بات صرف اتنی نہیں کہ جن رہنماؤں نے پاکستان کا تصور پیش کیا تھا انہوں نے ،

پاکستان کا مطلب کیا ....... لا َ إِلٰهَ إِلاَ الله

کا نعرہ بھی قوم کو سنا دیا تھا، اس لیے اب ان کوچاہیے کہ وہ اس کی پابندی بھی کریں گویا کہ اس کے معنے یہ ہوئے کہ اگر وہ یہ نعرہ نہ دیتے تو ہم عنداللہ بری الذّمہ ہوتے، حالانکہ یہ بات اصولاً بالکل غلط ہے۔کیونکہ ایک مسلم کی حیثیت سے ہم اسلام کے سوا او رکسی نطام کے بارے میں سوچنے کے مجاز بھی نہیں ہیں۔الا یہ کہ ہم (خاکم بدہن) خدا اور اس کے رسولﷺ کا کلمہ بھی پڑھنا چھوڑ دیں۔

إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَنْ يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا (پ18۔ النور ع7)

''مسلمانوں (کی شان تو یہ ہے کہ ان) کو جب خدا اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے کہ وہان میں (ان کے باہمی معاملات میں) فیصلہ کریں تو بس (وہ دو ٹوک بات) کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے (طلبی کا حکم) سنا اور (خدا رسول کا) حکم مانا۔''

کلمہ پڑھ کرخدا او راس کے رسولﷺ کی اطاعت سے گریز کرنا مسلمانی نہیں ہے۔

وَيَقُولُونَ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالرَّسُولِ وَأَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِنْهُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَمَا أُولَئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ (النور ع11)

''اور (دوسرے لوگ) کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور (نیز) رسول پرایمان لے آئے او ران کی اطاعت قبول کرلی۔پھر اس کے بعد ان میں کا ایک طبقہ روگردانی کرلیتا ہے (صحیح یہ ہے کہ) وہ (سرے سے )مسلمان (ہی) نہیں ہیں۔''

ہاں ایسے معاملہ میں وہ ضرور اطاعت کرتے اور بات بھی مانتے ہیں جس میں ان کا اپنا مفاد ہوتا ہے۔

وَإِنْ يَكُنْ لَهُمُ الْحَقُّ يَأْتُوا إِلَيْهِ مُذْعِنِينَ (النور ع6)

اور (ہاں)اگر حق بجانب ان کے ہو تو (پھر بے تامل) کان دبائے رسول کی طرف (دوڑے) چلے آتے ہیں۔''

ظاہر ہے کہ یہ رنگ اطاعت او رمسلمانی کا رنگ نہیں ہے، بلکہ کاروباری رنگ ہے حالانکہ بات ایمان کی ہے، کاروباری نہیں ہے اس لیے اب یہ بحث کہ پاکستان کے بانی جناب محمد علی جناح مرحوم نے پاکستان کے حصول کے لیے جو کوشش کی تھی، کیوں کی تھی؟ یہاں سوشلزم کی بنیاد پر مزدوروں کا بت نصب کرنا چاہتے تھے یااسے سرمایہ داروں کی منڈی بنانا چاہتے تھے، ان کے سامنے صرف بت پرست قوم سے مسلمانوں کونجات دلانا تھا یا صرف قوم یہود کی طرح اپنے کھوئے ہوئے وطن کی بازیابی کے لیے کوئی دوڑ دھوپ تھی؟ ہم کہتے ہیں کہ کچھ بھی تھا، ہمیں اس سے سروکار نہیں ہے ہمیں تو یہ دیکھنا ہے کہ ہم کیا ہیں ، کہاں کھڑے ہیں اور اصولاً ہمیں کیا کرنا ہے؟ ظاہر ہے کہ ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ اگر یہ دعویٰ سچا ہے تو حکم ہوتا ہے تو پھر اس کا ثبوت بھی لائیے او رجنہوں نے کلمہ پڑھ کر اس کا حق ادا کیاتھا ۔ ان کی مثالیں تمہارے سامنے ہیں آپ بھی اگر سچے ہیں تو انہی راہوں پرچل کر ہدایت کی مشعلیں روشن کریں۔

فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا(پ1 ع16)

''تو (اے صحابہ) اگر تمہاری طرح یہ لوگ بھی ان ہی چیزوں پرایمان لے آئیں جن پر تم ایمان لے آئے ہوتوبس وہ راہ راست پر آگئے۔''

فرمایا اگر یہ بات ، انہیں منظور نہیں ہے تو پھر فکر نہ کیجئے خدا ان سے خود نپٹ لے گا۔

وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ(ایضاً)

''اگر وہ انحراف کریں تو (سمجھ لو کہ) بس وہ (تمہاری)ضد پر ہیں تو (آپ تسلی رکھیں) ان (کے شر) سے خدا تمہارے لیے کافی ہے۔''

دوسری صورت یہ ہے کہ اب ہم غلام نہیں رہے ایک مملکت کے وارث ہوگئے ہیں۔ اس وقت ہماری جو ذمہ داریاں ہیں وہ اہم بھی ہیں اور ضروری بھی ۔

الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ(پ17، الحج ع6)

''یہ لوگ (شروع شروع کے مسلمان گو اب مظلوم ہیں تاہم) اگر (حاکم وقت بناکر) ہم زمین میں ان کے پاؤں جما دیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور سکوٰۃ دیں گے۔اچھے کام کے لیے کہیں گے او ربُرے کاموں سےمنع کریں گے۔''

یہ وہ قدرتی تقاضے ہیں جو بہ حالات موجودہ ہمیں پورے کرنے ہیں الا یہ کہ اب ''مسلم'' کہلانا چھوڑ دیں۔ورنہ مسلم کہلانا صرف کلمہ پڑھنانہیں، کلمہ پرجان چھڑکنے کانام ہے۔

چوں می گویم مسلمانم بلرزم ... کہ دانم مشکلات لا الہ را

یعنی ماسوی اللہ سے پلہ جھاڑ کر خدا کے حضور حاضر ہونے کو مسلم کہتے ہیں۔جو لوگ اغراض دربغل خدا کے حضور جھکتے ہیں وہ گویا کہ مشروط کلمہ پڑھتے ہیں اور خدا کےہاں سجدے بیچتے ہیں۔

سوداگری نہیں، یہ عبادت خدا کی ہے ..... اے بے خبر جزا کی تمنابھی چھوڑ دے

واعظ ثبوت لائے جو مے کے جواز میں..... اقبال کو یہ ضد ہے کہ پینا بھی چھوڑ دے

اگر آپ سمجھتے ہین کہ سچے مسلمان کے یہی خصائص ، حقوق اور فرائض ہیں تو پھر آپ کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان ہوسکتا ہے کہ احتساب پہلے یا انتخاب! واقعی اگر آپ ایک مسلم ہیں او رمسلم کی حیثیت سے اپنے لیےفرائض اور ذمہ داریوں کا احساس رکھتے ہیں تو آپ کو بالآخر یہی کہنا پڑےگا کہ:

احتساب پہلے ہو، بےلاگ ہو، اور فیصلہ کن ہو، کیونکہ وہ نظام حیات جو آپ کو متشکل اور غالب کرنا ہے اس کے لیے نتھو پھتو، ایرے غیرے اور غیر محتاط لوگ نہیں چاہیئیں۔ بلکہ یہاں ان لوگوں کی ضرورت ہے جو ملت کے مزاج کو سمجھتے ہیں جو ایک مسلم کی حیثیت سے اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کوجانتے ہیں جن کی زندگی ننگ دین ،ننگ قوم اور ننگ عمل کے الزام سے پاک ہے۔ جن کی آنکھوں میں خدا، رسول ، ایمان او رقوم کی شرم ہے جو ملک و ملت کے تقاضوں کو جانتے اور سیاسی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ وہی مبارکے لوگ ہماری ناؤ کے اصل کھیون ہار ہیں۔ظاہر ہے کہصحیح اور بےلاگ احتساب کے بغیر ایسے حضرات کا ملنا آسان نہیں ہے۔ جسے آپ جمہوریت کہتے ہیں اس نے تو ہرکہ مہ پر قیادت کے دروازےکھول دیئے ہیں، فرعون آجائے یا کوئی بے حیا احمق آجائے یا کوئی ملک دشمن! اس کی بلا سے۔ اس لیے ضروری ہے کہ:

ان لوگوں کو پہلے کھنگالا جائے جو اپنے آپ کو ''بے خبر عوام'' کے سامنے پیش کرکے ان کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہیں، جو عرصہ سے ملک و ملت کے نازک دوش پر بوجھ بنے آرہے ہیں۔ آج تک جن کی قیادت نے پاکستان کے بخیے ادھیڑے ہیں اور وہ اس کی پاک مٹی سے کھیلتے آرہے ہیں۔ کھنگالنے کامحرک ایک یہ امر بھی ہے کہ:

جن لوگوں کی جیب میں پیسے تو ہوتے ہیں مگر صلاحیتوں سے خالی ہوتی ہیں۔ وہ حقیقتاً منتخب نہیں ہوتے بلکہ ووٹوں کا کاروبار کرتے ہیں اور قیادت خرید کر اسمبلی میں آسکتے ہیں۔

کچھ وہ بھی ہوتے ہیں جو صرف بااثر لوگوں کے طفیلی ہوتے ہیں او ران کی معرفت لوگوں پر شبخون مارتے ہیں او ران کی جیبوں سے ووٹ اُچک لیتے ہیں۔اور کچھ شعبہ باز اور مداری ہوتے ہیں جو لوگوں کو باتوں کے گردان میں لاکر ان کے ووٹوں سے اپنی پٹاری بھر لیتے ہیں، بعض ایسے ہوتے ہیں جو خود تہی دامن ہوتے ہیں مگر اپنی خاندانی ساکھ کے بل بوتے پر لوگوں کے ووٹ ہتھیانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

ان میں اکثریت ان نام نہاد نمائندوں کی ہوتی ہے جو نمائندگی کے پیریڈ میں اپنے منصب سے ناجائز فائدہ اٹھاکر اپنے اثرورسوخ کی دکان لگاتے ہیں او راپنی ہر خدمت کے عوض دام کھرے کرتے ہیں اور نخرے بھی۔

ایوان نمائندگان میں داخل ہوتے ہی آپ یہ بھی محسوس کریں گے کہ یہاں ''بے سمجھ لوگوں'' کی بھیڑ لگی ہے جو نہیں جانتے ملک و ملت کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور ان سے عہدہ برآ ہونے کے لیے انہیں کیا کرنا ہے بس ہر ووٹنگ پر اونگھتے ہوئے ہاتھ کھڑا کردیتے ہیں۔ معاملہ کیا پیش ہوا اور اس کی مناسب حیثیت کیا ہے؟ ان کوکچھ پتہ نہیں ہوتا صرف اتنا کرتے ہیں کہ اپنے آس پاس دیکھ لیتے ہیں، کہ ان کی پارٹی کے آدمیوں کے ہاتھ کھڑے ہیں یانہیں۔ اللہ اللہ خیر سلاّ!

