوشامد و آمد، سعی و سفارش سے کام بن جائے یا بھائی بند مدد کریں یا دوست آشنا کام آئیں یا باپ دادا بچالیں۔

آیت نمبر 49:
وَإِذْ نَجَّيْنَـٰكُم مِّنْ ءَالِ فِرْ‌عَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ يُذَبِّحُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ ۚ وَفِى ذَ‌ٰلِكُم بَلَآءٌ مِّن رَّ‌بِّكُمْ عَظِيمٌ ﴿٤٩...سورۃ البقرۃ
ترجمہ: ''اور جب نجات دی ہم نے تم کو آل فرعون سے جو تمہیں بڑی تکلیف دیتا تھا۔ تمہارے بیٹوں کو ذبح کردیتا اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رکھتا اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لئے کڑی آزمائش تھی۔''

ابن کثیر لکھتے ہیں کہ فرعون نے خواب دیکھا کہ ایک آگ بیت المقدس سے نمودار ہوکر مصر کے شہروں میں قبطیوں کے گھروں میں داخل ہوئی ہے اور بنی اسرائیل کے گھروں کو چھوڑ کر باقی سب کو جلا کر راکھ کردیا ہے۔ اس خواب سے فرعون ڈر گیا۔

تعبیر پوچھی گئی تو کسی نے کہا کہ فرعون شاہی کا زوال بنی اسرائیل کے ہاتھوں ہونے والا ہے۔ فرعون کو بتانے والوں نے یہ بھی بتایا کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص پیدا ہونے والا ہے جس کی وجہ سے انہیں دولت و اقتدار حاصل ہوگا۔ انہیں اطلاعات کی بناء پر فرعون نے عام اعلان کردیا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہو اسے جان سے مار دو اور جو لڑکی پیدا ہو اسے زندگی رہنے دو! علاوہ ازیں فرعون نے بنی اسرائیل سے بڑی ذلیل کن اور گھٹیا قسم کی خدمات لینا شروع کردیں۔

فرعون کون تھا؟:
ابن کثیر کہتے ہیں کہ عمالقہ نام کی قوم اپنے ہر بادشاہ کو ''فرعون'' کے لقب سے پکارتی تھی، جس طرح روم اور شام کے لوگ اپنے حکمران کو قیصر کے نام سے پکارتے، ایرانی اپنے بادشاہوں کو کسریٰ، یمن والے اپنے حاکم کو تبع، حبشہ والے اپنے بادشاہ کو نجاشی، ہندوستان والے اپنے بادشاہ کو جیپال، چین والے خاقان اور یونان والے اپنے بادشاہ کو بطالسہ کے نام سے پکارتے تھے۔

ابن کثیر کہتے ہیں حضرت موسیٰ کے زمانہ کا ''فرعون ولید بن مصعب بن ریان'' ہے۔ کسی نے کہا اس کا خاندان عملیق بن اود بن ارم بن سام بن نوح سے تھا۔ اس کی کنیت ابومرہ تھی، فارس نزاد اہل اضطخرا (ایک مقام) سے تھا۔

فتح البیان میں لکھا ہے کہ اہل کتاب کی کتابوں میں اس کا نام ''قابوس'' تھا۔ 400برس سے زیادہ اس کی عمر تھی۔ حضرت موسیٰ کی عمر 1002 برس تھی۔

مسعودی کہتے ہیں کہ عربی میں فرعون کے کوئی معنی نہیں۔ جوہری کہتے ہیں کہ فرعون سرکش، جبار، متکبر اور مکار کو کہتے ہیں۔

بَلَاءً سے کیا مراد ہے؟ :
لفظ بَلَاءً... خیر اور شر دونوں کے حوالے سے استعمال ہوتا ہے۔ یہاں اگر بَلَاءً کے معنی خیر لئے جائیں تو خیر یہ تھی اللہ نے ان کے آباء و اجداد کو فرعون کے عذاب سے نجات دی یہی وجہ ہے کہ ابن جریر، مجاہد اور ابن عباسؓ نے اس جگہ '' بَلَاءً '' کا ترجمہ نعمت عظیم کیا ہے۔

اور اگر مراد شر ہے تو اس شر سے مراد فرعون کا بنی اسرائیل کے لڑکوں کو ذبح کرنا اور بیٹیوں کو زندہ رکھنا مراد ہے۔ سدی اور ابوالعالیہ نے کہا کہ بَلَاءً کے آزمائش ہیں۔ آزمائش کبھی ''خیر'' اور کبھی ''شر'' دونوں صورتوں میں ہوتی ہے جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں فرمایا:
وَنَبْلُوكُم بِٱلشَّرِّ‌ وَٱلْخَيْرِ‌ فِتْنَةً...﴿٣٥﴾...سورۃ البقرۃ
ترجمہ: ''اور ہم تمہاری آزمائش کرتے ہیں بُرائی اور بھلائی سے۔''

دوسری جگہ فرمایا:
وَبَلَوْنَـٰهُم بِٱلْحَسَنَـٰتِ وَٱلسَّيِّـَٔاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْ‌جِعُونَ ﴿١٦٨...سورۃ الاعراف
ترجمہ: ''اور ہم نے ان کو اچھائیوں اور بُرائیوں میں آزمایا تاکہ وہ (ہماری طرف) لوٹ آئیں۔''

آیت نمبر 50:
وَإِذْ فَرَ‌قْنَا بِكُمُ ٱلْبَحْرَ‌ فَأَنجَيْنَـٰكُمْ وَأَغْرَ‌قْنَآ ءَالَ فِرْ‌عَوْنَ وَأَنتُمْ تَنظُرُ‌ونَ ﴿٥٠...سورۃ البقرۃ
ترجمہ: ''اور جب ہم نے تمہارے لئے دریا کو پھاڑ دیا اور تم کو نجات دے کر فرعون کی قوم کو (اسی میں)غرق کردیا، اور تم دیکھ ہی رہے تھے۔''

یہ قصہ تفصیل کے ساتھ سورہ شعراء میں بیان ہوگا۔ یہاں صرف ''تم دیکھ ہی رہے تھے'' کے بارے میں توجہ دلائی جائے گی۔

''دیکھنے'' کو یہاں اس لئے اہمیت دی گئی ہے تاکہ بنی اسرائیل کو اپنے دشمن کی غرقابی سے جو تسکین ہوئی تھی اس کی یاددہانی کرائی جائے۔ دشمن ان کے آنکھوں کے سامنے کس طرح ذلیل و خوار ہوا، اس کا احساس دلایا جائے۔

مرغِ سحر کی آواز :
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ جب موسیٰ اپنی قوم کو لے کر مصر سے نکلے، فرعون کو اطلاع ہوئی تو اس نے کہا ''جب تک مرغ سحر کی آواز نہ سنو ان کا پیچھا نہ کرنا''

اللہ کی شان، اس رات مرغ کی آواز ہی غائب رہی، صبح کے وقت ایک بکرا ذبح کیا اور حکم دیا میرے اس بکرے کی بھونی ہوئی کلیجی کھانے تک چھ لاکھ قبطی جمع ہوجائیں۔ چنانچہ ایسے ہی ہوا۔ فرعون اپنی افواج کو لے کر چلا۔

ادھر موسیٰ جب دریائے نیل کے کنارے آپہنچے تو ان کے ایک ساتھی یوشع بن نون نےکہا اے موسیٰ تیرے رب کا حکم کیا ہے۔

موسیٰ نے دریا پار کرنے کا اشارہ کیا یوشع بن نون گھوڑے سمیت دریا میں اترے مگر غوطہ کھانے لگے پلٹ آئے، پھر موسیٰ کے حکم کی تعمیل میں گھوڑے سمیت دریا میں اترے، پھر غوطوں کی نوبت آئی تو پلٹ آئے اور کہا یہ کیسا حکم ہے تمہارے رب کا؟

حضرت موسیٰ نے کہا واللہ نہ میں جھوٹا ہوں نہ تم جھوٹے ہو۔ میرے اللہ کا یہی حکم ہے۔

اسی کشمکش میں تھے کہ وحی نازل ہوئی۔ حکم ہوا کہ اپنا عصا دریا کو مارو، موسیٰ نے حکم کی تعمیل کی عصا مارا تو دریا پھٹ گیا۔ درمیان میں 12 راستے نمودار ہوئے۔

پانی دونوں طرف پہاڑوں کےسلسلہ کی طرح منجمد ہوکر رہ گیا، موسیٰ اپنی قوم کے ہمراہ ثابت و سالم........ ان راہوں سے گزر کر کنارے پہنچ گئے۔

