Title March 12

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

قيام پاکستان سے قبل اہلحدیث مجموعہ ہائے فتاویٰ کا تعارف
فتویٰ کامفہوم
لغوی اعتبار سے فتویٰ اسم مصدر ہے جو'افتاء' کے معنی میں مستعمل ہے اور اس کی جمع فتاوٰی (بفتح الواو) اور فتاوِی(بکسر الواو) آتی ہے۔
قرآنِ کریم میں بھی یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے۔ چنانچہ اِرشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿يَستَفتونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفتيكُم فِى الكَلـٰلَةِ ....  ١٧٦ ﴾ .... سورة النساء
''لوگ آپ سے فتویٰ طلب کرتے ہیں۔ فرمادیجئے ! اللہ تمہیں کلالہ کے متعلق فتویٰ دیتا ہے۔''
بعض علماے لغت کے نزدیک یہ 'الفتوة' سے ماخوذ ہے جس کے معنی کرم، سخاوت، مروت اور زور آوری ہیں۔ فتویٰ کو بھی فتویٰ اس لیے کہتے ہیں کہ فتویٰ دینے والا مفتی اپنی فتوت یعنی سخاوت و مروت اور عالمانہ قوت سے کام لیتے ہوئے کسی دینی مسئلہ کا حل پیش کرتا ہےیا فتویٰ کے ذریعے مسلم معاشرے میں دین کو استحکام اور تحفظ دیا جاتاہے۔
علامہ ابن منظور افتاء اور فتویٰ کے معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
«والفتیا تبیین المشکل من الأحکام، أصله من الفتی وهو الشاب الحدث الذي شب وقوي، فکأنه یقوي ما أشکل بیانه فیشب ویصیر فتیا قویا»1
''فتویٰ کے معنی ہیں مشکل احکام کو واضح کرنا، اس کی اصل فتیٰ سے ہے: وہ نوجوان جو طاقتور ہو گویا مفتی،فتویٰ کواپنے بیان کے ذریعہ سے مضبوط اور قوی بناتا ہے۔''
علامہ راغب اصفہانی نے لکھا ہے :
«الفتیا والفتوٰى: الجواب عما یشکل من الأحکام ویقال: استفتیت فأفتاني»2
''فتویٰ مشکل احکام کے بارے میں دیئے جانے والے جواب کو کہتے ہیں۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ میں نے فتویٰ دریافت کیا تو اُس نے مجھے فتویٰ دیا۔''
اِصطلاحی مفہوم
علماے اُصولِ فقہ کے مطابق فتویٰ کے شرعی معنی اَدلّہ شرعیہ کی روشنی میں الله تعالیٰ کے حکم کو بیان کرنا ہے۔
نواب صدیق حسن خان فتویٰ کا اِصطلاحی مفہوم یوں بیان کرتے ہیں:
«هو علم تروي فیه الأحکام الصادرة عن الفقهاء في الواقعات الجزئیة لیسهل الأمر على القاصرین من بعدهم»3
''یہ وہ علم ہے جس میں ان احکام کو نقل کیا جاتا ہے جو فقہا سے واقعاتِ جزئیہ کے بارے میں صادر ہوتے ہیں تاکہ بعد میں آنے والوں کے لیے معاملات آسان ہو جائیں۔''
نواب صدیق حسن خان کی اس تعریف کے مطابق فتویٰ اصول و کلیات اور بنیادی قواعد و ضوابط میں بحث و تحقیق کا نام نہیں بلکہ پیش آمدہ جزوی مسئلہ کا حل تلاش کرنے کا نام ہے۔
اَہمیتِ فتویٰ
تمام فقہا کا اتفاق ہے کہ طلبہ کو تعلیم دینا اور استفتاء کرنے والوں کو فتوٰی دینا فرض کفایہ ہے اور اگر کسی مسئلہ یا واقعہ کے پیش آنے کے وقت صرف ایک ہی ایسا شخص ہو جو اس کا جواب دے سکتا ہو تو اس کےلیے جواب دینا فرضِ عین ہے اور اگر وہاں اس کے علاوہ کوئی اور شخص بھی اس کا اہل ہو تو پھر یہ دونوں کے لئے فرض کفایہ ہوگا۔فتویٰ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی نسبت اپنی طرف کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيَستَفتونَكَ فِى النِّساءِ قُلِ اللَّهُ يُفتيكُم فيهِنَّ .....  ١٢٧ ﴾ ...... سورة النساء
''اے پیغمبر! یہ آپ سے عورتوں کے متعلق فتویٰ طلب کرتے ہیں؛ فرما دیجئے !اللہ تمھیں ان کے متعلق فتویٰ دیتا ہے۔''
یہی وجہ ہے کہ علامہ ابن قیم﷫ نے اس سلسلہ میں اپنی مایہ ناز اور بلند پایہ کتاب کا نام 'اعلام الموقعین عن ربّ العالمین'رکھا ہے ۔یعنی مفتی حضرات سے جب دینی مسائل دریافت کیے جاتے ہیں تو ان کا جواب دیتے وقت گویا وہ اللہ ربّ العزت کی طرف سے دستخط کرتے ہیں، علامہ موصوف فرماتے ہیں:
"جب ملوک وسلاطین کی طرف سے دستخط کرنے کا منصب اس قدر بلند ہے کہ اس کی قدرومنزلت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور دنیا میں اسے عالی مرتبہ شمار کیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دستخط کرنے کی عظمت وشان تو اس سے کہیں زیادہ بلند وبرتر ہے۔''4
رسول اللہﷺ زندگی بھر اس عالی شان منصب پر فائز رہے، کیونکہ نبوت کا اصل محور یہی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿بِالبَيِّنـٰتِ وَالزُّبُرِ‌ وَأَنزَلنا إِلَيكَ الذِّكرَ‌ لِتُبَيِّنَ لِلنّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيهِم وَلَعَلَّهُم يَتَفَكَّر‌ونَ ٤٤ ﴾ ..... سورة النحل
''ہم نے آپکی طرف ذکر(شریعت)کو نازل فرمایا تاکہ آپ لوگوں کے سامنے ان کی طرف نازل شدہ شریعت کی تشریح فرمائیں تاکہ وہ غور فکر کریں۔''
علامہ نووی﷫ فرماتے ہیں:
''یقیناً فتویٰ دینا انتہائی حساس،قابل قدر اور بڑی فضیلت والا کام ہے، کیونکہ مفتی، حضرات انبیاے کرام﷩ کا وارث ہوتا ہے اور فرضِ کفایہ کوادا کرتا ہے۔ گو وہ ان کی طرح معصوم عن الخطا نہیں ہوتا بلکہ اس سےسہو وخطا کا صدورممکن ہوتا ہے غالباً اسی لیے علما نے کہا ہے کہ مفتی اللہ ربّ العزت کی طرف سے دستخط کرنے والا ہوتا ہے۔''5
چونکہ فتویٰ کا موضوع اللہ تعالیٰ کے احکام بیان کرنا ہے تاکہ لوگ ان کے مطابق عمل کرسکیں، اسی لیے مفتی کو اللہ تعالیٰ کا ترجمان قرار دیا جاتا ہے۔
اِفتا و استفتا کا تاریخی جائزہ
آنحضرتﷺ بحیثیتِ مفتی اعظم
فتویٰ پوچھنے اور فتویٰ دینے کا سلسلہ رسول اللهﷺ کے زمانے سے شروع ہوا،کیونکہ آپ ہی مہبطِ وحی، شارعِ اسلام اور مرجع خلائق تھے۔حافظ ابن قیم﷫ فرماتے ہیں افتاء کے منصب پر جنہیں سب سے پہلے فائز ہونے کا شرف حاصل ہے، وہ خود سید المرسلین، امام المتقین خاتم النّبیین حضرت محمدﷺ کی ذاتِ گرامی ہے۔6
عہدِ رسالت میں فتاویٰ کا سلسلہ اکثر و بیشتر زبانی طور پر ہی چلتا رہا۔ جب کوئی مشکل مسئلہ پیش آتی تو لوگ رسول اللهﷺ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ آپ وحی الٰہی کی روشنی میں فتویٰ دیا کرتے تھے۔
حضرات صحابہ کرام نے الله تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے ان ارشادات پر سختی سےعمل کیا اور اُنہوں نے آنحضرتﷺ سے صرف وہی سوالات پوچھے جو ناگزیر تھے اور جن کے پوچھنے کی اُنہیں واقعی ضرورت تھی۔
حضرات صحابہ کرام اور اِفتا
آپﷺ کے بعد جلیل القدر صحابہ کرام کی طرف لوگ فتویٰ کے لیے رجوع کیا کرتے تھے، صحابہ کرام اپنے اجتہاد سے ان مشکل دینی مسائل کے بارے میں فتاویٰ صادر فرماتے۔عہدِ صحابہ میں فتاویٰ کا سلسلہ زبانی اور تحریری دونوں طریقوں سے جاری رہا۔صحابہ کرام میں سے بعض سے تو کثرت سے فتاویٰ منقول ہیں اور بعض کے فتاویٰ کی تعداد انتہائی قلیل ہے۔ ان میں سے بعض کے فتاویٰ کی تعداد کثرت و قلت کے درمیان ہے۔
اُن میں سے مدینہ منورہ میں خلفاے راشدین کے علاوہ حضرت زید بن ثابت، حضرت اُبیّ بن کعب، حضرت عبدالله بن عمر اور امّ المؤمنین حضرت عائشہ، مکہ مکرمہ میں حضرت عبدالله بن عباس، کوفہ میں حضرت علی اور حضرت عبدالله بن مسعود، بصرہ میں حضرت انس بن مالک اور حضرت ابو موسیٰ اشعری، شام میں حضرت معاذبن جبل اور حضرت عبادہ بن صامت اور مصر میں حضرت عمرو بن عاص کے اَسماے گرامی قابل ذکر ہیں۔ تاریخ کے صفحات میں قریباً ایک سو تیس حضرات صحابہ کرام کے اسماے گرامی محفوظ ہیں، جو مسندِ افتا پر فائز تھے۔امام ابن حزم اور حافظ ابن قیم نے باقاعدہ ان صحابہ کی فہرست مرتب فرمائی ہے جومنصبِ افتا پر فائز تھے۔7
تابعین و تبع تابعین اور افتا
