Mohaddis-66-Feb-1978

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

آج کا نوجوان کئی فضول اور بیہودہ عادات کا عادی ہے۔ ان میں سے ایک عادت تمباکو نوشی بھی ہے۔ اس کے متعلق ڈاکٹروں او ریونانی حکماف نے متفقہ طور پر فیصلہ دیا ہے کہ یہ صحت انسانی کے لیے تباہ کن او رمہلک ہے۔ اس کے پینے سے انسان کے جسم میں نہ تو خون کی نشوونما میں مدد ملتی ہے اور نہ ہی اس سے گوشت پوست کا کچھ بھلا ہوتا ہے بلکہ اس سے نظام اعصاب شدید متاثر ہوتے ہیں جس کے بعد اعصابی قویٰ نحیف و نزار ہوجاتے ہیں اور ایک بیس سالہ نوجوان اپنی اعصابی کمزوریوں کے باعث ایک سن رسیدہ اور معمر انسان کی طرح کام کام سے کنی کتراتا او رآرام کا طالب ہوتا ہے۔ کبھی قوت حافظہ کی کمزوری کی شکایت کرتا ہے، کبھی اعضا شکنی محسوس کرتا ہے۔پھر علاج کو اُٹھ دوڑتا ہے ، کبھی درد سر رفع کرنے کے لیے ایسپرین استعمال کرتا ہے او رکبھی چائے کا استعمال ضروری سمجھتا ہے مگر اصل مرض سے ناآشنا رہتا ہے۔ وہ ڈاکٹروں او رحکیموں کی طرف رجوع کرتاہے مگر پرنالہ وہیں رہتا ہے کیونکہ مرض کاجو اصل سبب ہے وہ بدستور جاری رہتا ہے یعنی تمباکو نوشی۔

ویسے تو یہ جسم کے کسی حصہ کو بھی فائدہ مند نہیں ہے لیکن پھیپھڑے کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔ اس کے کثرت سے پھیپھڑے میں ایک پھوڑا جنم لیتا ہے جسے سرطان الرئیہ کہتے ہیں۔برطانیہ میں 1957ء میں ایک طبی بورڈ بنایا گیا تھا جس کا مقصد اس کی مضرات پر ریسرچ کرنا تھا۔ چنانچہ اس نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ کثرت اموات کی واحد وجہ پھیپھڑے کا سرطان ہے جوتمباکو نوشی سے جنم لیتا ہے۔ نیز انہوں نے بتایا کہ 1962ء میں ایک سال میں 23 ہزار انسان پھیپھڑے کے سرطان کی وجہ سے لقمہ اجل ہوئے۔سگریٹ نوشی اور تمباکو نوشی کے متعلق ماہرین صحت نے فیصلہ دیا ہے کہ یہ انسانی صحت کے لیے نہایت مضر ہے اور اس سے سرطان کامرض پیدا ہوسکتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد امریکہ، یورپ اور ہندوستان میں یہ قانون بن گیا ہے کہ سگریٹ کے ہرپیکٹ پر لازماً یہ لکھا جائے کہ''سگریٹ نوشی آپ کی صحت کے لیے مضر ہے'' ہمارے ملک کے ارباب بست و کشاد کو خصوصاً امور مملکت کے سربراہ کو بھی عنان توجہ اس طرف منعطف کرنی چاہیے اورمذکورہ بالا غیر مسلم ممالک کے اس فیصلہ کی تقلید کرنی چاہیے بلکہ ان سے بھی آگے بڑھ کر ایک ایسا قانون نافذ کریں جس کی رُو سے کم از کم بیس سال کی عمر تک سگریٹ نوشی کی قطعی ممانعت ہو۔ علاوہ ازیں اس میں اتلاف مال ہے حالانکہ خداوند قدوس نےمال ضائع کرنے اور اس میں اسراف و تبذیر سے سختی سےمنع کیا ہے۔چنانچہ ایک مقام پر فرمایا ولا تبذر تبذیرا (بنی اسرائیل)

دوسرے مقام پر فرمایا:وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ(الاعراف)''کھاؤ او رپیئو لیکن فضول خرچی مت کرو کیونکہ وہ فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔''

سرور کائناتﷺ نے بھی مال ضائع کرنے سے روکا ہے ۔ آپ ہی بتایے کہ اپنے مال کو خود اپنے ہاتھ سے آگ لگا کر جلانا اس سے بڑا ضیاع اور کیا ہوسکتا ہے؟ کیادانشوروں اور خرد مندوں کو زیب دیتا ہے کہ اپنےمال کو اپنے ہاتھ سے جلاکر خاکستر کریں۔