اس اثناء میں فرعون کی افواج بھی اس کنارے آپہنچیں۔ دریا میں موجود راستوں سے گزر کر دوسرے کنارے پہنچنا چاہا مگر درمیان میں پہنچے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے دریا کو روانی کا حکم دے دیا۔ جس کے نتیجہ میں فرعون اپنی افواج سمیت غرق ہوگیا۔ اور موسیٰ کی قوم ان کے غرق ہونےکو اپنی آنکھوں سے دیکھتی رہی۔ کہتے ہیں کہ یہ عاشورہ کا دن تھا۔

یوم عاشورہ :
ابن عباسؓ فرماتے ہیں: جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہود عاشورہ کے دن رو زہ رکھتے ہیں۔ آپﷺ نے پوچھا۔ اس دن کی خصوصیت کیا ہے جو تم روزہ رکھتے ہو۔ تو انہوں نے کہا۔ یہ وہ دن ہے جس دن موسیٰ کی قوم بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے فرعون سے نجات دلائی اور موسیٰ نے اس دن روزہ رکھا تھا۔ تو نبئ رحمتﷺ نے فرمایا۔ تم سے زیادہ موسیٰ کا حق دار میں ہوں اور پھر روزہ رکھا اور سب کو حکم دیا کہ روزہ رکھو۔ (1)اس حدیث کو مسلم، بخاری،نسائی اور ابن ماجہ نے بھی روایت کیا ہے۔ انسؓ کی مرفوعاً روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی نجات کے لیے عاشورہ کے دن دریا پھاڑا۔ اسے ابویعلی نے روایت کیا ہے لیکن سند ضعیف ہے۔ زید عمی اس کے راوی میں ضعف ہے۔ ان کے شیخ یزید رقاشی بھی ضعیف ہیں۔

فتح البیان میں ہے کہ موسیٰ کے اس عظیم معجزہ کا اعتراف کرنا بنی اسرائیل پر واجب ہے تو نبی اکرم ﷺ کا ماضی کے اندھیروں میں چھپے ہوئے اس معجزہ کو ''ہو بہو'' جیسے واقعہ ہوا اس طرح بیان کرنا اس سے بھی بڑا معجزہ ہے، لہٰذا نبی اکرم ﷺ کی عظمت کو تسلیم کرنا بنی اسرائیل کی آنے والی نسل پر لازم ہے۔

آیت نمبر 51:
وَإِذْ وَ‌ٰعَدْنَا مُوسَىٰٓ أَرْ‌بَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ ٱتَّخَذْتُمُ ٱلْعِجْلَ مِنۢ بَعْدِهِۦ وَأَنتُمْ ظَـٰلِمُونَ ﴿٥١...سورۃ البقرۃ
ترجمہ: ''اور جب ہم نے موسیٰ سے چالیس رات کا وعدہ کیا تو تم نے ان کے پیچھے بچھڑے کو معبود مقرر کرلیا اور تم ظلم کررہے تھے۔''

پورا واقعہ سورہ الاعراف اور طہٰ میں آئے گا۔ سورہ اعراف میں فرمایا:
وَوَ‌ٰعَدْنَا مُوسَىٰ ثَلَـٰثِينَ لَيْلَةً وَأَتْمَمْنَـٰهَا بِعَشْرٍ‌ۢ...﴿١٤٢﴾...سورۃ البقرۃ
ترجمہ: '' اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات میعاد مقرر کی اور دس راتیں اور ملا کر اسے پورا ''چلّہ'' کردیا۔''

کہتے ہیں کہ ایک مہینہ ذی قعدہ اور دس دن ذی الحج کے تھے اور یہ واقعہ فرعون سے نجات اور دریا سے پار اتر جانے کے بعد ہوا تھا۔ اور ''تم ظلم کررہے تھے'' اس لیے فرمایا کہ انہوں نے شرک کیا ، شرک سےبڑا کوئی دوسرا ظلم نہیں۔

آیت نمبر 52:
ثُمَّ عَفَوْنَا عَنكُم مِّنۢ بَعْدِ ذَ‌ٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُ‌ونَ ﴿٥٢...سورۃ البقرۃ
ترجمہ: ''پھر اس کے بعد ہم نے تم کو معاف کردیا تاکہ تم شکر گزار رہو۔''

موسیٰ کے کوہ طور پر جانے کے بعد بنی اسرائیل نے ایک بچھڑے کو پوجا تھا۔ اللہ نے ان کا یہ قصور معاف کردیا، اپنا احسان یاد دلایا۔ کہتے ہیں اس بچھڑے کا نام 'بہموت' یا 'بہبوت' تھا۔ لفظ موسیٰ عجمی اور عبرانی کا نام ہے۔ 'مو' ماء کو کہتے ہیں، 'شا' شجر کو بولتے تھے۔ ان کو پانی اور درخت کے درمیان سے پایا تھا، اس لیے 'موسیٰ' کہنے لگے۔ 'ش' تبدیل ہوکر ' س' ہوگیا۔ ' شکر' کہتے ہیں محسن کی تعریف کرنے کو، اس کا احسان ماننے کو۔

آیت نمبر 53:
وَإِذْ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْفُرْ‌قَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ﴿٥٣...سورۃ البقرۃ
ترجمہ: ''اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور معجزے عنایت کئے تاکہ تم ہدایت حاصل کرو۔''

کتاب سے اس جگہ تورات مراد ہے۔ فرقان وہ ہے جو حق و باطل اور ہدایت و ضلالت میں فرق کردے۔ کسی نے کہا فرقان یہ تھا کہ فرعون کو ڈبو دیا، کسی نے کہا فرقان وہ ہے جو حلال و حرام میں تمیز پیدا کرے۔ اولیٰ یہ ہے کہ فرقان سے مراد حجت و بیان الٰہی ہے جیسے ''عصا '' اور ''یدبیضا'' وغیرہ یعنی ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، معجزات دیئے، اس کے بعد بنی اسرائیل کی توبہ کی تفصیل بیان فرمائی۔

آیت نمبر 54:
وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦ يَـٰقَوْمِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنفُسَكُم بِٱتِّخَاذِكُمُ ٱلْعِجْلَ فَتُوبُوٓا إِلَىٰ بَارِ‌ئِكُمْ فَٱقْتُلُوٓاأَنفُسَكُمْ ذَ‌ٰلِكُمْ خَيْرٌ‌ لَّكُمْ عِندَ بَارِ‌ئِكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّ‌حِيمُ ﴿٥٤...سورۃ البقرۃ
ترجمہ: ''اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا اے قوم! تم نے بچھڑے کو معبود ٹھہرانے میں بڑا ظلم کیا ہے۔ تم اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے توبہ کرو اور اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالو۔ تمہارے خالق کے نزدیک تمہارے حق میں یہی بہتر ہے۔ پھر اس نے تمہارا قصور معاف کردیا وہ بیشک معاف کرنے والا اور صاحبِ رحم ہے۔''

لفظ ''باری'' کے استعمال سے یہ جتایا کہ وہ تمہارا خالق تھا، تم نے بڑا گناہ کیا اس کو چھوڑ کر غیر کی پوجا کی۔ ابن عباسؓ کا فرمان ہے کہ ان کی توبہ یہ تھی کہ جو شخص جس سے ملے باپ ہو یا بیٹا اس کو تلوار سے قتل کرے اور اس چیز کی پرواہ نہ کرے کہ کس نے کس کو مارا۔ جن لوگوں کا حال حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام پر مخفی رہا تھا اور اللہ کو ان کے گناہوں کا علم تھا، انہوں نے توبہ کی، اپنے گناہوں کا اقرار کیا، اللہ کا حکم بجا لائے، اللہ نے قاتل و مقتول دونوں کو بخش دیا۔ 2

ابن کثیر نے فرمایا کہ یہ ایک ٹکڑا ہے ''حدیث الفتون'' کا، سورہ طہٰ میں یہ پورا بحث آئے گی۔ ابن عباسؓ کا فرمان ہے، حضرت موسیٰ نے اللہ کے حکم سے بنی اسرائیل کو یہ حکم دیا تھا کہ جن لوگوں نے بچھڑے کی پوجا کی وہ ایک دوسرے کو قتل کریں۔ وہ لوگ جنہوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی، خنجر لے کر نکلے اور قتل کرنا شروع کیا، اتنے میں سخت اندھیرا چھا گیا جب اندھیرا دور ہوا تو دیکھا کہ ستر ہزار آدمی مقتول ہوئے تھے، جو شخص قتل ہوا اس کی توبہ قبول ہوئی اور جو بچ گیا وہ بھی تائب ٹھہرا۔ (ابن جریر)