صحابہ کرام کے عہد کے بعد جلیل القدر تابعین و تبع تابعین منصبِ افتا پر فائز رہے، ان میں سے سعید بن مسیّب، سعید بن جبیر، عروہ بن زبیر، مجاہد، عطا، علقمہ بن قیس، قاضی شریح، یزید بن ابی حبیب اور لیث بن سعد﷭ نمایاں ہیں۔امام ابن حزم نے تو ان تابعین، تبع تابعین اوردیگر اَئمہ دین کی ایک مفصل فہرست بھی مرتب کی ہے جو صحابہ کرام کے بعد مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، بصرہ کوفہ ،شام، مصر اور دیگر علاقوں میں منصبِ افتا پر فائز رہے۔8
اِسی طرح قیروان ، اندلس ، یمن اور بغداد میں بھی ممتاز اصحابِ علم نے اپنے اپنے دور میں فن فتاویٰ نویسی کو عروج دیا اور عوام اپنے دینی مسائل کے لیے ان کی طرف رجوع کرتے رہے۔یوں یہ کام وسعت اختیار کرتا گیا اور اکنافِ عالم میں اسلام پھیل گیا۔
تاریخِ فتاوٰی نویسی
تابعین کے دور کے بعد تاریخ اسلام میں کوئی بھی دور ایسا نہیں جس میں فتاویٰ کے مجموعے مرتب نہ کیے گئے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ادبِ اسلامی میں فن فتویٰ نویسی میں ایک تسلسل نظر آتا ہے اور کوئی بھی دور اس صنف سے خالی نہیں رہا۔ذیل میں نمایاں مجموعہ ہائے فتاوٰی کے نام دیئے جا رہے ہیں جن سے اس کے تاریخی ارتقا کا اظہار ہوتا ہے:
'نوازل' از ابو لیث سمرقندی(م۳۹۳ھ)،'النتف فی الفتاویٰ' از ابو الحسن سعدی(م۴۶۱ھ)، 'الفتاویٰ الکبری' و 'الفتاویٰ الصغری' ازحسام الدین الصدر الشہید (م۵۳۶ھ)،'فتاوی' از قاضی عیاض(م۵۴۴ھ)،'التجنیس والمزید'از مرغینانی (م۵۹۲ھ)، 'فتاویٰ تمرتاشی' (م۶۱۰ھ)،'فتاویٰ ابن الصلاح'(م۶۴۳ھ)،'فتاویٰ مصریہ'از غربن بدالسلام(م۶۶۰ھ)، 'المنشورات وعیون المسائل المہمات' یا 'فتاویٰ النووی' (م۶۷۶ھ)، 'الفتاویٰ الولوالجیۃ' للولوالجی (م۷۱۰ھ)، 'مجموع فتاویٰ' از شیخ الاسلام ابن تیمیہ(م۷۲۸ھ)، 'فتاویٰ جلال الدین ترکمانی بتانی'(م۷۹۳ھ) 'الفتاویٰ الحدیثۃ' اور الفتاویٰ الفقہیۃ' از ابن حجر ہیثمی(م۸۰۷ھ)، ' الفتاویٰ البزازیۃ' از ابن بزازی (م۸۲۷ھ)، ' جامع الأحکام لمانزل من القضایا بالمتین والحکام' از برزلی (م۸۴۱ھ)' 'الفتاویٰ الطرسوسیۃ' یا 'أنفع الوسائل إلی تحریر المسائل' از نجم الدین طرسوسی(م۸۵۸ھ)، 'فتاویٰ القاسم بن قطلوبغا' (م۸۷۹ھ)، 'الدررالمکنونۃ فی نوازل مازونۃ' ازیحییٰ بن موسیٰ مازونی(م۸۸۳ھ)، 'المعیارا المعرب والجامع المغرب عن فتاویٰ اہل افریقیۃ والأندلس والمغرب' از احمد بن یحییٰ الونشریسی (م۹۱۴ھ)،'الفتاویٰ الزینیّۃ' از ابن نجیم(م۹۷۰ھ)، 'الفتاویٰ الحدیثیۃ'و'الفتاویٰ الکبری الفقہیۃ' لابن حجرہیثمی(۹۷۴ھ)، 'الفتاویٰ الحامدیۃ' از حامد آفندی القونوی (م۹۸۵ھ)'فتاویٰ شمس الدین رملی (م۱۰۰۴ھ)، 'فتاویٰ علی آفندی طرابلسی (م۱۰۳۲ھ)، ' الفتاویٰ الخیریۃ لنفع البریۃ' از خیر الدین رملی (م۱۰۸۱ھ)، 'الفتاویٰ الانقرویۃ' ازمحمد بن الحسین انقروی(م۱۰۹۸ھ) زیادہ معروف ہیں۔9
برصغیر میں علماے احناف کے مجموعہ ہائے فتاوٰی
برصغیرکے اَدب میں بھی فتوٰی نویسی کے باب میں کافی ذخیرہ پایا جاتا ہے۔چونکہ یہاں حنفی مسلک کے پیروکار اکثریت میں ہیں، اس وجہ سے یہاں فتاوٰی کے جو مجموعے تیار ہوئے ان میں اکثر علماے احناف کے تالیف کردہ ہیں۔10
ان میں سے کچھ مطبوع اورغیرمطبوع مجموعہ جات کی ایک فہرست پیش کی جاتی ہے:
1. 'الفتاویٰ الغیاثیۃ' اس کےمؤلف داوٴد بن یوسف الخطیب ہیں۔ یہ سلطان غیاث الدین بلبن کے عہد (۶۶۴۔۶۸۶ھ)کی تالیف ہے اور اسی کی طرف منسوب ہے۔ یہ غالباً ہندوستان میں فتاویٰ کا سب سے پہلا مجموعہ ہے۔
2. 'الفتاوٰی السراجیۃ' تالیف سراج الدین عمر بن اسحٰق غزنوی (م۷۷۳ھ) جس کا مخطوطہ خدابخش لائبریری (پٹنہ) میں ہے۔
3. 'فتاوٰی قاری الہدایۃ' تالیف سراج الدین عمر بن اسحٰق غزنوی (م۷۷۳ھ) اس کا مخطوطہ رضا لائبریری(رام پور) میں ہے۔
4. 'الفتاوٰی التاتارخانیۃ' تالیف عالم بن علا حنفی (م۷۸۶ھ)اس کا اصل نام'زاد المسافر' یا زاد المسفر' ہے۔ اس کا مکمل نسخہ احمد آباد کے کتب خانہ پیر محمد شاہ میں موجود ہے۔ آصفیہ لائبریری (حیدرآباد) دارالکتب (قاہرہ) اسلامیہ کالج (پشاور) رضا لائبریری (رامپور) اور خدابخش لائبریری(پٹنہ) میں اس کی متفرق جلدیں موجود ہیں۔
5. 'فتاویٰ حمادیہ' نویں صدی ہجری میں گجرات کے مفتی رکن الدین ناگوری نے قاضی حماد الدین گجراتی کے حکم سے اس کی تصنیف کی۔
6. 'فتاویٰ اِبراہیم شاہیۃ'(نسخہ عربی)تالیف قاضی نظام الدین احمد بن محمد گیلانی (م۸۷۴ھ) یہ دوحصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا عبادات سے اور دوسرا معاملات سےمتعلق۔ اس کے قلمی نسخے بوہار لائبریری پٹنہ، آصفیہ، رامپور انڈیا آفس، لندن اور پنجاب یونیورسٹی میں محفوظ ہیں۔
7. 'حسب المفتی' تالیف قاضی عبدالمعالی البخاری(دسویں صدی ہجری) اس کے قلمی نسخے پٹنہ، رام پور،انڈیا آفس اور دارالکتب(قاہرہ)میں موجود ہیں۔
8. 'فتاویٰ اکبر شاہی'تالیف عتیق اللہ بن اسماعیل بن قاسم (درعہدِاکبر ۹۶۳۔ ۱۰۱۴ھ) اس کا مخطوطہ آصفیہ لائبریری میں موجود ہے۔
9. 'الفتاویٰ النقشبندیۃ'تالیف معین الدین بن خواجہ نقشبندی(م۱۰۸۵ھ) اس کے مخطوطے پٹنہ اور رام پور میں ہیں۔
10. 'جُنگِ مسائل'تالیف ملّا محمد غفران بن تائب(م۱۲۶۰ھ) دو مخطوطے رام پور میں ہیں۔
11. 'الفتاویٰ الشرفیۃ' تالیف مفتی شرف الدین(م۱۲۶۸ھ) اس کا مخطوطہ رام پور میں ہے۔
12. 'فتاویٰ اَبی البرکات' تالیف اَبو برکات تراب علی لکھنوی(م۱۲۸۱ھ) اس کا قلمی نسخہ ایشیاٹک سوسائٹی(کلکتہ) کی لائبریری میں موجود ہے۔
13. 'فتاویٰ مختصر شافعی'تالیف شیخ میاں لکھنوی اسکا مخطوطہ بھی ایشیاٹک سوسائٹی میں ہے۔
14. 'الفتاویٰ الہندیۃ' یہ سب سے اَہم اور معروف مجموعہ ہے جسے علماے اَحناف کی ایک جماعت نے اورنگ زیب عالمگیر کے عہد میں مرتب کیا، اس کی تا لیف میں کم وبیش آٹھ سال(۱۰۷۴ تا۱۰۸۲ھ) کی مدّت صرف ہوئی۔11
برصغیر میں علمائے اہل حدیث اور فتاویٰ نویسی
اگرچہ حضرات صحابہ کرام کے عہد میں بھی فتاویٰ کے سلسلہ میں مجتہدین میں بعض مسائل میں اختلافِ رائے موجود تھا۔ دوسری صدی ہجری میں اختلاف کی اس خلیج میں مزید وسعت پیدا ہو گئی اور اس کے نتیجہ میں فقہا دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔ ان میں سے ایک اہل حدیث کا گروہ تھا جو کتاب الله، سنتِ رسول الله اور حضرات صحابہ کرام کے فتویٰ کی بنیاد پر فتویٰ دیتا تھا۔ اس گروہ میں علماے حجاز کی غالب اکثریت شامل تھی، دوسرا گروہ اہل الرائے کا تھا جونصوصِ شرعیہ کی تشریح ان کے عقلی معنیٰ و مفہوم کی روشنی میں کرنے پر زور دیتا تھا۔ اس گروہ میں فقہاے عراق کی غالب اکثریت شامل تھی۔12
اَوّل الذکر 'اہل حدیث' اہل سنت مسلمانوں کا وہ گروہ ہے جو قرآن مجید کے ساتھ حدیث نبویﷺ کو اِسلامی شریعت کا حقیقی سر چشمہ قرار دیتا ہے اور دین و شریعت کے معاملات میں تقلیدِ شخصی کا قائل نہیں۔ اس گروہ کے نزدیک اسلام کے اَوّلین دور میں صحابہ کرام ، تابعین اور تبع تابعین﷭ کا بھی یہی مسلک تھا۔ چنانچہ اس گروہ نے اپنے اَفکار ونظریات اور اپنے فتاویٰ و مسائل کی بنیاد قیل وقال اور آراء الرجال کے بجائے ہمیشہ کتاب الله، سنت رسول اللهﷺ اور حضرات صحابہ کرام کے فتاویٰ پر رکھی، سلفِ اُمت صحابہ کرام و تابعین کے بعد بھی ہر دور میں ایسے بے شمار اَساطین علم وفضل رہے ہیں جو حاملین کتاب و سنت کی اسی سلک مروارید ''منسلک ہیں اور ان کی کتب اور فتاویٰ کے مجموعوں سے آج بھی دنیا اکتسابِِ ضیا کر رہی ہے۔ امام احمد بن حنبل، امام بخاری، شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ اور ان کے شاگرد حافظ ابن قیم، حافظ ابن حجر عسقلانی، شیخ الاسلام امام محمد بن عبدالوہاب،محمد بن علی شوکانی، شاہ ولی الله محدث دہلوی﷭ اور دیگر اَئمہ و فقہاے کرام اسی گروہ کے تابندہ ستارے ہیں۔