سیاسی سوجھ بوجھ کے علاوہ علم و ہوش، طہارت نفس اور کردار کی بلندی سے بھی اکثریت تہی دامن ہوتی ہے یقین کیجئے! ہمارے ہاں نمائندوں کی جوکیفیت ہوتی ہے وہ عموماً انتہائی مایوس کن ہوتی ہے۔ الا ماشاء اللہ۔

اس لیے ہم نہیں چاہتے کہ پھر وہی گھپلا ہو جو ا ب تک ہوتا آرہا ہے۔ اگر واقعی آپ بھی اس سے تعاون کرتے ہیں تو انتخاب سے پہلے احتساب کا رولر بہرحال چلے اور خوب چلے۔ جب خام دانے پس جائیں تو پھر پختہ کو سیاسی مارکیٹ میں لانے کے لیے انتخاب کرائیے، تاکہ ملک و ملت کو شایان شان قیادت کی دولت ہاتھ آئے۔

جو لوگ پہلے یا ساتھ ساتھ انتخاب کے خواہشمند ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں ، انتخاب ہونے کے بعد یہ صورت حال دیکھ کر وہ بالآخر ضرور پریشان ہوں گے کہ جن سے پرہیز چاہیے تھے وہ بھی آدھمکے ہیں۔ کیونکہ منتخب ہونے کے بعد وہ بلائے بے درماں بن جاتے ہیں۔ وہی استحصالی ہتھکنڈے ، وہی سیاسی شتر غمزے، وہی سیاسی عیاشی، وہی اقتدار کے جھولے، وہی لن ترانیاں، وہی دھونس، وہی دھاندلی الغرض ۔ع

''وہی ہے چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے''

جیسا سماں طاری ہوجاتا ہے چنانچہ اقتدار پرفائز پارٹی اپنی کرسی کے تحفظ کے لیے ایسے لوگوں کو راہ پر لانے کے بجائے ان کی دلجوئی کے لیے سوچنے پرمجبور ہوتی ہے۔ اس سےبہتر ہے کہ اندر داخل ہونے سے پہلے ہی ان کو ایوان سے باہر روکنے کی کوشش کی جائے۔ع ''خس کم جہاں پاک''

ہاں! گو احتساب ضروری ہے لیکن مخمصہ سے نکلنے کے لیے تنہا اسے بھی ہم کافی نہیں سمجھتے۔کیونکہ وہ نہ سہی۔ ان کے اور بھائی بہت ہیں کیا ان سے خلاصی پانے کے لیے ہر اگلے الیکشن کے بعد پھر ان کی چیکنگ اور احتساب کا چکر چلایا جایاکرے گا۔پھر تو اس کے یہ معنے ہوئے کہ قوم تو پھر انہی چکروں میں ہی پڑی رہے گی۔ ہمارے نزدیک اس کا صحیح حل یہ ہے کہ:

(1) احتساب کا دائرہ اور وسیع کیا جائے۔ یعنی یہ بھی دیکھا جائے کہ گذشتہ اسمبلیوں میں کس نے کیا قابل ذکر قوم کی رہنمائی کی ہے اور کس نے اپنی نمائندگی کے پیریڈ میں اپنے علاقہ کا معیار بلندکیاہے۔جرائم میں کتنی کمی ہوئی، مظالم کی کس قدر تلافی کی گئی۔ سماج دشمن عناصر کا زور کتناٹوٹا۔ تعلیم کا معیار کتنا اونچاہوا۔ انتظامیہ کس قدر سیدھی رہی۔ امن و انصاف کا چلن کتنا عام ہوا۔بےروزگاری، بیماری او رکساد بازاری پر قابو پانے کے لیے انہوں نے اپنے اپنے علاقہ میں کیا کیا کوششیں کیں؟ اگر اس باب میں وہ صرف رہے یا برائے نام اس کی کہیں کوئی دھندلی سی صورت نظر آئی تو اس ''عضو معطل'' کو کاٹ کر پھنکوایا جائے۔ ایسے کند ذہن، جوں ہمت او ربیکار نمائندے سے قوم کونجات دلا کر کسی اہل تر شخصیت او رجوہر قابل کے لیے سیٹ کوخالی کرالیاجائے۔ ورنہ یقین کیجئے! یہ متداول احتساب ،آخری احتساب ثابت نہیں ہوگا۔