اس کی بُو نہایت کریہہ ہوتی ہے، تمباکو نوشی کے پاس دوسرا آدمی نہیں بیٹھ سکتا کیونکہ اس کے دھوئیں سے اس کا سر چکرانے لگتا ہے ، جی متلاتا ہے اور بسا اوقات کھانسی آنے لگتی ہے۔مگرنہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سگریٹ نوش اپنے پاس بیٹھے ہوئے ساتھیوں کاقطعاً لحاظ نہیں کرتا بلکہ موٹر ، ٹانگہ اور ریل گاڑی میں بیٹھ کر سب سے پہلا کام سگریٹ نوشی کرتا ہے اور ساتھ والے مسافروں کی اذیت کا باعث بنتا ہے۔ راقم الحروف کے ساتھ کئی مرتبہ ایسے واقعات پیش آچکے ہیں۔ بالآخر تنگ آکر اسے سگریٹ بجھانے کی استدعا پر مجبور ہونا پڑا۔

بودار چیز سے آنحضرتﷺ کو سخت نفرت تھی۔ آقائے نامدار حضرت محمد ﷺ نے کچا پیاز او رلہسن کھا کر مسجد میں آنے سے منع فرمایا کیونکہ ان کے کھانے سےمنہ سے بُو آتی ہے۔ پاکیزہ اشیاء کا یہ حال کہ بُو کی وجہ سے انہیں کھاکر مسجد میں آنے کی اجازت نہیں تو ایسی شے جو ماکولات اور مشروبات کے زمرہ میں سے نہیں بلکہ ایک زہریلی او ربدبودار بوٹی ہے جسے حیوان بھی کھانا پسند نہیں کرتے اسے کھانے پینے کی اجازت کب ہوسکتی ہے؟

بعض لوگوں کا اس معاملہ میں نقطہ نظر یہ ہے کہ تمباکو ان اشیاء میں سے ہے جن کے متعلق آنحضرتﷺ نے سکوت فرمایا۔حالانکہ یہ ان کی خام خیالی ہے کیونکہ اس کا استعمال آپؐ کے عہد مبارک میں نہیں تھا بلکہ ایک ہزار سال بعد ہوا۔ ان لوگوں نے اتباع ہویٰ کے جال میں پھنسنے کی وجہ سے اس میں جواز پیداکرنے کے لیے ادھر اُدھر کی بے تکی باتیں کی ہیں او رسند جواز پیش کرنے کی ناکام دوڑ دھوپ کی ہے جو صرف تکلفات پر مبنی ہے، بہرحال یہاں پر چند مستند علماء کے فتاوے پیش کرنا مقصود ہے جواہل بصیرت او رحقیقت کے متلاشیوں کے لیے کافی ہیں۔ لہٰذا یہ فتاوے جو ایک ہفت روزہ عربی رسالہ '' الدعوۃ'' سے منقول ہیں، پیش خدمت ہیں۔ یہ رسالہ ریاض میں شائع ہوتا ہے۔ یہ شمارہ نمبر 602 بابت ماہ جمادی الثانی 1397ھ ہے۔

1۔ فضیلۃ الشیخ محمدبن ابراہیم سعودی حکومت کے سابق مفتی کا فتویٰ

مجھ سے تمباکو کے متعلق سوال کیا گیا کہ جاہل اور کوتاہ اندیش اس پر فریفتہ ہیں او رکثرت سے استعمال کرتے ہیں اس کی حلت و حرمت کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟

الجواب:

ہمارےنزدیک، ہمارے مشائخ، ہمارے مشائخ کے مشائخ او ران کےمشائخ کے نزدیک اور تمام محققین علماء کے نزدیک جو عام شہروں میں سکونت پذیر ہیں اس کا استعمال شرباً و اکلاً حرام ہے۔ یہ حرمت کافتویٰ علماء نے اس وقت صادر کیا تھا۔ جب کہ 1010ھ کے لگ بھگ یہ بوٹی معرض وجود میں آئی تھی۔ یہ فتویٰ اصول شریعت اور حفظان صحت کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر دیا گیا ہے۔کتاب و سنت اور عقل سلیم بھی اس کے متقاضی ہیں کہ اس پرحرمت کی مہر ثبت کی جائے اور مستند اطباء کی رائے بھی یہی ہے۔

فتویٰ کی اصل عبارت مندرجہ ذیل ہے:

سئلت عن حکم التنباک الذي أولع بشربه کثیرمن الجھال والسفھاء مما یعلم کل أحد تحریمنا أیاہ۔ نحن و مشائخنا و مشائخ مشائخنا و مشائخھم و کافة المحققین سواھم من العلماء في عامة الأمصار من لدن وجودہ بعد الألف بعثرة أعوام و نحوھا حتی یومناھذا استناد اعلیٰ أصول الشریعة والقواعد المرعیة و تحریمه بالنقل الصحیح والعقل الصریح وکلام الأطباء المعتبرین إلی اخر کلامه۔