برصغیر پاک و ہند میں تحریکِ اہل حدیث ابتدائی عہد سے ہی موجود رہی۔13 جب اسلام کا اِبتدائی قافلہ برصغیر میں وارد ہوا تو اس وقت تقلیدی مسالک کا کہیں وجود نہ تھا۔ تمام کا مرجع و ماویٰ کتاب الله اور رسول اللهﷺ کی حدیث و سنت تھا۔ بلکہ آنحضرتﷺ کے اِرشاد: «لا تزال طائفة من أمتي ظاهرین على الحق»14 کے مطابق تقلید و جمود کے رواج پا جانے کے باوجود یہاں ہردور میں خال خال ہستیاں ایسی رہی ہیں جنہوں نے صحابہ اور تابعین عظام کے نقش قدم پر کتاب و سنت کو ہی دین کی اَصل بنیاد قرار دیا۔ جیسا کہ المقدسی(م۳۷۵ھ) نے اقلیم سندھ میں اکثریت کو مسلکِ اَصحاب الحدیث کا پابند بتایا ہے۔15
امام ابن حزم(م۴۵۶ھ؍۱۰۶۴ء) کے نزدیک بھی اس علاقے میں طالبانِ قرآن و سنت کی اکثریت تھی جنہیں وہ 'ظاہری' کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔16
مغلوں کے آخری دور میں حضرت شاہ ولی الله محدث دہلوی(م۱۱۷۶ھ؍۱۷۶۲ء) اور ان کے خاندان نے تحریکِ اہل حدیث کو بڑی تقویت پہنچائی۔17
ان کے بعد تعلیمی و تدریسی خدمات کے ساتھ عملی و نظری اعتبار سے حضرت مولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی المعروف بہ شیخ الکل حضرت میاں صاحب (م۱۳۲۰ھ؍ ۱۹۰۲ء) جانشین شاہ محمد اسحٰق محدث دہلوی نے اہل حدیث مکتبِ فکر کو بڑا رواج دیا۔18
بعد اَزاں ان کے سینکڑوں تلامذہ نے یہ تحریک برصغیر کے گوشے گوشے میں پہنچا دی۔ اُنیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے رُبع اوّل میں عالم اسلام کے اندر حدیث دان علما بہت کم نظر آتے ہیں، لیکن برصغیر پاک و ہند میں حدیث کا چرچا تھا۔ بلکہ یہ ملک طالبانِ علم حدیث کا مرجع و ماویٰ بنا ہوا تھا۔ ترویج علم حدیث اور اَحیائے سنت کے سلسلہ میں علامہ رشید رضا مصری (م۱۳۵۴ھ؍ ۱۹۳۵ء) نے بھی علمائے اہل حدیث کی گراں قدر خدمات کا اعتراف شاندار الفاظ میں کیا۔19
مولانا سید سلیمان ندوی(م ۱۹۵۳ء) تحریک اہل حدیث کے بارے میں ر قم طراز ہیں:
''اس تحریک کا یہ فائدہ ہوا کہ مدتوں کا زنگ طبیعتوں سے دور ہوا اور جو یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ اب تحقیق کا دروازہ بند اور اجتہاد کا راستہ مسدود ہو چکا ہے، رفع ہو گیا اور لوگ از سرِ نو تحقیق و کاوش کے عادی ہونے لگے ۔ قرآن پاک اور اَحادیثِ مبارکہ سے دلائل کی خُو پیدا ہوئی اور قیل و قال کے مکدّر گڑھوں کی بجائے ہدایت کے اَصلی سر چشمہ مصفّا کی طرف واپسی ہوئی۔''20
بیسویں صدی عیسوی کے آغاز میں تحریک اہل حدیث کو عوامی تحریک بنانے کی کوشش شروع ہوئی اور دہلی میں 'آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس' کے نام سے ایک ملک گیر، تنظیمی و تبلیغی ادارہ قائم کیا گیا جس نے مکتبوں اور درس گاہوں کے قیام، مبلغین کے وعظ وارشادات اور جلسوں کے انعقاد کے ذریعے پورے برصغیرمیں تحریک ومسلک اہل حدیث کو عام کر دیا۔
بہرحال اس تحریک کے جو اَثرات پیدا ہوئے اور اس زمانہ سے آج تک ہمارے دورِ ادبار کی ساکن سطح میں اس سے جو جنبش ہوئی وہ ہمارے لیے بجائے خود مفید اور لائق شکریہ ہے۔ بہت سی بدعتوں کا استیصال ہوا، توحید کی حقیقت نکھاری گئی، قرآن پاک کی تعلیم وتفہیم کا آغاز ہوا۔ قرآن پاک سے ہمارا رشتہ براہِ راست دوبارہ جوڑا گیا۔ حدیث نبویﷺ کی تعلیم و تدریس اور تالیف و اشاعت کی کوششیں کامیاب ہوئیں۔ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ تمام عالم اسلام میں ہندوستان ہی کو صرف اس تحریک کی بدولت یہ سعادت نصیب ہوئی۔ نیز فقہ کے بہت سے مسائل کی چھان بین ہوئی، سب سے بڑی بات یہ ہے کہ دلوں سے اِتباع سنتِ نبویﷺ کا جو جذبہ گم ہوگیا تھا، وہ سالہا سال کی اس محنتِ شاقہ سے دوبارہ پیدا ہو گیا۔
اَہل حدیث کے اُصولِ فتاویٰ
علماے اہل حدیث کے فتاویٰ کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں اُن کے یہاں فتویٰ نویسی کا جو اَنداز نظر آتا ہے وہ مسلکی فتویٰ نویسی کے اَنداز سے بالکل مختلف ہے۔ وہ کسی ایک امام کی تقلید کی بجائے تمام اَئمہ کے اَقوال سے استفادہ کرتے ہیں۔ مسائل کی تحقیق کے وقت یہ پہلے براہِ راست کتاب و سنت کی طرف رجوع کرتے ہیں، پھر سلف صالحین(صحابہ، تابعین، تبع تابعین) کی آرا سامنے رکھتے ہیں اور دلائل کی رو سے جو قول راجح ہوتا ہے، اس کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں۔ وہ اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوتے کہ اِجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ ان کے یہاں اَحادیث و آثار سے استدلال کرتے وقت اس بات کا خصوصی اہتمام ہوتا ہے کہ پہلے اُن کی چھان پھٹک کر لی جائے، اور صرف صحیح اَحادیث پر اعتماد کیا جائے۔ حدیث کے علاوہ فقہ کی کتب پر بھی ان کی بڑی گہری نظر ہے اور بشمول حنفی مسلک اور دوسرے مسالک کی فقہی کتابوں سے جا بجا اِستشہادات دیئے جاتے ہیں جن سے ان کی وسعتِ اطلاع کا علم ہوتا ہے۔اُنہوں نے شروع سے مخصوص فقہی مسائل کے بجائے 'فقہِ حدیث' کی دعوت دی ہے، اور کسی ایک فقہ پر اکتفا کرنے کے بجائے انہوں نے مختلف فقہی مذاہب کے تقابلی مطالعہ کی سفارش کی ہے۔ یہ رجحان اُن کے فتاویٰ اور دوسری تمام فقہی تالیفا ت میں نظر آتا ہے۔
علماے اہل حدیث نے شرعی مسائل کے حل کے لیے جو سعی اور کوششیں کی ہیں اگرچہ اس مقالہ میں اتنی وسعت نہیں کہ اس کی مکمل تفصیل کا اِحاطہ کیا جائے کیونکہ ہر دور میں مسلکی اخبارات و جرائد میں قارئین کےاستفسارات کے بارے فتاوٰی دیئے جاتے رہے ہیں، ان کا اِحصا ممکن نہیں۔یہاں مختصراً مطبوع مجموعہ ہائے فتاوی کا تعارف پیش کیا جا رہا ہے:
1) مجموعہ فتاوٰی از نواب صدیق حسن خان﷫ (۱۸۳۲ء۔ ۱۸۹۰ء)
نواب سید صدیق حسن خاں قنوجی ۱۹جمادی الآخر ۱۲۴۸ھ؍۱۸۳۲ء کو بریلی میں پیدا ہوئے ۔ آپ نسباًحسینی سادات میں سے تھے۔21 نواب صاحب ابھی پانچ سال کے تھے کہ ان کے والد مولانا سید اولاد حسن خاں کا انتقا ل ہوگیا۔ تعلیم کا آغاز قرآن مجید سے ہوا، ان کے پہلے اُستاد ان کے بڑے بھائی مولانا سید اَحمد حسن عرشی تھے۔ اس کے بعدعربی و فارسی کی ابتدائی کتابیں مولوی سید احمد علی فرخ آبادی، مولوی محمد حسین شاہ جہان پوری، محمد مراد بخاری اور مولوی محبّ الله پانی پتی﷭سے پڑھیں۔ اس کے بعددہلی تشریف لے گئے اور مفتی صدر الدین دہلوی کی خدمت میں ایک سال ۸ ماہ رہ کر علوم اسلامیہ میں استفادہ کیا۔22
نوا ب سید صدیق حسن خاں نے اشاعتِ دین ، توحید و سنت کی ترقی و ترویج اور شرک و بدعت کی تردید میں جو گرانقدر علمی خدمات سر انجام دی ہیں، وہ برصغیر کی تاریخ اسلام و تحریک اہلحدیث کا ایک زرّیں باب ہے۔برصغیر میں قرآن و حدیث کی اشاعت میں آپ کی خدمات بہت نمایاں ہیں۔ علامہ سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں:
''علماے اہلحدیث کی تدریسی و تصنیفی خدمات بھی قدر کے قابل ہیں۔ پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں مرحوم کے قلم اور مولانا سید محمد نذیر حسین دہلوی کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا، بھوپال ایک زمانہ تک علماے اہل حدیث کا مرکز رہا۔ قنوج، سہسوان اور اعظم گڑھ کے بہت سے نامور اہل علم اس اِدارہ میں کام کر تے رہے۔ شیخ حسین عرب یمنی اِن سب کے سرخیل تھے۔23
نواب صاحب نے زرِ کثیر صرف کر کے فتح الباری شرح صحیح بخاری، تفسیر ابن کثیر مع فتح البیان في مقاصد القرآن ، اور نیل الاوطار چھپوا کر علماے اسلام میں مفت تقسیم کیں۔ نواب صاحب خود نوشت سوانح حیات میں لکھتے ہیں :
''میرا اکثر مال ترویج علوم اور کتاب وسنّت کی اشاعت میں صرف ہوا ہے۔ میں نے ہر کتاب کو ایک ہزار کی تعداد میں طبع کر کے قریب و بعید کے تمام ممالک میں تقسیم کیا ہے۔ اگرچہ ان پر ہزاروں روپے صرف ہوئے ہیں تاہم کبھی کسی سے کسی کتاب کی قیمت وصول نہیں کی۔''24
