بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

﴿''لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ''﴾ (القرآن الحکیم3: 163)

قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ: ''حقیقت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں (بلکہ جملہ انسانوں)پر بہت بڑا احسان کیا کہ ان میں ان ہی کی جنس سے ایک ایسے پیغامبر کوبھیجا کہ وہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں اور ان کےنفوس کا تزکیہ کرتے ہیں اور انہیں کتاب کاعلم دیتے ہیں اور دانائی و حکمت سکھاتے ہیں۔''

نسل انسان پرخالق کائنات کا یہ عظیم احسان و کرم رہا ہےکہ وہ اس کی ہدایت و رہنمائی اور تعلیم و ارشاد کے لیے وقتاً فو قتاً رسول او رنبی بھیجتا رہا۔ انسانوں کی کوئی بستی اور کوئی زمانہ اس نبوی ہدایت سے محروم نہیں رہا جیسے کہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

''وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ'' (16: 36)

''اور تحقیق ہم نے ہراُمت میں پیغامبر بھیجے کہ (وہ لوگوں کو یہ تعلیم دیں کہ) وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں او رمعبودوان باطل سے الگ رہیں'' اور یہ کہ : ''وَإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ'' (35: 23) '' اور کوئی ایسی اُمت نہیں ہے جس میں کوئی ڈرانے والانہ گزرا ہو۔''

انسان راہ راست سے بھٹکتا رہا او راس کی ہدایت کا سامان بھی بہم پہنچتا رہا۔ وہ ذہنی،شعوری اور تمدنی طور پرجُوں جُوں ترقی کرتا رہا، اس کے لیے ہدایت و تعلیم و تبلیغ میں بھی فرق آتا رہا حتیٰ کہ انسانیت پختگی کے ایک ایسے مقام پر پہنچی جہاں اس کے لیے ایک ایسی ہدایت و رہنمائی کی ضرورت تھی جو عالمی ہو، جامع و کامل ہو او رواضح اور آسان ہو۔ خالق ارض و سماء نے انسانیت کی اسی ضرورت کے پیش نظر اسے اپنے آخری او رکامل پیغام رشد و ہدایت سے نوازا اور اسے ''ذکرہ للٰعلمین'' کہا۔ اسی کتاب آسمانی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

''الر كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَى صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ'' (14: 1)

''یہ (وہ) کتاب ہے جس کو ہم نے آپؐ پر نازل فرمایا ہے تاکہ آپؐ انسانوں کو اُن کے پروردگار کے حکم سے تاریکیوں سے نکال کر نور و روشنی کی طرف یعنی اس غالب اور عمدہ صفات کی حامل ذات کی راہ کی طرف لے آئیں جو ایسا خدا ہے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے سبھی اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔''

افراد نسل انسانی پرخالق حقیقی کی بے پایاں رحمت و شفقت کا دوسرا بڑا کرم یہ ہوا کہ اس نےقرآن مجید و فرقان حمید کی تشریح و تعبیز اور تعلیم و ارشاد کے لیےنیز اپنے آخری او رکامل دین اسلام کے نفاذ کے لیےایک ایسی شخصیت کو چنا جو جامع صفات و کمالات تھی۔ آنحضرتﷺ کو خدائے بزرگ و برتر نے پوری انسانیت کا آخری کامل رہنما او رمعلم بناکر بھیجا۔ اور فرمایا:

'وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ' (34: 28)

''اور ہم نے تو آپ کو تمام انسانوں کے لیےپیغامبر بنا کر بھیجا ہے خوشخبری سنانے والااور ڈرانے والا، لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔''

ہادئ برحق، معلّم انسانیت، خاتم الانبیاء سرور کائنات ﷺ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانیت کی اصلاح و تعلیم پر مامور ہوئے اس وقت دنیا کفر و جہالت اور فنتہ و فساد کی سیاہ چادر میں لپٹی ہوئی تھی۔ حضورﷺ کی آمد کے وقت عالم انسانیت کی زبوں حالی کا نقشہ قرآن حکیم کی فقط ایک آیت سے ہی کھنچ جاتا ہے۔ارشاد ربانی ہے:

''ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ '' (2: 41)