2۔ فضیلۃ الشیخ عبدالرحمٰن سعدی کا فتویٰ۔

آپ فرماتے ہیں کہ تمباکو نوشی اور تمباکو کی تجارت اور اس میں اعانت کرنا تمام امور حرام ہیں۔کسی مسلمان کے لیے اس کا پینا جائز نہیں اور دیگر طریقوں (نسوار وغیرہ) سے بھی اس کااستعمال ممنوع ہے۔ اس کی تجارت بھی ناجائز ہے جوشخص تمباکو پینے یا کھانے کا عادی ہوچکا ہو اسے چاہیےکہ بارگاہ ایزدی میں خلوص قلب سے توبہ کرے جس طرح دیگر گناہوں سے توبہ کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عمومی نص میں شامل ہے جو اس کی حرمت پر دلالت کرتی ہے۔ یہ لفظی او رمعنوی عموم کو شامل ہے۔ اس میں دینی اور مالی نقصان الگ ہے اس کی حرمت کے لیے ایک نقصان کافی ہے لیکن جس میں ہر طرح کانقصان ہو اس کا کیا ہوگا؟ پھر اس کی حرمت کےدلائل بیان کیے ہیں۔

فتویٰ کا اصل متن درج ذیل ہے:

قال أما الدخان شربه والاتجاربه والإعانة علی ذلك فھو حرام لا یحل لمسلم تعاطیه شربا و استعمالا و اتجارا وعلیٰ من کان یتعاطاہ أن یتوب إلی اللہ تعالیٰ توبة نصو خاکما  یجب علیه أن یتوب إلی اللہ تعالیٰ من جمیع الذنوب و ذٰلك أنه داخل في عموم  النص الدالة علی التحریم وأدخل في لفظها العام وفي معناھا۔ وذلك لمضارۃ الدینیة والبدنیة والمالیة التي تکفي بعضھا في الحکم بتحریمه فکیف اذا اجتمعت۔

3۔ فقہائے حنفیہ کے ایک متبحر عالم شیخ محمد عینی کا فتویٰ

انہوں نے ایک کتاب مرتب کی ہے جس کا نام الجواب الحسن في تحریم الدخان والتتن ہے۔ اس میں انہوں نے تمباکو نوشی کی حرمت چار وجوہات سے بیان کی ہے۔

(1) یہ صحت کیلئے مضر ہے۔ جیساکہ مستند حکماء اور ماہر اطباء کی رائے ہے۔ ایسی چیز جو صحت کیلئے مہلک ہو اس کااستعمال متفقہ طور پرممنوع ہے۔

(2) یہ ان اشیاء میں سے ہے جن کو ڈاکٹر اور اطباء محذرات (اعصاب میں کمزوری اور سستی پیدا کرنے والی اشیاء) میں سے شمار کرتے ہیں او رایسی اشیاء جو من قبیل محذرات ہوں ان کے استعمال کی حدیث شریف میں ممانعت ہے۔جیسا کہ حضرت اُم سلمہٰؓ کی روایت میں ہے۔نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عن کل مسکر و مفتر۔( رواہ ابوداد: 12)

(3) اس کی بُو کریہہ (گندی ) ہوتی ہے۔ جو لوگ اسے استعمال نہیں کرتے انہیں اس کی بُو سے سخت اذیت پہنچتی ہے۔ خصوصاً نماز اور دیگر ایسے اجتماعات کے موقعہ پرلوگوں کی اذیت رسانی کاموجب ہوتا ہے بلکہ فرشتوں کے لیے تکلیف اور ایذا کا باعث بنتا ہے۔

(4) اس میں اسراف اور تبذیر ہے کیونکہ اس میں ایک رائی بھر بھی نفع نہیں او رمضرات سے خالی نہیں بلکہ تجربہ کار لوگوں نے اس کے ان گنت نقصانات بیان کیے ہیں۔

4۔ فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن کا فتویٰ:

انہوں نےاس موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام نصیحة الإنسان عن استعمال الدخان رکھا ہے۔اس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ شریعت کے علاوہ عقل بھی اس بات کی متقاضی ہے کہ تمباکو استعمال کرنے سے پرہیز کیا جائے۔ کیونکہ اس سے پرہیز حفظان صحت کا موجب ہے اور صحت اللہ تعالیٰ کی ایک انمول اور لاثانی نعمت ہے او رتمباکو کا استعمال اس کی کمزوری کا باعث ہے جو ہلاکت کا پیش خیمہ ہے جیسا کہ اہل خرد اور دانا لوگ اس سے آگاہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب میں فرمایا ہے۔

