فتاویٰ علمائے حدیث جلد پنجم و ششم : مولانا ابوالحسنات علی محمد سعیدی صاحب

صفحات : جلد پنجم (456) جلدششم (476)

قیمت : جلد پنجم 35 روپے، جلد ششم 35روپے

: کل قیمت 70 روپے

پتہ : مکتبہ سعیدیہ۔خانیوال ضلع ملتان

پیش آمدہ مسائل کےسلسلے میں لوگوں کو استفسار کی ضرورت پڑتی رہتی ہے۔ اس لیے جب وہ علماء کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ بھی ان کو مناسب جواب ضرور دیتے رہتے ہیں کچھ استفتاء اور فتوے زبانی کلامی ہوتے ہیں، وہ تحریر میں عموماً کم آتے ہیں اور جو تحریری ہوتے ہیں وہ کافی حد تک محفوظ ہوجاتے ہیں اور یہ سلسلہ رحمۃ للعالمین ﷺ سے لے کر اب تک جاری ہے او رابد تک جاری رہے گا۔ کاش اہل قلم فضلاء ایک ایسی دائرۃ المعارف (انسائیکلو پیڈیا) بھی مرتب کرپاتے جو پیغمبر خداﷺ سے لے کر اب تک جاری کردہ فتوؤں اور مفتیوں کے تعارف پر مشتمل ہوتی۔ ہمیں یقین ہے کہ دنیامیں اب تک جتنی بڑی دائرۃ المعارفین مرتب کی گئی ہے، یہ ان سےکچھ کم نہ ہوتی اور یہ ایک علمی اور تاریخی سرمایہ ہوتا جس سے آنے والی نسلیں استفادہ کرتی رہتیں۔ علمائے اسلام کے استنباط ، اجتہادی صلاحیتوں او رفکری تخلیقات میں جو بوقلموں تنوع ہے، ان کے مطالعہ سے قلب و نگاہ میں بے پناہ وسعت پیدا ہوتی او رہماری ملی روایات او رعلمائے کرام کے فضل و کمال کی عظمت پر روشنی پڑتی ۔

زیرتبصرہ کتاب''فتاویٰ علمائے حدیث'' اسی سلسلہ کی ایک چھوٹی سی کڑی ہے۔ یعنی پاک و ہند کے صرف علمائے حدیث کے فتوؤں کی چھوٹی سی انسائیکلو پیڈیا، گو اس پر اس سلسلے کی حد تک بھی یہ کتاب پوری طرح محیط نہیں ہے، تاہم اس طرف ایک قدم ضرور ہے۔اگر موصوف چاہیں تو اپنے ناسازگار حالات کے باوجود اس کسر اور کمی کو بھی پورا کرسکتےہیں۔بشرطیکہ پاک و ہند کی جماعت اہل حدیث کے علماء مولانا موصوف سے تعاون کریں اور خود علامہ سعیدی صاحب تفحص اور تجسس کے دائرہ کو زیادہ وسیع کرنے کی کوشش کریں۔

جماعت اہل حدیث اس امر کی مدعی ہے کہ دین میں آراء الرجال دین نہیں ہیں، بلکہ ایک ایسا مردار ہیں جو اضطرار کے بغیر دینی دستر خوان پر لاناجائز نہیں ہے۔ اس لیے کتاب سنت کے شواہد کا التزام ضروری ہوتا ہے ۔مگر ہم نے محسوس کیا ہے کہ بعض فتوے ایسے بھی ہیں جو صرف ''آراء'' کے آئینہ دار ہیں، وہاں کتاب و سنت سے کوئی شاہد بیان نہیں کیا گیا۔ اگر حاشیہ میں اختصار سے اس کی نشاندہی بھی کردی جائے تو کیا ہی اچھا ہو۔

جلد پنجم ''کتاب الجنائز '' اور جلد ششم ''کتاب الصیام'' پر مشتمل ہے اور اس سلسلے کے جتنے فتوے موصوف کو ہاتھ لگ سکے ہیں یا جن کومناسب سمجھا ہے، ان میں جمع کردیا ہے۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ موصوف کو ہاتھ لگ سکے ہیں یا جن کومناسب سمجھا ہے ، ان میں جمع کردیا ہے ۔ یوںمعلوم ہوتا ہے کہ موصوف کے سامنے وہ تمام کتابچے او رجرائد نہیں ہوتے جن میں وہ چھپتے ہیں یا چھپ چکے ہیں۔ یہ شکل گزارہ کی ہے محققانہ سروے کی نہیں ہے۔ اس کےعلاوہ چاہیے کہ معروف درسگاہوں سے رابطہ قائم رکھیں، وقتاً فوقتاً ان سے جو فتوے جاری کیے جاتے ہیں وہ بھی حاصل کرلیاکریں۔ یہ کام روز روز نہیں ہوتے، خدا جانے پھر اس طرف کوئی توجہ دے یا نہدے۔ اس لیے تاوقت تحریر اور تسوید جو فتاوے شائع ہورہے ہیں وہ رہ نہ جائیں۔ اپنی حد تک جوجامعیت ملحوظ ہےاس کا تو اتمام ہوتا رہے۔

