عادات وشمائل
26 فروری 2012ء کومحبانِ علم وفضل پر خصوصاً اور جماعتِ اہل حدیث پر عموماً یہ خبر بجلی کی طرح گری کہ اُستاذ العلماء حافظ عبدالمنان محدث نور پوری عالم فانی سے رخصت ہوگئے ہیں۔ إنا لله وإنا إلیه راجعون، إن لله ما أعطیٰ ولله ما أخذ ولکل عنده بأجل مسمی اللهم ارفع درجته في المهدیین واخلفه في عقبه في الغابرین
راقم الحروف کو اپنے رُفقاے کرام: حافظ محمد شریف ،حافظ عبدالغفار ریحان ، حافظ عبدالجبار مدنی اور حافظ محمد امین کے ہمراہ 1977ء سے 1979ء کے دوران ان کے ہاں زیرِ تعلیم رہنے کا موقع ملا اور ہم نے ان کو گونا گوں خوبیوں سے متصف پایا۔ والدین نے ان کا نام خوشی محمد رکھا تھا، جوبعدمیں حافظ عبدالمنان محدث وزیرآبادی کے نام عبدالمنان میں تبدیل ہوگیا اور دونوں ناموں کی خوبیاں آپ کے اَندر جمع ہوگئیں۔
چنانچہ آپ حد درجہ خوش اخلاق ،خوش پوش ، خوش اطوار اور خوش خصال ثابت ہوئے جب کسی سے حال احوال پوچھتے تو فرماتے:'خو ش ہو'....اللہ نے آپ کو ہر کام خوش اُسلوبی سے سرانجام دینے کی خوبی عطا فرمائی تھی۔ لکھنے بیٹھتے تو خوش نویسی کی حدیں چھونے لگتے ، پڑھانے بیٹھتے تو امام مالک کی مجلس کی جھلک دکھا دیتے ، لباس سلائی کرنے بیٹھتے تو درزیوں کو حیران کردیتے۔ درسِ حدیث دیتے تو ترمذی دوراں معلوم ہونے لگتے اور زہد و ورع اور علم وفضل اور استدلال میں امام ابوسلمان داؤد بن علی اصفہانی کا نقش ثانی معلوم ہوتے۔دیانت داری او رایفائے عہد میں تو کوئی آدمی آپ کا ثانی نہ تھا۔
جس دور میں راقم الحروف حافظ گوندلوی  کے ہاں بخاری شریف پڑھتا تھا، اس دور میں حضرت محدث نور پوری کے گھر سے فتح الباری کی پہلی تاآخری جلد لانے اور واپس دینے کی ذمہ داری راقم پر تھی۔ چنانچہ میں جب بھی آپ کے گھر جاتا، آپ کچھ کھلائےپلائے بغیر واپس نہ آنے دیتے ۔چنانچہ برادرِ عزیز عبدالرحمن ثانی بن حضرت محدث نور پوری کو سکھایاگیاتھا کہ جب بھی کوئی مہمان بیٹھک میں آئے تو بغیر پوچھے گھر میں جو پھل ،مشروب یا کھاناموجود ہو حاضر کردینا ہے۔ چنانچہ برادرِ عزیز فوراً گھر جاتے اور گھر میں موجود مشروب یا پھل لے آتے۔ جب کوئی مہمان آپ کو یہ کہتا کہ حضرت میں تو اِسی مدرسہ یا اسی کالونی سے ہر چوتھے یا آٹھویں دن آتا ہوں تو آپ یہ تکلف کیوں فرماتے ہیں،تو آپ فرماتے: دیکھو یہ ناسمجھ بچہ ہے، اب یہ لے ہی آیا ہے تو آپ تناول فرما لیں ، آپ ایک دو گلاس پی لیں گے یادو چار لقمے کھالیں گے تو اس بہانے ہمیں اللہ سےاَجر مل جائے گا۔ اکرام الضیوف کی ایسی مثال آپ کو معدودے چند علما کے، کہیں نہ ملے گی ۔ایسے علما میں سرفہرست میرے اُستاذ مولانا محمد یوسف آف راجووال﷾بھی ہیں، ان کو اللہ نے اس نیکی کا وافر حصہ عطا فرمایا ہوا ہے۔