ذوقِ مطالعہ کا اندازہ ان کی اس تحریر سے لگا یا جا سکتاہے، لکھتے ہیں:
''ایسی کوئی کتاب نہیں جو تالیف ہوئی اور طبع ہوئی یا عرب و عجم کے شہروں میں دستیاب ہوئی اور میرے مطالعہ میں نہ آئی ہو، اگرچہ میں اسے اپنے پاس نہ رکھ سکا ہوں گا۔ چونکہ کسی چیز کا علم اس سے لا علمی سے بہتر ہے۔ اگرچہ علم کا پسندیدہ حصّہ صحائفِ دین کے سوا کوئی اور چیز نہیں ہے۔ اس لیے ابھی تک علم تفسیروحدیث اور ان سے متعلقہ کتابوں کی آمد آمد ہے اور اَئمۂ سلف کی تالیفات کی جستجو باقی ہے۔''25
نواب صاحب ۲۹جمادی الآخر۱۳۰۷ھ؍ ۱۷فروری۱۸۹۰ء کو بھوپال میں انتقال فرما گئے۔26
والی بھوپال نواب سید صدیق حسن خان کا یہ مجموعہ فتاویٰ 134صفحات پر مشتمل ہے جو دو جلدوں میں مطبع صدیقی ، لاہور نے 1893ء میں شائع کیا۔اس میں کل 42فتاوٰی مرتب کیے گئے ہیں ۔جن میں معاشرے میں مروّجہ بعض رسومات ونظریات جنہیں عقیدہ کا درجہ دے دیاگیاتھا،ان کی شرعی حیثیت واضح کی گئی ہے ۔جیسے فرض نماز کے بعد بغداد کی طرف منہ کر کے ایک قدم چلنا،یا''شیخ عبدالقادر جیلاني شیيء للہ '' کا ورد کرنا، انگوٹھے چومنا نیز فقہی مسائل مثلا جمعہ فی القریٰ ، جماعتِ ثانیہ، رفع الیدین اور تقلید کے بارے میں اَہم تحقیقی فتاویٰ شامل ہیں۔27
ان مسائل میں نواب صاحب مسلکِ اہلحدیث کو راجح قرار دیتے ہیں اور اَحادیث سے مدلل ثبوت پیش کرتے ہیں۔اگر احادیث میں کوئی ظاہری تعارض ہو تو اس کو رفع کرتے ہوئے اس میں تطبیق کی کامیاب کوشش کرتے ہیں۔قرآن و سنت کے علاوہ کتبِ فقہ وفتاوی مثلا ہدایہ، شامی اور فتح القدیر وغیرہ سے اکثر استشہادکرتے ہیں۔دورانِ تحقیق مکمل حوالہ جات کا اہتمام کیا گیا ہے۔نواب صاحب کا اَنداز افتا بہت محققانہ ہے۔
2) فتاویٰ نذیریہ ازسید محمد نذیر حسین محدث دہلوی﷫ (۱۸۰۵ء۔۱۹۰۲ء)
سید نذیر حسین محدث دہلوی المعروف میاں صاحب۱۲۲۰ھ؍۱۸۰۵ء کو بہار کے ضلع مونگھیرسورج گڑھ میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں تعلیم کی طرف توجہ کم تھی۔ تیراکی اور کھیل کی طرف رُجحان زیادہ تھا حالانکہ والد خود عالم تھے۔
اِبتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ ۱۲۴۴ھ؍۱۸۲۷ء میں دہلی آ گئے اور شاہ اسحاق کے مدرسہ میں داخل ہو ئے۔ جہاں تفسیرِحدیث اور دیگر علوم وفنون کی تکمیل کی اور اجازت حدیث شاہ محمد اسحاق مکی سے حاصل کی۔28
شاہ محمد اسحاق نے جب مکہ مکرمہ جانے کا قصد کیا تو انہوں نے سید نذیر حسین کو اپنا جانشین مقرر کیا اور فتوٰی دینے کی اِجازت دی۔یہاں آپ نے علوم دین ، تفسیر، حدیث اور فقہ کی تدریس میں پچاس سال گزارے۔29
ان کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں تک ہے جو دنیا کے مختلف ممالک سے تشریف لائے اور انہوں نے آپ سے علمی پیاس بجھائی۔میاں صاحب کو درس و تدریس میں اِنہماک کی وجہ سے تصنیف و تالیف کے لیے بہت کم وقت ملا۔ لیکن اس کے باوجود ان کی ۵۷ کتب کی فہرست ملتی ہے۔30
میاں نذیر حسین محدث دہلوی نے سو برس کی عمر میں ۱۳۲۰ھ؍۱۹۰۲ء کو وفات پائی۔31
فتاویٰ نذیریہ میاں صاحب اور آپ کے تلامذہ کرام کے لکھے ہوئے فتاویٰ کا ایک عظیم مجموعہ ہے جو بیشتر تحقیقات نادرہ پرمشتمل ہے۔
یہ مجموعہ فتاویٰ حضرت موصوف کے دو خصوصی شاگردان رشید مولانا محمد شمس الحق محدّث عظیم آبادی(ف۱۳۲۹ھ؍۱۹۱۱ء)اورمولانا محمد عبدالرحمن مبارکپوری (ف۱۳۵۲ھ؍۱۹۳۲ء) کی مساعی حسنہ و نظر ثانی اور حضرت مولانا محمد شرف الدین دہلوی (ف۱۳۸۱ھ؍۱۹۶۱ء) کی تصحیح و مختصر تعلیقات سے حضرت اقدس کے نبیرگان کے اہتمام سے۱۳۳۳ھ؍۱۹۱۳ء میں دہلی سے شائع ہوا۔جبکہ اس مجموعہ کی دوبارہ اشاعت ۱۹۷۱ء میں لاہور سے تین جلدوں میں ہوئی۔۱۹۸۸ء میں مسجد اہلحدیث اجمیر گیٹ دہلی سے نظر ثالث اور تصحیح اغلاط کے ساتھ دیدہ زیب اشاعت عمل میں آئی۔
اس مجموعہ میں مختلف مکاتب فکر (بریلوی اہل حدیث دیوبندی) علما کے ۴۲۸ فتاویٰ موجود ہیں ان میں اکثر پرمیاں نذیرحسین دہلوی کے تصدیقی دستخط ثبت ہیں۔ ہرفتویٰ کے آخر پر مفتی کا نام درج ہے ۔اس سے یہ اَندازہ ہوتا ہے کہ یہ فتویٰ کس کا ہے۔
اس مجموعہ فتاویٰ کی ایک اَہم خوبی ہے کہ اکثر فتاویٰ پر ایک سے زائد بلکہ دس تک مفتیوں کے تصدیقی دستخط موجود ہیں۔اس طرح مسئلہ تقلید کے متعلق فتویٰ پرپنتالیس مفتیوں کے تصدیقی دستخط ہیں۔32
فتاویٰ میں مذکور مفتیان کرام﷭ کے اور مصدقین کے اَسمائے گرامی کی ایسی فہرست آخر میں لگا دی گئی ہے جس سے معلوم ہو سکے گا کہ کس مفتی یا مصدق کا فتویٰ یا تصدیق کون کون سے صفحے پر ہے۔
موجودہ اِشاعت میں فارسی اور عربی عبارات کے ترجمے حاشیے میں کر دئیے گئے ہیں جبکہ فتویٰ کی اصل زبان قدیم اردو ہے جس پر فارسی کا رنگ غالب ہے۔
فتاویٰ میں قرآن وسنت سے اِستدلال کرتے ہوئے کتب تفسیر،حدیث، فقہ اور تاریخ کے حوالے مرقوم ہیں اور بطورِ دلیل اَصل عربی عبارت بھی درج کر دی گئی ہے۔اس میں عقائد، عبادات اور معاملات کے تفصیلی عنوانات کی ترتیب دی گئی ہے اور ان کی مکمل فہرست بھی درج کی گئی ہے۔
بعض مسائل، متعلقہ اَبواب کے سوا دوسرے اَبواب میں ضمناً آ گئے تھے، لیکن موجودہ اِشاعت میں ان میں سے اکثر کو ہر مسئلہ متعلقہ موضوع کے تحت لانے کی کوشش کی گئی ہے۔اس میں فقہی مسائل سمیت بیشتر اَہم مسائل کا نہایت عمدہ اور جاندار انداز میں اِحاطہ کیا گیا ہے۔ساتھ ہی ساتھ یہ تاریخ کی بھی ایک نایاب دستاویز ہے۔33
۳۔ فتاویٰ از مولانا محمد سعید بنارسی﷫ (۱۸۴۰ء۔۱۹۰۴ء)
مولانا محمد سعید ایک سکھ گھرانے میں ۱۲۵۶ھ؍۱۸۴۰ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کا سابقہ نام مول سنگھ اور والد کا نام سردار کھڑک سنگھ تھا۔ کسی کام سے لاہور گئے تو مولانا شیخ عبیدالله(نو مسلم) صاحب' تحفۃ الہند'سے ملاقات ہوگئی تو اسلام قبول کر لیا اور 'محمد سعید' نام تجویز ہوا۔ مولانا محمد سعید نے تعلیم کا آغاز مدرسہ دیوبند سے کیا۔آپ مدرسہ دیوبند کو خیر باد کہہ کردہلی تشریف لے گئے۔ دہلی میں میاں نذیر حسین دہلوی کا فیضان جاری تھا۔آپ نے میاں صاحب سے تفسیر وحدیث پڑھ کر سند حاصل کی۔ اس وقت آپ کے والد سردار کھڑک سنگھ کو معلوم ہوا کہ میرا بیٹا اس وقت دہلی میں زیرِ تعلیم ہے تو میاں نذیر حسین کو ایک خط لکھا کہ ''میں نے اپنے بیٹے کو نازونعمت سے پالا ہے ۔اس کو نظرِ عنایت سے رکھئے گا۔'' تو میاں صاحب اس خط کو پڑھ کر آبدیدہ ہوگئے۔34
آپ نے میاں صاحب کے علاوہ مولاناحافظ عبداللہ غازی پوریاور مولانا تلطف حسین بہاریسے فقہ واصول فقہ میں اکتساب فیض کیا۔
مولانا سید عبدالحئی حسنی لکھتے ہیں:
''آپ دیوبند تشریف لے گئے۔ وہاں آپ نے نحو، فقہ اور منطق و حکمت کی کتابیں علماے دیوبند سے پڑھیں۔ اس کے بعد آپ نے دہلی کا سفر کیا اور مولانا سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی سے حدیث کی تعلیم حاصل کی۔ بعد اَزاں مولانا حافظ عبدالله غازی پوریکی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے بقیہ کتب درسیہ پڑھیں۔''35
فراغت تعلیم کے بعد مولانا محمد سعید حج بیت الله کے لیے تشریف لے گئے۔ وہاں آپ نے مکہ معظّمہ میں شیخ عباس بن عبدالرحمان تلمیذ امام شوکانیسے حدیث کی سند و اِجازت حاصل کی۔حج سے واپسی کے بعد مولانا حافظ ابراہیم آرویکے مدرسہ اَحمدیہ میں تدریس پر مامور ہوئے اور کچھ عرصہ بعد اپنے اُستاد مولانا حافظ عبدالله محدث دہلوی غازی پوری کی تحریک پر بنارس کو اپنا مسکن بنایا اور یہ واقعہ ۱۲۹۷ھ؍۱۸۸۰ء کا ہے۔
بنارس میں آپ نے ایک دینی مدرسہ بنام 'مدرسہ سعیدیہ' قائم کیا اور درس و تدریس پر مامور ہوئے تدریس کے ساتھ ساتھ آپ نے مختلف موضوعات پر ۳۸ کتابیں تصنیف کیں۔ اور اس کے ساتھ ایک پریس سعید المطابع کے نام سے قائم کیا۔ اس مطبع نے توحید و سنت کی نصرت میں لاکھوں اوراق شائع کیے۔آپ کا انتقال۱۸ رمضان ۱۳۲۲ھ؍ ۲۷ نومبر ۱۹۰۴ء بنارس میں ہوا۔36