آیت نمبر 55، 56:
وَإِذْ قُلْتُمْ يَـٰمُوسَىٰ لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ نَرَ‌ى ٱللَّهَ جَهْرَ‌ةً فَأَخَذَتْكُمُ ٱلصَّـٰعِقَةُ وَأَنتُمْ تَنظُرُ‌ونَ ﴿٥٥﴾ ثُمَّ بَعَثْنَـٰكُم مِّنۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُ‌ونَ ﴿٥٦...سورۃ البقرۃ
ترجمہ: ''اور جب تم نے موسیٰ سے کہا کہ اے موسیٰ ہم اس وقت تک تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک اللہ کو سامنے نہ دیکھ لیں گے، پس تم کو بجلی نے آگھیرا اور تم اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ پھر موت آجانے کے بعد ہم نے تم کو از سر نو زندہ کیا تاکہ احسان مانو۔''

ابن عباسؓ نے کہا ''جہرۃ'' کے معنی ''علانیۃ'' ہیں۔ قتادہؓ نے فرمایا ''عیانا'' ہیں۔ یہ ستر آدمی تھے جن کو حضرت موسیٰ نے اپنے ساتھ لے جانے کے لئے منتخب کیا تھا۔ انہوں نے اللہ کی گفتگو سن کر کہا کہ ہم تب ایمان لائیں گے جب اللہ کو اپنے سامنے دیکھیں گے اس پر بجلی کڑکی، آواز سن کر مرگئے۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ ''صیحہ'' سے مراد آسمانی چیخ ہے، کچھ نے کہا ''آگ'' ۔سدی نے کہا موسیٰ یہ حال دیکھ کر رودیئے۔ اللہ سے دعا کی اے اللہ بنی اسرائیل کو کیا منہ دکھاؤں گا۔ اللہ نے وحی کی یہ وہ ستر اشخاص ہیں جنہوں نے بچھڑا پوجا تھا۔پھر اللہ نے ان کو زندہ کردیا، ہر کوئی ایک دوسرے کو زندہ ہونے کو دیکھتا تھا۔ ربیع بن انس نے فرمایا یہ موت ان کی سزا تھی، اب زندہ رہ کر اپنی عمر پوری کریں گے۔ رازی کا یہ قول کہ یہ سارے لوگ اس کے بعد ''نبی'' ہوگئے تھے ٹھیک نہیں ہے، اس لیے موسیٰ کے زمانے میں ہارون اور یوشع علیہم الصلوٰۃ والسلام کے علاوہ کوئی نبی نہیں ہوا۔ اہل کتاب کا یہ قول کہ ان سب آدمیوں نے اللہ کو دیکھا تھا غلط ہے۔ جب موسیٰ ہی نہ دیکھ سکے تو دوسرا کوئی دیکھنے کی کہاں تاب لاتا؟

قرطبی نے فرمایا: زندہ ہونے کے بعد بھی وہ اس دنیوی زندگی کے مکلّف رہے اور تکلیف شر ان سے ساقط نہیں ہوئی تھی۔

رؤیت باری تعالیٰ :
معتزلہ کہتے ہیں، اللہ کا دیدار نہ دنیا میں ہوسکتا ہے اور نہ آخرت میں ہوگا۔ اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ دنیا میں اللہ کا دیدار نہیں ہوسکتا مگر آخرت میں ضرور ہوگا۔ صحیح اور متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ لوگ اپنے پروردگار کو دیکھیں گے۔ ان احادیث کی دلالت قطعی ہے۔ دلائل عقیلہ اور قواعد کلامیہ اس لائق نہیں ہیں کہ صحیح احادیث کے مقابل میں حجت ہوسکیں۔ یہ بحث حافظ ابن قیم نے ''ھادی الارواح'' میں مفصل لکھی ہے۔ جمہور سلف خلف کے نزدیک قیامت کے دن اللہ کا دیدار ہونا کتاب و سنت کے دلائل سے بخوبی ثابت ہے۔

آیت نمبر 57:
وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ ٱلْغَمَامَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْكُمُ ٱلْمَنَّ وَٱلسَّلْوَىٰ ۖ كُلُوامِن طَيِّبَـٰتِ مَا رَ‌زَقْنَـٰكُمْ ۖ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَـٰكِن كَانُوٓاأَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ﴿٥٧...سورۃ البقرۃ
ترجمہ: ''اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے بادل کا تم پر سایہ کئے رکھا اور تمہارے لیے من و سلویٰ اتارتے رہے تاکہ جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائی ہیں ان کو کھاؤ پیئو۔ (اگر تمہارے بزرگوں نے ان نعمتوں کی کچھ قدر نہ جانی تو) ہمارا کچھ نہیں بگاڑتے تھے بلکہ اپنا ہی نقصان کرتے تھے۔''

جب فرعون غرق ہوگیا، بنی اسرائیل جنگ کو چلے، ان کے خیمے وغیرہ پھٹ گئے تو سارا دن دھوپ سے بچاؤ کے لیے بادل سایہ فگن رہتا۔ اناج کی جگہ من و سلویٰ نازل ہوتا۔ ''من'' دھنیے کی طرح کے میٹھے دانے تھے جو رات کو شبنم کی صورت میں برستے، لشکر کے گرد جمع ہوجاتے، صبح ہر آدمی اپنی اپنی مرضی کے مطابق چن لیتا۔ سلویٰ ایک پرندے کا نام ہے۔ شام کے وقت لشکر کے گرد ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوجاتے، اندھیرا ہوتا تو پکڑ کر بھون کر کھا جاتے ایک مدت تک یہ کھاتے رہے۔ عبداللہ بنعاسؓ کا فرمان ہے کہ بادل عام بادلوں کی طرح نہ تھا بلہ اس سے کہیں زیادہ ٹھنڈا اور پاکیزہ تھا۔ قیامت کے دن اللہ ایسے ہی بادل کے سائے میں آئے گا۔ بدر کے دن فرشتے ایسے ہی بادل میں آئے تھے۔

یہ بادل بنی اسرائیل کے ساتھ میدان ''تیہہ'' میں سایہ فگن رہتا تھا۔ ''من'' کہتے ہیں ترنجبین کو، مجاہد نے فرمایا ایک طرح کا گوند تھا۔ عکرمہ نے کہا ''اَوس'' مگر گاڑھی تھی سدی کا فرمان ہے زنجیل کے درخت پر اوس پڑتی تھی ۔ قتادہ نے فرمایا زمین پر گرتی جس طرح برف گرتی ہے، دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھی تھی۔ طلوع فجر سے لے کر سورج کے نکلنے تک برستی رہتی، جو شخص ایک دن کی خوراک سے زیادہ لیتا تو خراب ہوجاتی۔ ربیع بن انس نے فرمایا ''من شہدکی طرح کا ایک مادہ تھا اس کو پانی میں ملا کر پیتے تھے۔'' وہب بن منبہؓ نے فرمایا: من چپاتی کی طرح پتلی روٹی تھی، شعبی نے کہا یہ تمہارا شہد من کا سترواں حصہ ہے۔ زید بن اسلم کا بھی قول ہے۔