لوگوں کی آپ کی ذات پر اعتماد کا یہ عالم تھا کہ اُس دور میں ایک دیوبندی گھرانے نے اپنے لیے شاندار کوٹھی بنوانی شروع کی۔ جونہی وہ کوٹھی مکمل ہوئی تو ان کا سعودی عرب سے دو سال کا ویزا آگیا اور اس گھرانے کو سعودی عرب جانا پڑگیا۔ ادھر اس دور کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے حکم جاری کردیاکہ جو شخص جس کسی مکان میں بھی بیٹھا ہے وہ اس کا مالک ہے۔ اب اس گھرانے نے اس خدشے کے پیش نظر کہ کوئی ہماری کوٹھی پر قبضہ نہ کرلے، حضرت حافظ صاحب  کی خدمت میں درخواست کی کہ آپ ہماری کوٹھی میں عارضی رہائش اختیار کرلیں اور ہمارے واپس آنے سے ایک دن قبل خالی کردیں۔آپ نے فرمایا: دیکھو بھائی !میرے پاس حافظ محمد شریف سیالکوٹی کے بیٹوں کا مکان ہے او راُنہوں نے مجھے کہا ہے کہ حافظ صاحب آپ ہمارا مکان کرایہ پر لے لیں اور تیس روپے کرایہ دیتے رہیں۔ آپ ساری عمر اس میں رہائش رکھیں تو ہم تیس روپے سے اکتیس روپے تک بھی کرایہ نہ بڑھائیں گے اور جس دن آپ نے ہمارا مکان خالی کردیا، ہم اسے ایک دن بھی اپنے پاس نہ رکھیں گے اور اسے فروخت کردیں گے۔ کرایہ معمولی ہے اور میں آرام سے رہ رہا ہوں او رکرایہ بھی ادا کررہا ہوں۔ لہٰذا آپ مہربانی فرما کر کوٹھی کسی اور شخص کو دے دیں او رمجھے یہیں گزارا کرنے دیں ۔اس کنبے کے سربراہ نے کہا : نہیں حافظ صاحب ہم آپ کے علاوہ کسی کو نہیں دیں گے اور آپ سے کرایہ بھی نہیں لیں گے۔ آپ نے فرمایا: برادر من اگر خدانخواستہ آپ کا وہاں دل نہ لگا اور آپ دو ماہ بعد واپس آجائیں تو پہلا مکان بھی ہاتھ سے نکل جائے گا اور مجھے آپ کی کوٹھی سے نکل کر کوئی او رمکان تلاش کرنا پڑے گا۔ اس نے عرض کیاکہ حافظ صاحب کم از کم دو سال تک تو ہم وہاں رہیں گے، خواہ دل لگے یا نہ لگے۔ لہٰذا آپ مہربانی فرمائیں اور بغیر کرایہ کے ہی ہماری کوٹھی میں تشریف لے آئیں۔ چنانچہ میں اس دور میں دو سال تک اسی کوٹھی میں حاضری دیتا رہا۔ آپ نے اس کوٹھی سے متصل ان کے پلاٹ میں باغیچہ بنا دیا اور صبح و شام اسے پانی دیتے اور وہیں مہمانوں کو وقت دیتے تھے۔ چنانچہ دو سال بعد اُنہوں نے آپ کو کوٹھی خالی کرنے کی اطلاع دی تو آپ نے اس کوٹھی کو رنگ وروغن کروایا اور خود حافظ عبدالسلام بھٹوی﷾ کے مکان پر رہائش لے گئے۔ چنانچہ کوٹھی کا مالک اپنے کنبے سمیت رات بارہ ایک بجے کوٹھی پر آیا تو آپ نے چابی اُن کے حوالے کی اور اپنے نئے کرائے کے مکان پر چلے گئے۔ صبح ہوئی تو کوٹھی کا مالک اور اس کا کنبہ کوٹھی کی آرائش اور ساتھ والے پلاٹ میں پھولوں بھرا باغیچہ دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ چنانچہ کوٹھی کا مالک دو ماہ ٹھہر کر پھر واپس سعودی عرب جانے لگا تو چابیاں لے کر پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوگیا او راپنی کوٹھی میں رہائش رکھنے کی پیشکش کردی۔ آپ نے فرمایا:کہ اب میرا اپنا مکان بن گیا ہے لہٰذا اب میں وہاں رہائش کرنے کا ارادہ کرچکا ہوں۔ آپ کسی او رمسلمان پراحسان کردیں، وہ کہنے لگے کہ ہمیں آپ کے علاوہ کسی پر اعتماد نہیں ہے او رپھر آپ نے اپنا مکان بھی تو کسی سے قرض لےکر بنایا ہے لہٰذا آپ اپنا مکان کرایہ پر دے کر اپنا قرض اُتار لیں اور ہماری کوٹھی بغیر کرائے کے لے لیں ۔چنانچہ آپ دوبارہ اس کوٹھی میں رہائش لے آئے اور چھ سال تک اس میں رہائش رکھی ۔ چھٹے سال بعد مالکان واپس آئے تو آپ اپنے مکان میں تشریف لے گئے اور اُن کی کوٹھی ان کے حوالے کردی۔ آپ کے حسن اخلاق،ایفائے عہد او رعمدہ برتاؤ سے متاثر ہوکر وہ گھرانہ اہلحدیث ہوگیا اور اُنہوں نے اپنی بیٹی کا رشتہ آپ کے برادرِنسبتی حافظ عبدالوحید کو دے دیا ۔ میں نے یہ قصہ اس لیے تفصیل کے ساتھ لکھا ہے کہ دیگر علماء کوبھی اسی طرح کا اخلاق اور کردار اپنانا چاہیےتا کہ لوگ ان کے حسن کردا رسے متاثر ہوکر خالص اور باعمل مسلمان بن جائیں۔
آپ کی زندگی اس طرح کے اوصاف سے بھری پڑی ہے۔ آپ کے دل میں حج بیت اللہ کی شدید اُمنگ تھی۔ اللہ نے اس کا سبب یہ بنایا کہ ایک صاحبِ خیر نے حج بیت اللہ کا ارادہ فرمایا۔لیکن وہ چاہتا تھا کہ میں کسی عالم دین کے ہمراہ حج کرو ں جو ہمیں صحیح معنوں میں مناسکِ حج ادا کرائے ۔چنانچہ اللہ نے ان کی نظر انتخاب حضرت محدث نور پوری پر ڈال دی اور اُس نے آپ کو اپنے ساتھ حج کرنےاو راس کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کرنےکی پیشکش کردی لیکن جب رقم کا حساب کیا تواُن دونوں میاں بیوی کے علاوہ تیسرے ساتھی حافظ صاحب کے حصے کی رقم حج سے کم او رعمرے کے اخراجات کے برابر تھی ۔حافظ صاحب نے اس کا حل یہ پیش کیا کہ میں عمرے پرچلا جاتاہوں او رعمرے کے بعد وہیں بیت اللہ میں ہی موسم حج تک رہوں گا او رجب حج پروازیں شروع ہوں گی تو میں آپ کو جدہ ایئر پورٹ سے لینے آجاؤں گا اورہم سب مل کرحج بیت اللہ کی سعادت حاصل کر لیں گے ، چنانچہ اُنہیں یہ تجویز پسند آئی اور اس طرح فریضہ حج بیت اللہ بھی ادا ہو گیا۔ سچ ہے کہ من كان لله كان الله له جو الله كا ہوگیا، تو وہ اسے خوب کافی ہے!