مولانا محمدسعید بنارسی کا یہ مختصر مجموعہ 'فتاویٰ سعیدیہ' کے نام سے۲۴ صفحات میں چھپا ہے جو متعدد اِختلافی مسائل کے جوابات پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ ان کے ذاتی مطبع سعید المطابع بنارس سے 'مسائل با دلائل'کے نام سے ۱۶ صفحات پر مشتمل ایک کتابچہ بھی چھپا ہے، جس پر مؤلف کا نام درج نہیں۔
مولانا کی پوری زندگی مختلف فیہ فقہی مسائل کی تحقیق اور مسلکِ اہل حدیث کی تائید میں گزری، ان پر مناظرانہ رنگ غالب تھا، جس کے اَثرات ان کے مجموعہ فتاویٰ میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔37
۴۔'نور العین فتاویٰ الشیخ حسین' از شیخ حسین بن محسن انصاری (۱۳۲۷ھ؍ ۱۹۰۹ء)
میاں نذیر حسین دہلوی کے معاصر شیخ حسین بن محسن انصارینے نواب صدیق حسن خاںکے دور میں یمن سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کر لی اور وہیں اپنا مسندِ درس بچھا رکھا تھا جہاں بہت سے علما و طلبہ ان سے مستفید ہوئے ۔آپ کے ذریعہ برصغیر میں علم حدیث کو بڑا فروغ ہوا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں بہت سے فتاوے اور فقہی رسائل بھی لکھے ۔
آپ کے فتاویٰ کو'نور العین من فتاوٰی الشیخ حسین' کے نام سے ان کے فرزند شیخ محمد نے دو جلدوں میں تیار کیاتھا، اس کی صرف پہلی جلد لکھنؤ سے ۱۳۲۲ھ؍۱۹۰۴ء میں شائع ہوئی۔ ان فتاویٰ کے اَندر شیخ نے ہرایک مسئلہ پر تفصیلی بحث کی ہے، اور پوری تحقیق کے بعد دلائل کی روشنی میں راجح مسلک کی تعیین کی ہے۔ ان میں سے بعض سوالات ان کے شاگرد مولانا شمس الحق عظیم آبادینے کئے تھے جن کے جواب الگ سے چھوٹے چھوٹے رسالوں کی شکل میں بھی چھپ چکے ہیں، اور اس مجموعے میں بھی شامل ہیں۔38
۵۔ فتاوی ازمولانا شمس الحق عظیم آبادی﷫ (۱۸۵۶ء۔۱۹۱۱ء)
شمس الحق ڈیانوی ۱۲۷۳ھ؍۱۸۵۶ء عظیم آباد کے ایک قصبے ڈیانہ میں پیدا ہوئے۔39 آپ نے اِبتدائی کتب مولوی لطف العلی بہاری، مولوی فضل اللہ لکھنوی، مولانا قاضی بشیر الدین قنوجی﷭ سے پڑھیں ۔بعد اَزاں آپ نے سید نذیر حسین محدث دہلویسے تفسیر قرآن، سنن دارقطنی اور صحاح ستّہ پڑھیں۔40
فراغتِ تعلیم کے بعد آپ نے درس وتدریس کے ساتھ ساتھ تصنیف وتالیف کا شغل بھی جاری رکھا۔ آپ مصنف کتب کثیرہ ہیں جن میں غایۃ المقصود فی حل سنن ابی داؤد، القول الحق،عون المعبود شرح سنن ابی داؤد، التعلیق المغني علی کتاب سنن الدارقطني،أعلام أهل العصر في أحکام رکعتي الفجر،المکتوب اللطیف إلی المحدث الشریف ،غنیۃ اورجوابات الزامات، الدارقطنی علی الصحیحین زیادہ معروف ہیں۔41
آپ نے19 ربیع الاوّل ۱۳۲۹ھ؍۲۱ مارچ ۱۹۱۱ء کو وفات پائی۔42
آپ تدریس وتصنیف کے علاوہ فتویٰ بھی دیا کرتے تھے۔ آ پ کی وفات کے بعدآپ کے فتاویٰ کو 'فتاویٰ' کے نام سے محمد عزیر نے مرتب کیا ہے۔ یہ مجموعہ ۵۰ فتاویٰ اور ۴۶۶ صفحات پر محیط ہے۔اس میں مولانا کے تین عربی فتوؤں کے مختصر اُردو ترجمے بھی شامل ہیں۔ اصل فارسی فتووں کی اِشاعت کے ساتھ انکے مختصر اردو ترجمے بھی اسمیں شامل ہیں ۔
مولانا نے اپنے فتاویٰ کے اَندر بہت تحقیق و تفصیل بیان کی ہے۔ پہلے احادیث ذکر کی ہیں اور پھر ان پر محدثانہ اَنداز میں کلام کیا ہے۔ صحیح اور ضعیف اَحادیث کی نشان دہی بھی کی ہے۔ ناقدین حدیث اور علماے جرح وتعدیل کے اَقوال نقل کر کے سند اور متن کی چھان بین کی ہے نیز ہر مسئلہ سے متعلق فقہاے مذاہبِ اَربعہ اور سلف صالحین کے اَقوال و آراء کا جائزہ لیا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ دلائل کا موازنہ بھی کیا اور صحیح اور راجح قول کی طرف اِشارہ کیا ہے۔
ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ مولانا نے کوئی بات بلا سند نہیں کی اور نہ ہی کوئی قول کسی کی طرف بغیر حوالے کے منسوب کیا ہے۔ مولانا نے ہر فن کی مستند کتابوں سے مطلوبہ مواد لیا ہے نیز کسی حدیث کی تحقیق کرنی ہو تو بڑے بڑے محدثین اور علماے جرح و تعدیل کے اَقوال سے استشہاد کرتے ہیں۔
مولانا عظیم آبادیکا اسلوب یہ ہے کہ ہر موضوع پر بحث و تحقیق سے فتویٰ تحریر کرتے ہیں اور کہیں پر بھی سرسری جواب پر اکتفا نہیں کرتے۔ یوں تو انکے تمام فتاویٰ بسیط محقق ہیں، لیکن اس مجموعہ میں چند فتاویٰ جات پر بسط و تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔جن میں عیدین کی نماز کے بعد مصافحہ و معانقہ(ص۱۱۶تا۱۲۶)، دیہات میں جمعہ کی فرضیت کا حکم (ص۲۰۷تا۲۳۲)، آمین بالجہر(ص۲۳۳تا۲۹۹)، تعزیہ داری (ص۱۸۶تا۲۰۶) جانوروں کو خصی کرنا(ص۳۱۶تا۳۳۵) اور عورتوں کو لکھنا سکھانا(ص۳۰۰تا۳۱۵) خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
آپ نے تعلیم نسواں پر بہت خوبصورت اور عامیانہ اَنداز میں بحث شروع کی اور تعلیم نسواں کا استنباط قرآن مجید و اَحادیث سے کیا، شروع میں ان لوگوں پر نقد جرح کیا جو عدم جواز تعلیم نسواں کے قائل تھے۔ اور جن علما نے عدم جواز کی حدیث ابن حبان کی کتاب الضعفاء (یہی حدیث امام بیہقی نے المستدرک میں باب ضعیف الایمان میں پیش کی) سے استدلال کیا ہے ان پر جرح کی اور اس حدیث کو ضعیف قرار دیا اور یوں تحریر فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے ایک راوی محمد بن ابراہیم شامی کو امام ذہبینے اپنی کتاب (میزان الاعتدال) میں منکر حدیث، واضع حدیث اور امام دارقطنی نے کذاب لکھا ہے نیز امام جوزینے اپنی کتاب العلل المتناہیۃمیں لکھا ہے کہ وہ حدیث وضع کرتاتھا اس لیے اس کی یہ حدیث روایت کرنا ناجائز قرار دیا اور حافظ ابن حجرنے اپنی کتاب تقریب میں اسے منکرِ حدیث لکھا ہے۔بعد اَزاں اَئمہ سے مزیدابراہیم شامی سے متعلق جرح و تعدیل کے اقوال پیش کیے ہیں۔
اسکے ساتھ ساتھ ابن عباسؓ والی روایت پر بھی دلائل دیتے ہیں اور فرماتے ہیں:
''اس حدیث کی سند میں ایک راوی جعفر بن نصر ہے،اسپر محدثین نے کلام کیا ہے۔''
امام ذہبی نے اپنی کتاب(میزان) میں اسے مہتم بالکذب لکھا ہے اور اس کی مزید دو حدیثیں نقل کرکے اسے موضوع قرار دیا۔ اس کے بعد جواز تعلیم النساء پر اَئمہ تفسیر کے اَقوال سے استشہاد پیش کرتے ہیں اور احادیث سے جواز تعلیم النسواں کا ثبوت پیش کیا۔43
۶۔فتاویٰ غزنویہ ازعبدالجبار غزنوی (۱۸۵۱ء۔۱۹۱۲ء)
مولانا عبدالجبار غزنوی۱۲۶۸ھ ؍۱۸۵۱ء میں غزنی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام عبداللہ غزنویتھا۔44 اِبتدائی تعلیم اپنے بھائی مولانا محمد احمدسے حاصل کی۔ پھر آپ دہلی تشریف لے گئے۔ وہاں سید نذیر حسین دہلوی سے کتبِ احادیث کی سند حاصل کی۔ بہت ذہین تھے ابھی عمر بیس برس بھی نہیں تھی کہ وہ علوم متداولہ سے فارغ ہو چکے تھے۔45
فراغت تعلیم کے بعد اَمرتسر میں قرآن و حدیث کی تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔ مولانا عبداللہ غزنوینے اپنی درس گاہ کا نام مدرسہ غزنویہ رکھا تھا۔ آپ نے یہ نام بدل کر تقویۃ الاسلام رکھ دیا۔مولانا سید عبدالجبار غزنویکی ساری زندگی درس و تدریس ، دعوت و ارشاد اور وعظ و تبلیغ میں بسر ہوئی۔46 مولانا عبدالحئی الحسنی فرماتے ہیں:
''میں نے بارہا اَمرتسر میں آپ کی زیارت کی۔ آپ کو سلف صالحین کے طریقے پر پایا۔ آپ جب فتوٰی دیتے توکسی خاص مسلک کی پابندی نہیں کرتے تھے۔ بلکہ دلیل کی بنیاد پر فتوٰی دیتے تھے۔ اَئمہ مجتہدین کے سلسلہ میں بدگمانی نہیں کرتے تھے۔ جب بھی ان کا ذکر کرتے اچھے اَنداز میں کرتے تھے۔''47
آپ نے ۱۳۳۱ھ؍۱۹۱۲ء کو وفات پائی۔48
مولانا عبدالجبار غزنوی کے فتاویٰ 'بستان المحققین لبشارة السائلین' کے نام سے جمع کیے گئے ہیں۔ جو 'فتاویٰ غزنویہ' کے نام سے بھی معروف ہے۔ اس کی پہلی جلد(۲۵۶ صفحات) امرتسر سے شائع ہوئی تھی۔