خشکی اور تری میں انسانوں کے اعمال (یعنی بداعمالیوں کی وجہ سے فساد ظاہر ہوچکا) یعنی مسلسل انحراف، ظلم و زیادتی او ربداعمالیوں کی وجہ سے پورے عالم میں بے راہ روی اور فساد کا دور دورہ تھا۔ تاریخی حقائق بھی اس امر کی پورےطور پرتصدیق کرتے ہیں اور ہمیں اس بات کاپتہ دیتے ہیں کہ رسول پاکﷺ کی آمد کے وقت نہ صرف پورے عرب میں بلکہ پورے عالم میں مذہبی، اخلاقی و معاشرتی ، معاشی و سیاسی اور تعلیمی و علمی بے راہ روی کا بازار گرم تھا۔ کہیں کہیں روشنی کی کوئی کرن نظر آتی تھی لیکن وہ بھی اتنی مدہم کہ اس سے رہنمائی کا کام نہیں لیاجاسکتا تھا۔ ایسے میں رحمۃ للعالمینؐ نے ساکنان عالم کو وہ پیغام اور وہ تعلیم دی جس پر عمل کرنے سے انسانی زندگی کے ہر گوشے میں ایک عظیم انقلاب برپا ہوگیا۔الٰہیات و عقائد میں، عبادات و معاملات میں انفرادی، گھریلو اور اجتماعی زندگی میں، اخلاقیات میں، معاشیات و سیاسیات میں، انسان کی مادی،روحانی، دنیوی و اُخروی زندگی کے تصور کے بارے میں اسی ذات بابرکات کی بدولت صحیح اصولی رہنمائی اور تعلیم حاصل ہوئی اور زندگی کے ہردائرہ میں انتہائی مفید، صالح اور خوشگوار تبدیلی رونما ہوئی۔

انسانیت کے اس عظیم محسنؐ او رلاثانی معلمؐ نے نسل انسانی کو جو کچھ دیا اور جوکچھ سکھلایا اس کے بعض نمایاں پہلو یہ ہیں۔

• ..... خدائے بزرگ و برتر کی وحدانیت کا تصور اور توحیدباری تعالیٰ و صفات خداوندی کا واضح بیان۔

• ..... تصور رسالت۔ تمام انبیائے سابقہ کی رسالت پر ایمان بالعموم او ران کا احترام اور آنحضورؐ کی رسالت پرخصوصی طور پر ایمان اور ان کی کامل اطاعت و فرمانبرداری ۔

• ...... نسل انسانی کی وحدت و مساوات۔

رنگ ، نسل خاندان، زبان او رعلاقے و وطن کے امتیازات کو ختم کرتے ہوئے اور تمام انسانوں میں ہمدردی و مساوات کے جذبات ابھارتے ہوئے آنحضورﷺ نے انسانیت کو اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام سنایا، او رپھر اسی کے مطابق عمل کرکےدکھایا۔

''يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً'' (4: 1)

''اے لوگو! اللہ تعالیٰ کاتقویٰ اختیار کئے رہو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور پھر اس سے اس کا جوڑا بنایا اور ان سے بہت سےمرد و عورت پھیلائے۔''

اور یہ کہ : ''يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ '' (49: 13)

''اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ، اور تمہیں مختلف قومیں اور خاندان بنایا تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرسکو (وگرنہ) اللہ کے نزدیک تم سب میں بڑا شریف وہ ہے جو سب سےزیادہ پرہیزگار ہو۔''

شرف انسانیت کی تعلیم:

شرف انسانی کی تعلیم دیتے ہوئے آنحضورﷺ نے انسان کو بتایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا شاہکار ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسے بہترین صورت پر پیدا کیا ہے، اسے عزت بخشی ہے۔ اسے نیابت و خلافت کا خلعت پہنایا ہے۔ وہ مسجود ملائک ہے اور کائنات کی ہر ایک چیز اس کی خدمت میں سرگرم عمل ہے۔ اس لیے انسان کو اپنے منصب کو پہچان کر اس کے شایان شان طرس عمل اختیار کرنا چاہیے۔

اصلاح اخلاق:

انسانی معاشرے کے استحکام اور اس کے امن و بقا کے لیے نیز افراد نسل انسانی کی اصلاح، راست روی اور ترقی کے لیے اخلاقیات کو جواہمیت حاصل ہےوہ کسی ذی شعور انسان سے پوشیدہ نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ تمام نبیوں کی بنیادی تعلیم جہاں اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کرنا رہی ہے وہاں لوگوں کی اخلاقی اصلاح بھی رہی ہے او ریہ نفوس قدسیہ خود عمدہ اخلاق کے بہترین عملی نمونے رہے ہیں۔ کسی معاشرے کے فساد کی سب سے بڑی وجہ اخلاقی اقدار کو پس پشت ڈال دینا ہوتی ہے اور غالباً دور جدید کی سب سے بڑی بیماری یہی ہے۔ اسی بیماری کاعلاج آنحضرتﷺ نے کیا تھا۔ اس ماہرطبیب انسانیتؐ نے اپنی بعثت کا مقصد ہی اس کو قرار دیا تھا اور ارشاد فرمایا ''بعثت لاتمم مکارم الاخلاق'' (میں اس لیے بھیجاگیا ہوں کہ اخلاق کریمانہ کو ان کی انتہائی بلندیوں تک پہنچادوں)خود آپؐ کے ذاتی اخلاق و کردار کی یہ حالت تھی کہ مالک حقیقی نے قرآن حکیم میں اس کی تعریف فرماتے ہوئے کہا:

'' وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ'' (68: 4)

''بلاشبہ آپؐ عظیم الشان اخلاق کریمانہ کے حامل ہیں۔''

آپؐ نےجن عظیم اخلاقی خوبیوں کو اپنانے کی تعلیم دیان میں سے بعض یہ ہیں:

امانت و دیانت، سادگی، منصف مزاجی، رحمت و عفو و درگزر، مستقل مزاجی، عزیمت ، تحمل و بُردباری، ایثار و قربانی، سچائی، گھروالوں سے عمدہ سلوک، سخاوت، شجاعت، انکسار و تواضع، عہد کی پابندی، باہمی معاملات میں عمدگی او ریتامیٰ ، بیوگان، ناداروں اورمحتاجوں کی امداد او ران سے ہمدردی، اور ساتھ ہی رذائل اخلاق سے بچنے کی تلقین کی۔

عدل و انصاف کی تعلیم:

سرور کائناتﷺ نے عدل و انصاف کا وہ بلند ترین تصور انسانیت کو دیا جس سے برتر تصور انسان کےوہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا۔ آپؐ نے دنیا کو خدائے ذوالجلال کا ہی پیغام دیا کہ انصاف ہرقسم کی جانبداری سے پاک ہونا چاہیے خواہ فیصلے کی زد منصف کے اپنے عزیز ، والدین یا اپنی ہی جماعت بلکہ اپنے ہی اوپر کیوں نہ پڑتی ہو او ریہ کہ دشمن کے ساتھ بھی انصاف کرنا چاہیے۔ قوله تعالیٰ!

وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى(5: 8)

''اور کسی گروہ کی عداوت (بھی) تم کو اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ عدل کیاکرو کہ وہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔''

آنحضورﷺ نے انصاف پرعمل کاثبوت یہ کہہ کر دیا کہ ''اگر فاطمہؓ بنت محمدؐ بھی چوری کرتی تو اس کے ہاتھ بھی کاٹ لئے جاتے۔''

علم و حکمت کے حصول کی تعلیم:

آنحضورﷺ نے علم و حکمت کے حصول کو فریضہ کادرجہ دیا۔ قرآن حکیم میں جابجا اہل علم اور ارباب فہم و ذکا کی برتری کاذکر کیا گیا ہے۔کہیں علم کی فوقیت و برتری کو۔

قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ'' (39: 9)

''کیا علم والے اور جو علم نہیں رکھتے کہیں برابر ہوتے ہیں؟''

کہہ کر واضح کیا گیا ہے او رکہیں۔

''يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ '' (58: 11)

''اللہ تعالیٰ تم میں ایمان والوں او ران لوگوں کے، جن کو علم عطا ہوا درجے بلند کرے گا۔''

فرما کر اہل علم کے درجات کی بلندی کا ذکر کیا گیا ہے۔ خور رسول اکرم ﷺ کی حیثیت بطور معلم انسانیت ان کو پوری طرح سے اجاگر کرکے اسےنسل انسان کے لیے خدا کا عظیم احسان گردانا ہے )جیسے کہ مضمون کے آغاز میں بیان ہوا)۔

اسی ضمن میں انسان کو عقل استعمال کرنے، تدبر سے کام لینے اور کائنات میں غوروفکر کرنے کی بار بار تلقین کی گئی ہے۔

