نوجوان آج کے باغ و بہار اور مستقبل کا قیمتی اثاثہ ہیں۔'نوجوان'ایسی نسل ہےجس کی ہر دور میں قدر و قیمت رہی ہے۔ان کی تعلیمی یا تربیتی عمل میں کہیں ذرا سی بھی کمی واقع ہو تو معاشرہ اضطراب کی کیفیت کا شکار ہو جاتا ہے۔آج کا معاشرہ بھی کچھ اسی طرح کی صورتحال میں اُلجھا ہوا ہے۔جرائم کی اکثریت ، معاشرتی بگاڑ ، لادینیت کی اندھی تقلید، بدامنی، قتل و فساد اور ہر طرف بے سکونی کی فضا چھائی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ان مسلمان نوجوانوں کی گمراہی اور بے راہ روی کی بنیادی وجہ دینِ اسلام سے دوری ہے۔اسلامی تہذیب و تمدن کو روندتے ہوئے یہ نوجوان آج خود کو دنیا کی تیز رفتار ترقی اور اس جہاںِ فانی میں کامیابی کے حصول کے خواہش مند دکھائی دیتے ہیں مگر در حقیقت یہ نوجوان طبقہ گمراہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔یہ صورتحال مزید سنگینی اختیار کرتی جا رہی ہے۔غیر اسلامی رسومات ، ذرائع ابلاغ کا بڑھتا ہوا منفی رجحان اور دشمنانِ دین کے اوچھے ہتھکنڈوں نے اُمّتِ مسلمہ کے ان نوجوان طبقہ کے فکر وسوچ کوبڑی حد تک متاثر کیا ہے اوریوں یہ طبقہ گمراہی میں زیادہ مبتلا نظر آتا ہے۔

اسلام جو ہمہ گیر مذہب ہے،انسانی زندگی کے ہر پہلو کے لیے اُصول مرتب کرتا ہے۔ اسلام نے بچوں کی تعلیم و تربیت، فطرت سلیمہ کی تبدیلی اور امن سے انحراف کا پہلا ذمہ دار ماں باپ کو قرار دیا ہے۔سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ»1

''ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے،پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔''

جوانی ایک نعمت ہے،جس کی قدر کرنا اور صحیح رخ پر ڈالنا بہت ضروری ہے۔دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ دینِ حق کی دعوت میں نوجوانوں کا بڑا کردار رہا ہے۔قرآن مجید میں اصحابِِ کہف کا تذکرہ موجود ہے۔جن کے دلوں نے ایمان کی دولت پاتے ہی ہر طرح کے ناز و نعم کو چھوڑ کر صحرا و بیاباں اور پہاڑوں کا رخ کیا۔حکومتِ وقت کی ریشہ دوانیوں سے بچنے اور اپنے ایمان کی دولت کو محفوظ کرنے کے لیے ہجرت کا راستہ اختیار کیا۔اللّٰہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ان نوجوانوں کی ان الفاظ میں تعریف بیان فرمائی: ﴿نَحنُ نَقُصُّ عَلَيكَ نَبَأَهُم بِالحَقِّ ۚ إِنَّهُم فِتيَةٌ ءامَنوا بِرَ‌بِّهِم وَزِدنـٰهُم هُدًى ١٣﴾... سورة الكهف

''ہم آپ پر اُن کا قصہ برحق بیان کرتے ہیں کہ یہ چند نوجوان اپنے ربّ پر ایمان لائے تھے، اور ہم نے اُنھیں ہدایت میں ترقی دی تھی۔''

نوجوانی میں کسی کام کو کرنے کا جذبہ، ولولہ ،کسی معاملے کو عروج تک پہنچانے کی جراءت اور کسی حادثے سے مقابلہ کرنے کی عظیم قوت پائی جاتی ہے۔علم النفس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوانی کا یہ عرصہ اس قدر نازک ہوتا ہے کہ اسے جو راہ مل جائے ،وہ اسے اپنا لیتا ہے۔قرآن مجید کی ایک لمبی چوڑی سورت (سورۃ یوسف) ایک صالح نوجوان کی عصمت و عفت اور ہمت وجرات کی مثال قائم کرتی ہے جس نے پاکیزگی و عفت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور پاک دامنی کا راستہ ہی اختیار کیا۔نوجوانی کے اس سنہرے دور کی قدر و قیمت نبی کریمﷺکے اس فرمان سے واضح ہو جاتی ہے۔عبداللّٰہ بن عباس ؓسے مروی ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا:

«اِغْتَنِمْ خمساً قَبْلَ خمسٍ، شَباَبَكَ قَبْلَ هَرَمِكَ وَ صِحَتَكَ قَبْلَ سُقمِكَ وَ غِنَاكَ قَبْلَ فَقْرِكَ وَ فَرَاغَكَ قَبْلَ شُغْلِكَ وَ حَیٰوتَكَ قَبْلَ مَوْتِكَ»2

''پانچ چیزوں سے پہلے پانچ چیزوں کو غنیمت شمار کرو! اپنی جوانی کو اپنے بڑھاپے سے پہلے، اپنی صحت کو اپنی بیماری سے پہلے، اپنی مالداری کو اپنی تنگدستی سے پہلے، اپنی فراغت کو اپنی مشغولیت سے پہلے اور اپنی زندگی کو اپنی موت سے پہلے ۔''

بے حسی اور غفلت میں گھرے اِن نوجوانوں کو گمراہی کی دلدل سے نکالنا بے حد ضروری ہے۔اللّٰہ تعالیٰ نے ہدایت کی کتاب قرآنِ مجید میں صراط مستقیم پر چلنے کی راہ دکھائی۔جن میں قرآن مجید نے حضرت لقمان کی ان نصیحتوں کو نقل کیا، جو اُنھوں نے اپنے بیٹے کو کی تھیں۔اُنھوں نے اپنی نصیحت کا آغاز توحید سے کیا اور اسے چند اخلاقی امور پر ختم کیا ہے،جن کو سات بنیادی نکات سے واضح کیا جا سکتا ہے:

1۔توحید کی تعلیم

اسلام کی سب سے پہلی اور اہم ترین تعلیم 'توحید' ہے۔یہی چیز مسلم اور مشرک کے مابین تفریق قائم کرتی ہے۔اس کا انکار کرنے والا مشرک بن جاتا ہے،جس کے لیے دنیا و آخرت میں ذلّت و رسوائی ہے۔اس لیے حضرت لقمان نے سب سے پہلے اپنے نوجوان بیٹے کو شرک سے روکا۔کیونکہ شرک سے ایک خدا کی طرف بغاوت اور اس کی ہستی کا انکار لازم آتا ہے اور دوسری طرف شرک کرنے والا خود اپنی پیشانی اپنے جیسے یا اپنی سے کمتر مخلوقات کے سامنے جھکا کر ذلیل و خوار کرتا ہے: ﴿وَإِذ قالَ لُقمـٰنُ لِابنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يـٰبُنَىَّ لا تُشرِ‌ك بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّر‌كَ لَظُلمٌ عَظيمٌ ﴿١٣﴾... سورة لقمان

''اے میرے پیارے بیٹے! اللّٰہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا ، بے شک شرک بڑا بھاری ظلم ہے۔''

نوجوانِ دین کے لیے مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کا یہ بیان نہایت سبق آموز ہے:

''توحید سب سے بڑا علم ہے۔ تم جس قدر تحقیق اور جستجو کرو گے، تم کو یہی معلوم ہو گا کہ یہی علم کا سرا بھی ہے اور علم کی آخری حد بھی۔طبیعیات ، کیمیا ، ہیئت ، ریاضیات ، حیاتیات ، حیوانات اور انسانیت غرض کائنات کی حقیقتوں کا کھوج لگانے والے جتنے بھی علوم ہیں، ان میں سے خواہ کوئی علم لے لو، اس کی تحقیق میں تم جس قدر آگے بڑھتے جاؤگے،لا إلٰه إلّا الله کی صداقت تم پر زیادہ کھلتی جائےگی اور اس پر تمہارا یقین بڑھتا جائے گا۔''

اُمّتِ مسلمہ کے یہ جوان اللّٰہ کی حقیقت اور اس کی گہرائی سے واقف ہی نہیں۔اس لیے آج بیشتر نوجوان پیروں فقیروں کی در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں۔روحانی بابا اور ماہرِ نجوم کی پیروی کرتے ہیں۔جادو منتر، عملیات اور ایسے دیگر ہتھکنڈوں کے ذریعے اپنے مسائل کے حل کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔مگر درحقیقت وہ اس کے باوجود فلاح حاصل نہیں کر رہے، کیونکہ اس کا سبب اللّٰہ اس کی ذات و صفات اور یکتائی پر ان کے ایمان کی کمزوری ہے۔قرآنِ کریم میں اللّٰہ تعالیٰ نے اس کمزوری کا بیان اس طرح ارشاد فرمایا ہے :

﴿وَاتَّخَذوا مِن دونِ اللَّهِ ءالِهَةً لَعَلَّهُم يُنصَر‌ونَ ٧٤ لا يَستَطيعونَ نَصرَ‌هُم وَهُم لَهُم جُندٌ مُحضَر‌ونَ ٧٥﴾... سورة يس

''اور اُنھوں نے الله کے سوا اور معبود بنا لیے ہیں ، کہ شاید(اُن سے) اُسکو مدد پہنچے، (مگر) وہ ان کی مدد کی طاقت ہرگز نہیں رکھتے ، اور وہ ان کی فوج ہو کر ظاہر کئے جائیں گے۔''

مسلمان نوجوان عقیدہ توحید کو اپنے اندر راسخ اور جذب کر لیں اور قدم قدم پر اللّٰہ کی نصرت و حمایت کے طلب گار بن کر اس کا عملی ثبوت دیں۔فرمانِ مبارک ہے :

﴿يـٰأَيُّهَا النّاسُ اعبُدوا رَ‌بَّكُمُ الَّذى خَلَقَكُم وَالَّذينَ مِن قَبلِكُم لَعَلَّكُم تَتَّقونَ ٢١ الَّذى جَعَلَ لَكُمُ الأَر‌ضَ فِر‌ٰ‌شًا وَالسَّماءَ بِناءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَخرَ‌جَ بِهِ مِنَ الثَّمَر‌ٰ‌تِ رِ‌زقًا لَكُم ۖ فَلا تَجعَلوا لِلَّهِ أَندادًا وَأَنتُم تَعلَمونَ ٢٢﴾... سورة البقرة

'' اے لوگو! اپنے پروردگار کی عبادت کرو ، جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ ، جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا ، اور آسمان سے پانی برسا کر تمہارے کھانے کے لیے پھلوں کو نکالا پس تم اللّٰہ کے لیے شریک نہ بناؤ اور تم جانتے ہو۔ ''

جدید دور کے نوجوان طبقے میں اس بنیادی امراور حقیقت کو واضح کرنا بے حد ضروری ہے کہ مشکل کشا اور حاجت روا صرف اللّٰہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس ہے۔ذہنی کشمکش اور مصائب کا شکار یہ نوجوان طبقہ بلند و بالا اور عظیم ہستی کو چھوڑ کر اپنے جیسی مخلوقات سے فریاد کر کے نہ صرف شرک کا مرتکب ہوتا ہے بلکہ رحمتِ الٰہی سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔شرک کی سنگینی اس آیت سے واضح ہو جاتی ہے : ﴿إِنَّ اللَّهَ لا يَغفِرُ‌ أَن يُشرَ‌كَ بِهِ وَيَغفِرُ‌ ما دونَ ذ‌ٰلِكَ لِمَن يَشاءُ ۚ وَمَن يُشرِ‌ك بِاللَّهِ فَقَدِ افتَر‌ىٰ إِثمًا عَظيمًا ٤٨﴾... سورة النساء

''یقیناً اللّٰہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کیے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جو اللّٰہ کے ساتھ شریک مقرر کرے، اس نے بہت بڑا گناہ اور بہتان باندھا ۔''

لہٰذا نوجوانوں کو شروع سے ہی شرک سے اجتناب کی تعلیم دینا بے حد ضروری ہے۔

2۔اللّٰہ کی ذات باریک بین اور خبیر ہے!