علامہ سعیدی مدظلہ العالیٰ نے جوبیڑا اٹھایا ہے ، ایک عظیم جہاد ہے اورتنہا فرد کی حیثیت سے جن ناسازگار حالات میں وہ اس شمع کو جلانے کا اہتمام کررہے ہیں وہ کرامت سے کم نہیں ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ موصوف کو اس کا اجر جزیل عنایت فرمائے او رجو مقصد لے کر اٹھے ہیں، اس میں ان کو کامیاب فرمائے۔ آمین

۔۔۔::::::۔۔۔۔۔

(2)

1۔ حکایات عزیمت : جناب بدر عالم

صفحات : 96

قیمت : 60؍3 روپے

2۔ حضرت مجد الف ثانی کے سیاسی مکتوبات : جناب آباد شاہ پوری

صفحات : 224

قیمت : 9 روپے

3۔ قانون الہٰی یا انسانی : اصل حضرت عبدالقادر عودہ شہید، ترجمہ جناب محمد حنیف ایم۔ اے

صفحات : 96

قیمت : ؟

تینوں کا پتہ : مکتبہ چراغ اسلام۔ 40 ۔بی، اُردو بازار لاہور

یہ تینوں کتابیں، ''مکتبہ چراغ اسلام ''کی شائع کردہ ہیں، اس مکتبہ کے مالک حضرت مولانا محمد چراغ گوجرانوالہ کے صاحبزادے ہیں، اہل علم ہیں، پر اب کاروبار پر مائل ہیں۔ہاں کاروبار بھی ''ہم خرما ہم ثواب'' کا آئینہ دار ہے۔ ایں ہم غنیمت است۔

پہلی کتاب ''حکایات عزیمت'' میں ان تاریخی واقعات کابیان ہے جو ''کلمۃ حق عند سلطان جائر'' کے مصداق ہیں اور خوب ہیں، ان کو پڑھنے کےبعد دل پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔

دوسری کتاب ''حضرت مجدد الف ثانی کے سیاسی مکتوبات'' نامور اہل علم، دریش ادیب ، بندہ مومن او رہمارے دیرینہ دوست آباد شاہ پوری کی مرتب کردہ ہے۔مضمون نام سے ظاہر ہے، اس میں ان مبارک اور بصیرت افروز مکاتیب کےعلاوہ حضرت مجدد الف ثانی اور دوسری ان عظیم شخصیات کا تعارف بھی دے دیا گیا ہے جن کاکتاب میں ذکر آگیا ہے ۔ یہ کتاب ان حضرات میں تو بالخصوص تقسیم کی جانی چاہیے جو کسی بھی درجہ میں اقتدار اور حکومت سے وابستہ ہیں۔ شاید اس سے ان کی آنکھیں کھل جائیں اور انہیں اپنی ذمہ داریوں اور خوف آخرت کا احساس ہوجائے اور ایک علم کی حیثیت سے ہم سب کے پڑھنے کی بھی چیز ہے تاکہ یہ بات سمجھ میں آجائے کہ ایک مسلم شہری کی حیثیت میں آپ کا کردار کیسا ہونا چاہیے، آنکھیں بند کرکے حکمرانوں کے پیچھے پیچھے دم ہلاتے جانا یااحقاق حق کے لیے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا؟

تیسری کتاب ''قانون الہٰی یا انسانی'' مصر کی عدلیہ کے عظیم قانون دان اور اخوان المسلمون کے بیباک رہنما اور زعیم کی عربی کتاب ''الاسلام بین جہل انباء ہ عجز علماءہ'' کا سلیس اور رواں ترجمہ ہے۔جسے جناب محمد حنیف صاحب ایم۔ اے نے اُردو میں منتقل کیا ہے۔ حنیف صاحب پہلے بھی اس سلسلے کی اور کئی ایک کتابوں اور رسالوں کا کامیاب ترجمہ کرچکے ہیں۔