اس مجموعہ میں عربی، فارسی اور اردو تینوں زبانوں میں فتاویٰ ہیں۔ عقائد سے متعلق سوالات اہلحدیث نقطہ نظر سے اور بڑی تفصیل کے ساتھ دیے گئے ہیں۔ صفاتِ الٰہی کے بارے میں خاص طور پر غزنوی علماء نے مسلکِ سلف کو بڑے مدلل انداز میں پیش کیا ہے۔ فروعی مسائل میں بھی وہ ہمیشہ عمل بالکتاب والسنۃ کے داعی رہے۔ ان تمام خصوصیات کا اندازہ فتاوی کے اس مجموعے سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔49
۷۔اِرشاد السائلین فی مسائل الثلاثین از عبدالجبار عمر پوری﷫(۱۸۵۹ء۔ ۱۹۱۶ء)
مولاناعبدالجباردہلی کے نواح مظفر نگر کے علاقہ عمر پور میں ۱۲۷۷ھ؍۱۸۵۹ء میں پیدا ہوئے۔ والد منشی بدر الدین صاحب ورع و تقویٰ اورمشہور علما میں سے تھے۔ آپ کے اَساتذہ میں مولوی فیض الحسن سہارنپوری اور میاں نذیر حسین محدث دہلویجیسے بلند پایہ علمی شخصیات شامل ہیں۔ آپ نے کئی مفید کتابیں تصنیف کیں۔ آپ مجلہ'ضیاء السنۃ' کلکتہ کے اَیڈیٹر بھی رہے۔ مولانا عبدالجباراپنے عصر کے علما اعیان سے تھے۔ با کمال عالمِ دین بلند پایہ مصنف و مقرر، کثیر الدرس مدرس، شعر و سخن سے واقف اور دیگر اصناف علوم دین و ادب پر دسترس رکھتے تھے۔50
آپ نے ۵۷ سال کی عمر میں ۱۳۳۴ھ؍۱۹۱۶ء میں داعی اجل کو لبیک کہا۔51
آپ سے پوچھے گئے ۳۰ اَہم استفسارات کے جوابات کو 'اِرشاد السائلین فی مسائل الثلاثین' کے نام سے مرتب کیا گیا ہے یہ مجموعہ فتاویٰ کلکتہ سے ۱۹۰۲ء میں شائع ہوا۔52
۸۔فتاویٰ از مولانا عبدالله غازی پوری﷫ (۱۸۴۵ء ۔ ۱۹۱۸ء)
مولاناعبداللہ غازی پوری۱۲۶۱ھ؍۱۸۴۵ء کو ضلع اعظم گڑھ میں مئو کے مقام پر پیدا ہوئے۔53 بارہ سال کی عمر میں قرآن حفظ کر لیا۔ فارسی و عربی کی بعض درسی کتابیں مولوی محمد قاسم مؤویسے پڑھیں۔ غازی پور کے'مدرسہ چشم رحمت' میں مولانا رحمت اللهاور مولانا محمد فاروق چریاکوٹی سے درسی کتابوں کی تکمیل کی۔ پھر جونپور تشریف لائے اور مدرسہ 'امامیہ ' کے مولانا یوسفسے اِستفادہ کیا۔54
اس کے بعد دہلی چلے گئے وہاں حضرت مولانا سید نذیر حسین محدث دہلویسے تفسیر، حدیث اور فقہ کی تحصیل کی اور سند حاصل کی۔ ۱۲۹۲ھ؍ ۱۸۷۵ء میں حج کیا ، وہیں علامہ شوکانی کے شاگرد عباس یمنیسے حدیث کی سند حاصل کی۔ اور ۲۰ سال تک درس و تدریس میں مصروف رہے۔آپ ۱۳۳۷ھ؍۱۹۱۹ء کولکھنوٴ میں فوت ہوئے۔55
مولانا عبدالله غازی پوریکے مجموعہ فتاویٰ کے دو قلمی نسخے بنارس اور مبارکپور میں موجود ہیں۔ آپ کے فتاویٰ کا مجموعہ ابھی تک زیورِ طبع سے آراستہ نہیں ہوا۔
پہلا نسخہ مسودہ کی شکل میں اور غیر مرتب ہے۔ اس مجموعے میں ان کے وہ فتاویٰ بھی شامل ہیں جو الگ سے چھوٹے چھوٹے رسالوں کی صورت میں طبع ہوئے ہیں، مثلاً 'زکوٰة کا فتوی'، 'علم غیب کا فتویٰ'اور بحیرہ و سائبہ کی تحقیق سے متعلق فتویٰ بعنوان 'الحجة الساطعة في بیان البحیرة والسائبة'، جس میں مسائل کی مدلل اَنداز میں تحقیق کی ہے۔
دوسرے نسخے کی ترتیب و تبویب مولانا عبدالرحمن مبارکپوری(م۱۳۵۳ھ) نے کیا ہے۔آپ کے فتاویٰ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ تفسیر، حدیث اور فقہ پر گہری نظر رکھتے تھے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ انکے فتاویٰ کا مجموعہ ایڈٹ کر کے شائع کیا جائے۔56
۹۔پاک و ہند کے علماے اسلام کا اَوّلین متفقہ فتویٰ ازمولانا محمد حسین بٹالوی(1 ۱۸۴ء-۱۹۲۰ء)
''مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکار دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔''
مولانا محمد حسینکی ولادت ۱۷محرم۱۲۵۶ھ مطابق ۱۰فروری ۱۸۴۱ء بٹالہ ضلع گورداسپور میں ہوئی۔آپ نے مولانا صدرالدین آزردہ، مولاناگلشن علی جونپوری، مولانا نورالحسن کاندھلوی نیز مولانا سید محمد نذیر حسین محدّث﷭جیسی نابغہ روزگار ہستیوں سے تعلیم حاصل کی اور فیض پایا۔۱۲۸۲ھ میں سند فراغت حاصل کی۔بعد اَزاں امرتسر، بٹالہ اور لاہور میں علوم قرآن وسنت کی خدمت کی۔ چینیانوالی مسجد لاہور میں عرصہ درازتک خطیب اور شیخ الحدیث رہے۔57
مولانا محمد حسین بٹالویکا دور قرآن وسنت کے متبعین کے لیے مشکل دور تھا۔ آپ نے تقلید جامد کے خلاف قلم اُٹھایا اور اِعتدال کی راہ اپنائی۔ اسی مقصد کی غرض سے آپ نے انجمن اشاعت السنہ قائم کی۔ جب فتنہ قادیانیت نمودار ہوا تو انہوں نے تمام اُمور سے صرفِ نظر کرکے تمام تر توجہ اور توانائیاں اس فتنہ کے سدّ باب کے لیے وقف کر دیں۔آپ کی وفات ۱۹۲۰ء میں ہوئی۔58
مولانا محمد حسین بٹالویکا سب سے بڑا علمی کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے، مرزا غلام اَحمد کی تکفیرپر اوّلین فتویٰ بعنوان'مرزا غلام اَحمد قادیانی اور اس کے پیروکار دائرہ اِسلام سے خارج ہیں'کبار علما سے حاصل کیااور ۱۸۹۱ء میں پہلی مرتبہ شائع کیا۔ اس متفقہ فتویٰ پر اس وقت کے دوسو جید علما کے دستخط ہیں۔59
مولانانے اِستفسار میں مرزا قادیانی کے خیالات ومقالات درج کرکے ،ان کی تصدیق وشہادت کے لیے اس کی تصانیف کی اصل عبارات بقید صفحات نقل کیں۔
فتویٰ میں اصل سوال یہ ہے کہ عقائد ِقادیانی اسلامی عقائد ہیں یا نہیں؟ اور ان عقائد میں قادیانی پابند وپیرو اسلام ہے یا اس کی پابندی سے خارج۔ اور ایسے عقائد والا شخص،ولی ،مجدد، ملہم،محدث ہوسکتا ہے یا وہ ان عقائد کے سبب دجال کہلانے کا مستحق ہے؟اس سوال کا اصل جواب مولانا نذیر حسین محدث دہلوی نے مرزا قادیانی کے خلاف اَپنا فتویٰ ان الفاظ میں دیا :
''ان عقائد ومقالات اور اس طریق عملی میں مرزا غلام احمد قادیانی ،پابندی اسلام خصوصاً مذہب اہل سنت سے خارج ہے۔ کیوں کہ یہ عقائد ومقالات وطریق عملی اسلامی وسنی نہیں بلکہ ازاں جملے بعض عقائد مقالات یونانی فلسفہ کے ہیں،بعض ہندووٴں کے، بعض نیچریوں کے ،بعض نصاریٰ کے، بعض اہل بدعت وضلالت کے اور اس کا طریق عملی ملحدین باطنیہ وغیرہ اہل ضلال کا طریق ہے۔ اور اس کے دعویٰ نبوت اور اشاعت اکاذیب اور ملحدانہ طریق کی نظر سے یقینا اس کو ان تیس دجالوں میں سے جن کی خبر حدیث میں وارد ہوئی ہے ایک دجال کہہ سکتے ہیں۔ اور ان کے پیروان وہم مشرب کو ذرّیات دجال۔''
اس کے اختتامی جملے درج ذیل ہیں :
''کتاب وسنت،واَقوال علماے اُمت اس فتویٰ کی صحت پر شاہد ہیں۔اب مسلمانوں کو چاہیے کہ ایسے دجال کذاب سے احتراز کریں اور اس سے وہ دینی معاملات نہ کریں جو اہل اِسلام میں باہم ہونے چاہیں۔ نہ اس کی صحبت اختیار کریں اور نہ اس کو ابتداءً سلام کریں اور نہ اس کو دعوت مسنون میں بلاویں اور نہ اس کی دعوت قبول کریں۔اور نہ اس کے پیچھے اقتداء کریں اور نہ اس کی نماز جنازہ پڑھیں اگر انہی اعتقادات واقوال پر یہ رحلت کرے۔''60
۱۰۔ فتاویٰ علماے کرام در بارہ تقرر امام از محمد عبدالرحمن جھنگوی
''امام کی تقرری کے بارے فتاویٰ''
اس مجموعہ کو ابو صمصام محمد عبدالرحمن جھنگوی نے مرتّب کیا ہے جس میں علما کے ۱۳۳۶؍۱۹۱۸ء۔۱۳۴۲؍۱۹۲۴ء کے دوران امام کے تقرری کے بارے میں دیئے گئے فتاویٰ جات کو جمع کیا گیا ہے۔یہ مجموعہ ۹۴ صفحات پر مشتمل ہے پہلی مرتبہ آرمی پریس دہلی سے ۱۹۲۴ء میں شائع کیا گیا ہے۔ اس مجموعے میں اَحناف و اہلحدیث کے مابین اِمامت کے موضوع پر ہونے والے دو مناظروں کی تفصیل ہے۔
علماے اہلحدیث کا دعویٰ تھا کہ اِرشادِ نبویﷺ کی روشنی میں امام کی شرائط میں عالم بالله ہونا، ماہر کتاب و سنت اور عامۃ الناس کو قانونِ الٰہی کی تعلیم کتاب و سنت کی روشنی میں دینا شامل ہیں اور اس دور میں ایسے امام کا ہونا فرضیات دین میں سے ہیں۔ جب کہ فریق ثانی کا موقف یہ تھا کہ امامت وامارت قریش میں رہے گی۔61
نامور عالم دین مولانا ڈاکٹر حافظ عبد الرشید اظہر ... جوارِ رحمت میں