اُمّتِ مسلمہ کے نوجوان طبقے کے علم میں ہو کہ اللّٰہ تعالیٰ ان کے ہر عمل سے واقف ہے۔لہٰذا نوجوان کسی بھی حال میں اچھا یا برا عمل کرے، وہ اللّٰہ تعالیٰ کے علم سے پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔حضرت لقمان نے دوسری نصیحت میں فرمایا:

﴿يـٰبُنَىَّ إِنَّها إِن تَكُ مِثقالَ حَبَّةٍ مِن خَر‌دَلٍ فَتَكُن فى صَخرَ‌ةٍ أَو فِى السَّمـٰو‌ٰتِ أَو فِى الأَر‌ضِ يَأتِ بِهَا اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَطيفٌ خَبيرٌ‌ ١٦﴾... سورة لقمان

''اے میرے پیارے بیٹے ! اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر ہو ، پھر وہ بھی خواہ کسی چٹان میں ہو یا آسمان میں ہو یا زمین میں ہو ا سے اللّٰہ تعالیٰ ضرور لائے گا ، اللّٰہ تعالیٰ بڑا باریک بین اور خبیر ہے۔''

دل میں پیدا ہونے والے خیالات ، نگاہوں کی حرکت ، اعمال ، حقائق ، حال اور مستقبل تمام چیزوں کا علم صرف اللّٰہ تعالیٰ کے پاس ہی ہے۔مخلوقِ الٰہ اپنے ارد گرد چندچیزوں کے احوال سے ہی باخبر ہو سکتی ہے، مگر خداے بزرگ و برتر کے اختیارات کی وسعت اور بڑائی روئے زمین کی تمام مخلوق اور کائنات کے ذرّے ذرّے پر محیط ہے۔حتی کہ پتھر میں پایا جانے والا کیڑا بھی اس کے علم سے اوجھل نہیں۔جیسا کہ ایک اور مقام پر فرمایا: ﴿عـٰلِمِ الغَيبِ ۖ لا يَعزُبُ عَنهُ مِثقالُ ذَرَّ‌ةٍ فِى السَّمـٰو‌ٰتِ وَلا فِى الأَر‌ضِ وَلا أَصغَرُ‌ مِن ذ‌ٰلِكَ وَلا أَكبَرُ‌ إِلّا فى كِتـٰبٍ مُبينٍ ٣﴾... سورة سبا

''اللّٰہ تعالیٰ سے ایک ذرے کے برابر کی چیز بھی پوشیدہ نہیں ، نہ آسمانوں میں نہ زمین میں بلکہ اس سے بھی چھوٹی اور بڑی ہر چیزکھلی کتاب میں موجودہے۔''

انسان کی زندگی ایک ایسی فائل کی طرح ہے ، جس میں انسانی زندگی کے مرحلہ وار اُمور کا ریکارڈ محفوظ ہے۔کوئی بھی عمل خواہ اچھا ہو یا برا ،وہ لکھا جا رہاہے۔یوں ایک دن اللّٰہ کی عدالت میں فائل کھل جائے گی اور ہر طرح کے عمل کا حساب ہو گا۔ آج کے دور میں نوجوانوں کی سرگرمیاں ، دین سے دوری ، تخلیقِ انسان کے مقصد سے لاپرواہی ، اسلامی عقائد و نظریات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کیمونسٹ وملحد معاشروں کی اندھی تقلید کے اسباب میں دراصل اُخروی انجام سے لاپرواہی برتنا ہے۔کیونکہ دل میں اِس خوف کی موجودگی کہ اللّٰہ تعالیٰ ہمارے ہر عمل دیکھ رہا ہے ، اللّٰہ کی رضا کے حصول کی جانب کشش کو بڑھاتا ہے اور گناہوں سے بے رغبتی پیدا کرتا ہے۔اُمّت مسلمہ کے نوجوانوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیئے کہ زندگی سے لے کر موت تک ، تنہائی سے ہجوم تک اور زندگی کے تمام معاملات کا کامل علم اللّٰہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ﴿وَكُلَّ شَىءٍ أَحصَينـٰهُ كِتـٰبًا ٢٩﴾... سورة النباء

''ہم نے ہر ایک چیز کو لکھ کر شمار کر رکھا ہے۔''

مغربی دنیا کے زیر اثر حالات نے جس قدر تیزی سے کروٹ بدلی ، اس سے نوجوانوں کے ظاہر و باطن بری طرح متاثر ہوئے، اور یوں ان کی ذہنی ، تعلیمی ، فکری ، اور اصلاحی کارکردگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔اب یہ وقت مثبت رجحانات کی تعمیر اور مفید رویوں کی تشکیل کا ہےتاکہ اُمت مسلمہ کے یہ نوجوان عملِ خیر کے راستے کی طرف گامزن ہوں جب انسان نیکی یا بدی کے لیے سفر کرتا اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا ہے تو قدموں کے نشانات بھی لکھے جاتے ہیں جیسے کہ عہد رسالت میں مسجد نبوی کے قریب کچھ جگہ خالی تھی تو بنوسلمہ نے ادھر منتقل ہونے کا ارادہ کیا جب نبی ﷺ کے علم یہ بات آئی تو آپ نے انھیں مسجد کے قریب منتقل ہونے سے روک دیا اور فرمایا :

«يَا بَنِى سَلِمَةَ! دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ»3

''تمہارے گھر اگرچہ دور ہیں ،وہیں رہو جتنے قدم تم چل کرآتے ہو وہ لکھے جاتے ہیں''

سورۃ یٰس میں اس کو اس طرح سے بیان فرمایا: ﴿إِنّا نَحنُ نُحىِ المَوتىٰ وَنَكتُبُ ما قَدَّموا وَءاثـٰرَ‌هُم ۚ وَكُلَّ شَىءٍ أَحصَينـٰهُ فى إِمامٍ مُبينٍ ﴿١٢﴾... سورة يس

''بے شک ہم مردوں کو زندہ کریں گے، اور ہم لکھتے جاتے ہیں وہ اعمال بھی جن کو لوگ آگے بھیجتے ہیں ، اور اُن کے وہ اعمال بھی جن کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں ، اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح کتاب میں ضبط کر رکھا ہے۔''

اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ اپنے اعمالوں کے دفاتر میں کیا درج کر رہا ہے۔

3۔نماز قائم کرنا

نماز ایک نوجوان کی زندگی کی زندگی کو صحیح رخ پر ڈالنے کے لیے بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔اس لیے اس کو بچپن سے ہی نماز کا خوگر بنانا چاہیئے۔کیونکہ نماز بندے کے اسلام اور کفر کے درمیان فرق کرنے والی چیز ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت لقمان نے اپنے پیارے بیٹے کو اقامتِ صلاۃ کی تلقین کی: ﴿يـٰبُنَىَّ أَقِمِ الصَّلو‌ٰةَ﴾

''اے میرے پیارے بیٹے !نماز قائم کرو ۔''

توحید کے اقرار کے بعد عبادت کا درجہ آتا ہے۔نماز دینِ اسلام کا دوسرا رکن ہے اور قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔نماز نہ صرف فرائض کا حصہ ہے بلکہ موجودہ حالات میں بھٹکے ہوئے نوجوانوں کے مسائل ، تناؤ، ڈیپریشن ، شدت پسندی ، غم و غصہ اور اشتعال انگیزی سے نجات کا حل بھی ہے۔کیونکہ اس میں سکون ہے ، جس کی آج کی نوجوان نسل کو بہت زیادہ ضرورت ہے۔اللّٰہ تعالیٰ نے سکون کا ماخذ اپنی ذات کو قرار دیا ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿وَأَقِمِ الصَّلو‌ٰةَ لِذِكر‌ى ١٤ ﴾... سورة طه ''یعنی میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔''

ایک اور مقام پر فرمایا : ﴿أَلا بِذِكرِ‌ اللَّهِ تَطمَئِنُّ القُلوبُ ٢٨﴾... سورة الرعد

''اللّٰہ کی یاد ہی اطمینانِ قلب کا باعث ہے۔''

نماز کے ایک معنی قریب ہو نے کے ہیں۔گویا نماز پنجگانہ ادا کرنے والا اللّٰہ سے قریب ہوتا ہے۔ایک حدیث سیدنا ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:«سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمْ الله فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ رَبِّهِ»4

''اللّٰہ تعالیٰ سات قسم کے لوگوں کو قیامت کے دن اپنے سائے میں جگہ دے گا۔ ان میں سے ایک وہ نوجوان ہے جس نے اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت میں پرورش پائی ہو ۔''

نوجوانی کے قیمتی دور میں وقت سے بڑی کوئی دولت نہیں۔نوجوانی کی نماز قربتِ الٰہی کا ذریعہ اور وقت کی پابندی پیدا کرتی ہے۔جدید دور کی اکثریت نماز جیسی اہم عبادت اور فرض سے کنارہ کش ہے،اسی لیے ان کی زندگی منظم نہیں۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا استَعينوا بِالصَّبرِ‌ وَالصَّلو‌ٰةِ ۚ ... ١٥٣ ﴾... سورة البقرة

''اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرو ۔''

نوجوانوں میں چونکہ شدتِ جذبات کی وجہ سے زیادہ جلد برائیوں میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تا ہے۔نماز نوجوان مسلمان کو غیر اخلاقی سر گرمیوں اور بے راہ روی سے باز رکھتی ہے جیسے کہ قرآن میں اللّٰہ کا فرمان ہے :﴿وَأَقِمِ الصَّلو‌ٰةَ ۖ إِنَّ الصَّلو‌ٰةَ تَنهىٰ عَنِ الفَحشاءِ وَالمُنكَرِ‌...٤٥﴾... سورة العنكبوت

''نماز قائم کرو ، کیونکہ یہ بے حیائی اور برے کام سے روکتی ہے ۔''

موجودہ دور فتنوں کا دور ہے ، جس میں ایک طرف اسلام مخالف سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے اور دوسری طرف نفاذِ شریعت کو عمل میں لانا ہے۔امت مسلمہ کے یہ نوجوان اپنے پختہ ارادوں سے اس عزم میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔جب کہ وہ حقیقی رہنما اور رہبر اللّٰہ تعالیٰ کو مان لیں اور اس کی عبادت بجا لائیں۔

4۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ

بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا اہل عزیمت کا کام ہے۔وہی معاشرے ترقی کی منازل طے کرتے ہیں جن میں برائی اور بھلائی میں تفریق قائم رہے۔ حضرت لقمان کے نصائح میں اگلی نصیحت یہ تھی: ﴿وَأمُر‌ بِالمَعر‌وفِ وَانهَ عَنِ المُنكَرِ‌...١٧﴾... سورة لقمان

''اور بھلائی کا حکم دیتے رہو اور برائی سے روکتے رہو ۔''

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ جہاں معاشرتی اصلاح کرتا ہے، وہاں انسان میں خود بھی بیداری کا احساس اُجاگر رکھتا ہے۔مگر آج کے مسلمان نوجوان طبقے نے اس حکم کو پس پشت ڈال دیا ہے۔بلکہ مغربی ذہنیت کے زیرِاثر اس امر کو Interference (دخل در معقولات) سمجھ لیا گیا ہے۔Interference کی آڑ میں نوجوان اپنے اوپر لاگو فرائض سے بھی دستبردار ہو رہے ہیں۔جبکہ نبی کریم ﷺ کا فرمانِ مبارک بالکل واضح ہے:

«مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ»5

'' جب تم کوئی برائی دیکھو تو اسے اپنے ہاتھ سے روک دو ، اگر ایسا نہ کر سکو تو زبان سے روک دو اور اگر یہ بھی نہ کر سکو تو دل میں برا جان لو اور یہ ایمان کا کم تر درجہ ہے۔''