(2) دوسرا یہ کہ امیدوار نمائندگی کے لیے پہلے سے کچھ شرائط او مناسب فارمولے تیار کرلیئے جائیں جو ان کو پورا نہ کرسکے، اس کو انتخاب لڑنے کا نااہل قرار دیاجائے۔مثلاً یہ کہ :

(1) اسےنیک شہرت حاصل ہو (2) نماز، روزہ،زکوٰۃ کا پابند ہو (3) غریب پرور ہو (4) اہل علم ہو (5) سیاسی سوجھ بوجھ کے لحاظ سے ان کی خدمات معروف ہوں۔

(3) تیسرا یہ کہ وزیراعظم اور صدر کے لیے ضروری ہو کہ وہ پچپن سال سےزیادہ عمر کامالک ہو۔باعمل اور کتاب و سنت سے باخبر ہو۔

(4) چوتھا یہ کہ اگر نمائندگی کے پیریڈ میں ان سے ایسی حرکت سرزد ہو جس سے نمائندگی کی برکات کی نفی ہوتی ہو تو ثبوت کے بعد ان کے انتخاب کوکالعدم کیاجاسکے۔

(5) پانچواں یہ کہ انتخاب لڑنا آسان اور سستا کردیاجائے تاکہ جو ''جوہر قابل'' اپنی مالی کم مائیگی کی بناء پر آگے نہیں آسکتے،وہ پس پردہ نہ چلے جائیں۔

(6) انتخاب سے غرض یہ ہوتی ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ اسے اپنے علاقہ میں اپنی نیک شہرت اور خدمات کی بناء پر قبول عام کتنا حاصل ہے۔ اگر اس کے لیے آپ امیدوار کو ہر طرح کے جھوٹے سچے چکر چلانے کی اجازت دیں گے تو ''قدرتی انتخاب'' حاصل نہیں ہوسکے گا جو جتنا جواری ہوگا۔ اتنا وہ کامیاب ہوگا۔ اس لیےفضا کو ''قدرتی حالات'' کےحوالے کرکے دیکھ لیاجائے کہ کسے عوام نے خوش دلی سے قبول کیا ہے۔

ہاں امیدوار کوصرف اتنی اجازت ہو کہ وہ ایک اشتہار کے ذریعے اپنی تعلیم، اپنے منشور کی موٹی موٹی باتوں ، خدمات اور تجربے سے اپنے علاقہ کے عوام کومطلع کرسکے اس سےزیادہ کسی دوڑ دھوپ کی کسی کواجازت نہ ہو۔ ورنہ لوگ فریب کھا جائیں گے او راصل مقصد فوت ہوجائے گا۔ اگر خلفاء راشدین کے طریقے انتخاب کو حرزجان بنالیا جائے تو پھر وہ او رہی شارٹ کٹ ثابت ہوگا اور قدرتی بھی ، انشاء اللہ۔

ہمارے نزدیک انتخاب کا صحیح طریقہ وہی ہے جو ہم پہلے سابقہ پرچوں میں بیان کرچکے ہیں۔ اب کے جو ہم نے بیان کیا ہے۔ وہ صرف گذارے سے والی بات ہے۔ نمائندگان کے لیے ''ایمان او رعمل صالح'' کی قیدلگا دی گئی تو ہوسکتا ہے کہ اس بہانہ سے یہ لوگ نیک بن جائیں ۔ کیاعجب کہ قرآن چرانے والا چور سچ مچ حامل قرآن ہی بن جائے۔ بہرحال جو شخص اس کوآزمائے گا اسے ثواب ضرور ہوگا۔

۔۔۔۔::::::۔۔۔۔۔

ایک سوال

سوال: قرآن مجید میں ہے: ،

يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ(سورۃ مریم:5) اور

علاوہ ازیں اس میں اتلاف مال ہے حالانکہ خداوند قدوس نےمال ضائع کرنے

علاوہ ازیں اس میں اتلاف مال ہے حالانکہ خداوند قدوس نےمال