آنحضورﷺ نے ''العلماء ورثة الأنبیاء'' (علماء انبیاء کے وارث ہیں) اور ''فضل العالم علی العابد کفضل القمر لیلة البدار علی سائر الکواكب'' (یہ کہ عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے چودہویں رات کے چاند کی فضیلت دوسرے تمام ستاروں پر)نیز یہ بتا کر کہ:

''الکلمة الحکمة ضالة الحکیم فحیث وجدھا فھو أحق بھا''

''کلمہ حکمت و دانا کی گم شدہ چیز ہے یہ اُسے جہاں سے بھی ملے اُسے اس کے حصول کا زیادہ حق ہے۔''

مسلمانوں نیز تمام انسانوں کو علم و حکمت کے حصول کا واضح تصور دیا۔ یہ بات کسی ذی ہوش و ذی فہم انسان سے پوشیدہ نہیں ہے کہ آنحضرتؐ نے جونظام تعلیم و تربیت اور تصور علم انسانیت کو دیا وہ ہرلحاظ سے کامل ہے۔

رواداری، قیام امن، عمل صالح او رمنزل زندگی کی استواری کی تعلیمات بھی سرورکائناتؐ کی تعلیمات میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔

معاشرے کی ترقی و استحکام کے لیے ایک ضروری امر یہ بھی ہے کہ اس کے افراد کی گھریلو زندگی پُرسکون، باسلیقہ او رمنظم ہو۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے آنحضرتؐ نے انسانوں کو منزلی زندگی کو پُرسکون اور منظم کرنے کے لیےبھرپور کوشش کی، اور ارشادات و تعلیمات خداوندی کے مطابق مرد و عورت مسائل پر نہ صرف روشنی ڈالی بلکہ ان انتہائی صالح و مفید اصولوں کے مطابق ایک معاشرہ قائم کرکے دکھا دیا جس میں عورت و مرد کا باہمی رشتہ، سکون، موّدت و رحمت کا رشتہ تھا جس میں عورت بحیثیت ماں، بہن، بیوی یا بیٹی ہر حیثیت میں قابل احترام تھی۔ جہاں والدین ، شفقت و رحمت کا نمونہ تھے اور اولاد ادب و فرمانبرداری کی تصویر، خود آنحضرتؐ کا طرز عمل یہ تھا۔''خیرکم خیرکم لأھله وأنا خیرکم لأھلي'' (تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے بہترین ہے اور میںتم سب سے اپنے اہل و عیال کے لیےبہترین ہوں)۔

اس عظیم اور آخری معلم انسانیتؐ نے انسان کو سیاست کے پاکیزہ اصول بھی دیئے اور اسے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تعلیم بھی دی، انسانوں کوافراط وتفریط سے بچا ہوا ایک متوازن نظام معیشت بھی دیا۔

تاریخ کا طالب علم اس حیرت انگیز تبدیلی سے جواس ہادئ برحق او رانسانیت کےمعلّم کی تعلیمات اور اسوۃ حسنۃ پر عمل کرنے سے آئی، پوری طرح سے آگاہ ہے۔ تاریخ کے اس عظیم انقلاب کی مثال پوری انسانی زندگی میں نہیں ملتی۔ وہ عظیم الشان تہذیب و تمدن جس کی نظیر لاتعداد موّرخین کے قول کے مطابق دنیا میں کہیں نہیں ملتی، اسی برگزیدہ ہستی او راس کےپیرووں نے قائم کیا تھا اور اسے عروج کی انتہائی بلندیوں پر پہنچایاتھا او رکم و بیش چھ سو سال تک سارے عالم کی تہذیبی، علمی و سائنسی قیادت فقط اور فقط مسلمانوں کے ہاتھوں میں رہی او رمشرق و مغرب ان کی تہذیبی و علمی ترقی سے منور ہوئے۔

معلّم انسانیت ؐ کا عالم انسانیت پر یہ وہ احسان ہے جسے وہ کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتی او رآج بھی فلاح انسانیت کا دارومدار اسی بابرکت ہستی کی تعلیمات و اسوہ حسنہ پر عمل کرنے میں ہے۔
حوالہ جات

بخاری، کتاب العلم

سنن ابی داؤد،کتاب العلم

ترمذی، کتاب العلم

ابن ماجہ، کتاب النکاح