جدید دنیا پر بے چینی اور اضطراب کے جو بادل چھائے ہوئے ہیں اور جس طرح برائیوں کے کشاکش سے یہ نوجوان مغلوب ہیں، اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں ، وہ کسی مقصد اور معنویت سے یکسر محروم ہو گئی۔اسلام دیگر تمام مذاہب پر اسی وجہ سے فوقیت رکھتا ہے کہ وہ تمام لوگوں سے منصفانہ سلوک کرتا ہے۔ظلم کے خلاف آواز اُٹھانا ، برائی کو دیکھتے ہی اسے روکنا اور جو نصب العین مسلمان بھول چکے ہیں ، اُنھیں اس نصب العین پر قائم رکھنا یہی ہمارے مذہب کی تعلیم ہے۔افسوس کہ ہم اپنی سامنے مسلمانوں کا قتلِ عام دیکھ رہے ہیں ،برما کے مسلمانوں سے لے کر فلسطین تک ، کشمیر اور کراچی سمیت بے شمار لاشیں ہیں،مگر کہیں کوئی صدا نہیں اٹھتی کہ یہ روزکے معمولات کا حصہ بن چکا ہے۔حقیقت یہی ہے کہ کوئی بھلائی کا حکم نہیں دیتا اور برائی سے نہیں روکتا!! ایک حدیث میں آپ ﷺ کا ارشاد ہے :

«وَالَّذِى نَفْسِى بِيَدِهِ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللَّهُ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عِقَابًا مِنْهُ ثُمَّ تَدْعُونَهُ فَلاَ يُسْتَجَابُ لَكُمْ»6

''قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ضرور نیکی کا حکم کرو اور ضرور برائی سے روکو،ورنہ قریب ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیج دے ،پھرتم اس سے دعائیں کرو گے لیکن وہ قبول نہیں کی جائیں گی ۔''

اللّٰہ تعالی غفور رحیم ہے،مگر معاملات چاہے انفرادی ہوں یا اجتماعی ، بدی اور استبداد کے آگے ڈٹ جانا ہی با ہمّت اور پر عزم نوجوانوں کی نشانی ہے۔تاہم اس اختیار کو سونپنے میں ریاست بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ مزید یہ کہ اس سلسلے میں خود میں عملی نکھار امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا پہلا تقاضا ہے۔آپﷺ نے فرمایا :

«لاَ تَزَالُ مِنْ أُمَّتِي أُمَّةٌ قَائِمَةٌ بِأَمْرِ الله، لاَ يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ، وَلاَ مَنْ خَالَفَهُمْ، حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ الله وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ»7

''اس اُمّت میں ہمیشہ ایسے لوگوں کی جماعت موجود رہے گی ، جو حق پر جمے رہیں گے ، یہ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے تائید و نصرت حاصل کرنے والے اور حمایت یافتہ لوگ ہوں گے۔یہ برملا حق کا اظہار کرنے والے، نیکی کا حکم کرنے والے اور برائی سے روکنے والے لوگ ہوں گے۔ان کی مدد سے ہاتھ کھینچنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے اُنھیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ ''

یہی جماعت 'الفرقۃ الناجیۃ' ہےیعنی کامیاب و کامران جماعت۔نوجوانوں میں کامیابی و کامرانی کا تقاضا ہے کہ سچائی سے محبت کر کے اس جذبہ اور عمل کو اپنا کر دنیا کو کھوئے ہوئے امن و سلامتی سے ہم کنار کریں۔

5۔مصائب پر صبر

ایک نوجوان کو دین و دنیا کے اُمور کی انجام دہی کے وقت مصیبتوں اور پریشانیوں سے دوچار ہو نا پڑتا ہے۔اس لیے اقامتِ صلاۃ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فورًابعد حضرت لقمان اپنی نوجوان بیٹے کو صبر کی تلقین کرتے ہیں:

﴿وَاصبِر‌ عَلىٰ ما أَصابَكَ ۖ إِنَّ ذ‌ٰلِكَ مِن عَزمِ الأُمورِ‌ ١٧﴾... سورة لقمان

''اور جو مصیبت تم پر آ جائے صبر کرنا ، بےشک یہ عزیمت کے کاموں میں سے ہے ''

صبر مومن کا ہتھیار ہے۔نوجوانی کی دہلیز کو چھوتے ہی ایک نوجوان کو اپنی زندگی کے اَن گنت مسائل و مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔دراصل صبر آزمائش کی ایک کڑی ہے ، کبھی اللّٰہ تعالیٰ انسان کو آزمانے کے لیے اور کبھی راہِ راست پر لانے کے لیے اسے امتحان میں مبتلا کرتا ہے، وہ وقت انسان کے صبر کا ہوتا ہے۔صبر انسان کے لیے ہر حال میں اُمید کا چراغ ہے۔قرآنِ مجید کی سورۃ البقرۃ میں اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿استَعينوا بِالصَّبرِ‌ وَالصَّلو‌ٰةِ...١٥٣﴾... سورة البقرة ''تم مدد مانگو ، صبر اور نماز کے ساتھ ۔''

یعنی ثابت قدمی اور صبر بذاتِ خود بہت بڑی مدد ہے ، اور اللّٰہ سے رجوع کرنے پر اللّٰہ کی مدداس معاملے میں شامل حال ہو جاتی ہے ۔اس طرح انسان تباہی سے بچ جاتا ہے۔نوجوانی شدتِ جذبات کا نام ہے اور جذبات سے مغلوب یہ نوجوان اکثر بے صبری کا مظاہرہ زیادہ کرتے ہیں۔شرعی حدود سے تجاوز ، پیسہ کمانے کے شارٹ کٹ راستے ، فراڈ ، ڈکیتیاں اور تعلیمی میدان میں ناجائز ذرائع کا استعمال ، یہ درحقیقت بے صبری کی ایک عملی قسم ہے۔اُمت ِ مسلمہ کو پارہ پارہ کرنے میں ایک بڑی وجہ عدمِ برداشت ہے۔نفرت ، عداوت، انتقام ، لالچ ، حسدجیسی برائیوں نے اِن نوجوانوں کو بگاڑ رکھا ہے ، کہ وہ صبر جیسی عزیمت کو بد دلی اور کم ہمتی گردانتے ہیں۔حالانکہ صبر بہادری ہے، اس لیے صبر کی تلقین کے ساتھ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے یہ بھی فرمایا کہ یہ بڑے اونچے کاموں میں سے ہے۔ایک دوسرے مقام پر اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿وَلَمَن صَبَرَ‌ وَغَفَرَ‌ إِنَّ ذ‌ٰلِكَ لَمِن عَزمِ الأُمورِ‌ ﴿٤٣﴾... سورة الشورىٰ