اس طرح سرگودھا کے کسی صاحب نے جو پہلے حج کر چکا تھا اور اسے اپنے مناسکِ حج کی صحیح معنوں میں ادائیگی کا یقین نہ تھا، دوبارہ حج کی نیت کی اور چاہا کہ میں حافظ عبد المنان نورپوری ﷫ کی معیت میں حج کروں تاکہ میرا حج صحیح معنوں میں مبرور ہو جائے۔چنانچہ اس نے حضرت حافظ صاحب کو اپنے عزم کی اطلاع دی اور حافظ صاحب کے حج کے اَخراجات اٹھانےکی حامی بھر لی اور اُس نے خود ہی ویزہ وغیرہ لگوا کر آپ کو مطلع کر دیا ۔ آپ نے جامعہ محمدیہ کی انتظامیہ سے چھٹی کی درخواست کی تو اُنہوں نے معذوری ظاہر کی کہ آپ نے حج اسلام تو کر لیا ہے اور اس دفعہ پھر حج پر جانے سے طلبا ے حدیث کی پڑھائی کا حرج ہو گا ۔ آپ نے فرمایا: اب وہ صاحب ویزہ لگوا چکے ہیں اور اَخراجاتِ حج بھی جمع کروا چکے ہیں ، اگر آپ مجھے اِجازت دینے سے قاصر ہیں تو میری جگہ کوئی اُستاذِ حدیث رکھ لیں اور مجھے میرے عہدے سے سبکدوش کر دیں اور اس غر یب کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچائیں اور مجھے اس کے ساتھ حج کرنے دیں ۔چنانچہ انتظامیہ نے یہ تجویز قبول کر لی اور آپ کو شیخ الحدیث کے عہدے سے سبکدوش کر دیا۔
جب آپ حج کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو آپ کے صاحبزادے عبد الرحمٰن ثانی نے آپ کو اِطلاع دی کہ مدرسے کے خزانچی نے باقی مدرّسین کو پچھلے ماہ کی تنخواہ دے دی ہے اور آپ کے تدریسی ماہ کی تنخواہ بھی نہیں دی ، آپ نے جوابی خط لکھا کہ آپ خزانچی کے پاس تنخواہ لینے بھی نہ جائیں، میں آپ کی والدہ کے پاس اتنی رقم چھوڑ آیا ہوں جو اَڑھائی تین ماہ کے اخراجات کے لیے کافی ہے اور میں نے اس جامعہ میں آٹھ دس سال تک مفت کھا کر پڑھا ہے اور پھر وہیں پڑھایا بھی جس کی وہ تنخواہ دیتے رہے ہیں، لہٰذا میں حج کے بعد وہاں پہنچ کر اتنے سال مفت پڑھاؤں گا۔بیٹا! اس جامعہ محمدیہ کے ہم پر بہت حقوق اور احسانات ہیں، میں اسے چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گایہیں بغیر تنخواہ کے پڑھاؤں گا، الاّیہ کہ منتظمین جامعہ محمدیہ مجھے خود ہی روک دیں تو پھر کسی اور جگہ کا سوچوں گا۔
اتفاق سے یہ خط صاحبزادے عبد الرحمٰن ثانی کے بجائے خزانچی جامعہ نور الدین کے ہاتھ آ گیا اور اس نے اس کی فوٹو کاپی کروا کر اصل خط صاحبزادے کو دیا اور فوٹو کاپی انتظامیہ کو دے دی۔ خط پڑھ کر منتظمین کا دل باغ باغ ہو گیا اور اُنہوں نے فیصلہ کر لیا کہ ہم حضرت صاحب کوعہدے سے کبھی سبکدوش نہیں کریں گے اور اُن کی تنخواہ برابر جاری رکھی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کے اندر ابو سلمان داؤد بن علی اصفہانی کی طرح زہد وورع اور حق گوئی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔ آپ میں دو خوبیاں تو ایسی تھیں جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہیں اور وہ تھیں: حلم اور وقار۔آپ مخالف کی بات پر کبھی غصہ نہیں کرتے تھے ۔آپ اپنے والدِ گرامی قدر جناب عبد الحق کا بے حد احترام کرتے تھے اور اپنے ہر خط کے اختتام پر ابن عبد الحق بقلمہ رقم فرماتے اور اپنے اَساتذہ کا احترام تو اُن کے خمیر میں گندھا ہوا تھا۔