اس کتاب میں یہ دکھایا گیا ہےکہ نوع انسان کےدکھوں کی دوا، انسان کےخانہ زاد دساتیر اور قوانین ہیں یا کتاب و سنت؟ اس میں اسلام اور سیاست ، شریعت او رجدید تقاضوں پرکھل کر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اسلام اور عالمی قانون کےتقابلی مطالعہ کے ذریعے اسلام کی ہمہ گیری اور اس کی فطری سادگی کو واضح کیا گیا ہے۔اس کتاب کامطالعہ ہر اس فرد کے لیےضروری ہے جوعصر حاصر کے جدید تقاضوں کو تو محسوس کرتاہے لیکن اسلام ان کے سلسلے میں جو رہنمائی مہیا کرتا ہے اس سےبےخبری کی بنا پر وہ پریشان ہوہوجاتا ہے۔ مکتبہ چراغ راہ نےجو سلسلہ شروع کیا ہے، مفید ہے اور اس کی ضرورت ہے۔ خدا اس کو اس کی مزید توفیق دے۔

۔۔۔۔:::::۔۔۔۔۔

(3)

اسلام میں ضابطہ تجارت : مولاناعبدالرحمٰن کیلانی

صفحات : 148

قیمت : 5 روپے

پتہ : مکتبہ السلام، وسن پورہ، لاہور

لین دین دین او رکاروبار جس طرح انسان کی بنیادی ضرورت ہے اسی طرح اس سے اس کی دنیوی زندگی اور اخروی حیات بھی متاثر ہوتی اور رنگ پکڑتی ہے۔ اچھے سے اچھی اور بُرے لین دین سے بُری۔اسلام نے اس سلسلے میں ایک معقول،جامع اور فطری نظام پیش کیا ہے، اگر کوئی شخص اس کوسمجھ لے او رپھر وہ اپنی دنیا اور آخرت کی عافیتوں کی خیر منانے کی فکر کرے تو اس راہ میں اسے کوئی دشواری پیش نہیں آسکتی۔ جسے آپ آج لین دین کہتے ہیں۔ اگر اسے اسلامی نظام کاروبار میں رہ کر انجام دیاجائے تو یہی کاروبار عبادت بھی بن جاتا ہے یعنی ہم خرما ہم ثواب والی بات بن جاتی ہے۔

لوگوں نے اسلامی نظام تجارت کو گھاٹے اور دقیانوسی کاروبار کی ایک بے ذوق شکل تصور کرلیا ہے، حالانکہ اس کو اپنانے کے بعد انسان کو دنیوی، اخلاقی اور اخروی اعتبار سے سرفرازی، طمانیت او رطہارت کی جو بیکراں دولت ہاتھ آجاتی ہے اس کا اندازہ وہ بحالات موجودہ ہرگز نہیں کرسکتا۔

ذوق ایں بادہ ندانی بخدا تاپخشی

اسلام کا نظام تجارت یہ نہیں کہتا کہ تم خود کچھ نہ کماؤ بلکہ اس کااس امر پر اصرار ہے کہ اپنے نفع کے ساتھ گاہک یادکاندار کی جائز منفعت کا بھی احساس کیاجائے۔ معاملہ میں عالی ظرفی، شرافت ، پاکیزگی، سچائی اور دیانتداری جیسی اقدار کو بھی ضرور ملحوط رکھا جائے۔ اگر اس کا نام بے ذوقی ہے تو پھر چشم ماروشن دل ماشاد!

زیر تبصرہ کتاب اسی پس منظر کے تحت تالیف کی گئی ہے او راس سلسلے کی آیات اور احادیث کو سلیقہ سے مرتب کرکے پیش کیاجارہا ہے ، تاکہ جو صاحب، اسلام کےمطابق کمانا او رکھاناچاہتے ہیں وہ اس سے استفادہ کرسکیں۔ مؤلف موصوف نے اپنے ناساز گار حالات کے باوجود اس سلسلے میں جو محنت کی ہے، اس کی ان کو داد نہ دینا حد درجہ کی بے انصافی ہے۔ خود غرضی او رایثار کے مظاہر پاک کاروبار،کسب حلال اور کسب حرام، جائز او رناجائز آمدنی کے ذرائع، سو د، بیمہ،انعامی بانڈ ، ذخیرہ اندوزی، اقسام تجارت، ماپ تول کے پیمانے ، قرض، رہن، دیوالیہ، عاریت، امانت، ضمانت، اموال تجارت اور زکوٰۃ جیسےدقیق مباحث کو نہایت عام فہم زبان میں پیش کرکے موصوف نے ملک و ملت اور دین کی بڑی خدمت انجام دی ہے۔ اس کتاب کا ہرگھر میں ہونا ضروری ہے۔ ہوسکتا ہے کہ قرآن و حدیث کی ان مشعلوں سے آپ کے قلب و نگاہ اور دنیا و آخرت کے گھروندے بھی روشن ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ مؤلف موصوف کو جزائے خیردے۔ آمین

اپنے موضوعات او رمباحث کے اعتبار سے کتاب کانام ''بیوع کے متعلق کتاب و سنت کی چند اہم تعلیمات ''انسب تھا۔