''اور جو صبر کرے ، اور قصورمعاف کر دے تو یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے ۔''

اسلام کا ایک ایک کارنامہ نبی کریمﷺ کے صبر و استقلال اور عزم و استقامت کا شاہکار ہے جس کی نظیر کہیں نہیں ملتی۔مکی دور کے تیرہ سا ل کی آزمائش سے لے کر تمام غزوات آپ ﷺ کے صبر کے عملی ثبوت ہیں،یہاں تک کہ اسلام کا نفاذ ہو جاتا ہے۔آج بھی صبر جیسی صفت کو اپنا کر نوجوانانِ دین اپنی مشکلات پر قابو پا سکتے ہیں۔انفرادی معاملات کے علاوہ ایک نوجوان جب دین کا راستہ اختیار کرتا ہے، تو اسے بہت سے مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کہیں تو سیکولر معاشرہ اور کہیں موجودہ مسلمانوں کامتضاد رویہ، اسے فرائض کی ادائیگی سے روکتا ہے۔چنانچہ مسلم نوجوان کو صبر و استقلال اور استقامت میں اُس عظیم نوجوان صحابہ کی مثا ل کو سامنے رکھنا چاہیئے جو حبشی اور غلام تھے۔یہ صحابی حضرت بلال تھے ، جو اُمیہ بن خلف کے غلام تھے۔اُمیّہ ان کی گردن میں رسّی ڈال کر لڑکوں کو دے دیتا اور وہ اُنھیں مکے کے پہاڑوں میں گھماتے پھرتے تھے ، یہاں تک کہ گردن پر رسّی کا نشان پڑ جاتا ، خود اُمیہ انھیں باندھ کر ڈنڈے مارتا تھا اور چلچلاتی دھوپ میں جبراً بٹھائے رکھتا تھا۔کھانا پانی بھی نہ دیتا ہےبلکہ بھوکا پیاسا رکھتا تھااور اس سے بھی بڑھ کر ظلم یہ کرتا کہ جب دوپہر کو گرمی شباب پر ہوتی تو مکہ کے پتھریلے کنکروں پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھوا دیتا۔پھر کہتا: خدا کی قسم ! تو اس طرح پڑا رہے گا، یہاں تک کہ مر جائے یا محمد ﷺ کے ساتھ کفر کرے ، حضرت بلال اس حالت میں بھی فرماتے : اَحَدْ اَحَدْ

یہ سختیاں اور مظالم ان کے صبر و استقلال میں ذرا برابر بھی لغزش نہ پیدا کر سکےبلکہ ان کے عزائم مزید پختہ ہو گئے۔اللّٰہ تعالیٰ بھی یہی جذبہ پسند کرتا ہے اور صبر کرنے والے کو بے حد نوازتا ہے ۔ ارشاد ِ خداوندی ہے : ﴿وَاصبِر‌ فَإِنَّ اللَّهَ لا يُضيعُ أَجرَ‌ المُحسِنينَ ١١٥﴾... سورة هود

''اور صبر کیے رہو کہ اللّٰہ تعالیٰ نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا ۔''

اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا : ﴿إِنَّما يُوَفَّى الصّـٰبِر‌ونَ أَجرَ‌هُم بِغَيرِ‌ حِسابٍ ١٠﴾... سورة الزمر

''صبر کرنے والے کو بغیر حساب بدلہ دیا جائے گا ۔''

الغرض یہ کہ نوجوان کا شیوہ ہونا چاہیئے کہ انھیں کسی بھی طرح کی مشکل یا مصیبت پیش آئے تو وہ ضبطِ نفس ، ثابت قدمی اور صبر سے کام لیں۔

6۔کبر و غرور سے اجتناب

﴿وَلا تُصَعِّر‌ خَدَّكَ لِلنّاسِ وَلا تَمشِ فِى الأَر‌ضِ مَرَ‌حًا ۖ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ كُلَّ مُختالٍ فَخورٍ‌ ١٨﴾... سورة لقمان

''اور لوگوں کے سامنے اپنی گال نہ پھلا ، اور زمین پر اِترا کر نہ چل ، کسی تکبر کرنے والے اور شیخی بگھارنے والے کو اللّٰہ پسند نہیں فرماتا ۔''

انسان جب غرور کا لبادہ اوڑھ لے ، تو تکبر سے اُس کی گردن اکڑ جاتی ہے ، اس کی چال میں بناوٹ پیدا ہو جاتی ہے ، اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ ترش رویہ اختیار کر لیتا ہے۔یہ عموماً ہمارے نوجوانوں میں زیادہ ہے اورمعاشرے میں پھیلے طبقاتی نظام نے اس کو مزید ہوا دی ہے۔یوں امیراور غریب ، سرمایہ داراور مزدور میں ایک طویل خلیج حائل ہو گئی ہے۔اس کا براہِ راست اثر نئی نسل پر ہو رہا ہے۔عیاشیوں کے نام پر لٹائی جانے والی دولت ، فیشن ، نمائش اور خاص طور پر اپنی کمیونٹی میں شہرت اور چرچا کروانے میں نوجوان اپنا وقت برباد کرتے ہیں۔

اس کشمکش کے سبب عاجزانہ رویوں کو چھوڑ کر تکبر جیسی اخلاقی برائیوں میں مبتلا ہیں۔ زندگی سے متعلق بنیادی نصیحتوں کے بعد حضرت لقمان نے اپنے فرزندکو غرور سے اجتناب برتنے کی تلقین کی نیز یہ بھی فرمایا کہ اللّٰہ تعالیٰ ایسے شخص کو پسند نہیں فرماتا۔ قرآنِ مجید میں اللّٰہ کا فرمان ہے :

﴿إِنّى وَجَدتُ امرَ‌أَةً تَملِكُهُم وَأوتِيَت مِن كُلِّ شَىءٍ وَلَها عَر‌شٌ عَظيمٌ ﴿٢٣﴾... سورة النمل