شمارہ پریس میں جارہا تھا کہ 17 مارچ 2012ء کی شام بعد نمازِ مغرب یہ انتہائی افسوسناک خبر موصول ہوئی کہ اسلام آباد میں معروف عالم دین اور داعی ومقرر جناب ڈاکٹر حافظ عبدالرشیداظہر صاحب کو اُن کے گھر آنے والے حملہ آوروں نے شہید کردیا۔ فوری اطلاعات کے مطابق یہ حملہ آور بھوک کے بہانے اُن کےگھر میں داخل ہوئے، حافظ صاحب نے اُن کی درخواست پر اپنے اہل خانہ سے اُنہیں کھانا پکوا کر کھلایا۔ لیکن وہ بدخصلت لوگ دعو تِ طعام سے سیر ہوکر، اپنے محسن پر ہی حملہ آور ہوگئے اور ان کو شہادت سے ہم کنار کردیا۔ جاتے ہوئے وہ ڈاکٹر صاحب کی گاڑی بھی لے گئے ۔ اللہ تعالیٰ حافظ صاحب کی زندگی بھر کی حسنات کو قبول ومنظور فرمائے۔ یہ واقعہ ان کے قتل کی گہری سازش ہے، جسے چوری یا ڈکیتی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ بہت سے لوگ حافظ صاحب کی مساعی دینیہ کا سلسلہ بند کرنا چاہتے تھے، اور یہ سنگین ترین اقدام بھی اسی سازش کی اہم کڑی ہے۔إناللہ وإنا إلیه راجعون، إن لله ما أخذ وله ما أعطى ، وكل شيء عنده بأجل مسمّى
ڈاکٹر صاحب کئی سال تک جامعہ لاہو ر اسلامیہ میں علوم اسلامیہ کے مدرّس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ بعدازاں سعودی وزارتِ مذہبی اُمور کے ادارے مکتب الدعوۃ میں بڑی ذمہ دار حیثیت میں دعوتی وتبلیغی فرائض کی نگرانی اور انجام دہی میں مصروف رہتے۔آپ پاکستان میں سعودی عرب کے دعاۃ ومبلغین کی خدمات اور دینی اداروں کی نگرانی فرمایا کرتے۔ اللہ تعالیٰ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور ان کو اعلیٰ علیین میں جگہ دے۔ ان کی ناگہانی وفات تمام اہل توحید کیلئے سنگین صدمہ سے کم نہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔(ادارہ محدث)