ولاتلقوا بأيديكم إلى التهلكة اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔ پھر کتاب و سنت سے کچھ دلائل بیان کیے ہیں اور محققین علماء کے اقوال اور مستند ڈاکٹروں کی آرا کا ذکر کیا ہے۔

اصل عبارت درج ذیل ہے:

قال إن من العقل فضلا عن الشرع وجوب اجتناب استعمال التتن حفظا للصحة التي ھي من اللہ أعظم نعمة و منحة ورفعا لدواعي الضعف الذي ھو مقدمه الھلاکكوالدمار کما ھو معلوم لذوي العقول السلیمة کیف وقد قال اللہ تعالیٰ ولاتلقوا بأيديكم إلى التهلكة

اب ان نامور اور مشہور علماء کے فتاوے سے یہ بات اظہر من الشمس ہوگئی کہ تمباکو کا استعمالاکلاً و شرباً حرام اور ممنوع ہے بلکہ اس کی تجارت کرنا اور اسے استعمال میں لانے والے کی اعانت کرنا بھی اسی زمرہ میں ہے۔

فقہائے مالکیہ کے نزدیک ایسا شخص جو تمباکو استعمال کرتا ہو وہ پیش امام ہونے کا اہل نہیں۔ چنانچہ مجلہ رابطۃ العالم الاسلامی بابت ماہ رمضان المبارک 1396ھ میں فضیلۃ الشیخ ابراہیم محمد سرسق کا ایک طویل مضمون بعنوان ''أنقذ و اشباب الإسلام من التدخین'' طبع ہوا تھا اس میں تمباکو کی مضرات سے مفصل بحث کی گئی ہے۔ آخر میں فضیلۃ الشیخ خالد بن احمد مالکی کافتویٰ شائع کیا ہے لیکن کاتب کی سہو سے ''لا'' کا حرف ساقط ہوگیا اور عبارت یوں لکھی گئی۔

بأنه لاتجوز إمامة من یشرب التنباك ولا یجوز الاتجاربه ولا بما یسکر۔

چنانچہ اس سلسلہ میں فضیلۃ الشیخ محمد سعید الماموری رئیس التحریر رابطۃ العالم اسلامی سے رابطہ پیدا کیا گیا اور ان سے بذریعہ مکتوب اس فتویٰ کے متعلق استفسار کیا گیا۔ اس کاجواب انہوں نے مندرجہ ذیل الفاط میں دیا۔

وأما ما ذکرتم حول مقال الشیخ إبراہیم محمد سرسق فالحقیقة إنه خطاء مطبعي في العبارةحیث أن صحتھا ھي (وقد أفتیٰ الشیخ خالد بن أحمد من فقھاء المالکیة بأنه لا تجوز إمامة من یشرب التنباك ولا یجوز  الاتجار به ولا بما یسکر۔

تو اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ مالکیوں کے نزدیک اس کی تجارت بھی حرام ہے او رایسے شخص کی اقتداء میں نماز پڑھنا بھی ناجائز ہے۔

آخر میں ، میں اپنے مسلمان بھائیوں خصوصاً نونہالان ملت سے اپیل کروں گا کہ سکول او رکالج کو جاتے وقت یا وایسی پر یا دوران تعلیم کسی وقت بھی سگریٹ جیسی بیہودہ اورفضول عادت کا ارتکاب نہ کیجئے۔ اسے ترک کرنے سے آپ کی صحت میں کوئی بگاڑ یاخرابی پیدا نہیں ہوگی۔ بلکہ آپ کاجسم ایک زہریلی بوٹی کے مہلک اثرات سے محفوظ ہوجائے گا اور وہ دولت جو آپ کے والدین نے خون پسینہ ایک کرکے حاصل کی وہ ضائع ہونے سے محفوط ہوجائے گی۔ اگر لاری یا موٹر میں بیٹھ کر آپ کو کھانے پینے کا شوق ضرور پورا کرنا ہے تو آپ موجودہ وقت کے پھلوں سے کام و دہن کی لذت کا سامان کریں جو آپ کی صحت کے ضامن ہیں جواہل جنت کی خوراک ہوں گے جن سےقلب کو فرحت اور دماغ کو سکون حاصل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہرمسلمان کو اس قبیح اور فضول عادت سےمحفوظ رکھے او رجو اس کےاستعمال کے عادی ہوچکے ہیں انہیں ترک کرنےکی توفیق بخشے۔ وما ذلك علی اللہ بعزیز