''بے شک وہ (اللّٰہ تعالیٰ ) تکبر کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا ۔''

عارضی آسائشوں کو ذاتی جاگیر تسلیم کر کے آج کا نوجوان اپنے بے جا تکبر کے سبب اللّٰہ تعالیٰ سے دور ہوتا جارہا ہے اوریوں اپنی مقاصد ِ حیات سے بے پرواہ ہے۔حضرت لقمان کی اس اخلاقی نصیحت کی دورِ جدید کے مسلمانوں کو بے حد ضرورت ہے۔نوجوانوں میں محبت ، اتحاد، اخوت کی کمی کی بنیادی وجہ یہ اخلاقی گراوٹ ہے۔نبی کریم ﷺ نے ایک بار فرمایا :

«لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَكُونَ ثَوْبُهُ حَسَنًا وَنَعْلُهُ حَسَنَةً قَالَ إِنَّ الله جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ»8

''جنت میں وہ شخص نہیں جائے گا ، جس کے دل میں ذرا سا بھی کبر ہو ۔اس پر ایک شخص نے عرض کیا ، یا رسول اللّٰہ ! ہر شخص یہ پسند نہیں کرتا ہے کہ اس کا لباس اور جوتے اچھے ہوں ، تو رسول ﷺ نے فرمایا : اللّٰہ تعالیٰ جمیل ہے ، اور جمال کو پسند کرتا ہے ، کبر و تکبر تو حق سے سر کشی اور لوگوں کی تحقیر یعنی لوگوں کو ذلیل سمجھنا ہے۔''

اسلام تمام مسلمانوں کو برابری کا درس دیتا ہے ، جبکہ تکبر کے نتیجے میں امتیاز کے درجے قائم ہوتے ہیں۔اللّٰہ کے عاجز بندے نرم رویہ اختیار کرتے ہیں ۔وہ شائستہ اور مؤدب انداز اپناتے ہیں۔اس لیے اللّٰہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی تعریف میں قرآن مجید ارشاد فرمایا ہے :

﴿وَعِبادُ الرَّ‌حمـٰنِ الَّذينَ يَمشونَ عَلَى الأَر‌ضِ هَونًا...٦٣﴾... سورة الفرقان

''اللّٰہ کے بندے زمین پر وقار اور سکونت کے ساتھ چلتے ہیں۔''

7۔رفتار و آواز میں اعتدال

مال و دولت ، جاہ و منصب اور طاقت کی وجہ سے بعض دفعہ انسان کو کبر و غرور کا رَوگ لگ جاتا ہےجس کا اظہار اُس کی چال اور آواز کے بدل جانے کی صورت میں نکلتا ہے۔حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنی آخری نصیحت میں چال اور آواز میں میانہ روی کی تلقین فرمائی :

﴿وَاقصِد فى مَشيِكَ وَاغضُض مِن صَوتِكَ ۚ إِنَّ أَنكَرَ‌ الأَصو‌ٰتِ لَصَوتُ الحَميرِ‌ ﴿١٩﴾... سورة لقمان

''اور اپنی رفتارمیں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز پست کر ، یقیناًآوازوں میں سب سے بد تر آواز گدھے کی آوازہے ۔''

رفتار اور آواز کے آداب سے مرصع ہونے کے بعد ہی انسان بے ادبی اور بد اخلاقی کی لعنت سے دور رہ سکتا ہے۔کیونکہ یہ سب حیوانی صفات ہیں جو انسان کو انسانیت سے گرا دیتی ہیں۔ بدقسمتی سے یہ اخلاقی برائی بھی نوجوانوں میں کثرت سے پائی جاتی ہے۔ہمارے نوجوان عجلت کا شکار ہے۔اپنی وضع قطع ، چال ڈھال میں کافروں کی روش اختیار کیے ہوئے ہیں جس کے باعث نہ تو اخلاقی صفات سے مزّین ہیں اور نہ منظّم ۔اس لیے نہ صرف نوجوانِ دین کو اپنی رفتار میں اعتدال برتنا چاہئے بلکہ آواز میں بے اخلاقی کا مظاہرہ نہیں کرنا ہے۔وہی قوم یا گروہ منظم مانا جاتا ہے جو اعلیٰ اخلاقی اقدار کے حامل ہوں۔انسان اپنی انھی صفات ہی کی وجہ سے اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز ہے۔اس لیے بے ادب اور بے ربط آواز بہتر ہوتی تو گدھوں کی آواز سب سے بد تر ہے۔جبکہ حدیث میں حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہےکہ نبیﷺ نے فرمایا:

« إِذَا سَمِعْتُمْ صِيَاحَ الدِّيَكَةِ فَاسْأَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ، فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا، وَإِذَا سَمِعْتُمْ نَهِيقَ الْحِمَارِ فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِنَّهُ رَأَى شَيْطَانًا»9

''جب تم مرغ کی بانگ سنو تو اللّٰہ سے اس کا فضل مانگاکرو کیونکہ وہ فرشتہ کو دیکھ (کر یہ آواز نکالتا )ہےاور جب گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے پناہ مانگا کرو کیونکہ وہ شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔''

یہ تھے وہ سات نصائح جو قرآنِ کریم نے حضرت لقمان کی زبانی بیان کیے ہیں۔چنانچہ ایک نوجوان جب راہِ راست اختیار کرے تو اس کے لیے بنیادی امر عقائد و نظریات کی پختگی ہونا چاہئے ۔ نوجوانوں کے لیے پہلی تاکید توحید ہے۔اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے بعد دوسری اہم چیز اللّٰہ تعالیٰ کو غالب و قادر اور باخبر تسلیم کرنا ہے۔نیز اس پر توکّل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔عقائد کے بعد نوجوانوں میں عبادات کے شعوراجاگر کرنے اور بالخصوص حقوق اللّٰہ ادا کرنے کے لیے نماز کی تلقین کی گئی ہے۔توحید ، اللّٰہ تعالیٰ کی بڑائی سے واقف ہونے اور عبادات کی ادائیگی کے بعد ایک نوجوان کو معاشرے کی اصلاح کی طرف توجہ دینی چاہیئے۔اس فریضہ کی ادائیگی میں پیش آنے والی مشکلات پر صبر کا حکم ہے۔مسلمانوں میں اخوت ، محبت اور اخلاقی اقدار کو پروان چڑھانے کے لیے تکبر ، آواز و رفتار میں بے ڈھنگا پن سے دور رہنے کی اور نوجوانِ دین کو ہر حال میں سادگی ، میانہ روی اور عاجزی اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔یہ ہیں وہ سات اُصول جن پر عمل کر کے آج کے نوجوان اپنی الجھی ہوئی زندگی کو آسان بنا سکتے ہیں۔قبل اس سے کہ ربّ العالمین کے سامنے جواب دہ ہونے کا وقت آ جائے۔

اللّٰہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

« لاَ تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ عُمْرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ وَعَنْ عِلْمِهِ فِيمَا فَعَلَ وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَا أَنْفَقَهُ وَعَنْ جِسْمِهِ فِيمَا أَبْلاَهُ »10

''کسی بھی شخص کے قدم روزقیامت آگے نہ اُٹھ سکیں گے، یہاں تک کہ وہ اس سے پوچھا جائے: اس کی عمر کے بارے میں، کہاں صرف کی؟ اس کے علم کے بارے کہ اس پر کتنا عمل کیا؟ اس کے مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا اور کس میں خرچ کیا؟ اور اس کے جسم کے بارے میں کہ کہاں اس کو کھپایا؟''

حل

ان سات نکات کے علاوہ نوجوانوں کو اپنی شخصیت نکھارنے کے لیے درج ذیل عوامل کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے، یہ شریعت مطہرہ کی دیگر تعلیمات سے معلوم ہوتے ہیں:

1. نوجوانوں کو چاہیئے کہ وہ مقاصدِحیات کو پہچانیں۔

2. ہر حال میں اللّٰہ کی مدد پر یقین رکھیں اور وسوسے و مایوسی سے بچیں۔

3. روزانہ اپنے ضمیر کی عدالت میں اپنا احتساب کریں۔

4. زندگی کے ہر معاملے میں انصاف کریں۔وقت ، محنت ، تعلیم ، فرائض ، عبادات ، معاملات ، غرض ہر حق جو مسلمانوں پر لاگو ہوتا ہے ، اس میں انصاف کریں۔

5. تاریخ ِاسلام میں جو بڑے لوگ گزرے ہیں ، اُنھیں اپنا آئیڈیل بنائیں، نبی کریم ﷺ کی ذات ِاقدس سب سے بڑی آئیڈیل ہے اور دیگر سلف صالحین کی زندگی کو اپنا نمونہ بنائیں۔

6. اپنے ارد گرد کی دنیا ، اس میں پائے جانے والے اَسرار و رموز ، حقائق پر غور و فکر کریں۔

7. اپنا عمل اپنے قول کے مطابق کریں۔

8. تبلیغ کریں ، پڑھائی نہ چھوڑیں بلکہ تبلیغ ِ دین کے لیے علمی ، فکری صلاحتیں بڑھانا اہم مقاصد میں سے ہے۔

9. اپنا اُسلوب بیان بہتر کریں ، نیز آپ کی تبلیغ میں دلائل ، ثبوت اور پختگی ہو۔

10. فرصت کے اوقات میں اپنی گھروں میں مجالس کا اہتمام کریں۔جس میں اقربا ، دوستوں سے حالات ِ حاضرہ کے موضوعات کو زیرِ بحث لائیں۔

11. شہرت حاصل کرنے اور امیر بننے کی منصوبہ بندی نہ کریں ، بلکہ اچھے انسان اور اچھے مسلمان بنیں ، کامیاب آپ خود ہو جائیں گے۔

12. آپ کے مسائل خواہ تعلیمی ، نظریاتی معاشرتی ، اقتصادی یا سیاسی ہوں ، اُنھیں دینِ اسلام کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کریں۔

13. عالم ِ اسلام کو لاحق خطرات کا ادراک کریں۔جن میں عیسائی ، یہودی ، ہندو ، صہیونی ،مرزائی ، کیمونسٹ اور دیگر بیرونی قوتیں اسلام کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں۔

14. موجودہ دور میڈیا کا دور ہے۔اس کے ذریعے دین کی دعوت اور نشر و اشاعت پر توجہ دیں اور لغویات سے اجتناب برت کر وقت اور نفس کی حفاظت کریں۔

15. آزادی کے نام پر بے حیائی سے بچیں ، نہ دین ِ اسلام میں ایسی آزادی کی گنجائش ہے اور نہ ایسی بے حیائی کی ، پاکدامنی اور حیا کا راستہ اختیار کریں۔

16. اُمّت ِمسلمہ ایک وحدت ہے۔اسے جھنڈوں ، فرقوں ، ذات ، لسانیت ، ثقافت ، حد بندیوں میں تقسیم نہ سمجھیں۔بلکہ آپس میں محبت کریں ، نیک عمل کریں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں۔ کیونکہ ایک حدیث سیدنا ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول ﷺنے فرمایا: «الدَّالُّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ»11

'' جو لوگوں کو راہ ہدایت کی طرف بلاتا ہے، اس کے لیے اتنا ثواب ہے ، جتنا اس پر عمل کرنے والے کو ملتا ہے، اور اس سے ان کے اجر و ثوا ب میں کمی نہیں ہوتی ۔''

اسی موضوع پر محدث کے شمارہ ستمبر 2012ء میں چھپنے والا شیخ محمد صالح العثیمین کا تفصیلی مضمون 'عصر حاضر کے نوجوانوں کے مسائل کا حل' بھی بڑا مفید اور قابل مطالعہ ہے۔ ادارہ
حوالہ جات

صحیح بخاری: 1385

المستدرک للحاکم : ۳ ؍۷۸۴۶

صحیح مسلم:1519

صحیح بخاری: 660

صحیح مسلم: 177

جامع ترمذی:2169

صحیح بخاری: 3641

صحيح مسلم: 91

صحيح بخاری:3303

جامع ترمذی:2417

جامع ترمذی: 2670