ابن کثیر فرماتے ہیں، مفسرین کی من کے بارے میں عبارتیں اور توجیہات ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں فرق صرف یہ ہے کہ کسی نے اسے طعام کہا، کسی نے پانی ٹھہرایا، ظاہر یہ ہے کہ من وہ ہے جس کی اللہ نے ان پر ''منت'' (احسان) رکھی، خواہ وہ طعام ہو یا شراب، ہر چیز بغیر محنت و مشقت کے ملتی، جو کہ آج من کے نام سے مشہور ہے اس کو تنہا کھاؤ تو طعام ہے، پانی سے ملاؤ تو شراب ہے ، کسی دوسری چیز سے ملاؤ تو کچھ اور بن جاتا ہے۔ لیکن آیت سے وہ ''من'' اس جگہ مراد نہیں ہے۔ بخاری میں سعید بن زیدؓ سے مرفوعاً آیا ہے کہ ''من'' کا پانی آنکھ کے لیے باعث شفا ہے۔ امام احمد نے اس کو روایت کیا ، ابوداؤد کے علاوہ سب اہل سنن نے بھی اس کو روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے حسن ''صحیح'' کہا، ابن کثیر نے ابن عباسؓ کے حوالے سے لکھا ہے۔ سلویٰ ایک پرندہ ہے جو ثمانی (بٹیر) کے مشابہ ہے۔ یہی بات ابن مسعودؓ اور صحابہؓ کی ایک جماعت نے بھی کہی ہے۔ عکرمہ نے کہا کہ وہ ایک چڑیا تھی جس طرح جنت کی چڑیا (کنجشک) ہو۔ قتادہؓ نے فرمایا کہ وہ پرندہ سرخی مائل تھا، مغربی ہوا اس کو لاتی تھی۔ وہب بن منبہؓ نے فرمایا سلویٰ کبوتر کی طرح ایک پرندہ تھا۔ ایک ہفتہ سے دوسرے ہفتہ تک کے لیے اس کو پکڑ رکھتے تھے وہ ایک سیل کے انداز میں ایک نیزہ بلند زمین پر گرتا تھا۔ سدینے فرمایا: جب بنی اسرائیل صحرا میں گئے تو موسیٰ سے کہا کھانا کہاں ہے؟ اللہ نےمن و سلویٰ نازل کیا۔ پھر پانی کہاں ہے؟ موسیٰ نے پتھر پر ''عصاء '' مارا بارہ چشمے جاری ہوگئے۔ پھر کہا سایہ کہاں ہے؟ بادل سایہ فگن ہوگیا، پھر کہا لباس کہاں ہے؟ کپڑا جسم پر عمر کے مطابق بڑھتا رہتا، نہ پرانا ہوتا اور نہ ہی پھٹتا۔

آیت نمبر 58:
وَإِذْ قُلْنَا ٱدْخُلُوا هَـٰذِهِ ٱلْقَرْ‌يَةَ فَكُلُوا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَ‌غَدًا وَٱدْخُلُواٱلْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُواحِطَّةٌ نَّغْفِرْ‌ لَكُمْ خَطَـٰيَـٰكُمْ ۚ وَسَنَزِيدُ ٱلْمُحْسِنِينَ ﴿٥٨...سورۃ البقرۃ
ترجمہ: ''اور جب ہم نے (ان سے) کہا کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ اور اس میں جہاں سے جی چاہے اور جو دل مانے خوب کھاؤ (پیئو) اور دروازے میں سے داخل ہوتے وقت سجدہ کرو اور ''حطۃ'' کہو ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے اور ہم نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے۔''

آیت نمبر 59:
فَبَدَّلَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواقَوْلًا غَيْرَ‌ ٱلَّذِى قِيلَ لَهُمْ فَأَنزَلْنَا عَلَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا رِ‌جْزًا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ ﴿٥٩...سورۃ البقرۃ
ترجمہ: ''پس ظالموں نے اس لفظ کو جس کا انہیں حکم دیا گیا تھا بدل دیا اور اس جگہ دوسرا لفظ کہنا شروع کردیا، پس ہم نے ظالموں پر ان کی نافرمانیوں کے سبب آسمان سے عذاب نازل کیا۔''

فرعون سے نجات پانے کے بعد میدان تیہہ (صحرائے سینا) میں اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے پھنسے ہوئے تھے، سورہ المائدہ میں اس کا بیان ہے۔ پھر ایک ہی کھانا کھاتے کھاتے اکتا گئے، ان کو ایک شہر میں پہنچایا اور حکم دیا کہ شہر کے دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے کہو ''حطة'' (اے اللہ ہمارے گناہ معاف کردے) بنی اسرائیل نے مذاق سے حطۃ کی جگہ حنطۃ ''گندم'' کا لفظ اختیار کیا اور سجدے کی بجائے بیٹھ کر آگے بڑھنے لگے، شہر میں داخل ہونے کے بعد ان پر طاعون کی وبا پھوٹ پڑی۔اور دوپہر ہونے تک ستر ہزار آدمی لقمہ اجل بن گئے۔ ابن کثیر نے فرمایا: کہ اس آیت میں موسیٰ کے ان ساتھیوں کے لیے ملامت ہے جو مصر سے ان کے ساتھ نکلے تھے، انہیں حکم ہوا تھا کہ تم ارض مقدس (بیت المقدس) میں جاؤ۔ وہ تمہارے باپ اسرائیل ؑ کی میراث ہے۔ وہاں جو کفار عمالیق رہتے ہیں ان کے خلاف جہاد کرکے انہیں وہاں سے نکال دو مگر انہوں نے پس و پیش کی، ہمت ہار دی اس پر اللہ نے سزا کے طور پر انہیں میدان تیہہ میں پھینک دیا۔

ارض مقدس کی تحقیق :
صحیح ترین قول یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو بیت المقدس شہر میں داخل ہونےکا حکم دیا گیا تھا جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:
يَـٰقَوْمِ ٱدْخُلُواٱلْأَرْ‌ضَ ٱلْمُقَدَّسَةَ ٱلَّتِى كَتَبَ ٱللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَرْ‌تَدُّواعَلَىٰٓ أَدْبَارِ‌كُمْ...﴿٢١﴾...سورۃ المائدہ
ترجمہ: ''اے قوم تم ارض مقدس میں جسے اللہ نے تمہارے لئے لکھ رکھا ہے داخل ہوجاؤ اور (دیکھنا مقابلے کے وقت ) پیٹھ نہ پھیر دینا۔''

ایک قول یہ بھی کہ وہ شہر اریحا ''قریہ جبارین'' تھا، ابن عباسؓ اور عبدالرحمٰن بن زیدؓ کا یہی قول ہے مگر ابن کثیر کہتے ہیں کہ یہ بات سیاق و سباق سے بعید ہے اس لیے کہ بنی اسرائیل بیت المقدس کے ارادے ہی سے نکلے تھے۔ ''اریحا'' بیت المقدس کے قریب زیریں علاقہ میں ایک بستی ہے۔

ایک قول یہ ہے کہ وہ شہر یا بستی ''مصر'' تھا۔ ابن کثیر نے اس کو بھی رد کیا ہے۔ امام رازی نے بیت المقدس کو ہی صحیح قرار دیا ہے کیونکہ جب یوشع بن نونؑ کے ساتھ چالیس سال بعد بنی اسرائیل میدان تیہہ سے نکلے، اللہ نے ان کو فتح دی جمعہ کے روز تھوڑی دیر کےلیے تیسرے پہر سورج کو روک دیا گیا یہاں تک کہ انہیں فتح حاصل ہوگئی۔ تو انہیں اس وقت یہ حکم ملا کہ شہر کے دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے شہر میں داخل ہوجاؤ اور یہ سجدہ اللہ کی طرف سے حصول فتح و نصرت کے لیے تھا۔ جس نے کہا کہ اس سے مراد شہر ''اریحا'' ہے اس کا مطلب یہ تھا کہ جس دروازے سے چاہو داخل ہوجاؤ کیونکہ اس شہر کے سات دروازے تھے۔

قاضی بیضاوی کا خیال ہے کہ یہ ملک شام کی بات ہے لیکن جمہور مفسرین نے بیت المقدس کو ہی ترجیح دی ہے۔

سجدے کی نوعیت :
ابن عباسؓ نے فرمایا سجدے سے اس جگہ رکوع مراد ہے۔ حسن بصری نے کہا سجدہ مراد ہے مگرامام رازی نے اس کی تائید نہیں کی بعض نے کہا اس جگہ سجدے سے مراد خضوع ہے کیونکہ حقیقی سجدے کے معنی نہیں بنتے۔ ابن عباسؓ نے فرمایا کہ یہ دروازہ قبلہ رخ تھا۔ بعض نے کہا ''باب'' سے مراد ''قبلہ کی طرف '' تھی بعض نے کہا وہ جگہ جو اب تک ''باب حطۃ'' کے نام سے معروف ہے۔ بعض نے کہا ''باب قبہ'' مراد ہے جس طرف موسیٰؑ اور بنی اسرائیل نماز پڑھتے تھے۔

ابن کثیر لکھتے کہ حطۃ اور سجدے کا حکم دراصل عاجزی و خاکساری کے اظہار کے لیے تھا تاکہ قول و عمل کے ذریعے اپنے قصور کا اقرار و اعتراف کرکے مغفرت کی دعا کریں۔ اللہ کی نصرت کا شکر بجا لائیں کیونکہ اللہ کو ایسے کام محبوب ہیں ، جس طرح فرمایا:
إِذَا جَآءَ نَصْرُ‌ ٱللَّهِ وَٱلْفَتْحُ ﴿١﴾ وَرَ‌أَيْتَ ٱلنَّاسَ يَدْخُلُونَ فِى دِينِ ٱللَّهِ أَفْوَاجًا ﴿٢﴾ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَ‌بِّكَ وَٱسْتَغْفِرْ‌هُ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ تَوَّابًۢا ﴿٣...سورۃ النصر
ترجمہ: ''جب اللہ کی مدد آپہنچی اور فتح (حاصل ہوگئی) اور تم نے دیکھ لیا کہ لوگ غول کے غول اللہ کے دین میں داخل ہورہے ہیں، تو اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرو اس سے مغفرت مانگو، بیشک وہ معاف کرنے والا ہے۔''