 حوالہ جات

1. لسان العرب از ابن منظور ، تحت مادہ

2. مفردات القرآن از راغب اصفہانی ، بذیل مادہ

3. ابجد العلوم از نواب صدیق حسن خان:۲؍۳۲۷

4. أعلام الموقعین عن رب العالمین از ابن قیم:۱؍۱۰

5. المجموع از شرف الدین نووی: ۱؍۷۲

6. اعلام الموقعین از ابن قیم: ۱؍۸۶

7. اعلام الموقعین: ۱؍۹۔۱۷؛ جوامع السیرة از ابن حزم :ص ۳۱۹۔۳۳۵

8. اعلام الموقعین،ص۱۷۔۲۲

9. فتاوٰی، مرتب: محمد عزیر:ص۱۹۔۲۸

10. الثقافة الإسلامیة في الهند از عبد الحئی: ص ۱۰۸۔۱۱۱

11. الثقافة الإسلامیة في الهند: ص۳۱۔۳۴

12. الإنصاف في بیان سبب الاختلاف از شاہ ولي اللہ دهلوي

13. نقوشِ اولین از محمد اسحاق بھٹی: ص۳۹۔۴۶

14. فتح الباری : ۱۳؍۱۹

15. احسن التقاسیم از مقدسی : ص ۴۷۹

16. جوامع السیرة از ابن حزم:ص۳۵۰

17. حجۃ الله البالغہ اَز شاہ ولی اللہ دہلوی:۱؍۱۵۲

18. الحیاة بعد المماةاز فضل حسین: (مقدمہ)

19. مفتاح کنوز السنۃ از محمد فواد عبد الباقی (مقدمہ ص: ق)

20. تراجم علماء حدیث از ابو یحییٰ امام خاں: ص۳۳

21. نزہۃ الخواطر: ۷؍۶۰

22. تذکرة النبلاء فی تراجم العلماء اَز عبد الرشید عراقی:ص۳۲۰

23. تراجم علمائے حدیث: ص۳۲،۳۳

24. ابقاء المنن بالقاء المحن از نواب صدیق حسن خان(خود نوشت سوانح حیات)تسہیل ،مولانا محمد خالدسیف:ص۷۵

25. ايضاً: ص۳۲۱-۳۲۲

26. عراقی، عبدالرشید،تذکرہ النبلاء فی تراجم العلماء،ص۳۲۴

27. مجموعہ فتاویٰ از نواب صدیق حسن خاں : ۱؍۳۰، ۳۲، ۳۴، ۴۶، ۴۷۔۵۳

28. علوم الحدیث، فنی، فکری اور تاریخی مطالعہ از ڈاکٹر عبد الرؤف ظفر: ص۶۸۶۔۶۸۷ (نشریات لاہور،۲۰۰۶ء)

29. ایضاً

30. الحیات بعد الممات : ص۳۸

31. تراجم علمائے حدیث ہند:ص۱۵۲

32. فتاویٰ نذیریہ :۳؍۴۸۴۔ ۵۱۱

33. ایضاً،تصدیر، صفحہ ل

34. چالیس علمائے اہلحدیث از عبد الرشید عراقی: ص۵۷۔۵۸

35. ایضاً،ص۵۸۔۵۹۔بحوالہ نزہۃ الخواطر

36. چالیس علمائے اہلحدیث از عبد الرشید عراقی: ص ۵۹

37. فتاویٰ از عظیم آبادی : ص۴۸۔۴۹،مقدمہ

38. ايضاً

39. ایضاً، ص۴۸

40. علوم الحدیث،فنی ،فکری اور تاریخی مطالعہ:ص۶۸۹

41. نزہۃ الخواطر:۸؍۱۷۹

42. اَیضاً:۸؍۱۸۰

43. دیکھئے فتاویٰ:ص۳۰۰۔۳۱۵

44. تذکرة النبلاء فی تراجم العلماء: ص۱۳۰

45. نزہۃ الخواطر: ۸؍۲۱۸

46. علوم الحدیث،فنی،فکری اور تاریخ مطالعہ: ص ۶۹۱۔۶۹۲

47. نزہۃ الخواطر: ۸؍۲۱۸

48. ايضاً

49. فتاویٰ از عظیم آبادی: ص۳۹

50. تراجم علمائے حدیث: ص،۱۶۰؛ اصحاب علم و فضل از محمد تنزیل صدیقی: ص ۱۳۵

51. تراجم علمائے حدیث: ص۱۶۰

52. فتاویٰ از عظیم آبادی: ص۵۰( مقدمہ)

53. تذکرة النبلاء فی تراجم العلماء: ص۲۴۳؛ شخصیات کا انسائیکلوپیڈیا از مقصود ایاز : ص۵۰۸

54. اسلامی انسائیکلوپیڈیا، ص۱۱۱۱؛ نزہۃ الخواطر: ۸؍۲۸۷؛ ، یادرفتگان سید سلیمان ندوی: ص ۴۰

55. اسلامی انسائیکلوپیڈیا: ص۱۱۱۱

56. فتاویٰ از عظیم آبادی: ص ۴۹(مقدمہ)

57. تحریک ختم نبوت از ڈاکٹر بہاوٴالدین :۱؍۲۷۴

58. ايضاً

59. پاک وہند میں علماء اسلام کا اوّلین متفقہ فتویٰ محمدحسین بٹالوی :ص۳۔۴

60. سہ ماہی 'فکر و نظر'، اسلام آباد، ج۴۰، ش۱، ص۴۶۔۴۷

61. نزہۃ الخواطر :ص۸؍۹۵؛ سیرت ثنائی از عبدالمجید سوہدروی :ص۹۰۔۹۱