آپ کے وقار کا عالم ہزارو ں لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ، آپ جب کبھی بازار سے گزر کر جامعہ اہل حدیث چوک نیائیں گوجرانوالہ میں خطبہ دینے جاتے تو دوکاندار اور راہ گیر احترام سے کھڑے ہو کر مصافحہ کرتے اور آپ ہر واقف اور ناواقف سے اس طرح ملتے، گویا ان کے درمیان سالہا سال سے تعارف ہے۔ جہاں کہیں جانا ہوتا، اکیلے ہی چل پڑتے اور ہٹو بچو کہنے والوں کو کبھی ساتھ نہ لے جاتے۔ البتہ یہ الگ بات ہے کہ ان کے قدموں کی خاک کے پیچھے چلنے والوں کی کمی نہ ہوتی تھی۔ ایک مرتبہ آپ جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں اپنے روحانی فرزندوں سے ملنے آئے تو طلباے جامعہ سلفیہ کا جم غفیر آپ کے پیچھے پیچھے چل کر آپ کو الوداع کرنے جا رہا تھا۔ یہ روح پرور، ایمان افروز اورعلم کی قدر دانی کا منظر دیکھ رئیس التجار صوفی اَحمد دین صاحب (انصاف ٹیکسٹائل ملز فیصل آباد) صدر جامعہ سلفیہ میاں فضل حق صاحب سے پوچھنے لگے کہ یہ کونسی شخصیت ہے جن کے قدموں کی دھول کے پیچھے اتنے سارے طلبہ چل رہے ہیں؟
تو میاں صاحب نے جواب دیا کہ آپ کو پتہ نہیں یہ جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ کے بڑے سینئر استاد ہیں۔ مجھے تو ان کا درسِ بخاری سن کر شیخ زملکانی کے اَشعار یاد آ جاتے ہیں جو اُنہوں نے امام ابن تیمیہ﷫ کی مداح میں کہے تھے:
ماذا يقول الواصفون له؟..... وصفاته حلت عن الحصر
هو حجة الله قاهــرة..... هو بيننا أعجوبة الدهر
هو آية في خلــق ظاهرة..... أنواره أريت على الفجر

آپ طلبہ میں علمی رجحان کی بڑی حوصلہ اَفزائی کیا کرتے ۔راقم الحروف کو ہم نصابی کتب میں سے کتبِ تاریخ کے مطالعہ کا بڑا شوق تھا اور میں جب البدایۃ والنہایۃ کا مطالعہ کیا کرتا تو آپ نے مجھے تطہیر تاریخ پر کام کرنے کی ترغیب دی جس کا میں نےخوب اثر لیا ۔ میں نے مطالعہ تو خوب کیا لیکن اس پر بھر پور اَنداز میں کام نہیں کر سکا ،البتہ ایک کتاب بنام 'صحیح تاریخ الاسلام والمسلمین' (بعثتِ رسولﷺ سے واقعہ کربلا تک) پر کام کر چکا ہوں جو ہندوستان میں چھپ چکی ہے اور پاکستان میں بھی مل سکتی ہے۔
آپ کے تلامذہ
حضرت حافظ صاحب جس طرح خود بہت سی خوبیوں سے مالا مال تھے۔ اس طرح ان کے چند شاگرد بھی اپنی مثال آپ ہیں اور صحیح معنوں میں ان کا صدقہ جاریہ ہیں:
1. حافظ محمد امین صاحب بن مولانا محمد یعقوب شیخ الحدیث دارالعلوم اوڈانوالہ، آپ بڑےذہین اور فہیم عالم باعمل ہیں اور دار السلام کی بڑی وقیع کتابوں کے مترجم ہیں۔
2. حافظ محمد شریف صاحب بن چوہدری فتح محمد﷾،مدیر مرکز التربیۃ الاسلامیۃ فیصل آبا د، آپ اسلاف کا نمونہ ہیں، فہم قرآن وحدیث اور اُصول حدیث و تفسیر و فقہ و کلام میں ید طولیٰ رکھتے ہیں ، آپ جامعہ سلفیہ میں اوّل پوزیشن لے کر مدینہ منورہ میں داخل ہوئے اور وہاں یونیورسٹی بھر میں دوم پوزیشن لے کر، بغیر تقرری کی درخواست کیے ہی پاکستان آ گئے ۔آپ کے یہاں پہنچنے کے بعد یونیورسٹی کی انتظامیہ کراچی میں آ کر آپ کے کاغذات لے گئی اور آپ کو وزارتِ مذہبی اُمور ودعوت وارشاد، سعودی عرب کی طرف سے داعی مقرر کر دیاگیا۔