اس سورت کی تفسیر میں بعض صحابہؓ کا یہ فرمان ہے کہ مراد فتح و نصرت کے وقت کثرت ذکر و استغفار ہے۔ مگرابن عباسؓ کا فرمان ہے کہ اس میں رسول اکرم ﷺ کی وفات کی خبر دی گئی ہے۔ حضرت عمرؓ کا بھی یہی نقطہ نظر ہے۔ لیکن ان دونوں اقوال میں کوئی اختلاف نہیں اس لیے کہ پہلے ذکر و استغفار کا حکم دیا پھر ساتھ ہی انتقال کی خبر بھی دے دی، رسول اکرم ﷺ کی عادت طیبہ یہ تھی کہ جب فتح ہوتی تو بہت زیادہ خشوع و خضوع کرتے۔ فتح مکہ کے روز ثنیہ علیا سے شہر میں داخل ہوئے تو بہت متواضع تھے، پھر غسل کرکے آٹھ رکعتیں نماز پڑھی۔

بعض نے کہا چاشت کی نماز تھی بعض نے کہا فتح کاشکرانہ تھا، ا س لئے امیر و امام کے لیے مستحب ہے کہ جب کوئی شہر فتح کرے تو شہر میں داخل ہونے کے بعد فوراً آٹھ رکعت نماز پڑھے۔ سعد بن ابی وقاصؓ نے ایسا ہی کیا جب وہ ایوان کسریٰ میں پہنچے تو آٹھ رکعت نماز ادا کی، صحیح یہ ہے کہ یہ نماز دو دو رکعت کرکے پڑھے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ساری نماز کے بعد ایک ہی سلام پھیرے۔ واللہ اعلم۔

بخاری شریف میں ابوہریرہؓ سے مرفوعاً آیا ہے کہ جب بنی اسرائیل سے کہا گیا کہ تم دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے حطۃ کہہ کر داخل ہو تو یہ گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے حطۃ کی بجائے حبتہ فی شعرۃ کہا، ابن اسحاق نے روایت کیا ہے کہ انہوں نے حطۃ کی بجائے حنطۃ کہا۔ براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ حطۃ کی بجائے ''حنطة حمراء فیھا شعیرة'' کہا۔ ابن مسعودؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا ''ھطا سمعاثا أزبة مزبا'' اس کے عربی الفاظ اس طرح ہیں۔ ''حبة حنطة حمراء مثقوبة فیھا شعرة سوداء''

مفسرین کے ان اقوال کا نچوڑ یہ ہے کہ اللہ نے انہیں حکم دیا تھا کہ قول و فعل دونوں میں عاجزی و خاکساری کا اظہار کریں، انہوں نے قول و فعل دونوں میں نافرمانی کی اور بے ادبی اور گستاخی پر اللہ کا ان پر عذاب نازل ہوا جیسے قرآن میں ہے:
فَأَنزَلْنَا عَلَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا رِ‌جْزًا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ بِمَا كَانُوايَفْسُقُونَ ﴿٥٩...سورۃ البقرۃ
ترجمہ: ''کہ ہم نے ان پر فسق و فجور کے سبب آسمان سے عذاب نازل کیا۔''

لفظ '' رِجز'' کی تحقیق :
ثابت ہوا کہ نزول عذاب کا سبب نافرمانی ہے، ابن عباسؓ کا فرمان ہے کہ قرآن میں جہاں کہیں لفظ ''رجز'' آیا ہے اس سے مراد عذاب ہے۔ مجاہد، ابومالک اور سدی نے بھی اس قول کی تائید کی ہے۔ ابوالعالیہ کا قول ہے کہ ''رجز'' غضب کے معنوں میں آیا ہے، شعبی نے ''رجز'' سے طاعون مراد لیا ہے۔ حدیث سعدؓ، اسامہؓ و خزیمہؓ میں مرفوعاً آیا ہے کہ طاعون رجز ہے۔

یہ عذاب تھا جو اللہ نے تم سے پہلے لوگوں پر اتارا تھا۔اسے ابی حاتم اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ اسامہ بن زیدؓ سے ایک دوسری روایت مرفوعاً یہ آتی ہے کہ درد و تکلیف اور بیماری ''رجز'' ہے، تم سے پہلے اُمتوں پر یہ عذاب آیا تھا۔ اسے ابن جریر نے روایت کیا ہے۔

(ف)
اہل علم کا خیال ہے کہ اس آیت میں دلیل ہے کہ منصوص اقوال کا بدلنا جائز نہیں بلکہ ان کے اتباع کی خصوصی ہدایت ہے۔ امام رازی کا فرمان ہے کہ توقیفی (رسول اکرمﷺ کی دی ہوئی ترتیب) اذکار و اقوال کا بدلنا جائز نہیں۔

میں کہتا ہوں کہ جب سے متاخرین نے رسول اکرم ﷺ کے الفاظ اور نصوص قرآنی کو چھوڑ کر مسائل و احکام بیان کرنے میں اپنے تراشیدہ الفاظ و عبارات کو اختیار کیا ہے تب سے اہل اسلام میں اختلاف رونما ہوا ہے۔ اگر کتاب و سنت کی نصوص کا من و عن احاطہ کرتے تو تقلید و اتباع رائے وغیرہ کی خرابی پیش نہ آتی۔ امام غزالی ''احیاء العلوم'' میں کئی الفاظ ایسے لکھتے ہیں جن کے معنی سلف کے نزدیک کچھ اور تھے ۔ پھر اصطلاح خلف میں وہ الفاظ بدل کر کچھ اور معنی اختیار کئے گئے۔ مثلاً فقہ، صدر اوّل میں فقیہہ اسے کہتے تھے جو دنیا سے بے رغبت اور آخرت کی طرف راغب ہوتا تھا۔ اب فقیہہ وہ ہے جسے خرید و فروخت، نکاح اور ایجارہ وغیرہ کے مسائل معلوم ہوں، کتب فروع سے ایسے مسائل نکال کر بتا سکے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے بات بدلنے والوں کوظالم فاسق کہا، ان پر عذاب اتارا۔ اب بھی یہی دیکھا گیا ہے کہ جب کسی بستی اور شہر میں فسق و فجور کی کثرت ہوتی ہے تو وہاں سے وبا آتی ہے، سینکڑوں ہزاروں کو برباد کرجاتی ہے یہ وبا ''رجز'' ہے۔ کسی جگہ قحط پڑتا ہے، کسی جگہ زلزلہ آتا ہے، کہیں شکلیں مسخ ہوجاتی ہیں، کہیں زمین دھنس جاتی ہے، کسی جگہ سیلاب و طوفان تباہی لاتا ہے، کسی جگہ طاعون کی وبا پھوٹتی ہے۔

کہتے ہیں کہ اس ''رجز'' میں جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا ایک ہی وقت میں ستر ہزار آدمی مارے گئے۔ یہ ''رجز'' میدان تیہہ میں نازل ہونے والے عذاب سے الگ تھا۔ سورۃ اعراف میں بجائے یفسقون کے یظلمون فرمایا۔ معلوم ہوا کہ وہ جامع ہر دو وصف تھے۔

آیت نمبر 60:
وَإِذِ ٱسْتَسْقَىٰ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦ فَقُلْنَا ٱضْرِ‌ب بِّعَصَاكَ ٱلْحَجَرَ‌ ۖ فَٱنفَجَرَ‌تْ مِنْهُ ٱثْنَتَا عَشْرَ‌ةَ عَيْنًا ۖ قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَّشْرَ‌بَهُمْ ۖ كُلُوا وَٱشْرَ‌بُوا مِن رِّ‌زْقِ ٱللَّهِ وَلَا تَعْثَوْافِى ٱلْأَرْ‌ضِ مُفْسِدِينَ ﴿٦٠...سورۃ البقرۃ
ترجمہ: ''اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے (اللہ تعالیٰ سے) پانی مانگا تو ہم نے کہا کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مارو (انہوں نے لاٹھی ماری) تو پھر اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، اور تمام لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کر(کے پانی پی) لیا (ہم نےحکم دیا کہ) اللہ کی (عطا فرمائی ہوئی) روزی کھاؤ اور پیئو مگر زمین میں فساد نہ کرتے پھرنا۔''