۔۔۔۔۔::::::۔۔۔۔۔

(4)

فلسفہ نماز : مولاناقاری محمد طیب دیوبندی مدظلہ العالی

صفحات : 160

قیمت : 50؍4 روپے

پتہ : ادارہ اسلامیات، 190۔ انارکلی لاہور

قاری صاحب موصوف کی یہ ایک تقریر ہے جوخیرالمدارس (ملتان) کے سالانہ جلسہ میں کی گئی تھی۔مولانا قاری محمد طیب صاحب متکلم طرز کے اہل علم ہیں جو بات کرنے اور اسے دل میں اتارنے کا خاص سلیقہ رکھتے ہیں، نماز جیسے خشک موضوع کو اپنے خصوصی رنگ میں بیان کرکےموصوف نے نماز کو''متاع عزیز'' بنا دیاہے۔

مسائل کے سلسلے میں ان کا پس منظر، حکمت اور فلسفہ پیش کرنا ان لوگوں کے لیے تو بالخصوص مفید ہوتا ہے جو ان حکمتوں کو سمجھنے کے لیے بے چین ہیں، اگر ان کی یہ کسر او رکمی پوری کردی جائے تو وہ ان مسائل کے حامل بن جائیں۔ لیکن ہم نے جومشاہدہ کیا ہے ، وہ یہ ہے کہ اسلامی نوامیس کےسلسلے میں جوکوتاہی کارفرما ہے، اس کے محرک یہ اندھیرے نہیں ہیں بلکہ خدا سے بے تعلقی اور بےعملی ہے، نفس و طاغوت کی ڈی ہوی دنیا ''شتر بے مہار'' کے طرز پر جینے پرجان چھڑک رہی ہے، اس کی دو ا نفوس قدسیہ کی صحبتیں، اسلامی حکومت کے پہرے، منزہ فضائیں اور صالح قیادت ہے۔ اس کے بغیر صرف ایک فلسفی کی حیثیت سے ایسی نماز کا احیاء جس سے پاک نمازی پیدا ہوں مشکل ہے، ویسے بھی اسلام کے ہر حکم کے لیے ایک فلسفہ کی دریافت اس قلب و نگاہ کو بالکل کاروباری بنا دے گا۔ جن کوصرف خدا جوئی اور خدایابی کے جذبہ کی سرشاری کا نشیمن ہونا چاہیے تھا۔ گو ہم سب اس مرض میں مبتلا ہیں کہدنیا کو یہ بات ذہن نشین کرانے پر مصر ہیں کہ اس سے فلاں فلاں دنیوی فائدے برآمدہوں گے ، جب وہ انہی فوائد کو کسی اور طریقے سے آزادانہ طور پر حاصل کرسکتا ہے تو اسے نماز و روزہ کی قیود و رسوم کی سر دردی اختیار کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہونے لگے گی۔ بھئی! اصل ضرورت ، اسلام کی ہے یعنی تسلیم و رضا کی راہ پر ڈالنے کی، عقل و خرد سے ہٹ کر جاں سپاری کی کائنات سب سے نرالی کائنات ہے، دنیا کو اس کا خوگر بناکر دیکھیے! شاید ہمارے حال پر اللہ میاں کی طرف سے نگاہ کرم ہوجائے، باقی رہی عقل عیار کی بے چینی؟ وہ جہاں بھی پہنچیں گے، وہاں ہی ایک نیا سوال پیدا کردے گی، عقل عیار ہے، سو بھیس بدل لیتی ہے۔ اس کو بہلانا آسان نہیں ہے۔

سوداگری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے ... اے بے خبر جزا کی تمنابھی چھوڑ دے

اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل ... لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

اصل علاج ''مشاہدہ'' ہے۔ نماز کو مسنون نماز پڑھے بغیر وہ طمانیت حاصل نہیں ہوسکتی جو فلسفہ کی کوکھ سے نکال کر اسے پیش کی جارہی ہے، اگر نمازی، چلتی پھرتی نماز بن جائے تو اسے پتہ چل سکے گا کہ مومن کی معراج کیوں کہاگیا ہے۔ یہاں پہنچ کرآپ سو آوازیں دیں گے تو وہ پھر پلٹ کربھی نہ دیکھے گا، باقی رہی فلسفہ کی زبان؟ اگر اس سے بھی کوئی زیادہ زبان آور اگیا تو پچھلا کیا کرایا ضائع ہوجائے گا۔غرض یہ ہے کہ اسے سمجھائیے ! مگر زبان سے زیادہ عمل کی کرامات ہے۔ بہرحال کتاب کا انداز حکیمانہ او رحد درجہ دلآویز ہے۔