3. مولانا محمد رمضان سلفی ﷾،نائب شیخ الحدیث جامعہ لاہور اسلامیہ، گارڈن ٹاؤن لاہور، آپ بڑے وسیع المطالعہ اور کہنہ مشق استاذ ہیں۔ دورانِ تعلیم محنتی طالب علموں میں شمار ہوتے تھے۔اب الحمدللہ بڑے مہمان نواز اور قابل استاذ ہیں اور طلبہ حدیث سے بڑی محبت رکھتے ہیں۔
4. حافظ عبد الغفار ریحان﷾،آپ کی دینی خدمات بھی قابل ستائش ہیں۔ اشاعتِ علم کے دل دادہ ہیں اور ایک بڑے مدرسے کے منتظم ہیں۔
5. مولانا عبد الرحمٰن یوسف﷾، آپ معروف عالم دین مولانا محمد یوسف آف راجووال کے بیٹے ہیں ۔ بہت خوش نویس اور ماہر تعلیم ہیں اور کراچی میں استاد ہیں، متعدد کتابوں کے مترجم بھی ہیں۔
6. مولانا عبد الجبار مدنی﷾،آپ مدینہ یونیورسٹی کے فاضل اور جامعہ قدس اہل حدیث چوک دالگراں میں مدرّس ہیں ۔بڑی مرنج مرنجان طبیعت کے مالک اور نہایت سادگی پسند ہیں۔
7. حضرت مولانا حافظ عبد الغفار روپڑی﷾، امیر جماعت اہل حدیث پاکستان:آپ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہیں بڑی دیر سے غصہ آتا اور بڑی جلدی کا فور ہو جاتا ہے اور دونوں بھائیوں کی محنت سے جامعہ قدس چوک دالگراں دوبارہ جوان ہو گیا ہے۔
8. مولانا عنایت اللہ امین ڈاہروی﷾ آپ دارالحدیث راجووال میں مدرّس ہیں اور' ببر کھائی' میں خطیب ہیں۔
علاوہ ازیں ہزراوں طلبہ اور سینکڑوں علماے دین جو پاکستان ، افغانستان، بلتستان، عرب امارات ، سعودی عرب، بنگلہ دیش اور ہندوستان میں دعوتِ دین کے کام میں مصروف ہیں، آپ کے روحانی فرزند اور آپ کا صدقہ جاریہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائےاور اُن کی تالیفات: 'چشمہ فیض' ،' احکام ومسائل' اور 'ارشاد القاری' وغیرہ کتب کو نافع خلائق بنائے۔
ہمارے ممدوح مولانا عبد المنان نورپوری کی زندگی کی طرف اُن کا آخرت کا سفر بھی عظیم الشان تھا۔ جناح پارک متصل جامعہ محمدیہ،گوجرانوالہ میں ہرسو متشرع اور باعمل مسلمان کا جم غفیر نظر آتا تھا۔ اطراف واکناف سے جمع ہونے والے توحید کے پروانوں کا بہت بڑا اجتماع تھا جو آپ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے موجود تھا۔ مولانا مرحوم کی عظیم الشان محنت کے اثرات اُن کے پیروکاروں کی اُن سے والہانہ محبت میں جلوہ افروز ہورہے تھے۔جناح پارک کے جوانب میں موجود گھروں کی بالکونیاں اہل علاقہ اور خواتین سے بھری پڑی تھیں اور سب حیرانی سے دیکھ رہے تھے کہ کیسا عالم جلیل آج دنیا سے رخصت ہوگیا۔ ان کا جنازہ دین کے لئے اپنی زندگی بِتانے والوں کے لئے سکون واطمینان کا باعث اور دنیا پرستوں کے لئے نقارہ خدا تھا کہ جو لوگ اللہ کے لئے اپنی ہرصلاحیت صرف کردیتے ہیں، دنیا کس طرح اُن سے بے لوث محبت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بلند فرمائے، اُن کو اعلیٰ علیین میں جگہ دے اور دین کے دیگر خدام کو بھی ان جیسا علم وعمل نصیب فرمائے۔ آمین یا ربّ العٰلمین !

٭٭٭٭٭