میدان تیہہ میں جب حیران و پریشان پھرتے تھے، پانی میسر نہ تھا تو ایک پتھر سے بارہ چشمے نکلے، بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے، کسی میں لوگ زیادہ تھے اور کسی میں کم۔ ہر قبیلے کی تعداد کے مطابق ایک چشمہ تھا، اس کو پہچان لیا۔ جب لشکر کوچ کرتا تو وہ پتھر ساتھ اٹھا لیتے جب پڑاؤ ہوتا تو رکھ لیتے۔ کہا گیا ہےکہ یہ گز دو گز لمبا نرم پتھر تھا۔ بعض نے کہا آدمی کے سر کے برابر تھا بعض نے کہا گائے کے سر کے برابر تھا۔ بعض کا خیال ہے یہ حضرت موسیٰ کے قد کے برابر دس گز لمبا جنت کا پتھر تھا۔ اس کی دو شاخیں تھیں جو رات کو اندھیرے میں چمکتی تھیں۔ وہ پتھر گدھے یا گائے پر لادا جاتا تھا۔ بعض نے کہا وہ پتھر آدمؑ کے ساتھ آیا تھا۔ شعیب کو ورثے میں ملا تھا۔ انہوں نے حضرت موسیٰ کو عصا (لاٹھی) کے ساتھ دیا تھا۔ بعض کا خیال ہے یہ وہ پتھر تھا جو حضرت موسیٰ کے کپڑے لے کر بھاگا تھا، جبرائیل نے ان سے کہا تھا تم اس پتھر کو اٹھا لو اس میں اللہ کی قدرت ہے تمہارے لئے معجزہ ہے۔ ابن عباسؓ کا قول ہےکہ پتھر چوکور تھا ۔ ہر جانب سے تین تین چشمے بہتے۔ یہ حدیث الفتون میں ہے۔ نسائی نے اس کو روایت کیا ہے۔ ابن کثیر کا فرمان ہے یہ قصہ سورہ اعراف کے مشابہ ہے فرق صرف یہ ہے کہ وہ مکی سورت ہے اور یہ مدنی ہے وہاں ضمیر غائب کی ہے یہاں خطاب کی۔ وہاں ''انبجست'' فرمایا (نکلا، بہا) یہاں ''فانفجرت'' (پھوٹا، بہا) کہا۔ ان دونوں سیاق میں دس وجہ سے فرق ہے جس کا ذکر کشاف میں ہے۔ لیکن مطلب ایک دوسرے کے قریب ہے۔اس آیت میں بنی اسرائیل کو منع کیا کہ تم زمین میں فساد نہ کرتے پھرو، پہلے انہیں ظالم فاسق کہا تھا اب گویا مفسد بھی ٹھہرا دیا۔

جو لوگ مفسد نہیں ہوتے ان کے لئے آخرت میں اچھائی کا وعدہ ہے۔

تِلْكَ ٱلدَّارُ‌ ٱلْءَاخِرَ‌ةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِ‌يدُونَ عُلُوًّا فِى ٱلْأَرْ‌ضِ وَلَا فَسَادًا ۚ وَٱلْعَـٰقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ ﴿٨٣...سورۃ القصص
''وہ جو آخرت کا گھر ہے ہم نے اسے ان لوگوں کے لیے تیار کررکھا ہے جو زمین میں ظلم و فساد کا ارادہ نہیں رکھتے اور نیک انجام تو پرہیزگاروں ہی کا ہے''

جس کسی شخص میں ظلم، فسق و فساد جمع ہوجائیں جان لو کہ وہ بنی اسرائیل کی مانند ہے اس کا انجام بھی انہیں کا سا ہوگا۔ (اللھم احفظنا)

حضرت موسیٰ کا عصا جس سے پتھر کو مارا تھا درخت ''آس'' کا تھا۔ آدم کے ساتھ جنت سے آیا تھا۔ دس گز لمبا تھا، موسیٰ کے قد کے برابر تھا۔ اس کا نام علیق یا نبغہ تھا۔بارہ قبیلوں کی تعداد چھ لاکھ تھی ان کا پڑاؤ بارہ کوس (20 کلومیٹر تقریباً) ہوتا تھا۔ یہ موسیٰ کا بڑا معجزہ ہے کہ ایک چھوٹے سے پتھر سے چھ لاکھ آدمیوں کو پانی ملتا تھا۔ مگر ہمارے رسول اکرم ﷺ کا معجزہ اس سے بھی بڑا ہے کہ دو انگلیوں کے درمیان سے اتنا پانی نکلا کہ ایک جم غفیر سیراب ہوا۔

آیت نمبر 61:
وَإِذْ قُلْتُمْ يَـٰمُوسَىٰ لَن نَّصْبِرَ‌ عَلَىٰ طَعَامٍ وَ‌ٰحِدٍ فَٱدْعُ لَنَا رَ‌بَّكَ يُخْرِ‌جْ لَنَا مِمَّا تُنۢبِتُ ٱلْأَرْ‌ضُ مِنۢ بَقْلِهَا وَقِثَّآئِهَا وَفُومِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَا ۖ قَالَ أَتَسْتَبْدِلُونَ ٱلَّذِى هُوَ أَدْنَىٰ بِٱلَّذِى هُوَ خَيْرٌ‌ ۚ ٱهْبِطُوامِصْرً‌ا فَإِنَّ لَكُم مَّا سَأَلْتُمْ ۗ وَضُرِ‌بَتْ عَلَيْهِمُ ٱلذِّلَّةُ وَٱلْمَسْكَنَةُ وَبَآءُو بِغَضَبٍ مِّنَ ٱللَّهِ ۗ ذَ‌ٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوايَكْفُرُ‌ونَ بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ وَيَقْتُلُونَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ بِغَيْرِ‌ ٱلْحَقِّ ۗ ذَ‌ٰلِكَ بِمَا عَصَواوَّكَانُوا يَعْتَدُونَ ﴿٦١...سورۃ البقرۃ
ترجمہ: ''اور جب تم نے کہا اے موسیٰ ہم سے ایک ہی کھانے پر صبر نہیں ہوسکتا آپ اپنے پروردگار سے دعا کیجئے کہ ترکاری، ککڑی اور گیہوں، مسور اور پیاز وغیرہ جو نباتات زمین سےاُگتی ہیں ہمارے لئے پیدا کرے، موسیٰ نے کہا بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے بدلے ناقص چیزوں کیوں چاہتے ہو (اگر یہی چیزیں مطلوب ہیں) تو کسی شہرمیں جا اترو وہاں جو مانگتے ہو مل جائے گا اور آخر کار ذلت و رسوائی اور محتاجی و بے نوائی ان پر مسلط کردی گئی اور وہ اللہ کے غضب میں گرفتار ہوئے، یہ اس سبب سے ہے کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور انبیاء کو ناحق قتل کردیتے تھے اور یہ عذاب اس لیے بھی تھا کہ انہوں نے نافرمانی کی اور حد سے آگے بڑھ گئے۔''

حسن بصری نے کہا انہیں اپنا پہلا عیش و عشرت یاد آیا، ایک کھانا من و سلویٰ کی صورت میں ملتا تھا اس پر صابر نہ ہوئے۔

فوم کو ابن مسعوددؓ نے ثوم پڑھا ہے، ثوم کہتے ہیں لہسن کو ، سلف کی ایک جماعت ابن عباسؓ، مجاہد اور حسن کا بھی یہی قول ہے۔ ث کی جگہ ف کا حرف استعمال ہوا، بعض نے کہا فوم گیہوں (گندم) کو کہتے ہیں۔ ابن عباسؓ نے کہا بنی ہاشم کی زبان میں فوم حنطة کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ مجاہد اور عطا ء نے کہا فوم سے مرادخبز (روٹی) قدیم لغت میں ''فوموا'' بمعنی ''اختبزوا'' (روٹی کھاؤ) آیا ہے۔ جوہری نے بھی فوم کا ترجمہ حنطہ کیا ہے۔ ابن درید نے سنبلۃ (خوشہ) گردانا ہے۔ قتادہؓ نے فرمایا جس دانے کی روٹی پکاؤ وہی فوم ہے، بعض کا قول ہے شامی لغت میں فوم چنے کو کہتے ہیں، چنے فروش کو فامی یا فومی کہتے ہیں۔ امام بخاری نے کہا ایک خیال یہ بھی ہے کہ کھائے جانے والے سب دانے فوم کہلاتے ہیں۔ جس روئیدگی کی بیل نہ چلے اس کو ساگ کہتے ہیں۔ کشاف میں ہے زمین سے جو سبزہ اگتا ہے اسے بقل بولتے ہیں بنی اسرائیل کی مراد اس سے اچھے پاکیزہ ساگ (سبزیاں) تھے۔ یہ چیزیں اس لیے مانگیں کہ جنگل میں پڑے پڑے اکتا گئے تھے، اس بہانے سے شہر میں جانا چاہا۔ یہ جو فرمایا کہ شہر کو جاؤ یہ بطور اہانت و تذلیل کےتھا۔ اس لیے کہ جنگ میں راستہ مسدود تھا، کسی راستے سے شہر نہ جاسکتے تھے۔ اگر راستہ ڈھونڈ پاتے تو چالیس برس تیہہ میں حیران و پریشان زندگی بسر نہ کرتے، یہ بھی ثابت ہوا کہ اعلیٰ کو چھوڑ کر ادنیٰ اختیار کرنا حماقت و جہالت کی دلیل ہے، ایسی تبدیلی انجام کار نقصان و خسران کا باعث بنتی ہے۔ کتاب و سنت خیر محض ہیں رائے و قیاس ادنیٰ ہیں جو لوگ ادنیٰ کو لیتے ہیں خیر کو چھوڑتے ہیں بلندی سے پستی کی طرف آتے ہیں۔

ابن کثیر نے لکھا ہے ذلت ، خواری اور محتاجی ان کا مقدر بن گئی تھی جس نے ان کو پایا ذلیل و خوار کیا۔ ابن عباسؓ کا فرمان ہے کہ وہ اصحاب قبالات (جزیہ دینے والے) ہیں۔ یہ ان کی ذلت و مسکنت کی دلیل ہے۔ حسن و قتادہ نے کہا وہ ذلیل ہوکر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیتے تھے۔ اللہ نے ان کو خوار کردیا ہے ان کی کوئی قوت باقی نہ رہی مسلمانوں کے ہاتھوں پامال ہوئے جب اس امت نے ان کو پایا تو وہ مجوس کے جزیہ گزار تھے۔ سدی نے کہا مسکنت سے مراد فاقہ کشی ہے، عطیہ عوفی نے کہا خراج ہے۔ ضحاک نے کہا جزیہ ہے، شوکانی نے کہا یہ جو اللہ نے خبر دی سب زمانوں میں نظر آتی ہے۔ یہود سے زیادہ ذلیل و خوار اور محتاج و فقیر کوئی فرقہ نہیں۔ کسی جگہ کہیں بھی انہیں شوکت و جمعیت نہ ملی۔ ہر زمانے میں جہاں رہے غلاموں کی طرح رہے۔ اتفاقاً اگر ان میں کوئی مالدار بھی ہوتا ہے تو وہ محتاج و فقیری ظاہر کرتا ہے تاکہ اس کے مال میں کسی کو طمع نہ ہو، خو اہ اس طرح کہ ان پر جزیہ بڑھا دے یا اس طرح کہ بطور ظلم ان کا مال چھین لے، غرضیکہ ساری قوموں میں ان سے بڑھ کر نہ کوئی ذلیل ہے اور نہ مال کا حریص۔ گویا سب کے سب فقراء و گدا ہیں اگرچہ آسودہ حال کیوں نہ ہوں۔

ضحاک نے کہا ''باء وا بغضب'' کا مطلب ہے کہ اللہ کے غضب کے مستحق ٹھہرے یہ سزا انہیں اس لیے ہوئی کہ انہوں نے اتباع حق سے تکبر کیا، اللہ کی آیتوں کا انکار کیا، انبیاء کو معہ ان کے پیرو کاروں کے خوار کیا حتیٰ کہ انہیں قتل کردیا اس سے بڑھ کر اور کیا کفر ہوگا۔ حدیث میں ہے۔ کبر کہتے ہیں رد حق اور انسانی تحقیر کو۔ یعنی اپنے آپ کو بڑا ٹھہرانا، اوروں کو ذلیل سمجھنا اور حق کا انکار کرنا بنی اسرائیل نے جب یہ کام کئے اللہ نے ان پر عذاب نازل کیا، دنیا میں ذلیل و خوار کیا۔ ابن مسعودؓ کا فرمان ہے ، بنی اسرائیل ایک ایک دن میں اوّل وقت میں تین تین سو انبیاء کو قتل کرتے تھے۔ تیسرے پہر کو سبزی ، ترکاری کا کاروبار کرتے۔ شعیاء، زکریا اور یحییٰ علیہم السلام کو انہی نے قتل کیا، حدیث ابن مسعودؓ میں مرفوعاً آیا ہے کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب اس آدمی کو ہوگا جسے کسی نبی نے قتل کیا یا جس نے کسی نبی کو قتل کیا یا وہ گمراہی میں امام مانا جاتا تھا۔ اسے احمد نے روایت کیا ہے، عصیان کہتے ہیں منع کئے گئے کام کو کرنا اور اعتداء کہتے ہیں حد سے آگے بڑھ جانے کو۔ اس قوم میں یہ دونوں وصف تھے۔

آیت نمبر 62:
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواوَٱلَّذِينَ هَادُواوَٱلنَّصَـٰرَ‌ىٰ وَٱلصَّـٰبِـِٔينَ مَنْ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ‌ وَعَمِلَ صَـٰلِحًا فَلَهُمْ أَجْرُ‌هُمْ عِندَ رَ‌بِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿٦٢...سورۃ البقرۃ
ترجمہ: ''بے شک جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست (یعنی کوئی شخص کسی قوم و مذہب کا ہو) جو اللہ اور روز قیامت پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا تو ان کو ان کے اعمال کا اللہ کے ہاں صلہ ملے گا (اور قیامت کے دن ) ان کو نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔''

اجروثواب کسی خاص فرقے کے لیے موقوف نہیں بلکہ اللہ پر یقین لانا اور نیک عمل کرنا شرط ہے، جس آدمی نے جس دور اور جس زمانے میں اور جہاں نیک عمل کیا اس نے ثواب پایا۔ بنی اسرائیل کو گھمنڈ تھا کہ وہ پیغمبروں کی اولاد ہیں اور ہر طرح اللہ کے قریب ہیں۔
نَحْنُ أَبْنَـٰٓؤُا ٱللَّهِ وَأَحِبَّـٰٓؤُهُۥ...﴿١٨﴾...سورۃ البقرۃ

حضرت موسیٰ کی امت یہود کہلاتی ہے۔ نصاریٰ حضرت عیسیٰ کی امت کا نام ہے اور صائبین ایک فرقہ تھا جو حضرت ابراہیم کو مانتا تھا۔ ابن کثیر کہتے ہیں اللہ نے اس فرقے کا حال بیان کردعیا جس نے اللہ کی نافرمانی کی، زواجر کا مرتکب ہوا، محارم کو جائز قرار دیا تو اس بات پر آگاہ کیا گیا کہ گذشتہ امتوں میں سے جنہوں نے نیک عمل کئے ان کو اچھا بدلہ ملے گا۔ یہی حکم تاقیام قیامت قائم ہے۔ جو بھی نبی اکرم ﷺ کی اتباع کرے گا اس کے لیے سعادت ابدی ہے نہ اس کو آئندہ کچھ ڈر ہے اور نہ کسی چیز کے فوت ہوجانے پر کچھ غم ہے۔

أَلَآ إِنَّ أَوْلِيَآءَ ٱللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿٦٢...سورۃ یونس
ترجمہ: ''جان لو جو اللہ کے دوست ہیں ان کو نہ کچھ خو ف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔''

إِنَّ ٱلَّذِينَ قَالُوا رَ‌بُّنَا ٱللَّهُ ثُمَّ ٱسْتَقَـٰمُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ أَلَّا تَخَافُواوَلَا تَحْزَنُواوَأَبْشِرُ‌وابِٱلْجَنَّةِ ٱلَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ ﴿٣٠...سورۃ فصلت
ترجمہ: ''جن لوگوں نے کہا ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر وہ اس پر قائم رہے ان پر فرشتے اتریں گے (اور کہیں گے) نہ خوف کرو اور نہ غمناک ہو اور جس جنت کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے اس کی خوشی مناؤ۔''

حضرت سلمانؓ نے رسول اکرم ﷺ سے ان لوگوں کے دین کے بارے میں پوچھا جن کے وہ ہمراہ رہتے تھے اور ان کی نماز و عبادت کا ذکر بھی کیا تو اس پر یہ آیت اتری (ابن حاتم نے اس کو روایت کیا ہے) سدی نے فرمایا یہ آیت حضرت سلمان فارسیؓ کے ساتھیوں کے حق میں نازل ہوئی۔ یہودیوں کا ایمان تھا کہ سنت موسوی اور تورات کا پیروی لازمی ہے۔ جب عیسیٰ آئے تو جس کسی نے تورات اور سنت موسوی کو چھوڑ کر ان کا اتباع نہ کیا وہ ہلاک ہوا۔

نصاریٰ کا ایمان تھا کہ انجیل اور حضرت عیسیٰ کی شریعت پر عمل ہونا چاہیے مگر جب رسول اکرم ﷺ تشریف لائے تو جس کسی نے انجیل اور عیسوی شریعت چھوڑ کر آپ کا اتباع نہ کیا وہ ہلاک ہوا۔ ابن عباسؓ کہتے ہیں اس کے بعد یہ آیت اتری۔
وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ‌ ٱلْإِسْلَـٰمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِى ٱلْءَاخِرَ‌ةِ مِنَ ٱلْخَـٰسِرِ‌ينَ ﴿٨٥...سورۃ آل عمران
ترجمہ: ''اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا۔''

ثابت ہوا کہ کسی شخص سے کوئی عمل یا طریقہ مقبول نہیں ہے جب تک کہ وہ رسول اکرم ﷺ کی شریعت کے موافق نہ ہو۔ ہاں آپ کی بعثت سے پہلے جس نے اپنے زمانے کے رسولؑ کا اتباع کیا وہ طریق ہدایت اور سبیل نجات پر تھا اس آیت میں فقط اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانے کا ذکر ہے۔ رسول اللہﷺ کا ذکر نہیں۔ یہ اس لیے کہ اتباع رسولؐ کے بغیر کوئی شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں لاسکتا۔

اللہ پر وہی آدمی ایمان لائے گا جو پہلے رسولؐ پر ایمان لاچکا ہوگا۔ بعض نے کہا : '' إِنَّ الَّذينَ ءامَنوا'' سےمراد منافقین ہیں اس لیے کہ ان کا ذکر ان تینوں فرقوں کے ساتھ کیا گیا ہے اولیٰ یہی ہے کہ یہاں آمنوا سے مراد سچے مومنین ہی ہیں۔ گویا اللہ نے اس امت اور پہلی امتوں کا حال بیان فرمایا ہے کہ مرجع ان سب کا اسی ایک حکم کی طرف ہے کہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائیں اور عمل صالح کریں ایمان سے مراد وہی ہے جو حدیث جبرائیل میں آیا ہے۔''أن تؤمن باللہ وملائکته و کتبه و رسوله والیوم الآخر و تؤمن بالقدر خیره و شره'' سو ایمان اسی کو ملتا ہے جو ملت اسلامیہ میں داخل ہوتا ہے جو رسول پر ایمان نہ لایا، قرآن کو نہ مانا وہ ہرگز مومن نہیں ہے۔

جس نے ان دونوں کو نہ مانا وہ مسلمان ایمان دار ہوا نہ یہودی رہا نہ نصرانی نہ مجوسی۔ ''یہود'' یہوذ بن یعقوبؑ کی اولاد کو کہتے ہیں۔ ''ذال''، ''دال'' میں بدل گئی یا تہوذ سے مشتق ہے تہود کا معنی توبہ کرنا ہے جیسے قرآن میں ہے ،، '' إِنّا هُدنا إِلَيكَ ۚ '' ای تبنایا تہود کہتے ہیں ہلنے کو یہودی توراۃ کی تلاوت کے وقت ہلتے تھے جس طرح بچے مکتب میں سبق پڑھتے وقت ہلا کرتے ہیں۔ جب عیسیٰ آئے تو ان پر ان کی تابعداری واجب ہوئی جنہوں نے ان کا دین قبول کیا وہ نصاریٰ کہلائے انہیں انصار بھی کہتے ہیں۔ جیسے قرآن میں ہے:
قَالَ ٱلْحَوَارِ‌يُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ‌ ٱللَّهِ...﴿٥٢﴾...سورۃ آل عمران

یا اس لیے نصاریٰ کہلائے کہ ناصرہ نامی بستی میں آکر آباد ہوئے۔ پس جب رسول اکرم ﷺ تشریف لائے تو تمام بنی آدم جو رسولؐ بن کر آئے ان پر ان کی تصدیق فرض ہوئی جنہوں نے آپ کو مانا وہ سچے مومن کہلائے۔ امت محمدیہؐ کا نام مومنین ٹھہرا اس لیے کہ اس امت کا ایمان زیادہ ہے، تصدیق نہایت شدید ہے کیونکہ یہ سارے پہلے انبیاء پر ایمان لائے ہیں آئندہ کے غیوب پر یقین رکھتے ہیں۔

جہاں تک صائبین کا معاملہ ہے وہ یہود و نصاریٰ اور مجوسی کے اندر ہی ایک گروہ تھا ان کا کوئی دین نہیں تھا، لامذہب تھے ایک جماعت سلف کا قول ہے وہ اہل کتاب کا ایک فرقہ ہے جو زبور پڑھتے تھے اسی لئے امام ابوحنیفہ اور اسحاق کہتے ہیں ان کا ذبیحہ حلال ہے، ان کی عورتوں سے نکاح درست ہے، حسن نے کہا یہ مجوسی کی طرح تھے۔ دوسرا خیال یہ بھی ہے کہ یہ فرشتوں کو پوجتے تھے، زیاد نے کہا وہ قبلہ رو ہوکر پنجگانہ نماز پڑھتے تھے۔

ابوالزناد نے کہا عراق کے متصل بستی ''کوثی'' میں رہتے تھے، سب نبیوں کو مانتے تھے، تیس روزے رکھتے، یمن کی طرف منہ کرکے نماز پنجگانہ پڑھتے۔ وہب بن منبہ نے کہا کہ صابی وہ شخص ہے جو نہ موحد ہو، نہ کفر کرے اور نہ کسی شریعت پر چلے۔ ابن زید نے کہا کہ جزیرہ موصل میں رہنے والوں کا دین تھا۔ ''کلمہ لا الہ الا اللہ'' کہتے نہ عمل کرتے نہ کسی کتاب پر ایمان لاتے نہ رسول کو مانتے فقط یہی کلمہ کہتے۔ اسی لئے مشرکوں نے صحابہؓ کو صائبین کہہ دیا تھا۔ خلیل نے کہا وہ ایک فرقہ تھا ان کا دین نصاریٰ سے ملتا جلتا تھا۔ ان کا قبلہ باد جنوب کی طرف تھا ان کو یہ گمان تھا کہ ''حضرت نوح '' کے دین پر ہیں۔ مجاہد نے فرمایا ان کا دین یہود اور مجوس سے مل کر بنا ہے اس لیے نہ ان کا ذبیحہ جائز ہے اور نہ نکاح کرنا۔ قرطبی نے فرمایا وہ مؤحد تھے مگر ستاروں کی تاثیر کے قائل تھے۔ ستاروں کو فاعل مانتے تھے اس لیے خلیفہ قادر باللہ کے استفسار پر ابوسعید اصطغری نے ان کے کفر کا فتویٰ دیا تھا۔ رازی کا مذہب یہ ہے کہ یہ ستارہ پرست تھے ان کا یہ عقیدہ تھا کہ اللہ نے ستاروں کو قبلہ عبادت و دعا ٹھہرایا ہے یا اس دنیا کی تدبیر ان کو سونپی ہے پھر کہا یہ قول کثرانیین کی طرف منسوب ہے جن کے ردو ابطال کے لیے حضرت ابراہیم آئے تھے۔ ابن کثیر فرماتے ہیں سب سے زیادہ ترجیحی قول مجاہد و ابن منبہ کا ہے کہ وہ نہ یہود و نصاریٰ کے دین پر تھے نہ مجوس و مشرکین کے دین پر بلکہ اپنی فطرت پر باقی تھے۔ ان کا کوئی دین نہ تھا اس لیے مشرک لوگ مسلمانوں کو صابی کہتے تھے۔ یعنی سارے اہل ارض کے سب ادیان سے باہر اور مختلف۔ع

ہم طرز جُنوں اور ہی ایجاد کریں گے

بعض علماء کا خیال ہے کہ صائبین وہ ہیں جنہیں کسی نبیؐ کی دعوت نہیں پہنچی بعض نے کہا وہ صابی بن شیث آدم کے دین پر تھے۔ واللہ اعلم۔


حوالہ جات
1. رواہ احمد
2. نسائی، ابن ماجہ، ابن ابی حاتم